365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 9

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

حور کے ہاتھ میں زین کا پسٹل تھا اور وہ زین کی طرف رخ کئے ہوئے کھڑی تھی۔ زین ایک لمحے کے لئے ٹھٹکا لیکن دوسرے ہی پل اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی جیسے وہ فورا چھپا گیا اسے وہ سین یاد آ گیا جب پہلی واردات میں بلال اور اس کے ہاتھوں میں چاقو تھے اور ان دونوں کے ہاتھ کانپ رہے تھے، بالکل ویسے ہی اس وقت حور کے ہاتھ بھی بری طرح کانپ رہے تھے اور ماتھے پر سردی کے موسم میں بھی ننھی ننھی پسینے کی بوندیں نمایاں ہو رہی تھیں

“تم دنیا کی شاید پہلی بیوی ہو جو شوہر کے گھر آنے پر اسکا ویلکم پسٹل دکھا کے کر رہی ہوں”

زین نے مسکراتے ہوئے قدم آگے بڑھائے

“وہی رک جاو ورنہ میں فائر کر دوں گی، تم ایسے ہی ویلکم کے قابل ہوں اور یہی ڈیزف کرتے ہو تم”

حور نے اپنا لہجہ مضبوط بناتے ہوئے بولا

زین کے قدم آگے بڑھانے پر وہ اپنے قدم پیچھے کی طرف اٹھانے لگی جبکہ اس کا رخ زین کی طرف تھا

“جو میں ڈیزرف کرتا ہوں آج وہ میرے پاس ہے شاباش بہت ہو گیا پسٹل دو مجھے”

زین نے مزید قدم آگے بڑھائیں

“تم آگے کیوں بڑھے جارہے ہو وہیں رک جاؤ میں واقع فائر کردوں گی”

اب کہ حور کے لہجے میں بے چارگی کا عنصر شامل تھا

“سویٹ ہارٹ یہ کوئی toy نہیں ہے ضد نہیں کرو مجھے دو یہ پسٹل”

وہ حور کو بچوں کی طرح سمجاتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا

“تم میری بات مان کیوں نہیں رہے ہو جاو جاکہ باہر کے دروازے کو لاک کھولو پلیز”

اب وہ اس کی منتیں کر رہی تھی

“تم مجھے خود سے پسٹل دے دوں گی تو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا ورنہ سوچ لو پھر۔۔۔۔۔

قدم آگے بڑھاتے ہوئے زین نے اپنے ہاتھ بھی آگے کیے اور ساتھ میں وان بھی کیا

“مجھے پلیز جانے دو گیٹ کھولو باہر کا ورنہ میں واقعی۔۔۔۔”

ابھی حور کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی زین نے آگے بڑھ کر پھرتی سے پسٹل اس کے ہاتھ سے لے لی اور حور کے قدم وہی تھم گئے کیوکہ پیچھے دیوار کی وجہ سے وہ مزید پیچھے نہیں ہو سکتی تھی

اب حور کو مزید ٹھنڈے پسینے آنے لگے اور ساتھ ہی اپنی بزدلی اور بے وقوفی پر غصہ بھی آنے لگا۔ زین اس کے مزید قریب آیا حور تقریبا دیوار سے چپکی ہوئی کھڑی تھی زین نے ایک ہاتھ جس میں پسٹل تھی دیوار پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے حور کے ماتھے کا پسینہ صاف کیا

“میں نے کہا تھا نا کوئی بیوقوفی نہیں کرنا ورنہ پنشمنٹ ملے گی”

وہ بہت غور سے حور کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہہ رہا تھا

حور نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لی زین نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے اپنی انگلیوں سے اس کے رخسار چھوئے، زین کی اس حرکت پر وہ مزید خود میں سمٹ گئی اور نچلا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبا لیا بے ساختہ زین کی نگاہ اس کے تل پر پڑی زین نے مزید جھک کر اپنے ہونٹ اس کے تل پر رکھ دیے۔ ۔۔۔۔ حور پوری جان سے لرز گئی اس نے زین کو پیچھے کرنا چاہا تو زین میں دوسرا ہاتھ حور کی کمر کے گرد حاہل کردیا جبکہ پسٹل والا ہاتھ ہنوز دیوار پر ٹکا ہوا تھا تل سے ہونٹوں تک کا فاصلہ طے کرنے میں اسے ایک سیکنڈ لگا۔۔۔۔ حور نے زین کی شرٹ دونوں ہاتھوں سے پکڑ لی۔۔۔ حور کے احتجاج کرنے پر زین کی گرفت اور مضبوط ہوگی۔۔۔۔ ضبط کی شدت سے حور کی آنکھوں میں پانی آ گیا اس نے ایک جھٹکے سے زین کو دور دھکیلا اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔ حور لمبی لمبی سانسیں لیتی رہی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس دیوار کے اندر گھس جآئے، حور کا چہرہ بری طرح سرخ ہو رہا تھا زین نے اس کے چہرے کا رنگ اور ایکسپریشن دلچسپی سے دیکھے

“مجھے امید ہے آئندہ تم ایسی حرکت کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچو گی، ورنہ تم مجھ سے کسی بھی قسم کی توقع کر سکتی ہوں”

زین یہ کہتا ہوا وارڈروب سے اپنے کپڑے لےکر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ جب وہ واپس آیا تو حور ابھی تک نظریں جھکا کر اسی پوزیشن میں دیوار کے ساتھ چپکی ہوئی کھڑی ہوئی تھی

زین نے تھوڑی دیر پہلے والے واقعے کا اثر زائل کرنے کے لئے خود سے ہی بات کا آغاز کیا

“حور جاو صوفے پر شاپنگ بیگز رکھے ہیں تمہارے لئے شاپنگ کر کے لایا ہوں۔۔۔۔۔ خاص تجربہ نہیں ہے مجھے لیڈیز کی شاپنگ کا اس لئے جو سمجھ میں آیا لے لیا جو بھی کوئی کمی بیشی ہو گئی ہو تو بتا دینا”

زین نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے حور سے کہا

حور نے اس کو لیٹتا کر دیکھ کر کمرے سے باہر نکلنے میں ہی اپنی عافیت جانی

“اف میں تو اسے فضول انسان سمجھتی تھی یہ تو اچھا خاصا چھچورا انسان ہے”

وہ دل ہی دل میں اس کو نئے لقب سے نوازتی ہوئی کمرے سے چلے گئی، دل میں اس لئے بولا اگر یہ لفظ اس کے کانوں میں پڑ جاتے تو حور کو توقع تھی وہ مزید چھچورپن کا مظاہرہ کرنے میں دیر نہیں لگاتا

دوسرے روم میں صوفے پر بہت سارے شاپنگ بیگز پڑے ہوئے تھے اور کوئی کام نہیں تھا تو وہ ایک ایک شاپنگ بیگ کھول کر دیکھنے لگی اندر سات آٹھ مختلف رنگوں کے ریڈی میٹ ڈریسسز، شوز، لیڈیز بیگ، برش، پرفیوم اور مختلف استعمال کی چیزیں جسے دیکھ کر وہ ایک دفعہ پھر سرخ ہو گئی

“فضول آدمی۔۔۔۔ لیڈیز شاپنگ کا تجربہ نہیں ہے تو یہ حالت ہے”

“حور کیچن میں شاپرز میں کھانا رکھا ہوا ہے یہی نکال کرلے آو”

زین کے کمرے میں اچانک آنے پر وہ بوکھلا کر چیزیں واپس شاپر میں ڈالنے لگی، وہ وہاں سے کچن میں چلی گئی کھانا لے کر آئی تو وہ سارے بیگز ایک جگہ پر رکھے ہوئے وہ وہی بیٹھا ہوا تھا

“بیٹھو حور کھانا شروع کرو”

زین نے پلیٹ میں کھانا نکالتے ہوئے کہا

“میں بعد میں کھا لوں گی”

وہ آہستہ آواز میں منمنائی

“چپ کر کے بیٹھو نہیں تو”

اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ بیٹھ گئی اور پلیٹ میں چاول نکالنے لگی۔

حور کی نظر اپنی پلیٹ پر جھکی ہوئی تھی وہ بہت نروس ہو کر نیوالے منہ میں ڈال رہی تھی جب زین کی نظر اس کے چہرے پر پڑی جہاں اک ننھا سا چاول کا دانہ اس کے ہونٹوں کے پاس لگا ہوا تھا زین آگے ہاتھ بڑھا کر وہ چاول کا دانا ہٹایا اور ٹشو سے حور اس کا منہ صاف کیا

حور نے چونک کر زین کو دیکھا کوئی بھولی بسری یاد اس کے دماغ میں آئی زین نے اس کا چہرہ دیکھا اور دوبارہ کھانا شروع کردیا

برتن دھو کر وہ روم میں آئی تو زین اس کی چیزوں کے لئے پورشن خالی کر رہا تھا

“یہاں ایڈجسٹ کر لو اپنی چیزیں”

یہ کہہ کر وہ سگریٹ لائٹر لے کر روم سے باہر نکل گیا جب واپس آیا تو حور سب سامان رکھ چکی تھی

“کام ختم ہوگیا تو لائٹ آف کردو حور”

زین نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا

“میں کہاں لیٹوں گی”

زین کی بات سن کر حور کو اپنے سونے کی فکر ہونے لگی تو بے ساختہ پوچھنے لگی

“یہ اتنی جگہ تمھارے لیے کافی نہیں ہے”

اس طرح پوچھنے پر وہ زین کو اور زیادہ پیاری لگی تو زین نے بیڈ پر ہی اپنے برابر میں اشارہ کرتے ہوئے بولا

“یہاں!! نہیں نہیں میں دوسرے روم میں جا کر صوفے پر سو جاؤں گی”

حور نے آنکھوں کو پھیلاتے ہوئے کہا جیسے زین اسے اپنے پاس نہیں بلکہ جنگل میں کسی شیر کے پاس سونے کے لئے کہہ رہا ہوں

“ٹھیک ہے صوفے پر سو جاؤ مرضی ہے تمہاری۔۔۔ لیکن اگر وہاں پر کچھ محسوس ہو تو پلیز مجھے مت اٹھانا میں بہت تھک گیا ہوں”

زین کے اس طرح کہنے پر حور کا تکیہ کی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ وہی تھم گیا اور وہ خوف سے اسے دیکھنے لگی۔ اپنی بات مکمل کر کے زین نے اپنا ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیا تھا

“مطلب کیا محسوس ہوگا کیا ہے وہاں پر”

حور نے ہکلاتے ہوئے پوچھا

“نہیں کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی آدھی رات کو فیل ہوتا ہے جیسے کوئی چل پھر رہا کچن میں برتنوں کی آوازیں آتی ہیں۔۔۔۔ مگر تم بے فکر رہو وہ چیز کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی ہیں ظاہری بات ہے میں اتنے عرصے سے یہاں رہ رہا ہوں مجھے تو آج تک نقصان نہیں پہنچایا”

زین نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر سنجیدہ تاثر لیے ہوئے کہا

اس کی بات سن کر حور کی رونے والی شکل ہو گئی جسے دیکھ کر زین کی ہنسی چھوٹنے والی تھی لیکن وہ ضبط کر گیا

“مجھے پتہ ہے ایسا ویسا کچھ نہیں ہوتا ہے تم مجھے ڈرا رہے ہو”

اس نے تکیہ سینے سے لگاتے ہوئے کہا جیسے وہ زین سے زیادہ اپنے آپ کو سمجھا رہی ہوں کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا

“مجھے کیا ضرورت ہے تمہیں ڈرانے کی تم نے پوچھا تو میں نے بتادیا۔ آرام سے سوجاو صوفے پر اور روم کی لائٹ بند کرکے چلی جانا پلیز”

زین نے دوبارہ آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

“حد سے زیادہ بدتمیز انسان ہے یہ آدمی”

وہ دل ہی دل میں سوچتی ہوئی سست قدموں سے لائٹ بند کرکے روم سے چلی گئئ

اچھی طرح روم اور کچن کا جائزہ لیتے ہوئے کہ کچن کا دروازہ بند کرکے وہ روم میں آ گئی اور صوفے پر لیٹ گئی۔۔۔ آیت الکرسی پڑھ کر اپنے اوپر پھونکا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی۔۔۔۔۔ بار بار اس کے کانوں میں زین کے الفاظ گونج رہے تھے

“اف اللہ جی میں کہا پھنس گئی ہو۔۔۔۔ دو دو جن ہیں اس گھر میں۔۔۔۔۔۔ یااللہ میری حفاظت کر”

اس کی آنکھوں میں آنسو آئے، آنسو صاف کرکے چادر کو سر تک اوڑھ لیا۔ مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی شام میں بھی سو گئی تھی شاید اس لئے اور خوف کی وجہ سے بھی اس کو نیند نہیں آ رہی تھی

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کا خوف مزید بڑھ رہا تھا۔ کہیں دور باہر سے گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔

بس یہی حور کا ضبط ختم ہوا اور وہ تکیہ سینے سے لگائے دوڑ کر زین کے کمرے میں گئی، سوتے ہوئے زین کے سینے پر اپنا منہ چھپا کر لیٹ گئی۔ حور کی اس حرکت پر زین کے لبوں پر بےساختہ مسکرائٹ آگئی

صبح زین کی آنکھ کھلی تو حور اسی پوزیشن میں زین کے سینے پر سر رکھ کر سو رہی تھی زین کو رات والا منظر یاد آیا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اس نے حور کا سر تکیہ پر رکھا، چہرے پر آئے ہوئے بال پیچھے ہٹائے، ایسے بلینکیٹ اڑاتا ہوا روم سے باہر نکل گیا

****

اشعر اپنی گاڑی میں گزر رہا تھا جب اسے یونیورسٹی کے پاس کسی گڑبڑ کا احساس ہوا شاید یونیورسٹی میں کوئی ہنگامہ وغیرہ ہوا تھا اس لیئے اسٹوڈنٹ کا کافی رش دکھائی دے رہا تھا۔ دور سے ہی اس کی نظر تانیہ پر پڑی جسے دیکھ کر وہ فورا پہچان گیا اشعر نے تانیہ کے قریب گاڑی روکی۔

“السلام علیکم کیسی ہیں آپ”

اشعر نے گاڑی کی ونڈو سے جھانک کر پوچھا

“وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں”

تانیہ بھی اس کو پہچان گئی تھی جواب دے کر وہ روڈ پر دیکھنے لگی

“میں بلال کا دوست ہوں ہم اس دن شاپنگ مال میں ملے تھے”

اشعر سمجھا تانیہ نے اسے پہچانا نہیں ہے جبھی اپنا دوسری ملاقات کا تعارف کراتے ہوئے بولا

“جی میں آپکو پہچان گئی وہ دراصل آج فضا نہیں آئی ہے میرے ساتھ۔۔۔۔ اتفاق سے موبائل بھی گھر پر ہی رہ گیا ہے میرا، اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو اپکے موبائل سے میں بلال بھائی کو کال کر لو”

اس نے پریشان ہوتے ہوئے اپنا مسئلہ بتایا

“جی شیور کیوں نہیں”

آشعر نے بلال کا نمبر ملایا اور تانیہ کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا

تانیہ بلال سے بات کرنے لگی اور پھر اس نے موبائل اشعر کے ہاتھ میں دے دیا

“ہاں بلال بولو”

اشعر نے موبائل کان پر لگاتے ہوئے کہا

“یار میں یہاں ضروری کام سے پھنسا ہوا ہوں اگر تمہیں کوئی پرابلم نہ ہو تو تانیہ کو گھر چھوڑ سکتے ہو حالات ٹھیک نہیں ہیں آئی تھنک وہاں پر”

بلال نے بولا

“تم فکر نہ کرو پریشان مت ہوں میں تمہاری سسٹر کو ڈراپ کر دیتا ہوں”

اشعر نے کہا اور کال ڈسکنکٹ کردی

“آپ پلیز بیٹھ جائے میں آپ کو گھر ڈراپ کردیتا ہوں بلال بزی ہے شاید”

اشعر نے کار کا لاک کھلتے ہوئے کہا

“جی شکریہ”

تانیہ گاڑی میں بیٹھ گئی

دونوں کے درمیان طویل خاموشی رہی اور گھر آ گیا

“بہت بہت شکریہ آپ کا”

کار سے اترتے ہوئے تانیہ نے کہا

اشعر کار آگے بڑھا لے گیا

****

بلال گھر پہنچا تو تانیہ اور ثانیہ کے ساتھ ساتھ فضا بھی بیٹھی ہوئی ثانیہ کی جہیز کی چیزیں پیک کرا رہی تھی وہ بڑے دنوں بعد آج اسے نظر آئی تھی

“تانیہ میں چلتی ہوں دیر ہو رہی ہے بلال کا منہ میٹھا ضرور کروانا”

یہ کہہ کر وہ رکی نہیں ہے اپنے گھر چلی گئی

تانیہ مٹھائی کی پلیٹ لے کر بلال کے سامنے آئی بلال نے سوالیہ نظروں سے تانیہ کو دیکھا

“فضا کی بات پکی ہو گئی ہے اور دو مہینے بعد اس کی شادی ہے”

تانیہ نے پر شکوہ نظروں سے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا

تانیہ کی بات سن کر بلال کے دل کو کچھ ہوا اور وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گیا

****

حور کی انکھ کھلی تو وہ گھر میں اکیلی تھی زین باہر جاچکا تھا

“آخر کہا گیا ہوگا یہ بدتمیز انسان۔۔۔ کل بھی پورا دن باہر گزار کر رات میں آیا تھا اور ابھی پھر گھر سے غائب۔۔۔۔۔تانی ہوئی ہوگی کسی پر پسٹل اور آتا ہی کیا ہے اسے لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کے علاوہ ۔۔۔۔ اف اللہ جی، کس موالی کے ساتھ میری قسمت پھوٹ گئی، دنیا میں یہی آخری انسان رہ گیا تھا میرا شوہر بننے کو، اوپر سے اتنا چھچھورا، بےہودگی میں تو اس نے شاید پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔۔۔۔ کیوں اس فضول انسان کو سوچ کر میں اپنا دل جلا رہی ہوں”

اپنے آپ سے باتیں کر کے وہ خود ہی سر جھٹک کر اٹھ گئی۔ دوبارہ پورے گھر کا جائزہ لیا اور اپنے لیے ناشتہ بنایا اور کچھ کرنے کو نہیں تھا گھر کی صفائی کرکے فارغ ہو گئی۔ اپنے کپڑوں کو دیکھ کر احساس ہوا کہ اب انہیں بدل لینا چاہیے یہی سوچ کر اس نے وارڈ روب سے ایک ڈریس نکالا اور باتھ لینے چلے گی۔۔۔۔۔ پنک کلر کا ڈریس بالکل اس کے ناپ کا تھا، بس گلا تھوڑا گہرا تھا جس کی وجہ سے حور نے دوپٹہ پھیلا کر اوڑھا

****

تھوڑی دیر پہلے ہی خضر اسماء کو ہاسپٹل اسے گھر لے کر آیا تھا حور کے جانے کے بعد اس کی طبیعت ایسی ہی تھی

“خضر حور کا پتہ چلا کہاں ہے میری بچی”

اسماء روز ہی خضر سے پوچھتی

“چچی آپ فکر نہ کریں میں حور کا جلد پتہ لگا لونگا”

اس نے پتا نہیں ہے آسماء کو تسلی دی تھی یا پھر اپنے آپ کو

ظفر مراد اپنی نقصان پر صبر کر کے بیٹھ گئے مگر جب غصہ آتا تو خود سے عہد کرتے کے وہ زین کو چھوڑیں گے نہیں۔۔۔۔

فاطمہ نے نوٹ کیا کہ حور کے جانے کے بعد خضر بالکل خاموش سا ہو گیا ہے انہیں اپنے گھر کے ماحول سے اکتاہٹ ہونے لگی۔ اسلیے سوچا اپنی بہن سے ناعیمہ کے لیے بات کریں مگر اس سے پہلے انہوں نے ظفر اور خضر دونوں کو منانا تھا

****

زین گھر سے نکلنے کے بعد معمول کے مطابق ہوسپٹل پہنچا اور نادیہ بیگم کے ساتھ وقت گزارا

فلیٹ کی ڈیل وہ کل ہیں کر چکا تھا اب حور کو لے کر اسے کل یا پرسوں میں فلیٹ میں شفٹ ہو جانا تھا اب گاڑی مطلوبہ جگہ پر لے کر جا رہا تھا جہاں پر اسے بلال اور اشعر سے ملنا تھا بلال پہنچ گیا تھا اشعر کے پہنچنے میں ابھی ٹائم تھا

“اور کیا حال ہے”

بلال نے پوچھا

“میں ٹھیک ھوں تم سناؤ خیریت ہے”

زین نے پوچھا

“ہاں میں بھی ٹھیک ہو”

بلال نے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیا

“اچھا ٹھیک لگ تو نہیں رہے”

زین نے بغور بلال کو دیکھتے ہوئے کہا

“ٹھیک ہو یار مجھے کیا ہونا ہے”

بلال نے استہزاہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا

“گھر سے نکل رہا تھا صبح تو رضیہ خالا (فضا کی امی) سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ بتا رہی تھی کہ فضا کی بات پکی ہو گئی ہے کہیں

بلال کے دوست کی حیثیت سے اور ایک ہی محلے میں رہنے کی وجہ سے وہ زین کو بھی اچھے سے جانتی تھیں۔ رضیہ خالہ کی بات زین کے بتانے پر بلال نے سر ہلانے پر اکتفاد کیا تھوڑی دیر خاموشی کے بعد

“بلال یوں منہ لٹکانے سے بہتر نہیں ہے کہ تم رانیہ باجی سے بات کرو۔۔۔۔کہ وہ تمھارے متعلق فضا کے پیرنٹ سے بات کریں”

زین کے اس طرح کہنے پر بلال نے چونک کر زین کو دیکھا

“کیا کہہ رہے ہو تم میں بالکل تمہاری بات نہیں سمجھا”

بلال نے تو یہ بات کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کہی تھی پھر زین کو کیسے پتہ لگی وہ سوچنے لگا

“بہت اچھی طرح سمجھ گئے ہوں تم میری بات کو، زیادہ بھولا بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے۔۔۔۔ میں دوست ہوں تمہارا بلال، فضا کے لیے بے شک تمہارے لہجے میں بیزاری ہو، مگر تمہاری آنکھوں میں فضا کے لیے پسندیدگی، میری آنکھوں سے چھپی ہوئی نہیں ہے””

زین نے اسکو سمجھاتے ہوئے کہا

“خالا خالو نے سب دیکھ بھال کر فضا کے رشتے کے لیے حامی بھری ہے۔۔۔وہ اپنی بیٹی کا بھلا ہی چاہیں گے اس کے لئے اچھا سوچیں گے۔ میں ویسے بھی محبت وحبت کے چکروں میں پڑھنے والا انسان نہیں ہوں فضا اچھی ہے مجھے پسند بھی ہے مگر ایسی پسند نہیں کہ زندگی اس کے بنا گزر نہ سکے”

بلال نے اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے زین کو بولا وہ یہ بات زین کو نہیں اپنے آپ کو بھی سمجھ آ رہا تھا

“یعنی وہ تمہیں اتنی پسند ہے کہ اسے کسی دوسرے کے ساتھ دیکھ کر سب سہ لو گے”

زین نے بھی اسی کی طرح نارمل انداز اختیار کیا

“زین پلیز”

بلال نے شکوہ بھری نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔ آگے بات کو جاری رکھا

“تم سب میرے حالات سے واقف ہوں میرے اوپر ذمہ داریاں ہیں، جاب نہیں ہے میرے پاس پھر بھی تم”

ؑبلال نے بات ادھوری چھوڑی

“ہاں تو یہ کہو نا کہ ذمہ داریاں ہیں یہ کیوں کہہ رہے ہو کہ محبت نہیں ہے اس سے” زین بولا

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد مزید بولا

“اور ذمہ داریوں کی بھی خوب کہی تم نے، ماشاءاللہ سے رانیہ باجی اپنے گھر کی ہیں ثانیہ کی اسی مہینے میں شادی ہوجانی ہے اور تانیہ ابھی پڑھ رہی ہے اور رہی بات جاب کی تم ہر دور میں ہر مشکل میں میرے ہم قدم رہے ہو اب میں بزنس اسٹارٹ کروں گا تو مجھے اس نے بھی تمہاری رہنمائی کی ضرورت ہے تو جاب کرنے کا اپنے دماغ سے نکال دو”

اتنے میں اشعر آگیا پھر وہ تینوں اپنے بزنس سے متعلق باتوں میں مشغول ہوگئے

****

حور کا سارا دن ایسے ہی گزر گیا وہ بیٹھے بیٹھتے بور ہو گئی۔۔۔زیادہ اکتاہٹ ہونے لگتی تو کوئی نہ کوئی کام ڈھونڈ لیتی پھر بیٹھ جاتی پھر کچھ سمجھ میں نہیں آتا ٹی وی کھول کے بیٹھ جاتی۔۔۔۔ ٹی وی دیکھتے دیکھتے بھی بور ہو گئی تو اٹھیں اور کچن میں جاکر کھانا بنانے لگی، کھانا بنا کر فارغ ہوئی تو آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی بال بنا رہی تھی دوپٹہ بیڈ پر پڑا ہوا تھا اس کے کانوں میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی جلدی جلدی بال سلجھائے اور بالوں کا جوڑا بنایا ابھی وہ پلٹی بھی نہ تھی آئینے میں زین کا عکس نمودار ہوا وہ مہبوث سا حور کو ہی دیکھ رہا تھا

حور کو اپنا لایا ہوا سوٹ پہنے دیکھ کر خوشگوار سی لہر زین کے سینے میں دوڑ گئی بغیر دوپٹے کے حور کا سراپا، زین کے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا

زین کی نظروں کی تپش سے حور کو اپنا آپ جھلستا ہوا لگا اس نے آگے بڑھ کر بیڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھانا چاہا مگر اس سے پہلے وہ دوپٹہ اٹھاتی۔۔۔۔ زین نے پھرتی سے آگے ہاتھ بڑھا کر دوپٹہ اٹھا لیا۔۔۔۔ اب زین کی آنکھوں میں شرارت کے رنگ نمایاں تھے

“کیا ہوا دوپٹہ چاہیے آکر لے لو”

وہ انکھوں میں ہنوز شرارت اور لہجے کو معصوم بناتے ہوئے کہہ رہا تھا

اس وقت حور کا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر اس آدمی کا سر پھاڑ دے لیکن وہ ایسا سوچ ہی سکتی تھی مجبورا وہ آگے بڑھی۔۔۔۔۔۔ حور کو آگے بڑھتا دیکھ کر زین نے دوپٹے والا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔۔ حور نے جیسے ہی اپنا دوپٹہ تھامنا چاہا، زین نے دوپٹے والا ہاتھ اونچا کر لیا۔۔۔۔زین کے ہونٹوں پر اب دل جلانے والی مسکراہٹ تھی، اور حور کا دل واقعی جل کر رہ گیا۔۔۔۔۔ حور نے اچک کر دوپٹہ لینا چاہا دوپٹہ تو اس کے ہاتھ میں کیا ہی آتا الٹا اچکنے سے اسکے بالوں کا جوڑا کھل گیا اور پورے بال کمر پر پھیل گئے۔۔۔۔۔حور نے خفگی سے زین کو دیکھا اس کی آنکھوں میں ابھی بھی شرارت کے رنگ نمایاں تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دوپٹے اور زین دونوں پر لعنت بھیجتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگی

“اچھا یہ لو دوپٹہ اب نو مذاق”

زین نے دوبارہ دوپٹہ حور کی طرف بڑھایا اب آنکھوں کا تاثر بھی سنجیدہ تھا، حور نے جیسے ہی دوپٹہ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے۔۔۔۔۔ زین نے جھٹ دوپٹے والا ہاتھ موڑ کر اپنی کمر کی طرف کر لیا۔۔۔۔۔حور نے دوبارہ اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہ مسکراتی ہوئی آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔اب حور کو رونا آنے لگا، اس سے پہلے کہ حور کی آنکھیں نم ہونے لگتی۔۔۔۔۔۔ زین نے فورا دوپٹہ لے کر اس کے کندھوں پر ڈالا اور پھیلا کر اڑا دیا

“مذاق کر رہا تھا سویٹ ہارٹ اتنا سیریس ہونے کی کیا ضرورت ہے”

حور نے ناراضی سے زین کی طرف دیکھا اور آئینے کی طرف بڑھ کر اپنے بال باندنھے لگی زین قریب آیا اس نے حور کے بال دوبارہ کھول دیے اور حور کو مزید اپنے سے قریب کر کے کہنے لگا

“مت باندھو انہں کھلے ہوئے زیادہ اچھے لگ رہے ہیں”

زین نے خمار آلود لہجے میں کہتے ہوئے حور کے ہونٹوں کو فوکس کیا

“پلیز آج تو میں نے کوئی غلطی نہیں کی”

حور اس کا ارادہ بھانپ کر جلدی سے بولی

زین نے نظریں اٹھا کر حور کو دیکھا اور دل میں سوچا

“بیوقوف لڑکی میرے پیار کرنے کو بھی پنشمنٹ سمجھتی ہے”

زین حور کے سر سے اپنا سر آہستہ سے ٹکرا کر دور ہوا۔ اور حور کی ہارٹ بیٹ نارمل ہو گئی

“کھانا نکالو شاپر سے میں آتا ہوں”

زین وارڈ روب سے کپڑے نکالتا ہوا کہنے لگا

“وہ آج کھانا میں نے گھر میں بنا لیا تھا”

حور نے بتایا

“تم نے کھانا بنایا”

حور کی بات پر وہ حیرت سے مڑا

“سارا دن کچھ کرنے کو نہیں تھا تو اس لیے کوکنگ کر لی”

وہ نیچی نگاہیں کرکے اسے بتا رہی تھی جیسے کھانا بنانا بھی ہے کہیں اس کی غلطی میں شمار نہ ہوجائے

“اوکے کھانا نکالو میں چینج کر کے آتا ہوں”

زین کو خوشی ہوئی اسے یقین تھا وہ بہت جلد حور کو اپنی طرف مائل کر لے گا