365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 18

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

حور کھانا بنا رہی تھی کہ موبائل پر میسج ٹون ہوئی موبائل ان لاک کیا تو زین کا میسج آیا ہوا تھا

Love u 💞😘

میسج پڑھ کر حور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی موبائل رکھ کر وہ چولہے کی آنچ ہلکی کرنے لگی دوبارہ میسج ٹون بجی

Miss u 😘😘💗

دوبارہ مسکراتے ہوئے حور نے گلاس میں پانی نکالا تو کال آنے لگی۔۔۔حور کال ریسیو کر کے نان اسٹاپ شروع ہوگی

“کیا تمہیں اپنے آفس میں اور کوئی دوسرا کام نہیں ہے بیوی کو تنگ کرنے اور یاد کرنے کے علاوہ”

حور اپنی بات مکمل کر کے پانی پینے لگی

“تم شاید کسی اور کی کال ایکسپکٹ کر رہی تھی۔۔۔۔ یہ میں بات کر رہا ہوں خضر”

خضر جو کہ بڑے خوشگوار موڈ میں حور کو کال کر رہا تھا مگر حور کی چہکتی ہوئی آواز اور لہجے میں محبت۔۔۔۔ وہ یقینا اسے زین سمجھی تھی، یہ سوچ کر خضر کو گھٹن کا احساس ہوا۔۔۔۔ جسے چھپاتے ہوئے اس نے حور سے اپنا تعارف کرایا

“او! خضر بھائی یہ آپ ہیں۔ ۔۔ ایم سوری وہ جلدی میں، میں نے نمبر نہیں دیکھا میں سمجھی زین ہے شاید”

حور کو خضر کی آواز سن کر پانی اپنے حلق میں پھنستا ہوا محسوس ہوا وہ بہت دقت کے بعد بولی

“کوئی بات نہیں ہے ہوجاتا ہے ایسا بھی۔۔۔ جب دن رات ایک ہی شخص کا چہرہ انکھوں کے سامنے رہے تو دماغ میں بھی وہی شخص رہنے لگتا ہے”

خضر بولا

“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں خضر بھائی جب ایک ہی انسان کا چہرہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو تو دل اور دماغ میں وہی شخص بستا ہے اور اسی کے متعلق سوچنا اچھا لگتا ہے”

حور نے خضر کی بات سے مکمل اتفاق کیا

“بالکل ٹھیک کہا تم نے حور۔۔۔ مگر انسان اس وقت اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرے جب سامنے والا بھی آپ کے لئے ایسے ہی جذبات رکھتا ہوں اور آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں”

خضر نے اس کو کچھ جتانا چاہا

“آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں خضر بھائی”

حور کو خضر کی بات نہ سمجھ آئی نہ پسند تبھی اس نے صاف لفظوں میں خضر سے پوچھا

“سادہ سی بات ہے اتنی مشکل بھی نہیں جو تمہیں سمجھ میں نہیں آئی، تم نے اس شخص کو دل اور دماغ میں جگہ دی ہے جو تمہارے جذبات کی قدر نہیں کرتا”

خضر بولا

“یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں”

حور کو خضر کی باتیں ناگوار گزری

“جو شخص تمھیں تمھارے گھر والوں سے نہیں ملنے دیتا تمہیں موبائل پر ان سے بات نہیں کرنے دیتا۔۔۔۔ تمہارے گھر آؤ تو تمہیں یہ خوف رہتا ہے تمہارے شوہر آ گیا تو کیا ہوگا۔۔۔ ظاہری سی بات ہے وہ شخص تمھارے جذبات اور احساسات کی کیا قدر کرے گا اور کیا تم سے محبت کرے گا”

خضر نے لگی لپٹی رکھے بغیر حور کو واضح جواب دیا

“میرا شوہر مجھ سے محبت بھی کرتا ہے، اسے میرے جذبات اور احساسات کی قدر بھی ہے۔۔۔ مگر میں ہر کسی کو اس بات کی وضاحت دینا ضروری نہیں سمجھتی”

حور نے برا مانتے ہوئے، مگر دو ٹوک انداز میں خضر سے بات کی

“تو پھر ٹھیک ہے مسزز زین! آپ اپنے شوہر سے اجازت لے کر کل اپنے گھر کے قریب ریسٹورینٹ میں اپنے کزن سے ملنے آجائے گا میں امید کرتا ہوں آپ کا loving husband آپ کے جذبات اور احساسات کی قدر کرتے ہوئے آپ کو اپنے کزن سے ملنے کی بخوشی اجازت دے دے گا۔۔۔۔ ظاہری بات ہے پیار کرتا ہے تم سے انکار تو نہیں کرے گا تمہاری بات کو۔۔۔۔میرا گھر آنا اسے شاید پسند آئے اس لئے میں تمہارا 5 بجے انتظار کروں گا”

اپنی بات کہہ کر خضر نے کال کاٹ دی اور حور وہی کی وہی بیٹھی رہ گئی

“یہ کیا مجھے عجیب کشمکش میں ڈال دیا خضر بھائی نے۔۔۔۔ میں باہر جاکر کیسے مل سکتی ہوں خضر بھائی سے کیا کرو اب، منع کردوں انھیں۔۔۔۔ ہاں یہی ٹھیک ہے”

اس نے موبائل اٹھایا

“مگر کیا کہوں گی ان سے انہوں نے تو یہی کہنا ہے کہ زین نے اجازت نے دی پھر وہ میری بات کو ویلیو نہیں دیتا۔۔۔ اف کیا کروں کس مشکل میں ڈال دیا۔۔۔ کیا زین سے بات کرنی چاہیے مجھے؟ مگر زین سے بات کرنا تو اپنی شامت لانے کے برابر ہے اسے تو کچھ بھی نہیں بتاسکتی میں۔۔۔۔ اگر نہیں جاونگی تو ہمیشہ کے لئے خضر بھائی کے دل میں یہ بات رہ جائے گی کہ میرا شوہر شکی ہے مجھے ملنے نہیں دیتا اب کیا کرو ۔۔۔۔۔ایک ہی حل ہے اگر میں زین کو نہ بتاو ویسے بھی زین تو سات بجے گھر آتا ہے جب تک تو میں واپس آجاؤں گی اور خضر بھائی کو بھی ایک دفعہ روبرو جتانا ضروری ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہو اور مطمئن بھی۔۔۔۔آدھے گھنٹے کی تو بات ہوگی میں واپس آجاؤ گی زین کو کیا پتہ چلے گا۔۔۔۔ حور کل کا پلان بنانے لگی یہ سوچے سمجھے بنا بھی یہ قدم اس کی زندگی میں کیا طوفان لا سکتا ہے

*****

خضر فون رکھ کر مطمئن ہو گیا اسے یقین تھا، چاہے کچھ بھی ہوجائے حور وہاں ضرور آئے گی اپنے اس سوکالڈ ہزبینڈ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے

“اور کل حور میں تمہیں تمہارے شوہر کی اصلیت کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات کی سچائی سے بھی آگاہ کردوں گا۔۔۔۔۔

وہ کہتے ہیں نا کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔۔۔۔ مسٹر شاہ زین تم نے حور کو مجھ سے چھینا ہے اب میری باری ہے تیار رہو۔۔۔۔۔ اور حور تم نے صحیح کہا تھا جب انسان کو آنکھوں کے سامنے ایک ہی چہرہ نظر آئے تو دل اور دماغ میں پھر وہی بستا ہے اب کل کے بعد ہر روز تمہیں صرف خضر مراد کا چہرہ نظر آئے گا میری محبت تمہیں مجبور کر دیے گی کہ تمہارے دل اور دماغ میں، میں ہی بسو”

خضر نے مسکراتے ہوئے سوچا مگر یہ بھول گیا تھا محبت صرف ایک ہی بار ہوتی ہے اور وہ حور کو زین سے ہو گئی تھی

****

بلال آفس سے گھر آیا تو فضا کو تیار دیکھا وہ بہت پیاری لگ رہی تھی

“آج کیا بجلیاں گرانے کا ارادہ ہے”

وہ شوخ لہجہ اپناتے ہوئے بولا

“پہلے کبھی تم پر بجلیاں گری ہیں جو آج گریں گی”

فضا بالوں کو برش کرتے ہوئے کہنے لگے

“تمہیں کیا پتہ کب کب اور کتنی بار اس دل پر بجلی گری ہیں”

وہ فضا کے قریب آتے ہوئے بولا

“اچھا۔۔۔۔ کافی حیرت ہوئی سن کر”

فضا حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئی

“اور اگر میں اپنا حال دل سنانے بیٹھ جاو تو تمہیں حیرت سے پتھر بن جانا ہے”

بلال نے فضا کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

“بلال مجھے تمہارے دل یا حال دل سے کوئی غرض نہیں ہے اور پتھر تو میں اسی دن بن گئی تھی جب میں نے نکاح نامہ پر سائن کیے تھے”

فضا نے اپنے کندھوں پر سے بلال کے ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے کہا

“فضا کیا ہم پرانی ساری باتوں کو بھول کر نئی زندگی کا آغاز نہیں کر سکتے”

بلال نے پیار سے اس کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے نرم لہجے میں کہا

“ایک مجبور انسان کے منہ سے ایسی باتیں سوٹ نہیں کرتی ہیں”

فضا روم سے جانے لگی

“فضا بس بہت ہوگیا اب ختم کرو یار یہ سب”

بلال نے فضا کو دونوں بازوؤں سے تھامتے ہوئے کہا

“میں بھی یہی کہہ رہی ہوں بہت ہو گیا ہے اب بس کرو بلال۔ ۔۔ ریڈی ہو کر نیچے آجاؤ ماموں کے گھر جاتا ہے آج” فضا نے اپنے بازو بلال کے ہاتھوں سے چھڑاتے ہوئے کہا اور باہر نکل گئی بلال اسے دیکھتا رہ گیا

*****

آج زین کافی لیٹ گھر آیا رات کا کھانا کھا کر وہ اپنا لیب ٹاپ سنبھال کر بیٹھ گیا۔۔۔۔ جب کہ حور شام سے ہی خضر سے ہونے والی بات کا سوچے جارہی تھی دماغ اسی طرف مسلسل لگا ہوا تھا۔۔۔۔ حور کی گھڑی پر نظر پڑی تو 12 بجنے والے تھے۔۔۔ وہ سونے کی نیت سے آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی

“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو سویٹ ہارٹ”

تھوڑی دیر بعد حور کو زین کی آواز اپنے کانوں میں سنائی دی۔۔۔۔ حور نے آنکھیں کھول کر حیرت سے زین کو دیکھا

“تمہیں کیسے میری برتھ ڈے کا پتہ چلا یقینا تمہیں ماما نے بتایا ہوگا”

آج شام سے مسلسل ٹینشن میں وہ اپنی برتھ ڈے کا ہی بھول گئی تھی، سب ٹینشن کو ایک طرف رکھ کر اس پر لعنت بھیج کر وہ اٹھ کر بیٹھ گئی

“ماما کیوں بتائے گیں مجھے پہلے سے ہی پتہ ہے کہ آج کے دن تمہارا برتھ ڈے ہوتا ہے”

زین نے اٹھ کر ڈراز سے چھوٹا سا ہارٹ شیپ ڈبہ نکالا اس میں سے ڈائمنڈ رنگ نکال کر حور کو پہناتے ہوئے کہا

“پھر میری برتھ ڈے کا یقینا تمہیں تمہارے موکلوں نے بتایا ہوگا واو یہ رنگ بہت پیاری ہے تھینک یو”

حور نے رنگ دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا

“اور اس رنگ کے بدلے مجھے کیا ملے گا”

زین نے آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے حور سے پوچھا

“جو تمہیں چاہیے تھا وہ تمہیں مل چکا ہے۔ یہ تم مجھے پہلے ہی کہہ چکے ہوں۔۔۔۔ اور جو میں تم سے پوچھ رہی ہوں تم اس بات کا جواب مجھے دو”

حور نے انکھیں گھماتے ہوئے کہا اور آخری بات پر منہ بنایا

“کیا بات کا جواب چاہئے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔ کیا پوچھنا ہے تمھیں”

زین نے حور کے ہونٹ کے نیچے تل کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے پوچھا

“یہی پوچھنا ہے نہ کہ میری برتھ ڈے کا تمہیں کیسے پتہ چلا”

حور کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی

“تمہاری برتھ ڈے کا نہ مجھے کسی میرے جاسوس نے بتایا ہے، نہ موکلوں نے اور نہ ہی تمہاری ماما نے بلکہ یہ بات تم نے مجھے خود اپنے بچپن میں بتائی تھی اتنی جلدی بھول گئی ہو تم پری”

زین نے قریب آکر اسکے گالوں کو چھوا

حور ایک دم کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی۔۔۔ پیچھے ہٹنے کی وجہ زین کا اس کے قریب آنا نہیں بلکہ اس کو پری کہہ کر مخاطب کرنا تھا کتنے سالوں بعد وہ آج کسی کے منہ سے اپنے لیے یہ نام سن رہی تھی

“میں۔۔۔۔۔ میں پری تو نہیں ہوں”

بچپن کی طرح حور نے آج بھی زین سے حیرت سے کہا۔۔۔۔وہ ٹرانس کی کیفیت میں زین کو دیکھنے لگی

“مگر مجھے تو تم پری ہی لگتی ہو”

زین نے مسکرا کر بچپن میں اس سے کہی ہوئی بات کو دوبارہ دہرایا

“شاہ”

حور نے زیر لب بڑابڑایا

بلال اور فضا اپنے ماموں کے گھر پہنچے آج رات وہ لوگ وہاں کھانے پر مدعو تھے۔۔۔ سب ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے مگر فضا نے نوٹ کیا سلوا (ماموں کی بیٹی) بلال سے ہی باتوں میں لگی ہوئی تھی اور کافی چہک چہک کر باتیں کر رہی تھی فضا کو آج سلوا پہلے سے زیادہ زہر لگی، وہ ہمیشہ سے ہی بلال سے ایسے فری ہونے کی کوشش کرتی تھی۔۔۔۔ یہ الگ بات تھی کہ بلال اس کو لفٹ نہیں کرواتا تھا مگر آج فضا کو جس بات پر غصہ آرہا تھا وہ یہ کہ بلال نا صرف سلوا کی باتوں کا جواب دے رہا تھا بلکہ مسکرا مسکرا کر خود بھی باتیں کر رہا تھا

“کس بات پر تھوبڑا بنا ہوا ہے تمہارا کسی کے گھر آئی ہو تو اپنے چہرے کے زاویے تو ٹھیک رکھو کم سے کم اسمائیل ہی دے دو “

بلال نے فضا کا پھولا ہوا منہ دیکھتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں کہا

“کس بات پر اسمائل دو میں۔۔۔ کوئی کامیڈی شو چل رہا ہے یہاں پر۔۔۔اور تمہارے چہرے پر کیوں بار بار مسکراہٹ آ رہی ہے کون سی خوشیاں ملی ہیں تمہیں یہاں آکر۔ ۔۔۔ اپنی یہ بتی سی اندر رکھو”

فضا جو کافی دیر سے بھری بیٹھی تھی بلال کے بولنے پر آئستہ آواز میں پھٹ پڑی اور بلال فضا کو گھورتا رہ گیا

کھانے کا دور چلا تب بھی سلوا ایک ایک ڈش اٹھا کر بلال کو دینے لگی، پھر فضا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا

“سلوا تمہیں زیادہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ بلال کو جو بھی کچھ چائیے ہوگا اسے وہ میں دے دوں گی اور اس کی پسند ناپسند کو میں اچھی طرح جانتی ہوں تم آرام سے اپنا کھانا کھاؤ”

فضا مسکراتے ہوئے مگر جتانے والے انداز میں سلوا کو دیکھتے ہوئے بولی اور سلوا کی بڑھائی ہوئی شامی کباب کی پلیٹ دوسری سائیڈ پر رکھ کر بلال کی پلیٹ دوسری چیزوں سے بھرنے لگی

“مگر مجھے تو شامی کباب کھانے تھے”

بلال ہلکی سے آواز میں منمنایا

“چپ کر کے جو پلیٹ میں بھرا ہے وہ کھاؤ”

وہ ٹیبل کے نیچے اپنا سینڈل والا پاؤں بلال کے پاؤں پر زور سے مارتے ہوئے بولی

بلال نے نظر اٹھا کر سلوا کی دیکھا جس کے تاثرات ایسے تھے کہ وہ ابھی فضا کو کچا چبا جائے گی مگر مجبوری میں صرف مسکرا رہی تھی۔ ۔۔۔ بلال اپنی پلیٹ کی طرف جھگ گیا

****

“کیا ہوا آج کھانے میں ممانی نے اتنی بھی مرچے نہیں ڈالی تھی جتنی تمہیں لگ گئی تھی”

بیڈروم میں آتے ہی بلال اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے فضا سے بولا

“کیا کہا تم نے مجھے مرچے لگی تھی۔۔۔۔ بلال مسعود فضا مرچیں لگانے والوں میں سے ہے”

فضا نے بلال کو گھور کر دیکھا

“بجلیاں گرانا، مرچیں لگانا ماشاءاللہ سے ساری کوالٹیز ہیں میری بیگم میں”

بلال نے پر شوخ نظروں سے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا

“فی الحال تو میرا آگ لگانے کو دل چاہ رہا تھا اس سلوا کی بچی کو۔۔۔۔ کس خوشی میں تم ایسے مسکرا مسکرا کر اس چڑیل سے باتیں کیے جا رہے تھے”

فضا باقاعدہ کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑنے والے انداز میں بلال سے پوچھنے لگی

“کسی کے گھر گئے تھے یار اب تمہاری طرح منہ بنا کر تو بیٹھنے سے رہا اور سلوا بیچاری وہ تو اداب میزبانی نبھا رہی تھی”

بلال کو فضا کا اس طرح جلنا، بہت مزہ دے رہا تھا

“سلوا اور بیچاری، ایک نمبر کی چھچوری ہے وہ اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا وہ کھانے کے ڈش بڑھانے کی بجائے تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھلانا شروع کر دے”

فضا نے جل کر کہا

“اچھا تو اتنی دیر سے تم یہ سوچ سوچ کر جل رہی ہوں”

بلال نے فضا کو اپنے قریب کرتے ہوئے کہا

“میں تو اپنی جوتی کو بھی نہ جلنے دو اس چڑیل سے اور تمہیں بھی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے دور ہٹو”

فضا بری طرح تپ چکی تھی اس نے بلال کو خود سے دور کرتے ہوئےکہا اور اپنی چادر اور تکیہ لے کر صوفے کے چلے گی

****

“شاہ”

حور نے حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر زین کو پکارا اور زین وہی اپنی آنکھوں میں مخصوص چمک لئے ہوئے مسکرا کر حور کے حیرت زدہ فیس ایکسپریشن انجوائے کررہا تھا

“پری کا شاہ”

حور کو نرمی سے بانہوں میں لیتے ہوئے کہنے لگا

“تم شاہ ہوں شازین۔۔۔ مجھے یقین نہیں آ رہا میں کیوں نہیں پہچانی تمہیں اف۔۔۔۔۔ تم پہچانتے تھے نا مجھے پہلے سے جانتے تھے نا؟؟ پھر تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔۔ میں تمہیں آج تک کتنا فضول انسان سمجھتی رہی لیکن تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ فضول نکلے”

حور زین کی بانہوں میں نان اسٹاپ بولنا شروع ہوچکی تھی مگر آخری بات پر الگ ہوتے اس نے ہلکا سا مکہ زین کے سینے پر مارا۔۔۔۔ جس پر کمرہ، زین کی قہقے سے گونج اٹھا

“میں نے تو آج یہ بات تمہاری برتھ ڈے پر یہ سوچ کر بتائی تھی تم بدلے میں مجھے ڈھیر سارا پیار کروں گی مگر تم تو تشدد پر اتر آئی ہوں میری ظالم پری”

زین اپنا سینہ سہلاتے ہوئے بولا

“پیار چاہیے تمہیں۔۔۔ میں تمہیں ڈھیر سارا پیار کروں گی تم یہ سوچ رہے تھے۔۔۔اب تک مجھے اتنا ڈھیر سارا پریشان کیا۔۔۔ مجھ پر ڈھیر سارا غصہ کیا اور تمہیں مجھ سے پیار چاہیے یہ توقع کر رہے تھے تم”

حور بیڈ پر پڑا ہوا تکیہ اٹھا کر زین کو مارنے لگی، جسے زین نے پکڑ لیا اور واپس تکیہ بیڈ پر رکھتے ہوئے حور کو اس پر لیٹایا اور اس پر جھکتے ہوئے کہنے لگا

“اور جو ڈھیر سارا پیار کیا ہے اس کا کیا”

زین کے سنجیدگی سے پوچھنے پر حور کی پلکیں ایک دم جھکی اور لب مسکرائے۔۔۔ یہ چہرہ زین کی نظر میں اس دنیا کا سب سے حسین چہرہ تھا

“مجھے ایک بات ہمیشہ کنفیوز کرتی ہے تم واقعی حسین ہو یا صرف شاہ زین کو ہی اتنی حسین لگتی ہو”

وہ حور کی پلکوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے حور سے پوچھ رہا تھا

“مجھے پتا ہی نہیں چلا تم کب سے میرے لئے اور اس دل کے لئے اتنی ضروری ہوگی۔۔ جب تم سے جدا ہوا تو ایسا کوئی بھی دن نہیں گزرا جب میں نے تمہیں یاد نہ کیا ہو۔۔۔ بابا کی ڈیتھ کے بعد میرا اور اماں کا آزمائش کا دور شروع ہو گیا، ہم دونوں نے بہت مشکل وقت دیکھا۔۔۔ مگر اپنی پریشانیوں میں الجھ کر بھی ایسا کوئی دن نہیں گزرا جب میں نے تمہیں یاد نہ کیا ہو اور جب اسپتال میں تمہیں اپنے سامنے دیکھا تو ایک لمحے کو تو مجھے یقین نہیں آیا کہ تم میرے سامنے کھڑی ہو میں اس وقت بری طرح شاک کی کیفیت میں تھا مجھے یقین نہیں آیا کی دعائیں ایسے بھی قبول ہوتی ہیں۔ ۔۔ مگر پھر خضر تمہارا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گیا، تو میرے اندر بہت کچھ ٹوٹ سا گیا۔۔۔ تم نے مجھے کیوں نہیں پہچانا میرا انتظار کیوں نہیں کیا میں نے کہا تھا نا میرا انتظار کرنا”

زین حور کے ہونٹ کے نیچے تل کو انگوٹھی سے سہلاتے ہوئے اس سے شکوہ کر رہا تھا

اور حور کیا بولتی وہ تو یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا زین اس کا شوہر شاہ ہوسکتا ہے اس کے بچپن کا دوست اور اس سے آج اس طرح اپنے محبت کا اقرار کرے گا یہ احساس ہی اسکے لیے نیا اور بہت خوشگوار تھا

“اور فائنلی اس دیو نے اپنی پری کو قید کر لیا کبھی نہ آزاد کرنے کیلئے” سنجیدگی سے بات کرتے ہوئے آخر میں زین نے شوخ لہجے میں کہاں جس پر حور بھی مسکرا دی

“اور اب اس پری کو بھی اس دیو سے اور اس کے قید خانے دے محبت ہوگئی ہے وہ خود بھی کبھی آزاد نہیں ہونا چاہے گی”

حور نے بہت آہستہ سے کہا۔۔۔ جس پر زین نے سرشاری سے مسکراتے ہوئے ہلکے سے اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکرایا

“آئی لو یو پری”

وہ حور کی گردن پر جھگتا ہوا بول رہا تھا

حور زین کی پناہوں میں اپنے آپ کو خوش نصیب تصور کر رہی تھی اس رات کافی دیر تک انہوں نے ڈھیر ساری اپنے بچپن کی باتیں کی اور اس طرح ایک خوبصورت رات کا اختتام ہوا

*****

“اٹھ جاو سویٹ ہارٹ صبح ہو گئی ہے کب کی”

زین نے حور کے اوپر سے بلینکیٹ کھینچتے ہوئے کہا

“شاہ سونے دو پلیز بلکہ ایسا کرو تم بھی سو جاؤ”

حور ابھی تک نیند میں تھی اور نیند میں ہی اس کو بھی مشورہ دیا۔۔۔ زین سے شاہ تک کا سفر اس نے کل رات کو ہی طے کر لیا تھا

“میں آفس جانے کے لئے تیار ہو چکا ہو تم یہ بتاؤ تم اٹھ کر ناشتہ کر رہی ہوں یا نہیں”

زین کا لہجہ نرم تھا لیکن انداز وان کرنے والا تھا حور نے آنکھیں کھولیں

“شاہ تم اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہو مجھے نیند آ رہی ہے”

حور نے بیچارگی سے دیکھتے ہوئے کہا

“یہ ڈائیلاگز بعد میں بولنا، جلدی سے ناشتے کے لیے ٹیبل پر آؤ پھر میڈیسن بھی لینی ہے تمہیں”

وہ ہاتھ میں گھڑی پہنتے ہوئے مصروف انداز میں کہہ رہا تھا

کیئرنگ تو وہ اس کے لئے پہلے بھی تھا مگر پریگنینسی کا سن کر وہ مزید بچوں کی طرح اس کی کئیر کرنے لگا تھا۔۔ ناچار حور کو منہ بناتے ہوئے اٹھنا پڑا

“میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہم بلال اور فضا وہ اپنے گھر پر ڈنر کے لئے انوائٹ کرلیں کھانہ باہر سے ارڈر کر لیں گے کیا خیال ہے تمہارا”

زین نے چائے کا سپ لیتے ہوئے حور سے مشورہ لینا چاہا۔۔ ۔۔

حور ناشتہ کرتے ہوئے مسلسل یہی سوچے جارہی تھی خضر کو کیسے منع کرے یا پھر زین کو بتانا ٹھیک رہے گا خضر کے بارے میں۔۔۔۔ مگر پھر وہی مسئلہ زین کیا ری ایکٹ کرے جو بھی تھا وہ اب بھی زین کے غصے سے ڈرتی تھی

“شاہ کو بتانے سے بہتر ہے کہ میں خضر بھائی کو خود ہی فون کرکے منع کر دوں”

“Knock knock

کہاں گم ہو سویٹ ہارٹ”

زین نے حور کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا

“ہاں۔۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہے ہو ایسے ہی کر لیتے ہیں”

حور نے غائب دماغی میں جواب دیا

“ٹھیک ہے پھر میں نکلتا ہوں آفس، لیٹ ہو گیا ہوں آج، تم میڈیسن لے لینا یاد سے۔ ۔۔ خیال رکھنا اپنا”

وہ چائے کا کپ رکھ کر اٹھ کر جانے لگا

“شاہ”

حور نے زین کو پکارا

“ہاں بولو”

زین واپس پلٹا

“تم مجھ سے پیار کرتے ہو”

حور کو خود سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے زین سے پوچھا ہے یا اسے بتایا ہے

“کیا بالکل ابھی ابھی ثبوت چاہیے” وہ شرارت سے بولا

“نہیں آفس جاؤ تم لیٹ ہو رہے ہو”

حور اس کی آنکھوں سے چھلکتی شرارت دیکھ کر بولی

“اوکے خیال رکھنا اپنا بھی اور اس کا بھی”

حور کے ماتھے پر وہ اپنے لب پر رکھ کر