170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 6)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

انو کیوں تنگ کرتی ہو بڑی ماما کو۔۔۔ تم جانتی ہو نا وہ تمہارے لیئے کتنی پریشان رہتی ہیں۔۔۔ وہ چاہتی ہیں تمہاری شادی ہو جائے اپنے گھر میں سکون سے رہوں لیکن نہیں تم نے تو ہر آئے ہوئے رشتے کو عزت سے بےعزت کر کے گھر سے نکالنا ہوتا ہے۔۔۔ میشا اسکے کمرے میں داخل ہوئی اسکے سر پر کھڑی اسے سمجھا رہی تھی لیکن انمول کو یہ سب لیکچر لگ رہا تھا۔

یار مشی کوئی ایک دھنکا رشتہ ہو تو میں خاموش رہوں نا۔۔۔ مجال ہے جو ایک بھی میرے معیار کا رشتہ آیا ہو۔۔۔ اسنے آرام سے کہا۔

ہاں تمہارے لیئے تو کوئی پرنس چارمنگ آئے گا نا۔۔۔ مشی نے چڑھ کے کہا۔

دیکھ لینا ایک دن میرے لیئے کوئی پرنس چارمنگ ہی آئے گا۔۔۔ ایک بڑی سلطنت کا مالک ۔۔۔ نیلی آنکھوں والا۔۔۔ سفید گھوڑے پر بیٹھ کے مجھے بیاہنے آئے گا۔۔۔ انو آنکھیں بند کیئے سب کچھ امیجن کرتی سکون سے اسے بتانے لگی۔

انو خوابوں کی دنیا سے باہر نکل جاؤ۔۔۔ کیونکہ جس دن یہ سارے جواب ٹوٹیں گے تو بہت تکلیف ہوگی۔۔۔ حقیقت اور خوابوں کی دنیا میں فرق کرنا ابھی سے سیکھ لو تو یہ تمہارے لیئے ہی اچھا ہے ۔۔۔ تم ایک حقیقی دنیا میں رہنے والی لڑکی ہو۔۔۔ یہ افسانوی باتیں یہاں نہیں چلیں گی۔۔۔ کوئی پرنس چارمنگ تمہیں بیاہ نے نہیں آئے گا۔۔۔ تو بہتر ہے اپنے ادھر گرد دیکھو۔۔۔ دنیا میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔۔۔ میشا نے مخلص بہن ہونے کا فرض نبھاتے اسے حقیقت سے روشناس کروانا چاہا تھا لیکن یہ تو انمول ہی جانتی تھی کہ وہ کتنی روشناس ہوئی ہے۔

میشا مزید وہاں رکی نہیں تھی وہ اپنی بات کہتی وہاں سے جاچکی تھی۔۔۔

انمول نے ایک نظر بند دروازے کو دیکھا پھر ایک لمبی سانس بھرتی اپنے فون کی طرف متوجہ ہوگئی۔

وہ زندگی سے بھرپور زندگی جینے والی ایک عام سی لڑکی تھی۔۔۔ لیکن وہ خود کو بہت خاص سمجھتی تھی۔۔۔کہانیاں پڑھتی تھی دن رات اور انہیں میں بسا کرتی تھی۔۔۔ اسے کوئی مطلب نہیں تھا دنیا سے۔۔۔ وہ اپنی دنیا بسائے رکھتی تھی۔۔۔ لیکن وہ نادان لڑکی خواب اور حقیقت میں فرق نہیں جانتی تھی۔

“میں ناول پڑھ کے افسانوی دنیا میں کھوجاتے والی لڑکی ہوں”۔۔۔⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

۔🌺🌺🌺

بیٹا آجاؤ افطاری کا ٹائم ہونے والا ہے۔۔۔ مسٹر خان نے اپنے بیٹے کو آواز دی جو فارم ہاؤس آنے کے بعد جیسے سب بھول بھال کے ہورس رائڈنگ پر لگ جاتا تھا۔

وہ چھبیس سال کا بھرپور وجاہت والا مرد اس وقت اپنے مشغلہ میں مصروف تھا۔۔۔ لیکن باپ کی آواز آنے پر وہ سفید گھوڑے سے اترتا اندر بڑھ گیا

آؤ بیٹھو۔۔۔ اسے فریش ہوکے آتے دیکھ انہوں نے اپنے ساتھ والی کرسی کی جانب اشارہ کیا۔۔۔

وہ اپنی کرسی سنبھلتا اذان کا انتظار کرنے لگا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں اذان ہوئی۔۔۔ وہ روزہ افطار کر کے جلد سے جلد اپنے کسی کام کے سلسلے میں جانا چاہتا تھا لیکن اپنے بابا کی بات پر رکھ گیا۔

فہد ہمیں ابھی ایک ضروری میٹنگ پر جانا ہے ۔۔۔ اور اس میٹنگ میں تم میرے ساتھ جاؤ گے۔۔۔ مسٹر خان نے تحمل سے کہا۔

بابا آپ چلے جائیں مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔ میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتا۔۔۔ اسنے فورن مناسب الفاظوں​ میں انکار کیا۔

تمہارا جو بھی ضروری کام ہے تم بعد میں بھی سر انجام دے سکتے ہو۔۔۔ فلحال تو تمہارا ہمارے ساتھ چلنا بہت ضروری ہے۔۔۔ اس لیئے تم ہمارے ساتھ چلو گے بس۔۔۔ وہ دو ٹوک انداز میں کہتے اٹھ گیئے تھے۔

ان کے دو ٹوک لہجے پر فہد کو اپنا کام چھوڑتے انکے ساتھ جانا پڑھا۔۔۔ ورنہ اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا جانے کا۔

۔🌺🌺🌺

تم یہاں بیٹھی ہو اور میں کب سے تمہیں اندر ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔افطاری کے بعد مشی انو کو پورے گھر میں دیکھ آئی تھی اور وہ لان میں بیٹھی مزے سے فون چلا رہی تھی۔

میں کون سا مسٹر انڈیا ہوگئی تھی جو تمہیں مجھے ڈھونڈنے کی ضرورت پیش آگئی۔۔۔ یا کون سا ہمارا گھر شیش محل ہے جو میں تمہیں مل نہیں رہی تھی۔۔۔۔ انمول نے اپنی عادت کے مطابق سیدھی بات کا بھی الٹا جواب دیا تھا۔

تمہیں بڑی ماما نے کچھ کام دیا تھا یاد ہے نا۔۔۔ میشا اسکی باتوں سے زچ ہوتی اسے گھور کے بولی۔

مجھے یاد نہیں۔۔۔ وہ لاپرواہی سے کہتی فون کی جانب متوجہ ہوئی۔

تم اپنے خوابوں کی دنیا سے نکلو تو کچھ یاد رہے نا۔۔۔ میشا نے اسکے ہاتھ سے فون چھینا۔

گستاخ لڑکی تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے خوابوں کے بیچ میں آنے کی۔۔۔ انمول ڈرامائی انداز میں بھویں سکیڑیں کھڑی ہوئی۔

ہم سے جو گستاخی ہوئی سو ہوئی لیکن آپ کے زمہ جو آپکی والدہ ماجدہ نے کام لگایا ہے وہ جاکے پورا کریں ورنا میری یہ گستاخ آنکھیں آپ کی دھولائی ہوتے ہوئے بھی دیکھیں گی۔۔۔ میشا نے بھی اسہی کے انداز میں جواب دیا۔

کوئی مجھے دو منٹ سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا۔۔۔ کاش کوئی امیر زاده میرے عشق میں گرفتار ہوجائے اور اسکا باپ مجھے اپنے بیٹے کی زندگی سے نکالنے کے لیئے دس کروڑ روپے دے۔۔۔ جیسے لے کے میں دبئی اپنے یارم کے پاس چلی جاؤں۔۔۔وہاں جا کے سکون سے اپنی زندگی گزاروں۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ ہوا میں پھیلائے آسمان کی طرف دیکھ اپنی ناممکن خواہش کا اظہار کر رہی تھی۔

کون ہے یہ یارم۔۔۔ پیچھے سے آنے والی سرد آواز پر وہ دونوں چونک کے پیچھے مڑیں۔۔۔

اپنے سامنے ابتسام کو دیکھ میشا کا تو رنگ ہی اڑ کیا۔۔۔ اس نے کبھی بھی میشا سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی ہمیشہ بہت پیار سے اس سے بات کرتا تھا لیکن میشا اسکے غصے سے واقف تھی اس لیئے وہ اسکے سامنے بات کرتے ہوئے احتیاط کرتی تھی جب کے انمول تو کسی سے نہیں ڈرتی تھی اس لیئے اب بھی پرسکون سی کھڑی تھی۔

وہ ڈیول ہے۔۔۔ ڈان ہے۔۔۔خوبرو نوجوان ہے۔۔۔ جتنا اسنے چہک کے بتایا تھا اتنا ہی سامنے والے کی پیشانی کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔۔۔ جب کے پیچھے آتا حماد اور دائم بھی وہیں رک کے انکی باتیں سن رہے تھے۔

شرم نہیں آرہی کسی نامحرم مرد کے بارے میں ایسے کھلم کھلا باتیں کرتے ہوئے۔۔۔تمہیں ڈر نہیں لگتا کے کہیں کوئی سن نا لے۔۔ وہ اپنی مٹھیاں بھیجے غصہ ضبط کرتے ایک ایک لفظ چبا کے بولا۔

دائم اسکی غلطی فہمی دور کرنے کے لیئے آگیا بڑھا تھا کے جیسا وہ سوچ رہا ہے ویسا کچھ نہیں ہے لیکن حماد نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے روکا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں چپ رہ کے تماشہ دیکھنے کا کہا۔۔۔

حماد انمول کی آج کلاس لگتے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔

لو بھلا اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے۔۔۔۔ جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔۔۔ وہ اسکی عقل پر ماتم کرتی جیسے اسے سمجھا رہی تھی۔

ابھی جا کے تایا ابو کو بتاتا ہوں وہ بھیجیں گے تمہیں دبئی۔۔۔ وہ اس پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ جانتا تھا اسکا کوئی فائدہ نہیں ہے وہ ایک نمبر کی ڈھیٹ اور سب گھر والوں کی لاڈلی ہے ۔۔۔ اگر وہ کچھ بولے گا بھی تو سب سے پہلے اسکی ماں ہی انمول کی سائڈ لیں گی۔۔۔ اس لیئے اپنا غصہ ضبط کرتا اندر بڑھنے لگا۔۔۔ جب انمول کی اگلی بات پر اسکے قدم بےیقنی سے رکے۔

سچی۔۔۔لیکن پلیز انکو بولے گا دبئی کا نہیں ترکی کا ویزہ لگوائیں۔۔۔ کیونکہ وہاں کے لڑکے زیادہ پیارے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ ایک دم خوش ہوتی بےشرمی سے بولی۔

کتنی بےشرم اور بےوفا لڑکی ہو تم۔۔۔ ابھی یارم سے پیار کا اظہار کر رہی تھیں اور اب دوسرے لڑکوں کی بات کر رہی ہو۔۔۔ وہ اسے شرم دلا رہا تھا جو ناممکن سی بات تھی۔

ٹھیک کہا آپ نے میں ہوں بےشرم لیکن بےوفا نہیں۔۔۔ ہائے کاش یارم حقیقت میں ہوتا تو میں اس سے وفا بھی نبھالیتی۔۔۔ وہ آہ بھر کے بولی۔

حماد اور دائم ابتسام کا غصے سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھتے اپنی مسکراہٹ چھپا رہے تھے جب کے میشا تو پریشانی سے کبھی انمول تو کبھی اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر اب ناسمجھی تھی۔

حقیقت سے مطلب۔۔۔اسنے الجھ کے اسے دیکھا۔

ارے یار وہ ایک افسانوی کردار ہے اور کچھ نہیں۔۔۔ دائم ابتسام کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے بتانے لگا

اور یہ تمہیں کیسے پتہ۔۔۔ ابتسام نے ایک آئیبرو آچکائے پوچھا۔۔۔ اسے لگا وہ اسے بچانے کے لیئے جھوٹ بول رہا ہے۔

کیونکہ یہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے اس لیئے یہ میری ہر بات جانتا ہے۔۔۔۔ ہیں نا دائم۔۔۔ انمول ایک ادا سے ابتسام کو جواب دیتی دائم کی بھی رائے جانے لگی

ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔ اسنے مسکرا کے ہاں میں سر ہلایا۔

اچھا دائم تم ان سب کو چھوڑو اور میرے ساتھ چلو۔۔۔ میرے لیپ ٹاپ کو پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے کوئی بھی فائل کھل ہی نہیں رہی ہے۔۔۔ تم ذرا دیکھو آکے۔۔۔۔ وہاں موجود سب کو اگنور کرتی وہ دائم کا بازو پکڑے اسے اندر لے کے بڑھ نے لگی۔

ایک منٹ۔۔۔ اچانک کچھ یاد آنے پر واپس آئی۔

مشی یار تم تو میری بہت اچھی بہن ہونا پلیز آج برتن تم دھو دینا۔۔۔ پکاہ کل میں دھو دوں گی۔۔۔ انمول میشا کے گال کھینچتے اسے مسکے لگانے لگی۔

انو تم۔۔۔۔

تھینک یو سو مچ میری پیاری بہن ۔۔۔ میں تمہارا یہ احساس کبھی نہیں بھولوں گی

۔۔میشا نے کچھ کہنے کے لیئے منہ کھولا ہی تھا کے انمول بیچ سے اسکی بات کاٹتی اسکے گلے لگے چہک کے کہتی دائم کو لیئے اندر بڑھ گئی

جب کے میشا تو اسکی بات پر منہ کھولے اسے دیکھ کے رہ گئی۔۔۔ وہ کہنے کیا والی تھی اور انمول اپنے پاس سے ہی اسکی طرف سے خود کو جواب دیتی خودہی فیصلہ کرتی جا چکی تھی۔

مشی مجھے ایک کپ چائے بنا دو۔۔۔ ابتسام بھی سر جھٹکتا اندر بڑھ گیا۔

اہم ہم۔۔۔ حماد گلہ کھنکھارتا میشا کی طرف بڑھا۔۔۔میشا اسے دیکھتے ہی فورن وہاں سے بھاگنے کی تیاری پکڑ چکی تھی۔

اگر برا نا مانو تو ایک کپ چائے میرے لیئے بھی بنا دینا۔۔۔ وہ تھوڑا سا اسکی طرف جھکتا رازداری سے بولا۔

جی میں بنا دوں گی۔۔۔ میشا جلدی سے کہتی اندر بھاگ گئی۔۔۔ پیچھے حماد دلکشی سے مسکراتا بالوں میں ہاتھ پھیرتے اندر بڑھ گیا۔

۔🌺🌺🌺