365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 4

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

خضر گاڑی لے کر آفس نکل ہی رہا تھا کہ گیٹ سے باہر اس کو حور کھڑی نظر آئیں

“حور یہاں کیوں کھڑی ہو کالج نہیں گئی ابھی تک؟ ؟خضر نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا پوچھا

“لگ رہا ہے ڈرائیور نہیں آیا وین کا شاید حور نے پریشانی سے بتایا”

لو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ؟ آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں”

گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے خضر بولا

حور گاڑی کا ڈور کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی

“پیپر کی تیاری کیسی جارہی ہے؟خضر نے گاڑی اسٹاٹ کرتے ہوئے پوچھا”

“تیاری تو کافی اچھی ہے”

خضر کا موبائل بجا

“میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں”

“کیا ہوا خیریت ہے خضر بھائی؟

حور نے پوچھا

“کچھ نہیں آج میٹنگ تھی تو اس لیے ابو کی کال تھی!۔۔۔

خضر نے جواب دیا”

“آپ ایسا کریں یہی اتار دیں۔ میں یہاں سے چلی جاو گی یہاں سےتھوڑی دور تو ہے” حور بولی

ایسی کوئی دیر نہیں ہو رہی میں چھوڑ دہتا ہوں”

خضر بولا

“مشکل سے پانچ منٹ لگے گے میں یہاں سے چلی جاؤنگی”

حور کو اپنی وجہ سے اسے لیٹ کروانا اچھا نہیں لگا جبھی دوبارہ بولی

“واقعی پرابلم تو نہیں ہوگی “خضر نے حور کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“بالکل نہیں۔ بس یہ گلی پار کر کے کالج ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں”حور کے جواب پر خضر نے گاڑی روک دی

حور کے گاڑی سے اترتے ہیں خضر نے گاڑی آگے بڑھای۔ وہ گلی میں پہنچی یہ گلی کالج کے پیچھے تھی۔ صبح کا وقت تھا گلی سنسان تھی حور چلتی جا رہی تھی۔

جب اچانک ایک بائیک حور کے قریب آکر رکی اور کوئی ایک دم بائیک سے اتر کر حور کا بازو کھینچتا ہوا foot path پر لے آیا اور ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا وہ گرتے گرتے بچی۔ یہ سب ایک سیکنڈ میں ہوا حور کو کچھ سمجھ نہیں آیا

“کون تھا وہ جس کے ساتھ گاڑی میں آئی ہو”؟

وہ شخص آنکھوں میں غصہ لیے اس سے پوچھ رہا تھا

جبکہ تھوڑی دور بائیک پر دوسرا شخص بیٹھا ہوا اس کا ساتھی انہیں دیکھ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ سامنے کھڑے انسان کو اس نے پہلے کہیں دیکھا ہے مگر گھبراہٹ میں اس کو یاد نہیں آرہا تھا کہاں دیکھا ہے؟

“جواب دو کون تھا وہ”

اس نے کو غرا کر کہا اور اور پسٹل اس کے اوپر تانی”

“میرا کزن تھا” خوف کے مارے گھٹی اواز میں حور نے بولا اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی

دنیا گول ہے یہ اس نے سنا تھا لیکن دنیا چھوٹی بھی ہے آج اسے اندازہ ہوا وہ اپنا معصوم حسن لئے اس کے سامنے کھڑی تھی وہ اب بھی ویسے ہی تھی خوبصورت یا پہلے سے زیادہ خوبصورت۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پایا پہلے دن کی طرح آنکھوں میں آنسو لیے خوفزدہ نظروں سے وہ اسے دیکھ رہی تھی اس نے پسٹل نیچے کی اور اس کا دل چاہا وہ خود کو اس کے سامنے سلنڈر کردے۔۔

“آئندہ تم مجھے اسکے ساتھ نظر نہ آؤ”

زین کا آج دوسری بار حور سے ٹکراو ہوا۔ آج بھی وہ اسی لڑکے کے ساتھ تھی یہ بات زین کو اچھی نہیں لگی

حور نے گردن ہلانے پر ہی اکتفاد کیا”

پسٹل اب زین کے ہاتھوں میں نہیں تھی مگر پھر بھی حور کو اس سے خوف آراہا تھا

“کہاں جا رہی تھی” لہجے میں نرمی لیے وہ اس سے ایسے پوچھ رہا تھا جیسے ان دونوں کا دوستانہ بہت پرانا ہو

کککک ۔۔۔کالج ۔۔۔! وہ ہکلاتے ہوئے لہجے میں بولی

“آؤ میں چھوڑ آتا ہوں” زین نے کہا

“نہیں میں چلی جاؤں گی” یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے جانے لگی اور وہ اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔

“کون تھی یہ”

بلال نے نزدیک آکر پوچھا؟

“پری”

زین کی نظریں اب بھی حور پر تھی جو کہ کالج کی طرف مڑ گئی تھی ۔۔❤❤❤❤

***

وہ اور بلال بائیک پر جا رہے تھے کہ اچانک زین کی نظر ایک گاڑی پر پڑی جس میں وہ حود کو lسی ہسپتال والے لڑکے کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر چونک گیا۔ جہاں حور کے دوبارہ ملنے پر خوشی ہوئی وہی اسے اس لڑکے کے ساتھ دیکھ کر زین کے ماتھے پر بل بھی پڑھ گئے

“بلال اس گرے کلر کی گاڑی کا پیچھا کرو جلدی”

زین نے تیز آواز میں بلال سے بولا

“مگر یہ ہے کون” “بلال نے پوچھا

“سب بتاؤنگا پہلے فالو کرو اس کار کو یہ مس نہیں ہونی چاہیے”

زین کے دماغ میں ہوسپٹل والا ٹکراؤ یاد آگیا حور کا سر اس کے سینے سے ٹکرایا تھا۔ ایک دم وہ بھی گھبرا گیا تھا مگر حور پر نظر پڑتے ہی وہ ٹرانس میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔اتنے سالوں بعد وہ حور کو دیکھ رہا تھا جسے وہ آج تک نہیں بھولا تھا۔ مگر عجیب کشمکش میں تھا اس کا دل کہتا تھا۔”تھی تو وہ حور ہی مگر خضر کا اسکو ۔۔۔چلو حور چلتے ہیں”۔۔۔کہنا مزید کنفرم کر گیا۔۔۔وہ حور ہی تھی”اسکی پری”

کسی لڑکے کا یوں حور کا ہاتھ پکڑ کر لےجانا اسے ایک بے نام سی بے چینی میں مبتلا کر گیا تھا

اس وقت وہ ان دونوں کے پیچھے نہیں جا سکا تھا مگر آج اسے یہ موقع نہیں گوانا تھا کیوکہ زندگی بھی بار بار موقع نہیں دیتی یہ بات اس کو پتہ تھی !!!

زین یہ تو سمجھ گیا تھا کہ وہ اسی کالج میں گئی ہے مگر اب اس کو وہی اس کا انتظار کر کے گھر کا پتہ کرنا تھا آج حور کی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ کر ایک لمحے زین نے سوچا کہ وہ اسے بتا دے کہ میں شاہ زین ہو۔ تمہارا دوست شاہ مگر پھر خود ہی اپنی سوچ کو جھٹک دیا اور اپنے تعرف کو کسی اور وقت کے لئے چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔😪😒**،*،،،********آآج بلال گھر کا راشن لے کر گھر پہنچا ہی تھا کہ کوئی زور سے بڑی طرح اس سے ٹکرایا

“لڑکی کیا یہاں اتے ہوئے اپنی آنکھیں گھر پر ہی چھوڑ کر آتی ہوں”

بلال نے سرخ ہوتی ہوئی ناک پہ ہاتھ رکھ کے فضا کو دیکھ کر کہا

“ہاں گھر چھوڑ کر آئی ہوں مگر تمہاری آنکھیں کہاں چلی گئی کتنی زور سے میری ناک پر لگی ہے”

وہ ابھی بھی اپنی ناک پکڑے کھڑی تھی

“ہاں موم کی ناک تھی تمہاری جو ٹوٹ گئی”

بلال کہتا ہوا شاپرز لیے اندر آگیا

“ارے بلال بھائی آگئے آپ فریش ہو جائے میں کھانا لاتی ہوں”

ثانیہ جوکہ ٹیوشن کے بچوں کو پڑھا رہی تھیں اٹھتے ہوئے بولی

“کھانا ابو کے کمرے میں لے آنا”

یہ کہہ کر وہ فریش ہونے چلا گیا

فضا جو کہ تانیہ کے پاس چھت پر آئی تھی تانیہ اسے دیکھ کر بولی

“ارے یہ تمہاری ناک کو کیا ہوا اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہے ۔”

“ہونا کیا ہیں تم سے ملنے تمہارے گھر آ رہی تھی کہ تمھارا بھائی کےٹو کا پہاڑ بن کر سامنے آگیا اور اس سے ٹکرا گئی” فضا نے انکھیں گھما کر بولا

“ہاہاہا چلو کوئی بات نہیں چھوٹے موٹے ٹکراؤ تو محبت کے لئے اچھے ہوتے ہیں”

تانیہ نے معنی خیزی سے کہا تو فضا منہ نیچے کرکے مسکرانے لگی۔ تانیہ کو اچھی طرح اندازہ تھا فضا اس کے بھائی کو بچپن سے پسند کرتی ہے اس لئے وہ اپنی اس کزن کو اور بھی عزیز رکھتی تھی

“میری صحت کےلئے تو اچھے ہیں مگر تمہاری بھائی کی ماتھے پے تو ہر وقت بل ہی پڑے رہتے ہیں”

فضا نے خفگی سے کہا

“یار حالات انسان کو وقت سے پہلے بہت بڑا اور سنجیدہ کردیتے ہیں۔ تم سے تو کچھ چھپا ہوا نہیں ہے”

تانیہ نے بلال کے رویے کی وضاحت دی

****

“ارے بھائی کون ہے کیا دروازہ توڑنا ہے؟۔

کوئی بہت زور زور سے دروازہ بچا رہا تھا تانیہ دروازہ نے کھولا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر زبان پر بریک لگ گئی ۔۔۔۔!

“جی فرمائیں” تانیہ نے کہا

“سوری دراصل بلال کال رسیو نہیں کررہا تھا اس لیے ۔۔۔۔آپ بلال کو بتا دیا اشعر آیا ہے” اشعر نے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جو کہ شاید بلال کی بہن تھی تو وضاحت دینے لگا

اتنی دیر میں بلال آگیا

“ارے یار یہاں کیوں کھڑے ہوں اندر آؤ “۔۔۔بلال نے کہا

“نہیں چلو زین کی طرف چلتے ہیں”۔۔۔۔اشعر بولا

“چلو ٹھیک ہے”

بلال نے دروازہ بند کیا اشعر نے بند دروازے کو دیکھا اور دونوں زین کے گھر کی طرف نکل گئے ۔۔۔۔

وہ گھبرائی ہوئی کالج میں آئی اسکی ٹانگیں ابھی بھی کانپ رہی تھیں دل بہت زوروں سے دھڑک رہا تھا

“آخر کون تھا وہ کیا چاہتا ہے مجھ سے۔ یہ بات مجھے کسی کو بتانی چاہیے ۔۔۔۔۔۔نہیں کہیں میرا کالج جانا بند نہ ہو جائے”

حور سارا دن کالج میں غائب دماغ رہیں۔ راستے میں بھی نوٹ کیا کوئی اس کی وین کا پیچھا کررہا ہے”

۔******”*****”*

“کیا میں اندر آ جاؤ “۔۔۔ظفر صاحب اور فاطمہ بیگم اپنے بیڈ روم میں تھے جب خضر نے دروازے پر ناک کیا

“ہاں بیٹا آجاؤ کیا کوئی کام تھا”؟فاطمہ بیگم بولی

“جی آپ دونوں سے ضروری بات کرنی تھی”

وہ ہچکچاتے ہوئے بولا

“ارے بیٹا بولو کیا بات ہے ؟۔۔۔ظفر فائل بند کرتے ہوئے بولے ۔

“مجھے سمجھ نہیں آرہا کیسے کہوں؟۔۔۔خضر عجیب کشمکش میں پڑگیا

“ارے بھئی ابولو بھی ایسی کیا بات ہے”؟

آپکے ظفر صاحب نے زور دے کر بولا

“میں حور سے شادی کرنا چاہتا ہوں”۔۔۔اس نے ہمت کرکے ایک ہی سانس میں بول دیا

جہاں اس نے لمبی سانس خارج کی وہاں دونوں ماں باپ کی سانس رک گئی اور دونوں ہی خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگے

“تم ہوش میں تو ہو کیا کہہ رہے ہو تم نے یہ بات سوچی بھی کیسے؟۔

سب سے پہلے فاطمہ کو ہوش آیا

“ایسی کونسی بڑی بات کہہ دی میں نے؟ اپنی جائز خواہش کا اظہار کیا ہے”

خضر نے جواب دیا

ظفر صاحب خاموش تھے انہیں فاطمہ بیگم جیسا شاک تو نہیں لگا تھا مگر حیران ضرور تھے

“خضر ایسا سوچنا بھی مت میں نے ہمیشہ تمہاری نسبت سے نائمہ کو سوچا ہے آئندہ یہ بات منہ سے مت نکالنا”۔۔۔۔فاطمہ بیگم تیز لہجے میں تنبی کی انہیں اپنی اولاد پر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا

“معاف کیجئے گا امی مگر آپ بھی میرے لیے نائمہ یا کسی اور کا نہ سوچئے گا۔ میں شادی حور سے ہی کروں گا”

خضر نے بھی ہمت نہیں ہاری

“آپ دونوں ہی بولتے رہیں گے یا میں بھی کچھ بولو؟؟

ظفر صاحب نے مداخلت کرنا ضروری سمجھیں

وہ دونوں ماں بیٹے خاموش ہوگئے

“ٹھیک ہے پھر تم اب اپنے روم میں جاؤ بیٹا بعد میں بات کرتے ہیں اس ٹوپک پر!

یہ کہہ کر ظفر صاحب نے بات ختم کر دی۔

خضر گڈنائٹ کہ کر چلا گیا مگر وہ نائٹ فاطمہ بیگم کے لئے کوڈ کیسے ہوسکتی تھی۔ انہیں ر ہ رہ کر اپنے بیٹے پر اور ان ماں بیٹی پر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔!

**********

وہ تینوں کیفیٹیریا میں بیٹھے واردات کی پلاننگ کررہے تھے۔ جب اشعر نے ظفر کے بارے میں معلومات زین کو دیں اور زین ایک دم گھر کا ایڈریس پر چونکا”

اس کے لئے یہ کسی شاک سے کم نہیں تھا کیونکہ جس گھر کا پتہ اشعر نے بتایا تھا وہ تو حور کے گھر کا ایڈرس ہے

“آخر کیا کنکشن ہوسکتا ہے حور اور ظفر مراد میں”

وہ سگریٹ کے کش لیتے ہوئے سوچ میں پڑھ گیا

۔******

صبح حور کالج جانے کے لئے تیار تھی خضر آفس کے لیے نکلنے لگا

“آجاؤ حور کار میں کالج میں دروپ کر دیتا ہوں”

خضر کار کا لوک کھولتے ہوئے بولا

“نہیں نہیں پلیز میں چلی جاؤں گی”

حور ایسے اچھلی جیسے اسے کرنٹ لگ گیا ہوں۔۔۔۔

“کیا ہوگیا ہو تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے تمہیں کرنٹ لگا ہوں؟؟”۔خضر نے حیرت سے حور کو دیکھتے ہوئے کہا

کرنٹ تو واقعی اسے لگا تھا وہ اجنبی شخص اسے یاد آگیا تھا جو اسے بری طرح ڈرآ چکا تھا اس نے دوبارہ سوچتے ہوئے جھرجھری لی

“میرا مطلب تھا کالج کی وین آنے والی ہے میں چلی جاؤں گی خفر بھائی پلیز آپ لیٹ ہورہے ہونگے”

حور نے ٹالنا چاہا

“میں کہہ رہا ہو بیٹھو کار میں سنائی نہیں دے رہا؟خضر نے روعب سے کہا حور کو ناچار بیٹھنا پڑا

ْْ

“کب تک اسٹارٹ ہو رہے ہیں پیپر اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا؟

“دو ہفتے بعد پہلا پیپر ہے” حور نے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا

“آگے کیا سوچا ہے؟”خضر نے پوچھا

“تایا جان اور چچا جان نے اجازت دے تو اگے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لونگی” حور نے جواب دیا

“اور اپنی زندگی کے بارے میں کیا سوچا ہے”

خضر پتا نہیں کیا جاننا چاہ رہا تھا؟

“زندگی کے بارے میں کیا سوچتا کیا مطلب میں سمجھی نہیں آپکی بات” ناسمجھی سے حور نے خضر کی طرف دیکھا

“خضر نے بھی ایک لمحے کے لیے حور کی طرف دیکھا پھر بولا

“کچھ نہیں ۔۔کالج آگیا ہے”

حور کالج کے سامنے گاڑی سے اتری تو خضر گاڑی آگے لے گیا۔ ابھی چند قدم آگے بڑھی تھی کہ کسی نے بری طرح اس کا ہاتھ پکڑا اور تیز قدم اٹھاتے ہوئے وہاں موجود بڑے سے درخت کی آڑ میں لے گیا

“منع کیا تھا نہ میں نے تمہیں کے اس شخص کے ساتھ نظر نہ آؤں سمجھ نہیں آتی تمہیں؟؟زین دبی ہوئی آواز میں غرا کے بولا

اس نے ابھی بھی حور کو بازو سے پکڑا ہوا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے حور کا منہ اس طرح پکڑا کے اس کے جبڑے دکھ گئے۔ دونوں ہاتھوں میں اتنی سختی تھی کہ حور کی آنکھوں سے پانی نکل آیا

“مجھے درد ہو رہا ہے”

وہ آنسو بہاتے ہوئے خوف سے بولی تو زین کے ہاتھوں کی گرفت میں نرمی آئی اس نے حور کے منہ پر سے ہاتھ ہٹا لیا۔ تھوڑی دیر چہرہ دیکھنے کے بعد زین کی نظر اسکے ہونٹوں کے نیچے تل پر پڑی۔ جو آج بھی پہلے دن کی طرح اس کے حسن اور معصومیت کو بڑھا رہا تھا زین کے دل میں خواہش ابھری کہ وہ ہاتھ لگا کے اس کے تل کو چھو لے دل میں ابھری خواہش وہ دبا گیا

“ظفر مراد سے تمہارا کیا تعلق ہے” سنجیدہ لہجے میں وہ حور سے پوچھنے لگا

“وہ میرے تایا ہیں” حور نے ڈرتے ہوئے بولا

زین کے مسلسل گھورنے پر کبھی اس کو دیکھتی تو کبھی آتے جاتے لوگوں کو

اس کی بات سن کے استہزاہ ہنسا

“اب میری باری ہے سود سمیت سب واپس لونگا لینے کی”

گہری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا اور حور کے سر پر سے سب گزر رہا تھا۔ وہ مسلسل اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی زین نے اس کا بازو چھوڑ کر جانے کا اشارے کیا۔ حور وہاں سے تقریبا بھاگنے کے انداز میں کالج پہنچی حور کی حالت غیر ہورہی تھی!اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کےاچانک یہ کون بندہ اس کے پیچھے پڑ گیا ہے اور اس کے تایا کا کیوں پوچھ رہا ہے