Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 10)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 10)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
اففف یہ خوش خبری تو دائم کو بتانا بنتی ہے ۔۔۔ وہ آکسائیڈ ہوتی جلدی سے دائم کو فون ملانے لگی جو دوسری ہی بیل پر اٹھا لیا گیا تھا۔
جی محترمہ فرمائیں کیسے یاد کیا۔۔۔۔ کال ریسیو ہوتے ہی دائم کی شرارت سے بھرپور آواز گونجی۔
تمہیں ایک گڈ نیوز سنانی ہے۔۔۔ انمول نے جوش سے جواب دیا۔
کیا خواب نگر کی شہزادی دنیا چھوڑ کے چاند پر شفٹ ہو رہی ہے۔۔۔۔ آواز میں واضح شرارت تھی۔
کیا پتہ ایک دن یہ خواب بھی پورا ہو جائے۔۔۔ اسنے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔
اچھا بتاؤ کیا گڈ نیوز سنانے والی تھیں۔۔۔ دائم ریلیکس انداز میں صوفے پر بیٹھا۔
تمہیں یقین نہیں آئے گا دائم میرے سارے خواب پورے ہونے جارہے ہیں۔۔۔اسکی آواز بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے۔
وہ کیسے۔۔۔ دائم تجسس ہوا۔
وہ ایسے کہ آج ایک بہت بڑے بزنس مین اپنے بیٹے کے لیئے میرا رشتہ لائے تھے اور بابا نے ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے انہیں ہاں کی ہے۔۔۔ انمول کی چہکتی ہوئی آواز نے دائم کی سماعت پر دھماکہ کیا تھا۔
اسے ایسا لگا جیسے اسکا دل کسی نے مٹھی میں قید کر لیا ہو۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔ دماغ ایک دم سن ہو رہا تھا دل بند ہو رہا تھا۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کل تک تو سب ٹھیک تھا اور آج یہ سب کیا ہوگیا۔
کون ہے وہ بزنس مین۔۔۔ اسکی آواز بہت مشکل سے نکلی تھی۔
دلاور خان۔۔۔ بزنس ٹائیکون اپنے اکلوتے بیٹے کا رشتہ لائے تھے۔۔۔ اففف میں بتا نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں۔۔۔ اتنے امیر لوگوں کے یہاں سے رشتہ آیا ہے اور بابا نے بھی ہاں کردی ہے۔۔۔ اففف دائم میں بہت خوش ہوں۔۔۔ دائم کی حالت سے بےخبر انمول اپنی ہی بولے جارہی تھی جب کے دوسری طرف تو جیسے کچھ بولنے کو بچا ہی نہیں تھا۔
مبارک ہو۔۔۔ میری دعا ہے تم ہمیشہ خوش رہو۔۔۔ خود کو ضبط کے دوراہے پر کھڑا دیکھ اسنے بہت مشکل سے یہ چند الفاظ ادا کئے تھے اور بغیر انمول کا جواب سنے فون رکھ دیا تھا۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔
ہیلو دائم۔۔۔۔ لگتا ہے کال کٹ گئی کوئی بات نہیں جو بتانا تھا وہ تو بتا دیا نا باقی بعد میں بتاؤ گی۔۔۔ انمول خوشی سے کندھے اچکاتی اچھلتی کودتی کمرے سے نکل گئی۔
اور دوسری طرف بیچارہ دائم جہاں تھا وہیں بیٹھتا چلا گیا۔۔۔ بہت ضبط کے باوجود دو آنسو آنکھوں سے بہہ نکلے۔۔۔ ایک چھوٹی سی لڑکی سے کی گئی خاموش محبت میں آج ایک مضبوط مرد رو رہا تھا۔۔۔
وہ چاہتا تو ابھی بھی انمول کا رشتہ لے کے جاسکتا تھا اور اسے یقین تھا بلال صاحب اسے منا نہیں کرتے لیکن انمول کی خوشی سے بھری آواز بار بار اسکے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔ انمول کے وہ لفظ (میں بہت خوش ہوں) دائم کو ایسے کرنے سے روک رہے تھے اور وہ رک بھی گیا تھا۔
اسنے اپنے محبوب کی خوشی کو اول نمبر پر رکھتا تھا۔۔۔ اسنے اپنے دل کو مار کے اپنے محبوب کے لیئے خوشیاں چنی تھیں۔۔۔ وہ چاہتا تھا انمول ہمیشہ خوش رہے اور وہ اسکی خوشی کے لیئے اپنی محبت سے دستبردار ہونے کو بھی تیار تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
ٹن ٹن۔۔۔۔ وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی جب اسکا فون بجا۔۔۔
کسی ان نون نمبر سے کال آتی دیکھ اسنے تھوڑا سوچ کے فون اٹھا لیا
ہیلو کون۔۔۔
فہد۔۔۔ زندگی سے بھرپور آواز سنائی دی
کیسے ہو مسٹر ہنڈسم ۔۔۔ انمول مسکرا کے خیریت پوچھتی لان میں آگئی۔
تھوڑی دیر پہلے تمہارے بابا کا فون آیا تھا مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنی جلدی ہمیں مثبت جواب دے دیں گے۔۔۔۔ اور یقین جانوں جب سے انہوں نے کہاں ہے کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے جب سے ہی مجھے یعنی فہد دلاور خان کو جیسے جینے کی وجہ مل گئی ہے۔۔۔ فہد نے دلکشی سے کہا۔۔۔
ارے واہ ڈائلوگز تو اچھے مار لیتے ہو۔۔۔ اسکے جزبات کو انمول نے ڈائلوگز کرار دیا جس پھر وہ کھل کے مسکرایا
یہ میرے جزبات ہیں میڈم ۔۔۔ خیر جب تم میرے پاس آؤ گی پھر تمہیں اپنے تمام تر جزبات سے آگا کروں گا۔۔۔ ابھی تو فلحال نکاح کی تیاری کرو ۔۔۔۔ فہد نے شوخی سے کہا۔
کس کا نکاح ۔۔۔ انمول نے ناسمجھی سے پوچھا۔
ہمارا۔۔۔ وہ جو کرسی پہ بیٹھنے لگی تھی فہد کی کا اک لفظی جواب سنتے ایک دم اچل گئی۔
اتنی جلدی ۔۔۔۔ مگر کیسے ۔۔۔ انمول نے حیرت سے استفسار کیا۔۔۔
بابا نے بات کر لی ہے تمہارے بابا سے۔۔۔ ہم اسی ہفتے سادگی سے نکاح کریں گے اور پھر عید کے بعد دھوم دھام سے شادی اور پھر ولڈ ٹور۔۔۔ فہد نے اسے فوری پلینگ بتائی۔
ولڈ ٹور ۔۔۔۔ سب باتوں میں سے انمول کو بس ایک ہی بات سمجھ آئی تھی ۔۔۔ وہ تو پہلے سے ہی پوری دنیا گھومنا چاہتی تھی اور اب تو اسے موقع بھی مل رہا تھا تو وہ کیوں نا خوش ہوتی۔۔۔۔ اسکے خواب ایسے پورے ہوں گے وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
ہہمممم ہم پوری دنیا دیکھیں گے ایک ساتھ۔۔۔ فہد نے گھمبیر لہجے میں کہا۔
واؤ تھینک یو سو مچ ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے مجھے پوری دنیا گھومنے کا کتنا شوق ہے۔۔۔ انمول نے اپنی خواہش بتائی جسے سنتے فہد مسکرا دیا۔
مشی ایک کپ چائے بنادو سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔ ابتسام گھر میں داخل ہوا تو انو اسکی طرف پشت کر کے کھڑی فون کان سے لگائے فہد سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔۔۔ابتسام اسے میشا سمجھ کے چائے کا بول کے اندر بڑھنے لگا
انو اور میشا ایک دوسرے سے بہت ملتیں تھیں اس لیئے پیچے سے دیکھنے پر ابتسام کو لگا وہ میشا ہے۔
مسٹر ڈریگن میں انو ہوں۔۔۔ میشا اندر ہے۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں بولی۔
ابتسام نے ایک غصے سے بھری گھوری ڈالی لیکن وہاں فرق کسے پڑتا تھا۔
تو اگر تم ایک کپ چائے بنا دو گی تو گھس نہیں جاؤ گی ۔۔۔ ابتسام نے طنز کیا۔
کون ہے انو۔۔۔ فہد کو پتہ تو نہیں تھا کے کون ہے لیکن انمول سے اسکے بات کرنے رویہ فہد کو بہت بڑا لگا تھا۔
مسٹر ہنڈسم میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں اوکے بائے۔۔۔ انمول فون بند کرتی پوری طرح اسکی جانب متوجہ ہوئی۔
جی کیا کہہ رہے تھے آپ۔۔۔ وہ دونوں بازو باندھے انجان بنی۔
میں ایک بار کہتا ہوں بار بار کہنے کی عادت نہیں ہے مجھے اور اگر تمہاری سنے کی قوعت کم ہے تو جا کے علاج کرواؤں ہر کوئی اپنی بات دھرانے کا عادی نہیں ہوتا۔۔۔ وہ بھی اسی کے انداز میں بازو سینے پر باندھے اسے گھور کے بولا۔
ہائے مسٹر ڈریگن بس چند دن کی مہمان ہوں میں اس گھر میں یہ دن تو مجھے سکون سے گزارنے دیں۔۔۔۔ وہ سرد آہ بھرتی افسردہ لہجے میں بولی۔
کیوں کچھ دن بعد تم فوت ہونے والی ہو۔۔۔ ابتسام استہزاء مسکرایا۔
اللہ نا کرے۔۔۔ فوت ہوں میرے دشمن۔۔۔ وہ ایک دم دہل گئی۔۔۔ ابھی تو اسکے خواب پورے ہونے کا وقت آ رہا تھا۔۔۔۔ اور یہاں ابتسام کیسی باتیں کر رہا تھا۔
اچھا ہے دشمن فوت ہو جائیں کم سے کم انکی تم سے جان تو چھوٹے گی۔۔۔ ابتسام نے جیسے آج اسے زچ کرنے کی قسم کھا لی تھی لیکن وہ نہیں جانتا تھا سامنے بھی انمول تھی جو اینٹ کا جواب پتھر سے دیتی تھی۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے مسٹر ڈریگن ۔۔۔ میری چچی کے اکلوتے بیٹے ہیں آپ۔۔۔ انمول نے جتنی معصومیت سے کہا تھا۔۔۔ اسکی بات سمجھتے ابتسام نے اتنی ہی سخت نظروں سے گھورا تھا۔
تمیز سے بات کرو لڑکی ۔۔۔۔ ابتسام غصے سے دھاڑا
ایک تو یہ تمیز کون ہے آخر۔۔۔ ماما بھی کہتی ہیں تمیز سے بات کرو۔۔۔ اگر آپ کے پاس اسکا نمبر ہے تو مجھے دے دیں میں بھی زرا اس تمیز سے بات کر کے دیکھو کے یہ کس کھیت کی مولی ہے۔۔۔ انمول کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔
ابتسام غصے سے لال پیلا ہوتا تن فن کرتا اندر بڑھ گیا۔
ارے کہاں چلے گئے تمیز کا نمبر تو دیتے جاتے۔۔۔ اونہہ کسی کام کے نہیں ہیں میں دائم سے بولوں گی وہ مجھے تمیز کا نمبر کہیں سے بھی ڈھونڈ کے دے گا ۔۔۔۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی وہیں کرسی پر بیٹھ کے فون میں مصروف ہوگئی۔
۔![]()
![]()
![]()
کیا مصیبت ہے یار مجھے سے نہیں ہو رہا یاد ویا۔۔۔۔ دوپہر میں وہ دونوں بیٹھی پیپرز کی تیاری کر رہی تھیں جب انو نے پین پٹختے جھنجھلا کے کہا۔
پہلے تو تمہیں یوہں یاد ہو جاتا تھا اب کیا ہوگیا ۔۔۔. میشا نے کتابوں سے سر اٹھائے ایبرو اچھکائے۔
پتہ نہیں یار ایسا لگ رہا ہے آگے کا یاد کر رہی ہوں تو پیچھے کا بھولے جارہی ہوں۔۔۔ انو نے مسئلہ بیان کیا۔
لگتا ہے فہد بھائی تمہارے حواسوں پر سوار ہوگئے ہیں اس لیئے تم سے کچھ یاد نہیں ہو رہا۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کے تمہیں پیار ہو گیا ہو اور تمہیں پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ مشی نے اسکی طرف جھکتے رازداری سے پوچھا۔
مشی میڈم میں پیار کرنے کے لیئے پیدا نہیں ہوئی میں سب کی ناک میں دم کرنے کے لئے پیدا ہوئی ہوں۔۔۔ تو اس لئے تم چل کرو مجھے کوئی پیار ویار نہیں ہوتا۔۔۔ انمول نے گردن اکڑا کے کہا۔
انو ادھر آکے میرا ہاتھ بٹاؤ۔۔۔ کچن سے شگفتہ بیگم کی آواز کی۔
مما میں پڑھ رہی ہوں۔۔۔ اسنے وہیں سے ہانک لگائی۔
مجھے تو مسلسل تمہاری باتوں کی آواز آرہی ہے۔۔۔ مشی تو کم آواز میں ہی بات کر رہی تھی لیکن انمول کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کچن تک جارہی تھی۔۔۔ جس پر انہوں نے غصے سے اسے بلایا تھا۔۔۔ انہوں نے پہلے بھی اسے اپنے ساتھ کام میں لگانا چاہتا تھا لیکن وہ یہ کہہ کے بچ گئی کے اسے یاد کرنا ہے پیپر ہونے والے ہیں لیکن وہ یاد کم اور باتیں زیادہ کر رہی تھی۔
اب آپ کو میری آواز نہیں آئے گی میں آہستہ آہستہ باتیں میرا مطلب یاد کروں گی ۔۔۔ انمول کے منہ سے سچ نکلتے نکلتے بجا۔
مشی کو پڑھتے دیکھ انمول نے کتاب اٹھائی کے تھوڑی دیر بعد ہی اسکی بس ہوگئی۔
ممی میری شادی کردو مئی جون جولائی میں
ممی میرا دل نہیں لگتا یونی کی پڑھائی میں
انمول نے کتاب صوفے پر پٹختے فل بیزاریت سے تیز آواز میں گایا تو میشا کی ایک دم ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔ جب کے ہنسی تو وہاں آتی پھوپھو کی بھی چھوٹی تھی۔
ہاں ابھی کرواتی ہوں میں تمہاری شادی۔۔۔ کام کاج تو کچھ آتا نہیں ہے سسرال میں جا کے میری ناک کٹواو گی۔۔۔ شگفتہ بیگم نے بھگو کے طعنہ ماتا۔
ممی جی میرے سسرال میں بہت ملازم ہیں تو مجھے کوئی کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔۔۔ میں تو وہاں بس شہزادی بن کے رہوں گی۔۔۔ انمول اترائی۔
بلکل ٹھیک کہاں تم نے۔۔۔ شگفتہ بیگم کوئی جواب دیتیں اس سے پہلے ہی فہد اور اسکے بابا بلال صاحب کے ساتھ لاؤنچ میں داخل ہوئے۔
ارے واہ آج بھی آپ لوگ یہاں۔۔۔ انمول انہیں دیکھ کھڑی ہوئی۔
میشا نے جلدی سے ساری کتابیں سمیٹھیں۔
آج ہم نکاح کی تاریخ رکھنے آئے ہیں بیٹا۔۔۔ مسٹر خان نے آنے کی وجہ بتائی۔
اور افطاری بھی ہمارے ساتھ ہی کریں گے۔۔۔ بلال صاحب انہیں لیئے صوفے پر بیٹھے۔
ارے واہ یہ تو بہت اچھی بات ہوگئی۔۔۔ میں ابھی مما کو بتا کے آتیں ہو کے آج افطاری میں اسپیشل احتمام کریں۔۔۔ آفٹر آل میرے سسرال والے جو آئے ہیں۔۔۔ مشی آنکھ دبا کے کہتی کچن کی جانب بھاگ گئی۔
ہاہاہا بہت چنچل ہے آپ کی بیٹی۔۔۔ اس کے ہوتے گھر میں رونق لگی رہتی ہوگی۔۔۔ مسٹر خان قہقہہ لگا کے بولے۔
صحیح کہا آپ نے۔۔۔ اب یہ چلی جائے گی تو میرے گھر کی رونق بھی چلی جائے گی۔۔۔ بلال صاحب افسردہ ہوئے۔۔۔
انمول بہت منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔۔۔ گھر میں سب سے چھوٹی تھی تو سب کی لاڈلی تھی۔۔۔ بلال صاحب گھر آ کے جب تک اسکی صورت نہیں دیکھ لیتے انہیں سکون نہیں ملتا تھا۔۔۔ اور اب وہ اس گھر سے رخصت ہونے والی تھی۔۔۔ ورنا بلال صاحب تو چاہتے تھے وہ ہمیشہ اس گھر میں انکی آنکھوں کے سامنے رہے۔۔۔ اسکی شادی ابتسام سے ہو لیکن قسمت کے آگے کس کی چلتی ہے۔
۔![]()
![]()
![]()
افطاری کے وقت سب لوگ ہی آگئے تھے۔۔۔ پھوپھا ،حماد، ابتسام، سب لوگ موجود تھے۔۔۔ فرہاد اور اسکے والد سے اچھے سے ملاقات بھی ہوگئی تھی۔۔۔
افطاری بہت ہی خوشگوار اور پرسکون میں ہورہی تھی۔۔۔۔
شگفتہ بیگم تو انمول کو دیکھ دیکھ کے ہی صدقے واری جارہی تھیں جو آج اتنی تمیز اور سلیقے کے ساتھ کھا رہی تھی۔۔۔ وہ سکون میں تھیں کہ اس بار انمول نے کوئی الٹی سیدھی حرکت نہیں کی رشتے والوں کو بھگانے کے لیے۔۔۔ وہ سکون میں تھیں کے شاید اب انکی بیٹی سدھر جائے انسان بن جائے لیکن انکا یہ سکون صرف کچھ پل کے لیئے ہی تھا۔
بیٹا لگتا ہے آپ نروس ہورہی ہو اس لیئے صحیح سے نہیں کھارہیں۔۔۔ آپ کو بلکل نہیں کھبرانے کی ضرورت نہیں ہے آپ میری بیٹی جیسی ہو آرام سے ریلکس ہو کے کھاؤ۔۔۔ دلاور صاحب اسے بہت ہی آہستہ آہستہ کھاتے دیکھ یہ سمجھے کے وہ شرما رہی ہے انکی موجودگی میں لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کے سامنے بیٹھی لڑکی میں شرم نام کی چیز بھی نہیں ہے۔۔۔ وہ تو بس انہیں دیکھانے کے لیئے شرافت کا مضاہرہ کر رہی تھی کہ وہ سمجھے گے لڑکی کافی مینرز والی ہے۔۔۔ لیکن اب جب انہوں نے کہاں ہے کے آرام سے ریلکس ہو کے کھاؤ تو کیوں وہ یہ تکلف کرے۔
تھینک یو انکل میں بھی ایسے اتنی آرام آرام سے کھا کے تھک گئی تھی اور یقین جانے نا میرا پیٹ بھرا تھا اور نا ہی نیت۔۔۔ انمول واپس اپنے اصلی روپ میں آتی اپنے ازلی انداز میں کھانے لگی
جہاں دلاور صاحب اور فہد نے ہونقوں کی طرح اسے دیکھا جو چمچے بھر بھر کے فروٹ چارٹ کھا رہی تھی۔۔۔وہیں ابتسام نے لب بھیجے تھے۔
انمول آرام سے۔۔۔ شگفتہ بیگم نے دانت پیستے تنبیہہ کیا۔۔۔ لیکن اب انمول کو کہاں سنائی دے رہا تھا۔
سب نے اپنی مسکراہٹ روکی اور شگفتہ بیگم سوچ کے رہ گئی کے کیا ہوجاتا اگر دلاور صاحب اسے نا ٹوکتے تو۔
۔![]()
![]()
![]()
افطاری سے فارغ ہوکے نماز پڑھنے کے بعد سب نکاح کی تاریخ رکھنے بیٹھ گئے تھے۔
تھوڑی دیر کے مشورے کے بعد یہ طے پایا کے نکاح اٹھارہ رمضان کو جمعے کے دن بلال صاحب کے گھر پہ ہی سادگی سے ہوگا۔۔۔۔ اور شادی دھوم دھام سے انمول کے پیپرز کے بعد ہوگی۔۔۔۔ نکاح میں بس پانچ دن باقی تھے تو فہد نے بلال صاحب سے انمول کو اپنے ساتھ نکاح کا سوٹ دلانے لے جانے کی اجازت بھی لے لی تھی۔۔۔ بلال صاحب بھیجنا تو نہیں چاہتے تھے لیکن فہد کے بے حد اسرار اور انمول کی چمکتی آنکھوں نے انہیں ہاں کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
کچھ دیر اور وہ لوگ وہاں بیٹھ کے اپنے گھر کے لیئے نکل گئے تھے اور انمول خوشی سے اچھلتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی تھی دائم کو بتانے۔۔۔۔ آخر وہ اسکا بیسٹ فرینڈ تھا اسے بتانا تو بنتا تھا نا۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے بتانے کے بعد وہ خوش نہیں ہوگا۔۔۔ بلکے اب تو شاید ایک ان چاہا دکھ اسے ہمیشہ رہے گا۔
۔![]()
![]()
![]()
