365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 14

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

“تم یہاں۔۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر آنے کی” ظفر مراد زین کو دیکھ کر غصے میں پھنکارے

“مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارے اس عالی شان محل میں آنے کا، میں صرف حور کو اس کی ماما سے ملوانے کے لئے لایا تھا اور رہی بات ہمت کی۔۔۔ تو تمہیں اور تمہاری فیملی کو میری ہمت اور جرت کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہوگا”

زین نے آخری لفظ خضر کو دیکھ کر کہے

“میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں کیس کروں گا تم پر جلد ہی تمہیں حوالات کی ہوا نہ کھلائی تو نام بدل دینا میرا”

ظفر مراد زین کو روبرو دیکھ کر طیش میں آ چکے تھے

“ہاہاہا کیس کرنا ہے؟ چلو یہ بھی کر کے دیکھ لو تمہاری کوئی حسرت نہ ادھوری رہ جائے۔۔۔ اگر میرے خلاف کوئی بھی ایویڈنس یا ثبوت ہے تو شوق سے کیس کرو اور پھر جو میں کرو گا وہ دنیا دیکھے گی۔ ۔۔ دیکھ لیتے ہیں کہ حوالات کی ہوا کون کھاتا ہے”

زین نے ظفر مراد کو اسی کے انداز میں جواب دیا

ظفر مراد کے ایک دو کارنامے جس کا زین نے سن رکھا تھا (کوئی ثبوت اس کے ہاتھ میں نہیں تھا) ڈرانے کے لیے زین نے خالی خولی دھمکی دی جو کارآمد بھی ثابت ہوئی کیونکہ ظفر مراد رنگ آڑگیا اور وہ لب بیچ کر خاموش ہو گیے

“ذرا تمیز سے بات کرو تم۔۔۔۔ ابو اس شخص کے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے آپ اندر چلیں اور حور تم بھی اندر چلو”

خضر نے ظفر مراد سے بات کرتے ہوئے آخر میں حور کو مخاطب کر کے کہا

حور جو اس سچویشن سے پہلے ہی پریشان تھی آخر میں خضر کی بات سن کر بری طرح ٹھٹکی

“حور جاکر گاڑی میں بیٹھو”

زین کو اسطرح خضر کا حور کو بولنا اچھا نہیں لگا زین نے بنا حور کو دیکھے خضر کی طرف نظر کرتے ہوئے حور سے کہا

“حور اب کہیں نہیں جائے گی تمہارے ساتھ حور بیٹا اندر گھر میں جاو تم”

اب کے ظفر مراد بولے

حور ایک عجیب کشمکش میں پھنس گئی کس کی سنے کس کی نہیں سنے ایک طرف تایا تھے جنہوں نے باپ بن کر پالا تھا تو دوسری طرف اس کا شوہر

“حور تمہیں سنائی نہیں دے رہا کہ میں تم سے کیا کہہ رہا ہوں”

حور کے وہیں کھڑے رہنے پر زین کو غصہ آیا اب کے زین نے پلٹ کر حور کو دیکھتے ہوئے کہا

“حور تمہیں اس شخص سے اس وقت ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ آج صبح بے شک تم میرے ساتھ واپس نہیں آئی، تمہیں ڈر تھا کہ تم اس کے گھر پہ کھڑی ہوں لیکن اس وقت تم اپنے گھر کے پاس کھڑی ہو تم اندر چلو اپنے گھر۔۔۔ یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا”

خضر کی بات پر زین کی آنکھوں میں لمحے کے لئے حیرت کا عنصر ابھرا اس نے چونک کر حور کو دیکھا حور زین کے دیکھنے پر نیچے نظریں جھکا گئی

“گاڑی میں بیٹھو حور”

زین نے سنجیدگی سے حور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

“حور تمہارے ساتھ واپس نہیں جائے گی”

خضر تیز لہجے میں بولا

“میں تم سے نہیں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں اور تمھیں ہم دونوں میاں بیوی کے بیچ میں بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”

زین خضر کو جتاتے ہوئے بولا

“میں دیکھتا ہوں تم کیسے اس کو زبردستی لے کر جاتے ہو اپنے ساتھ”

اب کے خضر نے قدم آگے بڑھائیں

“تمہیں گاڑی میں بیٹھنا ہے کہ نہیں”

زین نے دھاڑتے ہوئے حور سے کہا حور کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے وہیں ایک سیکنڈ ضائع کیے بنا وہ گاڑی میں بیٹھ گئی جبکہ خضر کے قدم وہی تھم گئے

زین نے جتانے والی نظر دونوں باپ بیٹے پر ڈالی اور استہزاہ ہنسی اچھالتا ہوا خود بھی گاڑی میں بیٹھ گیا

خضر جبڑے بیج کر زین کی طرف بڑھا مگر ظفر مراد نے خضر کا ہاتھ پکڑ کر اسے کوئی بھی قدم اٹھانے سے منع کیا۔

زین گاڑی وہ بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا زین خاموشی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا اس نے دوبارہ حور کو مخاطب نہیں کیا حور نے بھی اس سے کوئی بات نہیں کی بلکہ وہ ابھی تک اس کی دھاڑ سے سہم کر بیٹھی ہوئی تھی اور کن انکھیوں سے زین کو دیکھ رہی تھی جو سیریس ہو کر کار ڈرائیو کر رہا تھا پورے راستے دونوں ہی خاموش رہے

“اترو”

گھر پہنچ کر کار پارک کرتا ہوا زین حور سے مخاطب ہوا، حور فورا گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی دونوں فلیٹ میں پہنچے

*****

“کافی”

زین آنکھیں موندے ہوئے بیٹھا ہوا تھا حور کی آواز پر آنکھیں کھول کر دیکھا وہ کافی کا کپ لیے ہوئے کھڑی ہوئی

“بیٹھو”

کافی کا کپ تھامتے ہوئے زین نے دوسرے ہاتھ سے حور کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا حور اس کے پاس بیٹھ گئی

“صبح یہاں خضر آیا تھا”

زین نے حور کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

حور نے نظر جھکائے ہوئے گردن ہلا کر جواب دیا

“تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں”

زین نے کافی کا کپ رکھتے ہوئے حور سے کہا

“میں سمجھی تم غصہ کرو گے”

حور نے زین کو دیکھتے ہوئے بولا

“تو کیا نہیں کرنا چاہیے اب مجھے غصہ”

زین نے حور سے پوچھا

زین کی بات سن کر حور نے دوبارہ نظریں نیچے جھکا لی، زین نے حور کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا

“دیکھو حور آج ایک بات میں تم سے کلیئر کہہ دیتا ہوں۔۔۔ مجھے جھوٹ بولنے والے اور دھوکا دینے والوں سے سخت نفرت ہے اور میں ظفر مراد یا اس کی فیملی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا، میں ایک نارمل انسان ہوں کوئی اعلی ظرف نہیں کہ جس نے میرے ساتھ برا کیا ہو، جس کی وجہ سے میں نے میری ماں نے پریشانیاں اٹھائی ہو۔۔ میں اس کو معاف کردو یا اسکے لیے اپنا دل صاف کر لو۔۔۔۔ ایسا میرے اختیار میں نہیں، ہاں مجھے تمہاری ماما سے کوئی پرابلم نہیں ہے تم جب چاہے ان سے مل سکتی ہوں ان سے بات کر سکتی ہو، وہ یہاں تمہارے پاس آجائیں یا تم کہیں باہر جا کے مل لو۔۔۔ مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن میں یہ نہیں چاہوں گا کہ میری بیوی ان لوگوں سے ملے یا تعلق رکھے جن سے میں ملنا ہی تعلق رکھنا پسند نہیں کرتا۔۔۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں یہ تمہارے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ وہ تمہارے تایا ہیں، میں کوشش کروں گا اپنا دل صاف کر لو لیکن یہ فوری طور پر ممکن نہیں اس میں کچھ وقت لگے گا کیا اس وقت تک کے تم میری باتوں کو اہمیت دو کی”

وہ نرمی سے اس سے باتیں کرتے ہوئے اچانک حور سے سوال کر بیٹھا

“میں نے آج تمہیں ہی اہمیت دی ہے اس لئے میں تمہارے سامنے بیٹھی ہوں تمھارے گھر میں”

حور کے منہ سے بے اختیار نکلا اور پھر وہ ایک دم چپ ہو گئی

حور کی بات سے زین نے اپنے اندر اطمینان سا اترا ہوا محسوس کیا ایک دلکش مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی

“اور اس اہمیت دینے کی میں وجہ جان سکتا ہوں”

زین کے لب اور آنکھیں دونوں مسکرا رہی تھی

“وجہ بتانا ضروری ہے کیا”

پورے اپنی ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے ہوئے کافی نروس دکھائی دے رہی تھی

“صحیح ہے وجہ تم نہیں بتاؤ میں بتا دیتا ہوں تمھیں مگر لفظوں میں نہیں اپنے عمل سے”

زین حور کے ہونٹوں کے نیچے تل کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے بولا

“تمہاری کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے”

حور نے اس کو اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھ کر بولا

زین نے سر اٹھا کر گھور کر حور کو دیکھا اور اپنا سر حور کے سر سے ٹکرایا

*****

ظفر مراد اور خضر دونوں ہی غصے میں بل کھا کر رہ گئے

“وہ کل کا لڑکا مجھے میرے ہی گھر کے سامنے باتیں سنا کر چل گیا اس کی اتنی ہمت اب کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا اس شاہ زین کا”

وہ غصے میں ٹہلتے ہوئے کہہ رہے تھے

“کیا بگاڑ سکتے ہیں آپ یا پھر میں اس کا۔۔۔۔ اس نے ہمیں ایک دن تک گن پوائنٹ پر ہمارے ہی فارم ہاؤس رکھا۔۔۔۔ اتنی بڑی رقم نکلوائی ہم سے اور ہمارے ہی گھر کی لڑکی سے زبردستی ہمارے سامنے نکاح کیا، کوئی ثبوت اس کے خلاف نہیں ہے ہمارے پاس”

خضر کو بھی زین پر کم غصہ نہیں آ رہا تھا

“میں نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ہیں۔۔۔ بچہ ہے وہ ابھی میرے سامنے، ایسی ہی مجھ سے وہ سب نہیں چھین سکتا۔۔۔ سب دوبارہ حاصل کرلوں گا، بلکہ چھین لوں گا اس سے”

ظفر مراد کا دماغ کہیں اور تھا لیکن وہ بات خضر سے کر رہے تھے

“کیا مطلب میں سمجھا نہیں کیا کرنے والے ہیں آپ”

خضر نے ناسمجھی میں پوچھا

“وہ تم دیکھتے جاؤ حور کا موبائل نمبر ہے تمہارے پاس”

ظفر مراد نے خضر سے پوچھا

“نہیں موبائل نمبر تو نہیں مگر گھر کا ایڈریس ہے میرے پاس۔۔۔۔ مگر آپ مجھے بتائیں آپ کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کرنے والے ہیں؟؟ حور کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ میں حور کی زندگی میں اس شخص کو مزید برداشت نہیں کرسکتا”

خضر کو بار بار وہی منظر یاد آرہا ہے جب زین حور کو گاڑی میں بیٹھنے کے لئے کہہ رہا تھا اس کا حور پر حق جتانا اسے بری طرح کھل رہا تھا، مگر چاہ کر بھی وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا

“حور کو کچھ نہیں ہوگا۔ حور اور ساری رقم واپس اس گھر میں واپس آئے گی۔۔۔۔ بس میں جیسا جیسا کہوں گا تم وہی کرتے جاؤ”

ظفر مراد چیئر پر بیٹھے ہوئے کسی غیر مرئی نکتے کو دیکھ کر کہہ رہے تھے

****

“زین”

حور نے زور دار چیخ کے ساتھ زین کو پکارہ

زین دوسرے روم میں کل کے لئے پریزنٹیشن تیار کر رہا تھا حور کی چیخ سن کر دوڑتا ہوا حور کے پاس آیا

“کیا ہوا حور “

حور کا پورا چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا وہ شاید نیند میں ابھی جاگی تھی زین نے حور کے نزدیک بیٹھتے ہوئے پوچھا

“تم کہاں تھے کیوں چلے گئے تھے میرے پاس سے”

حور نے زین کے سینے پر سر رکھتے ہوئے شکوہ کیا شاید وہ ڈر گئی تھی

“تمہاری نیند نہ ڈسٹرب ہو اس لئے دوسرے روم میں جا کے کام کر رہا تھا۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا میری بیوی کو چند گھنٹے کی دوری بھی برداشت نہیں”

زین بات کو مذاق کر رنگ دیتے ہوئے کہا

“بہت برا خواب دیکھا تھا میں نے، میں ڈر گئی تھی”

حور کی آواز سے لگ رہا تھا وہ ابھی رو دے گی

“کیا ہو گیا میری جان میں یہی ہوں تمہارے پاس”

زین اسے اپنے ساتھ لگائے ہوئے بچوں کی طرح بہلا رہا تھا

“کوئی مجھے کھینچ کر لے جا رہا تھا میں تمہیں پکار رہی تھی مگر تم وہاں کہیں نہیں تھے”

حور نے ابھی بھی زین کے سینے پہ سر رکھا ہوا تھا وہ شاید اپنا خواب سنا رہی تھی

“خوابوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کوئی تمہیں مجھ سے چھین کر نہیں لے جاسکتا چلو لیٹو شاباش اور اپنی آنکھیں بند کرو”

زین نےتکیہ ٹھیک کر کے حور کو لٹاتے ہوئے کہا

“تم یہی ہونا میرے پاس”

حور نے لیٹتے ہوئے اس سے تصدیق چاہی

“میں کہیں نہیں جا رھا ھوں تمہارے پاس ہو۔ سو جاؤ اب”

زین کو کام تو کرنا تھا مگر حور کو ابھی بھی خوف کے حصار میں دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ لیٹ گیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں کہنے لگا

****

صبح حور کی آنکھ کھلی تو زین کی جگہ خالی تھی۔۔۔۔ فریش ہو کر وہ کچن میں آئی تو زین کو کیٹل میں سے چائے نکالتے ہوئے دیکھا حور کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی

“کس بات پر صبح صبح مسکرایا جا رہا ہے”

زین نے چائے کے کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے پوچھا

“یہی سوچ رہی تھی کہ تم ناشتہ بناتے ہوئے اتنے برے نہیں لگتے ہو”

حور میں باقی کی چیزیں ٹرے میں رکھتے ہوئے بولا

“اور کب کب اچھا لگتا ہوں”

وہ حور کے سامنے کھڑا ہو کر سیریس انداز میں پوچھنے لگا

“مجھے بھوک لگ رہی ہے ہمیں ناشتہ کرنا چاہیے اب”

حور ناشتے کی ٹرے لے کر کچن سے باہر نکل گئی

وہ دونوں ناشتے سے فارغ ہوئے تھے کہ گھر کی بیل بجی

“یہ صبح صبح کون آگیا”

زین دروازہ کھولنے کے لیئے جانے لگا

“السلام علیکم رضیہ خالہ آپ”

زین نے دروازہ کھولا تو فضا کی امی سامنے کھڑی ہوئی تھی

“وعلیکم السلام جیتے رہو، شکر ہے گھر مل گیا تمہارا”

“کھڑی کیوں اندر آئے آپ” زین نے راستہ دیتے ہوئے کہا

“نادیہ کی کیسی طبیعت ہے اب”

انہوں نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے زین کی امی کے بارے میں پوچھا

“اللہ پاک کا احسان کافی بہتری آئی ہے اماں کی طبیعت میں اب تو”

زین نے جواب دیا

“اور بیگم کہا ہے تمہاری؟ ثانیہ کی شادی میں دیکھا تھا اسے”

“جی بلاتا ہو”

زین کی بلانے سے پہلے ہی حور کمرے میں آئی

“اسلام علیکم آنٹی”

حور نے سامنے بیٹھی ہوئی خاتون کو سلام کیا

“وعلیکم السلام جیتی رہو سدا سہاگن رہو۔ ۔۔ یہاں بیٹھو میرے پاس”

انہوں نے حور کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے اپنائیت سے کہا

“بہت پیاری بیوی ملی ہے تمہیں تو زین بیٹا”

انہیں نازک سی حور بہت پسند آئی

“جی خالہ میں بھی تو پیارا ہی ہوں”

زین نے مسکرا کر جواب دیا

“ارے اس میں کوئی شک ہے بھلا اتنا شریف بچہ ہے یہ تو اس کی مثال پورے محلے میں قائم ہے، مجال ہے جو کبھی کسی سے بدتمیزی کی ہو، بد زبانی کی ہو یا نظر اٹھا کر کسی کو دیکھا ہو۔ ۔۔۔ ایسا موذب بچہ قسمت والوں کو ملتا ہے”

وہ حور کو زین کی خوبیاں گنوا رہی تھی اور حور ہونقوں کی طرح منہ کھولے ان کی طرف دیکھ رہی تھی

جیسے ہی زین پر حور کی نظر پڑھی تو زین نے نظر بچا کر حور کو آنکھ ماری۔۔۔ وہ مستقل رضیہ خالہ کی باتوں پر مسکراہٹ دبائے ہوئے حور کے فیس ایکسپریشن دیکھ رہا تھا

“ارے میں جس کام کے لیئے آئی تھی وہ تو بھول ہی گئی یہ کارڈ ہے بھئی فضا کی شادی کا، دو ہفتے بعد تم دونوں کو لازمی آنا ہے انہوں نے کارڈ نکال کر زین کی طرف بڑھایا

“انشاءاللہ ہم دونوں ضرور آئیں گے”

زین نے کارڈ کھول کر دیکھتے ہوئے کہا

حور چائے بنانے کے لئے اٹھی تو انہوں نے واپس حور کو اپنے پاس بٹھا لیا

“نہیں اب چلو گی بلال ہی لے کر آیا ہے مجھے انتظار کر رہا ہوگا”

“بلال اوپر کیوں نہیں آیا “

زین نے حیرت سے پوچھا

“کہہ رہا تھا آپ ہو کر آجائے میں زرا کام نہ نمٹا لوں” زین میں گردن ہلائی

“اب تم دونوں کو لازمی آنا ہے میں انتظار کروں گی اور تم جلدی جلدی سے خوشخبری سناؤ نادیہ کو کتنا ارمان ہوگا پوتا پوتی کا”

وہ جاتے جاتے حور کو اور بھی نصیحتیں کرنے لگی

اور زین مسکراتے ہوئے حور کا بلش ہوتا ہوا چہرہ دیکھ رہا تھا

“جی خالہ ہم دونوں ضرور آئیں گے میرے لائق کوئی بھی کام ہو تو بلا جھجک مجھے بتائیے گا”

“ہاں بھئی تم سے نہیں کہوگی تو اور کس سے کہوں گی ایک تم اور بلال ہی تو ہو”

رضیہ خالہ کے جاتے ہی زین حور کے پاس آیا

“کیا خیال ہے پھر سویٹ ہارٹ۔۔۔ کیا سوچا تم نے”

حور کمرہ سیٹ کر رہی تھی تو زین نے حور کے بالوں سے کلپ نکالتے ہوئے کہا

“کس بارے میں” حور نے نا سمجھی سے کہا

“وہی جو ابھی خالہ کہہ کر گئی ہیں۔۔۔ جلدی جلدی خوشخبری سناؤں”

زین نے شرارت سے حور کے بالوں کی لٹ کھینچتے ہوئے کہا

“زین تنگ مت کرو”

حور نے زین کو گھورتے ہوئے اپنے بال دوبارہ باندھے

“میں تو صرف اس وجہ سے کہ رہا تھا کوششوں کے بعد ہی کوئی نتیجہ نکلتا ہے”

زین نے حور کے قریب آتے ہوئے کہا

“کاش میں رضیہ خالہ کو بتا سکتی کہ یہ بچہ کتنا معصوم اور شریف ہے”

حور زین کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کمرے سے چلی گئی اور زین کا قہقہ اسے دوسرے کمرے تک سنائی دیا

*****

حور ابھی کھانا بنا کر فارغ ہوئی تھی جب باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی زین نے گھر میں آتے ہی کچن میں جھانکا

“کیا ہو رہا ہے”

“بس رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی”

وہ چہولے کی آنچ ہلکی کرتے ہوئے بولی

“اوکے فارغ ہو کر روم سے آو”

زین بولتا ہوا وہاں سے چلے گیا

حور ہاتھ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی روم میں آئی

“یہ تمہارے لئے”

زین نے ایک ڈبہ حور کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

“موبائل”

حور نے موبائل فون کے ڈبے پر ایک نظر ڈال کر زین کو دیکھا

“ہاں تم اپنی ماما اسے آسانی سے بات کرلوں گی اس کے ذریعے”

“تھینکس”

حور نے مسکرا کر موبائل کا ڈبہ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا

“یاد رہے یہ تمہاری ماما سے بات کرنے کے لئے ہے”

زین نے حور کو باور کراتے ہوئے ڈبہ دیا

“ہہہم”

حور نے ایک نظر زین کو دیکھا اور سر ہلا دیا

“کیا کیا آج سارا دن”

اب زین روز کی طرح حور کی کمر کے گرد ہاتھ حائل کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا

“بس تمہیں یاد کرنے کے علاوہ سارے کام کیے”

حور نے شرارت سے بولا

“ایسی بات ہے تو پھر اس کی سخت سے سخت سزا ملے گی”

زین نے بازو کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے حور کو دھمکایا

“مذاق کر رہی تھی ناں”

حور ایسے ہی سینے پر سر رکھ کر اسے اپنا سارا روٹین بتانے لگی

“ان سب کاموں میں سب سے اچھا کام تم نے اپنی نیند پوری کرکے کیا ہے”

حور نے سر اٹھا کر اسے گھورتے ہوئے دیکھا تو وہ حور کو دیکھ کر آنکھوں میں شرارت لیے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ حور نے ہاتھ کا مکہ بنا کر ہلکے سے اس کے سینے پر مارا

“چائے لے کر آتی ہوں”

حور نے کمرے سے نکلتے ہوئے کہا

****

شازیہ (اشعر کی ممی) ریموٹ ہاتھ میں لیے ہوئے چینل چینج کر رہی تھی

“کیسی ہی ممی آپ کیا ہورہا ہے”

آشعر نے شازیہ کے برابر میں بیٹھتے ہوئے پوچھا

“یشعر کا فون آیا تھا وہ ابھی اسی سے بات کرکے بیٹھی ہوں”

شازیہ نے بتایا

میری بھی کل بات ہوئی تھی یشعر بھائی سے۔۔۔ آنے کا کیا سین بن رہا ہے انکے”

اشعر نے پوچھا

“کہہ تو رہا ہے کہ دو مہینے بعد آئے گا”

شازیہ بولی

“آب کس سوچ میں پڑگئی ہیں آپ”

اشعر نے شازیہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا

“سوچ رہی ہوں کہ میرے دو بیٹے ہیں اور دونوں ہی ذمہ دار ہو گئے ہیں۔ ۔۔۔ عمر بھی ماشااللہ شادی والی ہو گئی ہے، کیوں نا لڑکیاں دیکھنا شروع کر دو”

شازیہ نے مسکرا کر اشعر کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا

“ممی ابھی تو میں نے بزنس اسٹارٹ کیا ہے، مجھے تو کوئی جلدی نہیں ہے شادی کی۔۔۔۔ ہاں بھائی کے لئے ضرور ڈھونڈے کوئی اچھی سی لڑکی”

شازیہ کی بات پر اشعر کے ذہن کے پردوں پر تانیہ کا چہرہ سامنے آیا مگر وہ کسی اور مناسب وقت کا سوچتے ہوئے۔۔۔۔ شازیہ سے اپنے دل کی خواہش کا اظہار نہیں کر پایا

*****

اسماء ابھی حور سے بات کر کے فارغ ہوئی تھی وہ بہت خوش تھی۔۔۔ حور نے کافی حد تک آسماء کے خدشات کم کر دیے تھے اور اسے یقین دلایا تھا کہ وہ خوش ہے، پوری تو نہیں مگر اسماء تھوڑی بہت مطمئن ہو گئی تھی

بہت دنوں سے اس کے بھائی اصرار کر رہے تھے کہ وہ ان کے گھر پر آکر انکے پاس رہے۔۔۔۔۔ تو اسماء وہی جانے کی تیاری کر رہی تھی، اچانک خضر روم میں آیا

“کہاں کی تیاری ہو رہی ہے چچی”

کاوچ پر بیٹھتے ہوئے خضر نے پوچھا

“ارشد بھائی کافی دنوں سے کہہ رہے تھے تو سوچا ہفتے کے لئے ان کے گھر رہ کر اجاو”

آسماء نے کپڑوں کو تہہ کرتے ہوئے جواب دیا

“آپ کی طبیعت ٹھیک ہے اب”

خضر نے پوچھا

“اب تو طبیعت ٹھیک ہے اور ساتھ ساتھ فریش بھی ہو گئی ہے حور سے بات جو ہوئی ہے ابھی”

اسماء نے مسکراتے ہوئے خضر کو بتایا

“حور آئی تھی کیا یہاں پر”

خضر نے چونکتے ہوئے آسماء سے پوچھا

“ارے نہیں موبائل پر بات ہوئی تھوڑی دیر پہلے”

اسماء نے بیگ میں

کپڑے رکھتے ہوئ مگن انداز میں بتایا

“نمبر کیا ھے حور کا”

خضر نے تجسس سے پوچھا

“کیوں اس نے تمہیں نہیں بتایا”

اسماء نے حیرت سے سوال کیا

کیونکہ کے ایک وہی تو تھا پورے گھر میں جو حور سے بات کرتا تھا اور اس کی پرواہ کرتا تھا

“نہیں کال تو کی تھی اس نے لیکن مصروفیت کی بناء پر میں اس کا نمبر سیو نہیں کر پایا”

خضر جلدی سے بات بناتے ہوئے بولا

“چچی کے ایک کپ چائے مل سکتی ہے خضر نے بولا

“کیوں نہیں مل سکتی ابھی لائی” اسماء مسکراتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی

خضر کے موبائل پر نظر پڑی اس نے جلدی سے اٹھا کر حور کا نمبر سیو کر لیا

“یقینا اس شخص کے ڈر کی وجہ سے حور نے مجھے اپنا نمبر نہیں دیا ہوگا خیر یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے تھوڑے دنوں بعد ختم ہوجائے گا”

اس نے سوچتے ہوئے اپنا موبائل پاکٹ میں رکھا

*****

حور کا موبائل بجا تو نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی حور نے کال رسیو کی

“ہیلو”

آواز ابھری

“ہیلو کون بول رہا ہے اور کس سے بات کرنی ہے آپ کو” حور نے انجان بنتے ہوئے کہا

“ایک معصوم اور شریف آدمی بات کر رہا ہوں۔۔۔ جو کہ اپنی کیوٹ سی پیاری سی وائف سے بات کرنا چاہتا ہے”

زین نے معصومیت سے جواب دیا

“آپ کی کیوٹ سی پیاری سی وائف کہہ رہی ہیں کہ میرے معصوم سے اور شریف سے شوہر سے کہو وہ ابھی بزی ہے بات نہیں کر سکتی” حور نے مسکراہٹ دباتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا

“میری کیوٹ سی پیاری سی وائف سے کہو کہ اس کا شریف اور معصوم سا شوہر اپنی کیوٹ سی پیاری سی وائف کو بہت مس کر رہا ہے اور اس سے بات کرنا چاہتا ہے”

زین بےچارگی سے بولا

“آپ کی کیوٹ سی پیاری سی وائف کہہ رہی ہے کہ میرے معصوم اور شریف سے شوہر سے کہو کہ چپ کر کے اپنے آفس میں آفس کا کام کریں”

حور بولی

“میری کیوٹ سی پیاری سی وائف سے کہو اگر اس نے اپنے شریف اور معصوم شوہر سے بات نہیں کری تو وہ اپنی ساری شرافت بھول کر بدمعاشی پر اتر آئے گا”

زین نے حور کو دھمکایا

“آپ کی کیوٹ سی پیاری سی وائف کہہ رہی ہے کہ اب اس کے معصوم اور شریف شوہر کی دھونس اور دھمکی اس پر نہیں چلے گی”

حور نے نڈر انداز میں کہا

“میری کیوٹ سی پیاری سی وائف سے کہو اس کا معصوم اور شریف شوہر کہہ رہا ہے کہ آج میری کیوٹ سی پیاری سی وائف اپنی خیر منائے”

زین نے سنجیدہ لہجہ بناتے ہوئے کہا

حور نے موبائل کو گھور کر دیکھا اور وہ زین سے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ کال ڈسکنیکٹ ہوگی “ہیلو ہیلو” حور نے مسکراتے ہوئے موبائل ٹیبل پر رکھ دیا