170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 15)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

ماما یہ ہو گیا صاف اب میں اندر آجاؤ۔۔۔ انمول اسٹول پہ کھڑی ہاتھ میں جھاڑو لیئے بےزاریت سے بولی۔

شگفتہ بیگم باہر نکل کے آئیں اور دیوار کو دیکھا جو بلکل پہلے جیسی ہی تھی۔۔۔ مٹی اور جالے ابھی بھی لگے ہوئے تھے۔

عید قریب آتی جا رہی تھی اس لیئے گھر کی جھاڑ پوچھ شروع ہوگئی تھی۔۔۔ ویسے تو صفائی کے لیئے ماسی آتی تھی لیکن وہ عید کی وجہ سے چھٹیاں لے کے اپنے گاؤں چلی گئی تھی ۔۔۔ انمول کو فارغ ادھر سے ادھر گھومتے دیکھ انہوں نے اسے صفائی کے کام پہ لگا دیا تھا۔

انو آنکھیں کھولو اپنی اور غور سے دیکھو یہ کہیں سے بھی صاف لگ رہی ہے۔۔۔ ان کے ماتھے پہ بل آئے۔

ماما باقی کل کردوں گی ابھی مجھے جانے دیں میرے پیپر ہونے والے ہیں مجھے یاد بھی کرنا ہے۔۔۔ اسنے معصوم سی شکل بنائی۔

اگر شگفتہ بیگم کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ضرور اسکی یہ معصوم شکل دیکھ کے پگھل جاتا لیکن سامنے بھی اسکی ماں تھی جو اسکے ایک ایک رنگ سے واقف تھیں

جانتی ہوں میں تمہارے پیپر ہونے والے ہیں اور یہ بھی جانتی ہوں کے تمہیں کتنا پڑھنا ہوتا ہے۔۔۔ اس لیئے اچھے سے پہلے کام مکمل کرو اسکے بعد پورا دن پڑا ہے بیٹھ کے آرام سے یاد کرتی رہنا۔۔۔ پھر کوئی میری بچی کو ڈسٹرب نہیں کرے گا۔۔۔ انہوں نے بہت شیرین لہجے میں کہا تھا جب کے انمول کا رونے والا منہ بن گیا تھا۔۔۔ مطلب اسکی ماں آج کسی بھی طرح سے اسکی جان بخشنے کے موڈ میں نہیں تھیں۔

کہاں میں شہزادیوں کی طرح رہنے کے خواب دیکھتی تھی اور کہاں مجھے یہ جالے صاف کرنے پڑھ رہے ہیں۔۔۔ انہیں اندر جاتے دیکھ وہ زور سے بڑبڑائی تھی مطلب صاف تھا وہ انہیں اپنا دکھ سنانا چاہتی تھی لیکن شگفتہ بیگم بھی اسکی ماں تھیں کان لپیٹے اندر چلی گئیں ۔

ٹن ٹن ۔۔۔۔

کس کا فون آگیا۔۔۔ فون بجنے کی آواز پہ اسنے گردن موڑ کے ٹیبل پہ رکھے فون کو دیکھا۔

مشی یار ذرا ادھر آنا۔۔۔ انمول نے وہیں کھڑے کھڑے مشی کو آواز لگائی جو دو منٹ میں باہر آگئی تھی۔

مشی یار ذرا تم یہ صاف کرو میں دو منٹ میں فون سن کے آتی ہوں۔۔۔ انمول اسٹول سے اترتی جھاڑو مشی کو پکڑائے فون کی طرف بڑھی۔

انو بڑی ماما نے مجھے منا کیا ہے تمہارا کوئی بھی کام کرنے سے۔۔۔ مشی نے عطلاح دی جب کے انو تو اپنے فون پہ آنے والے ان نون نمبر کو دیکھ رہی تھی۔

یار مشی میں اب سے تمہاری دوست نہیں بھابھی ہوں اور تمہیں اپنی بھابھی کی بات ماننی ہی ہوگی۔۔۔ انو نے رعب سے کہا

انو تم سم۔۔۔۔۔

تھینک یو یار میں جانتی تھی تم مجھے منا نہیں کرو گی۔۔۔ بس جلدی سے ماما کے آنے سے پہلے کام ختم کر کے اندر بھاگ جانا۔۔۔ انہیں بلکل پتہ نہیں چلنا چاہیئے کے یہ کام تم نے کیا ہے اوکے ۔۔۔ انمول میشا کی بات کاٹتی اسکے گال کھینچ کے ہمیشہ کی طرح خود ہی اسکی بات کا جواب دیئے اندر بھاگ گئی۔

مشی یار تم کب سدھرو گی۔۔۔ میشا بےچارگی سے کہتی کام میں لگ گئی۔

ابھی اسے کام کرتے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ شگفتہ بیگم آگئیں۔

انو ہو گیا صاف۔۔۔ وہ بےدھیانی میں بولتی ہوئی آئیں لیکن جب نظر اٹھا کے دیکھا تو انو کی جگہ مشی کو دیکھ چونکیں۔

مشی تم یہاں کیا کر رہی ہو اور انو کہاں ہے۔۔۔ وہ انو کی تلاش میں نظریں گھماتی پوچھنے لگیں۔

وہ بڑی ماما اسے​ کوئی ضروری کام یاد آگیا تھا بس وہی کرنے گئی ہے ابھی آجائے گی۔۔۔ میں نے سوچا جب تک وہ نہیں آتی تھوڑا سا میں کر دیتی ہوں۔۔۔ میشا نے ہمیشہ کی طرح اسے بچانے کے لیئے بہانا بنایا۔

جانتی ہوں میں اسے۔۔۔ کوئی نہیں آئے گی وہ اب۔۔۔۔ اپنا کام تمہارے سر ڈال گئی ہے اور تم بھی اسکی اتنی فرمابردار ہو کے اسکی ہر بات مان لیتی ہو۔۔۔ انہوں نے اسے دانٹا۔

کچھ نہیں ہوتا بڑی ماما تھوڑا سا کام ہے میں یوں ہی فٹافٹ کردوں گی۔۔۔ اسنے مسکرا کے کہا۔

جانتی ہوں بیٹا تم تو کر دوگی لیکن میں اس کام چور لڑکی کا کیا کرو۔۔۔ مجال ہے جو کسی کام کو سیریس لے لے ۔۔۔ ہر بار کوئی نا کوئی بہانا کر کے کام سے بچ جاتی ہے۔۔۔ اور تو اور اس گھر میں اسکے حمایتی بھی اتنے ہیں کہ کچھ بول ہی نہیں سکتے۔۔۔ پتہ نہیں کیا بنے گا اس لڑکی کا۔۔۔ وہ سر جھٹکتی غصے سے کہتی اندر بڑھ گئیں۔

پیچھے مشی مسکرا کے کام میں لگ گئی۔۔۔ بچپن سے یہی تو ہوتا آیا تھا انو ہمیشہ اپنا کام مشی کو دے کے خود بھاگ جاتی تھی اور مشی ایک اچھی بہن ہونے کا فرض نبھاتے ماتھے پہ بل لائے بغیر اسکے حصے کا ہر کام کر دیتی تھی۔۔۔ اور آج تک کچھ نہیں​ بدلا تھا۔۔۔ آج بھی وہی انو تھی اور وہی مشی۔

۔🌺🌺🌺

ہیلو کون۔۔۔۔ فون بند ہو کے دوبارہ آیا تھا جب انمول کمرے میں آتی کال ریسیو کرتے کان سے لگا گئی۔

انو میں فہد بات کر رہا ہوں۔۔۔ دوسری طرف سے بےچینی سے بھرپور فہد کی آواز سنتے وہ جو صوفے پہ رلیکس ہوکے بیٹھنے لگی تھی ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔

فہد تم۔۔۔ کہاں ہو تم ۔۔۔ اور نکاح والے دن کیوں نہیں آئے تھے۔۔۔ انمول حیرت سے ایک کے بعد ایک سوال کرنے لگی۔

انو مجھے معاف کردو اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ یہ سب میرے بابا نے کیا ہے۔۔۔ فہد نے بےبسی سے کہا۔

تم کہنا کیا چاہتے ہو۔۔۔ انمول نے ناسمجھی سے پوچھا۔

انو نکاح والے دن میں صبح سے تیاریاں کر رہا تھا۔۔۔ لیکن صبح ہی فجر کے بعد بابا میرے کمرے میں آئے اور کہا کے انکے کوئی دوست آنے والے ہیں انہیں ائرپورٹ سے رسیو کرنا ہے۔۔۔ میں بابا کے ساتھ ائرپورٹ جا رہا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں راستے میں ہی بےہوش ہو گیا اور جب ہوش آیا تو میں پاکستان میں نہیں تھا۔۔۔

میرے بابا کو شروع سے ہی اپنے سے کم لوگوں سے چڑھ تھی۔۔۔ وہ ہماری شادی کے لیئے آسانی سے مان گئے تھے اس بات پہ مجھے بہت حیرت ہوئی تھی لیکن میں سمجھا شاید وہ اپنے بیٹے کی محبت کو سمجھتے ہیں ۔۔۔ اسکی خوشی ان کے لیئے زیادہ اہم ہے لیکن نہیں ایسا نہیں ہوا۔۔۔ وہ مجھے بےہوش کر کے پاکستان سے ملائشیاء لے آئے اور یہاں آکے میرا فون میرا پاسپورٹ سب کچھ کہیں چھپا دیا۔۔۔۔۔ میں نے اپنے گھر کے ملازم سے بہت مشکل سے فون لے کے تمہیں فون کیا ہے۔۔۔. انو میں چاہ کے بھی کچھ نہیں کر پارہا۔۔۔ میں چاہ کے بھی واپس نہیں آ پارہا۔۔۔ فہد کی آواز سے اسکی بات کی سچائی اور بےبسی صاف جھلک رہی تھی۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا اور انمول ایسے سن رہی تھی جیسے یہ بات اب اسکے لیئے اہمیت ہی نہیں رکھتی ہو۔

جو ہوا سو ہوگیا اب اسے بھول جاؤ۔۔۔ انمول نے کندھے اچکاتے عام سے لہجے میں کہا۔

میں کیسے بھول سکتا ہوں انو۔۔۔ تم میری پہلی اور آخری محبت ہو ۔۔۔ محبت کی ہے میں نے تم سے۔۔۔ انو پلیز میری ایک بات مان لو پلیز میرا انتظار کرلو میں بہت جلد کچھ نا کچھ کر کے واپس آؤ گا۔۔۔ تمہیں اپناؤ گا۔۔۔ بس پلیز تم میرا انتظار کرنا۔۔۔ بتاؤ کرو گی نا میرا انتظار۔۔۔ فہد نے امید بھرے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔ جیتا وہ ابھی ہاں بول کے فہد کے بےچین دل کو چین دے دے گی۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اب ایسا ہونا ناممکن ہے۔

فہد جس دن تم نہیں آئے تھے اس دن میرا نکاح میرے کزن ابتسام سے ہوگیا تھا۔۔۔ انمول نے بڑے آرام سے اسکے سر پر بم پھوڑا تھا۔

انو یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔تم اس سے نکاح کیسے کر سکتی ہو۔۔۔ فہد کو اپنی ہی آواز کسی کھائی سے آتی سنائی دی۔

نکاح والے دن اگر دلہا نا آئے تو ایک لڑکی کا باپ کیا کرے گا۔۔۔ فہد جب تم نہیں آئے تو میرے بابا نے کچھ نا کچھ تو کرنا ہی تھا نا۔۔۔ اگر لوگوں سے یہ کہتے کے کوئی نکاح نہیں ہو رہا تو لوگ باتیں بناتے۔۔۔ انکی بیٹی پہ انگلیاں اٹھاتے۔۔۔غلطی نا ہونے کے باوجود بھی ہمیشہ انگلیاں ایک عورت پہ ہی اٹھتی ہیں۔۔۔ میرے بابا نہیں چاہتے تھے کوئی انکی بیٹی پہ انگلیاں اٹھائے۔۔۔

فہد میں نے اپنے بابا کی آنکھ میں کبھی نمی نہیں دیکھی لیکن اس دن انکی آنکھ میں آنسو تھے۔۔۔ وہ جب ابتسام سے نکاح کی رضامندی لینے میرے پاس آئے تو انکی آنکھوں میں ایک درد تھا ایک مان تھا اور میں انکا مان نہیں توڑ سکتی تھی۔۔۔ میں جانتی ہوں مسٹر ڈریگن غصے کے تھوڑے تیز ہیں لیکن اتنے بھی برے نہیں ہیں جتنا میں سمجھتی تھی۔۔۔ اور باقی جو تھوڑے بہت کھڑوس ہیں وہ میں انہیں تنگ کر کر کے ٹھیک کردوں گی۔۔۔۔ شروع میں سنجیدگی سے کہتی آخر میں شرارت سے بولی۔

کیا تم خوش ہو۔۔۔ فہد نے دل پہ پتھر رکھتے پوچھا۔

ہاں میں خوش ہوں۔۔۔ انمول ہلکا سا مسکرائی۔

میں نے تم سے محبت کی ہے انمول۔۔۔ اور میری محبت کا اولین اصول یہ ہے کہ میری محبت خوش رہے ۔۔۔ اگر تم ابتسام کے ساتھ خوش ہو تو میری دعا ہے تم همیشہ خوش رہو۔۔۔ ہو سکے تو مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔۔۔ اللہ حافظ۔۔۔۔ فہد نے بہت مشکل سے اسے اللہ حافظ کہا تھا۔۔۔ یہ صرف اسکا دل ہی جانتا تھا کہ وہ کس قرب سے گزر رہا ہے۔

فون بند ہوتے چند لمحہ فون کی اسکرین کو دیکھنے کے بعد وہ بیڈ پہ ڈھہ سی گئی۔۔۔

محبت کرنا مشکل نہیں محبت حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ دو لوگوں نے اس سے محبت کی تھی۔۔۔ لیکن ان کا نصیب دیکھو کہ کسی ایک کی بھی محبت پوری نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ یہ نصیب ہی تھا جس نے انمول کو ایک ایسے شخص کے ساتھ جوڑا تھا جس کی اسنے کبھی توقع بھی نہیں کی تھی۔۔۔ یہ نصیب ہی تھا جس نے دو الگ الگ راستوں کے مسافروں کو ایک ساتھ جوڑا تھا۔۔۔ دو مختلف مزاج کے لوگوں کو ایک کیا تھا۔۔۔ شاہد ان دونوں کا ساتھ ہی ہمیشہ سے لکھا تھا بس صحیح وقت پہ ایک ہونا تھا۔۔جو وہ ہو بھی چکے تھے۔

۔🌺🌺🌺

امی سر میں بہت درد ہو رہا ہے پلیز ایک کپ چائے لے کے آجائیں تھوڑا سر بھی دبوانا ہے۔۔۔۔ ابتسام آج افطاری کے بعد کافی لیٹ آفس سے گھر آیا تھا۔۔۔ اسکے بزنس کی شروعات کافی اچھی ہو رہی تھی اس لیئے وہ جتنا ہو سکے اتنا ٹائم آفس کو دیتا تھا۔۔۔ وہ آفس سے آکے لاؤنچ میں بیٹھے سب کو سلام کرتے نسرین بیگم کو چائے کا کہتے کمرے میں چلا گیا۔

نسرین تم بیٹھی رہو۔۔۔ انو جاؤ ابتسام کے لیئے چائے بناؤ اور دے کے آؤ اسے۔۔۔ شگفتہ بیگم انمول کو فون میں لگے دیکھ بولیں۔

کیا آپ نے مجھے سے کچھ کہا ہے۔۔۔ انمول نے اپنی طرف انگلی کرتے پوچھا۔

غالباً تمہارا ہی نام انو ہے۔۔۔ وہ زبردستی مسکرا کے بولیں ورنا دل تو کر رہا تھا رکھ کے ایک لگائیں اسے۔

مشی چائے بنا کے مجھے دے دو میں لے جاؤ گی۔۔۔ انمول نے فون پہ نظریں جمائے مشی کو آرڈر پاس کیا۔

انو وہ تمہاری نوکر نہیں ہے۔۔۔ خود جا کے بناؤ چائے۔۔۔وہ گھور کے بولیں

بھابھی مشی چائے بنا دے گی اور انو لے جائے گی۔۔۔ بعد میں پھر وہ خودہی چائے بھی بنائے گی اور لے کے بھی جائے گی۔۔۔

جاؤ مشی بیٹا انو کو چائے بنا کے دو۔۔۔۔ نسرین بیگم مسکرا کے شگفتہ بیگم سے کہتی آخر میں مشی سے بولیں تو وہ بھی فورن جی کہتی چائے بنا نے چل دی۔

شکر اللہ کا میرا ایک خواب تو پورا ہوا۔۔۔ کم سے کم مجھے ساس نند تو اچھی ملیں ہیں۔۔۔۔ انمول باآواز بلند اوپر دیکھ کے بولی۔

آپ سب نے ہی اس لڑکی کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔۔۔ شگفتہ بیگم بڑبڑا کے رہ گئی۔

کچھ دیر میں مشی چائے لیئے انو کے سامنے حاضر تھی۔۔۔ انو مشی سے چائے کا کپ تھامتی اوپر بڑھ گئی۔

بچے کے سر میں بھی درد ہے تو سر بھی دبا دینا۔۔۔ پیچھے سے شگفتہ بیگم نے ہانک لگائی۔

ہونہہ گلا ہی نا دبا دوں ایک ہی بار سارے درد ختم ہو جائیں گے۔۔۔ وہ برا سا منہ بنا کے دل ہی دل میں کہتی ابتسام کے کمرے کی جانب بڑھی۔

وہ بغیر نوک کیئے کمرے میں گھس گئی۔

ابتسام جو فریش ہو کے بیڈ پہ آنکھیں بند کیئے بیٹھے ہلکے ہلکے اپنے ہاتھ سے سر دبا رہا تھا ایک دم دروازہ کھلنے کی آواز پہ چونک کے آنکھیں کھولتے سیدھا ہوا۔

تم کیوں چائے لائی ہو میں نے تو امی سے بولا تھا۔۔۔ انمول کو چائے لاتے دیکھ اسنے سنجیدگی سے کہا۔

مجھے بھی کوئی شوق نہیں تھا۔۔۔ یہ جو آپ کی ساس ہیں نا ہر وقت مجھ پہ حکم بلاتی رہتیں ہیں ابھی بھی انہیں کا حکم تھا کہ آپ کے لیئے چائے بھی میں لے کے جاؤ اور سر بھی میں ہی دباؤں۔۔۔ وہ دانت پیستے مسکرا کے بولی۔

بس چائے دے دو سر دبانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ابتسام نے اسکے ہاتھ سے چائے کا کپ لیا۔

آپ کیا چاہتے ہیں میں ایسے ہی بغیر آپ کا سر دبائے نیچے چلی جاؤں اور ماما سے پھر سے بےعزتی کرواؤں۔۔۔ وہ اسے گھور کے بولی۔

پہلے ہی کون سی عزت ہے۔۔۔ خیر اگر تم چاہتی ہو تو دبا سکتی ہو۔۔۔ ابتسام گرم گرم چائے چند گھوٹ میں ہی ختم کرتا کپ سائڈ کورنر پہ رکھتے بیک گراؤنڈ سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا۔

انمول تھوڑا جھجھکتے ہوئے اسکی پیشانی پہ ہاتھ رکھتے کھڑے کھڑے ہی آہستہ آہستہ دبانے لگی۔۔۔ وہ لڑکی جو کبھی کچھ بھی کرنے سے پہلے نروس نہیں ہوئی تھی آج کافی نروس ہو رہی تھی۔۔۔

انمول کو بار بار حلق تر کرتے دیکھ ابتسام نے مسکرا کے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔ اسکے نرم و نازک ہاتھ اسے بہت اچھے لگ رہے تھی۔۔۔ کافی سکون مل رہا تھا جس کے باعث وہ جلد ہی نیند کی وادی میں چلا گیا تھا۔

مسٹر ڈریگن کیا آپ سوگئے۔۔۔ مسلسل اسے ایک ہی پوزیشن میں خاموش بیٹھا دیکھ انمول نے آہستہ سے پکارہ لیکن وہ جاگ رہا ہوتا تو جواب دیتا نا۔

لگاتا ہے سو گئے۔۔۔ ویسے سوتے ہوئے بھی کافی ہنڈسم لگتے ہیں۔۔۔ ویسے اللہ کا بہت بہت شکریہ ہے کہ مسٹر ڈریگن کے بال بڑے ہیں اب میں انکی پونیاں بنا کے اپنی یہ خواہش بھی پوری کر سکتی ہوں۔۔۔ انمول اسکی بند آنکھیں​ دیکھ مسکرائی پھر اچانک دماغ بھی ایک خیال آتے جلدی سے اپنے کمرے میں بھاگی۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ ہاتھ میں کنگا اور دو چھوٹی چھوٹی پونیاں لیئے واپس ابتسام کے کمرے میں موجود تھی۔۔۔

بہت ہی احتیاط سے اسنے ابتسام کے بالوں میں مانگ نکال کے دو پونیاں بنائی تھیں۔۔۔ اسکے اٹھنے کے ڈر سے بہت آہستہ آہستہ کر رہی تھی۔۔۔ اسکی دونوں پونیاں بنانے کے بعد اپنے فون میں جلدی سے اسکی ایک دو تصویریں​ لیں اور دو تین اپنے ساتھ سیلفیاں لیتے اپنی ہنسی روکنے لگی۔۔۔ وہ اس وقت اتنا کیوٹ لگ رہا تھا کہ انمول سے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو رہا تھا اس لیئے جلدی سے کمرے سے ہی نکل گئی۔

۔🌺🌺🌺