Itni Mohabbat Karo Naw (Part 1) by Zeenia Sharjeel NovelR50412 Itni Mohabbat Karo Naw Episode 8
Rate this Novel
Itni Mohabbat Karo Naw Episode 8
Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel
آج تانیہ یونیورسٹی نہیں گئی تھی فضا اکیلے ہی یونیورسٹی سے گھر آ رہی تھی اچانک ایک بائیک تیز رفتار سے بالکل اس کے سامنے آکر رکی وہ ایک دم اچھل کے دور ہٹی
“کیا ہوا ڈر گیں تھی”
بلال ہیلمٹ اتارتا ہوا اس سے پوچھ رہا تھا
“تو ڈرنے کی ہی بات تھی اگر میں ہٹتی نہیں تو بائیک تم نے میرے اوپر چڑھا دینی تھی”
فضا نے گھور کر اس سے کہا
“میں ابھی کے ڈرنے کی بات نہیں کر رہا میں تو اس دن کی بات کر رہا ہوں”
اس نے دوبارہ ہاتھ سے پسٹل بنا کر فضا کے سر کا نشانہ لیا
“تو کیا نہیں ڈرنا چاہیے تھا”
فضا نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا
“چلو آؤ بیٹھو گھر چھوڑ دو”
بلال نے کہا
“نہیں تم یہ جو خطرناک کام کر رہے ہو وہ چھوڑ دو”
فضا نے اسی کے انداز میں جواب دیا
“ثانیہ بتا رہی تھی تم تین چار دن سے گھر نہیں آئ”
بلال نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا
“کیا تم نے میرا انتظار کیا”
فضا نے بغور بلال کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
“فضول میں شروع مت ہو جایا کرو سیدھی طرح اگر چلنا ہے تو بیٹھ جاؤ”
بلال نے سنجیدگی سے کہا
فضا لمبا سانس کھینچ کر بلال کے پیچھے بائک پر بیٹھ گئی
****
اشعر اپنے روم میں بیٹھا کرکٹ دیکھ رہا تھا شازیہ)(ممی) اندر آئیں
“ائیں ممی”
اشعر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
“ہاں بیٹا میں ہی آؤں گی تمہیں تو فرصت ہی نہیں تھوڑی دیر ماں کے پاس بھی آ کر بیٹھ جاؤ”
انہوں نے بیٹھتے ہوئے اشعر کی خبر لی
“ایسی بات تو نہ کریں جب میں گھر آیا تو آپ اس وقت سو رہی تھیں مجھے ڈسٹرب کرنا اچھا نہیں لگا”
اشعر نے وضاحت دی
“یہ تم دو دن سے غائب کہاں تھے”
شازیہ کا ابھی بھی اشعر کے کان کھینچنے کا ارادہ تھا
“بس ممی دوستوں کے ساتھ پکنک کا پروگرام بن گیا تھا وہیں پر تھا”
اشعر نے ٹی وی کا والیوم سلو کرتے ہوئے کہا
“اشعر اب تم اپنی لائف کو لے کر بالکل سیریز ہو جاؤ تم نے بہت عیاشیاں کرلی ہیں جاب ڈھونڈوں کوئی کب تک بھائی کما کر بھیجتا رہے گا، کل کو اس کی بھی شادی ہو جائے گی ساری زندگی تو تمہیں کماکر نہیں کھلائے گا”
انہوں نے آج اچھی طرح لیکچر دینا ضروری سمجھا
“کیا ممی آج آپ کا میری کلاس لینے کا ارادہ ہے”
اشعر نے منہ پھلاتے ہوئے کہا
“تو کیا مجھے ابھی بھی نہیں لینی چاہیے تمہاری کلاس کب سے تمہاری اسٹڈیز کمپلیٹ ہو گئی ہے اور تمہارا لاابالی پن ہی ختم نہیں ہو رہا”
انہوں نے اچھی خاصی اشعر کی درگت بنائی
“اچھا نہ ڈھونڈ لوں گا جاب بھی بس آب ناراض نہ ہوں”
اشعر لاڈ سے ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
****
ظفر مراد اپنی فیملی کے ساتھ گھر پہنچے سب ابھی تک شاک کی کیفیت میں تھے۔ ظفر مراد کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا ان کا اتنا نقصان ہو گیا ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کل کے لڑکے شاہ زین کو گولی سے اڑا دے۔ اسماء رو رو کے اب تھک گئی تھی، خضر اور آسماء بھی اپنے اپنے نقصان کا سوچ رہے تھے۔ تھوڑی بہت مطمئن تھی وہ فاطمہ تھی وہ حیران تھیں اور خوش بھی جو کانٹا حور کی شکل میں ان کی زندگی میں آ گیا تھا وہ خود ہی راستے سے ہٹ گیا
****
بلال فضا کو چھوڑ کر گھر پہنچا تو رضیہ خالہ (ثانیہ کی ساس) آئی ہوئی تھیں
“السلام علیکم خالہ کیسی ہیں آپ”
بلال ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
“جیتے رہو تم سناو کیسے ہو اور کہاں غائب ہو بیٹا”
انہوں نے پیار کرتے ہوئے بولا اور اپنے پاس بٹھایا
“جی خالہ کام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا آپ سنائیں اسجد بھائی کیسے ہیں”
(خالہ کے بیٹے) جو کہ ثانیہ کا شوہر بھی تھا بلال نے اس کے بارے میں پوچھا
“ہاں بیٹا اسجد ٹھیک ہے بس اسی کے سلسلے میں آئی تھی”
انہوں نے بات کا آغاز کیا
“میری بہن حیات ہوتی تو میں یہ بات ان سے کرتی بھائی صاحب بھی بس۔۔۔۔ اللہ انیہں زندگی دے اب تم ہی ہو بہنوں کے لئے ماں باپ کی جگہ اس مہینے اسجد کے سعودیہ سے واپس آنے کا ہو رہا ہے تو میں چاہتی ہوں نکاح تو ہوا وا ہے کیوں نہ سادگی سے شادی کردی جاے۔ تم بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤ”
وہ چپ ہوئیں انہوں نے رائے لینی چاہیی
“خالا ابو کے بعد آپ میری بڑی ہے جو آپ کو بہتر لگے ہو کریں”
بلال نے سعادت مندی سے جواب دیا
حالات اتنے بہتر نہیں کہ مگر اب اتنے بدتر بھی نہیں تھے جو اپنی بہن کی شادی نہ کر سکے
*****
وہ سو رہی تھی اس کو اپنے پیٹ پر دباؤ سا محسوس ہوا جیسے کوئی بھاری چیز اس کے پیٹ پر رکھی ہو۔ انکھیں کھلنے پر اس کی نظر چھت پر گئی یہ کون سی جگہ ہے اس نے اپنے دماغ پر زور ڈالنا چاہا۔۔۔ سر گھما کر دیکھا تو اس کی نظر اپنے برابر میں لیٹے ہوئے زین پر گئی جو اس کے بہت قریب لیٹا ہوا تھا اور اس کا ہاتھ حور کے پیٹ پر تھا حور کی آنکھیں خوف سے پھیلی اور وہ ایک زور دار چیخ “آآآآْآآآ”
خود وہ اچھل کر بیڈ سے نیچے گری اور اس کی چیخوں سے زین کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ہڑبڑاتا ہوا اٹھا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا پھر اس کی نظر نیچے گری حور پر پڑی
“تم وہاں نیچے کیا کر رہی ہوں”
زین نے نیند سے بھری انکھوں میں حیرت سمائے ہوئے، بیڈ سے اٹھتے ہوئے حور کی سائیڈ پر آتے ہوئے کہا
“تم میرے پاس کیا کر رہے تھے”
حور نے خوف زدہ ہو کر پوچھا وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں نیچے بیٹھی ہوئی تھی
“کیا کر رہے تھے۔۔۔۔ کیا مطلب؟ میں تو سو رہا تھا”
زین نے حور کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
“دور رہو مجھ سے”
وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔
“دور۔ ۔۔۔ وہ کس خوشی میں شوہر ہو تمہارا پورا پورا حق رکھتا ہوں تم پر”
زین نے حور کو جتانے والے انداز میں باور کرایا
“گن پوانٹ پر نکاح کرا ہے تم نے، میں اس زبردستی کے رشتے کو نہیں مانتی ہوں”
اج حور کو پہلے کی بانسبت اس سے خوف محسوس نہیں ہوا بےخوفی سے بول کر وہ اٹھنے لگی
جبھی زین نے حور کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور زین کے اوپر گری
“زبردستی کی ہی صحیح رشتہ تو ہے نہ تمہارا میرا۔ ماننا تو پڑے گا لازمی، نہیں تو منانا مجھے اچھے سے آتا ہے”
زین نے حور کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کر دیے اور حور کو مزید خود سے قریب کر کے کہا
اب وہ اس کی گردن پر جھک رہا تھا حور نے اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کی تو زین نے گھیرا مزید تنگ کردیا اور اپنے لب حور کی گردن پر رکھ دیے
حور بری طرح تڑپ اٹھی اور زین کے سینے پر ہاتھ مار کر اس ہٹانے لگی۔ زین اسے مزید پریشان کرنے کا ارادہ ترک کرکے اٹھ کھڑا ہوا کمرے سے نکلنے سے پہلے یہ جتانا نہیں بھولا
“مجھے یقین ہے اب تم کبھی بھی ہمارے رشتے کی حقیقت کو ماننے سے انکار نہیں کرو گی”
حور شاک کی کیفیت میں وہی بیٹھی رہی اس کا چہرہ لال ہوچکا تھا۔ ۔۔۔۔۔ شرم کے مارے یا ضبط کے مارے یہ اس بھی نہیں سمجھ آیا
“میں کیسے اس سے نڈر ہوکر بات کر رہی تھی، اب تو مجھے زیادہ ڈرنا چاہیے اس فضول آدمی سے۔ ۔۔۔ فضول آدمی بھی نہیں اچھا خاصا فضول آدمی یہ تو”
کچن میں آکر زین نے اپنے اور حور کے لئے چائے کا پانی رکھا اور ناشتہ تیار کرکے روم میں آیا تو وہ اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی
“آجاؤ حور شاباش، ناشتہ کرلو”
زین نے اسے نارمل انداز میں کہا، وہ حور سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے ان دونوں کے بیچ کچھ نہیں ہوا
“مجھے کچھ نہیں کھانا”
بھوک تو اسے بہت لگی ہوئی تھی کیوں نہ کہ کل صبح سے ہی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا مگر اس بدتمیز شخص کے سامنے اسے اپنی آنا بھی قائم رکھنے کی
“تم اٹھ کر یہاں کرسی پر بیٹھ رہی ہو یا پھر میں آؤں”
ناشتے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر، وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ چکا تھا مگر جب دیکھا حور پر اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔۔تو وہ اٹھنے ہی لگا حور جلدی سے اٹھ کر کرسی پر آ کر بیٹھ گئی وہ یقینا اس سے ڈر گئی تھی۔ حور کے ردعمل پر زین کو ہنسی آئی مگر اس نے چائے کا مگ چہرے کے آگے کر کے ہنسی چھپالی
“سویٹ ہارٹ یہ ناشتہ گھورنے کے لئے نہیں رکھا ہے میں نے۔۔۔ جلدی سے شروع ہوجاو، اچھی خاصی بڑی ہوگئی تم اور اب تو شادی شدہ بھی، یہ نخرے نہیں چلیں گے بالکل”
حور کو ویسا ہی بیٹھا دیکھ کر زین بولا
“بول تو ایسے رہا ہے جیسے پتہ نہیں کتنے نخرے اٹھاتا آرہا ہے اب تک میرے”
حور نے دل میں ہی اپنے اپ سے بولا، منہ پر کیا کہتی بولتی تو وہ اسکی بند کر چکا تھا
“شاید تمھارا یہ ناشتہ میرے ہاتھوں سے کرنے کا دل کر رہا ہے”
حور کو سوچوں میں گم دیکھ کر زین بولا
“کر تو رہی ہو”
اتنا بول کر حور آئستہ آہستہ ناشتہ کرنے لگی
وہ شاید اس کے بیٹھے رہنے سے نروس ہو رہی تھی، جانتا تھا کل سے حور نے کچھ نہیں کھایا اور وہ ابھی بھی اس کے سامنے کچھ نہیں کھائے گی اس لئے اپنا چائے گا مگ لےکر باہر آگیا تاکہ وہ آرام سے ناشتہ کرلے۔تھوڑی دیر بعد زین روم میں آیا
“میں باہر جا رہا ہوں تھوڑی دیر ہو جائے گی دروازہ باہر سے لاک ہے اس لئے کوئی بھی بیوقوفی کرنے کی ضرورت نہیں”
وہ کار کی کیز موبائل اٹھاتا ہوا بولا
“اور اگر کوئی بیوقوفی کی تو پنشمنٹ کے لئے تیار رہنا ہے”
حور کے پاس آکر اپنی دو انگلیوں سے اس کے گال چھو کر دھمکاتا ہوا باہر چلا گیا
“فضول آدمی”
وہ ڈوپٹے سے اپنا گال رگرتے ہوئے بولی
زین کو آج بہت سارے کام تھے سب سے پہلے وہ اسپتال نادیہ بیگم کے پاس پہنچا ہو کافی کمزور لگ رہی تھیں۔ وہ انھیں پیار کر کے ان کے پاس ہی بیٹھ گیا ڈھیر ساری باتیں کی جب نیند کی وادیوں میں چلے گئں تو وہ وہاں سے مال گیا حور کے لئے ڈھیر ساری شاپنگ ضروریات کی چیزے کپڑے، بیگز، پرفیوم شوز، وغیرہ جو سمجھ میں آیا وہ لے کر بلال اور اشعر کے پاس پہنچا وہ دونوں وہاں پہلے سے ہی موجود تھے
“ہاں بھئی اب تو لوگ شادی شدہ ہو کر بزی ہوگئے ہیں اب کہاں دوستوں کے لئے ٹائم نکلے گا”
اشعر نے اس کو دیکھ کر طنز کے تیر برسائے اور بلال نے صرف مسکرانے پر اکتفاد کیا
” بس فارا شروع ہوگئے تم میرے آتے ہی”
زین نے بیٹھتے ہوئے فورا اسے گھوری سے نوازہ
“آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب”
بلال نے پوچھا
“وہی سے آ رہا ہوں ٹریٹمنٹ چل رہا ہے”
زین نے سر کرسی پر ٹکاتے ہوئے جواب دیا
“اب آگے کیا سوچا ہے تم نے”
اشعر نے سنجیدگی سے بات کا آغاز کیا
“اب یہ کرنا ہے کہ تم دونوں کو انسان بنانا ہے”
زین نے سگریٹ سلگاتے ہوئے ان دونوں کو بھی سلگایا
“مطلب کیا ہے تمہارا ہم تمھیں انسان نہیں لگتے”
بلال نے برا سا منہ مناتے ہوئے کہا
“انسان تو شکلوں سے ہوں، حرکتیں بھی اب انسان جیسی کرنی ہوگی۔۔۔۔ یہ جو کام ہم نے ایڈوینچر آور مجبوری کے لیے کیا تھا اسے ختم کرکے اچھے بچوں کی طرح میری مدد کرو۔ بزنس اسٹارٹ کرنے میں پیسہ میں انویسٹ کرونگا مگر مجھے اعتبار والے بندے چاہیے ہونگے اس لئے اب سب الٹے سیدھے کام ختم کرکے میرا ہاتھ بٹاؤ گے تم دونوں۔۔۔۔ اور اس سے پہلے تم دونوں اٹھو ایک فلیٹ پسند آیا ہے اس کی ڈیلینگ کرنے جانا ہے”
زین نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے ان دونوں کو بھی گھسیٹا
“سہی جا رہے ہو یعنی خود تم بگڑ گئے ہو اور اب ہم دونوں کو بھی بگاڑو گے”
اشعر معصومیت سے بولا
“نہیں اب میں خود بھی سدھر گیا ہوں اور تم دونوں کو بھی سدھارو گا، چلو جلدی سے اٹھو گھر بھی پہنچنا ہے مجھے”
زین نے اٹھتے ہوئے کہا
زین کی آخری بات پر بلال اور اشعر نے ایک دوسرے کو معنی خیزی سے مسکرا کر دیکھا
“کیا بہت جلدی ہے گھر جانے کی”
اشعر نے زین کو چھیڑا
“ظاہری بات ہے تم لوگوں کی طرح ویلا نہیں ہو۔۔۔۔ اب باقی کا ریکارڈ میرا گاڑی میں کھینچ لینا”
زین نے مسکراتے ہوئے قدم آگے بڑھائیں۔ گھر کا نام لیتے ہیں اسے حور کی یاد آنے لگی پتہ نہیں کیا کررہی ہوگی گھر پر
****
زین کے جانے کے بعد جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ اب گھر واپس نہیں آئے گا۔۔۔۔ حور ہمت کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی سب سے پہلے باہر کا دروازہ چیک کیا وہ واقعی لاک تھا
“بدتمیز انسان”
منہ ہی منہ میں بڑبڑائی واپس آئی اور گھر کا جائزہ لینے لگی جو کہ زیادہ بڑا نہیں کہ تین کمروں پر مشتمل تھا صفائی اور سلیقہ نظر آ رہا تھا۔ اس نے الماری درازے سب چیک کی مگر اس میں سے کوئی چابی موبائل یا کوئی ایسی چیز مل جائے جو اس کے کام آسکے جب کچھ بھی ہاتھ نہ آیا تو دوبارہ بیڈ پر لیٹ گئی لیٹتے ہی اسے صبح والا سین یاد آ گیا
“گھٹیا انسان، اف کیا کروں کیسے وقت گزرے گا اور جب وہ دوبارہ آجائے گا تب وقت گزارنا اور بھی مشکل ہو گا کاش اس دیوار میں سے ہی کوئی خفیہ کا دروازہ نکل آئے جس میں سے باہر نکل کر وہ اپنی ماں کے پاس چلی جاو۔ ۔۔۔۔
پتہ نہیں ماما کی طبیعت کیسی ہوگی پریشان ہوگئی اللہ کیا کرو۔۔۔۔ دیکھے ماما اپ کی حور کی قسمت، آپ کہتی تھی حور کا پرنس اسے لے جائے گا۔۔۔ پرنس نہیں ایک کرمنل لکھا تھا اپ کی حور کی قسمت میں
یہی سب سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی کتنی دیر تک وہ سوتی رہی جب اس کی آنکھ کھلی تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا اس نے ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی جو کہ وہ تین دن سے پہنے ہوئے تھے بیزاری سے اپنے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے وہ وضو کے لئے واش روم چلے گئی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو واپس بیڈ پر بیٹھنے کا ارادہ کیا کچھ سوچ کر بیڈ شیٹ درست کرنے لگی اور نے تھوڑا سا میٹرس اٹھایا
“ارے یہ کیا پسٹل”
حیرت سے دیکھا ہاتھ بڑھا کر پسٹل ہاتھ میں لی۔ اب اسے آگے کیا کرنا تھا وہ سوچنے لگی
****
بلال گھر پہنچا تو ثانیہ تانیہ اور فضا تینوں ثانیہ کی شادی کی شاپنگ دیکھ رہی تھی کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی تینوں ہر دوسرے دن بازاروں کے چکر لگا رہی تھیں اور کچھ نہ کچھ خرید کے لے آتی
“ارے بھائی بیٹھے میں کھانا لے کر آتی ہوں”
تانیہ یہ کہہ کر اٹھ گئی
“ابو کے روم میں ہوں وہی لے کر آجانا بلال نے اک نظر فضا پر ڈالتے ہوئے تانیہ سے کہا
“ابو تو سو گئے ہیں یہی بیٹھ جائے ناں دیکھیں نہ ہم نے کیا کیا شوپنگ کی ہے”
تانیہ اک اک چیز بلال کو دکھانے لگی
“تانیہ کافی دیر ہو گئی ہے اب میں چلتی ہوں”
فضا نے تانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
“اکیلے کیسے جاوگی گلی میں سناٹا ہورہا ہوگا رک جاو بھائی چھوڑ کر آجائیں گے”
تانیہ نے شاپنگ بیگز سمیٹتے ہوئے کہا
“2 گلی چھوڑ کر ہی تو گھر ہے میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے ایسا بھی کوئی سناٹا نہیں ہو رہا”
فضا نے دوبارہ جانے کے لئے پر تولے
“صحیح کہہ رہی ہے تانیہ بیٹھ جاؤ تھوڑی دیر میں چھوڑ کر آتا ہوں”
بلال نے بولا تو فضا نے ایک نظر بلال کو دیکھا اور پھر چپ کر کے بیٹھ گئی
وہ آج بلال کو چپ چپ لگی اس بات کو اپنا وہم سمجھ کر جھٹک دیا اور کھانے کی ٹرے اگۓ کھسکای
****
دونوں اس وقت خاموش چلے جارہے تھے گلی میں اس وقت سناٹا تھا
“بلال تم جاب کب اسٹارٹ کرو گے”
فضا نے اچانک سوال پوچھا
“جاب ملے گی تو کروں گا”
بلال نے چھوٹے سے پتھر کو لات مارتے ہوئے کہا
“کوشش کرو گے تو ملے گی نہ”
فضا نے بولا
“تمھیں کیا پتہ میں کتنی کوشش کرتا ہوں اور تمہیں کیا میری جاب کی ٹینشن ہو رہی ہے”
بلال نے اکتا کر پوچھا
“اس لئے کہ میرا رشتہ آیا ہوا ہے اور وہ لوگ مجھے پسند کر کے چلے گئے ہیں”
فضا نے راستے میں رکتے ہوئے بولا
“تو۔۔۔۔۔۔ کیا مسئلہ ہے اگر پسند کرکے چلے گئے اور رشتہ بھی اچھا ہے تو”
فضا کی بات سن کر بلال بھی ایک پل کو کچھ نہیں بول سکا اور قدم روک لئے مگر پھر اپنے تاثرات چھپاتے ہوئے بولا
“کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔ تمھیں نہیں پتہ کہ کیا مسئلہ ہے بلال”
فضا نے جھنجلاتے ہوئے پوچھا
“دیکھوں فضا اگر رشتہ تمہارے گھر والوں نے پسند کیا ہے تو وہ اچھا ہی ہوگا، اس سے بیٹر اوپشن تمہارے لئے اور کوئی نہیں ہوسکتا ماں باپ اپنی اولاد کے لئے بہتر ہی سوچتے ہیں”
بلال نے فضا کو سمجھانا چاہا
“مجھے معلوم ہے کہ میرے لئے کیا بہتر ہے بس تم جاب ڈھونڈوں جلدی سے اور رآنیہ باجی سے بات کرو کہ وہ میرے امی ابو سے بات کریں”
فضا نے اس کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا
“تمھارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے نہ تمہیں پتہ ہے نہ میرے پاس جاب نہیں ہے دو بہنیں بیمار باپ کس منہ سے رانیہ باجی سے بات کرو”
بلال نے اسے دوبارہ سمجھانا چاہا
“میں ایڈجسٹ کرلوں گی بلال تمہاری ذمہ داریاں ہم دونوں مل کر بانٹ لیں گے تمہارا انتظار بھی کروں گی مگر تم رانیہ باجی سے کہوکہ امی ابو سے بات کریں نہیں تو امی ابو اس رشتے کے لئے ہر طرح سے راضی ہیں”
فضا نے بےبسی سے بولا
“تم بےوقوفی والی باتیں نہیں کرو فضا رانیہ باجی کے بات کرنے سے کیا ہوگا تمھارے پیرنٹس ایک اچھی جگہ سے آئے ہوئے رشتے کو انکار کرکے، ایک ایسے شخص سے تمہاری شادی کریں گے جس کے اوپر ذمہ داریوں کا انبار ہے اور جاب تک نہیں ہے”
بلال اب غصے میں بولا
“تم رانیہ باجی سے بات کرنے کو کہو امی ابو کو منانا میرا کام ہے “
فضا ابھی تک اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی
“تم بچوں جیسی باتیں مت کرو فضا جب دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی تو محبت وحبت سب جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے”
بلال نے تلخی سے کہا
“یعنی تم کچھ نہیں کرو گے “
فضا نے دکھ سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“میں نے نہ کبھی تم سے محبت کے دعوے کیے ہیں نہ تمہاری طرف پیش قدمی کی ہے میری مجبوریوں کو”
بلال نے اب تحمل سے اسے سمجھانا چاہا
“ارے بھاڑ میں گئی تمہاری مجبوریاں مرو تم “
فضا نے بلال کی بات کاٹی اور غصے میں اس کے سینے پر ہاتھ مار کے آگے بڑھ گئی
بلال وہیں کھڑا اسے بے بسی سے دیکھتا رہ گیا
****
رات کے دس بج رہے تھے جب گھر کی طرف گاڑی زین نے پارک کی، کھانا وہ باہر سے ہی پیک کروا کے لے آیا تھا حور کیلئے کی ہوئی شاپنگ کے بیکز تھامے وہ گھر میں داخل ہوا، سارے شاپرز کو ٹیبل پر رکھ کر وہ روم میں داخل ہوا
حور پر نظر پڑتے ہی وہ بری طرح ٹھٹکا کا کیوںکہ حور کے ہاتھ میں اس کا پسٹل تھا جس کا رخ زین کی طرف تھا”
