170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 2)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔

ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازہ کب سے بج رہا تھا لیکن بیڈ پر سوئے وجود پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کانوں میں روئی ڈال کے سوئی ہے۔۔۔. جسے بجتے دروازے کی آواز ہی نہیں آرہی تھی۔۔۔

ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔ دروازہ بجانے والا بھی شاید کوئی ڈھیٹ تھا جو اب پہلے سے بھی زیادہ زور سے بجا رہا تھا۔۔۔۔ اور مسلسل​ بجائے جارہا تھا۔

اففف ہو۔۔۔۔ کون ہے یار۔۔۔ آخر کار انمول کو ہوش آ ہی گیا۔۔۔ وہ برے برے منہ بناتی بند آنکھوں سے آہستہ آواز میں چیخی۔۔۔ لیکن کوئی جواب نا آیا جب کے دروازہ اب بھی بج رہا تھا۔

آ۔۔۔ یہ مشی کی بچی آج نہیں بچے گی میرے ہاتھوں۔۔۔ انمول سائڈ کورنر پر رکھا پانی کا جگ اٹھاتی غصے سے دروازے کی طرف بڑھی اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھولتے بغیر دیکھے سارا پانی سامنے والے کے منہ پر ڈال دیا۔

حماد جو انمول کو سرپرائز دینے آیا تھا اس اچانک حملے پر خودہی سرپرائز ہوگیا تھا۔

حماد بھائی آپ مشی کہاں گئیں۔۔۔۔ پانی پھیکنے کے بعد سامنے کھڑے حماد کو دیکھ پہلے وہ چونکی پھر دروازے سے باہر گردن نکال کے اردگرد مشی کو دیکھنے لگی۔

یہ کیا تھا۔۔۔۔ اسنے صدمے سے پہلے اپنے گیلے کپڑوں کو دیکھا۔۔۔۔ اور پھر سامنے کھڑی لڑکی کو جس کے چہرے پر پانی پھیکنے کے بعد زرا بھی شرمندگی نہیں تھی۔

پانی تھا۔۔۔ اسنے عام سے انداز میں کندھے آچکائے کہا۔۔۔۔

وہ تو مجھے بھی دیکھ رہا ہے۔۔۔ لیکن پانی پھیکا کیوں ہے۔۔۔ اسکے لاپرواہ انداز پر حماد نے دانت پیسے۔

میں تو مشی پر پھیکنے والی تھی۔۔۔۔ پتہ نہیں آپ کہاں سے آگئے بیچ میں۔۔۔۔

مشی یہاں کہاں سے آگئی۔۔۔۔ حماد نے ناسمجھی سے پوچھا۔

دروازہ کون بجا رہا تھا۔۔۔ وہ دونوں بازو سینے پر باندھے اطمینان سے بولی۔

میں۔۔۔۔ حماد نے خود کی جانب اشارہ کیا۔

او اچھا آپ دروازہ بجا رہے تھے مجھے لگا مشی ہے اس لیئے میں نے اسے سبق سکھانے کے لیئے پانی پھیکا تھا مجھے کیا پتہ تھا ۔۔۔۔ کہ مشی کی روح آپ کے اندر آگئی ہے۔۔۔۔ ویسے آپ دروازہ بجا کیوں رہے تھے۔۔۔۔ مجال ہے جو اسنے شرمندہ ہوتے سوری بولا ہو۔۔۔۔ الٹا ڈھیٹائی سے کہتی آخر میں دروازہ بجانے کی وجہ جاننے لگی۔

تمہیں سرپرائز دینے آیا تھا مجھے کیا پتہ تھا میں خودہی سرپرائز ہو جاؤں گا۔۔۔ حماد نے افسوس سے اپنے گیلے کپڑے دیکھے۔

چلیں کوئی بات نہیں آگے سے اگر کوئی سرپرائز دیں تو سوچ سمجھ کے دے گا۔۔۔ ورنا مجھے تو جانتے ہی ہیں۔۔۔ میں کب کیا کرجاؤں مجھے خود بھی پتہ نہیں چلتا۔۔۔ اسکے سکون سے کہنے پر حماد کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔

میری توبہ جو آج کے بعد تمہیں کوئی سرپرائز دوں۔۔۔ حماد نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور نیچے کی جانب بڑھ گیا۔

ارے ارے کہاں جارہے ہیں آپ۔۔۔ اسکو ویسے ہی نیچے جاتے دیکھ انمول نے جلدی سے روکا۔

نیچے جارہا ہوں۔۔۔ زرا وہاں بھی تو سب کو دیکھاؤں نا کے مجھے کیا سرپرائز ملا ہے۔۔۔ حماد سر جھٹکتا جانے کے لیئے مڑا۔

پاگل ہوگئے ہیں آپ جو ایسے نیچے جا رہے ہیں۔۔۔ کیا جانتے نہیں ہیں اپنی ممانی محترمہ کو۔۔۔ اگر انہوں نے آپ کو ایسے دیکھ لیا تو سب کے سامنے میری کتنی بےغیرتی کریں گی۔۔۔۔ ابھی پھوپھو پھوپھا آئے ہیں کیا سوچے گے میرے بارے میں کہہ میں کتنی شرارتی ہوں۔۔۔۔ وہ متفکر ہوتے معصوم صورت بنائے حماد کا بازو پکڑے اسے نیچے جانے سے روک رہی تھی۔

ایسے بول رہی ہو جیسے ماما بابا تمہیں جانتے نہیں ہیں۔۔۔ اور اچھا ہے نا میں ایسے ہی نیچے جاؤ گا تو تھوڑا سا فری شو دیکھنے کو بھی مل جائے گا تمہاری عزت افزائی کا۔۔۔ حماد کو لگا اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے۔

اب جب تک آپ یہاں ہیں وقفے وقفے سے آپ کو شو دیکھنے کو ملتا ہی رہے گا لیکن آج مجھے بخش دیں۔۔۔۔۔ اور چلیں میرے ساتھ میں ڈرائر سے پانی خشک کر دیتی ہوں۔۔۔۔ وہ اسے لیئے اپنے ساتھ کمرے کی طرف بڑهی۔

نہیں مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ میں ممانی جان کو دیکھاؤں گا کہ انکی بیٹی نے میرا استقبال کیسے کیا ہے۔۔۔ حماد اپنے قدم روکتا ضدی انداز میں بولا۔

مجھے لگتا ہے آپ چاہتے ہیں کہ جتنے دن آپ یہاں ہیں آپ کی مشی سے ملاقات بند کروا دی جائے۔۔۔ اور آپ جانتے ہیں مجھے میں ایسا کروا بھی سکتی ہوں۔۔۔۔۔ انمول بھی اپنے نام کی ایک تھی ڈرنا یا کسی کے دباؤ میں آنا تو اسنے سیکھا ہی نہیں تھا۔

مشی کی بات سنتے پھیلا ہوا حماد بھج گیا۔۔۔ وہ اچھے سے واقف تھا انمول کے کارناموں سے۔۔۔۔ اور وہ جانتا تھا کہ وہ کتنی سرپھری ہے کچھ بھی کر سکتی تھی۔

اب بھی آپ نیچے جائیں گے۔۔۔ انمول فاتحانہ مسکراہٹ سجائے پوچھنے لگی۔۔۔۔ تو حماد نے بےبسی سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ وہ بیچارہ اب کر بھی کیا سکتا تھا انمول نے اسکی دکھتی رگ پہ جو ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔

گڈ اب آجائیں میرے پیچے۔۔۔ انمول دل جلے انداز میں کہتے آگے بڑھ گئی تو وہ بھی سرد آہ بھرتا اسکے پیچھے لو لیا۔

۔🌺🌺🌺

اسلام و علیکم کیسی ہیں پھوپھو اور آپ کیسے ہیں پھوپھا۔۔۔۔ انمول اچھلتی ہوئی سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آتی تیز آواز میں حال احوال پوچھتی جاکے ہاجرہ بیگم کے برابر میں بیٹھ گئی۔

ہم ٹھیک ہیں بیٹا۔۔۔ پر آپ نے بڑی دیر لگادی آنے میں حماد تو کب کا آپ کو بلانے گیا تھا۔۔۔ پھوپھو نے اسے پیار کرتے پوچھا۔۔

بس پھوپھو جانی تیار ہو رہی تھی اب آپ سے ایسے گندے حلیہ میں تو نہیں مل سکتی تھی نا اس لیئے دیر ہو گئی کیوں حماد بھائی۔۔۔۔ انمول نے منہ لٹکائے بیٹھے حماد کو بھی اپنی بات میں گھسیٹا۔۔۔

جی ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔ حماد زبردستی مسکرایا۔

لیکن تم تو کل والے حلیہ میں ہی ہو۔۔۔۔ مشی اسے کل والے کپڑے اور الجھے ہوئے بالوں کو دیکھ بولی جو صرف ہاتھ سے سیٹ کیئے ہوئے تھے۔

مشی ڈارلنگ تمہاری آنکھیں خراب ہوگئی ہیں خیر پھوپھو میں نے جو آپ سے چیزیں منگوائیں تھی وہ لائی ہیں نا۔۔۔ انمول مشی کو گھورتی بات بدل گئی۔

پورا بیگ بھر کے لائی ہوں۔۔۔ وہ مسکرا کے سامنے رکھے بیگ کی طرف اشارہ کرکے بولیں۔

تو پھر دیر کس بات کی ہے کھولیں بیگ۔۔۔ انمول بےصبری ہوئی۔

انو ابھی تمہاری پھوپھو سفر سے تھکی ہوئی آئی ہیں انہیں کمرے میں لے کے جاؤ بعد میں بیگ کھلوا لینا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے آنکھیں دیکھائیں ۔۔۔

جی بلکل کیوں نہیں۔۔۔۔ آجائیں آپ دونوں میں آپ کو کمرا دیکھاتی ہوں۔۔۔ آپ لوگ جلدی جلدی آرام کرلیں پھر آرام سے بیگ کھولیں گے۔۔۔ انمول کو سوئی ابھی تک بیگ پر ہی اٹکی ہوئی تھی۔

شگفتہ بیگم نے جہاں سر پیٹا وہیں سب مسکرائے تھے۔

۔🌺🌺🌺

افطاری میں کیا کیا بنے گا بھابھی۔۔۔۔ چچی نے شگفتہ بیگم سے پوچھا۔

دس بارہ پکوڑے، چپس، دو کھجور، چار آلو کے سموسے، فروٹ چاٹ کا بڑا والا باؤل، دہی بلے چاٹ مصالحہ اور پاپڑی کے ساتھ اور اس کے ساتھ کچھ فروٹ الگ سے اور ایک جگ بھر کے ٹینگ۔۔۔ یہ تو ہوگئی میری افطاری باقی کا آپ لوگ دیکھ لے گا۔۔۔۔کس کس کے لیئے کیا کیا بنانا ہے۔۔۔۔ انمول کچن میں داخل ہوتی بولی۔

بیٹا کچھ کم نہیں ہے۔۔۔ اسکی ماں نے میٹھا سا طنز کیا

پہلا روزہ ہے نا تو ابھی بس اتنا ہی۔۔۔۔ وہ انکا طنز سمجھے بغیر بولی۔۔۔۔ جب کے شگفتہ بیگم اسے دیکھ کے رہ گئیں۔

بیٹا یہ قینچی کہاں لے کے جارہی ہو۔۔۔۔ اسے دراز سے قینچی نکلتے دیکھ چچی نے پوچھا۔

کسی کی زبان کاٹنی ہے۔۔۔۔آج کل بڑی چلنے لگی ہے۔۔۔ انمول مزے سے کہتی ابھی کچن سے نکلنے ہی لگی تھی جب شگفتہ بیگم نے اسکے ہاتھ سے قینچی چھینی۔

نکلو یہاں سے باہر ۔۔۔۔ انہوں نے آنکھیں دیکھائیں۔

مگر قینچی تو دے دیں۔۔۔۔ اسنے التجا کی۔

انو۔۔۔۔ دو سیکنڈ کے اندر اندر یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔۔ میرا روزہ ہے اور میں اپنا روزہ خراب نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ وہ غصہ ضبط کرتے بولیں تو انو منہ بناتی کچن سے نکل گئی۔

کیا کروں میں اس لڑکی کا۔۔۔۔ وہ قینچی اسکی جگہ پر رکھ کے بربڑائیں۔

بچی ہے سمجھ جائے گی ۔۔۔۔ چچی نے تسلی دی جس پر وہ سر جھٹک کے رہ گئیں۔

۔🌺🌺🌺

اللہ هو اکبر اللہ ھو اکبر۔۔۔۔۔

مسجدوں سے جیسے ہی اذانوں کی آواز آنا شروع ہوئی انمول نے فورن پانی کا گلاس منہ سے لگایا اور ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔۔۔ جب کے سب ابھی کھجور کھا رہے تھے۔

یہاں باقیوں نے کھجور ختم کی تھی وہاں انمول ایک پیالہ فروٹ چاٹ بھی کھا چکی تھی۔۔۔۔

انو۔۔۔۔۔اس کو جلدی جلدی کھاتے دیکھ شگفتہ بیگم نے دانت پیستے پکارہ۔

ہممممم ۔۔۔۔۔بھرے منہ کے ساتھ انہیں دیکھتے اسنے ہنکارہ بھرا۔۔۔

بیٹا تمیز سے کھاؤ۔۔۔۔ اسے منہ بھر بھر کے کھاتے دیکھ اسکی ماں نے آنکھیں دیکھائیں لیکن سب کی موجودگی میں لہجہ نرم رکھا۔

بابا دیکھ رہے ہیں آپ اپنی بیگم کو سکون سے افطاری بھی نہیں کرنے دے رہیں۔۔۔۔ وہ بھرے منہ سے مشکل سے بولی جب کے اسکے منہ سے نکلتی سموسے کی پاپڑی ٹیبل​پر گری جیسے وہ دوبارہ کھا گئی۔۔۔۔ اس کی حرکت دیکھتے جہاں شگفتہ بیگم نے اپنا غصہ ضبط کیا تھا وہیں سب کے چہروں پر دبی دبی ہنسی تھی جب کے حماد اور میشا نے اسکی حرکت پر گندہ سا منہ بنایا تھا۔

یار تم کتنی گندی ہو۔۔۔۔ منہ سے نکلا ہوا واپس کھا گئیں۔۔۔۔ میشا نے تو باقائدہ اسکی گندی حرکت کا انتظار بھی کر دیا تھا۔

اپنے منہ میں رکھا ہے نا کون سا تمہارے میں منہ رکھا ہے جو تم اتنی گھن کھا رہی ہو۔۔۔

رزق تھا صاف ستھرا تھا۔۔۔ جو ابھی ابھی میں نے منہ میں رکھا تھا کے ماما کو جواب دینے کے چکر میں منہ سے باہر گر کیا۔۔۔ اب میں اس صاف ستھرے رزق کو ضائع تو نہیں کر سکتی تھی نا۔۔۔ اسنے اپنی طرف سے کافی سمجھداری کا مظاہر کیا تھا۔

صحیح کہہ رہی ہو بیٹا رزق کو کبھی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔۔۔۔ پھپھا نے بھی اسکی بات سے اتفاق کیا تھا۔

میں نماز پڑھ کے آرہی ہوں جب تک آپ سب بھی افطار اور نماز پڑھ لیں پھر جو پھوپھو میرے لیئے گفٹس لائی ہیں وہ کھولیں گے۔۔۔۔ انمول اپنے مطلب کی بات کہتے بغیر روکے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

پیچھے سب مسکرا کے سر جھٹک کے رہ گئے۔

۔🌺🌺🌺