Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 13)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 13)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
نکاح کی رسم مکمل ہوتے ہی انمول کو ابتسام کے ساتھ اسٹیج پہ لا کے بیٹھا دیا تھا۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی اذان ہوئی تھی۔۔۔ جس میں افطاری کے ساتھ کھانے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
انمول اور ابتسام دونوں کے لیئے ہی اسٹیج پہ کھانا آگیا تھا۔۔۔
انمول تو اپنے دلہن ہونے کا لحاظ کیئے بغیر چمچ بھر بھر کہ کھا رہی تھی۔۔۔ اسے ندیدوں کی طرح کھاتے دیکھ ابتسام نے ناگواریت سے اسے دیکھا اور جب رہا نہیں گیا تو ٹوک بیٹھا۔
تمیز سے کھاؤ انو۔۔۔ قدرے دھیمی آواز میں دانت پیس کے کہا۔
ایک تو اس تمیز کا میں کیا کروں۔۔۔ وہ ایک نظر اسے دیکھ منہ بنا کے کہتی سر جھٹک کے واپس اپنے انداز میں کھانے لگی۔
اپنی بات کو کوئی اہمیت نا ملتا دیکھ ابتسام کا خو،ن کھولا۔
لڑکی سنائی نہیں دیا میں نے کیا کہاں۔۔۔ تمیز سے کھاؤ۔۔۔ جاہلوں کی طرح کھا کے ثابت نہیں کرو کے تم جاہل ہو۔۔۔ اب کی بار غصے سے کہا گیا تھا۔۔۔ جب کے خود کے لیئے جاہل لفظ سن کے انمول کی تیوریاں چڑہیں تھیں۔
مسٹر ڈریگن آپ کا مسئلہ کیا ہے۔۔۔ کیوں مجھے سکون سے کھانے نہیں دے رہے۔۔۔ کیوں بار بار ٹوکے جارہے ہیں۔۔ آپ سے اچھا تو فہد تھا جو مجھے کسی بھی چیز سے روکتا نہیں تھا۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں وہ ہیرو آج نہیں آیا اور میں ولی کے پلے بند گئی۔۔۔ وہ سر جھٹک کے افسوس سے بولی۔
انمول۔۔۔ فہد کے ذکر پہ اور اسکے ہاتھ پہ لکھا فہد کا نام دیکھتے ابتسام نے منٹھیاں بھیجتے غصے سے لال ہوتی آنکھوں سے اسے تنبیہ کیا۔
بس مسٹر ڈریگن۔۔۔ آپ نے تو میرا کھانا کھانا ہی مشکل کر دیا ہے۔۔۔ آپ کھائیں یہاں بیٹھ کے میں جا رہی ہوں۔۔۔ وہ اپنی پلیٹ اٹھاتی اٹھنے لگی جب ابتسام نے اسکی کلائی تھامی۔
خبردار جو یہاں سے اٹھ کے گئیں۔۔۔ ورنا ٹانگیں تو،ڑ دوں گا۔۔۔ اسنے اسے دیکھ دھمکی دی لیکن انمول کہاں کسی کی دھمکی میں آنے والی تھی۔
میں جاؤں گی اور مجھے کوئی نہیں روک سکا۔۔۔ وہ بھی چیلنجنگ انداز میں کہتی اسکے ہاتھ سے اپنی کلائی نکالتی اٹھنے لگی۔
ٹھیک ہے جاو۔۔۔ ابتسام سکون سے کہتے اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہوگیا۔
اسکے اتنا جلدی مان جانے پہ انمول نے حیرت سے دیکھا پھر منہ بناتی اٹھ گئی۔
انو کہاں جارہی ہو۔۔ وہ ابھی کھڑی ہوئی تھی کہ سامنے سے آتی شگفتہ بیگم نے اسے پکارہ۔
اپنے کمرے میں جارہی ہوں۔۔۔ وہ آہستہ سے منمنائی۔۔۔ تو ابتسام نے اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لیئے گردن جھکالی۔
مگر کیوں ۔۔۔ ابھی تو مہمان بھی نہیں گئے۔۔۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
وہ۔۔۔۔ بابا ادھر آئیں زرا۔۔۔ انمول ابھی کوئی بہانا بناتی کہ پیچھے اسے بلال صاحب نظر آئے جنہیں دیکھ اسکی انہیں چمکیں۔
جی بیٹا۔۔۔ انہوں نے پیار سے وہاں آتے پوچھا۔۔۔ جب کے ابتسام سمجھ گیا تھا اب تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
بابا یہاں اتنے رش میں میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔ اور صحیح سے کچھ کھایا بھی نہیں جا رہا ہے ۔۔. تو کیا میں اپنے کمرے میں جا کے کھالوں۔۔۔ وہ معصوم شکل بنائے پوچھ رہی تھی۔
شگفتہ بیگم نے اسے گھور کے دیکھا تھا جب کے ابتسام تو سپاٹ چہرا لیئے بیٹھا تھا۔
ہاں بیٹا کیوں نہیں۔۔۔ جاؤ آپ کمرے میں جاؤ میں مشی کے ہاتھ آپ کے لیئے کھانا بھیجواتا ہوں۔۔۔ بلال صاحب شفقت سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے کہہ کے چلے گئی تو وہ بھی ابتسام کی طرف فاتحانہ مسکراہٹ اچھالتی اندر بڑھ گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
ارے ارے ۔۔۔ کہاں لے کے جارہی ہو اتنا کھانا۔۔۔ میشا انمول کے لیئے کھانا لے کے جارہی تھی جب بیچ میں حماد نے اسکا راستہ روکا۔
انو کے لیئے لے کے جارہی ہوں۔۔۔
وہ تو باہر تھی نے۔۔۔ حماد نے ٹرے سے گلاب جامن اٹھاتے منہ میں رکھا۔
اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ہے۔۔۔ میشا نے بتایا تو اسنے سمجھتے ہوئے سر ہلا دیا۔
ویسے آج بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ دل کر رہا ہے ابھی نکاح پڑھوالوں۔۔۔ لیکن تمہارا وہ کھڑوس بھائی فضول میں بیچ میں آرہا ہے۔۔۔ خود تو نکاح کر کے بیٹھ کیا ہے اور ہمارا ہونے نہیں دے رہا۔۔۔ حماد نے اداسی سے کہا۔
بہت بےصبرے ہیں آپ ۔۔۔۔ تھوڑا سا صبر کر لیں ہو جائے گا ہمارا بھی نکاح۔۔۔۔ میشا ہنس کے بولی۔
لیکن کب یار۔۔۔۔ حماد اتاولا ہوا۔
آپ بیٹھ کے یہاں سوچیں کب ہوگا جب تک میں انو کو کھانا دے آؤ وہ انتظار کر رہی ہوگی۔۔۔ میشا مسکرا کے کہتی اسکے برابر سے نکل کے اوپر بڑھ گئی۔۔۔ تو وہ منہ لٹکائے باہر نکل گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
اچھا مزہ چکایا ہے میں نے مسٹر ڈریگن کو۔۔۔ کیسے مجھ پہ رعب جما رہے تھے ۔۔۔ اونہہ بڑے آئے ٹانگیں تو،ڑنے والے۔۔۔ بیٹا ایک بار رخصت ہو کے مجھے آپ کے کمرے میں آنے تو دیں۔۔۔ میں نے بھی آپ کو پاگل نا کردیا تو میرا نام بھی انو نہیں۔۔۔۔ وہ خود سے باتیں کرتی اپنی چیزیں اتار رہی تھی۔
اففف کیا مصیبت ہے یہ نکل کیوں نہیں رہا۔۔۔ وہ بالوں سے بندیا نکالنے کی جدوجہد کرتی جھنجھلا کے بولی کہ جبھی کوئی دروازہ کھولتے اندر آیا اور پھر واپس دروازہ بند کر چکا تھا۔
شکر مشی تم آگئیں ۔۔۔ یار یہ دیکھو تو نکل ہی نہیں رہا ہے۔۔۔ پلیز اسے نکال دو۔۔۔ وہ منہ نیچے کیئے بولی لیکن اگلے ہی لمحے کسی نے اسکا بازو پکڑتے اسے ایک جھٹکے سے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا۔
وہ اس اچانک ہونے والے حملے پہ ایک دم گھبرا گئی۔۔ ایک دم جھٹکے سے اپنے سامنے کرنے پہ وہ سامنے کھڑے ابتسام کے ساتھ جا لگی تھی۔
مسٹر ڈریگن آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔ اپنے سامنے سخت تاثرات لیئے ابتسام کو کھڑے دیکھ اسنے حلق تر کرتے خود کو مضبوط رکھتے پوچھا۔
ابتسام نے بغیر کوئی جواب دیئے اسکا ہاتھ سامنے کیا اور ہتھیلی پہ لگے فہد کے نام پہ مہندی لگانی شروع کی۔۔۔۔ جب کے انمول تو آنکھیں پھاڑے اسکی کاروائی دیکھ رہی تھی۔
مسٹر ڈریگن یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔ اسنے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا جب ابتسام نے اسکے ہاتھ پہ گرفت مضبوط کی۔
چپ ایک دم چپ آواز نہیں نکلے تمہاری۔۔۔ وہ لال آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے بول کے واپس اپنے کام میں لگ گیا۔
اور کچھ ہی دیر میں وہ فہد کا نام پوری طرح سے مہندی میں غائب کر چکا تھا۔۔۔
اسنے نام چھپاتے اسکا ہاتھ جھٹکے سے چھوٹا تو وہ لڑکھڑا کے دو قدم پیچھے ہوئی۔
مانتا ہوں میں نے تم سے شادی صرف تایا ابو اور بڑی ماما کی وجہ سے کی ہے لیکن اب تم میرے نکاح میں ہو اور میں یہ ہرگز برداشت نہیں کروں گا کہ میری ملکیت پہ کسی اور کا نام ہو۔۔۔
اور ہاں ایک بات اور میری کان کھول کے سن کو اپنے اس چالاک دماغ میں بھی بیٹھا لو۔۔۔ آج کے بعد میں تمہارے منہ سے فہد کا نام نا سنو ورنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ اسنے غصہ ضبط کرتے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔
آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں۔۔۔ انمول بھی بدلے میں اسے گھورتی تڑخ کے جواب دیتی واشروم میں گھس گئی۔
اسے اسکے انداز سے ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔۔ اس لال آنکھوں والے ڈریگن کا کیا بھروسہ کہہ اسے اکیلا دیکھ کھاجائے۔۔۔ اس لیئے وہ جلدی سے واشروم میں گھس گئی تھی۔
تمہیں تو میں اب بتاؤ گا کہ میں کتنا برا ہوں ۔۔ ابتسام بند دروازے کو گھورتے کمرے سے نکل گیا۔
کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز پہ انمول نے واشروم کا دروازہ کھولے سر باہر نکال کے دیکھا کہ وہ واقعی چلاگیا ہے یا نہیں اور جب یقین دہانی ہوگئی تو پیر پٹختی باہر آگئی۔
چھوڑوں گی نہیں میں آپ کو۔۔۔ آپ بھی یاد رکھیں گے ساری زندگی کہ کس سے شادی کی ہے۔۔۔ وہ بڑبڑاتی چوڑیاں اترتی ڈریسنگ پہ پٹخنے لگی۔
۔![]()
![]()
![]()
اسلام و علیکم بھابھی جی۔۔۔ انمول سحری کے لیئے ڈائنگ ٹیبل پہ آئی تو حماد نے شوخی سے چھیڑا۔
وعلیکم اسلام نندوئی جی۔۔۔ انمول بھی اسہی کے انداز میں کہتی کرسی کھسیٹ کے بیٹھ گئی۔
واہ بھئی اتنی جلدی پارٹی بدل لی۔۔۔ حماد نے شرارت سے کہا۔
جی بلکل آپ کی طرح۔۔۔ اسنے بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو ان دونوں کی باتوں سے لطف اندوز ہوتے سب مسکرا دیئے۔۔۔
انمول کو پہلے کی طرح ہی ہنستے مسکراتے دیکھ بلال صاحب کو سکون ملا تھا۔۔۔ وہ تو سوچ رہے تھے فہد کے اس طرح اچانک غائب ہوجانے پہ اور اسکا نکاح ابتسام سے ہو جانے پہ ہو دکھی ہوگی لیکن اسکے چہرے پہ تو دکھ کہ رمق بھی نہیں تھی۔۔۔ جو انکے لیئے خوشی کا باعث تھی۔
انو اب سے تم ہمارے ساتھ کچن میں ہمارا ہاتھ بٹاؤ گی۔۔. اور ابھی سحری کے بعد سارے برتن بھی تم دھوگی۔۔۔ شگفتہ بیگم نے پیار سے کہا تھا۔
مشی سن لیا۔۔۔ انمول نے بےنیازی سے مشی سے کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
میں نے مشی سے نہیں تم سے کہا ہے۔۔۔ اور خبردار مشی جو تم نے آج کے بعد اس کے کہنے پہ کوئی بھی کام کیا۔۔۔ اس کا اب نکاح ہو گیا ہے اور جلد ہی رخصتی بھی ہو جائے گی۔۔۔ اس سے پہلے اسے کچھ کام تو آنا چاہیئے نا۔۔۔۔ شگفتہ بیگم نے اب کے اسے ڈانٹا تھا جانتی تھی وہ پیار کی زبان نہیں سمجھتی۔
چچی کیا آپ مجھ سے کام کروائیں گی ۔۔۔ انمول نے چچی کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
نہیں بیٹا میں تم سے اپنا تو کوئی کام نہیں کرواؤں گی لیکن اپنے شوہر کا کام تو تمہیں خود ہی کرنا ہوگا۔۔۔ چچی کی پہلی بات سن کے جو وہ خوش ہونے لگی تھی آخری بات سنتے منہ بنا گئی۔۔۔ اور پھر اسنے خاموشی سے سحری کی تھی کسی سے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔
چچی کو برا بھی لگ رہا تھا کہ وہ انکی بات پہ خاموش ہوگی ہے انہیں لگ رہا تھا شاید اسے انکی بات اچھی نہیں لگی۔۔. وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھیں لیکن شگفتہ بیگم نے انہیں منا کردیا تھا کہ وہ ابھی تھوڑی دیر میں ہی ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ وہ بس سب تو تنگ کرنے کے لیئے خاموش ہوئی ہے تھوڑی دیر میں خودی ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔ اور ہوا بھی یہی تھا انمول تھوڑی دیر بعد خودہی ٹھیک ہوگئی تھی اور وہ بہنا بنا کے کمر میں بھی بھاگ گئی تھی۔
وہ کمرے میں جانے لگی جبھی اسکی نظر ابتسام پر گئی جو اپنے کمرے میں جا رہا تھا۔۔۔ ابتسام اور انو کے کمرے کے بیچ صرف ایک کمرے کا فاصلہ تھا ۔۔۔ اس کے دماغ میں ابتسام کو تنگ کرنے کا ایک آئیڈیا آیا اور اسنے اس پر فورن عمل بھی کیا تھا۔
ہائے کاششش میری شادی فہد سے ہو جاتی تو میرے آگے پیچھے نوکر چاکر گھوم رہے ہوتے یوں مجھے تو کام نہیں کرنا پڑھتا۔۔۔ وہ مسنوعی آه بھرتی جلدی سے کمرے میں گھس گئی جب کے اسکی بات سنتے ابتسام نے فورن غصے سے اسکی طرف دیکھا تھا لیکن وہ اندر جا چکی تھی۔۔۔
وہ بھی اپنی جیب سے فون نکالتا کمرے میں گھس کے دھاڑ سے دروازہ بند کر گیا جس کی آواز انمول کے کمرے تک گئی تھی۔
وہ جو دروازے سے کان لگائے کھڑی تھی دھاڑ سے دروازے کے بند ہونے کی اواز پہ خوش ہوگی ۔۔. اسے مزہ آرہا تھا اسے غصہ دلا کے۔
یہ تو ابھی شروعات ہے مسٹر ڈریگن۔۔۔ آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا۔۔۔ وہ ہاتھ جھاڑتی بیڈ کی جانب بڑھ گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
آجائیں آپ۔۔۔ امی،،، بڑی ماما۔۔۔۔ ابتسام اپنے ساتھ ایک عورت کو لیئے اندر داخل ہوتا اپنی ماں اور شگفتہ بیگم کو پکارنے لگا۔
مشی لگتا ہے تمہارے بھائی نے دوسری شادی کر لی ہے۔۔۔ انمول اور مشی جو کتابیں لیئے سیڑھوں پہ بیٹھی پڑھ رہیں تھیں ابتسام کو ایک سادہ سے حلیہ میں ملوث عورت کو اپنے ساتھ اندر لاتے دیکھ انو نے اپنی سوچ کے مطابق کہا۔
کچھ بھی بولتی رہتی ہو انو۔۔۔۔ میشا نے اسے گھور کے کہا۔
دیکھ لینا یہیں بات ہوگی۔۔۔ انمول نے یقین سے کہا تو میشا نے سر جھٹکا۔
کیا ہوا ہے بیٹا۔۔۔ نسرین بیگم اور شگفتہ بیگم دونوں اپنے کمرے سے نکل کے آئیں۔۔۔ ساتھ ہی اسکی آواز سنتے پھوپھو بھی کمرے سے نکلیں تھیں۔
امی یہ فوزیہ ہیں اور آج سے یہ ہی کچن کا کام سمبھالیں گی۔۔۔ ابتسام نے رسان سے بتایا۔۔۔ تو انمول اور میشا دونوں چونک کے کھڑی ہوئیں۔
مگر بیٹا سارا کام مینج ہو تو رہا تھا تو پھر انکی کیا ضرورت تھی۔۔۔ شگفتہ بیگم نے اس عورت کی طرف اشارہ کر کے کہا
بڑی ماما انہیں کام کی ضرورت تھی اور پھر آپ لوگ بھی صبح سے کام کرتی ہیں تھک جاتی ہوں گی تو یہ آپ کی مدد کردیں گی۔۔۔ ابتسام نے مسکرا کے کہا۔
مسٹر ڈریگن یہ تو آپ نے بہت اچھا کیا ہے۔۔۔ اچھا ہے ہماری کام میں مدد ہو جائے گی۔۔۔ انمول نے سیڑھوں پہ کھڑے کھڑے ہی ہانک لگائی تو اسنے بےتاثر نظروں سے اسے ایک نظر دیکھ چہرہ پھیر لیا۔
تم مدد کا تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے پہلے سارا کام تم کرتی تھیں۔۔۔ شگفتہ بیگم نے طنز کیا تو وہ آگے سے دانت نکالنے لگی۔
اچھا اب میں چلتا ہوں باقی آپ لوگ دیکھ لے گا۔۔۔ ابتسام کہتا باہر نکل گیا۔
چلو مشی شکر ہے میری تو جان چھوٹی۔۔۔ ورنہ ایک نا ایک دن ماما نے مجھ سے برتن دھلوا کے ہی دم لینا تھا۔۔۔ انمول شکر کا سانس بھرتی واپس بیٹھ گئی۔۔
وہ تو بڑی ماما تم سے اب بھی دھلوائیں گی۔۔۔ آخر تم جیسی پھوئڑ لڑکی کو کام بھی تو سکھانا ہے نا۔۔۔ میشا اسے زچ کرتی مزے سے کہتی بیٹھہ۔
تم ہوں گی پھوئڑ۔۔۔ مجھے تو ماشاءاللہ سب کام آتا ہے۔۔۔۔ انمول نے گردن اکڑا کے کہا۔
جیسے کہہ۔۔۔ میشا نے پوچھا۔
جیسے کہہہہہہہ۔۔۔ خیر چھوڑو ابھی مجھے یاد نہیں آرہا۔۔۔ بعد میں بتاؤ گی۔۔۔ انمول کو جب بہت سوچنے کے بعد بھی کچھ یاد نا آیا تو بعد کا کہہ کے بات ٹال گئی۔
تم کبھی نہیں بدل سکتیں انمول۔۔۔ میشا نے نفی میں سر ہلایا۔
رائٹ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ انمول نے فخر سے کہنا تو دونوں نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا۔
۔![]()
![]()
![]()
