Itni Mohabbat Karo Naw (Part 1) by Zeenia Sharjeel NovelR50412 Itni Mohabbat Karo Naw Episode 6
Rate this Novel
Itni Mohabbat Karo Naw Episode 6
Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel
سردیوں کا آغاز ہوچکا تھا اور آج چھٹی کا بھی دن تھا سب لوگ لان میں بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔ماہم چائے کا کپ تھامتے ہوئے بے زار انداز میں بولی
“پڑھ پڑھ کر میں پک چکی ہوں پلیز کہیں اوٹنگ کا پروگرام بنائے”
“چلو تو پھر آج رات کا ڈنر باہر سب کو میری طرف سے”
خضر نے حور کو دیکھتے ہوئے کہا جو کے ابھی سب کے درمیان آکر بیٹھی تھی۔ جب سے ان دونوں کی رشتے کی بات گھر میں چلی تھی حور کم ہی خضر کے سامنے آتی تھی ایک بے نام سے ججھک ان دونوں کے رشتے میں آ گئی تھی
“کیا خضر بھائی میں ڈنر کی بات تھوڑی کر رہی ہوں، وہ تو آپ اپنی منگنی کی خوشی میں ویسے ہی کرادیں گے۔۔۔۔ کہیں پکنک کا پروگرام بنائے پلیز”
“ہاں یار ویسے پکنک تو ہونی چاہیے آئیڈیا برا نہیں”
ردا نے بھی ماہم کی ہاں میں ہاں ملائی
“گھر میں تھوڑے ہی دنوں بعد تقریب ہے اور تم لوگوں کو پکنک کی لگی ہوئی ہے کوئی کہیں نہیں جا رہا چپ کر کے بیٹھو گھر میں”
سارہ نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا
“نہیں ماہم صحیح کہہ رہی ہے کافی عرصہ ہو گیا کہیں گئے ہوئے ایسا کرتے ہیں پرسوں اپنے فارم ہاؤس پر چلتے ہیں۔ تھوڑا ہم بوڑھے لوگ بھی فریش ہو جائیں گے”
ضفر مراد بولے
“تھینکیو تایا “
ماہم چہک کر بولی
سب ہی خوش تھے سوائے فاطمہ کے
****
فضا پھٹی پھٹی آنکھوں سے بلال کو دیکھ رہی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ بلال کے ہاتھوں میں پسٹل ہے اور وہ اس پر تانے کھڑا ہے
“بلال یہ تم”
اگے وہ بول نہیں پائی قدموں کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی چھت پر آ رہا ہے۔ بلال نے پھرتی سے پسٹل واپس پاکٹ میں رکھ لی
“یہ لو بھئی گرما گرم چائے پکوڑوں کے ساتھ حاضر ہے”
تانیہ ہاتھ میں چائے کی ٹرے لے کر چھت پر نمودار ہوئی اس کے پیچھے ثانیہ بھی تھی
“ارے رکو کہاں جا رہی ہو چائے لائی ہوں تمہارے لئے”
فضا کو جاتا ہوا دیکھ کر تانیہ نے کہا
“نہیں مجھے گھر جانا ہے”
فضا یہ کہہ کر رکی نہیں
“اسے کیا ہوا” ثانیہ نے بولا
بلال نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کندھے اچکائے
وہ فضا کے لیے اپنے آنکھوں میں محبت اور پہلے ہی دیکھ چکا تھا پسند وہ خود بھی کرتا تھا مگر اپنے مسئلے مسائل اور ذمہ داریاں۔۔۔۔ ان سب کا سوچ کر اس نے کبھی بھی فضا کے جذبوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور اب جو راہ وہ اختیار کر گیا تھا اسے خود نہیں پتہ تھا کل کو اس کا مستقبل کیا ہے۔ پہلے فضا کی محبت صرف آنکھوں سے عیاں ہوتی تھی مگر اب وہ لفظوں کا سہارا لینے لگی تھی
بلال کا مقصد فضا کو اس طرح کرکے ڈرانا یا ناراض کرنا نہیں تھا وہ صرف اسے آگاہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ جن راستوں پر چل نکلی ہے اس کے لئے یہ راستے خطرناک ہے
****
“تو ظفر مراد کے خلاف تمہیں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا، کافی شاطر انسان نکلا تمہارا یہ ہونے والا تایا سسر”
بلال نے آخری بات شوخ انداز میں کہی جس پر اسے زین نے گھور کر دیکھا
“یہ کیا سین ہے باس یہ سٹوری کب سٹارٹ ہوئی”
اشعر نے ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھا اور حیرت میں مبتلا ہو کر پوچھا
اس کے بعد بلال نے پوری رواداد اشعر کو سنائی
“بس ہو گیا تمہارا”
زین سیگریٹ منہ میں رکھتے ہوئے بولا
“اے میرے ہیرو تم تو چھپے رستم نکلے یار”
ابھی زین کچھ بولتا اس سے پہلے زین کا موبائل بجا
“ہاں فیصل بولو۔۔۔ چلو ٹھیک ہے”
زین دوبارہ سگریٹ پینے میں مصروف ہو گیا
“خیریت کیا خبر ہے” بلال نے پوچھا
“ظفر مراد اپنی فیملی کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس جارہا ہے”
زین کچھ سوچتے ہوئے بولا
“تو پھر آگے کیا سوچا ھے تم نے”
اشعر نے سنجیدگی سے پوچھا
“سوچ رہا ہوں کیسے یہ پکنک ظفر مراد کے لیئے یادگار بناو”
زین سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے بولا
*****
“اپنا سامان لڑکی ہم دو دن کے لیے جا رہے ہیں دو مہینوں کے لئے نہیں”
خضر نے ما ہم کو 3 بیکس لاتے ہوئے دیکھ کر کہا
“یہ بس دیکھ کر تو ایسا ہی لگ رہا ہے جیسے دو مہینے کے لئے جا رہے ہیں”
ماہم بولی
“تمارا سامان دیکھتے ہوئے ارینج کرائی ہے”
“یہ آپ نے بہت اچھا کیا ابھی دو بیگز اور لے کر آتی ہوں جب تک آپ انہیں رکھوائے”
ماہم اس کو بیگز تھماتے ہوئے اندر چلی گئی
“کچھ نہیں ہوسکتا اس لڑکی کا”
خضر نے ماہم کو جاتے ہوئے دیکھ کر بولا
****
یہ فارم ہاؤس ظفر مراد کا اپنا ذاتی تھا آبادی سے کافی دور تھا بڑی سی بس جب فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوئی تو مین ڈور بن کر دیا گیا سب لوگ اپنے اپنے بیکز لے کر اندر جا رہے تھے اور بہت خوش تھے سوائے فاطمہ کے۔ انہیں یہ ٹینشن تھی کہ اب گھر جانے کے بعد منگنی کر شور مچ جائے گا اور وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
شام کا وقت تھا اسب لوگ لان میں کرسیوں پر برجمان ہوئے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے سب کی موجودگی میں خضر کو حور کہیں نظر نہیں آئی اس کو ڈھونڈتا ہوا پول کی سائیڈ پر آ گیا وہ وہی موجود کسی گہری سوچ میں گم تھی
“کیا ہوا حور کیا سوچ رہی ہوں”
خضر کی آواز پر حور نے چونک کر اسے دیکھا
“آپ”حور نے ادھر ادھر دیکھا اگر تائی نے دیکھ لیا تو سب کے سامنے اس کی عزت افزائی ہی نہ ہو جائے۔ یہ سوچ کر وہ وہاں سے جانے لگی
“رکو حور یہاں بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے”
خضر نے اس کو جاتے ہوئے دیکھ کر بولا
“حور کیا تم اس رشتے سے خوش ہوں؟ آئی مین تمہارا یہ گریز کہی تم کسی اور کو تو پسند”
“یہ آپ کیسی بات کررہے ہیں۔۔۔میں کسی اور میں involve آپ مجھے ایسی لڑکی سمجھتے ہیں”
حور نے خفگی سے خضر کو دیکھتے ہوئے کہاں
“ائی ایم سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا دراصل تمھارا اس طرح مجھ سے گریز”
خضر نے بات ادھوری چھوڑی
“خضر بھائی میں نے آپ کو ہمیشہ بھائی سمجھا ہے کبھی دوسری نظر سے نہیں دیکھا یہ سب اتنا اچانک ابھی تو مجھے بہت سارا پڑنا تھا اور پھر تائی وہ خوش نہیں ہیں آپ کو ان کی خوشی میں مدنظر رکھنی چاہیے”
“دیکھو حور مجھے اندازہ ہے کہ امی اس رشتے سے خوش نہیں۔ ان کا رویہ بھی تمہارے اور اسماء چچی کے ساتھ زیادہ اچھا نہیں۔۔۔۔۔ لیکن وہ اپنے بیٹے سے بھی بہت پیار کرتی ہے اور جب انہیں معلوم ہو گا ان کے بیٹے کی خوشی اسی میں ہے تو آہستہ آہستہ اس رشتے کو قبول کرلیں گیں، رہی بات تمہارے پڑھنے کی تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے ابھی صرف منگنی ہو رہی ہے شادی تمہاری اسٹیڈیز کمپلیٹ کرنے کے بعد رکھیں گے اور آخری بات تم نے ہمیشہ مجھے بھائی سمجھا ہے دوسری نظر سے نہیں دیکھا تو اب دیکھ لو”
اس سے پہلے خضر کچھ اور کہتا عجیب شور کی آواز لان سے آئی۔۔۔۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو نا سمجھی سے دیکھا پھر دونوں ہی لان کی طرف جانے لگے
****
لان میں ساری ہی فیملی بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھی ہلکا ہلکا اندھیرا ہو رہا تھا جبھی دیواروں پر سے کسی کے کودنے کی آواز آئی تین نقاب پوش ہاتھوں میں پسٹل لیے ہوئے ان لوگوں کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔
ماہم اور سارہ کی پسٹل دیکھ کر خوف سے چیخیں نکل گئی
“آواز نہیں نکلنی چاہیے اب کسی کی اگر اب کسی کی آواز آئی تو یہی مار ڈالوں گا”
ایک نقاب پوش بولا
“چلو سب اپنے موبائل جلدی جلدی ٹیبل پر رکھو بغیر کسی چالاکی کے ساتھ”
ایک نقاب پوش بولا
دوسرا کمروں کی طرف گیا اور پوری جگہ کا جائزہ لینے لگا۔ کچن میں موجود خانساماں کو بھی لے کر لان میں آگیا۔ جب سب اپنے موبائل نکال چکے تھے اتنے میں خضر اور حور بھی لان کی طرف آئے اور لان کا منظر دیکھتے ہی جہاں خضر حیرت میں مبتلا ہوا وہی حور کی آنکھیں بھی خوف سے پھیل گئی ان تینوں میں سے ایک حور اور خضر کی طرف بڑھا اس کے قدم آگے بڑھانے پر حور بے ساختہ خضر کے پیچھے چھپنے کے انداز میں کھڑی ہوئی۔ اس عمل سے نقاب پوش جس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھی اب ان آنکھوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی وہ حور کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا اور آگے قدم بڑھاتا ہوا وہ خضر کے سامنے آیا نظریں مسلسل حور پر تھی
“موبائل 2”
ہاتھ میں پسٹل لیے اس نے خضر کو دیکھ کر غرا کر کہا۔ خضر نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر اس کی طرف بڑھایا
“موبائل”
اس نے آب حور کو مخاطب کر کے کہا
“مم میرے پاس نہیں ہے”
حور نے ڈرتے ہوئے الفاظ ادا کیے
نقاب پوش نے پسٹل والے ہاتھ سے ان دونوں کو باقی لوگوں کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ حور وہاں پہنچتے ہی آسماء سے لپٹ گئی باقی سب کو ان تینوں نے کرسیوں پر بیٹھا دیا اور سب کے موبائل فون بھی اپنے قبضے میں کرلیے
“دیکھو تم لوگوں کو جو بھی کچھ چاہیے وہ تم لوگ لے لو لیکن پلیز ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ میں کوآپریٹ کرنے کے لئے تیار ہوں”
ظفر مراد نے موقع محل دیکھا تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے
آرام سے گویا ہوئے
“جو ہمیں چاہیے ہو گا وہ تو ہم لے ہی لیں گے ‘کیسے بھی، اور کوآپریٹو تو اب تمھارے اچھے بھی کریں گے اس کی تم فکر نہ کرو”
ان میں سے ایک ظفر مراد کے قریب آ کر بولا
ظفر مراد نے اپنا والڈ نکال کر آگے بڑھایا
“کیا چاونی چور سمجھا ہوا ہے اور یہ کیا مسجد کا چندہ دے رہے ہو”
اس نقاب پوش نے والڈ دور اچھالتے ہوئے کہا
“کیا۔۔۔ کیا چاہیے تم لوگوں کو”
ظفر مراد نے ضبط کرتے ہوئے بولا
“یہ کی ہے نا اب کام کی بات, چیک بک نکالو جلدی”
اس نقاب پوش نے اپنی جیکٹ میں سے کاغذ اور پین نکالتے ہوئے چیک بک ظفر مراد کے ہاتھ سے لےلی
“سگنیچرز کرو اس پر”
اس نقاب پوش نے پیپر اور پین ظفر مراد کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا
“کیا ہے آن پیپرز میں”
ظفر مراد نے پوچھا
“سوال نہیں سائن کرو جلدی”
تیز لہجے میں کہتے ہوئے پسٹل ظفر مراد کے سر پر تان لی
“کیا کر رہے ہیں ظفر سائن کر دیں نا جلدی”
فاطمہ خوف زدہ ہوتے ہوئے بولیں
ظفر مراد پیپرز پڑھنے لگے وہ کوئی قانونی لیگل نوٹس تھا۔ جس میں لکھا ہوا تھا
“میں ظفر مراد اپنی مرضی سے اپنے ہوش و حواس میں بغیر کسی دباؤ کے اپنے مرحوم دوست ساجد شاہ کی پراپرٹی کا حصہ جو کہ میرے پاس اس کی امانت تھا رقم کی صورت میں اس کے بیٹے شاہ زین کے حوالے کرتا ہوں”
یہ پڑھ کر ظفر مراد کی آنکھوں میں غصے کی ایک لہر دوڑی۔ انہیں ایک لمحہ نہیں لگا یہ سمجھنے میں ان کے سامنے کھڑا یہ نقاب پوش کون ہے “تم”
وہ صرف اتنا بول سکے
“ہاں میں”
زین نے اپنا نقاب اتارا اس کی پشت سب لوگوں کی طرف تھی۔ نقاب اترنے سے کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا
“جلدی سائن کروں”
پسٹل ابھی بھی ظفر مراد کے ماتھے پر تھی
ساری خواتین سمیت ماہم ردا اور حور خوف سے رو رہی تھئں۔ کیوکہ بلال اور اشعر کی پسٹل کا رخ ان سب کی طرف تھا جب کہ زین نے پسٹل ہر مراد کے ماتھے پر رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے مرے مرے ہاتھوں سے سگنیچر کردیئے۔۔۔ زین نے ظفر مراد کے ہاتھوں سے پیپرز لے کر ایک نظر پیپرز پر ڈالی اور چیک بگ ظفر مراد ک اگے کی اور سائن کا اشارہ کیا
اب زین کا چہرہ باقی سب لوگوں کی طرف تھا۔ جہاں خضر اس کا چہرہ دیکھ کر چونکا وہی حور کے سارے جسم کا خون خشک ہو گیا وہ باقاعدہ کپکپانے لگی وہ تو اسے بالکل ہی فراموش کرچکی تھی پیپرز ختم ہونے کے بعد اس نے سوچا تھا ‘چلو اس گھٹیا شخص سے تو جان چھٹی جو اس کو نہ جانے کیوں ڈراتا تھا۔ مگر یہ کیا آج وہ پھر اس کے سامنے تھا وہ بری طرح خوفزدہ ہو گئی۔
آب کے زین کی بھی نظر حور کے اوپر پڑی اس کو دیکھ کر زین کو غصہ آنے لگا کتنے مزے سے وہ پول والی سائیڈ پر خضر کے ساتھ اکیلی تھی اس کے منع کرنے کے باوجود اور جب وہ اس کی طرف بڑھا تھا تو وہ کس طرح خضر کے پیچھے چھپ گئی تھی یہ چیز زین کو اور سلگا گئی
دوبارہ ظفر مراد کی طرف مڑا اور بولا
“یہ چیک پر تم نے کس حساب سے رقم لکھی ہے”
زین نے ظفر مراد سے پوچھا
“اتنی ساری رقم کا بندوبست میں ایک ساتھ نہیں کرسکتا باقی کی رقم ارینج کرنے میں مجھے تھوڑا وقت چاہئیے”
“اب بھی ارینج نہیں ہوگا”
اب زین کی پسٹل کا رخ خضر کے اوپر تھا
“کیا کر رہے ہیں ظفر یہ لوگ جو مانگ رہے ہیں آپ انہیں دے دیں”
فاطمہ نے باقاعدہ روتے ہوئے بولیں
“میں صحیح کہہ رہا ہوں میری بات کا یقین کرو میرے پاس جتنی رقم تھی وہ میں نے اس چیک میں لکھ دی ہے۔ باقی رقم ارینج کرنے کے لئے مجھے پورا ایک دن لگے گا مجھے پلیز ایک دن کی مہلت دو میں تمھیں تمھاری ساری رقم دے دوں گا”
اب کے ظفر مراد بہت بے بسی سے بولے کیونکہ پسٹل ان کے بیٹے کے اوپر تھی
“ٹھیک ہے پھر ہم 24 گھنٹے تک تمہارے اور تمہاری فیملی کے مہمان ہیں یعنی ہم 24گھنٹے اسی فارم ہاؤس کے رہیں گے تمہاری فیملی اور تمہارے ساتھ۔ اگر کسی نے کوئی بھی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو وہ اپنی جان سے جائے گا یاد رہے”
زین نے سب کو باور کرایا
“سب اسی جگہ پر رہیں گے کوئی کہیں نہیں جائے گا۔۔۔ تم جو جاکر رات کا کھانا بناؤ اور بلال تم اس کے ساتھ جاو”
اشعر نے پہلے سب کو وان کیا پھر خانساماں سے رات کا کھانا بنانے کے لئے بولا اور بلال کو اس کے ساتھ کچن بھیج دیا۔ تاکہ خانساماں کوئی ہوشیای نہ دکھا سکے خود اشعر اور زین کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے۔
سب لوگ لان میں ہی ان کے سامنے اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے
رات ہونے کی وجہ سے اب سردی بڑھ رہی تھی اتفاق سے حور اپنا سویٹر بس میں چھوڑ آئی تھی اور آسماء کی شال بھی بس میں ہی تھی۔ اسماء کو سردی لگ رہی تھی اور بار بار کھانسی ہو رہی تھی کیوکہ ان کو پہلے ہی فلو ہورہا تھا اب سردی لگنے کی وجہ سے مزید طبیعت خراب ہو رہی تھی
“چچی کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے آپ کی”
خضر نے کھانستی ہوئی آسماء سے پوچھا
“ٹھنڈ کی وجہ سے شاید طبیعت خراب ہو رہی ہے، ماما کی شال بس میں ہے”
حور نے پریشانی سے خضر کو بتایا
“کوئی بات نہیں میں لے آتا ہوں”
خضر اٹھتے ہوئے بولا
“ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور شال بس میں ہے وہ لینے جانا ہے”
خضر نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“زیادہ ہیرو بننے کی کوشش نہیں کرو اور چپ کر کے بیٹھ جاؤ”
اشعر نے خضر کو بولا خضر اپنے جبڑے بھینچ کر بیٹھ گیا
“جاو تم شال لے کر آو بس سے”
اشعر نے حور کی طرف اشارہ کیا
وہ کانپتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ اٹھی اور بس کی طرف جانے لگی بس میں پہنچی تو آخری والی سیٹ پر اس کا سویٹر اور شام دونوں رکھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں چیزیں لے کر جیسے ہی پلٹی وہ حور کے قریب کھڑا ہوا تھا دونوں چیزیں حور کے ہاتھ سے گر گئیں۔ وہ انکھوں میں سنجیدگی کا تاثر لیے حور کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
حور نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی لیکن اس نے ہاتھ بڑھا کر بس کے شیشے پر رکھ دیا اور جانے کا راستہ بن کر کے اس کی کوشش ناکام بنا دی ۔۔۔۔ خوف کے مارے حور کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں حور نے دوسری طرف سے نکلنے کی کوشش کی تو اس نے دوسرا ہاتھ بھی بس کے شیشے بھی رکھ دیا۔ ۔۔۔ دونوں ہاتھ بس پر رکھنے سے ایسا لگ رہا تھا حور پوری کی پوری اس کی باہوں کے حصار میں آگئی ہو مگر حور کی کمر بسر ٹکی ہوئی تھی وہ آپ بھی سنجیدہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اب حور کو اپنا دل روکتا ہوا محسوس ہوا
