Itni Mohabbat Karo Naw (Part 1) by Zeenia Sharjeel NovelR50412 Itni Mohabbat Karo Naw Episode 24
Rate this Novel
Itni Mohabbat Karo Naw Episode 24
Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel
“کہاں پر ہے سب لوگ”
بلال نے کچن میں آتے ہوئے فضا سے سوال کیا
“ماموں جان بیڈ پر لیٹے ہوئے غالبا ٹی وی دیکھ رہے ہیں ثانیہ اپنے سسرال میں موجود ہے،،رانیہ آپی بھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں مصروف ہیں،،، میں تمہارے سامنے کچن میں کھانا بنا رہی ہوں”
فضا نے مصروف انداز میں مگر تفصیل سے ایک ایک بندے کا بلال کو بتایا
“تم کبھی بھی میری کسی بات کا سیدھے انداز میں جواب نہیں دینا”
بلال نے فضا کو گھورتے ہوئے کہا
“تو تم بھی سیدھے انداز میں جس کا پوچھنا چاہ رہے ہو ڈائریکٹ اسی کو پوچھو۔۔۔۔ تم نے خود ہی تو کہا ہے کہ سب کہاں پر ہیں،، تو میں نے سب کا بتادیا”
فضا نے مسکراتے ہوئے بلال سے کہا مگر یہ مسکراہٹ دل جلانے والی مسکراہٹ سے کم نہیں تھی،، جسے دیکھ کر آیک پل بلال نے گھور کر فضا کو دیکھا مگر پھر اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آنے لگی جسے وہ چھپا گیا
“پوری فلم ہو تم” بلال سیلڈ کی پلیٹ میں سے کھیرا اٹھا کر کھاتے ہوئے بولا
“بالکل وہ بھی تین گھنٹے کی ایکشن سے بھرپور”
فضا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا
“اور اگر میرا رومنٹک فلم دیکھنے کا دل چاہے تو”
بلال میں بخور اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
“ہاہاہا رومانٹک فلم وہ بھی کچن میں” فضا نے ہنستے ہوئے کہا
“بیڈروم کوئی ہمارا دوسرے ملک میں تھوڑی ہے جو جانے میں ٹائم لگے”
بلال نے قریب آکر اس کا بازو کھینچتے ہوئے کہا
“بلال ابھی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے کھانا بنانے دو، ماموں کے پاس بیٹھو وہ اکیلے ہیں”
فضا نے اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
“اوکے ابھی فری نہیں ہوتا مگر رات کو تو فری ہونے کی اجازت ہے نا مجھے”
بلال نے لو دیتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ کر اس سے پوچھا
“بلال پلیز جاو کچن سے”
فضا نے دوبارہ کہا
“تمہاری طرح تمہاری آنا بھی عزیز ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار میں اس کا بھرم رکھو ویسے ہو تم بہت ظالم بیوی”
بلال نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا اور ایک اور کھیرا اٹھا کر منہ میں ڈالا
“شاید ظالم ہوں مگر تم سے کم اور اگر آب تم نے دوبارہ کھیرا اٹھایا تو میں تمہیں کچن سے دھکے دے کر نکال دوں گی سیٹنگ خراب نہیں کرو”
فضا نے وان کرتے ہوئے بلال کو کہا
“کیوں کیا کوئی مہمان آرہا ہے”
بلال نے پوچھا
“ہاں زین بھائی آئے تھے شام میں وہی تانیہ کو لے کر باہر گئے ہیں،، کہہ رہے تھے ضروری بات کرنی ہے تو میں نے انہیں کہہ دیا کہ رات کا ڈنر ہمارے ساتھ ہی کریے گا” فضا بلال کو تفصیل سے بتانے لگی
“ہہمم ٹھیک ہے میں ابو کے پاس جا کر بیٹھتا ہوں”
بلال کچن سے باہر نکل گیا
****
خضر اور حور گھر پہنچے تو خلاف توقع فاطمہ اور اسماء ایک ساتھ بیٹھی ہوئی ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی
“کہاں سے آ رہی ہو حور اس وقت کوئی فکر کوئی احساس ہے تمہیں کتنی دیر ہو گئی ہے”
آسماء نے حور کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر سنانا شروع کردی
“کیا ہوگی چچی حور میرے ساتھ گئی تھی بلکہ میں خود اس کو لے کر گیا تھا تاکہ اس کی طبیعت بہل جائے” خضر جو کہ حور کے پیچھے ہی آرہا تھا آسماء کو دیکھ کر بولا
“کون سے ایسے غم لگے ہوئے ہیں اسے جو گھر میں اس کی طبیعت بہلنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔۔۔۔ بی بی یہ گھر بسانے والی لڑکیوں کے طور طریقے نہیں ہوتے ہیں کب تک تمہارا یہاں پڑے رہنے کا ارادہ ہے اور تم خضر میں نے پہلے بھی کہا تھا اپنی راہیں درست سمت پر کرلو تمہیں سمجھ میں نہیں آتی ماں کی بات” فاطمہ نے حور کو کھری کھری سنائیں اور ساتھ ہی بیٹے کو بھی جھاڑا
“کیا شور مچا رکھا ہے آپ لوگوں نے اس گھر میں،، ایسا کیا ہوگیا جو اتنا ہنگامہ ہو رہا ہے”
ظفر مراد اپنے بیڈروم سے آوازیں سن کر باہر آئے
“ابو میں حور کو تھوڑی دیر کے لیے باہر لے کر چلا گیا تھا تاکہ اس کی طبیعت بہل جائے شاید امی اور چاچی کو یہ بات ناگوار گزری ہے” ایک نظر اس نے حور کی آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا
“اگر وہ حور کو باہر لے کر گیا تھا تو اس میں ایسی کون سی آفت ٹوٹ پڑی ہے جو آپ دونوں نے شور مچانا شروع کر دیا ہے”
ظفر مراد خضر کو جاتا دیکھ کر فاطمہ آسماء کی طرف رخ موڑتے ہوئے بولے
“کوئی اچھی لڑکیوں کے لچھن نہیں ہوتے شادی شدہ ہوکر بھی کزنز کے ساتھ اکیلے سیر سپاٹوں کے لئے نکل جائیں پیچھے کوئی فکر ہی نہ ہو”
فاطمہ نے حور کو گھورتے ہوئے بولا
“حور اندر جو بیٹا آپ”
ظفر مراد نے حور کو دیکھ کر بولا وہ آنسو صاف کرتی ہوئی فورا اندر چلی گئی
“اور آپ دونوں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں حور مجھ پر بھاری نہیں ہے اور اگر خضر اسے باہر لے کر جانا چاہے یا وہ خود خضر کے ساتھ جانا چاہے تو آپ دونوں میں سے کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ جو بھی کچھ ہو رہا ہے میری آنکھیں کھلی ہوئی ہے اور سارے فیصلوں کا حق بھی میں رکھتا ہوں لہذا آئندہ اس گھر میں اس طرح کے ڈراموں سے گریز کریے گا”
ظفر مراد یہ کہ کر وہاں سے چلے گئے اور ان کے پیچھے فاطمہ بھی،، اسماء وہی صوفے پر بیٹھ کر کچھ سوچنے لگی
****
“تانیہ اور شاہ۔۔۔۔۔ نہیں میں کیا سوچ رہی ہوں شاہ ایسا نہیں ہے مجھے بالکل ایسا نہیں سوچنا چاہیے اس کے بارے میں۔۔۔۔ مگر خضر بھائی تو کہہ رہے تھے کہ انہوں نے بہت بار ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا ہے۔۔۔۔ اس کے آگے سوچیں حور کا دل ڈوبونے کے لئے کافی تھی
“شاہ نے تو کہا تھا کہ مجھے لینے آئے گا پھر اب تو رات ہوگئی ہے آیا کیوں نہیں اب تک۔ ۔۔ کال کرکے پوچھتی ہوں” اس نے اسماء کا موبائل اٹھایا اور زین کے نمبر اس پر کال ملائی مگر بیل جاتی رہی وہ حور کی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا حور کا دل اور بھی ڈوبنے لگا اتنے میں اسماء روم میں آئی
“امی مجھے خضر بھائی لے کر گئے تھے میں نے انہیں منع بھی کیا تھا،، مگر وہ بہت اصرار کر رہے تھے تو میں انکار نہیں کر سکی” حور نے آسماء کو بتانا چاہا
“رہنے دو،، جاو جاکر کھانا کھاؤ آرام کرنا ہے مجھے”
انہوں نے حور کو وضاحت دینے سے منع کیا اور وہاں سے جانے کے لئے کہا خود بیڈ پر لیٹ گئی
****
زین تانیہ کو گھر چھوڑنے آیا تو فضا اور بلال نے اسے کھانے پر روک لیا۔۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر مسعود انکل اور بلال کے ساتھ باتوں میں ٹائم اندازہ نہیں ہوا ہے وہاں سے اٹھا تو گھڑی 11 بجا رہی تھی۔۔۔ ٹائم دیکھ کر اس نے حور کو کل لانے کا سوچا کیونکہ سارا دن آفس میں بھی کافی ٹف گزرا تھا یہی سوچ کر وہ گاڑی گھر کی طرف لے گیا۔ گھر پہنچ کر چینج کیا اور بیڈ پر لیٹا تو موبائل پر نظر پڑی توcall missed شو ہو رہی تھی جسے دیکھ کر زین کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور وہ کال ملانے لگا
*****
اسماء کب کی سو چکی کی تھی،، پر نیند حور کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی یہ سوچ کر اس کا دل برا ہو رہا تھا کہ زین نے کہا تھا کہ وہ آج سے لینے آئے گا تو وہ کیوں نہیں آیا اور اس نے کال بھی ریسیو نہیں کی بھلا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی مصروفیت ہوسکتی ہے۔۔۔۔ حور کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر آگیا جب زین روتی ہوئی تانیہ کو ٹشو دینے لگا سوچوں کا ارتکاز موبائل کی بیل نے توڑا۔۔۔۔ اسماء کی نیند نہ خراب ہو حور میں پہلی بیل پر کال ریسیو کر لی
“بڑی بےصبری سے انتظار کیا جا رہا تھا سویٹ ہارٹ”
فورا کال ریسیو کرنے پر زین کی چہکتی ہوئی آواز حور کے کانوں سے ٹکرائی
“تو اب جاکر فرصت ملی ہے تمہیں کہ بیوی کو کال کر لو” حور نے اس کی بات کو اگنور کرکے طنز کیا
“ہاہاہا نہ حال نہ خیریت فل بیویوں والا اسٹائل۔۔۔۔ ایسے ہی تھوڑی نہ پیار آتا ہے تم پر”
زین کے لہجے میں شوخی کا عنصر نمایاں تھا
“آئے کیوں نہیں آج تم لینے”
حور نے دماغ میں اٹھتا ہوا سوال پوچھا
“انتظار کیا میرا”
زین نے الٹا اس سے سوال کیا
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے”
حور نے جواب دیا
یعنی انتظار کیا تھا مگر اقرار کبھی نہیں کرنا ہے”
زین نے مسکراتے ہوئے کہا،،، حور خاموش رہی
“یار آج کا دن کافی ٹف گزرا پورا دن بزی رہا ابھی آدھے گھنٹے پہلے ہی گھر آیا ہوں”
زین اپنی رو میں بولتا چلا جا رہا تھا اور اسے خبر نہیں تھی کہ حور کے دل پر کیا گزر رہی ہے
“کیا تم اب فری ہو کر گھر پر آئے ہو،،، یعنی اتنی دیر تک تم۔۔۔”
حور کے دل کو کچھ ہوا وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی
“کل آؤنگا جان تمہارے پاس شام تک ریڈی رہنا میرا کونسا دل لگ رہا ہے تمہارے بغیر”
زین نے آنکھیں موندتے ہوئے حور سے کہا
“بھاڑ میں گئی جان۔۔۔۔ کل بھی آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جہاں آج سارا دن بزی رہے ہو کل بھی وہی چلے جانا میری بلا سے” حور نے آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کرتے ہوئے کہا
“اف اتنا غصہ سویٹ ہارٹ ایک دم پھلجڑی لگ رہی ہو گی اس وقت۔۔۔ اوکے میں آ رہا ہوں لینے کے لئے مشکل سے ادھا گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں”
زین اس کی بات پر آنکھیں کھولتے ہوئے کہا حور کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر اسی وقت اسکو لے کر آنے کا ارادہ کیا
“کہا نا اب مت آنا نہ ابھی، نہ کل اور نہ کبھی”
حور کو دوبارہ رونا آنے لگا
“کیا ہو گیا ہے یار حور بزی تھا،، اس وجہ سے نہیں آسکا تھا۔۔۔۔ ابھی آ تو رہا ہوں نا لینے”
زین کو حیرت ہوئی حور کی آواز سے وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ رو رہی ہے
“کہا بزی تھے تم اب تک،، اپنی اس حسین مصروفیات کے بارے میں بتاؤ مجھے۔۔۔ کیا کر رہے تھے اتنی دیر تک”
اسماء کی سونے کی وجہ سے حور نے ہلکی آواز میں مگر غصے میں زین سے پوچھا
“حسین مصروفیت؟؟ کیا مطلب ہے تمہاری بات کا۔۔۔۔ واقعی میرے سر پر سے گزر رہی ہیں اس وقت تمہاری باتیں”
زین کو واقعی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے
“ہاں تم اتنے ہی تو ناسمجھ ہو کہ تم کو میری باتیں ہی سمجھ میں نہیں آ رہی اور تمہارے سر پر سے گزر رہی ہیں”
حور نے سر جھٹکتے ہوئے کہا
“حور تمہیں جو کہنا ہے وہ ڈایئریکٹ کہو اس طرح پہیلیاں مت بجھاو۔۔۔۔ میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں پلیز”
زین نے چڑتے ہوئے کہا
“آج تانیہ کے ساتھ کیا کر رہے تھے باہر تم”
حور نے ہلکی آواز میں لیکن غصے میں کہا
“یہاں تانیہ کا کیا ذکر؟؟ ہاں لے کر گیا تھا اس کو باہر کچھ ضروری کام تھا۔۔۔ مگر تم اتنا ہائپر کس بات پر ہو رہی ہوں”
زین کو اب بھی حور کے غصے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی
“واقعی۔۔۔ صرف آج سے ضروری کام تھا؟ ؟ جہاں تک مجھے علم ہے اس سے پہلے بھی تمہیں ضروری کام پڑتے رہے ہیں تانیہ سے۔۔۔۔ آج تو میں نے تمہیں دیکھا ہے تو اقرار کرنا پڑا تمہیں”
اب کے حور کی بات سن کر زین کا دماغ بھک سے اڑ گیا
“کیا بات کر رہی ہو تم۔۔۔۔ کیا مطلب سمجھو میں تمہاری اس بکواس کا”
اب کے زین نے غصے میں کہا
“اب تو میری ساری باتیں بکواس ہی لگیں گی تمہیں” حور نے دوبارہ آنسو پونچھتے ہوئے کہا
“حور یہ بہت اچھا ہے تمہارے لئے کہ تم اس وقت میرے سامنے نہیں ہو۔۔۔۔۔ مگر میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ یہ فطور تمہارے دماغ میں خود آیا ہے یا کسی نے بھرا ہے۔۔۔۔ صرف اس بات کا جواب دو مجھے”
زین کو اب واقعی غصہ پر کنٹرول نہیں ہورہا تھا
“میں تمہارے آگے تمہاری کسی بھی بات کا جواب دہ نہیں ہوں”
حور کو بھی غصہ آنے لگا یعنی چوری اوپر سے سینہ زوری
“آ رہا ہوں میں کل تم اب جواب بھی دوں گی اور تمہاری اس قینچی جیسی زبان کا علاج بھی کرتا ہوں میں”
زین نے غرا کر کہا کال کاٹ کر موبائل بیڈ پر اچھالا
“بلال مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے” اشعر ابھی آفس نہیں پہنچا تھا زین نے موقع دے کر بلال سے کہا
“پہلے یہ بتاؤ کہ بھابھی کی طبیعت کیسی اور کب واپس لے کر آرہے انھیں”
بلال نے زین سے حور کے بارے میں پوچھا
“آج اس کی طبیعت درست کرنے ہی جا رہا ہوں”
زین بڑبڑایا
“کیا مطلب”
بلال نے چونکتے ہوئے پوچھا
“مطلب ٹھیک ہے طبیعت اب پہلے سے،، باقی کی گھر آکر ہو جائے گی، ،، آج شام میں جاؤں گا اس کو لینے کے لئے” زین نے بلال کی بات کا جواب دیا اسے حور کی رات والی بات کو سوچ کر ابھی تک غصہ آ رہا تھا
“کیا ابھی تک ناراضگی ختم نہیں ہوئی حور بھابھی کی تم سے”
بلال نے زین کو سوچوں میں گم دیکھ کر اس سے سوال کیا
“کبھی کبھی ناراضگی دور کرنے کے لیے مقابل کا دماغ درست کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔۔۔۔ آج اس کا دماغ درست ہوجائے گا تو ناراضگی بھی خود بخود ختم ہو جائے گی”
زین نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا
“زین پلیز اب کوئی غصے میں الٹی سیدھی حرکت کر کے مزید اپنے لئے پرابلمز نہ بڑھانا۔۔۔۔ اپنے غصے کو تھوڑا سا کنٹرول کرو،، یہ تم دونوں کے لئے اس رشتے کے لئے بہتر ہے”
بلال نے زین کو اپنی طرف سے مخلصانہ مشورہ دیا
“ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو تم”
زین نے سر جھٹک کر کہا اب اس سے کیا شیئر کرتا کہ اس کی بیوی کیا کیا سوچ کر بیٹھی ہوئی ہے
“یار ویسے ایک بات تو ہے، ان بیویوں کے چکر بھی سمجھ میں نہیں آتے بندہ پاگل ہو جائے کہ ان کا منہ کس بات پر بنا ہوا ہے اور کب ٹھیک ہونا ہے کس طرح ٹھیک ہونا ہے”
بلال نے فضا کو یاد کر کے اپنا دکھڑا رویا
“خیر میری اور تمہاری سچویشن تو بالکل ہی مختلف ہے مگر سیانے یہ بھی کہتے ہیں کہ گھی جب سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی چاہیے”
زین نے بلال کو مشورہ دیا
“تمہاری بات کا مطلب”
بلال نے ناسمجھی سے کہا
“مطلب یہ کہ تمہارا کچھ بھی نہیں ہوسکتا تم جیسا بےوقوف diserve کرتا ہے کہ اسے منہ نہ لگایا جائے”
زین نے الٹا بلال کی کلاس لی
“کیوں کیا بیوقوفی کی ہے میں نے ذرا آج تم مجھے بتاؤ” بلال نے زین سے پوچھا
“دیکھو بلال جو گزر گیا ہے اس بات کو جانے دو مگر تم جو اب بےوقوفی کر رہے ہوں پلیز اس معاملے کو تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچو” زین اسے ٹریک پر لایا
“کس معاملے کی بات کر رہے ہو تم”
بلال سمجھ تو گیا تھا مگر انجان بن کر پوچھنے لگا
“تم جانتے ہو میں کس معاملے میں بات کرو مگر پھر بھی بتا دیتا ہوں۔۔ اشعر اور تانیہ کے سلسلے میں بات کر رہا ہوں میں تم سے” زین نے بات کا آغاز کیا
“اس ٹاپک میں ایسا کچھ خاص نہیں ہے جس پر بات کی جا سکے”
بلال نے زین کو جواب دیا
“کیوں بلال! تمہیں اشعر پسند نہیں ہے تانیہ کے لحاظ سے؟ چلو مجھے بتاؤ اس میں برائی کیا ہے،، وہ تانیہ کو پسند کرتا ہے اس سے شادی کا خواہشمند ہے۔۔۔ دو سال سے اس کی اور ہماری دوستی ہے ہم دونوں ہی اس کی عادت اور نیچر سے اچھی طرح واقف ہیں،،، تم نے اس میں کون سی ایسی غیر اخلاقی حرکت دیکھی ہے جو وہ تمہیں تانیہ کے لحاظ سے ناپسند ہے۔۔۔۔ دیکھو بلال تم بھی جانتے ہو میں تانیہ کو اپنی بہن سمجھتا ہوں اور ایک بھائی ہونے کے ناطے مجھے تو تانیہ کے لحاظ سے اشعر میں کوئی برائی نظر نہیں آتی”
زین نے اپنی طرف سے بلال کو سمجھانے کی کوشش کی
“تم نے ٹھیک کہا زین وہ بہت کم عرصے میں ہمارا بہت گہرا دوست بن گیا ہے اور مجھے وہ تمہاری ہی طرح عزیز ہے لیکن وہ اس طرح میری بہن کے ساتھ ڈیٹنگ کپل کی طرح ریسٹورینٹ میں بیٹھا مسکرا کر باتیں کر رہا تھا۔۔۔ شادی بہت مقدس بندھن ہے، ، اگر وہ تانیہ سے شادی کا خواہشمند تھا تو اسے چاہیے تھا شریفانہ طریقہ سے رشتہ بھیجتا۔۔۔۔ نہ کہ اس کو ریسٹورینٹ میں لے کر گھومتا
“بلال اشعر تانیہ کو اس لئے وہاں لے کر گیا تھا تاکہ وہ رو برو اس کی مرضی جان سکے اور تانیہ کی رضامندی جان کر ہی وہ انٹی کو تم لوگوں کے گھر تانیہ کے رشتے کے لئے بھیجتا”
زین نے بلال کو نرمی سے سمجھانا چاہا زین کی بات سے بلال کے تنے ہوۓ اعصاب تھوڑے ڈھیلے ہو ئے اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا اشعر روم میں آیا
“السلام علیکم”
اس نے سب سے پہلے زین سے مصافحہ کیا اور پھر بلال کی طرف ہاتھ آگے بڑھایا بلال نے ایک نظر اس کو دیکھا اس کا ہاتھ دور جھٹکا
“تانیہ میری بہن ہی نہیں میری بیٹی بھی ہے،، اگر شادی کے بعد اس کے ساتھ کوئی جھگڑا کیا یا اس کا دل دکھایا تو میں تمہارا گلا دبا دوں گا”
یہ بولتے ہیں بلال نے اشعر کو گلے لگا لیا۔۔ جس پر اشعر نے بے یقینی سے سامنے کھڑے مسکراتے ہوئے زین کو دیکھا۔۔۔ زین کے موبائل پر کال آرہی تھی زین موبائل پر نام دیکھا اور کال کنکٹ کر کے باہر نکل گیا
****
تانیہ یہاں آو یہاں بیٹھو میرے پاس” افس سے گھر آنے کے بعد بلال نے تانیہ کو بلایا
وہ فضا کے پاس سے اٹھ کر صوفے پر بلال کے پاس بیٹھ گئی
“بھائی میں جانتی ہوں میری وجہ سے آپ بہت ہرٹ ہوئے ہیں لیکن میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا بالکل بھی نہیں تھا پلیز آپ مجھے معاف کردیں۔۔۔ اب دوبارہ کبھی غلطی نہیں ہو گئی آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی پلیز مجھ سے بات کرنا، میری طرف دیکھنا مت چھوڑیں”
تانیہ نے روتے ہوئے بلال سے کہا بلال نے اس کو گلے لگایا
“تانی میری گڑیا چپ ہو جاؤ نہیں ہوں میں تم سے ناراض ۔۔۔بس تھوڑا غصہ آیا تھا یہی سوچ کر کہ اس پوری دنیا میں تمہیں ایک وہی گھامڑ انسان ملا ہے،، مگر پھر یہ سوچ کے مطمئن ہو گیا وہ گھامڑ ضرور ہے مگر دل کا برا نہیں ہے میری گڑیا کو خوش رکھے گا”
بلال کے بولنے پر تانیہ نے سر اٹھا کر بے یقینی سے بلال کو دیکھا بلال نے مسکراتے ہوئے تانیہ کے آنسو صاف کیے اور فضا ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔۔۔ بلال کی نظر فضا پر پڑی تو اس کی مسکراہٹ معدوم ہو گئی
“میڈم اب آپ بھی راہ راست پر آجائے شرافت سے”
بلال نے فضا کو کہا تو فضا نے گھور کر بلال کو دیکھا
****
شام میں زین ظفر مراد کے گھر حور کو لینے پہنچا اور عبداللہ (نوکر) سے حور کو بلانے کے لئے کہا
“بڑے صاحب حور بی بی کے شوہر آئے ہیں وہ حور بی بی کو بلانے کا کہہ رہے تھے میں نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا”
خضر بھی وہی موجود تھا، ظفر مراد اور خضر نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا
“ٹھیک ہے عبداللہ تم حور کو بھیجو اور خضر تم پیپرز لے کر ڈرائنگ روم میں آو”
ظفر مراد نے کمرے سے نکلتے ہوئے جواب دیا
*****
“حور بی بی آپ کے شوہر آئے ہوئے ہیں بڑے صاحب نے آپ کو ڈرائنگ روم میں آنے کے لیے کہا ہے” عبداللہ نے حور کو ظفر مراد کا پیغام دیا
“تم جاو حور آرہی ہے”
اسماء نے عبداللہ کو جواب دیا اور حور کو چلنے کے لئے کہا خود بھی کھڑی ہو گئی
*****
“تم سے بڑھ کر ڈھیٹ شخص میں نے آج تک دنیا کے تخت و تاج پر نہیں دیکھا۔۔۔۔نہیں جانا چاہتی ہے اب حور تمہارے ساتھ واپس، تو پھر کیوں بار بار یہاں پر آجاتے ہو” ظفر مراد نے کمرے میں آتے ہوئے زین کو دیکھ کر ناگواری سے کہا
“حیرت ہے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا آپ نے۔۔۔ ڈھیٹ پن کا اگر کوئی ایوارڈ دیا جائے تو آپ کا بیٹا اس کا مستحق ہوگا،، جب سے حور میری بیوی بنی ہے وہ تو کسی جونک کی طرح ہماری زندگی سے چپک گیا ہے”
زین نے ساری تمیز بلائے طاق رکھتے ہوئے ظفر مراد کو جواب دیا
“حور تمہاری بیوی بعد میں بنی ہے پہلے وہ اس کی کزن تھی”
ظفر مراد جتاتے ہوئے بولے
“لیکن اب وہ میری بیوی پہلے ہے یہ آپ اپنے بیٹے کو اچھی طرح ذہن نشین کرا دئیے گا کیونکہ میرے سمجھانے کا اسٹائل شاید آپ کو پسند نہ آئے”
زین نے ابرو اچکا کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا
اتنے میں روم میں خضر اور اس کے پیچھے اسماء اور حور بھی داخل ہوئے
“حور ابھی کے ابھی میرے ساتھ گھر چلو”
زین نے کمرے میں آتی ہوئی حور کو دیکھ کر کہا اس کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی ساتھ ہی زین کا موبائل بجنے لگا جس پر اس نے توجہ نہیں دی
“حور اب کہیں بھی نہیں جائے گی حور بیٹا یہاں اور ان پیپرز پر سائن کرو اور اس کی خوشی فہمی کو ہمیشہ کے لئے ختم کرو”
ظفر مراد نے خضر کے ہاتھ سے پیپرز لیتے ہوئے حور کو مخاطب کیا
“کیا ہے ان کے پیپرز میں”
زین کا ماتھا ٹھنکا، حور سے پہلے زین نے ظفر مراد سے سوال کیا
“یہ خلع کے پیپرز ہیں اور وہ تمہارے ساتھ مزید کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی ہے”
ظفر مراد نے زین کے ساتھ ساتھ حور کے اوپر بھی بم پھوڑا
ظفر مراد کی بات سن کر جتنی بے یقینی سے زین حور کو دیکھ رہا تھا اتنی ہی بے یقینی سے حور ظفر مراد کو دیکھ رہی تھی مانا کہ وہ زین سے ناراض تھی مگر اس کو چھوڑنے کا تصور تو وہ خواب میں بھی نہیں کر سکتی تھی زین کے موبائل کی بیل نے کمرے کی خاموشی کو توڑا تو زین ہوش میں آیا
زین پھرتی سے ظفر مراد کی طرف بڑھا ایک لمحہ لگائے بغیر اس نے پیپر ظفر مراد کے ہاتھ سے لے کر اس کے پرزے پرزے کر دیے یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ظفر مراد اور خضر دونوں ہی ہکا بکا رہ گئے
“میں کوئی اب بارہ سال کا بچہ نہیں ہوں جس سے تم آسانی سے اس کا حق چھین سکو۔۔۔ اگر تم نے یا تمہاری اولاد نے کچھ بھی میرے یا حور کے ساتھ غلط کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا میں تمہاری اور تمہارے اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا،،، اسے خالی خولی دہمکی ہرگز نہیں سمجھنا”
ہاتھ میں پیپرز کے پرزے ظفر مراد کی طرف ہوا میں اچھالتا ہوا زین نے اپنا رخ حور کی طرف موڑا
“چلو گھر حور”
زین نے تیز لہجے میں حور سے کہا
“حور تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔۔۔ حور میں نے تمہیں باپ کی طرح پالا ہے اب وقت آگیا ہے کہ تم اس کا صلہ دو،، اس شخص کے منہ پر کہوں کہ تمہیں اس کے ساتھ کہیں نہیں جانا اور اگر آج تم اس گھر سے اس شخض کے ساتھ گئی تو سمجھ لینا تمہارا تعلق ہمیشہ سے اس گھر سے ختم ہوجائے گا”
ظفر مراد نے حور کو عجیب کشمکش میں ڈال دیا
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تایا ابو”
حور نے بےبسی سے ظفر مراد کو دیکھ کر کہا
“اس کو ابھی کے ابھی یہاں سے رخصت کرو”
ظفر مراد نے زین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حور سے کہا
“زین اکیلا نہیں جائے گا بھائی صاحب۔۔۔۔۔ حور تم ابھی کے ابھی زین کے ساتھ اپنے گھر پر جاؤ”
آسماء کی آواز پر سب نے مڑ کر آسماء کی طرف دیکھا
“یہ کیا بول رہی ہو اسماء ہوش میں تو ہو تم۔ ۔۔۔اس لٹیرے کے ساتھ اپنی بیٹی کو بھیج رہی ہوں کیسی ماں ہو تم” ظفر مراد کو آسماء کا بولنا اس وقت بری طرح کھلا
“بھائی صاحب اپنا حق وصول کرنے والا لٹیرا نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کے حق چھیننے والے کو لٹیرا کہا جاتا ہے اور زین حور کا شوہر ہے اور حور اس کے ساتھ ہی جائے گی”
اسماء نے بیٹی کی خاطر آج پہلی بار ظفر مراد کے آگے بولنے کی جرات کی
“چچی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں”
خضر نے حیرانی سے اسماء کو دیکھتے ہوئے بولا
“خضر بیٹا آپ اس معاملے میں مت بولو میں بات کر رہی ہوں۔ ۔۔۔۔ حور زین کے ساتھ جاو”
آسماء نے خضر کو جواب دیتے ہوئے حور کو دوبارہ جانے کے لئے کہا
“ٹھیک ہے پھر، اگر حور اس گھر سے جائے گی تو تم بھی نکلوں اس گھر سے تمہاری بھی اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے”
مظفر مراد غصے میں چیخے
“چلیے آنٹی آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں”
بار بار کال آنے پر زین نے اپنا موبائل of کیا حور کا ہاتھ پکڑ کر آسماء سے بولا
“نہیں بیٹا تم حور کو لے کر نکلوں مجھے تھوڑی دیر میں ارشد بھائی لینے آ رہے ہیں”
اسماء نے زین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
اس دنِ ظفر مراد اور خضر کی سب باتیں سن چکی تھی اور حور کی زندگی کو داؤ پہ لگا کر وہ ان کا پلان کامیاب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اس لئے آج صبح ہی انہوں نے زین کو فون کر کے ظفر مراد اور خضر کے ارادے بتائے بغیر وہ قصہ جانا جو زین اور ظفر مراد سے دشمنی کا سبب تھا۔ ۔۔۔ زین نے شروع سے آخر تک آسماء کو سارا قصہ بتا دیا ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ کس طرح خضر نے ان نون نمبر سے اس کو میسج کر کے ریسٹورینٹ بلایا تاکہ حور اور اس کے درمیان نا اتفاقی پیدا ہو
باہر نکل کر زین حور کا ہاتھ پکڑے ابھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ پیچھے سے خضر کی آواز سنائی دی
“حور تم اس کے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں، اس کی اصلیت جانتے ہوئے بھی تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا یہ کسی اور لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا۔۔۔”
خضر کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ سے اسکی بات ادھوری رہ گئی پھر ایک نہیں ایک کے بعد لگاتار تین چار تھپڑوں اور مکوں نے خضر کو سمھلنے کا موقع نہیں دیا
آسماء دور سے بھاگتی ہوئی آئی اور انہوں نے زین کا ہاتھ روکا
“زین بیٹا پلیز چھوڑیں آپ اسکو خدا کا واسطہ ہے”
آسماء کے گھبرا کر بولنے پر اسکا ہاتھ روکا
“میں نے تمہیں بار بار وان کیا تھا کہ میرے اور حور کے بیچ میں مت آنا”
زین نے نیچے گرے ہوئے خضر کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔ واپس مڑا اور حور کے قریب آیا،، وہ اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھکر پوری آنکھیں پھیلائے ہوئے بے یقینی سے وہ منظر دیکھ رہی تھی۔ ۔ زین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بٹھایا اور گاڑی اسٹارٹ کی۔۔۔۔ وہ کن اکھیوں سے زین کو گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا دیکھ رہی تھی زین سنجیدگی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا
