Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 23) Last Episode

170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 23) Last Episode

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

انو اٹھ جاؤ نیچے سب ناشتے پہ انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔ ابتسام ڈریسنگ کے سامنے بلکل تیار کھڑا اسے آواز دے کے جگا رہا تھا جو بارہ بجے تک سو رہی تھی۔۔۔ جب کے ابتسام تو دس بجے ہی آٹھ گیا تھا۔۔۔ انمول کی اچھے سے نیند پوری ہوجائے اس وجہ سے اسنے اسے ڈسٹرب نہیں کیا تھا لیکن اب بارہ بج رہے تھے اور انمول میڈم اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں

انو اٹھو بارہ بج گئے ہیں ۔۔۔ ابتسام اسکے پاس آتا پیار سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے بولا۔۔۔ لیکن انمول کو پیار کی زبان سمجھ ہی کہاں آتی تھی۔۔۔ آخر کار اسنے تنگ آکے اسے زور سے جھنجھوڑا جس پہ اسنے برا سا منہ بناتے آنکھیں کھولیں۔

ایک تو جس کو دیکھو میری نیند کا دشمن بنا ہوا ہے۔۔۔ کیوں جگایا ہے مسٹر ڈریگن آپ نے مجھے،،، میں کتنا اچھا خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔ ہائے میرا شہزادہ مجھے گھوڑے پہ بیٹھا کے بس لے ہی جانے والا تھا۔۔۔ لیکن آپ نے مجھے گھوڑے پہ بیٹھنے سے پہلے ہی گرا دیا میرا مطلب جگا دیا۔۔۔ وہ اٹھ کے بیٹھتی آنکھیں مسلتی افسوس سے بولی۔

ایک تم اور دوسرے تمہارے خواب۔۔۔ میڈم خوابوں کی دنیا سے نکل کے زرا حقیقت کی دنیا میں تشریف لاؤ اور نیچے چلو سب انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔ اور آج ولیمہ بھی ہے اس کی بھی تیاری کرنی ہے۔۔۔ ابتسام مسکرا کے کہتا اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے کھڑا ہوگیا۔۔۔ تو چارو ناچار اسے بھی اٹھنا پڑا۔

وہ دونوں تیار ہوکے نیچھے آئے تو انمول نے فورن اپنا ہاتھ ابتسام کے بازو میں حائل کر لیا۔۔۔۔ اسکی اس حرکت پہ ابتسام مسکرائے بیغر نا رہ سکا۔

اسلام و علیکم۔۔۔وہ دونوں ڈائنگ روم میں داخل ہوئے تو سب لوگ ناشتہ کر رہے تھے ابتسام اور انمول نے سب کو ایک ساتھ سلام کیا۔

وعلیکم اسلام بیٹا آؤ بیٹھو۔۔۔ نسرین بیگم دونوں کی بلائیں لیتی مسکرا کے بولیں۔

یہ کیا آپ لوگوں نے ہمارا زرا سا بھی انتظار نہیں کیا پہلے سے کھانا شروع بھی کر دیا۔۔۔ انمول ابتسام کی ساتھ والی کرسی پہ بیٹھتی حیرت سے بولی۔

ارے نہیں بیٹا بس ابھی تو لگایا ہے ناشتہ ۔۔ ابھی ہم نے بھی شروع نہیں کیا۔۔۔ بلال صاحب نے اسے بہلایا۔۔۔ اپنی بیٹی کے چہرے پہ خوشی و اطمینان دیکھ بلال صاحب پرسکون ہو گئے تھے۔

اچھا پھر ٹھیک ہے۔۔۔انمول کہتی اپنی لپیٹ بنانا شروع کرچکی تھی۔

اسکو اپنی پلیٹ بنانے دیکھ شگفتہ بیگم بار بار اسے اشارہ کر کے پہلے ابتسام کو دینے کا بول رہی تھیں لیکن وہ انکے اشارے سمجھنے سے قاصر تھی۔

مما کیا آپ مجھے بار بار اشارے کر رہی ہیں جو کہنا ہے گھل کے بول دیں یہاں سب اپنے ہی تو بیٹھے ہیں۔۔۔ انمول کے ایک دم کہنے پہ جہاں سب نے شگفتہ بیگم کو دیکھا تھا وہیں انہوں نے دانت پیستے اپنی دماغ سے فارغ بیٹی کو کھا جانے والی ظروں سے گھورا تھا۔

انو بیٹا پہلے ابتسام کو دو۔۔۔ شگفتہ بیگم نے بڑی مشکل سے مسکرا کے کہا۔

مما وہ چھوٹے بچے تھوڑی ہیں خود لے لیں گے کیوں مسٹر ڈریگن۔۔۔ انمول کو اپنی ماں کی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔ وہ کون سا چھوٹا تھا جیسے وہ ہر چیز اپنے ہاتھ سے پیش کرتی۔

بری ماما آپ فکر نہیں کریں میں لے لوں گا۔۔۔ آپ لوگ بھی شروع کریں۔۔۔ ابتسام کے کہنے پہ سب نے پھر سے اپنا ناشتہ شروع کر دیا تھا۔

انمول طریقے سے کھاؤ۔۔۔ انو کو منہ بھر بھر کے کھاتے دیکھ شگفتہ بیگم نے ٹوکا وہ جانتی تھی ابتسام کو اس طرح کھانا بلکل پسند نہیں ہے لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اب ابتسام کافی بدل کیا ہے۔۔۔ اور انہیں ابھی حیرت کا جھٹکا لگنے والا ہے۔

اپنی ماں کے کہنے پہ انمول نے منہ بسورے ابتسام کو دیکھا۔۔۔ اسکی رونے والی شکل اس سے دیکھی نہیں گئی اس لیئے خودہی بول پڑا۔

بڑی ماما انو جیسے بھی کھانے میں کمفٹیبل ہے اس ویسے ہی کھانے دیں۔۔۔ اسے میری وجہ سے بدلنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے وہ جیسے رہتی ہے کھاتی پیتی ہے مجھ ویسے ہی اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔ ابتسام کے کہنے پہ انو کے چہرے پر ایک الگ ہی خوشی آگئی تھی۔۔۔ جیسے دیکھ ابتسام کو سکون ملا تھا۔

ٹیبل پہ موجود لوگوں کے لیئے یہ بات حیران کن تھی کہ ابتسام کو انمول کے کسی بھی کام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ اتنے کم وقت میں اتنا بڑا بدلاؤ آنا یہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔۔۔ لیکن سب خوش تھے ان دونوں کے لیئے۔۔۔ جب کے شگفتہ بیگم خوش بھی تھی لیکن دل میں جو امید تھی کہ شاید ابتسام اسے سدھار دے وہ اب ختم ہوگئی تھی۔۔۔
۔🌺 🌺 🌺

ولیمے کی تقریب شروع ہوچکی تھی۔۔۔ ابتسام اور انمول دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایک ساتھ اسٹیج کی جانب بڑھ رہے تھے ۔۔۔ ابتسام نے بلو تھری پیس پہنا تھا جب کے انمول کی میکسی بھی بلو کلر کی ہی تھی۔۔۔ دونوں ساتھ میں ایک دم پرفیکٹ لگ رہے تھے۔۔۔۔ اسٹیج پہ آنے کے بعد باری باری سب آتے انہیں گفٹس اور مبارکبادی دے رہے تھے جنہیں وہ مسکرا کے وصول کرتے جارہے تھے۔

یہ گفٹ میری طرف سے۔۔۔ اس میں تم دونوں کے لیئے ترکی کے ٹکٹس ہیں۔۔۔ دائم انو کی طرف ایک لفافہ کرتے بولا تو انمول نے بےیقنی سے وہ لفافہ تھامتے فورن کھول کے چیک کیا کے کہیں وہ جھوٹ تو نہیں بول رہا۔۔۔ جب کے ابتسام تو اسکا بھجا بھجا چہرا دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسنے همیشہ دائم کے چہرے پہ ایک چمک دیکھتی تھی ایک خوشی دیکھی تھی لیکن پچھلے دنوں سے اسکے چہرے کی رونق ختم ہوگئی تھی وہ صرف اب لوگوں کو دیکھانے کے لیئے ہنستا مسکراتا تھا یہ بات ابتسام اچھے سے سمجھ گیا تھا۔

ہااااااا۔۔۔۔ دائم یہ تو واقعی ترکی کے ٹکٹس ہیں۔۔۔ انمول ٹکٹس دیکھتی پوری آنکھیں کھولے خوشی سے بولی۔

تمہیں ہمیشہ سے جہان کے ترکی جانا پسند تھا نا تو جاؤں اب اپنے جہان کے ساتھ۔۔۔ دائم مسکرا کے ابتسام کی طرف اشارہ کرتے بولا تو وہ بھی مسکرا دی۔

دائم تم بہت اچھے ہو ہمیشہ میرے بن کہے ہی ساری باتیں سمجھ جاتے ہو۔۔۔ انمول کو واقع خوشی ہوئی تھی کہ اسنے زندگی میں ایک ایسا دوست تو بنا ہی لیا ہے جو بن کہے اسے سمجھتا ہے۔

جب کے ابتسام تو حیران تھا۔۔۔ اسے تو پتہ ہی نہیں تھا کے انمول ترکی جانا چاہتی ہے۔۔۔ اور دائم اسے تو انمول کے بتائے بغیر ہی پتہ چل گیا تھا۔۔. لیکن اس میں غلطی انمول یا دائم کی نہیں تھی غلطی اسکی اپنی تھی جس نے کبھی بھی انمول کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔ لیکن وہ یہ بھی تو نہیں جانتا تھا کے قسمت ان دونوں کو ایک کر دے گے۔

میری دعا ہے تم دونوں ہمیشہ خوش رہو۔۔۔ دائم نے دل سے دعا دی

اور تم بھی۔۔۔ ابتسام کے کہنے پہ زخمی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھتا اسٹیج سے اتر گیا۔

ابتسام کو دکھ ہوا تھا دائم کے لیئے۔۔۔ وہ انمول سے محبت کرنے لگا تھا۔۔۔۔ وہ سمجھ سکتا تھا کہ محبت کیا ہوتی ہے۔۔۔ وہ اب انمول سے دور ہونے یا اسے کھونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ پھر دائم اسنے تو بچپن سے انمول سے محبت کی تھی اسکی محبت کتنی گہری ہوں گی۔۔۔۔ اور اپنی ہی آنکھوں کے سامنے اپنی محبت کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کتنی تکلیف ہوتی ہےیہ ابتسام صرف سوچ ہی سکتا تھا۔۔۔ لیکن شاید انمول کا نصیب شروع سے ہی ابتسام کے ساتھ لکھا تھا اس لیئے قسمت نے دائم کی محبت کھلنے سے پہلے ہی ان دونوں کو ملادیا تھا۔۔۔۔

انمول ابتسام کے ساتھ خوش تھی اور انمول کی خوشی میں دائم خوش تھا۔
۔🌺 🌺 🌺

(آٹھ ماہ بعد)

انو یار جلدی کرو نیچے سے سب جا سکتے۔۔۔۔ ہیں۔۔۔۔ ابتسام تیار ہوئے انمول سے کہتا کمرے میں داخل ہوا لیکن جیسے ہی نظر لال ساڑھی میں کھڑی انمول پہ گئی تو آواز جیسے کم سی ہوگئی۔

دائم اور حماد کی شادی کو ایک ماہ گزر چکا تھا۔۔۔ حماد نے اپنا سارا بزنس پاکستان شفٹ کرلیا تھا۔۔۔ اور اب انہیں کے ایریا میں بہت بڑا سا بنگلہ بھی لے لیا تھا جب کے دائم ابھی شادی کرنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن اس بار بھی انمول نے اسے منا لیا تھا اور وہ اسے منا نہیں کرپایا تھا۔۔۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اسکی زندگی میں ماہی کا ساتھ ہی لکھا ہے اس لیئے اسنے بھی زیادہ بحث کیئے بغیر قدرت کے اس فیصلے کو قبول کرلیا تھا۔۔۔ آج ابتسام اور انمول ان دونوں کو شادی کی دعوت دے رہے تھے جو ایک بہت بڑے ریسٹورینٹ میں رکھی گئی تھی ۔۔۔ گھر سے سبھی لوگ ریسٹورینٹ کے لیئے نکل گئے تھے سوائے ابتسام اور انمول کے جو انمول کے تیار ہونے کے انتظار میں رکا ہوا تھا۔

کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔۔۔ انمول ساڑھی کا پلو پکڑے گول گول گھوم کے اسے دیکھا رہی تھی۔۔۔ اسکے گھومنے سے پاؤں میں پہنی پائل بج رہی تھی لمبے بال لہرا رہے تھے۔۔۔ وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ ابتسام کو نظریں ہٹانا مشکل لگ رہا تھا۔

بہت حسین لگ رہی ہو۔۔۔۔ ابتسام اس میں کھویا محبت سے چور لہجے میں کہتا آگے بڑھا۔

تھینک یو۔۔۔ چلیں اب جلدی کریں سب لوگ پہنچ گئے ہوں گے۔۔۔ انمول اپنا پرس لیتی جیسے ہی مڑی ایک دم اپنے پیچھے کھڑے ابتسام سے ٹکرا گئی۔

اسکے دور ہونے سے پہلے ہی ابتسام نے اپنا بازو اسکی کمرے میں حائل کرتے اسے اپنے قریب کیا۔۔۔ جس سے انمول کی دھڑکنیں بےقابو ہوئیں۔

مس ٹر ڈریگن ہمیں دی دیر ہورہی ہے۔۔۔ اسکی قربت سے گھبراتی اٹک اٹک کے بولی۔

میں سوچ رہا ہوں آج کی دعوت کنسل کر دیتے ہیں۔۔۔ ابتسام گھمبیر لہجے میں کہتا اسکے چہرے پہ جھکنے لگا جبھی اسنے تیزی سے پوری طاقت لگا کے کمر پر بندھے اسکے ہاتھ کھولے اور فورن بھاگ کے دروازے کے پاس پہنچ گئی۔

انو یہ کیا بدتمیزی ہے فورن ادھر آؤ۔۔۔ وہ بدمزہ ہوتے غصے سے بولا۔

مسٹر ڈریگن اپنا رومینس بعد میں یہیں سے کنٹینو کر لے گا ابھی چلیں دیر ہو رہی ہے دائم اور حماد بھائی اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ پہنچ بھی گئے ہوں گے۔۔۔ انمول جلدی سے کہتی اسے خود کی طرف بڑھتے دیکھ تیزی سے کمرے سے نکل گئی پیچھے وہ دانت پیس کے رہ گیا۔
۔🌺 🌺 🌺

اندر جا کے اپنا لٹکا ہوا منہ ٹھیک کر لے گا۔۔۔ ریسٹورینٹ کے سامنے گاڑی رکھتے ہی انمول نے التجاہ کی۔۔۔ وہ سارے راستے ابتسام کو مناتے آئی تھی لیکن ابتسام کا منہ ابھی تک بنا ہوا تھا۔

تمہیں اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیئے کے میرا منہ کیسا بھی رہے۔۔۔ ابتسام سنجیدگی سے بولا۔۔۔ تو انمول نے بےچارگی سے دیکھا۔

پلیز ابتسام مان جائیں نا میں وعدہ کرتی ہوں آئندہ کبھی آپ کے رومینس کا بیڑا غرق نہیں کروں گی۔۔۔ انمول کو جب اسے منانا ہوتا تھا وہ اسے نام سے ہی بلاتی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی ابتسام کو بہت اچھا لگتا ہے کے انمول اسے ابتسام کہہ کے بلائے لیکن یہ صرف تب ہی ہوتا تھا جب ابتسام ناراض ہو۔۔۔ ورنا وہ کتنا بھی اسے بولے وہ ہمیشہ مسٹر ڈریگن ہی کہتی تھی۔

انو میں ویسے ہی مان لیتا ہوں کے تم ائندہ نہیں کرو گی۔۔۔ پر وعدہ کر کے خود کو گنہگار تو مت کرو۔۔. کیونکہ یہ تو تم بھی اچھے سے جانتی ہو کے تم اپنے وعدے کی کتنی پکی ہو۔۔۔ ابتسام جانتا تھا کے اسکا وعدہ زیادہ لمبا نہیں ہوتا اس لیئے خود ہی منا کر رہا تھا۔

اچھا ٹھیک ہے میں وعدہ نہیں کرتی لیکن آپ ماں جائیں نا پلیز۔۔۔ انمول نے ہمیشہ کی طرح معصوم شکل بنائے کہا اور یہاں ابتسام پگل گیا۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ چلو اب اندر چلیں۔۔۔ ابتسام پیار سے اسکا گال تھپتھپا کے بولا تو وہ خوش ہوتی گاڑی سے اتری۔

وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو وہاں سب لوگ موجود تھے۔۔۔ بس انہوں نے ہی آنے میں دیر کر دی تھی۔

ویسے تو میزبان مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں لیکن یہاں تو الٹا ہی ہو رہا ہے یہاں تو مہمانوں کو میزبانوں کا استقبال کرنا پڑھ رہا ہے۔۔۔ حماد نے طنز کیا۔

جس خاندان میں انو ہے اس خاندان میں کچھ نا کچھ نیا ہوتا ہی رہتا ہے۔۔۔ انمول فخر سے کہتی ماہی اور مشی سے ملنے لگی۔

سہی کہا جس خاندان میں تم جیسی الٹے دماغ کی لڑکی موجود ہو اس خاندان میں کچھ سیدھا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ حماد نے چھیڑا۔

مسٹر ڈریگن شرم کریں آپ کے سامنے اپکی بیوی کو الٹے دماغی کا کہا جارہا ہے اور آپ کھڑے ہو کے سن رہے ہیں۔۔ کچھ بولتے کیوں نہیں ہیں۔۔۔ انمول نے ابتسام کو گھورا جو دائم کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا۔

حماد تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ایسا کہنے کی۔۔۔ اسے جو بھی کہنا ہو وہ صرف میں کہہ سکتا ہوں اور کوئی نہیں ۔۔۔ ابتسام کو حماد کو ڈانٹتے دیکھ انمول گردن اکڑا کے گھڑی ہوگئی تھی لیکن آگے کی بات سنتے اسے کھاجانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔

یار کیوں تم لوگ میری دوست کو تنگ کر رہے ہو۔۔۔۔ دائم نے انو کا غصے سے لال ہوتا چہرہ دیکھ فورن اسکی سائڈ لی۔

جب کے سارے بڑے بیٹھے انکی باتوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی باتیں بھی کر رہے تھے۔

چھوڑو تم دائم انہیں۔۔۔ جو خود الٹے دماغ کے ہوتے ہیں وہی دوسروں کو بھی سمجھتے ہیں۔۔۔ چلو تم آؤ ہم دونوں سیلفی لیتے ہیں بلکے ماہی اور مشی تم بھی آجاؤ۔۔۔ یا ایک کام کرتے ہیں ایک گروپ پوٹو لیتے ہیں۔

آجائیں سب گروپ پوٹو کے لیئے۔۔۔ انمول آئیڈیا دیتی خود ہی اس پہ عمل درآمد کرتی سب کو بلانے لگی۔۔۔

حماد بھائی سب کی اچھی سی تصویر لیں۔۔۔ انمول حماد کو فون پکڑاتی سب کو سیٹنگ سے کھڑا کر چکی تھی۔

کیا مطلب میں بھی اس فیملی کا حصہ ہوں مجھے بهی تصویر میں آنا ہے۔۔۔ حماد نے صدمے سے کہا۔

اکسکیوز می ہماری ایک تصویر لے لیں۔۔۔ ابتسام نے وہاں پاس ہی کھڑے ایک ویٹر کو بلا کے کہا۔۔ تو حماد جلد سے اسے فون دیتا مشی کے برابر میں آگے کھڑا ہوگیا۔

مشی اور حماد نے مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔ دونوں ایک پرسکون زندگی گزار رہے تھے جس میں محبت کے ساتھ حماد کی شوخیاں بھی شامل تھی جو ہمیشہ میشا کو شرمانے پہ مجبور کر دیتی تھیں۔۔۔

دوسری طرف ماہی دائم کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی خود پہ کسی کی نظریں محسوس کرتے دائم نے اسے دیکھا تو چہرے پہ مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔ ماہی نے بہت ہی کم وقت میں دائم کے دل میں جگہ بنا لی تھی۔۔۔ یہ الگ بات تھی کہ آج بھی انمول کا مقام دائم کے دل میں ویسا ہی تھا لیکن وہ قدرت کا فیصلہ سمجھتے ماہی کا ساتھ قبول کر چکا تھا۔۔۔ اسنے پہلے ہی دن سے ماہی کو عزت چاہت محبت سب دیا تھا جسے پا کے ماہی بہت خوش تھی۔

ابتسام نے انمول کے گرد حصار بنایا تو اسنے ہنستے ہوئے اسکے کندھے پہ سر رکھ دیا ۔۔۔۔ پچھلے آٹھ ماہ سے ابتسام کے رویہ میں کافی تبدیلی آگئی تھی۔۔۔ اسکا غصہ تو جیسے کہیں دور جا سویا تھا۔۔۔وہ ہر وقت انمول کی کئیر کرتا۔۔۔ اسکا ہر خواب پورا کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔ وہ جو کہتی اسے وہ لاکے دیتا۔۔۔ صرف وہ ہی نہیں بلکے اب انمول بھی کافی زمیدار ہوتی جارہی تھی۔۔۔ اسکا ہر کام وہ اپنے ہاتھ سے کرتی تھی ۔۔۔اور جو بات اسے سب سے زیادہ اچھی لگتی تھی وہ تھا ابتسام کا اسے منانا ۔۔۔ وہ گھنٹوں روٹھ جاتی تھی اور وہ اسے مناتا رہتا تھا۔۔۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں کی محبت بڑھتی جارہی تھی۔۔۔ انمول نے ایک نظر ابتسام کو دیکھتے مسکرا کے نظریں سامنے کیں اور اسی کے ساتھ کلک ہی آواز سے یہ منظر کمرے میں محفوظ ہوگیا۔
۔🌺 🌺 🌺
ختم شد⁦❤️⁩