365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 10

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

جب زین کمرے میں آیا تو وہ ٹیبل پر حور کھانا لگا چکی تھی زین نے حور کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا ہی کھایا

“کیا تم کچھ کہنا چاہتی ہوں”

کھانے کے دوران زین نے حور کو غائب دماغی میں پلیٹ میں چمچ ہلاتے ہوئے دیکھا تو بولا

“کہنا نہیں پوچھنا چاہتی ہوں”

اس نے نظریں اٹھا کر زین کو دیکھا

“کیا”

زین حور سے بہت سے سوالوں کی توقع کر رہا تھا لیکن جو اس نے پوچھا تو اس پر زین کا منہ حیرت سے کھل گیا

“تمہارا نام”

دوبارہ نظروں کا رخ پلیٹ کی طرف کرتی ہوئی بولی

“تمہیں میرا نام نہیں پتہ”

زین کو حیرت ہوئی

“بھلا مجھے کیسے پتہ چلے گا تمھارا نام”

حور بولی

“تمہیں یہ نہیں پتا تمہارا نکاح کس کے ساتھ ہو رہا تھا”

زین نے دوبارہ پوچھا

“مجھے کیا معلوم اس وقت سچویشن ایسی تھی مجھے تو اپنا ہوش نہیں تھا تمھارا نام کیسے پتہ چلتا۔۔۔۔۔ “

وہ افسردگی سے بولی

“واہ مسسز کیا بات ہے آپکی، چلو تین دن بعد ہی سہی آپ کو خیال تو آیا کہ شوہر کا نام جاننا چاہیے”

زین کے طنز پر وہ چپ ہی رہی نظریں ہنوز پلیٹ پر جھکی ہوئی تھیں

“زین۔۔۔۔‏زین نام ہے میرا”

زین نے بغور اس کو دیکھتے ہوئے کہ وہ اپنے نام پر حور کے فیس ایکسپریشن دیکھنا چاہتا تھا

وہ چونکی اور اس نے نظریں اٹھا کر زین کو دیکھا مگر کچھ بولی نہیں

“کیا ہوا تم میرے نام سے چونکی کیوں؟ کیا کوئی اور بھی زین ہے جسے تم جانتی ہوں”

زین نے ویسے ہی بیٹھے ہوئے امید سے پوچھا

“نہیں میں کسی اور زین کو نہیں جانتی”

حور جواب دے کے خاموش ہوگئی

حور کے جواب پر زین کو مایوسی ہوئی وہ واقعی اس کو بھول چکی تھی یا پھر اس سے شیئر نہیں کرنا چاہتی تھی، یہ زین کو سمجھ نہیں آیا

دوسری طرف حور اس کے نام پر چونکی اسے اپنے بچپن کا دوست شاہ یاد آیا۔

“کہیں یہ شاہ زین تو نہیں ارے نہیں یہ وہ کیسے ہوسکتا ہے، میں بھی کیا سوچ رہی ہوں وہ کتنا پولائٹ اور کئرنگ تھا ہر بات ماننے والا اور کہاں یہ۔،۔۔۔۔ اس کے تو مزاج کا ہی اب تک حور کو نہیں پتہ چلا تھا شروع میں جب ملا تھا تو اس اس کی آنکھوں میں ایک سنجیدہ تاثر قائم رہتا تھا اور اب اس کی آنکھوں میں شرارت چھلکتی ہے۔۔۔۔خضر بھائی کے ساتھ مجھے دیکھ کر اسے کتنا غصہ آتا تھا۔۔۔ کیا پتہ کسی اور زین کے بارے میں بھی سن کر وہ غصہ کرے۔۔۔۔۔

اف شاہ پتہ نہیں اب کہاں ہوگا اسے میں یاد ہوگی بھی کہ نہیں”

وہ اپنی سوچوں میں گم اپنے آپ سے ہی باتیں کر رہی تھی اور زین اس کا چہرہ دیکھ کر یہ جانچنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے مگر وہ اندازہ کچھ بھی نہیں لگا پایا

حور کچن میں برتن دھو رہی تھی جب زین حور کے قریب آیا اور جھک کر کان میں کہا

“کھانا بہت ٹیسٹی بنایا تھا تم نے آج کوئی پنشمنٹ نہیں ملے گی، بلکہ روم میں آ کر داد وصول کر لو۔۔۔ جلدی کام ختم کرکے آو”

یہ کہہ کر زین کچن سے باہر نکل گیا اور حور وہی پتھر کی بنی کھڑی رہ گئی

****

ظفر مراد اور خضر اسٹیڈی میں بیٹھے ہوئے تھے اوفس کے کام کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے۔فاطمہ دونوں کے لئے روم میں چائے لے کر آئی

“اگر آپ دونوں بزی نہ ہو تو میں کوئی دیر بیٹھ جاو یہاں “

“آئے بیٹھیے”

ظفر مراد نے فائلز بند کرتے ہوئے کہا

“مجھے آپ دونوں سے کچھ بات کرنی ہے”

انہوں نے دونوں کو چائے کا کپ تھماتے ہوئے دیکھا

“بولیں فاطمہ کیا کہنا چاہتی ہیں آپ”

خضر بھی ماں کی طرف متوجہ ہوا

“گھر کا ماحول دیکھ کر مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے ان دنوں، سارا دن آپ لوگ آفس میں ہوتے ہیں بچیاں یونیورسٹی میں ہوتی ہیں آسماء اب اپنے کمرے سے نکلتی نہیں ہے، سارہ ماہم کی شادی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے تو میں سوچ رہی ہوں کہ تہمینہ کے گھر جاکر ہم خضر کے لئے ناعیمہ کا ہاتھ مانگ لیتے ہیں تاکہ اس گھر میں اور ہماری زندگی میں بھی خوشیاں آئیں”

فاطمہ نے پوری تفصیل بتا کر آخر میں اپنی خواہش سے آگاہ کیا

“امی پلیز اس مسئلہ کو یہی رہنے دیں، میں ابھی فی الحال ایسا کچھ نہیں چاہتا”

خضر سنجیدگی سے بولا

“کیوں؟ کیوں نہیں چاہتے تم ایسا آخر کب تک جوگ لیے بیٹھے رہو گے”

فاطمہ کو اندازہ تھا ظفر تو کچھ نہیں کہیں گے لیکن خضر ضرور ان کے فیصلے سے مخالفت کرے گا

“میں اپنے طور پر کوشش کر رہا ہوں حور کا پتہ لگ جائے گا جلدی”

“تو حور سے اس مسئلہ کا کیا تعلق ہے”

فاطمہ نے حیرانگی سے پوچھا

“میں حور کے علاوہ اور کسی کے بارے میں سوچ نہیں سکتا”

خضر کی بات پر ظفر مراد بھی چونکے

“حور کا نکاح ہو گیا ہے اور اب وہ اپنے شوہر کے پاس ہے خضر”

فاطمہ کا اکلوتے بیٹے کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہا

“زبردستی نکاح کیا ہے اس شخص نے حور کے ساتھ، میں نہیں مانتا اس نکاح کو”

خضر نے ایک ایک لفظ چبا کر بولا

“زبردستی ہو یا پھر رضامندی سے نکاح نکاح ہوتا ہے اور حور اب کسی اور کی بیوی ہے”

اب کے ظفر نے بیٹے کو سمجھانا چاہا

خضر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ ظفر اور فاطمہ اس کو جاتے ہوے دیکھتے رہ گئے

****

بلال بیڈ پر آنکھیں موندے ہوئے لیٹا ہوا تھا جب اس کے دماغ میں زین کی باتیں یاد آنے لگیں

“کیا ٹھیک کہہ رہا تھا زین مجھے واقعی رانیہ باجی سے بات کرنی چاہیے فضا کے سلسلے میں”

یہی سوچ رہا تھا کہ فضا کا ناراض چہرہ اس کی انکھوں کے سامنے آگیا۔۔۔۔کتنی ناراض تھی وہ بلال سے ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی بلال سوچوں سے نکلا اور اٹھ کر دروازہ کھولا تانیہ گھبرائی ہوئی سامنے کھڑی تھی

“کیا ہوا تانیہ سب خیریت ہے”

اسے کسی انہونی کا خدشہ ہوا

“بھائی نیچے چلے ابو کے کمرے میں ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے”

تانیہ کے بولنے پر وہ ایک لمحہ بھی ضائع کئے بنا نیچے آیا

****

زین کی بات سن کر وہ وہی بت بنی کھڑی رہی۔۔۔۔ کمرے میں جانے کا سوچ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے وہ بلا مقصد ہی برتن یہاں سے ہوا اٹھا کر رکھنے لگی، کیبنیٹ کھول کر ساری چیزیں ترتیب دینے لگی، مگر وہ کتنی دیر یہ کام کرتی جانا تو تھا اسے ۔۔۔۔اس کے قدم من من بھر کے ہو گئے لمبا سانس کھینچ کر وہ کمرے میں داخل ہوئی

زین بیڈ پر لیٹا ہوا اس اسموکنگ کر رہا تھا اسے آتا دیکھ کر بولا

“مجھے تو لگا تم کچن کا ایک ایک برتن دھو کر صبح تک ہی روم میں آوگی”

اس کے طنز کو اگنور کر کے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی

زین نے حور کو قریب کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما جو کہ بری طرح کپکپا رہا تھا۔ اس کی فیلنگز سمجھتے ہوئے اسے ریلیکس کرنے کے لیے بولا

“بے فکر رہو میں فل الحال تم پر کوئی حق نہیں جتاؤں گا اپنا۔۔۔۔ تمہیں اس رشتے کے لیے ٹائم چاہیے وہ تم لے لو۔۔۔۔ مگر ایک بات میری یاد رکھنا حور۔۔۔تم میری بیوی ہو اور یہ رشتہ میرے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے درمیان میں کسی تیسرے کی مداخلت برداشت نہیں کروں گا، ہماری شادی ہو چکی ہے اس حقیقت کو جتنی جلدی ہو سکے قبول کرلو”

وہ حور کے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے نرم لہجے میں حور کو کہہ رہا تھا

“میری ایک بات مانو گے پلیز”

زین کا نرم لہجہ دے کر اسے تھوڑا سا حوصلہ ہوا

“کیا بولو”

زین نے سوالیہ نظروں سے حور کی طرف دیکھا

“مجھ میری ماما سے بات کرنی ہے ان سے ملنا ہے پلیز مجھے ان سے ملوا دو یا صرف میری بات کروا دو”

حور نے التجائی انداز میں زین کو بولا

“حور ابھی میرے تھوڑے کام پھنسے ہوئے ہیں یہ فورا ممکن نہیں ہے لیکن تم فکر نہیں کرو بہت جلد میں تمہاری ماما سے تمہیں ملوادوں گا”

اپنی بات ختم کر کر وہ حور کی انگلیوں سے اپنا ہاتھ نکالتا ہوا بولا

“لائٹ بند کر دو”

زین نے لیٹتے ہوئے حور سے لائٹ بند کرنے کو کہا

حور اپنا تکیہ اٹھا کر جانے لگی جب زین نے حور کا ہاتھ پکڑا

“رشتے کو ٹائم دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم جاکر کہیں دوسری جگہ پر لیٹ جاو۔ ۔۔۔یہ ڈرامے مجھے بالکل پسند نہیں ہیں لیٹو یہی پر”

تھوڑی دیر پہلے والی نرمی اب سنجیدگی میں بدل گئی اس کو یہ دھوپ چھاؤں سا مزاج رکھنے والا شخص سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔ اس سے پہلے کے زین کا موڈ مزید خراب ہوتا وہ جلدی سے بیڈ پر کونے میں ہو کر لیٹ گئی، زین نے حور کو کھینچ کر اپنی طرف کیا اور حور کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا۔۔۔۔ انگلیاں حور کے بالوں میں چلاتا ہوا وہ بولنے لگا

“اپنا تھوڑا بہت جو بھی سامان ہے وہ پیک کر لینا کل یا پرسوں ہم دوسرے فلیٹ میں شفٹ ہو جائیں گے”

ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا تو ایک دم باہر کا دروازہ بجا

“اس وقت کون ہوسکتا ہے”

زین اٹھتے ہوئے بولا

“بلال اس وقت خیریت”

زین نے دروازہ کھولتے ہی بلال کو دیکھتے ہوئے بولا

“یار ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے”

بلال کافی پریشان لگ رہا تھا

“دومنٹ صبر کرو میں آیا”

زین نے بلال کو کہا اور اندر جا کر اپنی گاڑی کی چابی والٹ موبائل، اٹھاتا ہوا وہ حور سے بولا

“ایک ایمرجنسی کی وجہ سے مجھے جانا ہوگا دروازہ باہر سے لاگ ہے تم بنا ٹینشن کے سو جاؤ”

حور اٹھ کے بیٹھ گئی

“مگر میں رات میں اکیلے کیسے رہو گے مجھے ڈر لگے گا”

حور نے پریشان ہو کر زین سے کہا

“ایمرجنسی ہے حور آجاؤں گا میں واپس۔۔۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں اور ویسے بھی تمہیں کوئی بھوت مجھ سے چھین نہیں سکتا”

وہ اس کے گال تھپتھپاتا ہوا باہر چلا گیا

اشعر نے بیل بجائی تو دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا جیسے اندر کوئی انتظار میں ہوں کہ بیل بجائی جائے اور میں فورا دروازہ کھولو

“السلام علیکم کیسی ہیں آپ”

تانیہ کو دیکھ کر اشعر نے سلام کیا اور حال پوچھا جب کہ وہ اس کو ٹھیک نہ لگی آنکھیں سرخ شاید نیند سے یا پھر رونے کی وجہ سے ہو رہی تھیں اشعر نے ایک نظر میں تانیہ کا جائزہ لیا

“وعلیکم السلام”

تانیہ کو اشعر کا چہرہ دیکھ کر مایوسی ہوئی وہ پیچھے دیکھنے لگی شاید بلال نظر آئے

“سب خیریت ہے”

اشعر نے پوچھنا تو بلال کا تھا کیونکہ وہ کافی دیر سے اس کو کال کر رہا تھا جو کہ وہ ریسو نہیں کر رہا تھا زین کو بھی کال ملائی لیکن وہ بھی ریسیو نہیں کر رہا تھا اس لئے اشعر بلال کے کی طرف آگیا پر تانیہ کو اس طرح دیکھ کر اشعر نے بلال کی جگہ یہ سوال کیا

“جی بلال بھائی ابھی تک نہیں آئے ہیں انہی کا انتظار کر رہی ہوں”

اس نے اداس لہجے میں جواب دیا

“بلال کہاں پر ہے میں اسی کا پوچھنے آیا ہوں وہ میری کال ریسیو نہیں کر رہا ہے”

ابو کو لےکر اسپتال گئے ہیں ابھی تک رابطہ نہیں ہوا ہے، ہم لوگ انہی کا انتظار کر رہے تھے

تانیہ نے سب تفصیل سے بتایا

“او مجھ سے تو ذکر بھی نہیں کیا بلال نے، آپ فکر نہ کریں انکل جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ہاسپٹل کا پتہ ہے آپ کو؟

تانیہ نے گردن ہلا کر اسپتال کا پتہ بتایا

“آپ پریشان نہ ہوں میں بلال کے پاس جاکر آپ کی بات کروا دیتا ہوں بلال سے اپکی”

اشعر نے تانیہ کو اداس دیکھ کر کہا

“ابھی آپ ہاسپٹل جا رہے ہیں”

تانیہ نے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا

“جی آپ کو کچھ بھی بھجوانا ہے یا چلنا ہے تو بتا دیں”

اشعر نے اس کی جھجک نوٹ کر کے خود ہی بولا

“جی بس میں پریشان ہو رہی تھی رات سے کوئی خبر نہیں ابو کی، اگر میں چلو”

تانیہ نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا کہیں وہ برا نہ مان جائے، یا اس کا اپنا بھائی مگر بات منہ سے نکل چکی تھی

“اگر آپ چلنا چاہتی ہیں تو آپ چلیں ویسے بھی میں وہی جا رہا ہوں”

اشعر نے تانیہ کو کشمکش میں دیکھ کر خود ہی آفر کی

“جی بس پانچ منٹ میں، میں ثانیہ کو بتا کر آتی ہوں”

“میں کار میں بیٹھ کر ویٹ کر رہا ہوں”

تانیہ نے خالہ کو بتایا جو کہ فضا کے ساتھ رات کو ان دونوں کے پاس ہی آ گئی تھی پوری رات ثانیہ تانیہ اور فضا نے جاگ کر گزاری تھی۔۔۔۔ اس لیے ثانیہ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا خالہ کو بتا کر وہ اسکارف لے کر باہر چلے گی

اشعر نے ایک نظر تانیہ کو دیکھ کر کار کا لاک کھول دیا اور کار اسٹارٹ کی۔۔۔۔ سگنل پر کار رکی دونوں طرف مکمل خاموشی تھی

“صاحب جی بیگم صاحبہ کے لئے گجرے لے لو صاحب”

ایک بچہ ہاتھوں میں بہت سارے گجرے لیے ہوئے کہہ رہا تھا

“بیٹا نہیں چاہیے گجرے جاؤ یہاں سے”

اشعر بیگم صاحبہ لفظ پر جھنپ گیا اور بچے کو منع کیا

“میں نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا آج کسی نے بھی نہیں خریدے آپ خرید لو بڑی مہربانی”

اشعر نے والڈ سے پیسے نکال کر بچے کو دیے اتنے کے تو وہ گجرے نہیں تھے جتنے اس نے پیسے دیے بچہ خوشی سے دعائیں دینے لگا

“اللہ آپ دونوں کی جوڑی سلامت رکھے آپ دونوں کو ڈھیر ساری خوشیاں دے”

سگنل کھلا تو بچہ اشعر کے ہاتھ میں گجرے تھماتا ہوا چلا گئے

اشعر نے گجرے سمیت تانیہ کی طرف رخ کیا جوکہ اشعر کو دیکھ رہی تھی اشعر کے دیکھنے پر گجروں کو دیکھنے لگی اشعر نے گجرے ڈیش بورڈ پر رکھ دیئے اور کار سٹارٹ کردی

****

ریسپشن سے معلوم کر کے اشعر اور تانیہ روم میں پہنچے۔۔۔۔ بلال ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر چونک گیا

“آرے یار بڑے ہی بے مروت ہو تم دونوں مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا”

اشعر نے آتے ہی بلال اور زین دونوں کی کھچائی کی

جب کہ تانیہ سلام کرکے ابو کے پاس بیٹھ گئی جو کہ دوائیوں کے زیراثر سو رہے تھے

“رات میں تمہیں کیا پریشان کرتا ابو کی اچانک طبیعت بگڑ گئی، زین کے ساتھ ابو کو ہوسپٹل لے آیا “

بلال نے وضاحت دی

“آپ کیسی طبیعت ہے انکل کی”

اشعر نے پوچھا

“اب تو کافی بہتر ہے اللہ کا کرم ہے”

بلال کی نظر تانیہ پر پڑی جو کہ ابو کو فکرمندی سے دیکھ رہی تھی اشعر نے بھی بلال کی نظروں کا زاویہ دیکھا اور بولا

“تم دونوں کو کال ملا رہا تھا کوئی ریسپونس نہیں کر رہا تھا تمارے گھر گئا تو ساری سچویشن تمہاری سسٹر سے پتہ چلی ان کو پریشان دیکھا اس لئے ساتھ لے آیا”

اشعر نے بلال کو وضاحت دینا ضروری سمجھی کہ وہ فیل نہ کرے

“یہاں پر شاید سگنل کا پرابلم ہے”

زین نے موبائل دیکھتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا

“زین اب تمہیں گھر جانا چاہیے تم کل رات سے یہاں پر ہوں”

بلال نے زین سے کہا

“کیسی بات کر رہے ہو مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے ویسے بھی انکل کو شام تک ڈسٹارج کر دیں گے جب تک میں یہیں پر ہوں”

زین نے بلال کو جواب دیا

“بلال ٹھیک کہہ رہا ہے تم کل رات سے ہو یہاں پر ہوں اب تم گھر جاکر ریسٹ کرو اور ویسے بھی بھابھی انتظار کر رہی ہو گئی گھر پر”

اشعر نے اس کو سمجھایا

زین دونوں سے ہاتھ ملا کر روم سے باہر نکلا وہ کوریڈور سے باہر نکل ہی رہا تھا اس کی نظر سامنے سے آتے ہوئے خضر پر پڑی۔۔۔ خضر بھی زین کو دیکھ چکا تھا

“حور کہاں ہے”

خضر نے ایک دم سامنے آکر پوچھا

“جہاں پر بھی ہو اس سے تمہیں سروکار نہیں ہونا چاہیے “

حور کا نام خضر کے منہ سے سنتے ہی زین کی پیشانی پر بل پڑ گئے

“مجھے ہی اس سے سروکار ہونا چاہیے کزن ہے وہ میری”

خضر نے تیز لہجے میں کہا

“وہ اب تمہاری کزن بعد میں ہے پہلے وہ میری بیوی ہے یہ بات اب اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا لو تم”

زین نے اس کو باور کروایا

“میں نہیں مانتا ہوں زبردستی کے اس رشتے کو اور وہ تمہیں کبھی بھی ایکسیپ نہیں کرے گی یاد رکھنا تم”

خضر نے جبڑے بیچتے ہوئے کہا

“تمہارے یا کسی اور کے ماننے یا نہ ماننے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور حور مجھے ایکسپیٹ کریں یا نہ کرے اس سے تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔۔ راستہ چھوڑوں میرا “

زین نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا اور وہ جانے لگا

“بتاؤ حور کو کہاں چھپا کر رکھا ہے”

خضر نے اچانک زین کا گریبان پکڑ کر کہا

زین نے ایک زوردار پنچ خضر کے منہ پر مارا جوکہ خضر کے لیے غیر متوقع تھا وہ لڑکھڑا کر پیچھے گرا راستے میں آتے جاتے لوگ جو ان لوگوں کو کافی دیر سے دیکھ رہے تھے ایک دم بیچ بچاؤ کروانے لگے

“آئندہ میں کبھی تمہارے منہ سے حور کا نام نہیں سنو ورنہ یہ تمھاری صحت کے لیے اچھا نہیں ہو گا اور شکر ادا کرو کہ آج میرے ہاتھ میں پسٹل نہیں ہے”

زین لوگوں کے ہاتھ جھٹکتا ہوا غصہ میں وہاں سے چلا گیا

اور خضر اپنے ہونٹوں پر لگا ہوا خون صاف کرنے لگا

****

وہ گھر پہنچا تو اسے ابھی بھی خضر کی باتیں سوچ سوچ کر غصہ آرہا تھا۔ زین کو شروع دن سے ہی خضر سے بےنام سے جلن محسوس ہوتی تھی، اپنی سوچوں میں گم جب وہ کمرے میں آیا اس کی نظر سوتی ہوئی حور پر پڑی۔۔۔۔۔۔

حور پر نظر پڑتے ہی ساری تھکن اتر گئی موڈ بھی فریش ہو گیا، گہری نیند میں سوتی ہوئی وہ اسے بہت معصوم لگی

اس نے جھک کر حور کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے زین کے لمس سے وہ تھوڑا سا کسمسائی اور زین کو دیکھا

“تم آ گئے واپس”

حور نے آنکھیں کھول کر کہا جن میں ابھی بھی نیند کا خمار باقی تھا

“ہاں آگیا واپس! آنا تو مجھے تھا ہی، جب کے جانے سے پہلے میں نے تم سے کہا تھا کہ میرا انتظار کرنا”

زین نے اس کا معصوم چہرہ اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے بچپن میں کہی ہوئی بات کو دہرایا

“کل رات ہماری ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی مجھے اچھی طرح یاد ہے”

حور نے اپنے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے کہا

“اسی بات کا تو دکھ ہے سویٹ ہارٹ کے تمہیں کچھ بھی یاد نہیں”

اس نے حور کے برابر میں لیٹتے ہوئے کہہ

“جی نہیں! مجھے اچھی طرح یاد ہے کل رات تم نے کہا تھا کہ تم ٹینشن لیے بنا سوجاؤ”

حور نے کل رات والی بات کو یاد کرتے ہوئے کہا

“نہیں میں کل رات کی بات نہیں کر رہا میں اس سے پہلے کی بات کر رہا ہوں”

زین نے اس کے ہونٹ کے نیچے تل کو چھیڑتے ہوئے کہا

“پتہ نہیں کیا بولے جا رہے ہو تم۔۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا”

حور نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

“اوکے تھوڑا قریب آؤ میں سمجھاتا ہوں”

زین کو پٹری سے اترا دیکھ کر حور بری طرح سٹپٹا گئی

“نہیں مجھے کچھ نہیں سمجھنا اور میری نیند بھی پوری ہو گئی”

حور گھبرا کر اٹھنے لگی

“لیٹ جاؤ خاموش ہوکے ابھی کافی ٹائم پڑا ہے”

زین نے ڈپٹتے ہوئے کہا۔ زین کو ہیروں سے ہٹلر بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی تھی۔ اس نے حور کو اپنی طرف کھینچا وہ دبک کر زین کے سینے پر گری نیند تو اب حور کو کیا ہی آنی تھی بلکہ الٹا اس کا ذہن اچھی طرح بیدار ہو گیا۔۔۔۔ وہ سہمی ہوئی زین کے سینے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی

“کل رات میرے بغیر آرام سے نیند آگئی تھی تمہیں ڈر تو نہیں لگا”

وہ آنکھیں بند کئے ہوئے، ایک ہاتھ سے حور کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا

“کل رات میں سوگئی مجھے کوئی ڈر نہیں لگا کیونکہ یہاں کوئی جن ہے ہی نہیں”

حور نے اسے جتاتے ہوئے کہا اور تھوڑا فاصلہ اختیار کیا

“جن تو ہے یہاں پر لیکن وہ کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتا بس اپنی محبوبہ کا عاشق ہے وہ”

زین نے حور کو فاصلہ قائم کرتے ہوئے دیکھا تو اس کو تنگ کرنے کے ارادے سے بولا

“تم جھوٹ بول رہے ہو مجھے پتہ ہے ایسا کچھ بھی نہیں تم صرف مجھے ڈرا رہے ہو”

حور نے برا مانتے ہوئے کہا اور اپنے تکیہ پر لیٹ گئی

“نہیں مانو میرا کیا ہے جب کسی دن روبرو سامنا ہوا تو خود ہی پتہ چل جائے گا ویسے بھی جو لوگ یقین نہیں کرتے ہیں جنات ان کے سامنے ظاہر ہو جاتے ہیں”

زین نے مزید ڈرایا

زین کا اتنا کہنا ہی تھا، حور کی سٹی گم ہوگئی حور دوبارہ ڈر گئی اور غیر ارادی طور پر اس نے زین کے سینے پر دوبارہ سر رکھ لیا

“تم کیا واقعی سچ کہہ رہے ہو”

حور نے روہنسی ہو کر پوچھا

“بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔ بس وہ جن چاہتا ہے اس کی محبوبہ اس کے پاس رہے۔ ۔۔ دور نہیں جائے اس سے”

زین نے ایک ہاتھ حور کے گرد حائل کرتے ہوئے اسے مزید خود سے قریب کر لیا، دوبارہ آنکھیں بند کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کے بال سہلانے لگا

حور نے بھی اسکی باتوں پر غور کیے بناء ڈر کے اپنی آنکھیں بند کرلیں

****

خضر کو رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا زین اس کے سامنے آجائے اور وہ اس کو شوٹ کر دے

“میں بھی دیکھتا ہوں تم زبردستی حور کو مجھ سے دور کر کے اپنی زندگی میں کیسے شامل کرتے ہو”

خضر نے نفرت سے سوچا

****

شام تک مسعود صاحب کی ہوسپٹل سے چھٹی ہو گئی تھی۔ اشعر نے گاڑی کا بیک ڈور کھول کر تو سب کو اندر بیٹھایا اور تانیہ پیچھے مسعود صاحب کے ساتھ بیٹھ گئی جب کے بلال فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اشعر نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے خوشگوار خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی اشعر کی نظریں گجروں سے ہوتے ہوئے گاڑی کے مرر میں تانیہ پر پڑھی۔۔۔۔ تانیہ بھی مرر سے اشعر کو ہی دیکھ رہی تھی دونوں کی نظریں ملیں۔ ۔۔۔۔ تانیہ نے نظریں جھکالیں اشعر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی