365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 21

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

“کیسی طبیعت ہے اب بھابھی کی”

اشعر نے زین سے پوچھا دونوں ہی رات سے اس کے پاس تھے

“ہہمم ٹھیک ہے ابھی پین کلر لگائے ہے تھوڑی دیر ہوئی ہے اسے سوئے ہوئے۔۔۔ میرے خیال میں تم دونوں کو نکلنا چاہیے آفس کیلئے”

ذہن نے کرسی سے سر ٹیکتے ہوئے کہا تھکن کے آثار اس کے چہرے پر بھی نمایاں تھے

“اور تم”

بلال نے پوچھا

“میں یہیں ہوں حور کے پاس”

زین نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا

“کیا بات کر رہے ہو زین، تم نہیں آؤ گے۔۔۔۔ آج کا دن کتنی اہمیت کا حامل ہے تمہیں اندازہ ہی نہ اس بات کا۔۔۔ آج وہ پروجیکٹ ہمیں ملنے والا ہے جس کے لئے ہم نے دن رات محنت کی ہے”

اشعر نے اس کو سمجھانا چاہا

“حور بھی میرے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے اور میں اس کو اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا ویسے بھی تم دونوں ہوگے وہاں پر”

زین نے آنکھیں کھول کر اشعر کو دیکھتے ہوئے کہا

“مگر تمہاری موجودگی وہاں پر معنی رکھتی ہے میرے خیال سے تمہیں چلنا چاہیے میں نے تانیہ کو بلا لیا ہے، جب تک بھابھی کے پاس وہ ہو گی اور ویسے بھی بھابھی ابھی سو رہی ہیں جب تک تو تم واپس آ جاؤ گے۔۔۔۔ اور تم نے ان کی امی کو بھی تو بلایا ہے یہاں پر فون کرکے،، تھوڑی دیر کی بات ہے زین تمہیں چلنا چاہیے”

بلال نے لمبی چوڑی وضاحت دے کر اس کو سمجھایا

ابھی وہ تین باتیں کر رہے تھے کہ تانیہ اسپتال میں پہنچی اشعر اور زین کو سلام کر کر وہ حور کے پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی

زین ناچاہتے ہوئے بھی بلال اور اشعر کے زور دینے پر ان کے ساتھ چلا گیا۔۔۔ ابھی تانیہ کو آئے ہوئے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک پریشان چہرے کے ساتھ ایک خاتون روم کے اندر آئی ان کے پیچھے ایک نوجوان بھی تھا،، تانیہ دونوں کو دیکھ کر چونکی

“حور میری بچی کیسے ہو گیا یہ سب”

وہ حور کی طرف بڑھی تو تانیہ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ حور کی امی ہیں

****

میٹنگ کے دوران سارا وقت اس کا دھیان حور کی طرف ہی لگا رہا سب کچھ اشعر اور بلال نے ہی ہینڈل کیا ابھی وہ لوگ فارغ ہوئے تھے کہ بلال کے نمبر پر تانیہ کی کال آئی

“ہاں تانیہ بولو سب خیریت ہے”

بلال نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا

“کیا۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے،، تم اسے ایسا کرو گھر چلی جاؤ” بلال نے فون رکھا

“کیا ہوا ہے بلال تانیہ کیا کہہ رہی ہے”

زین جو اس کے چہرے سے بات کا اندازہ لگانا چاہ رہا تھا، بلال کے کال کاٹتے ہی اس نے بلال سے پوچھا

“تانیہ بتا رہی تھی کہ بھابھی کی امی اور ان کے کزن آئے تھے،، بھابی کے ہوش میں آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی وہ ان کو اپنے ساتھ لے گئں ہیں”

بلال نے زین کو بتایا

زین نے بےیقینی سے بلال کو دیکھا

“حور ان کے ساتھ چلی گئی مجھے چھوڑ کر”

وہ زیر لب بڑبڑایا

“یار تمہیں ایسا کیوں سوچ رہے ہو،، تم اس وقت اور بھابھی کی کنڈیشن بھی تو دیکھوں ایسے وقت میں انھوں نے اپنی امی کی کتنی ضرورت ہوگی وہ تمہیں کیوں چھوڑ کر جانے لگیں بھلا۔۔۔ دیکھو زین یہ حادثہ تم دونوں کے لیے بڑا ہے تم بھابھی کو تھوڑا مینٹلی ریسٹ2 ۔۔۔۔خود کو ریلیکس کرو اپنی حالت دیکھو کتنے بیمار لگ رہے ہوں کل سے”

اشعر نے زین کو تحمل سے سمجھایا

“صحیح بول رہا ہے اشعر زین اس وقت بھابی کو تھوڑا سا وقت دو،، جو بھی کچھ ہوا بے شک ہو تم دونوں کے لئے شاک سے کم نہیں تھا بھابھی اپنی امی کے پاس رہے گی تو تھوڑا ان کی طبیعت بھی سنبھلے گی اور تم بھی گھر جا کر تھوڑی دیر ریسٹ کرو”

بلال کے سمجھانے پر زین چپ ہو گیا

اشعر ہی زین کو گھر چھوڑ کر آیا

*****

“حور بیٹا بتاؤ تو مجھے کیا ہوا تھا یہ سب اتنے اچانک سے کیسے ہو گیا”

اسماء کافی دیر سے حور سے وجہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اسپتال سے آئی تھی مگر وہ مسلسل چپ تھی بالآخر بولی

“مجھے اس ٹاپک پر بات نہیں کرنی ہے ماما پلیز”

حور نے بیزاری سے جواب دیا

“صحیح ہے نہیں کرتی ہوں میں اس ٹاپک پر بات بس مجھے یہ بتاؤ تمھارے اور زین کے بیچ میں سب ٹھیک ہے نا۔۔۔ وہ تمہیں اسپتال میں ایسے چھوڑ کر چلے گیا ایسے کیسے کرسکتا ہے وہ”

آسماء نے زین کی آنکھوں میں حور کے لیے محبت چھلکتی ہوئی دیکھی تھی لیکن اتنے بڑے حادثے پر وہ حور کو اس طرح چھوڑ کر چلا گیا تو ان کا دماغ یہ قبول نہیں کر رہا تھا اور دوسرا حور کے ہی مسلسل کہنے پر آسماء اسے اپنے ساتھ لے کر آئی تھی اس وجہ سے اسے دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا

“ماما وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔ پلیز میں تھوڑی ریسٹ کرنا چاہتی ہوں”

حور کی طبیعت میں چڑچڑاپن دیکھ کر آسماء نے اپنے موبائل کی رنگ ٹون of کردی تاکہ اس کے آرام میں خلل نہ پڑے بنا کچھ کہے روم سے باہر چلی گئی

“کیسی طبیعت ہے اب حور کی اور کیا بتا رہی ہے وہ”

ظفر مراد نے آسماء کو کمرے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر پوچھا خضر اور فاطمہ بھی وہی صوفوں پر برجمان تھے

“طبیعت بہتر ہے اس کی۔۔۔ مگر ابھی کچھ بتا نہیں رہی کہہ رہی ہے ریسٹ کرنے دیں۔۔۔۔اللہ جانے کیا بات ہوئی ہوگی”

آسماء نے پریشانی سے کہا

“مجھے تو وہ لڑکا شروع دن سے ہی پسند نہیں آیا۔۔۔ انتہا کا بدتمیز اور منہ پھٹ،،، اب اس معاملے کو میں ایسے نہیں جانے دوں گا میرے بھائی کی بیٹی ہے کوئی لاوارث نہیں۔۔۔ اسے ابھی آرام کرنے دو اگر کچھ نہیں بتا رہی تو زبردستی بھی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”

ظفر مراد اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے اٹھ گئے

“بیٹیوں کی شروع سے ہی تربیت کی جاتی ہے،، انھیں بتایا جاتا ہے کہ شوہر کا گھر ہی اب ان کا اصل گھر ہے تمہیں حور کو یہاں پر ہرگز نہیں لانا چاہیے تھا”

فاطمہ جو کافی دیر سے چپ بیٹھی ہوئی تھی شوہر کے جاتے کے بعد فوراً نحوست سے بولی سب سے زیادہ حور کا اس گھر میں آنا انہیں ہی ناگوار گزرا تھا

“یہ کیسی بات کررہی ہیں امی وہ کسی غیر کے گھر میں نہیں آئی ہے یہ حور کا اپنا گھر ہے”

آسماء کے کچھ بولنے سے پہلے خضر نے فورا اپنی ماں سے کہا

“یہ گھر حور کا نہ پہلے تھا، نہ ہے اور نہ آگے کبھی ہو سکتا ہے یہ بات تم اپنے دماغ میں اچھی طرح بٹھا لو خضر۔۔۔ شادی کے بعد شوہر کا گھر ہی لڑکی کا گھر ہوتا ہے حور اب شادی شدہ ہے اور زین کا گھر ہی اب حور کا گھر ہے”

فاطمہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے اسماء پر سرسری نظر ڈال کر وہاں سے چلی گئی

خضر فاطمہ کو جاتا ہوا دیکھتا رہ گیا،،، اسماء خضر سے نظریں چرانے لگی

“آپ پریشان مت ہوں چچی حور کا بہت خیال رکھیئے گا۔۔۔ ادھر ادھر کی باتوں پر دھیان مت دیں”

خضر نے رسانیت سے آسماء کو کہا

****

زین موبائل پر مصروف تھا جب حور برابر میں آکر دھب سے بیٹھیی

“حور دھیان سے یار کل بھی میں نے تمہیں منع کیا تھا کتنی احتیاط بتائی ہے ڈاکٹر نے تمہیں”

زین نے گھورتے ہوئے حور کو کہا۔۔۔ حور زین کی بات سن کر ہنسنے لگی

“اس میں ہنسنے والی کون سی بات ہے،، اس دن اماں ابھی تمہیں کتنی نصیحتیں کر رہی تھی مگر اب لگتا ہے سب کچھ تمہارے سر پر سے گزر گیا” زین نے افسوس سے کہا

“مجھے ہنسی اس بات پر آرہی ہے تم اس وقت نصیحتیں کرتے ہوئے بالکل کوئی دادی اماں ٹائپ خاتون لگ رہے ہو”

حور زین کو دوبارہ دیکھ کر ہنسنے لگی

“بوکس قسم کا جوک تھا بالکل بھی ہنسی نہیں آئی مجھے”

زین نے دوبارہ موبائل دیکھتے ہوئے کہا

“کیا مسئلہ ہے زین،، رکھو اس موبائل کو سائیڈ پر۔۔۔۔ ابھی اگر میرے ہاتھ میں میرا موبائل ہوتا تو تمہارے شکوے شروع ہوجاتے کہ میں تمہیں ٹائم نہیں دیتی ہوں اور مجھے نصیحتوں کی نہیں تمہاری ضرورت ہے اس وقت”

حور نے منہ بناتے ہوئے کہا

“اوکے سویٹ ہارٹ رکھ دیا موبائل سائڈ پر اب بولو”

زین موبائل رکھتے ہوئے حور کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا

“ویسے دیکھ کیا رہے تھے موبائل میں”

حور نے منہ اونچا کرکے زین کے سینے پر تھوڑی ٹکاتے ہوئے کہا

“میں اچھے اچھے babies کے نام دیکھ رہا تھا ہمارے بےبی کے لیے”

زین نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ حور بھی مسکرانے لگی

سوچیں تھیں کہ دماغ سے چمٹ کے ہی رہ گئی تھی۔۔۔باوجود تھکن کے وہ کافی دیر سے بیڈ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کررہا تھا کافی دیر گزر گئی مگر نیند آبھی بھی اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔ شاید کسی کمی کا احساس ہو رہا تھا ان تین مہینوں میں وہ اس کے وجود کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ اب وہ اس کے بغیر اس کو نیند نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔ اسماء کے موبائل پر زین نے کافی ساری کالز کی مگر مسلسل بیل جاتی رہی اسماء نے یا حور نے اس کی کال ریسیو نہیں کی،،، زین نے دوبارہ موبائل نکالا اور حور کی تصویریں دیکھنے لگا

“تمہارے اس طرح روٹھ کر گھر سے جانے سے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا پری پلیز واپس آ جاؤ”

کافی دیر تک وہ حور کی تصویروں سے باتیں کرتا رہا نہ جانے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتہ نہیں چلا

*****

شاید نئی جگہ ہونے کی وجہ سے اس کو نیند نہیں آ رہی تھی کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد وہ بیٹھ روم کی کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی اور لان میں دیکھنے لگی۔۔۔۔ اسے شاید تکیہ پر سر رکھ کر سونے کی بجائے زین کے سینے پر سر رکھ کے سونے کی عادت ہو گئی تھی

“فضول عادتیں پڑ گئی ہیں مجھے بھی”

حور نے سر جھٹکتے ہوئے سوچا

“یہ ویلیو ہے میری اس کی زندگی میں ذرا سی ناراضگی برداشت نہیں کی، میرے سوتے ہی فورا آفس چلا گیا مجھ سے بڑھ کر آفس ہے،، میری تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہے پلٹ کر ایک دفعہ نہیں پوچھا۔۔۔۔ انسان آ نہیں سکتا فون تو کرسکتا ہے مگر میرا بھی فون تو گھر پر ہے تو کیا ہوا ماما کا نمبر تو اس کے پاس ہے نا، ،، یہی سوچ رہا ہوگا چلی گئی ہے تو چلی جائے مجھے کیا ضرورت۔۔۔۔ اور اس فضول انسان کے بارے میں مجھے بھی سوچنے کی کیا ضرورت ہے،، کھڑکی کے پٹ بند کرتے ہوئے دوبارہ وہ بیٹھ پر آکے لیٹ گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ جب اسے تکیہ پر سر رکھ کر آرام نہیں ملا تو غصے میں آکر تکیہ بھی سر کے نیچے سے نکال کر دور پھینک دیا آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے منہ ہی منہ میں بڑابڑئی “فضول انسان”

ان تین مہینوں میں وہ۔۔۔ فضول انسان سے زین بنا،،،،، زین سے شاہ،،،،، اور اب شاہ سے دوبارہ فضول انسان بن چکا تھا

*****

صبح کا وقت تھا کوئی حور کو زور زور سے پکار رہا تھا تو ظفر مراد کی آنکھ کھلی وہ حال میں آئے

“تم میرے گھر کے اندر کیا کر رہے ہو؟ کس نے اندر آنے دیا تمہیں”

ظفر مراد زین کو اپنے گھر میں موجود دیکھ کر غصے سے چیخے

“میں یہاں پر کسی کے منہ لگنے نہیں آیا ہوں، بلکہ اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں حور کو بلائیں آپ”

زین نے بیزاری چھپائے بغیر تیز آواز میں ظفر مراد سے کہا

اتنے میں خضر فاطمہ اور آسماء بھی شور کی آواز سے اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل آئے

وہ رات کو کافی دیر سے سوئی تھی اسے محسوس ہوا کہ زین خواب میں اس کو آواز دے رہا ہے۔۔۔۔ مگر جب اس کا ذہن اچھی طرح بیدار ہوا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ خواب نہیں دیکھ رہی ہے زین شاید یہاں پر موجود ہے کیونکہ دوسری آوازیں بھی اس کے ساتھ آرہی ہیں۔ وہ اٹھ کر بیٹھی پاس پڑا ہوا دوپٹہ اوڑھ کر کمرے سے نکل کر ہال کی طرف بڑھی

*****

“حور اب تمہارے ساتھ واپس نہیں جائے گی اور تم نکلو اسی وقت میرے گھر سے”

ظفر مراد گرج دار آواز میں بولے

“حور بیوی ہے میری،، وہ میرے ساتھ ہی جائے گی اور دیکھتا ہوں کون روک سکتا ہے اس لے جانے سے”

زین نے ظفر مراد کو جواب دیا،، اسی وقت زین کی نظر ہال میں آتی ہوئی حور پر پڑی

“چلو حور اپنے گھر میں تمہیں لینے آیا ہوں”

زین حور کی طرف بڑھا اور دونوں بازوں سے حور کو تھامتے ہوئے کہنے لگا

“مگر مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا”

حور نے زین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

ایک لمحے کو زین نے بے یقینی سے حور کو دیکھا مگر اگلے ہی لمحے دوبارہ بولا

“حور پلیز اس طرح نہیں کرو میرے ساتھ یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے ہم گھر جاکر اس پر بات کرتے ہیں”

اس نے حور کو بہلاتے ہوئے تحمل سے کہا

“میں نے تم سے کہا ہے نا زین مجھے کہیں نہیں جانا”

حور نے اپنے ہاتھ چھڑاتے ہوئے زین سے کہا

“تم نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہی ہے نہیں جانا چاہتی وہ تمہارے ساتھ”

آب کے خضر قدم بڑھاتا ہوا زین کے سامنے آیا

“میں تم سے نہیں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں اور تم ہمارے ہر معاملے سے دور رہو”

زین کو خضر کی مداخلت اس وقت زہر لگی اس لئے وہ شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے وان کرنے کے انداز میں بولا

“ھاھاھا بیوی کوئی اپنی بیوی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتا ہے اور اب یہ تمہارا معاملہ نہیں ہے بلکہ بات اب اس گھر میں آ گئی ہے” خضر کے بولنے کی دیر تھی زین نے آگے بڑھ کر خضر کا گریبان پکڑا

“میں تمہیں کب سے برداشت کر رہا ہوں،، اگر تم اب دوبارہ میرے اور حور کے درمیان میں بولے تو میں تمہیں یہی زندہ گاڑھ دوں گا”

زین نے غرا کر خضر سے کہا

“میرے ہی گھر میں کھڑے ہوکر مجھے ہی زندہ گاڑھنے کی دھمکی دے رہے ہو تم”

خضر بھی زین کا گریبان پکڑ چکا تھا

اس سے پہلے دونوں میں ہاتھا پائی شروع ہوتی ماحول کی سنگینی دیکھتے ہوئے ظفر مراد نے آگے بڑھ کر خضر کو اپنی طرف کھینچا حور آگے بڑھی زین کے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکیلا

“بس یہی سب کچھ تو آتا ہے نہ تمہیں غصہ، دھونس، رعب، زبردستی اور آتا ہی کیا ہے تمہیں اس کے علاوہ”

حور نے تیز آواز میں زین سے کہا

“حور تم مزید تماشہ بنائے بغیر میرے ساتھ ابھی اور اسی وقت یہاں سے چل رہی ہو جو بھی بات ہے وہ ہم گھر جا کے کلیئر کرلیں گے”

زین نے سنجیدہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے اس سے کہا

“نہیں جا رہی ہوں میں تمہارے ساتھ، کیا کر لو گے بتاو؟ جب تم چاہو زبردستی گن پوائنٹ پر نکاح کر لو۔۔۔۔۔ جب تم چاہو زور زبردستی سے اپنی بات منوالو،، ایسا نہیں چلے گا سنا تم نے”

حور کو بھی غصہ آنے لگا اور اب وہ بھی اپنی پر آگئی تھی

“جو بھی کچھ ہوا وہ بہت برا ہوا، میں اس کے لئے شرمندہ ہوں مگر مجھے بھی تو اپنی غلطی کی سزا ملی ہے نا۔۔۔ تو اب مزید سزا کیوں دے رہی ہو مجھے”

حور کو غصے میں دیکھ کر زین نے نرم پڑھتے ہوئے اس سے کہا

“ہر بار تمہاری اجارہ داری نہیں چلے گی زین تم جاو اس وقت یہاں سے”

حور نے چہرے کا رخ دوسری طرف پھیرتے ہوئے زین سے کہا۔۔۔ کیونکہ وہ مزید زین کو دیکھتی تو وہ شاید ہار جاتی اور وہ اس وقت یہ نہیں چاہتی تھی

“ہاں تم پر چلے گی میری اجارہ داری،، بیوی ہو تم میری حق رکھتا ہوں میں تم پر”

یہ کہتے ہوئے زین حور کا ہاتھ پکڑ کر آگے کی طرف قدم بڑھانے لگا

“ہاتھ چھوڑو میرا زین”

وہ زین کے ساتھ کھنچتی ہوئی جا رہی تھی۔۔۔۔ حور کے بولنے پر بھی زین کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا اور وہ آگے قدم بڑھائے جا رہا تھا

دوسری طرف فاطمہ نے خضر کو روکے رکھا تھا۔۔۔۔ ظفر مراد جو کہ پولیس کو کال کر رہے تھے آسماء کے روکنے پر رکے دوسرے پل آسماء زین کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی

“حور کا ہاتھ چھوڑ دو زین”

اسماء نے زین سے نرم لہجے میں کہا زین نے ایک نظر آسماء کو دیکھا

“حور تمہاری بیوی ہے بیٹا اور اس پر تمہارا ہی حق ہے مگر اس کی کنڈیشن دیکھو ابھی پلیز تم اس کو میرے پاس چھوڑ دو،، اسے تمہارے پاس ہی آنا ہے مگر تم ابھی میری بات مان لو۔۔۔۔۔ بیٹا پلیز اگر مجھے اپنی ماں کی جگہ سمجھتے ہو تو اس وقت تم یہاں سے چلے جاؤ اس طرح سے صرف بات بڑھے گی اور دل مزید برے ہونگے”

آسماء کے منت بھرے لہجے کے آگے وہ کچھ نہ بولا حور کا ہاتھ چھوڑ کر ایک نظر آسماء پر ڈالی اور باہر نکل گیا

زین کے جانے کے بعد کمرے میں ایک منٹ کے لیے خاموشی چھا گئی جسے ظفر مراد کی آواز میں توڑا

“صبح صبح اس انسان کی شکل دیکھ کر بی پی ہائی ہو گیا میرا میڈیسن دیجیے مجھے آکر”

وہ فاطمہ سے کہتے ہوئے روم سے باہر چلے گئے

اس کے بعد خضر بھی اپنے روم میں چلا گیا

“بس لگتا ہے اب روز روز یہی تماشے دیکھنے کو ملیں گے صبح صبح”

فاطمہ بھی دونوں ماں بیٹیوں کو دیکھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

اسماء اور حور ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں

*****

“بتاؤ حور یہ سب کیا تماشا لگا ہوا ہے”

روم میں آتے ہی اسماء نے حور سے پوچھا

“کس بارے میں بات کر رہی ہیں آپ میں سمجھی نہیں”

حور نے اسماء سے نظریں چراتے ہوئے کہا

“اگر کچھ سمجھی نہیں تو پھر نظریں کیوں چرا رہی ہوں” آسماء نے حور کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا

“بتاؤ مجھے کیا بات ہوئی ہے تمہارے اور زین کے درمیان” آسماء نے دوبارہ پوچھا

“ماما ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے آپ پریشان مت ہوں”

حور نے کاوچ پر بیٹھتے ہوئے کہا

“اگر کوئی بات نہیں ہوئی ہو تو پھر زین کے ساتھ جانے سے کیوں انکار کر رہی تھی”

اسماء بولی

“ماما پلیز ہم اس بارے میں بعد میں بات کرتے ہیں”

کب سے ضبط کیے ہوئے آنسووں کو ایک بار پھر نکلنے سے باز رکھتے ہوئے،، حور نے بولا

وہ زین کا امیج ماما کے سامنے خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر وہ فی الحال زین کے ساتھ جانا بھی نہیں چاہتی تھی، اپنے غصے کی وجہ سے وہ کتنا بڑا نقصان کر بیٹھا تھا اپنا بھی اور اس کا بھی

“ٹھیک ہے تم مجھے کچھ بھی نہیں بتاو میں خود زین سے پوچھ لوں گی” اسماء حور سے کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گئی

****

“آج امی آئی تھی کہہ رہی تھی کافی دن ہوگئے چکر لگائے ہوئے تو سوچ رہی ہوں ایک دو دن جاکر انکے پاس رہ آو”

فضا نے بلال سے کہا جوکہ بڑے انہماک سے بیڈ پر بیٹھا ہوا ٹی وی دیکھ رہا تھا

“ہہمم سمجھدار ہوتی جا رہی ہو تم۔۔۔ اچھا لگا یہ چینج تم میں”

بلال نے مسکرا کر فضا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

“اس میں سمجھداری کہاں سے آگئی بھلا”

فضا نے بلال سے سوال کیا

“سمجھدار بیویاں ہی تو شوہر سے اجازت لے کر میکے جاتی ہیں”

بلال نے نظریں ٹی وی اسکرین پر مرکوز کرتے ہوئے جواب دیا

“تمہیں یہ کس نے کہا کہ میں تم سے اجازت مانگ رہی ہوں۔۔۔۔ میں تمہیں آگاہ کررہی ہوں،، کہ میں کل امی کی طرف جاؤنگی رکنے کے لئے”

فضا نے سر جھٹکتے ہوئے کہا اور بیڈ پر میں لیٹ گئی،، پاؤں کی چوٹ ٹھیک ہونے کے بعد بھی اب وہ بیڈ پر ہی سو رہی تھی

“روکنے کی کیا ضرورت ہے صبح میں چلی جانا رات کو میں لے آؤں گا”

بلال نے ٹی وی بند کرتے ہوئے کہا

“وہ کس خوشی میں”

فضا بولی

“وہ اس خوشی میں کہ روزانہ آنکھ کھلنے پر اب میں تمہارا چہرہ دیکھنے کا عادی ہو گیا ہوں اس لئے No رکنا وکنا رات کو”

بلال نے فضا پر جھگتے ہوئے کہا

“بلال پلیز”

وہ اس طرح بلال کے اپنے اوپر جھگنے سے گھبرا گئی

“اور کب تک سزا دینے کا ارادہ ہے کافی نہیں اتنا”

بلال نے شکایتی نظروں سے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا

“تم پیچھے ہٹ رہے ہو یا میں صوفے پر جاؤ”

فضا نے اٹھتے ہوئے کہا

“چپ کرکے لیٹی رہو یہی پر، اگر میں تمہیں ٹائم دے رہا ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر بار تمہاری ہی چلی گئ۔۔۔ جس دن میں اپنی پہ آگیا تو اچھی طرح بتاؤں گا تمھیں”

بلال فضا سے بولتا ہوا روم سے باہر چلا گیا

****

تانیہ ابھی کلاس اٹینڈ کرکے فری ہوئی تھی کہ اس کے موبائل پر کال آنے لگی

“ہیلو”

تانیہ نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا

“کیسی ہیں آپ تانیہ”

نرم لہجے میں پوچھا گیا

“آپ کون بات کر رہے ہیں اور میرا نام کیسے جانتے ہیں”

تانیہ اس کی آواز کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگی

“میں اشعر بات کر رہا ہوں۔ ۔۔ بلال کا دوست”

اشعر نے اپنا تعارف کروایا

“آپ خیریت۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے،، میرا نمبر آپ کے پاس کیسے آیا”

تانیہ تھوڑا بہت پہچان تو گئی تھی مگر جو سوال پریشان کر رہا تھا اس نے اس کا جواب چاہا

“آپ ساری باتیں فون پر ہی پوچھنا چاہتی ہیں”

اشعر بولا

“کیا مطلب فون پر۔۔۔ کہاں ہیں آپ ابھی”

تانیہ نے حیرت سے پوچھا

“میں آپکی یونیورسٹی کے باہر آپ کا ویٹ کر رہا ہوں”

اشعر بولا

“مگر کیوں؟؟ میں اس طرح کیسے۔۔۔ سوری میرا مطلب ہے”

تانیہ سچ میں گڑبڑا گئی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا وہ اس کی بات کا کیا جواب دے، کیوکہ وہ جب بھی ملا تھا ہمیشہ اس کے کام ہی آیا تھا

“دیکھئے تانیہ مجھے خود بھی اس طرح مناسب نہیں لگ رہا، مگر جو بات میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں وہ کال پر بھی نہیں ہو سکتی، اگر آپ مجھے قابل بھروسہ سمجھتی ہیں تو آپ یونیورسٹی کے باہر آجائے۔۔۔۔ میں آپ کا ویٹ کر رہا ہوں”

اپنی بات ختم کرکے اشعر نے کال کاٹ دی

اور تانیہ کشمکش میں پڑ گئی کہ اب کیا کرے کیا نہیں کرے پھر کچھ سوچتے اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے

اشعر چونکہ شازیہ کو اپنی پسند سے آگاہ کر چکا تھا مگر وہ چاہتا تھا ایک بار تانیہ سے بھی اس کی مرضی معلوم کرے، پھر ہی شازیہ کو تانیہ کے گھر رشتے کے لئے بھیجے۔۔ ۔دل کے کونے میں کہیں اس بات کا اس کو یقین تھا کہ تانیہ کبھی بھی منع نہیں کرے گی،، مگر پھر بھی وہ اپنی زندگی میں تانیہ کو اس کی مرضی جانے بغیر شامل نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا تانیہ اسے باہر کی جانب آتی ہوئی دکھائی دی اشعر نے گاڑی سے اتر کر ہاتھ ہلایا، دور ہونے کی وجہ سے وہ یہاں وہاں دیکھ رہی تھی اشعر کہ ہاتھ ہلانے پر وہ چلتی ہوئی اس کے قریب آئی۔۔۔ اشعر نے گاڑی کا دروازہ کھولا تانیہ اندر بیٹھی، تو اس نے خود بھی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کردی