365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 3

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

اشعر نے زین اور بلال کی کہانی سنی اور اندازہ لگایا کہ وہ سچ بول رہے ہیں کچھ سوچتے ہوئے اشعر بولا

“چلو تم دونوں کو پولیس کے حوالے نہیں کرتا مگر میری ایک شرط ہے”

زین اور بلال نے ایک دوسرے کو دیکھا.

“اور وہ شرط کیا ہے”

زین نے پوچھا

“اگلی بار تم دونوں اکیلے نہیں ہوں گے ہم تینوں مل کر واردات کریں گے”

اشعر نے عام سے انداز میں بولا

“کیا “زین اور بلال ایک ساتھ چیخ کر بولے

“اس میں اتنی حیرانی کی کیا بات ہے اور مال بھی برابر کا تقسیم ہوگا”

اشعر نے ان دونوں کو حیرت سے منہ کھولے دیکھ کر نارمل انداز میں کہا

“زین اور بلال عجیب گومگو کی کیفیت میں پڑھ گئے کہ کیا جواب دیں

“یار اس میں اتنا سوچنے کی کیا بات ہے”

اشعر دوستانہ انداز میں بولا

“اور ویسے بھی تم دونوں ماہر نہیں لگتے اس کام میں, جو انداز تم دونوں کا اس سے تو کوئی بچہ بھی نہ ڈرے”

اس کا انداز صاف مزاق اڑانے والا تھا

اور یہ بات تو وہ دونوں بھی جانتے تھے یہ کام ان دونوں کے اکیلے کے بس کی بات نہیں

“تمہیں دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ تمہیں اس کام کی ضرورت ہے”

زین نے اسکی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

“ضروری نہیں ہر کام مجبوری میں کئے جائے کچھ کام کبھی انجوائے منٹ کے لیے یا ایڈونچر کے طور پر بھی کیے جاتے ہیں”

اشعر نے جواب دیا

زین کو اسکی سوچ پر بہت افسوس ہوا

“اوکے ہمیں منظور ہے”

جواب بلال کی طرف سے آیا

“لیکن اس کام میں بھی کچھ اصول ہونگیں. ہم کبھی ضرورت مند اور بےبس انسان کو نہیں لوٹیں گے اور اوزار کا استعمال بھی صرف لوگوں کو ڈرانے کے لیے کرینگے کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے”

زین نے اشعر کے سامنے اصول دھرائے

“ٹھیک ہے مجھے منظور ہے”

اشعر بولا

************

شاہ اور پری لنچ بریک میں لنچ کررہے تھے بلکہ پری لنچ کر رہی تھی اور شاہ ٹشوں سے بار بار اسکا منہ صاف کر رہا تھا

“تمہیں پتا ہے شاہ جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میرا پرنس مجھے لے جائے گا اپنے ساتھ”

پری نے جیسے اسے اہم خبر دی

“ہیییں! یہ پرنسن کون ہے اور تم کیوں جاؤ گی اس کے ساتھ”

شاہ حیرت اور صدمے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولا

پری نے بڑی ادا سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بولا

“جیسے اسنو وائٹ کو اسکا پرنس لے جاتا ہے. میں نے ماں سے پوچھا میرا پرنس مجھے کب لے کر جائے گا… تو انہوں نے کہا جب میں بڑی ہو جاؤں گی”

پری نے شاہ کو پوری بات سمجائی

” یہ پرنس ورنس کچھ نہیں ھوتا پری”

زین نے اسے سمجانا چاہا

“مگر میری ماما جھوٹ نہیں بولتی” پری کو جیسے اسکی بات بری لگی

“اوکے! اپنے پرنس کو کہ دینا شاہ تمہں کہی نہیں جانے دے گا”

شاہ نے بات ختم کردی.

*******

حور کافی گھبرائی ہوئی خضر کے روم میں آئی

“خضر بھائی پلیز جلدی دیکھیں امی کو کیا ہوگیا ہے”

روتے ہوئے وہ بولنے لگی

خضر بھی تقریبا بھاگتا ہوا اسماء کے روم میں پہنچا تو آسماء بہیوش تھی

“چلو حور چچی کو ہوسپٹل لے کر چلتے ہیں”

خضر نے سہارا دیتے ہوئے آسماں کو تھاما اور وہ دونوں ہاسپٹل چلے گئے”

“امی ٹھیک ہو جائیں گی نہ”

وہ روتے ہوئے بولنے لگی

“حور کیا ہوگیا ہے ٹھیک ہیں چچی. گھبرانے کی بات نہیں بس ہم ہاسپٹل پہنچنے والے ہیں”

خضر قریبی اسپتال کی طرف گاڑی لے گیا

پراپر چیک اپ کے بعد ڈاکٹر سے خضر نے پوچھا

“ڈاکٹر صاحب کیا ہوا تھا پیشنٹ کو کوئی گھبرانے کی بات تو نہیں”

“خطرے کی کوئی بات نہیں لیکن انہوں نے کسی بات کی ٹینشن لی ہے. جس کی وجہ سے ان کی یہ کنڈیشن ہوئی ہے. بس اس بات کا خیال رکھیں کہ پیشنٹ کے سامنے ایسی بات نہ ہو جس سے ان کی طبیعت مزید خراب ہو. یہ دوا لکھ کر دے رہا ہوں وقت پر دے دیئے گا

آپ پیشنٹ کو گھر لے جا سکتے ہیں” ڈاکٹر نے پرچہ تھماتے ہوئے کہا

“تم چچی کے پاس جاؤ جب تک میں یہ میڈیسن لے کر آتا ہوں”

وہ دونوں بات کرتے ہوئے جا رہے تھے کہ اچانک کوئی بڑی تیزی سے آتے ہوئے حور سے ٹکرایا. حور اس سے ٹکرانے پر اپنے آپ کو سنبھال نہ پائی اور لڑکھڑا کر گرنے ہی والی تھی کہ سامنے والے نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کو گرنے سے بچایا”

“کیا ہوا مسٹر دیکھ کر چلا نہیں جاتا کیا”

خضر نے تھوڑے تیز لہجے میں بولا

مقابل پر کوئی فرق نہیں پڑا خضر کی بات کا…. وہ تو ٹکرانے والی ہستی کو ہی دیکھ رہا تھا.

خضر کو یہ دیکھ کر غصہ آیا اور اس نے مقابل کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے دوبارہ اس سے کہا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو”

اب کے خضر تیز آواز میں بولا

مقابل بھی ہوش کی دنیا میں واپس آیا

“سوری “

اس نے فقط اتنا ہی کہا مگر نظریں ابھی بھی حور پر ہی تھی. جیسے اسے دیکھنا دنیا کا اہم کام ہو

حور بھی نروس تھی اس اجنبی کے اس طرح دیکھنے پر… کبھی گھبرا کر خضر کو دیکھتی کبھی آتے جاتے لوگوں کو

“تم ٹھیک ہو… چلو حور چلتے ہیں”

خضر نے حور کا ہاتھ تھاما اور اگے چلنے لگا

زین نے چونک کر ان دونوں کو ہاتھ تھام کر جاتے ھوئے دیکھا اس ک اندر کچھ ٹوٹ سا گیا

“میں تمیں اپر ڈھونڈ رہا ہوں اور تم یہاں اسٹیچو بن کر کھڑے ہو؟

زین غائب دماغی سے بلال کو دیکھ رہا تھا

“سب ٹھیک ہے زین ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں آنٹی کے بارے میں؟

بلال نے اسکو سن کھڑے دیکھ کر سوال کیا

“ہاں سب ٹھیک ہے چلو چلتے ہیں”

زین باہر جانے لگا

“او بھائی باہر نہیں اوپر جانا ہے فرسٹ فلور پر ریپورٹس لینے”

بلال نے یاد دلایا

“مگر وہ تو ابھی باہر گئی ہے نا”

زین کا دماغ کہیں اور اٹک گیا جیسے

“کون باہر گئی ہے”

بلال نے انکھین پھاڑ کر حیرت سے پوچھا

کوئی نہیں… چلو رپورٹ لینے چلتے ہیں”

******

خضر نے حور کو گاڑی میں بٹھایا اور خود چاچی کو لے کر آیا

دواؤں کے زیر اثر وہ آنکھیں موندے ہوئے بیٹھی تھی۔

جب خضر نے آہستہ آواز میں حور سے پوچھا

“کیا تم اس شخص سے پہلے ملی ہو یا جانتی ہوں”؟؟؟؟

حور ایکدم چونکی

“نہیں میں نے تو پہلے کبھی نہیں دیکھا. آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ؟

“نہیں ویسے ہی پوچھ رہا تھا. خیر چھوڑو یہ بتاؤ گھر میں کیا ہوا تھا چاچی نے کس بات کی ٹینشن لی ہے؟

خضر کو اس شخص کا ایسے دیکھنا عجیب لگا تو اس نے دریافت کیا اور نے لاعلمی کا اظہار کیا تو اس نے بھی بات ختم کرکے چاچی کے بارے میں پوچھا

“مجھے علم نہیں خضر بھائی کالج سے آنے کے بعد روم میں گئیں تو دیکھا ماما ایسی لیٹی ہوئی تھی۔ بار بار آواز دینے پر بھی نہیں اٹھی تو آپ کو بلا لیا”

حور نے افسردگی سے کہا

“پریشان مت ہو چاچی ٹھیک ہوجائیں گیں ان کا خیال رکھو

گھر آچکا تھا وہ لوگ آسماء کو لے کر گھر پہنچے

وہ تینوں بیٹھے ہوے اپنا پلان دسسکسس کررہے تھے۔

“دیکھو سب سے پہلے تم دونوں اپنے اندار سے ڈر اور گھبراہٹ ختم کردو۔ خیر وہ تو آج کے بعد ختم ہو جانی ہے اور دوسرا یہ دیکھو میں تم دونوں کے لیے کیا لایا ہوں”

اشر نے دو پسٹل نکال کر ان دونوں کو دی

“کیا اس کی ضرورت ہے”

زین نے سوال کیا

“تو کیا تم لوگوں کو ننھے سے چاقو لے کر خوفزدہ کرو گے”

اشر نے جیسے پہلا واقعہ یاد دلایا وہ دونوں چپ ہوگئے۔ بس اب انہیں رات میں صحیح موقع کا انتظار کرنا تھا ۔۔۔۔**** ۔

حور اور خضر جب اسماء کو گھر لے کر پہنچے تو سارا چچی lور فاطمہ تآئی لان میں ہی موجود تھیں۔

“ایسی اچانک کیا آفت آگئی تھی کتنی دیر سے تمھارا انتظار کر رہی ہوں کہاں گئے تھے تم” دراصل فاطمہ تائی کو اپنے بیٹے کا دونوں ماں بیٹیوں کی خدمت کرنے کا یہ انداز پسند نہیں آیا۔

“حور چچی کو لے کر اندر جاؤں”

خضر نے حور کی طرف میڈیسن تھماتے ہوئے کہا ۔۔۔

سارا چچی نے معنی خیز نظروں سے ابرو اچکائے اور فاطمہ نے تیز نظروں سے بیٹے کو اور ان دونوں کو گھورا۔

حور اسماہ کو لےکر اندر چلے گئی

“اوور ایکٹنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی اسماء کو اتنی”

سارا چچی نے منہ بناتے ہوئے فاطمہ سے کہا

“جبکہ میں نے تو بھلا ہی سوچا تھا حور کا”

فاطمہ نے جواب دیا

“کیا مطلب کیا سوچا تھا آپ نے حور کے بارے میں” خضر کو کچھ سمجھ نہیں آیا

“ارے وہ شائستہ نہیں ہے میری کزن وہ اپنے بیٹے کے لیے کوئی لڑکی ڈھونڈ رہی ہے اسی سلسلے میں نے اسماء سے ذکر کیا وہ تو سن کر جیسے حتی سے اکھڑ گئی”

فاطمہ تائی نے بیزاری سے جواب دیا

“آپ ۔۔۔۔امی آپ فیصل بھائی کی بات کر رہی ہیں”۔خضر نے حیرت اور بے یقینی سے پوچھا ؟؟؟

“ہاں نا وہی اس کے بارے میں بتایا کوئی ذمہ داری نہیں حیثیت میں بھی اچھا ہے مگر پھر بھی تمہاری چچی جان کے تو تیور ہی نہیں مل رہے”

فاطمہ کو جیسے اسماہ پر اب تک غصّہ تھا

“کیا ہوگیا ہے امی جان آپ کو کچھ تو خدا کا خوف کریں”

خضر نے افسوس سے کہا

“لو ایسا کیا کر دیا میں نے”

وہ شاید برا مان گیں ۔۔

“فیصل بھائی اور حور کا کہا جوڑ بنتا ہے کتنے بڑے ہیں وہ اگر اس بات کو اگنور کر بھی دے تو جو انھوں نے دو سال پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے۔ کیا اس بات کو اگنور کیا جاسکتا ہے” خضر کو ان کی سوچ پر بہت افسوس ہوا

“تمہیں اس معاملے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں” سارا چچی جو کب سے چپ بیٹھی تھی آخرکار بول پڑیں

“آپ لوگوں کو بھی حور کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں”

یہ کہہ کر خضر رکا نہیں اور لمبے لمبے ڈگ بڑھتے ہوئے اندر چلا گیا

پیچھے چچی اور تائی ایک دوسرے کو دیکھتی رہ

گئی ۔۔۔

**********************

“کیا ہوا تم اتنے چپ کیوں بیٹھے ہو شاہ؟

شاہ بہت اداس لگ رہا تھا ورنہ وہ ہمیشہ وہ خود اس کے پاس آتا تھا آج پری خود بریک میں اس کے پاس آئی۔ “

“بابا کو اپنے افس کے کام کے سلسلے میں دوسرے ملک جانا پڑ رہا ہے ہم لوگوں کو بھی جانا ہوگا”

شاہ نے اپنے اداس ہونے کی وجہ بتائی

“کیا تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے؟۔۔۔۔پری کی آنکھوں میں ایک دم پانی بھر آیاا

“پلیز شاہ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ ماما سارا دن گھر کے کاموں میں بزی رہتی ہے میرا کوئی دوست نہیں تم بھی چلے جاؤ گے”

وہ باقاعدہ رونے لگی

“رو مت پری میں جلد ہی تم سے ملنے آؤں گا۔ وعدہ کرو میرا انتظار کروں گی اور کسی پرنس کے ساتھ نہیں جاؤں گی “وہ اس کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا”

****************

“ماما کیسی طبیعت ہے آپکی اب ۔۔۔ کیا ہوگیا آپکو ؟؟

حور بہت اداس تھی

“کچھ نہیں بیٹا بس ویسے ہی طبیعت خراب ہوگئی تھی تم بتاؤ پیپرز کی تیاری ہو رہی ہے؟انہوں نے بات بدلتے ہوئے حور کا دیھان دوسری طرف لگایا

“پیپرز کی تیاری اچھی ہے۔ مگر ماما پلیز آپ کبھی مجھے چھوڑ کر مت جائے گا”

اس نے ایک دم رونا شروع کردیا وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے والی کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو دینے والی

آسماء نے پیار کرکے اسے گلے سے لگایا “ارے میری جان کچھ نہیں ہوا مجھے بالکل ٹھیک ہوں”

“سب ایسے ہی کرتے ہیں مجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں بابا بھی چلے گئے۔

پھر ایک دھندلا سا سایا اس کے دماغ میں نمودار ہوا

“ارے میں نے کہیں نہیں جانے والی جب تک میری پرنسس کا پرنس نہیں آجاتا اسے لینے کے لئے چلو آنسو صاف کرو”

اج بھابھی کی باتوں سے وہ دلبرداشتہ ہوئی تھی مگر اسماہ نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی کر لے مگر اپنی بیٹی کی زندگی داؤ پر نہیں لگاے گئ۔۔۔۔۔

*******””**””********

بلال جیسے ہی گھر آیا اس نے تانیہ کو آواز دی”

“تانیہ جلدی سے کھانا لاؤ بھوک لگ رہی ہے۔

“آگئی بھائی صبر کریں”تانیہ نے کچن سے ہی آواز دی

اس کی آواز سن کر وہ اوپر چھت پر چلا گیا وہی اس کا کمرہ تھا یہ ایک متوسطہ علاقہ میں چار کمروں کا مکان تھا جس میں بلال کے ابو جو کے 3 سال پہلے فالج کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتے تھے ۔۔۔بلال کی تین بہنیں تھیں سب سے بڑی بہن رانیہ جو کہ شادی شدہ تھی جدہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے بعد ثانیہ خالہ زاد سے دو سال پہلے نکاح ہوا تھا اور سب سے چھوٹی تانیہ جس کا کچھ دنوں پہلے یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہوا تھا۔

آہٹ کی آواز پر چونک کر دیکھا تو پیچھے فضا کھانے کی ٹرے لیے کھڑی تھی۔

“تمہیں اپنے گھر میں چین نہیں ہیں جب دیکھو ہمارے گھر پڑی رہتی ہوں” وہ سنجیدہ لہجہ بنا کر بولا

“تو تمھارے لئے تو نہیں آئی۔ میں تو تانیہ سے ملنے آئی تھی اور دوسری بات یہ میرے ماموں کا گھر ہے جب چاہے آسکتی ہو”

اس نے بھی تنک کر جواب دیا اور ٹرے میز پر رکھ کر تیز تیز سیڑھیاں اتر گئی۔

“تیزگام”

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔

******

وہ تینوں کیفیٹیریا میں بیٹھے تھے۔ ان تینوں کی کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی بلال اور زین تو دوست تھے ہی شروع سے مگر اشعر سے دوستی کا سب سے بڑا ہاتھ اشعر کے خلوص اور اپنائیت کا تھا وہ ایک اچھی فیملی سے تعلق رکھتا تھا بڑا بھائی باہر ملک میں تھا اور وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا بھائی ہر ضروریات اور خواہشات پوری کرتا تھا اس لیے اشعر کی طبیعت میں لاابالی پن تھا۔ فکر معاش کی ایسے فکر نہیں تھی۔

“او بھائی یہ چائے پینے کے لئے منگوائی ہے گھورنے کے لئے نہیں”

اشعر نے مسلسل چائے کے کپ کو گھورتے ہوے زین کو دیکھ کر کہا۔

زین نے اس کی بات پر کب سے نظر ہٹا کر اس کو گھوری دی اور چائے پینے لگا

کیا سوچ رہے ہو یار آنٹی تھی ہوجائیگی فکر نہیں کرو ان کی”

بلال کے کہنے پر اس نے بلال کو دیکھا

“اماں ماشااللہ سے پہلے سے بہتر ہے ڈاکٹر سے ہوئی تھی بات۔ میں کچھ اور سوچ رہا ہوں”

زین نے ان دونوں کو دیکھ کر جواب دیا

“کیا کوئی اور مسئلہ ہے تو ہم سے شیئر کر سکتے ہو اگر کوئی پروبلم ہے تو بتاو”

آشعر نے خلوص سے کہا

“میں نے تھوڑے دن پہلے ابو کے بزنس پارٹنر ظفر مراد کو دیکھا تھا وہ دوبارہ اس شہر میں آگیا ہے اپنے طور پر معلوم کروایا مگر ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا”

“تو اس کا معلوم کرکے تم کیا کرنے والے ہو؟؟

بلال نے کہا

“ظاہر سی بات ہے اصل بات بتا لگواؤں گا اگر وہ حق پر ہوا تو ٹھیک۔ لیکن اگر اس نے دھوکہ دہی سے میرے باپ کا پیسہ ہتھیا ہے۔ تو ایسے تو نہیں جانے دوں گا کیس کروں گا اس پر”

زین نے جواب دیا

“اور تمہیں یقین ہے تمہیں انصاف مل جائے گا یہاں؟؟ اشعر نے پوچھا

“تو کیا میں ساری زندگی یہی کام کرتا رہو گا؟؟۔

زین بولا

“یار میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں چلو کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ان ظفر صاحب کا بھی”

اشعر نے کہا۔۔۔۔۔۔