Itni Mohabbat Karo Naw (Part 1) by Zeenia Sharjeel NovelR50412 Itni Mohabbat Karo Naw Episode 1
Rate this Novel
Itni Mohabbat Karo Naw Episode 1
Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel
وہ تیز ہوتی سانسوں اور تیز ھوتی دھڑکن کے ساتھ بہت تیزی سے اس سنسان سڑک پر بھاگ رہی تھی. اسے راستے کا علم نہیں تھا بس اسے یہاں سے کسی بھی صورت نکلنا تھا. اس نے پیچے مڑ کے نہیں دیکھا تھا
اسکی ہمت اب جواب دے گئی تھی پاوں بری طرح دکھ گئے تھے لیکن اسے ہمت نہیں ہارنی تھی وہ نڈھال ھوتے وجود اور ماوف ہوتے زہن کے ساتھ قدم آگے بڑھا رہی تھی.اسکی انکھوں کے کہ اگے بار بار اندھیرا آرہا تھا مگر اسے یہ موقع نہیں گنوانا تھا.
اچانک کوئ اس کے سامنےآتا ھے اور وہ اس چٹان نما چیز سے ٹکرا کر گرتی ھے اور اسکی انکھوں کے آگے اندھیرا سا آجاتا ھے. تاریخی میں جاتے ہوے دماغ کےساتھ جو آخری بات اسکو یاد آتی ھے وہ یہ کہ اسکا بھہوش وجود دو مضبوط بازوں کی گرفت میں ھے
************
تپتی ھوئ دھوپ میں وہ مایوس قدم اوٹھاے چلا جارہا تھا. سنجیدگی ھمیشہ اسکی طبعیت کا خاصاں رہی ہے لیکن آج اس کی انکھوں میں مایوسی بھی ساتھ تھی. اسے نہیں لگتا تھا یہ جاب بھی اس کو ملے گی. ہاتھ میں پکڑی اپنی ڈگریاں کسی ردی کی مانند مہسوس ہو رہی تھیں. سست قدم اٹھاتا ھوا وہ گھر میں داخل ہوا
“اسلام و علیکم اماں”
زین نے نادیہ بیگم کو سلام کیا
“وعلیکم اسلام بیٹا! کیسا رہا انٹرویو”
انہوں نے پرامید لہجے سے پوچھا
“سفارش کے بنا پر سلیکشن ہوگی کسی اور کی”
زین پانی گلاس میں نکالتے ہوے جواب دیا. تھکن کے اثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے
“مایوسی کفر ہے بیٹا ہر چیز کا وقت مقرر ہے مل جاے گی جاب بھی
جاو منہ ہاتھ دھو کے آو میں کھانا لاتی ہو”
وہ دماغ میں آئ سب سوچوں کو جھٹک کے کمرے سے چلے گیا
**********
“حور اٹھ جاو کالج نہیں جانا کیا آج”
اسما کمرہ سمیٹتے ہوے کہنے لگی
“جی ماما بس اٹھ گئ”
وہ کسل مندی سے اٹھ گئی ہر روز کی طرح اس کو سب کا ناشتہ بنانا تھا اس کے بعد اپنے کالج کے لئے نکلنا تھا.
یہ بھی شکر تھا کہ اس کے چچا اور تایا اس کو پڑھا رہے تھے ورنہ باپ کے انتقال کے بعد بہت مشکل وقت انہوں نے گزارہ تھا یہی بہت تھا کہ اس کے چچا اور تایا نے اس کو اور اس کی ماما کو گھر جگہ کے ساتھ ساتھ دو وقت کی روٹی بھی میسر کردی تھی۔
اسما کے گھر والوں نے وقار صاحب کی انتقال کے بعد صاف لفظوں میں دونوں ماں بیٹی کی ذمہ داری قبول کرنے سے منع کر دیا تھا.
تھوڑا چچا اور تایا کو خوف خدا تھا اور اپنے بھائی کی اکلوتی نشانی سمجھتے ہوئے گھر میں جگہ دی.
حور اور اسما کے ساتھ تایا اور چچا کا رویہ تھوڑا بہت نرم رویہ تھا. اس کے برعکس تائی اور چچی کو ان دونوں کا وجود بری طرح کھٹکتا تھا
باقی کزنز بھی سب اپنی اپنی پڑھائی اور دنیا کے جھمیلوں میں مصروف تھے. موڈ ہوا تو منہ لگا لیا نہیں تو تو کون اور میں کون والا حساب تھا
صرف ایک خضر ہی تھا جو حور اور اسما کے لیے دل میں نرم گوشاں رکھتا
*********
اسکول کی چھٹی کا وقت تھا شاہ اپنے ڈرائیور کا انتیظار کر رہا تھا. ایسے میں اس کی نظر ایک معصوم سی گڑیا پڑی جو آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو لیے بینچ پر بھیٹی رونے میں مصروف تھی. وہ 1 یا 2 کلاس کی اسٹوڈنڈ ہوگی. بچی نے جب کافی دیر تک اپنا رونے کا مشغلہ جاری رکھا تو شاہ اس کے پاس جا کے بیٹھ گیا
“کیا ہوا گڑیا تمیں. رو کیوں رہی ھو”
بچی نے اپنا مشغلہ ترک کر کے اپنے برابر میں بھیٹے لڑکے کو دیکھا جو اس کی کلاس کا نہیں تھا حیرت سے بولی
“میرا نام گڑیا تو نہیں. کیا میں تمیں گڑیا جیسی لگی”
بچی نے معصومیت سے پوچھا
اسکی بات سن کر شاہ ہنسا
“گڑیا جیسی نہیں پری جیسی لگی ہو. گڑیا تو ویسے ہی بولا میں نے. اچھا تو پری یہ بتاو تم رو کیوں رہی تھیں”
شاہ نے دوبارہ پوچھا
“میں نے ہوم ورک کملیٹ نہیں کیا تو ٹیچر نے مجھے ڈانٹا”
بچی نے دوبارہ انکھوں میں آنسو لیے کہا
“تو تم نے اپنا ہوم ورک کیوں نہیں کیا”
“ماما گھر کے کاموں میں بزی رہتی ہیں ان کے پاس ٹائم نہیں ہوتا”
بچی نے اداسی سے جواب دیا اس ہونٹ کے نیچے بائے طرف تل بھی شاہ کو اداس لگا
“کوئی بات نہیں ہوم ورک تمہں میں کروا کرو گا. فرینڈ بنوگی میری”
شاہ نے پری کے اگے ھاتھ بڑھا کر کہا
جسے پری نے تھام لیا
اور یوں وہ دونوں دوست بن گئے
آج وہ پھر انٹرویو دینے گیا تھا مگر سفارش کی بنا پر کسی اور کی سلیکشن پہلے ہی ہوگئی تھی. اسے اپنا آپ بے بس محسوس ہوا مگر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا اپنی ہی سوچوں میں گم جب وہ گھر کی طرف واپس آیا تو ایک نیا امتحان اس کے استقبال کے لیے منتظر تھا.
گھر کے دروازے پر لگا تالا دیکھ کر وہ سوچ میں پڑ گیا کہ اماں اس وقت کہا جا سکتی ہے برابر والوں سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ اچانک بے ہوش ہونے کی وجہ سے بلال انہیں قریبی اسپتال لے گیا ہے. وہ وہیں سے اسپتال کی طرف روانہ ہوگیا
“کیا ہوا اماں کو بلال”
زین نےبلال کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“ثانیہ صبح آنٹی کے پاس گئی تھی تو آنٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پھر اچانک وہ بے ہوش ہوگیں. ثانیہ نے مجھے بتایا تو میں انٹی کو اسپتال لے آیا”
بلال نے تفصیل سے بتایا
“تم بتاؤ تم کہاں تھے؟ساتھ ہی بلال نے زین سے پوچھا
“کچھ نہیں یار انٹرویو کے لئے گیا تھا وہی سے خوار ہو کر آرہا ہوں. خیر میں ڈاکٹر سے بات کر کے آتا ہوں”
یہ کہ کر زین ڈاکٹر کے روم کی طرف گیا
“می آئی کمنگ”
“آئیے تشریف رکھئے” ڈاکٹر ولید نے کہا
کیا رشتہ ہے پیشنٹ سے آپکا ؟
ڈاکٹر ولید نے زین کے بیٹھتے ہی پوچھا
“مدر ہیں میری”
زین نے جواب دیا
“مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے وقت پر پراپر ٹریٹمینٹ نہیں کروانے سے ان کی ایک کڈنی فیل ہوچکی ہے اور دوسری افیکٹٹ ہے. آپ ان کا خیال رکھیں اور پراپر ٹریٹمینٹ شروع کروائیں”
ڈاکٹر نے تو اپنی بات ختم کر دی مگر زین کے لیے سوچوں کے نئے پہلو نکل آئے
کمرے سے باہر آنے پر زین اپنی اماں کے پاس گیا وہ دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی. زین نے اپنے آپ کو اتنا بے بس اور لاچار پہلے نہیں سمجھا تھا. دو تین چھوٹی موٹی ٹینشن سے دو وقت کی روٹی تو میئسر ہو جاتی تھی مگر اب اماں کا علاج…. یہ اس کے لئے سوالیہ نشان تھا… مگر کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا کیونکہ اس کے لیے دنیا میں واحد رشتہ اس کی ماں کی تھی.
زین ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوا. ساجد صاحب آئیڈیل شوہر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین باپ بھی تھے. بہترین جاب تھی زندگی سہولیات سے آراستہ تھی. زین ان کی اکلوتی اولاد تھا جو کہ شادی کے چھ سال بعد پیدا ہوا تھا. اس لئے ساجد صاحب اور نادیہ بیگم نے اس کے لیے بہت خواب دیکھے تھے.
خواب تو ہر کوئی دیکھتا ہے مگر آنے والے وقت کا کسی کو نہیں پتہ ہوتا. ساجد صاحب پاٹنرشپ کی بنیاد اپنے دوست ظفر مراد کے ساتھ بزنس اسٹارٹ کیا. جس سے انہیں دن دگنی رات چوگنی ترکی ملی. زندگی خوشگوار گزر رہی تھی کے ایسے میں ایک دن اچانک کار ایکسیڈنٹ میں ساجد صاحب کا انتقال ہوگیا…
اس وقت زین 15سال کا ہوتا تھا ابھی وہ دونوں اس صدمے سے نہیں نکلے ہوتے کہ ایک دن اچانک ظفر مراد یہ انکشاف کیا کہ بزنس میں کافی نقصان ہوا اور سارا سرمایا بھی ڈوب گیا ہے.
اس وقت نادیہ بیگم کو حالات کی سنگینی کا علم ہوتا ہے. ظفر کی باتوں میں انہیں صداقت محسوس نہیں ہوئی مگر وہ اکیلی عورت ذات کچھ نہیں کر سکتی تھیں.
وہ اپنی زندگی اور حالات کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ بلال اس کے پاس آیا
“کیا کہتے ہیں ڈاکٹر؟
بلال نے برابر میں بیٹھتے ہوئے پوچھا
زین نے ساری تفصیل بلال کو بتائی
“سمجھ نہیں آرہا کیا کروں”
وہ اس وقت پریشان دکھ رہا تھا
“پریشان مت ہو آزمائش کا وقت ہے گزر جائے گا کاش میرے بس میں ہوتا تو میں تمہارے لیے کچھ کر سکتا”
بلال اس کا مخلص دوست تھا محلے میں برابر میں ہی رہتا تھا اس کے اوپر بھی تین بہنوں کی اور معذور باپ کی ذمہ داری تھی وہ زین کی طرح ہی مجبور تھا. جاب اس کی بھی ضرورت تھی جو زین کی طرح اس کے پاس نہیں تھی
****** حور جیسے ہی تھکی ہاری کالج سے گھر پہنچی تو سارہ چچی نے اسے کچن بلوالیا
“آگئی تم”
“جی چچی کوئی کام تھا” حور نے پوچھا
“ظاہر ہے جبھی تو بلایا ہے. آج ماہم کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں تو شام کے لیئے اچھا سا ریفریشمنٹ تیار کرو اور پھر کمرے میں ہی رہنا”
یہ کہہ کر وہ چلے گیئں. حور کچن میں بزی ھوگئی
کل اسے اپنا اسائنمنٹ بھی لازمی سبمٹ کروانا تھا تو اب سونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا. جلد ہی کچن کا کام فارغ ہوئی.
آج عام دنوں کی بانسبت موسم اچھا تھا گرمی کا احساس نہیں تھا وہ اپنا اسائنمنٹ لے کر لان میں آ گئی. ماہم کے رشتے والے آ چکے تھے ماہم میک اپ میں لبریز مسکرا مسکرا کر انہیں ناشتہ دے رہی تھی اور چاچی بات بات پر مسکرا مسکرا کر بتا رہی تھی کہ
“یہ کباب لیں ماہم نے بنائے ہیں۔۔۔میکرونی تو ٹیسٹ نہیں کی آپ نے اس کے ہاتھ کی میکرونی گھر میں سب کو بہت پسند ہے”۔
جب رشتے والی خاتون جانے لگیں تو ان کی نظر باہر نکلتے ہوئے لان پر پڑیں انہوں نے سارا چچی سے پوچھا
“کون ہے یہ لڑکی” وہ اپنی بیزاری چھوپائے مسکرا کر بتانے لگ گئی
“یہ میرے جھیٹھ کی بیٹی ہے”
ان کے جانے کے بعد چچی حور کی خبر لینے اس کے سر پر نازل ہوگئی
“میں نے تمہیں منع کیا تھا نہ کہ کمرے سے باہر نہیں نکلنا”
خونخوار نظروں سے گھورتے ھوئے انہوں نے حور سے کہا
“مگر میں تو وہاں نہیں آئی چچی میں تو یہاں لان میں اپنے کالج کا کام کر رہی تھیں”
حور کے جواب دینے پر ساہ چچی نے غصے میں اس کا اسائنمنٹ پھاڑ دیا
“آئندہ اگر میری بات نہ مانی اور زبان چلائی اگے سے تو ان کاغذ کی طرح تمہارا حال کرو گی”
حور بے بسی سے آنسو بہاتی انہیں دیکھ رہی تھی اب دوبارہ اس کو اتنی محنت کرنی پڑے گی. شور کی آواز سن کر آسماء (حور کی امی) وہی آگئ
“کیا ہوا بھابھی”
“اپنی بیٹی کو قابو میں رکھو اور اسکی زبان کو بھی”
یہ کہہ کر وہ چلے گئیں
“حور تم نے زبان چلائی ہے”حور روتی ہوئی
” نہیں ماما میں نے تو انہیں صرف یہ کہا کہ میں ان خاتون کے سامنے روم میں تو نہیں آئی میں یہاں بیٹھ کر اپنا کام کر رہی تھیں”
“دیکھیں چچی نے میری ساری محنت ضائع کر دی “
آسماء لمبی سانس بھر کر رہ گئے
“دیکھو حور آئندہ اپنی چاچی یا کسی کو آگے سے جواب نہیں دوں گی تم”
“مگر ماما میں نے تو”
“حور میں کیا کہہ رہی ہو” اسماء نے حور کی بات کاٹتے ہوئے کہا
“جی ماما”
حور بھی اپنے نوٹس لے کر اندر چلے گئی.
اسماء آسمان کی طرف دیکھ کر یہ دعا کرنے لگی “اللہ پاک میری حور بہت معصوم ہے. آگے اس کا واسطہ اچھے لوگوں سے پڑھے اور اس کے نصیب میں محبت کرنے والا شخص لکھ دینا”
******
اگلے دن شاہ کو ہاف ٹائم میں پری نظر آگئی وہ اپنے دوستوں کے پاس سے اٹھ کے اس کے پاس جا بیٹھا
“کیسی ہو پری “
شاہ نے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں”
اس نے خفگی سے جواب دیا. ساتھ میں تل بھی خفا ہو جیسے
“ارے یہ تمہارا منہ کیوں بنا ہوا ہے”
شاہ نے پھولے ہوئے گال دیکھ کر پوچھا
“آج ماما نے مجھے لنچ میں بسکٹ رکھ دیئے مجھے وہ نہیں کھانے”
جیسے اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی پریشانی بتائی
“اس میں کون سی بڑی بات ہے تم میرا لنچ باکس لے لو اس میں سینڈوچ ہیں۔تمیں سینڈوچ پسند ہے ؟
شاہ نے سینڈوچ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا
“ہے یہ تو اچھے ہیں شاہ پھر تم یہ بسکٹ کھا لو”
شاہ مسکراتے ہوئے ٹشو سے پری کا منہ صاف کرنے لگا جہاں کریم لگی ہوئی تھی اور وہ سینڈوچ سے انصاف کرنے لگی
