365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 7

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

وہ مزید حور کے قریب آیا اور اپنی پسٹل سے اس کے چہرے پر آئی ہوئی لٹے پیچھے کرنے لگا حور بری طرح کانپ رہی تھی

“میرے دو بار منع کرنے کے باوجود تم مجھے پھر اس کے ساتھ دکھی ہو اب بتاؤں تمہیں کیا سزا دوں؟

وہ پسٹل اس کے چہرے پر پھیرتا ہوا نیچے تھوڑی تک لایا پر پسٹل سے تھوڑی اونچی تھی۔ ایسا کرنے سے حور کا چہرہ اونچا ہوا اور مزید زین کے چہرے کے قریب آگیا

حور اپنی پوری جان سے لرز گئی

“پلیز مجھے معاف کر دو اب دوبارہ غلطی نہیں ہو گی” سردی کے موسم میں بھی حور کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے

“معافی تو بالکل نہیں ملنے والی جب سزا ملے گی تبھی تم دوبارہ غلطی کرنے سے باز رہو گی نا”

وہ نرم لہجے میں مسلسل حور کو گھورتے ہوئے کہہ رہا تھا

اب پسٹل تھوڑی سے نیچے گردن پر آگئی تھی۔۔۔۔ گردن سے مزید پسٹل نیچے ہوئی حور نے بےساختہ پسٹل کو پکڑا

“پلیز”

وہ اتنا ہی کہہ سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

زین نے پسٹل نیچے کی اور خود بھی تھوڑا سائیڈ پر ہو گیا

“آنسو صاف کرو اور سویٹر پہن کر نیچے آو جلدی”

یہ کہہ کر وہ رکا نہیں۔ حور جب انسوں صاف کر کے واپس لان آئی تو خانساماں کھانا اور برتن لا رہا تھا حور نے اسماء کے پاس بیٹھ کر شال انہیں تھمائی، حور کے چہرے پر ابھی بھی ہواہیاں اڑی ہوئی تھی خضر حور کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“تم ٹھیک ہو” حور کی نظریں بے ساختہ زین کے اوپر گئی۔ زین اسی کو دیکھ رہا تھا حور نے نظریں چرالیں اور خضر کی بات پر سر ہلانے پر اکتفاد کیا

کھانا ٹینشن زدہ ماحول میں کھایا گیا کھانے میں مرچیں بہت زیادہ تھی مگر خوف کی وجہ سے پانی کی بوتل اٹھانے کی ہمت کسی میں نہیں تھی کیونکہ پانی کی بوتل اشعر بلال اور زین کے پاس رکھی ہوئی تھی

زین کی نظر حور کر پڑی تیز مرچوں سے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا زین نے پانی کا گلاس اور بوتل اٹھا کر حور کی طرف بڑھا دی

رات ہونے کی وجہ سے سردی کافی بڑھ گئی تھی جس کے باعث سب ایک بڑے ہال نما کمرے میں جمع ہوگئے وہی اپنے اپنے بستروں پر بلینکٹ لیکر بیٹھ گئے۔ نیند تو اس رات کسی کو نہیں آنی تھی۔۔۔۔ سب نے وہ رات سوتے جاگتے گزاری

صبح ہوئی تو نیند میں بھی حور کو مسلسل کیسی کی نگاہیں اپنے اوپر محسوس ہوئی۔ حور نے آنکھیں کھولی تو اس کی نگاہیں سامنے کرسی پر بیٹھے شخص پر گئی وہ کرسی پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھا ہوا تھا پاؤں سامنے ٹیبل پر رکھے ہوئے اسمکنگ کرتے ہوئے مسلسل نیم وا آنکھوں سے حور کو دیکھ رہا تھا

حور اٹھ کر بیٹھ گئی اور شال اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ لی۔ خضر کو اس شخص پر غصہ آ رہا تھا جو مسلسل حور کو دیکھے جا رہا تھا خضر مسلسل ضبط کر رہا تھا

“اگر تم نے اپنا دیکھنے کا شغل بن نہیں کیا تو بیچاری کوئی یہی بے ہوش ہو جانا ہے”

اشعر کے بولنے پر زین نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل کر اشعر کو گھورا اور سگریٹ جوتے سے مسل کر باہر چلا گیا

“چلو باقی سب بھی اٹھو اور جلدی سے لان میں آؤ”

اشعر نے باقی سب لوگوں کو باہر آنے کا بولا

لان میں ہلکی ہلکی دھوپ تھی وہیں سب نے ناشتہ کیا

“بلال تم یہ چیک لے کر جاؤ اور رقم لے کر آؤ”

اشعر اور زین وہی تھے۔ زین نے ظفر مراد کا موبائل دیا باقی کی رقم کے انتظام کے لئے کہا تو حور کو اچانک یاد آیا اس کا موبائل تو اس کے بیگ میں ہی ہے

“اگر کسی طرح پولیس۔۔۔۔۔ مگر زین کو دیکھ کر اپنے خیال کو جھٹک دیا مگر پھر تھوڑی دیر بعد یہ سوچ دماغ میں آئی شاید اس طرح سے ہم لوگ بچ جائے

“بس حور تھوڑی سی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرنا ہے”

اس نے اپنے آپ کو دل ہی دل میں سمجھایا

ہمت کر کے وہ واش روم کا کہہ کر روم میں گئی اس کا بیک سامنے ہی موجود تھا اس نے پھرتی سے بیگ سے اپنا موبائل نکالا اور اپنے سویٹر کی جیب میں چھپالیا۔

واش روم بھں اسی روم میں تھا حور واش روم کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک زین اندر روم میں آگیا اسے دیکھ کر حور کا چہرہ فق ہوگیا

“کیا کر رہی تھی حور”

زین نے بغور اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا

“ووہ مم وہ واش روم”

خوف کے مارے حور کی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی زین چلتا ہوا حور کے قریب آیا

“کیا چھپایا ہے تم نے ابھی”

زین مزید فاصلہ کم کرتے ہوئے بولا

“مم میں نے نہیں کچھ نہیں”

وہ گردن نفی میں ہلاتے ہوئے ہکلائی

زین نے اس کو دونوں بازوؤں سے تھاما اور ایک جھٹکے سے موڑ کر حور کا منہ دیوار کی طرف کر دیا۔ حور کی گھٹی چیخ نکل گئی

“شش آواز نہیں بالکل، جلدی سے بتاؤ کیا چھپایا ہے”

زین نے پسٹل حور کی کمر پر رکھتے ہوئے کہا

“میں نے کچھ نہیں چھپایا”

اس نے مضبوطی سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا اگر وہ سچ بتا دیتی تو یقینا وہ اس کو زندہ نہیں چھوڑتا اس لئے اپنی بات پر قائم رہی۔ اس وقت کو کوسا جب اس نے کال کرنے کا سوچا تھا

“ٹھیک ہے ایسے نہیں بتاؤ گی یعنی تم چاہتی ہو کہ میں خود تمھاری تلاشی لو”

زین اپنے ہونٹ حور کے کان کے قریب کرتے ہوئے دھمکی آمیز لہجے میں بولا

“نہیں پلیز”

زین کی بات سن کر حور کی بند آنکھیں پوری طرح کھل گئی اور پلٹتے ہوئے اس نے سویٹر کی پوکٹ سے اپنا موبائیل نکال کر زین کی طرف بڑھایا کہیں وہ سچی میں اس کی تلاشی ہی نہ لے لے

“آئی ایم سوری”

حور نے شرمندگی اور خوف سے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں

“ہہم بار بار غلطی کرتی ہوں اور پھر معافی مانگتی ہوں یہ ٹھیک بات تو نہیں ہے نا حور”

زین نے موبائل کے ساتھ ساتھ اس کا ہاتھ بھی تھامتے ہوئے کہا

“ای پرامس میں واقعی آئندہ کچھ نہیں کروں گی”

وہ روتے ہوئے منت سماجت پر اتر آئی

“شش رو نہیں اسطرح انٹرسٹ اور بڑھے گا”

وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا

“کیا ہو رہا ہے یہاں پر”

خضر کی آواز پر دونوں چونکے زین نے مڑ کردیکھا خضر سامنے ہی کھڑا تھا

“حور کیا کررہی ہوں یہاں پر”

خضر حور کا ہاتھ دیکھ رہا تھا جو کہ ابھی بھی زین کے ہاتھ میں تھا

“دور رہو اس سے یہ میری ہونے والی منگیتر ہے”

خضر نے بنا خوف کے زین سے کہا اور اس کا ہاتھ زین سے چھڑا کر حور کو کمرے سے لے گیا

زین نے غصہ سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی اگلے ہی لمحے زین نے بلال کو کال ملائی

“ہاں یار ہوگیا تمہارا کام بس آرہا ہوں تھوڑی دیر میں”

کال رسیو کرتے ہیں بلال نے کہا

“ساتھ میں نکاح خواں کو بھی لیتے ہوئے آو بلال”

زین نے سنجیدہ لہجے میں کہا

“وہ کس لئے میرے بھائی”

بلال نے موبائل کو کان سے ہٹا کر گھورا جیسے وہ موبائل نہیں زین ہو

“آف کورس نکاح کے لئے یار”

زین نے کال ڈسکنکٹ کردی اور باہر آ گیا

****

فضا میں فائر کی آواز گونجی خوف سے سب خواتین کی چیخیں نکل گئی

اشعر نے بھی چونک کر زین کو دیکھا زین نے پسٹل والا ہاتھ نیچے کیا اور بلند آواز میں کہا

“اگر کسی نے بھی میری بات سے انکار کیا تو اگلی گولی اس کی کھوپڑی میں اتار دوں گا”

زین حور کی طرف موڑا

“اور تم نکاح کے لئے تیار ہو جاؤ بہت شوق ہے نہ تمہیں منگنی کا اب منگنی نہیں ڈائریکٹ نکاح ہوگا”

زین نے حور کو گھورتے ہوئے کہا

وہاں باقی سب کو سانپ سونگھ گیا اشعر بھی حیران ہوا

“یہ کیا سین ہے باس پلیننگ میں یہ کب شامل تھا”

اشعر نے ہلکی آواز میں کہا

“ابھی بلال آئے گا تو سب پتہ چل جائے گا”

زین بولا

“کس کا نکاح ہو رہا ہے یہاں پر اور کس سے”

ظفر مراد نے ناسمجھی کے عالم میں زین سے پوچھا

“تمھاری بھتیجی کا نکاح ہو رہا ہے تمھارے بیٹے سے نہیں بلکہ مجھ سے”

زین نے سب کے سروں پر بم پھوڑا

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد سب سے پہلے خضر کو ہوش آیا

“کیا فضول بکواس ہے یہ۔۔۔۔۔ تمہیں پیسوں سے مطلب ہے وہ لے کر جاؤ یہاں سے”

بنا خوف کے خضر نے تیز آواز میں کہا

“مجھے جس چیز سے مطلب ہوگا وہ میں لے کر جاؤں گا اگر ہمت ہے تو روک کے دکھاؤ”

زین کو خضر کا مداخلت کرنا پسند نہیں آیا اس لیے اس نے چیلنج کرتے ہوئے کہا

“تم اپنی حد سے نکل رہے ہو”

خضر نے غصے سے انگلی اٹھا کر کہا

“او ہیرو بہت ہوگیے ڈائیلاگ جاکر کرسی پر بیٹھوں جلدی”

اب کے اشعر بولا

“میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا”

خضر غصے سے چیخا

زین نے پسٹل اس کے ماتھے پر تان لی وہی اس کی آواز کو بریک لگا

“مجھے تمہیں مارنے میں نہ ہی خوف محسوس ہوگا اور نہ ہی افسوس اگر زندگی چاہتے ہو تو شرافت سے چپ کر کے بیٹھ جاؤ”

زین اسے مارنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن دھمکانہ ضروری تھا

ابھی زین اور بھی کچھ بولتا لیکن فاطمہ بیچ میں آگئی

“یہ کچھ نہیں بولے گا پلیز اس کے اوپر سے پسٹل ہٹا لو”

وہ خضر کو کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گئ آہستہ سے بولیں

“اگر تمہیں اپنی فیملی کی عزت اور جان عزیز ہے خدا کا واسطہ ہے خاموش رہو، یہ خطرناک لوگ ہیں ان کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں یہ جان لینے سے نہیں ڈرتے اور ہم بڑھاپے میں کوئی صدمہ برداشت نہیں کرسکتے”

“مگر امی وہ شخص حور کے ساتھ”

“بس خضر میں نے کہہ دیا! اگر تمہاری وجہ سے کسی کو یا تمہیں خود کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار تم ہوں گے اور میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی”

فاطمہ نے خضر کی بات کاٹ کر اپنی بات مکمل کی

“بھابھی پلیز ایسے نہیں کہئے کوئی تو بچاو میری حور کو”

اسماء نے روتے ہوئے کہا

“اگر ہم نے ان کی بات نہیں مانی تو سب جان سے جائیں گے اور وہ صرف نکاح کا کہہ رہا ہے اس کے بعد ہم کوئی نہ کوئی حل تلاش کر ہی لیں گے”

سارہ نے بھی نرم لہجے میں آسماء کو سمجھانے کی کوشش کی

جب کہ روتے ہوئے آسماء یہ سوچنے لگی حور کی جگہ اگر ماہم ہوتی تو کیا سارہ تب بھی ییہں کرتی

ان سب کے درمیان ایک حور تھی اس تمام عرصے میں پتھر کی طرح بت بنی کھڑی رہی۔ کوئی کیا بول رہا ہے کوئی کیا کر رہا ہے اس کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا بلکہ اس کے خود کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اسے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا

تھوڑا اور وقت گزرا تو بلال نکاح خواں کو لے کر آ گیا۔ فاطمہ نے خضر کو قسمیں دے کر چپ کر آیا ہوا تھا اور روتی ہوئی آسماء کو سارہ نے اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا سارہ سے بار بار سمجھا رہی تھی اور تسلی دے رہی تھی جبکہ حور بالکل سن انداز میں کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی ماہم نے اس کو سر پر دوپٹہ اڑایا اور نکاح شروع ہوا

زین کی طرف سے گواہوں میں اشعر اور بلال تھے جبکہ حور کی طرف سے تایا اور اس کے چچا۔ خضر اس سارے منظر کو بہت بے بسی سے ضبط کرکے دیکھتا رہا جب نکاح خواں نے حور سے پوچھا

“آپ کو شاہ زین کے نکاح میں دیا جاتا ہے آپ کو قبول ہے”

تو غائب دماغی سے نکاح خواں کو دیکھتی رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا سب کے ہونٹ ہل رہے تھے مگر آوازیں غائب تھیں۔۔۔۔۔ سب اسی کی طرف متوجہ تھے۔ جبھی فاطمہ تائی آگے بڑھ کر حور کے پاس آئیں اورحور کے کندھے پر ہاتھ سے دباؤ ڈال کر کہا

“حور بیٹا جواب دو”

حور نے ایک نظر فاطمہ تائی کو دیکھا، وہ اسے اپنے بیٹے کی زندگی سے نکالنے کے لئے کس طرح اس کی زندگی داؤ پر لگا رہی تھی

“بولو بیٹا”

اب کے ہاتھ کا دباؤ پہلے سے زیادہ تھا۔ حور نے گردن ہلا کر “قبول ہے” کہا کسی روبوٹ کی طرح اس نے نکاح نامے پر سائن کیے قبول و ایجاد کے مراحل طے ہوئے اشعر اور بلال نے زین کو گلے لگایا وہی تایا اور چاچا حور کے سر پر ہاتھ رکھ کر کرسیوں پر بیٹھ گئےحور یوں ہی بت بنی بیٹھی رہی۔۔۔

ایسے ہی دوپہر سے شام اور شام سے رات ہو گئی۔۔۔۔ ٹینشن والے ماحول میں ہی خضر اسماء اور حور کے علاوہ سب نے رات کا کھانا کھایا۔ پہلے زین نے سوچا وہ حور کھانا کھانے کے لئے بولے مگر پھر کچھ سوچ کر اس نے اسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجا صبح 9 بجے اسے اپنی باقی کی رقم مل جانی تھی اور انہیں اپنی منزل پر رواں ہونا تھا۔ آئے وہ تین تھے مگر ایک فرد کا اضافہ ہو چکا تھا۔ زین نے سوچ لیا تھا وہ حور کو اپنے ساتھ لے کے جائے گا۔ نادیہ بیگم کو اس نے یہاں آنے سے دو دن پہلے ہی ھوسپٹل میں ایڈمٹ کروا دیا تھا۔ ویسے بھی ان کے ڈائلیسس ہورہے تھے اور ہسپتال میں انکی کیئر اچھی ہو رہی تھی۔ زین نے سوچا تھا کہ مناسب وقت پر وہ اماں کو حور سے اپنے نکاح کے بارے میں بتائے گا ویسے بھی وہ خوش ہی ہوتی۔ اصل کنفیوژن اسے حور کی تھی پتہ نہیں وہ کیسے ری ایکٹ کرے لیکن یہ کوئی مسئلہ بھی نہیں تھا وہ اسے ہینڈل کر لے گا اسے یقین تھا۔

ویسے بھی اس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد بڑی بڑی پرابلم فیس کی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو تو اب اس نے سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا “پری” آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے کہا اور لب مسکرائے

“پتہ نہیں اسے شاہ یاد بھی ہو گا کہ نہیں”

یہی سوچتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح ہونے میں ابھی تھوڑا ہی وقت ہے جب اشعر نے زین کو اٹھایا

“بیٹا بہت خواب دیکھ لیے اب ہوش کی دنیا میں آ جاؤں”

زین میں آنکھیں کھول کر دیکھا تو ابھی پوری طرح ہو اجالا نہیں ہوا تھا برابر میں بلال بھی اونگ رہا تھا

“ویسے یار کیا مزے ہی تمہارے بھی، پکنک یہاں کون بنانے آیا تھا اور بنا کون رہا ہے”

اشعر نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔

زین نے اسے گھورنے پر اکتفاد کیا اور سگریٹ سلگاتا ہوا وہ باہر نکل گیا خضر وہاں پہلے سے ہی موجود تھا چونک کر زین نے اسے دیکھا۔ خضر کی بھی نظر زین پر پڑی

“تم حور کو چھوڑ دو پلیز وہ بہت معصوم ہے”

خضر نے بے بسی سے زین کو کہا

“تمہیں اس کے غم میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی اب وہ میری بیوی ہے تم دور رہو اس سے”

زین کو اس کے منہ سے حور کا ذکر ناگوار گزرا تھا اپنی ناگواری چھپائے بغیر زین نے خضر کو اس کہ کل والے جملے لوٹایا

“دیکھو تمہیں ہم سے جتنا پیسہ چاہیے تھا وہ تمہیں صبح تک مل جائے گا، اگر تمہیں مزید رقم چاہئے تو وہ میں تمہیں دونگا لیکن تم بدلے میں حور کو”

خضر کی بات مکمل ہونے سے پہلے زین نے خضر کا گریبان پکڑ تے ہوئے کہا

“مجھے پیسوں کا لالچ دینے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی جو پیسہ میں نے تمہارے باپ سے لیا ہے وہ میرا ہی ہے جو تمہارے باپ نے دھوکے سے لیا تھا حقیقت جا کے اپنے باپ سے پوچھو”

زین نے ایک جھٹکے سے خضر کا گریبان چھوڑا

اور ایک بات اور حور کو کسی بھی معاملے سے دور رکھوں میں دوبارہ تمہارے منہ سے اپنی بیوی کا نام نہیں سنوں گا”

زین نے اس کا گریبان سہی کرتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلے گیا

*****

صبح کا آغاز ہوا تو حور اپنے پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گئی پوری ہی رات اس نے جاگ کر گزاری تھی آسماء کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ برابر میں ہی لیٹی ہوئی تھی

بلال ہال نما کمرے میں آیا اور بلند آواز میں کہا

“سب لوگ جلدی سے باہر آ جاؤ”

رقم پوری زین کو مل گئی تھی اب اس نے ظفر مراد کو اس کی فیملی کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔۔۔

یہی طے پایا گیا کہ پہلے وہ لوگ ظفر مراد کی فیملی کو بھیجیں گے، بعد میں رقم لے کر خود نکلیں گے۔ جانے کے وقت جب سب لوگ بس کی طرف بڑھ رہے تھے جب زین نے کہا

“حور میرے ساتھ جائے گی”

زین نے حور کو بھی آسماء کے ساتھ بڑھتے ہوئے دیکھ کر بولا

سب کے قدم وہی تھم گئے زین آگے بڑھا اور حور کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اس کے عمل پر حور کو پہلی بار ہوش آیا اور اس کے منہ سے فقل ٹوٹا

“چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا ہے”

اس نے زین کے ہاتھ سے اپنا بازو نکالتے ہوئے کہا مگر زین کی گرفت اس کے بازو پر اتنی ہلکی نہیں تھی کہ وہ آسانی سے چھڑا سکتی

خضر نے آگے بڑھنے کی کوشش کی فاطمہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا

“چھوڑو میری بیٹی کو۔۔۔۔۔۔ پلیز بھائی صاحب دیکھیں یہ لوگ حور کو جانے نہیں دے رہے ہمارے ساتھ”

اسماء روتے ہوئے مسلسل بول رہی تھی وہ حور کی طرف بڑھنے لگی تو فاطمہ اور سارہ نے اس کو تھام لیا

“آپ سب کو یہاں سے جانا ہے یا مزید یہاں پر رہنا ہے اور ویسے بھی آپ کی بیٹی کسی غیر کے پاس نہیں ہے اپنے شوہر کے پاس ہے”

اشعر کے بولنے پر سارہ آسماء کو سمجھانے لگی

“چلو آسماء نکلو یہاں سے اور کوئی مزید ہمارا نقصان نہ ہوجائے ہم یہاں سے نکلیں گے تبھی حور کو آزاد کروائیں گے”

وہ آسماں کو لیے زبردستی بس کی طرف بڑھ گئی

باقی سب لوگ بھی ان کے پیچھے تھے خضر نے بس میں چڑھنے سے پہلے مڑ کر حور کو دیکھا اور مسلسل روتے ہوئے اپنا بازو زین کے ہاتھ سے چھڑا رہی تھی۔ خضر کی نظر زین پر پڑی تو زین اسی کو دیکھ رہا تھا، اس کے ہاتھ کی گرفت حور کے بازو پر مزید مضبوط ہوگئی اور وہ حور کو وہاں سے لے کر کمرے میں چلے گیا۔

خضر تھکے ہوئے انداز میں بس میں چھوڑا اور بس وہاں سے روانہ ہو گئی

****

“حور میری بات سنو”

وہ بالکل بے قابو ہو رہی تھی اسے زین کی کسی بات کا اثر نہیں ہورہا تھا وہ مسلسل زین کے ہاتھوں سے اپنا بازو چھڑانے کے لئے کبھی اس کے ہاتھ پر زور زور سے مار رہی تھی اور ناخنوں سے اس کے بازو نوچ رہی تھی وہ مسلسل زور زور سے چیخیں جا رہی تھی۔

“اپنے یہ پاگل پن کے مظاہرے بند کرو حور، نہیں تو تمہیں یہ سمجھانے میں مجھے دو منٹ نہیں لگیں گے کہ میں تم سے بڑا پاگل ہو” زین نے اسے وان کرتے ہوئے کمرے میں لا کر اسے بیڈ پر پٹخا۔

مگر وہ اٹھ کر دوبارہ زین کی طرف بڑھی اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی اپنے رد عمل کا اظہار کرتی زین نے ایک ہاتھ سے اس کے دونوں بازو قابو میں کئے اور دوسرے ہاتھ سے حور کے گال پر ایک تھپڑ رسید کیا۔۔۔

حور کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے حور کی بولتی بند کردی اور وہ وہی ساکت ہوگئی حور آنکھیں پھاڑ کر بے یقینی کے عالم میں سامنے کھڑے ہوئے شخص کو دیکھ رہی تھی

“اگر اب دوبارہ تمہارے ہاتھ چلے یا زبان چلی تو دونوں کاٹ کر پھینک دوں گا”

زین اسکو دھمکاتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کر کے وہاں سے چلے گیا اور حور گرنے کے انداز میں نیچے بیٹھ گئی

تھوڑی دیر بعد ان لوگوں کو وہاں سے نکلنا تھا۔ زین اشعر اور بلال کی طرف آیا

“ان لوگوں کو یہاں سے نکلے ہوئے پندرہ منٹ ہو گئے ہیں اب ہم لوگوں کو بھی نکلنا چاہیے”

اشعر نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

“ٹھیک ہے تم لوگ گاڑی نکالو میں حور کو لے کر آتا ہوں”

زین حور کے کمرے کی طرف گیا تو وہ فرش پر ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی اسے حور پر ہاتھ اٹھانے کا افسوس ہوا اس لئے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے بولا

“چلو حور اٹھو اب ہمیں بھی چلنا ہے”

وہ حور کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا

جیسے وہ ابھی اس کا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہو گی حور نے ایک نظر اس کو دیکھا اور اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اگنور کرکے آگے بڑھ گئی۔ زین ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈال کر اس کے پیچھے چلنے لگا

باہر گاڑی میں اشعر اور بلال بیٹھے ہوئے تھے گاڑی اسٹارٹ کی ہوئی تھی وہ شاید ان دونوں کا ہی انتظار کر رہے تھے۔ گیٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا حور نے کھلے ہوئے گیٹ کو ایک لمحہ دیکھا اور پھر بنا سوچے باہر کی طرف دوڑنا شروع کردیا

وہ تیز ہوتی سانسوں اور تیز ہوتی دھڑکن کے ساتھ تیزی سے اس سنسان سڑک پر بھاگ رہی تھی۔ اسے راستوں کا علم نہیں تھا بس اسے یہاں سے نکلنا تھا اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔ لیکن اب اس کی ہمت جواب دے گئی تھی اور پاؤں بری طرح دکھ چکے تھے لیکن اس نے ہمت نہیں ہارنی تھی۔ اس کی آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا آ رہا تھا مگر اسے یہ موقع نہیں گنوانا تھا۔۔۔اچانک کوئی اسکے سامنے آیا اور وہ اس چٹان نما چیز سے ٹکرا کر گرگئی اچانک اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تاریخ میں جاتے ہوئے دماغ کے ساتھ جو آخری بات اس کو یاد تھی وہ یہ کہ اس کا بے ہوش وجود دو مضبوط بازوؤں کی گرفت میں ہے