Itni Mohabbat Karo Naw (Part 1) by Zeenia Sharjeel NovelR50412 Itni Mohabbat Karo Naw Episode 23
Rate this Novel
Itni Mohabbat Karo Naw Episode 23
Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel
“ان پیپرز پر حور سے کیسے سائن کروانا ہے یہ تمہارا کام ہے جب وہ زین سےخلع لے گی،، اس کے بعد ہی ہم زین پر کیس کریں گے کہ زبردستی گن پوائنٹ پر نکاح کرنا گن پوائنٹ پر رقم چھیننا اور حور کی گواہی سے ہی ہم اپنی رقم نکلوا سکتے ہیں اس کو سلاخوں کے پیچھے کر سکتے ہیں”
ظفر مراد نے سوچا ہوا پلان خضر کو بتایا دروازے پر دستک کی آواز پر ان دونوں کی نظریں اسماء پر پڑی جو ہاتھ میں چائے کے کپ لیے ہوئے اندر آ رہی تھی
“خضر بیٹا آپ کے پاس کوئی پین کلر ہے”
انہوں نے نرم لہجے میں چائے کے کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے خضر سے پوچھا
“خیریت چچی کیا ہوا”
خضر نے آسماء سے پوچھا
“میڈیسن باکس میں میرے پاس پین کلر موجود نہیں ہے شام سے ہی سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا اب کافی بڑھ گیا ہے”
انہوں نے چائے کے کپ دونوں کو تھاماتے ہوئے کہا
“آپ روم میں چلیے میں آپ کو دے دیتا ہوں”
خضر نے ان کو نارمل انداز سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر یہ اندازہ لگایا کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں سنا خضر نے شکر ادا کیا
****
اسماء کا موبائل جو کافی دیر سے حور کو نیند میں ڈسٹرب کر رہا تھا آخرکار بیزار آ کر بند آنکھوں سے ہی حور نے کال ریسیو کر لی اور بیزاری سے گویا ہوئی ہے
“ہیلو کون بول رہا ہے”
نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں حور نے پوچھا
“میں یہاں تمہاری یاد میں تارے گن رہا ہوں اور تم مزے سے نیندیں پوری کر رہی ہوں۔۔۔۔چلو ویسے یہ بھی اچھا ہے اپنی نیندیں میکے میں ہی پوری کر کے آنا میرے پاس”
زین کی آواز موبائل سے ابھری تو حور کی آنکھیں پوری کھل گئی
“کس نے کہا تمہیں اس وقت تارے گننے کو ہمیشہ مجھے نیند میں ڈسٹرب کرنا بس”
حور نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا
“یہ تو الزام ہے سویٹ ہارٹ صرف آج دوپہر اور ابھی نیند میں ڈسٹرب کیا اس سے پہلے تو ہمیشہ اپنے دل کو مار کر تمہاری نیند کا احترام کیا ہے”
زین کی بےتکی باتوں سے اس سے بالکل نیند نہیں آنی تھی
“تم نے فون کس لئے کیا ہے شاہ”
حور نے زین سے پوچھا
“تمہیں پتا ہے دو دن سے سعیدہ کام کرنے کے لئے نہیں آرہی، گھر کتنا گندا پڑا ہے”
زین نے حور کی معلومات میں اضافہ کیا
“او تو اب وجہ سمجھ آئی تم بار بار بھی کیوں چاہ رہے ہو میں گھر واپس آجاؤ۔۔۔ تمہیں گھر کی فکر ہے گھر کی صفائی کی۔۔۔۔ تم نے مجھے گھر کی چھپکلی سمجھ رکھا ہے”
حور نے تپتے ہوئے کہا
“سویٹ ہارٹ خود کو چھپکلی تو نا کہو۔۔۔۔ تم تو میرے گھر کی اور اس دل کی ملکہ ہوں،، صرف تمہاری حکمرانی ہے اس دل پر اور صرف مجھے گھر کی ہی نہیں اپنی بھی فکر ہے تمہیں پتہ ہے نا میرا گزارہ بہت مشکل ہے تمہارے بناء۔۔۔۔یو نو اکیلے اتنے بڑے بیڈ پر سونا کتنا برا لگ رہا ہے”
زین نے ٹیرس کا دروازہ بند کرکے روم میں آتے ہوئے کہا
“تم فضول حرکتوں کے ساتھ ساتھ فضول باتوں میں بھی ماسٹر ہو۔۔۔۔ اور یہ آج دوپہر میں تم نے خضر بھائی کے سامنے کیا بیہودہ حرکت کی تھی،،، تمہیں ذرا شرم نہیں آئی”
حور نے اس کو غلطی کا احساس دلانا چاہا
“او کم ان یار تمہارے خضر بھائی کون سے دودھ پیتے بچے ہیں،،، اسے پتہ نہیں ہے کیا، میاں بیوی کا ریلیشن،، زیادہ نہیں سوچو تم بھی”
زین نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا
“بے شک وہ دودھ پیتے بچے نہیں ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہر کسی کے سامنے شروع ہو جاؤ۔۔۔ کیا سوچ رہے ہوگے وہ کتنا برا لگا ہوگا انھیں”
حور نے زین کو شرمندہ کرنا چاہا
“اکیلے میں تم نے کہاں موقع دیا کمرے سے باہر ہی نکل گئی اور کچھ برا نہیں لگا ہوگا اسے ورنہ وہ آنکھیں بند کرلیتا اپنی۔ ۔۔۔ ویسے تمہیں تو برا نہیں لگا نا”
زین اب شرارت سے حور سے پوچھ رہا تھا
“تم سدھرنے والی یا بات ماننے والی شے نہیں ہوں۔۔۔ کبھی تو سیریز لیا کرو مجھے”
حور نے جھنجھلاتے ہوئے کہا
“ایک تمہیں ہی تو سیریس لیا ہوا ہے سویٹ ہارٹ اب تم بھی میرے لئے بالکل سیریس ہوجاؤ اور بند کرو یہ خضر نامہ۔ ۔۔۔ پری سے کہو کہ وہ شاہ کے پاس آجائے اس کا شاہ اپنی پری کو بہت مس کر رہا ہے”
زین نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ایک جذب سے کہا جیسے وہ واقعی اس کو مس کر رہا ہو
“اور پھر شاہ نے اگر دوبارہ پری کو ڈرایا یا غصہ کیا تو”
حور نے زین سے کہا
“اب بالکل بھی غصہ نہیں ہوگا پرامس”
زین نے ہار مانتے ہوئے کہا
“اور جو شاہ کے غصے میں پری کا نقصان ہوا ہے اس کا کیا”
حور کو نئے سرے سے دکھ نے آگھیرا
“اس دن صرف تمہارا نقصان نہیں ہوا حور میں نے بھی اپنا بچہ کھویا تھا اس دن صرف تم نے تکلیف برداشت نہیں کی ہے میں بھی بہت تڑپا ہوں مگر پلیز حور یوں دور رہ کر سزا نہیں دو واپس گھر آجاؤ”
زین نے بیڈ سے اٹھ کر بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
“نہیں مجھے واپس فی الحال نہیں آنا تمہیں یاد ہے نا میں نے لاسٹ ٹائم تمہیں کہا تھا کہ آئندہ اگر تم نے غصہ کیا تو میں بہت برا ناراض ہو گئی تم سے، نہ صرف غصہ بلکہ تمہارے غصے کی وجہ سے ہم اپنے آنے والی خوشی سے بھی محروم ہو گئے۔۔۔۔ تمہاری طرح میرا بھی اتنا بڑا ظرف نہیں ہے میں تمہیں فوری طور پر سب بھول سکو”
حور اس کے ساتھ جانا تو چاہتی تھی لیکن اس کا احساس دلانا بھی ضروری تھا کہ اس کے غصے کی وجہ سے ان دونوں نے کیا کچھ کھویا ہے اس نے سوچا کہ وہ زین سے دور رہے گی تبھی زین کو اس کی غلطی کا احساس ہوگا اور اس کے غصے میں بھی کمی آئے گی یہی سوچتے ہوئے زین کو انکار کیا
“بس حور بہت ہوگیا ہے اب،، کہہ تو دیا ہے نا یار شرمندہ ہوں۔۔۔۔ اب کیا چاہتی ہوں میں کل تمہیں لینے آ رہا ہوں”
زین نے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا
“میں تمھارے ساتھ نہیں جاو گی شاہ”
حور بھی اپنی ضد پر اڑی رہی
“تمھاری نہ پہلے کبھی چلی ہے نہ اب چلے گی اور یہ تم خود بھی اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔ کان کھول کر سن لو تم کل میرے ساتھ واپس آ رہی ہو جو بھی نخرے دکھانے ہیں یہاں آکر دکھاؤ تاکہ تمہارا اچھی طرح علاج کروں میں،، کل کوئی تماشا لگائے بغیر ریڈی رہنا”
زین نے غصے میں کہتے ہوئے فون رکھا
“نہیں یہ میری سوچ ہے، یہ انسان نہیں سدھر سکتا۔۔۔۔ اب پتہ نہیں کل کتنا بڑا تماشہ ہوگا”
حور نے سوچتے ہوئے دوبارہ آنکھیں بند کرلی
“زبردستی ہی صحیح،، گھر تو وہ اسے آج بھی لے کر آ سکتا تھا۔۔۔۔۔ وہ بےشک اس سے ناراض سہی زین کے زبردستی کرنے پر واپس آ بھی جانتی۔۔۔۔مگر زین چاہتا تھا وہ اپنی خوشی اور پوری دلی آمادگی کے ساتھ واپس آئے۔۔۔یہی سوچ کر وہ بیڈ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا
*****
“کیا ہوا تم نے کھانا نہیں کھانا”
فضا کھانا رکھ کر جانے لگی تو بلال نے پوچھا
“نہیں میں نے اور تانیہ نے کھانا کھا لیا ہے”
فضا بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
“مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے بلال”
کھانے سے فارغ ہو کر بلال روم میں آیا تو فضا نے بلال سے کہا
“زہے نصیب تو آپ کو خیال آہی گیا کہ شوہر کو بھی منہ لگا لیا جائے”
پورے دن کے بعد ابھی اس کا موڈ اچھا ہوا تھا اس لئے بلال نے چہک کر کہا
“پہلی بات تو یہ بلال کہ تم اپنے دماغ میں یہ بیٹھا لو کہ تم کوئی منہ لگانے والی چیز نہیں ہو اور دوسری بات یہ کہ مجھے تم سے ہمارے متعلق کوئی بات نہیں کرنی ہے بلکہ تانیہ اور اشعر بھائی کے متعلق بات کرنی ہے”
فضا نے بلال کو تپاتے ہوئے سیریس انداز میں بات کی
“منہ تم مجھے تین بار قبول کرکے ساری زندگی کے لئے لگا چکی ہوں پہلی بات تو یہ ہے اور رہی دوسری بات ،، تو میں تم سے یہ کسی دوسرے سے اس متعلق کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا نہیں سننا چاہتا ہوں”
تھوڑی دیر پہلے اچھا ہونے والا موڈ اب بلال کا خراب ہوچکا تھا
“کیوں؟؟؟ آخر کیوں نہیں بات کرنا چاہتے تم اس موضوع پر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ”
فضا نے اس کے خراب موڈ کی پروا کیے بغیر اپنی بات جاری رکھی
“تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے فضا؟؟ تم دوسروں کے معاملوں میں الجھنے کی بجائے اپنے مسئلے حل کرو،، پھر بعد میں کسی اور کا مقدمہ لڑو”
بلال نے فضا کو جتاتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر جواب دیا
“پہلی بات تو یہ اپنے دماغ میں بٹھا لو بلال مسعود کہ مسئلہ کا شکار میں نہیں ہمیشہ سے تم رہے ہو دوسری بات یہ کہ تانیہ میرے لئے کوئی غیر نہیں ہے وہ میری نند بعد میں، میری بہن پہلے ہے اور میں اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دونگی سنا تم نے۔۔۔۔ تمہارے اندر خود فیلنگز نہیں ہیں احساس سے عاری انسان ہو تم تو دوسروں کو اپنی طرح سمجھنا چھوڑ دو”
فضا کی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی لیکن وہ سانس لینے کے لئے رکی
“پہلی بات تو یہ مسزز بلال تانیہ میری بہن ہے اور مجھے بہت عزیز ہے اس کے لیے جو بھی میں سوچوں گا یا فیصلہ کروں گا وہ اس کے بھلے کے لئے ہی ہوگا،، تو تمہیں اپنی اس ننھی سی جان کو ہلکان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ بےشک میں ماضی میں مسلوں کا شکار رہا ہوں مگر ابھی اس وقت میرا سب سے بڑا مسئلہ تمہارا گریز ہے جو تم نے بلاوجہ میں برتا ہوا ہے”
بلال نے فضا کو باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا
“اور تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ میں احساسات سے عاری انسان بالکل نہیں ہوں مگر اپنی فیلنگز کو شادی سے پہلے شو کر کے محبت جھاڑنے کا فن مجھے نہیں آتا۔۔۔۔ میری نظر میں ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے جو کہ اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے”
وہ کہتے ہوئے فضا کی گردن کی طرف جھکا فضا کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی
“اب کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ”
بلال نے ناگواری سے پوچھا
“کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں میرے قریب آنے کی یا مجھے چھونے کی۔۔۔ ابھی تم پر بہت حساب نکلتے ہیں”
فضا بلال سے بولتے ہوئے روم سے باہر چلی گئی
*****
“اشعر اپنے روم میں بیٹھا ہوا یہی سوچ رہا تھا کہ بلال سے کیسے بات کی جائے، جو غلط فہمی اس کے دل میں پیدا ہو گئی ہے اسے کیسے دور کیا جائے،، وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ موبائل کی بیل بجی وہ چونکا کال تانیہ کے نمبر سے آ رہی تھی
“ہیلو تانیہ کیسی ہیں آپ”
اشعر کال ریسیو کرتے ہوئے بولا
“جو صورتحال کل سے چل رہی ہے تو کیسا ہونا چاہیے تھا مجھے”
تانیہ نے الٹا اس سے سوال کیا
“میں سمجھ سکتا ہو تانیہ جو بھی ہوا ہوا غلط ہوا اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ کل بلال اس طرح دیکھ کر بدگمان ہو جائے گا میں کبھی بھی آپ کو وہاں لے کر نہیں جاتا۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو کال بھی اس وجہ سے نہیں کی کہ میرے کال کرنے سے آپ کو مزید کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے ۔۔۔۔۔ لیکن آپ پلیز ٹینشن نہیں لیں سب ٹھیک ہو جائے گا،، میں بلال کو ہینڈل کر لوں گا اور منا لوں گا اسے،، مجھے یقین ہے وہ مان جائے گا”
اشعر نے تانیہ کو حوصلہ دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ سب ٹھیک کر لے گا
“بھائی نہیں مانیں گے اشعر میں جانتی ہوں وہ بہت ہرٹ ہوئے ہیں میری وجہ سے،،، میں انہیں مزید ہرٹ نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ پلیز میں نے کال اسی وجہ سے کی ہے اس قصے کو یہیں ختم سمجھے یہ رکویسٹ ہے میری،،،،، آپ پلیز بھائی سے کچھ نہیں کہے گے “
یہ کہہ کر تانیہ کال ڈسکانکٹ کر چکی تھی اور اشعر موبائل ہاتھ میں لے کر بیٹھا رہ گیا
زین آفس پہنچا تو اشعر پہلے ہی موجود تھا کل کی بانسبت وہ کافی سیریس لگ رہا تھا
“کیا ہو گیا ہے منہ کیوں لٹکا ہوا ہے تمہارا صبح صبح” زین نے اشعر کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر پوچھا
“کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی”
اشعر نے زبردستی کا مسکرا کر جواب دیا
“اشعر جب سے ہم تینوں میں دوستی ہوئی ہے وہ دوستی اتنی گہری ہے کہ ہم تینوں اپنی پرسنل پرابلمز بآسانی بغیر ہچکچائے ایک دوسرے سے شیئر کر لیتے ہیں کیا مجھے دوبارہ اپنا سوال دہرانے کی ضرورت پڑے گی”
زین نے دوبارہ اس سے سیریز ہونے کی وجہ دریافت کرنی چاہیے
“کل تانیہ کا فون آیا تھا اس نے منع کردیا ہے کہ ممی کو اس کے گھر نہیں بھیجوں۔ ۔۔۔۔ اس کی آواز اور باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کافی ڈسٹرب ہے،، ای تھنک بلال اس سے سخت خفا ہے وہ مزید سے خفا نہیں کر سکتی اس لیے سب کچھ ختم کرنے کا کہہ رہی ہے”
اشعر نے مایوس لہجے میں کہا
“بلال کا دماغ تو میں ٹھیک کردوں گا تم فی الحال ان دونوں بہن بھائیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور تانیہ میڈم وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی ہیں کہ ان کے بھائی زندہ ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرے۔۔۔ ۔ اگر تم نے آنٹی سے بات کر لی ہے تو ایک دو دن کے لیے کوئی بہانہ بنا کے روک دو”
زین نے کچھ سوچتے ہوئے اشعر سے کہا
تھوڑی دیر بعد بلال بھی افس آگیا سلام دعا کے بعد پھر ان تینوں کی کوئی خاص بات نہیں ہوئی
****
“کیا میں اندر آ جاؤ حور”
خضر نے بیڈ روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت لیتے ہوئے کہا
“خضر بھائی آپ آئیے پلیز”
وہ جو کہ اپنے کپڑے ورڈروب سے نکال رہی تھی جھجکتے ہوئے بولی اسے کل والا منظر بھلائے نہیں بھول رہا تھا اس لیے نظر مسلسل جھکی ہوئی تھی
“کیسی طبیعت ہے تمہاری”
خضر جھکی نظروں کی وجہ تو جانتا تھا مگر کب تک اس سے بات نہیں کرتا اس لئے کچھ سوچ تو اس کے روم میں اس کے پاس آیا
“جی اب کافی بہتر ہے پہلے سے”
وہ ایک ڈریس نکال کر آئرن اسٹینڈ کے پاس جاتے ہوئے کہنے لگی
“مگر مجھے تو کوئی خاص طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔۔۔۔ گھر میں بند رہو گی تو مزید طبیعت خراب ہو گی چلو کہی باہر چلتے ہیں تمہاری طبیعت تو اچھا اثر پڑے گا”
خضر نے اچانک باہر جانے کا پروگرام بنایا
“باہر؟؟ نہیں باہر جانے کو تو بالکل بھی موڈ نہیں ہو رہا ہے میرا”
اس نے بےساختہ انکار کرتے ہوئے کہا وہ پہلے بھی کبھی اس کے ساتھ اکیلے اس طرح نہیں گئی تھی، اب تو شادی شدہ تھی تو کیسے جا سکتی تھی
“کیوں کیا وجہ ہے جو تمہارا باہر جانے کا موڈ نہیں ہو رہا؟؟ میں تمہارے خیال سے آیا ہوں حور،، کہ تمہیں باہر لے کر جاؤں گا اور تمہاری طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا موڈ بھی فریش ہو جائے گا۔۔۔ مگر اب تم نے احساس کرنا ہی چھوڑ دیا ہے دوسروں کا ایک انسان کے پیچھے خوار ہوتے ہوئے” خضر نے برا مانتے ہوئے کہا
“ایسی بات نہیں ہے خضر بھائی، احساس کی کیوں بات کر رہے ہیں سبھی لوگوں کا احساس ہے مجھے”
حور کو سمجھ میں نہیں آیا انہیں کیسے منع کریں
“اگر اتنا ہی احساس ہے تو دس منٹ میں گاڑی میں آو میں ویٹ کر رہا ہوں” خضر کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا اور وہ بے دلی سے کپڑے پریس کرنے لگی
****
“ارے واہ بھئی آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں ہمارے گھر میں”
فضا نے باہر کا دروازہ کھولا تو سامنے زین کو کھڑے دیکھتے ہوئے خوش دلی سے کہا
“اتنے بڑے لوگ بھی نہیں ہیں کہ بہنوں سے نہ ملنے آسکے،، کیا حال ہیں”
زین نے قدم بڑھاتے ہوئے فضا سے حال پوچھا
“ایک دم فٹ آپ سنائے بیگم کیسی ہیں آپ کی”
فضا نے ڈرائنگ روم میں اندر آتے ہوئے زین سے پوچھا
“وہ بھی ٹھیک ہے میکے میں ہے۔۔۔ آجکل میں آجائے گی”
زین نے صوفے پر بیٹھے ہوئے جواب دیا
“میں اور تانیہ سوچ رہے تھے حور بھابھی سے ملنے کے لئے،، چلیں یہ بھی اچھا ہے اگر وہ گھر آ جائیں گی تو ہم دونوں وہی آکر مل لیں گے”
فضا نے اپنا پلان بتایا
“کیوں نہیں بالکل ضرور آنا اور میاں جی کہاں ہیں تمہارے آفس سے تو نکل گئے تھے”
زین نے بلال کا پوچھا
اوپر روم میں ہیں۔۔۔ میں بلا کر آتی ہوں”
فضا اٹھنے لگی
“نہیں رہنے دو اسے آج میں اس سے ملنے نہیں آیا تانیہ کہاں ہے”
زین نے فضا کو اٹھتے دیکھ کر تانیہ کا پوچھا
“وہ اپنے نوٹس بنا رہی تھی چلیں میں اس کو بلاتی ہوں اور چائے لے کر آتی ہوں”
فضا دوبارہ اٹھنے لگیں
“چائے رہنے دو فضا۔۔۔ تانیہ سے کہو مجھے اس سے بہت ضروری بات کرنی ہے مگر گھر پر نہیں، اس سے کہو میں ویٹ کر رہا ہوں اور بلال کو بھی بتا دینا کہ میں تانیہ کو لے کر باہر جا رہا ہوں”
زین نے فضا سے کہا
“ٹھیک ہے میں تانیہ کو بولتی ہوں اور آج رات کا کھانا اپ یہی کھائیں گے،،، بھابھی کا بہانہ بنا کر انکار کرنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے”
فضا بولتے ہوئے روم سے نکل گئی
*****
“ردا بھی ہمارے ساتھ آ جاتی تو کتنا اچھا ہوتا”
حور کو یوں خضر کے ساتھ اکیلے جانا مناسب نہیں لگا اس لیے بولی
“میں نے اسے آفر کی تھی مگر وہ اسے فرینڈ کی طرف جانا تھا”
خضر نے گاڑی سگنل پر روکتے ہوئے کہا
مگر حور جو کسی گاڑی کو دیکھ رہی تھی اس کے تعقب میں دیکھتے ہوئے خضر چونکا،،، وہ گاڑی زین کی تھی جس میں زین کے ساتھ وہی لڑکی تھی جو اس دن ہسپتال میں حور کے پاس بھی بیٹھی ہوئی تھی
“کیا دیکھ رہی ہوں” خضر نے حور سے پوچھا
“وہ تانیہ ہے شاید اسکارف میں شاہ کے ساتھ”
حور نے تانیہ کو پہچانتے ہوئے اپنی ہی خیال میں گم ہو کر کہا
“نام تو مجھے نہیں معلوم ہے ہاں مگر میں نے اس لٹرکی کو اور زین کو ایک ساتھ کئی دفعہ دیکھا ہے۔۔۔۔ یہ وہی ہے جو دن اسپتال میں بھی وہاں موجود تھی”
حور نے بے یقینی سے خضر کو دیکھا اور دیکھتی رہے گی
“کئی دفعہ ایک ساتھ”
حور کا دماغ اس بات پر اٹک گیا
“کہاں کھو گئی ہو” خضر نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا
“کہیں نہیں ہاں یہ وہی ہے اسپتال والی شاہ کے فرینڈ بلال بھائی کی بہن”
حور کی نظر زین کی گاڑی پر پڑی جو کہ اب مخالف سمت پر نکل گئی تھی
****
“ہم لوگ یہاں کیوں آئے ہیں زین بھائی”
تانیہ نے ہوٹل میں اندر آتے ہوئے پوچھا
“کیوں میرے ساتھ آنے میں مسئلہ ہے تمہیں کوئی”
زین نے آبرو اچکا کر اس سے پوچھا
“نہیں وہ بات نہیں ہے، میں اس لئے نہیں کہہ رہی،، آپ تو میرے لئے بالکل بلال بھائی جیسے ہیں”
تانیہ نے جلدی سے کہا کہیں زین کو برا نہ لگ جائے
“میں بلال کی جیسا نہیں بلال کی طرح ہوں تمہارا ثانیہ رانیہ آپی کا بھائی چلو بیٹھو”
زین نے چیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کو کہا
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد زین نے تانیہ سے پوچھا
اشعر کو کیوں منع کیا تم نے فون کرکے”
زین کے پوچھنے پر تانیہ ایک دم گڑبڑا گئی اور نظریں جھکا گئی
“میرا تمہیں یہاں لانے کا یہی مقصد تھا تاکہ ہم اس موضوع پر آسانی سے بات کرلیں۔۔۔۔ دیکھو تم میری چھوٹی بہن ہو، میں کبھی تمہارا برا نہیں چاہوں گا اور نہ تمہارے ساتھ برا ہونے دوں گا،، اشعر ہر لحاظ سے اچھا اور سلجھا ہوا لڑکا ہے، تم یہ بالکل بھی نہیں سمجھنا کہ میں اس کی دوستی ہی خاطر تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں تا کہ اس کی تعریفے کرکے اسکے نمبر بڑھاو۔ ۔۔۔ بلال اور اشعر ان دونوں سے پہلے میرے لیے تم اہمیت رکھتی ہوں، اگر اشعر میں مجھے کوئی برائی نظر آتی تو میں اس کے قدم بہت پہلے ہی روک دیتا جب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے ۔۔۔۔وہ ہر لحاظ سے تمہارے لئے پرفیکٹ ہے جو بے وقوفی تم نے فون پر منع کرکے کی ہے پلیز آگے سے میری ریکویسٹ ہے کہ تم کوئی بھی الٹا کام نہیں کروں گی، نہ انکار کروں گی”
زین نے تانیہ کو نرم لہجے میں سمجھاتے ہوئے کہا
“آپ کو نہیں پتہ بلال بھائی مجھ سے بہت ناراض ہیں وہ میری شکل تک دیکھنا نہیں چاہتے ہیں،، میں اپنے ساتھ ان کا یہ رویہ برداشت نہیں کرسکتی تکلیف ہو رہی ہے مجھے”
تانیہ نے روتے ہوئے کہا
“اس گدھے کو میں سمجھا لوں گا اسکی فکر تم نہیں کرو وہ خوشی خوشی مان جائے گا تم رونا بند کرو پلیز”
زین نے ٹشو تانیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس سے تھام کر وہ آنسو صاف کرنے لگی
دور سے دو آنکھیں بے یقینی سے منظر دیکھ رہی تھی
“ویسے تمہارا شاہ بھی بہت اچھا کھلاڑی ہے رولانے کے بعد انسو صاف کرنے کا فن اچھی طرح جانتا ہے”
خضر کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ حال کی دنیا میں واپس لوٹی
“چلیں خضر بھائی گھر چلیں”
حور نے بے دلی سے خضر سے کہا۔۔۔ اس کے کہنے پر ہی خضر نے گاڑی زین کی گاڑی کی طرف موڑی تھی
“ایسے نہیں ہم باہر پہلے ڈنر کریں گے تم اپنا موڈ ٹھیک کرلو اور چلو آؤ گاڑی میں آکے بیٹھو”
“نہیں مجھے کوئی خاص بھوک نہیں لگ رہی اپ گھر چلیں”
حور کو وہاں مزید روکنے کا دل نہیں چاہا
“گھر چلیں گے لیکن ڈنر کرنے کے بعد” خضر نے گاڑی سٹارٹ کردی
“کہہ تو رہی ہو نہیں کرنا مجھے ڈنر سمجھ میں کیوں نہیں آرہا ہے آپ کو” حور کے لہجے میں بیزاری دیکھ کر اس نے گاڑی گھر کی طرف موڑ لی
ویسے بھی آج اس نے ہاتھ میں آئے ہوئے موقعے کو گنوانے کی بجائے اس موقع کا فائدہ اٹھانا ضروری سمجھا
