Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 21)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 21)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
کچھ ہفتوں بعد۔۔۔۔
عید کافی اچھے سے گزر گئی تھی۔۔۔۔ اور عید کے بعد گھر میں جیسے سناٹا چھا گیا تھا کیونکہ انو اور مشی کے پیپرز شروع ہوگئے تھے۔۔۔ اس لیئے انکا زیادہ تر وقت پڑھائی میں گزرتا تھا۔۔۔ ایک پیپر دے کے آتیں تو دوسرے کی تیاری میں لگ جاتیں۔۔۔ پیپرز کی وجہ سے انمول کی شرارتیں بھی کم ہوگئیں تھی۔۔۔ جب کے گھر کی باقی خواتین شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں ۔۔۔ ہر روز بازار کے چکر لگ رہے تھے۔۔۔ ایک دو بار انکے ساتھ جاکے انو اور مشی نے اپنی پسند کی کچھ چیزیں لے لیں تھیں باقی سب انکی ماؤں نے پسند کیا تھا۔۔۔ جب کے انمول کے بارات اور ولیمے کا سوٹ ابتسام نے اپنی پسند کا بنوایا تھا۔۔۔
آج آخری پیپر تھا۔۔۔ وہ دونوں پیپر دے کے گھر واپس آئیں تو انکے گھر آنے سے پہلے ہی انکی شکایت گھر پہنچ گئی تھی۔
انو کیا کر کے آئی ہو تم آج۔۔۔ وہ دونوں ابھی بیگ صوفے پہ رکھتی سکون سے بیٹھی ہی تھیں کی شگفتہ بیگم کلاس لینا شروع ہوگئیں۔
میں نے کیا کیا ہے۔۔۔۔ انمول جان کے انجان بنی۔
میں نے کیا کیا ہے کی بچی۔۔۔ شرم ہے،،، اتنی بڑی ہوگئی ہو اور کام دیکھو بچوں والے۔۔۔ نکاح ہوچکا ہے شادی ہونے والی ہے لیکن مجال ہے جو تم سدھر جاؤ۔۔۔ شگفتہ بیگم نے غصے سے اسے اچھی خاصی سنائی تھی لیکن اسکے چہرے پہ شرم ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہی تھی۔
لیکن ماما میری غلطی کیا ہے یہ تو بتائیں۔۔۔۔ چہرے پہ حیرت اور بے انتہا معصومیت سجائے پوچھا۔
تم نے تو کچھ کیا ہی نہیں ہے پوری کلاس کے بچوں اور ٹیچر کے بالوں میں ببل تو میں نے چپکائی ہے اور مشی میں تمہیں تو ایسا نہیں سمجھتی تھی۔۔۔ تم بھی اسکے ساتھ مل کے الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگ گئی۔۔۔ شگفتہ انو کو طنز کرتی مشی سے مخاطب ہوئیں جو آج انو کے ساتھ اسکی شرارت میں برابر کی شریک تھی۔
سوری بڑی ماما غلطی سے ہوگیا۔۔۔ اسنے شرمندگی سے سر جھکاتے فورن معافی مانگی پر انو تو جیسے اپنی غلطی ماننے کے موڈ میں ہی نہیں تھی۔
انو تمہیں شرمندگی نہیں ہے۔۔۔ جانتی ہو تمہارے پرنسیپل نے فون کر کے اگلی پچھلی ساری شکایتیں لگائیں ہیں۔۔۔ وہ کافی غصے سے بول رہیں تھی۔۔۔ ایک تو وہ صبح سے مہندی کی تیاریوں میں مصروف تھیں اور اوپر سے انمول کے کارنامیں سن کے تو انکا دماغ ہی کھوم گیا تھا لیکن انمول کے تو کان پہ جون تک نہیں رینگی تھی۔
آپ سہی کہہ رہی ہیں مجھے شرمندہ ہونا چاہیئے میں یعنی انمول صرف بالوں میں ببل چپکا کے آئی ہوں ۔۔۔۔ بلکے مجھے تو بال ہی کاٹ دینے چاہیئے تھے۔۔ انمول تم کتنی نالائق ہو تمہیں کچھ نہیں آتا تمہیں تو ڈوب مرنا چاہیئے۔۔۔ وہ اپنے ہی سر پہ چپت لگاتی افسوس سے خود کو کوس رہی تھی جب کے اسکی ڈرامے بازی دیکھ شگفتہ بیگم کا پارا ہائی ہوا۔
انو آج تم اپنی مہندی والے دن میرے ہاتھوں سے پٹو گی۔۔۔۔ شگفتہ بیگم اسکا دماغ درست کرنے کے لیئے آگے بڑھیں تو وہ جلدی سے صوفے سے اٹھتی سیڑھیوں کی جانب بھاگی۔
بھابھی رہنے دیں آج اسکی مہندی ہے دلہن ہے وہ۔۔۔ نسرین بیگم نے انہیں روکا۔۔۔۔ جب کے انمول اوپر جاچکی تھی۔
نسرین مجھے تو لگتا ہے اسکے بچے بھی ہو جائیں گے یہ تک بھی نہیں سدھرے گی۔۔۔ کیونکہ یہ سدھرنے والی چیز ہی نہیں ہے۔۔۔ اللہ ہی ہدایت دے گا اسکو تو۔۔۔ شگفتہ بیگم سر جھٹک کے کاموں میں لگ گئیں۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
مہندی کا فنگشن ایک ساتھ ہی لان میں رکھا گیا تھا۔۔۔ پورے لان کو پیلے سفید پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔ پہلے میشا اور حماد کا نکاح ہونا تھا اسکے بعد مہندی۔۔۔ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔۔۔ جب کے دلہن میڈم تیار ہوئے کمرے میں بیٹھی سوگئی تھی۔۔۔ اسے بیوٹیشن جلدی تیار کر کے چلی گئی تھی جس کے بعد اسے شگفتہ بیگم نے کمرے سے نکلنے سے منا کر دیا تھا ۔۔۔ تو بوریت کی وجہ سے وہ سو گئی تھی۔
انو چلیں مشی کا نکاح شروع ہونے والا ہے۔۔۔ ماہی کمرے میں داخل ہوتی اسے مشی کے نکاح کی عطلاح دینے لگی لیکن اسے سوتے دیکھ حیران ہوئی ۔۔۔۔ بھلا اپنی ہی مہندی والے دن کوئی دلہن سوتی تھی۔
انو۔۔۔ ماہی نے آگے بڑھ کے اسے ہلکا سا ہلایا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کے انمول ہلکے سے ہلانے پر اٹھنے والی چیز نہیں ہے۔
اسے ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ اسنے پھر ہلایا لیکن اس میں کوئی حرکت نا ہوئی۔۔۔
اسے بےحس و حرکت لیٹے دیکھ ماہی کو گھبراہٹ ہوئی۔۔۔ اسنے دل میں سوچا کہ کہیں کچھ ہو تو نہیں گیا اور اسی سوچ کے آتے ہی اسنے فورن کمرے سے باہر دوڈ لگائی دی سب کو اسکی حالت کا بتانے کے لیئے۔۔۔پر وہ بچاری نہیں جانتی تھی کہ انو میڈم سو رہی ہیں بےہوش نہیں ہوئیں۔
ابتسام بھائی۔۔۔ ابتسام کو نیچے اترتے دیکھ ماہی نے پریشانی سے آواز دی
کیا ہوا ماہی اور تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہوں سب ٹھیک ہے نا۔۔۔ ابتسام اسکا گھبرایا ہوا چہرا دیکھ فکرمندی سے پوچھنے لگا۔
وہ ابتسام بھائی انو بےہوش ہوگئی ہیں۔۔۔ ماہی نے پریشانی سے بتایا تو ابتسام ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اوپر بھاگا۔۔۔ تو ماہی گھر میں باقی سب کو بتانے چلی گئی۔
انو۔۔۔۔ ابتسام تیزی سے اسکے پاس آتا اسکا گال تھپتھپاتا نے لگا۔۔۔ لیکن انو اتنی گہری نیند میں تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چکلا۔
انو اٹھو ۔۔۔ اب کی بار ابتسام نے زور سے جھنجھوڑا تو انو نے برا سا منہ بنائے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھولیں۔
کیا ہوا ہے مسٹر ڈریگن کیوں جگا رہے ہیں۔۔۔ میں اتنا اچھا خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔ میرا جہاز بس ترکی لینڈ کرنے ہی والا تھا کے آپ میرے خواب کے بیچ میں آگئے۔۔۔ انمول اسے پیچھے کرتی بھرپور انگڑائی لیئے سیدھی ہو کے بیٹھی۔
تم سو رہی تھیں۔۔۔ ابتسام نے حیرت سے پوچھا۔
نہیں چلا کاٹ رہی تھی۔۔۔ اسنے سیریس انداز میں کہا۔
انو میری بچی کیا ہوا ہے کیسے بےہوش ہوگئیں۔۔۔ابتسام کچھ کہتا اس سے پہلے ہی شگفتہ بیگم کمرے میں داخل ہوتی فکرمندی سے اسکے پاس آئیں تو ابتسام نے کھڑے ہوتے انہیں بیٹھنے کی جگہ دی ۔۔۔ ان کے پیچھے ہی کمرے میں پورا گھر داخل ہوگیا تھا۔
ہیںںںںں آپ کو کس نے کہا میں بےہوش ہوگئی ہوں۔۔۔ انو نے پوری آنکھیں کھولے سب کو دیکھا جن کے چہروں پہ پریشانی واضح دیکھائی دے رہی تھی
ماہی نے۔۔۔ شگفتہ بیگم کے کہنے پہ سب کی نظریں ماہی کی طرف گئیں۔۔۔
خود پہ سب کی نظریں محسوس کرتے وہ گھڑبڑا گئی۔
ماہی تمہیں کس نے کہا تھا کہ میں بےہوش ہوگئی ہوں۔۔۔
وہ میں آپ کو اٹھانے آئی تو آپ اٹھ نہیں رہی تھی میں نے دو تین بار آپ کو اٹھانے کی کوشش کی تھی لیکن جب آپ کے اندر کوئی حرکت نہیں ہوئی تو مجھے لگا آپ بےہوش ہوگئیں ہیں۔۔۔ میں پریشان ہوگئی تھی اس لیئے سب کو بتادیا۔۔۔۔ انو کے پوچھنے پہ ماہی نے وضاحت دی تو سب نے سکون کا سانس لیا۔۔۔
ماہی تم نئی ہونا اس لیئے تمہیں نہیں پتہ انو مردوں سے شرط لگا کے سوتی ہے جب تک اسے زور زور سے جھنجھوڑ کے نا اٹھایا جائے یہ اٹھتی نہیں ہے۔۔۔ مشی نے مسکرا کے ماہی سے کہا تو انمول نے گھور کے اسے دیکھا۔
اچھا چلو اب نکاح شروع کرنا ہے۔۔۔ ماہی کو شرمندہ دیکھ بلال صاحب بولے تو سب انکی تائید کرتے کمرے سے نکل گئے۔۔۔۔ اب کمرے میں صرف انو اور ابتسام بچے تھے۔
چلیں ۔۔۔ انو شیشے میں اپنا میک اپ دیکھتی ڈوپٹہ دیکھ کرکے بولی۔
ایک بات بتاؤں یہ دلہن بن کے کسے نیند آتی ہے۔۔۔ ابتسام اسکے پیچھے آتے بولا۔
مجھے آتی ہے اور ویسے بھی تیار ہونے کے بعد اتنی اچھی نیند آتی ہے کہ میں کیا بتاؤں آپ کو۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ آپس میں ملائے بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
تم اس پوری دنیا میں ایک اکیلی انوکھی پیس ہو۔۔۔ ابتسام نے نفی میں سر ہلاتے کہا تو وہ فخر سے ہاں میں سر ہلاتی اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے نیچھے اتر گئی۔۔۔ تو وہ بھی ٹھنڈی سانس بھرتا اسکے پیچھے ہی آیا۔
۔![]()
![]()
![]()
سب ڈرائنگ روم میں جما تھے اس وقت میشا اور حماد کا نکاح ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
بلال صاحب کی اجازت پہ مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا تو میشا اپنے آنسوں پہ قابو نہیں رکھ سکی۔۔۔۔
اسے اس وقت اپنے بابا بے حد یاد آرہے تھے جو اسے بچپن میں ہی چھوڑ کے چلے گئے تھے۔۔۔ایک بیٹی کے لیئے اسکا باپ کیا ہوتا ہے یہ صرف ایک بیٹی جانتی ہے ۔۔ اسکے بابا تو اسے جب چھوڑ کے گئے تھے جب اسنے ٹھیک سے انکا لمس تک محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔ لیکن اسنے اپنے تایا کے روپ میں اپنے بابا کو دیکھا تھا۔۔۔ بلال صاحب نے ہمیشہ اسے اور ابتسام کو اپنی سگی اولاد کی طرح رکھا تھا کبھی اپنی بیٹی میں اور ان میں فرق نہیں کیا تھا۔۔۔ آج بھی اسکی حالت سمجھتے ایک طرف سے بلال صاحب تو دوسری طرف سے ابتسام نے اسکے گرد حصار بنایا۔
بھائی اور باپ جیسے تایا کا ساتھ پاتے اسے کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔ بلال صاحب کے شفقت سے سر پہ ہاتھ رکھتے ہی اسنے نکاح قبول کیا۔۔
اسکی طرف سے نکاح قبول ہوتے ہی ابتسام اور بلال صاحب اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے باہر نکل گئے جہاں حماد لان میں بیٹھا بےچینی سے انکے باہر آنے کا انتظار کررہا تھا۔
اتنی دیر لگادی۔۔۔ انکے باہر آتے ہی حماد بےصبری سے بولا تو اسکی بےصبری پہ سب ہنس دیئے۔
اتنی بےصبری اچھی نہیں ہوتی حماد صاحب۔۔۔ ابتسام اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے بولا تو وہ اپنی جلد بازی پہ دانت نکلتے بیٹھ گیا۔
نکاح شروع ہوا اور حماد نے تین بار قبول ہے کہتے میشا کو اپنے نکاح میں لیا۔۔۔۔ سب باری باری آتے حماد سے گلے مل کے اسے مبارک باد دے رہے تھے اور وہ مسکرا کے سب سے مبارکبادی وصول کر رہا تھا۔
نکاح کے بعد انو کو ابتسام کے ساتھ مایوں بیٹھایا گیا۔۔۔ دونوں اسٹیج پہ بیٹھے سب کی نظروں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔۔۔ انو مایوں مہندی کے پیلے جوڑے میں بالوں کی فرنچ چوٹی کیئے ہلکے میک اپ میں چہرے پہ ہمیشہ کی طرح زندگی سے بھرپور مسکراہٹ لیئے بیٹھی اپنی مہندی انجوائے کر رہی تھی جب کے اسکے ساتھ سفید قمیض شلوار پہ پیلی واسکٹ پہنے وجیہہ چہرے پہ ہمیشہ کی طرح سنجیدگی سجائے ابتسام بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
سب سے پہلے رسم نسرین بیگم نے شروع کی تھی اسکے بعد باری باری سب نے رسم ادا کی۔۔۔
مسٹر ڈریگن مسکرادیں زرا۔۔۔۔ آپ کی وجہ سے میری تصویریں خراب آرہی ہیں۔۔۔ اسے سیریس بیٹھے دیکھ انمول نے سامنے دیکھتے کہا۔
ابتسام نے گردن گھما کے اسے دیکھا۔۔۔ جو مسکرا مسکرا کے تصویریں بنوا رہی تھی۔
میری شکل نہیں دیکھیں،،، مسکرائیں۔۔۔ اسے خود کو تکتا دیکھ اسنے دانت پیس کے کہا تو اسکا غصہ دیکھ ابتسام کے لبوں پہ بےساختہ مسکراہٹ آگئی۔
ساتھ ہی فوٹوگرافر نے یہ لمحہ اپنے کیمرے میں قید کیا تھا۔
رسم ختم ہونے کے بعد لڑکیوں نے ڈانس کرنا شروع کیا تو انمول کی بےچین ہڈی بھی تھرکنے لگیں۔
بار بار ابتسام اسکا بازو پکڑ کے اسے روک رہا تھا لیکن وہ ہر تھوڑی دیر بعد شروع ہوجاتی۔
اپنے دلہن ہونے کا لحاظ کیئے بغیر وہ زور و شور سے کبھی تالیاں بجاتی تو کبھی سیٹی بجا کے اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھی۔۔۔
انو تم دلہن ہو خاموشی سے بیٹھو۔۔۔ شگفتہ بیگم کو گھورتے دیکھ ابتسام نے آہستہ آواز میں کہا۔
مسٹر ڈریگن شادی تو انجوائے کرنے دیں۔۔۔۔ وہ اسے دیکھ برا سا منہ بنائے کہتی واپس تالیاں بجانا شروع ہوگئی۔
انو دیکھو۔۔۔
چلیں۔۔۔ ابتسام کی بات کاٹتے ہوئے تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑے ڈانس فلور پہ لے آئی۔۔۔ یہ سب اتنا جلدی ہوا کے ابتسام کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
ڈی جے والے بالو میرا گانا چلادو۔۔۔ انمول ہانک لگا کے گانا لگانے کا بولی۔۔۔ جب کے شگفتہ بیگم نے اپنا سر پیٹھا تھا۔۔ باقی مہمان تو اس انوکھی دلہن کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جسے زرا شرم نہیں آرہی تھی۔
انو بس۔۔۔۔ گانا شروع ہونے سے پہلے ہی ابتسام اسکا ہاتھ تھامتا اسے نامحسوس انداز میں گھسیٹتے ہوئے واپس اسٹیج پہ لے آیا۔۔
کیا کر رہیں ہے آپ ۔۔۔۔ ابھی تو ہمیں کپل ڈانس کرنا تھا۔۔۔ میری کتنی خواہش تھی کہ میں اپنے دلہے کے ساتھ ڈانس کرو۔۔۔ لیکن اب میرا یہ خواب توڑ رہے ہیں۔۔۔ انو نے منہ بسورہ۔
چپ کر کے بیٹھو اگر تم یہاں سے ہلیں تو تمہاری ہیرے کی انگوٹھی کینسل۔۔۔ ابتسام نے دھمکی دی جو کار آمد ثابت ہوئی تھی۔
انمول کو خاموش بیٹھا دیکھ شگفتہ بیگم نے شکر ادا کیا اور جلدی سے کھانا کھوا دیا۔۔۔ ورنا اس لڑکی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا اسے کبھی بھی کوئی سا بھی دورہ پڑھ سکتا تھا۔
وہ تو پہلے ہی پورے خاندان میں منہ پھٹ کے نام سے مشہور تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ لوگوں کو اور باتیں بنانے کا موقع ملے۔
کھانا کھانے کے دوران بھی انمول کچھ نہیں بولی تھی بس خاموشی سے اپنے اصل انداز میں کھا رہی تھی۔۔. جس پہ اسکی ماں نے اسے ٹھیک سے کھانے کا کہا تھا لیکن وہ ایک کان سے سن کے اسکی سے نکال چکی تھی۔
۔![]()
![]()
![]()
