Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 20)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 20)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
ماہی یار کیا تم میرے لیئے چائے بنا دو گی۔۔۔ افطاری کے بعد وہ تینوں لاؤنچ میں بیٹھے ہوئے تھے جب انو نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے کہا۔
جی کیوں نہیں۔۔۔ ماہی بغیر ماتھے پہ بل ڈالے خوش دلی سے بولی۔۔۔ ماہی دبئی میں ہی پلی بڑی تھی لیکن اسکے والدین نے اسکی پرورشِ بہت اچھی کی تھی۔۔۔ اسے خود بھی شروع سے کچن کا کام کرنے کا بہت شوق تھا۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ آج انو نے اس سے بہت ساری چیریں افطاری میں بنوائیں تھی اور اس نے برا منائے بغیر بنا دی تھیں۔۔۔ دبئی جیسے ملک سے آنے کے باوجود اس میں کوئی مغروریت نہیں تھی۔۔۔ وہ کافی اچھے مزاج کی سادہ سی لڑکی تھی جو سب کا دل جیتنا جانتی تھی۔
اسکے جانے سے پہلے ہی انو اسے کچھ کھانے کے لیئے بھی لانے کا بول چکی تھی جس پہ وہ ہاں میں سر ہلاتی اندر چلی گئی۔
اسکے جاتے ہی انمول نے دائم کو گھورنا شروع کیا
کیا ہو گیا مجھے ایسے گھور کے ڈرا کیوں رہی ہو۔۔۔ دائم ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا آنکھیں پھیلائے بولا۔
تم شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ انمول بغیر گھمائے پھرائے سیدھا مدے پہ آئی تو ایک پل کے لیئے دائم گڑبڑا گیا۔۔۔ اسے لگا شاید اسنے اسکے دل کی چوری پکڑ لی ہے۔۔۔ شاید اسے پتہ چل گیا ہے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔۔
بولوں بھی اب۔۔۔ کیا منہ میں دہی جمائے بیٹھے ہو۔۔۔ اسکے کچھ نا کہنے پہ انمول تیز لہجے میں بولی۔
بس میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ دائم سمبھل کے بولا۔
وجہ۔۔۔ اک لفظی سوال کیا۔
کوئی وجہ نہیں ہے۔۔۔ نظریں چراتے مختصر سا جواب دیا۔
ہر انکار کے پیچھے کوئی نا کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔۔۔ کہیں تمہارے انکار کے پیچھے کوئی لڑکی تو نہیں ہے۔۔۔ انمول نے مشکوک نظروں سے دیکھا۔
ارے نہیں یار تم تو جانتی ہو میں سیدھا سادھا سا بندہ ہوں ایسے چکروں میں نہیں پڑهتا۔۔۔ دائم نے نارمل انداز میں کہا۔۔۔۔ پر انمول بہت غور سے اسکے چہرے کو دیکھ رہی تھی جیسے دیکھ رہی ہو کہ وہ سچ بھی بول رہا ہے یا نہیں۔۔۔ پر اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔
تو پھر شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ تم جاتے ہو انکل آنٹی تمہاری وجہ سے کتنے پریشان ہیں۔۔۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب تم شادی کر لو اپنا گھر بسا لو۔۔۔ اور پھر ماہی وہ بھی تو کتنی اچھی لڑکی ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے وہ تمہیں خوش رکھے گی۔۔۔ اس شادی سے رشتے اور مضبوط ہوجائیں گے۔۔۔ پر اگر تم نے انکار کیا تو رشتے ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔۔۔ انمول بہت سمجھداری سے اسے سمجھا رہی تھی جب کے دائم کا دل ڈوب رہا تھا۔
وہ انمول سے محبت کرتا تھا۔۔۔ اسنے اسے اپنے دل میں بسایا ہوا تھا وہ کیسے کسی اور کو اسکی جگہ دے سکتا تھا ۔۔۔ چلو وہ شادی کر بھی لیتا تو کیا ماہی کو کبھی محبت دے پاتا ۔۔۔ کیا وہ اسے خوش رکھ پاتا۔۔۔ اسکا دل ہی نہیں مان رہا تھا شادی کرنے کا ۔۔۔ اسنے تو جیسے اپنی دنیا انمول پہ ختم کردی تھی۔۔۔
انو تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔ پر میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ جب کرنی ہوگی تو میں کرلوں گا۔۔۔ اور پلیز انو اب تم مجھے فورس نہیں کرنا۔۔۔ اسنے جھنجھلا کے کہا۔
دائم تمہیں میرا بلکل خیال نہیں ہے۔۔۔ تم میرے اکلوتے دوست ہو،،، میں تمہاری شادی میں ناچنا چاہتی ہوں۔۔۔ سب سے آگے آگے رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ اپنے سارے ارمان پورے کرنا چاہتی ہوں لیکن تم ہو کے شادی ہی نہیں کر رہے۔۔۔ پلیز یار شادی کرلو میری بات مان جاؤ ۔۔۔ میں نے آنٹی سے بڑے مان سے کہا تھا کہ میں آج انہیں خوشخبری سنا کے جاؤ گی پلیز انکے سامنے میرا مان رکھ لو۔۔۔ انمول نے جیسے اسکی منت کی تھی۔
انو،،، وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا جب انمول اسکی بات کاٹتی بول پڑی
ٹھیک ہے دائم جیسی تمہاری مرضی۔۔۔ کوئی بات نہیں اگر تم شادی نہیں کرنا چاہتے تو۔۔۔ میں آنٹی سے کہہ دوں گی کے میں بھی اسے راضی نہیں کرپائی۔۔۔ بچاری انہوں نے میرے سے خواہ مخواہ میں امید لگائی ہوئی تھی کہ میں تمہیں راضی کر لوں گی۔۔۔ اور مجھے بھی یہی لگتا تھا کہ میں تمہیں راضی کرلوں گی تم میری بات تو مانوں گے لیکن خیر وقت کے ساتھ ساتھ انسان بدل جاتا ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں اگر تم ابھی شادی نہیں کرنا چاہتے تو میں تمہیں فورس نہیں کروں گی۔۔۔ جیسی تمہاری مرضی ویسا ہی کرو۔۔۔ وہ معصوم اداس شکل بنائے اتنی لمبی چوڑی اموشنل تقریر کر کے آخر میں کہہ رہی تھی کہ جیسی تمہاری مرضی۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں تیار ہوں شادی کے لیئے۔۔۔۔ دائم اسکی اداس شکل کبھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ اسنے کہا تھا کہ وہ دائم کو راضی کر لے گی کتنے مان سے بولا تھا اسنے اور وہ اسکا یہ مان نہیں توڑ سکتا تھا۔۔۔ اس لیئے اپنے دل کو مضبوط کرتا مسکرا کے اپنی محبت کا مان رکھ گیا تھا۔
کیا واقعی تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔ انمول کی خوشی سے آنکھیں چمکیں۔
انمول کے سوال پہ اسنے ہاں میں سر ہلایا تو جیسے وہ جھوم اٹھی۔
اففف تھینکیو سو مچ۔۔۔ میں ابھی جا کے انٹی انکل کو یہ خوشی کی خبر سنا کے آتی ہوں۔۔۔ انمول بچوں کی طرح دائم کے دونوں گال کھینچتی اندر بھاگ گئی۔
پیچھے اسکے انداز پہ دائم دکھی دل کے ساتھ مسکرا دیا۔۔۔ اسکے چہرے پہ خوشی دیکھ کے دائم کو خوشی ہوئی تھی۔۔۔ اور وہ اپنے لاحاصل محبوب کی خوشی کے لیئے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔
یہ انو کو کیا ہوا ہے بہت خوش لگ رہی تھیں۔۔۔ اور کہہ رہی تھی اب تیاری پکڑ لو۔۔۔۔ کس چیز کی بات کر رہی تھیں وہ ۔۔۔ ماہی جب چائے لارہی تھی تو اندر ہی انو مل گئی تھی جو خوشی سے اپنی بات کہتی مسرت بیگم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ جب کے ماہی چائے لان میں دائم کے پاس لے آئی تھی۔
بہت جلد پتہ چل جائے گا تمہیں۔۔۔ دائم نرمی سے بولا۔
میں اسے چائے دے کے آتی ہوں۔۔۔ ماہی کہتی اندر بڑھ گئی۔۔۔ اسے دائم اور انو کا انداز کچھ عجیب لگا تھا اس لیئے وہ الجھتی ہوئی اندر بڑھ گئی تھی۔
۔![]()
![]()
![]()
خوشخبری خوشخبری۔۔۔ انمول اپنے گھر میں خوشخبری کے نعارے لگاتی داخل ہوئی۔
سب لوگ جو لاؤنچ میں ہی بیٹھے باتیں کر رہے تھے اسکی آواز پہ اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
کیسی خوشخبری بیٹا۔۔۔ بلال صاحب جو صوفے پہ بیٹھے چائے پی رہے تھے اسکی خوشی سے بھرپور آواز سن مسکرا کے بولے۔
بابا دائم کا رشتہ پکاہ ہوگیا ہے اسکی ماموں کی بیٹی کے ساتھ۔۔۔ انمول کے چہک کے کہنے پہ سب کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی۔
یہ تو واقعی بہت خوشی کی بات ہے۔۔۔ بلال صاحب اسے اپنے ساتھ لگاتے پیار سے بولے۔
اسلام و علیکم۔۔۔ ابتسام لاؤنچ میں داخل ہوتا سب کو سلام کرتے وہیں بیٹھ گیا۔
وعلیکم اسلام بیٹا آج جلدی آگئے۔۔۔ نسرین بیگم نے سلام کا جواب دیتے پوچھا۔
جی ماما شاید کل عید ہو اس لیئے بس جلدی کام فارغ کردیا۔۔۔ ابتسام انمول کے چہرے پہ نظریں جمائے بولا جو اپنے بابا کے ساتھ چپکی بیٹھی انکے کان میں کھسر پھسر کر رہی تھی۔
کچھ ہی دیر گزری تھی جب مسجدوں میں عید کا چاند نظر آنے کا علان ہوگیا۔
عید کا چاند دکھتے ہی گھر میں ایک دم گہماگہمی شروع ہوگئی تھی۔۔۔ ہر کوئی کل کی تیاری میں مصروف ہوگیا تھا۔۔۔ انمول اور میشا تو ایک دوسرے کو مہندی لگانے بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔ اچانک سے عید کا چاند نظر آنے پہ ہر کوئی مصروف ہوگیا تھا۔۔۔ آخر کل عید تھی تو ہر چیز پرفیکٹ تو ہونی چاہئے تھی نا۔
۔![]()
![]()
![]()
عید کا دن اپنے ساتھ ڈھیر ساری خوشیاں لایا تھا۔۔۔ روٹھوں کو منانے آیا تھا۔۔۔ اس وقت ہر بڑا چھوٹا نئے کپڑے پہنے ایک دوسرے سے عید ملنے میں مصروف تھا۔۔۔
وہ شیشے کے سامنے کھڑی آنکھوں میں بھر بھرکے کاجل لگا رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھولتے کوئی اندر داخل ہوا۔
اسنے گھوم کے دیکھا تو ابتسام سفید کاٹن کی قمیض شلوار پہنے دروازہ بند کیئے دروازے کے سامنے ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیوں آئے ہیں آپ یہاں۔۔۔ وہ سیریس ہوکے کہتی واپس مڑ کے اپنی تیاری پوری کرنے لگی۔۔۔۔ ایک طرح سے اسنے اپنے لہجے سے ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔
عید مبارک بیگم۔۔۔۔ ابتسام دلکشی سے مسکراتا اسکی طرف بڑھا جو اسے نظرانداز کیئے اب چوڑیاں پہن رہی تھی۔
وہ کالے رنگ کی پیروں کو چھوتی فراک پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔ ابتسام اسکی پشت پر پھیلے کمر تک آتے کالے بالوں کو دیکھتے اسکی طرف بڑھ رہا تھا لیکن وہ اپنے کام میں لگی تھی۔
لاؤ میں پہنا دیتا ہوں۔۔۔ ابتسام نے چوڑیاں لینے کے لیئے ہاتھ آگے کیا تو اسنے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
رہنے دیں میں خودہی پہن لوں گی۔۔ بس آپ مجھے اپنے یہاں آنے کی وجہ بتادیں۔۔۔ وہ ایک نظر اسے دیکھ بیڈ پہ بیٹھ کے چوڑیاں پہنے لگی۔
میں چاہتا تھا عید کے دن سب سے پہلے میں اپنی بیوی کو دیکھوں اس لیئے بس چلا آیا۔۔۔ وہ اسکے سامنے کھڑا ہوتا گھمبیر آواز میں بولا۔
انمول کو اسکا لہجے آج کافی بدلہ بدلہ لگا لیکن اسنے دھیان دیئے بغیر اپنی ناراضگی جاری رکھی۔
تو دیکھ لیا نا اب جائیں۔۔۔ وہ مصروف انداز میں بےمروتی سے بولی۔
عیدی نہیں لوگی۔۔۔ ابتسام نے عیدی کا لالچ دیا۔
نہیں چاہیئے۔۔۔ انمول کا دل مچلا تو تھا عیدی کے نام سے لیکن دل پے پتھر رکھتی منہ بنا کے بولی۔
ناراض ہو۔۔۔ وہ اسکے سامنے ہی بیڈ پر بیٹھتے اسے دیکھنے لگا جس کا چہرا بےتاثر تھا۔
آپ کو کیا مطلب۔۔۔ وہ چوڑیاں پہن کے اٹھتی کبٹ سے چپل نکالنے لگی۔۔۔ تو ابتسام بھی اٹھ کے اسکے پیچھے ہی آگیا
میں جانتا ہوں میں نے تمہیں بتائے بغیر تمہاری ناک چھدوادی لیکن تم ہی بتاؤ اگر میں تمہیں بتا کے لیکے جاتا تو کیا تم میری بات مانتی نہیں نا۔۔۔ ابتسام نے اسے سمجھایا۔
آپ نے دھوکے سے میری ناک میں سوراخ کروایا ہے۔۔۔ انمول ایک دم مڑتی غصے سے بولی۔
ادھر آؤ۔۔۔ دیکھو خود کو کتنی پیاری لگ رہی ہو یہ نوز پن تم پہ کتنی اچھی لگ رہی ہے۔۔۔پر تم فالتو میں غصہ کر رہی ہو۔۔۔ ابتسام اسکا ہاتھ پکڑے اسے شیشے کے سامنے کھڑا کرتا مسکرا کے بولا۔
انمول یہ بات تو پہلے ہی مان چکی تھی کہ وہ نوز پن میں بہت اچھی لگ رہی ہے لیکن پھر بھی ابتسام نے اسے بغیر بتائے اسکی ناک چھدوائی تھی تو اسکا ناراض ہونا تو بنتا تھا نا۔
میں جانتی ہوں میں اچھی لگ رہی ہوں لیکن آپ نے مجھے دھوکا دیا تھا گفٹ کا لالچ دے کے آنکھیں بند کروائیں تھیں اور مجھے گفٹ بھی نہیں دیا۔۔۔۔ وہ اسکی طرف مڑتی منہ لٹکائے بولی۔۔۔
انو یہ جو چمک رہا ہے نا یہ ہیرا ہے اور تمہیں کیا چاہیئے۔۔۔ وہ اسکی ناک میں چمکتے ہیرے کی لونگ کی جانب اشارہ کر کے بولا۔
مجھے ہیرے کی انگوٹھی چاہیئے۔۔۔ انمول نے فورن فرمائش کی۔
اوکے مل جائے گی۔۔۔ ابتسام نے ہامی بھری تو وہ اسے بےیقینی سے دیکھنے لگی۔
کب ملے گی۔۔۔ وہ فورن بےصبری ہوئی۔
یہ میں نہیں بتاؤ گا۔۔۔ یہ تمہارے لیئے سرپرائز ہے۔۔۔ ابتسام نے مسکراتے ہوئے اسکی ناک کہنچی۔
لیکن مجھے سرپرائز پسند نہیں ہیں۔۔۔ اسنے پریشانی سے کہا۔۔۔ جیسے کہہ رہی ہو مجھے صبر نہیں ہوتا۔
لیکن مجھے تو پسند ہیں نا۔۔۔ ابتسام نے سکون سے کہا۔۔۔ ناجانے کیوں آج ابتسام کو انمول بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔ اسے اس سے بات کرنا اسے منانا اسکے آگے پیچھے گھومنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ وہ شخص جو کبھی سیدھے منہ اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا آج اس سے مسکرا مسکرا کے بات کر رہا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ اپنے دل کی بدلتی کیفیت کو اچھے سے سمجھ چکا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے لیکن ابھی میری عیدی تو دیں۔۔۔ انمول نے اسکے سامنے ہاتھ پھیلایا۔۔۔۔ تو ابتسام نے مسکراتے ہوئے جیب سے پانچ ہزار کا نوٹ نکالتے اسکی ہتھیلی پہ رکھ دیا۔
تھنک یو۔۔۔ وہ نوٹ لیتے خوش ہوگئی۔
اب عید تو مل لو۔۔۔ ابتسام بازو پھیلائے بولا تو انمول نے آنکھیں چھوٹی کیئے گھورا۔
زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ جائیں یہاں سے۔۔۔ انمول نے فورن اسے باہر کا راستہ دکھایا۔
میں تو عید ملے بغیر نہیں جاؤں گا۔۔۔ ابتسام شوخی سے کہتا آگے بڑھنے لگا تو انمول گھبرا کے پیچھے ہوئی۔
م مت جائیں آپ،،، میں چلی جاتی ہوں۔۔۔ وہ شرم آنے کے باوجود خود کو مضبوط ظاہر کرتی اسے سائڈ کرتی جلدی سے کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔ اسکہ اسپیڈ دیکھ ابتسام کا قہقہہ بلند ہوا۔
انو میڈم آپ تو شرماتی بھی ہیں۔۔۔ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتے خود کلامی کرتا کمرے سے نکل گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
ماہی ریلکس ہو کے کھاؤں۔۔۔ شرمانا بلکل بھی نہیں ہے اس سے اپنا ہی گھر سمجھو۔۔۔ وہ سب لوگ لاونچ میں بیٹھے شیر خرما کھارہے تھے جب انمول ماہی کو جھجھکتے دیکھ بولی۔۔۔ ماہی پہلی بار انکے گھر آئی تھی تو تھوڑی نروس تھی لیکن یہاں سب لوگوں کی اپنائیت دیکھ ہو تھورا مطمئن ہوگئی تھی۔
شیر خرما کھانے کے بعد عیدی کا دور چلا سب لوگ ایک دوسرے کو عیدی دے رہے تھے ۔۔۔ انمول تو سب سے بڑھ چڑھ کے عیدی وصول کر رہی تھی۔
دائم میں پانچ ہزار سے ایک روپیہ بھی کم نہیں لوں گی۔۔۔ بھئی تمہارا اپنا بزنس ہے اچھا کماتے ہو پانچ ہزار تو دے سکتے ہونا۔۔۔ انمول کے انداز سے کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ پانچ ہزار سے کم میں مانے گی اس لیئے دائم نے خاموشی سے پانچ ہزار نکال کے اسکے ہاتھ میں رکھ دیئے۔
مشی اور ماہی کو بھی دو۔۔۔ انمول نے ان دونوں کو بھی آگے کیا تو دائم نے ان دونوں کو بھی عیدی دی۔
اب باری تھی حماد کی ۔۔۔ جو ان لوگوں کو اپنی طرف آتے دیکھ فون میں مصروف ہوگیا۔
چلیں حماد بھائی اب آپ کی باری۔۔۔ اور ہاں آپ بھی کوئی کنگلے نہیں ہیں اس لیئے پانچ پانچ ہزار تینوں کو دیں۔۔۔ اس سے پہلے وہ اپنی غریبی کا رونا روتا انمول نے پہلے ہی یاد دلا دیا کے وہ بھی ایک بزنس مین ہے وہ بھی لندن کا۔
میرے پاس اس وقت پیسے نہیں ہیں کیا میں چیک دے سکتا ہوں۔۔۔ حماد سنجیدگی سے جیب سے چیک بک نکالتے بولا تو ان لوگوں کے منہ کھل گئے۔
مشی زرا حماد بھائی کو بولو تو کہ وہ ہمیں عیدی دیں وہ بھی جلدی سے۔۔۔ انو نے سائڈ مسکراہٹ کے ساتھ چالاکی سے حماد کو دیکھ آنکھ ماری ۔۔۔ جانتی تھی وہ مشی کو منا نہیں کرے گا۔
یہ چیٹنگ ہے یار۔۔۔ حماد کے بیچارگی سے کہنے پہ سب ہنس دئے۔
جلدی سے دے دیں پھر ہمیں ابتسام بھائی سے بھی عیدی وصول کرنی ہے۔۔۔ میشا نے کہا تو حماد نے منہ بناتے تینوں کو عیدی دی۔۔۔ ماہی نے جھکجھکتے ہوئے پیسے لیئے تھے۔
پھوپھو آپ کا بیٹا پکاہ زن مرید بنے والے ہیں۔۔۔ انمول پھوپھو کو دیکھ شوخی سے بولی تو لاؤنچ میں سب کے قہقہے بلند ہوئے جب کے میشا جھنپ گئی۔
شرما بعد میں لینا پہلے اپنے بھائی سے عیدی لو۔۔۔ انمول نے ماہی اور میشا کو ابتسام کے آگے کیا تو اسنے دونوں کو باری باری عیدی دی۔۔۔ جب انمول بھی دانت نکالتی اپنا ہاتھ آگے کر گئی۔۔۔۔
مسٹر ڈریکن میری عیدی دیں۔۔۔ اسکی سوالیہ نظریں دیکھ اسنے وضاحت کی۔
تم لے چکی ہو۔۔۔ ابتسام آہستہ آواز میں بولا کے صرف انمول نے ہی سنا تھا۔
کب۔۔۔ وہ بھی حیرت سے آہستہ آواز میں ہی بولی۔
اسکی کمال کی ایکٹنگ دیکھ ابتسام عش عش کر اٹھا۔۔۔
بھائی دے بھی دیں میری بچاری بھابھی کب سے کھڑی ہیں۔۔۔ میشا نے انمول کے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے شرارت سے کہا تو انمول معصوم شکل بنا کے کھڑی ہوگئی۔
ابتسام نے نفی میں سر ہلاتے اسکو پھر سے پانچ ہزار دیئے جیسے لے کے وہ خوش ہوتی مشی کے ساتھ ماہی کو اپنا گھر دیکھانے لے گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
