365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 5

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

ظفر مراد اپنے آفس میں بیٹھے ہوئے تھے ان کے پئ۔اے نے آکے بتایا کوئی

“شاہ زین صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں”

“انہیں اندر بھیج دو”

ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کے کون ہوسکتا ہے دروازہ کھولا ایک ستائیس اٹھائیس سالہ خوبرو نوجوان اندر داخل ہوا۔ انہیں لگا جیسے اس نوجوان کو کہیں دیکھا ہے مگر کہا یہ یاد نہیں آیا

“تشریف رکھیں کس سلسلے میں آنا ہوا آپ کا”؟

ظفر مراد نے بات کا آغاز کیا

“کافی جلدی ترقی کی منازل طے کرلی ہیں ظفر تم۔ آج سے بارہ سال پہلے تک تو بقول تمہارے تمہارا دیوالیہ نکل گیا تھا سڑک پر آگئے تھے تم”

زین نے پھنکار کر کہا

“کون ہو تم یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہو اور کس مقصد سے میرے آفس آئے ہو؟”

ظفر مراد کو اس اجنبی کا لہجہ پسند نہیں آیا انہوں نے بھی اسے اسی کے لہجے میں جواب دیا ۔۔۔۔

“یہ صرف تمہارا آفس نہیں ہے اس میں میرے باپ کی بھی محنت اور حق حلال پیسہ لگا ہوا ہے جوکہ اب میں واپس لینے آیا ہوں” زین نے ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر آگے جھگ کر سنجیدہ لہجے میں کہا

“کیا بکواس کررہے ہو۔ کون ہو تم”

ظفر مراد دھاڑتے مگر سمجھ تو انہیں آگیا تھا مقابل کون بھیٹا ہے

“اتنی جلدی بھول گئے مسٹر ظفر مراد اپنے بھائی جیسے دوست ساجد شاہ کو”۔۔۔۔۔جس کے مرتے ہیں تم نے دھوکے سے سارے بزنس پر قبضہ جما لیا اور اس کی بیوی اور بیٹے کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا اسی کا بیٹا ہوں میں شاہ زین۔۔۔۔مجھے اپنے باپ کا حصہ واپس چاہیے ۔۔۔۔اگر تم شرافت سے دے دیتے ہو تو ٹھیک ہے نہیں تو میں کہاں تک جا سکتا ہوں یہ تمہاری سوچ ہے”۔۔۔زین اپنی بات ختم کرتے ہی اٹھ گیا

“شٹ اپ تم میرے ہی آفس میں کھڑے مجھ کو کی دھمکا رہے ہو۔۔ایک پھوٹی کوڑی نہیں ملنے والی تمہیں جو کرنا ہے کرلو جانے کہاں کہاں سے اٹھ کر آ جاتے ہیں”

ساتھ ہی انھوں نے فون کرکے گارڈز کو بلوایا گارڈز اندر آگئے

“یہ بندہ دوبارہ مجھے اپنے آفس میں نظر نہیں آنا چاہیے نکالو اس کو اسی وقت”

“ہاتھ نہیں لگانا ہٹو پیچھے”

زین گارڈ کے قریب آنے پر دھاڑا

“ظفر مراد یاد رکھنا بہت جلد دوبارہ آؤں گا اور اپنا سب کچھ جو تم سے سود سمیت واپس لونگا”

زین نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔

وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا تو خضر اندر ہی آ رہا تھا دونوں کا سامنا ہوا ذین نے اس کو بھی گھورتے ہوئے وہاں سے چلا گیا

خضر کو یاد آیا یہ تو وہی ہے اسپتال والا شخص تھا

“ابو کیا ہوا کون تھا یہ اور کیا کہہ رہا تھا؟”

آتے ہی خضر نے ظفر مراد سے پوچھا

“کوئی خاص نہیں یہ بتاؤ میٹنگ کے لئے ریڈی ہو”

جیسے انہوں نے اس بات کو خاص اہمیت نہ دی ہو

“جی بس نکلتے ہیں”

یہ کہہ کر خضر اپنے روم میں چلا گیا

“ظفر مراد کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ بارہ سال بعد اچانک ساجد شاہ کا بیٹا یوں اپنے حصے کا دعویدار بن کر آجائے گا

“سوچنا پڑے گا کچھ اس لڑکے کا”

وہ کرسی ٹیک لگائے سوچنے لگے

****

ظفر مراد آفس سے گھر پہنچے اپنے بیڈ روم میں گئے پیچھے ہی فاطمہ آئی

“میں بتا رہی ہوں ظفر خضر کو اپنے طور پر سمجھا لیں جو وہ چاہ رہا ہے وہ میں بالکل نہیں ہونے دونگی”

فاطمہ ظفر مراد کے آتے ہی شروع ہوگی

“کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ یہ کوئی وقت ہے بندہ آفس سے تھکا ہارا ہے اور آپ آتے ہی شروع ہوگی وہاں آفس کے جھمیلے ختم نہیں ہوتے یہاں آؤ تو یہاں کے مسلے شروع ہو جاتے ہیں” ظفر مراد آج کافی غصے میں تھے ۔۔آفس والے واقعے سے کافی بیزار تھے اس لیے فاطمہ کا آن کے آتے ہی شروع ہو جانا ظفر مراد کو ناگوار گزرا ۔۔۔

فاطمہ کی بات پر وہ انہی پر گرج پڑے اس لیے فاطمہ تھوڑا دب گئی۔

وہ فاطمہ سے ایسے بات نہیں کرتے تھے یعنی کوئی سیور سی بات ہوگی آفس میں جس کی وجہ سے پریشان تھے

“میرے کہنے کا مطلب یہ تھا ظفر اب تو جانتے ہیں خضر ایک ہی بیٹا ہے میں نے شروع سے ہی خضر کے متعلق اپنی بھانجی کا سوچا ہے۔ آپ پلیز اسے سمجھائیں انہوں نے اب کہ دھیمہ لہجہ اختیار کر کے بات مکمل کی

“یہاں سمجھنے کی آپ کو ضرورت ہے فاطمہ خضر ہمارا ایک ہی بیٹا ہے اور اگر وہ ضد پر اترا یا ہم سے بد دل ہوگیا تو آگے آپ سوچ لے”

انہوں نے بھی نرمی اختیار کرکے بیوی کو سمجھانا چاہا

“آپ کہنا کیا چاہتے ہیں میں اپنی بہن کی بیٹی کو چھوڑکر حور کو خضر کی زندگی میں شامل ہونے دو؟”

فاطمہ غصہ ضبط کرتے ہوئے بولی

“اس میں برائی کیا ہے؟ حور ہمارے سامنے پلی بڑھی ہے آنکھوں دیکھی بچی ہے اور سب سے بڑھ کر میرے مرحوم بھائی کی نشانی ہے”

آخر میں جیسے ظفر نے بھی انہیں جتانا ضروری سمجھا جس پہ فاطمہ چپ کرکے روم سے نکل گئی “۔

****

وہ اشعر اور بلال تینوں اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے جب زین نے آج کی آفس والی ساری روداد ان دونوں کو سنائیں

“مجھے نہیں لگتا یہ ظفر مراد تمہیں اتنی آسانی سے تمھارا حق دے گا؟’

اشعر ساری بات سننے کے بعد بولا

“ہاں! آج اس کو سامنے دیکھ کر مجھے بھی یہی لگ رہا ہے اس کے تیور دیکھ کر نہیں لگ رہا اتنی آسانی سے تو میرا حق مجھے لوٹائے گا۔۔۔۔ مجھے قانون کا ہی سہارا لینا پڑے گا”

زین سگریٹ سلگاتے ہوئے بولا

“اور کس طرح قانون کے ذریعے تم اپنا خاص سے واپس لو گے”

بلال نے پوچھا

“ظاہری بات ہے اس پر دھوکے کا مقدمہ کرکے”

زین نے دھواں اڑاتے ہوئے جواب دیا

“کس دنیا میں ہوں تم کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے اس نے دھوکہ دیا ہے۔ وہ آرام سے تم پر ہی کیس بنادے گا الزام تراشی کا اور بلیک میلنگ کا”

اشعر بولا ۔

“وہ سب کچھ میرے ذہن میں ہے اس کے آفس کے بندے سے میری اچھی دوستی ہے شاید وہ میرے کام آجائے۔ کچھ ایسے ڈاکومنٹس اس کے ہاتھ لگ جائے جو میرے کام آسکے۔ کسی بھی طرح کوئی بھی کرونگا لیکن اپنے بابا کا پیسہ تو میں اس سے لے کر ہی رہوگا ہر صورت میں”۔۔۔زین اٹل لہجے میں بولا۔

****

“چلو یار تم دونوں کتنی دیر ہے”

بلال جی بھر کے بیزار ہوا

“جی بھائی بس آ رہے ہیں”

تانیہ نے جواب دیا اور جلدی سے اسکارف اوڑھنے لگی

“ارے واہ بھئی کہاں کی تیاریاں ہو رہی ہیں”؟

فضا نے ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

“بس تمہاری ہی کمی تھی کبھی اپنے گھر پر بھی ٹک کر بیٹھ جایا کرو”

بلال جل کر بولا

“اچھا ہوا فضا تم آگئ ہمارے ساتھ چلو۔ بھائی ہمیں شاپنگ کروانے لے کر جارہے ہیں”

تانیہ نے جلدی سے فضا بولا کہیں وہ بھائی کی بات کا برا ہی نہ مان جائیں

“نہیں رہنے دو تمہارے بھائی کو تو میرا یہاں آنا پسند نہیں ہے مزید باہر بھی اسے مجھے برداشت کرنا پڑے گا”

فضا ناراضگی سے بولی”

“کیسی بات کررہی ہوں فضا بھائی نے ویسے ہی بول دیا ان کا تو مذاق چلتا ہے تم سے۔ اب کے ثانیہ نے بھی بولا

“نہیں تم لوگ جاؤ میرا دل نہیں چاہ رہا ویسے بھی ماموں اکیلے ہوں گے میں ان کے پاس ہو جب تک”

“اب یہ احسان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی ابو سو رہے ہیں وہ 2 یا 3 گھینٹے سے پہلے نہیں اٹھے گے۔ تو اسلیئے زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے پانچ منٹ کے اندر اندر تم تینوں باہر آ جاؤ” آپ کے بلال بولا اور دروازے سے باہر چلا گیا

“پورا کا ہیٹلر ہے تمہارا بھائی” فضا نے باہر نکلتے ہوئے بلال کو گھورتے ہوئے بولا

“سوچ لو اس ہٹلر کو ساری زندگی تمہں ہی برداشت کرنا پڑے گا”

تانیہ نے قریب آکر فضا سے کہا فضا نے تانیہ کو گھوری سے نوازا اور وہ تینوں باہر کی طرف چل دی

رات کے کھانے کے بعد جب سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تب اسماء کو ظفر مراد نے اپنے روم میں ضروری بات کیلئے بلوایا وہاں پہ فاطمہ کے علاوہ ان کے چھوٹے دیور اور بھاوج بھی موجود تھے

“آو اسماء! تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے بیٹھوں۔”

ظفر صاحب نے کہا جبکہ فاطمہ کا منہ بنا ہوا تھا

“سب خیریت تو ہے” اسماء سب کو دیکھتے ہوئے صوفے پر بیٹھی

“ہاں سب خیریت ہے تم بتاؤ حور کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے کوئی مسئلہ تو نہیں اسے”

ظفر صاحب نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

“نہیں بھائی صاحب اللہ کی شکر ہے کوئی مسلہ نہیں اپنے گھر میں کسی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے بھلا۔ حور کے پیپرز چل رہے ہیں اسی میں بزی ہے وہ”

اسماء نے جواب دیا

اس کے بعد کمرے میں خاموشی ہوگئی جسے ظفر صاحب کی آواز نے ختم کیا

“دراصل ہم نے تمہیں حور کے سلسلے میں ہی بلایا ہے ہم چاہتے ہیں کہ حور کے ایکزیمس کے بعد گھر میں چھوٹی سی تقریب رکھی جائے حور اور خضر کی منگی کردی جائے”

ان کی بات پر فاطمہ کے علاوہ باقی تینوں کو ایک جھٹکا لگا

“بھائی صاحب خضر اور حور میرا مطلب ہے”

آسماء نے پہلے بے یقینی سے فاطمہ کو دیکھا جو بڑی چبھتی ہوئی نگاہوں سے اسکو گھور رہی تھیں۔۔۔ سارہ کو بھی ظفر صاحب کی بات سن کر اچھی طرح پتنگے لگ چکے تھے مگر وہ کچھ بولی نہیں

“کیوں آسماء تمہں کوئی اعتراض ہے؟ظفر صاحب نے آسماء سے پوچھا

“نہیں بھائی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اب وہ دور نہیں رہا آپ بچوں سے پوچھ لیں ان کو کوئی اعتراض نہ ہو”

اسماء ٹھہر ٹھہر کر بولی۔

“اس رشتے میں خضر کی خوشی اور رضامندی شامل ہیں میرے خیال میں اب کسی کے بھی اعتراض کی گنجائش نہیں نکلتی

انہوں نے اسماء کی بات کاٹتے ہوئے اپنی بات مکمل کی”

*****

“بلو والا ڈریس اچھا لگ رہا ہے یا پرپل والا”

ثانیہ اور تانیہ بھی ڈریسنگ دیکھ رہی تھی جب فضا نے بلال کے پاس آکر پوچھا

“دونوں ہی فارغ لگ رہے ہیں”

بلال نے ایک نظر ڈریس پر ڈال کر جواب دیا۔

“تمہیں تو میری چوائس کبھی زندگی میں پسند نہیں آئے گی”۔۔فضا نے منہ بناتے ہوئے کہا

“پسند بھی تو دیکھو سبحان اللہ ہے”

بلال نے ایک بلیک کلر کا ڈریس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

“اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے”

بلال نے چونک کر اس کو دیکھا اور وہ بلیک ڈریس بلال کے ہاتھ سے لے کر اپنے لئے پیک کروانے لگی بلال کچھ دیر تک وہیں کھڑا رہا پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا

“دنیا میں اور بھی غم ہیں محبت کے سوا”

ابھی وہ لوگ شاپنگ کر کے فارغ ہوئے تھے جب بلال کے نظر وہاں اشعر پر پڑھی “

ارے تم یہاں کیا کر رہے ہو”بلال نے پوچھا

“جو سب کر رہے ہیں وہی کرنے آیا ہوں ظاہر سی بات ہے شاپنگ کی کرنے آیا ہوں”

اس نے بلال کی پیچھے فیملی دیکھی تو بولا چلو بعد میں ملاقات ہوتی میں چلتا ہوں”

“ارے کہاں چلے چپ کر کے بیٹھو ان لوگوں نے میرا دماغ خراب کردیا ہے شاپنگ کرکے۔ “فوڈ کورٹ میں ہمیں جوائن کرو” بلال کے کہنے پر اسے بھی جانا پڑا ہے تعارف کا سلسلہ شروع ہوا یہ میرا بہت خاص دوست اشعر ہے۔

“اور اشعر یہ دونوں میری بہنیں ثانیہ اور تانیہ اور یہ میری کزن فضا ہے”۔

اشعرکی نظریں تانیہ پر پڑھیں تو وہ اشعر کو ہی دیکھ رہی تھی اشعر کے دیکھنے پر تانیہ نے اپنی نظروں کا رخ دوسری طرف موڑ لیا شاید وہ بھی اس کو پہچان گئی تھی۔ اسکارف لیئے ہوئے مےکپ سے عاری چہرہ اشعر کو دوسری لڑکیوں سے مختلف اور دلکش لگا

*****

حور کے پیپر کی وجہ اسماء نے اس کو خود سے خضر کے متعلق کچھ نہیں بتایا تھا “خضر ہر لحاظ سے بہت اچھا تھا آسماء کی عزت کرتا تھا خیال رکھنے والا بچہ تھا ۔مگر اسماء کو فاطمہ بیگم کا رویہ کچھ تشویش میں مبتلا کر رہا تھا

مگر فی الحال انھوں نے ذہن سے اس کو بھی جھٹک دیا

*******

آج وہ آخری پیپر دے کر آئی تھی پیپر کے دوران وہ اپنے کمرے تک ہی محدود ہوگئ تھی۔ کوئی بھی کام کے لیے اس کو نہیں بلاتا تھا شاید پیپر کا خیال کرکے نہ بلاتے ہو مگر اس سے پہلے تو اتنی پروا کسی نے نہیں کی

چلو اچھا ہی ہے۔ حور مگن انداز میں اپنے آپ سے باتیں کرتے کچن میں آئی اپنے لیئے چائے کا پانی رکھا تو فاطمہ تائی اس کے سامنے آئی اور چبھتے ہوئے لہجے میں گویا ہوئیں

“جو تم نے اور تمہاری ماں نے کھیل کھیلنا شروع کیا ہے نا ۔۔یاد رکھو میں اس میں تمہیں کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گی”

۔حور نے ناسمجھی سے تائی کی طرف دیکھا اور بولی

“میں سمجھی نہیں تائی؟۔۔آپ کیا کہہ رہی ہیں”؟

“بہت بھولی اور معصوم ہونا تم اس طرح ادائیں دکھا کر میرے بیٹے کو اپنا دیوانہ بنا سکتی ہو پر میں بے وقوف نہیں اور یاد رکھنا تم میرے جیتے جی کبھی خضر کی زندگی میں نہیں آ سکتی”

وہ یہ کہہ کر رکی نہیں چلیں گی لیکن اس کو وہی سکتے کی کیفیت میں چھوڑ گئی

“یہ کیا کہہ رہی ہیں تائی میں اور خضر بھائی”

منہ پر ہاتھ رکھے وہ بنا آواز رو رہی تھی اچانک خضر کچن میں داخل ہوا

“حور ایسے کیوں کھڑی ہو، تم رو رہی ہوں اس نے حور کا رخ اپنی طرف موڑا، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے

حور بس خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی پھر بنا کچھ کہے کچن سے اپنے روم میں آگئی۔ اسے بہت رونا آ رہا تھا تائی کی باتوں پر، کمرے میں اسما آئی ۔

“حور کیا ہوا ہے بیٹا کیوں رو رہی ہو آسماء نے پریشانی سے پوچھا

تائی نے بہت غلط باتیں کی ہیں ماما”

حور نے ساری بات اسماء کو بتائی

“تمہارے تایا نے خضر کے لئے تمہارا ہاتھ مانگا ہے”

حور نے بے یقینی سے آسماء کو دیکھا۔

“میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا کہ تمہارے پیپر ہو رہے میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی”

“مگر امی میں نے تو خضر بھائی کو ہمیشہ اپنا بھائی ہی سمجھا ہے اور خضر بھائی بھی

“بیٹا اس رشتے میں خضر کی مرضی شامل ہے اور پھر ویسے بھی وہ بہت ا چھا فرمابردار لڑکا ہے، تمہیں بہت خوش رکھے گا”

وہ حود کو سمجھانے والے انداز میں کہنے لگی۔

“وہ بس خاموشی سے ماں کو دیکھتی رہی

****

زین نے ظفر مراد پر قابل اعتبار بندے سے ظفر مراد پر نظر رکھو آئی۔ افس کے تمام معاملات، آنے جانے کا روٹین، زین کو ہر چیز کی خبر ملتی رہتی۔ لیکن کسی پرانے ڈاکومنٹس یا فائل میں زین کو ایسے خاطرخواہ ثبوت نہیں ملے جو اس کے لیے فائدے مند ہو یا اس کے کام آسکے۔

******

اس دوران یہ اچھی بات ہوئی کہ سارہ کی بیٹی ماہم کو بھی کچھ لوگ پسند کرگئے منگنی کی تاریخ 1 ہفتے کے بعد رکھ دی گئی جب خضر اور حور کی منگنی کی تاریخ مقرر ہوئی

حور کا اور خضر کا اس دن کے بعد سے آمنا سامنا نہیں ہوا حور زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ خوش نہیں تھی مگر وہ شاک ضرور تھی اس نے کبھی بھی خضر کے متعلق اس طرح نہیں سوچا تھا۔ یہ سب اس کے لئے تھوڑا عجیب اور نیا تھا زہن اتنی جلدی اس رشتے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا اور دوسری بات دماغ میں کہیں اس اجنبی کا خوف بھی تھا جس نے اسے خضر سے دور رہنے کے لیے کہا تھا غیر ارادی طور پر وہ اس اجنبی کے بارے میں سوچتی لگی

*****

تانیہ اور فضا چھت پر باتیں کر رہی تھی ثانیہ کی آواز دینے پر تانیہ چھت سے نیچے اتری جب بلال چھت پر ایا تو فضا کو سوچ میں ڈوبے ہوئے دیکھا

“کیا سوچا جا رہا ہے”

بلال نے قریب آتے ہوئے پوچھا

“تمہیں”

فضا نے بلال کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا

“ہر وقت فضول نہیں ہانکا کرو”

بلال نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا

“میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو تم نے پوچھا اس کا سچی سچی جواب دیا ہے”

فضا نے اس کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

“اور میرے بارے میں کیا سوچا جا رہا ہے؟

بلال اس پر سے نظریں ہٹا کر میدان میں دیکھتے ہوئے بولا جہاں بچے کرکٹ کھیل رہے تھے”

“یہی کے نوکری تمہاری لگی نہیں مگر کوئی لوٹری ضرور نکل آئی ہے” اس نے چند دنوں میں ہونے والی تبدیلیاں محسوس کی تو شرارت بولا

“ھاھاھا لاٹری نکل ہی نہ جائے میری۔۔۔ میں تو اب گن پوائنٹ پر لوگوں کو لوٹتا ہوں”

بلال نے ہاتھ انگلیوں سے نکلی گن بناکر فضا کے سر کا نشانہ لیا اور پھر انگلیوں میں اپنے ہونٹوں پر لے جا کر پھونک ماری

پہلے فضا چپ کر کے دیکھتی رہی پھر ایک زور سے ہنسی

“تم سے تو چڑیا کا بچہ نہیں مارا جائے اور چلے ہو لوگوں کو لوٹنے اور وہ بھی گن پوانٹ پر”

فضا نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا

“تو تمہیں یقین نہیں ہے میری بات کا؟

بلال نے فضا کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“ون پرسن بھی نہیں”

فضا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جیسے وہ اس کے مذاق کو انجوائے کر رہی ہو

اتنے میں بلال نے اپنی پاکٹ سے منی پسٹل نکالی اور فضا کے ماتھے پر رکھ کر کہا

“اب کیا خیال ہے؟