365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 15

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

زین نے مسکراتے ہوئے فون رکھا

عشق نے غالب ہمیں نکما بنا دیا

ورنہ آدمی تھے ہم بھی بڑے کام کے

اشعر نے زین کو دیکھتے ہوئے شعر پڑھا

“بس شروع ہوگئے تم”

زین نے آبرو اچکا کر کہا

“ابھی تو شروع میں نہیں تم ہو ئے وے تھے یار ویسے آپس کی بات ہے۔ ۔۔ تمہیں دیکھ کر تو دل چاہتا ہے کہ میں بھی جلد سے جلد گھوڑی چھوڑ جاؤں”

اشعر نے دانت نکالتے ہوئے کہا

زین ایک افسوس بھری نظر اشعر پر ڈالی

“اس میں اتنے افسوس سے مجھے دیکھنے کی کیا بات ہے شادی کرنے پر صرف تمہارا ہی حق ہے”

آشعر نے برا مانتے ہوئے کہا

“افسوس مجھے تمہارا نہیں اس لڑکی کا سوچ کر ہو رہا ہے جس کی قسمت تمہارے ساتھ پھوٹے گی”

زین نے نظریں فائل پر جماتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا

“اوہ ہیلو! ایسی بھی بات نہیں ہے اب۔۔۔ مانا زیادہ نہیں مگر تھوڑا بہت ڈیسنٹ میں بھی ہوں”

اشعر نے بالوں کے ہیر اسٹائل پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

“شکل سے کچھ نہیں ہوتا بیٹا آدمی کی حرکتیں بھی ڈیسنٹ ہونی چاہیے”

وہ ابھی بھی فائل میں دیکھتے ہوئے بولا

“چھوڑو یار تمہیں تو کبھی بھی مجھ جیسے ہیرے کی پہچان نہیں ہوگی، یہ بتاؤ فیصل نے کیا خبر دی”

اشعر نے کام کی بات پوچھی

“فی الحال تو فیصل سے یہی کہا کہ اس پہ نظر رکھو ابھی کچھ کرنے سے منع کر دیا ہے”

زین نے جواب دیا

“کیا حال ہیں تم دونوں کے اور کس پر نظر رکھوائی جا رہی ہے”

بلال نے روم کے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا

“کسی پر نہیں۔۔۔ تم سناؤ دیر کیوں ہو گئی آج تمہیں”

اشعر نے پوچھا

“ابو کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا وہی سے آ رہا ہوں”

بلال نے بتایا

*****

شام کا وقت حور آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تیار ہو رہی تھی آج اسے شاپنگ پر جانا تھا زین نے اسے شام میں ریڈی رہنے کے لیے کہا تھا وہ بس آنے والا تھا بیل بجی تو وہ مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف گئی

دروازہ کھولتے وقت جس چہرے کی توقع کر رہی تھی۔۔۔ اس کے برعکس اسے وہ چہرہ نظر آیا جس کا اس نے سوچا نہیں تھا۔۔۔ حور کے چہرے کی مسکراہٹ معدوم ہو کر غائب ہوگئی

“آپ”

خضر کو دیکھتے ہوئے حور نے کہا

“کیا ہوا مجھے دیکھ کر تمہیں خوشی نہیں ہوئی”

خضر نے غور سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا

“نہیں خضر بھائی ایسی بات نہیں ہے بس میں سمجھ رہی تھی کہ”

“زین کا انتظار کر رہی تھی”

خضر نے حور کی بات مکمل کی

“جی وہ دراصل ہمیں آج باہر جانا تھا”

حور نے وضاحت دی

“آوکے کوئی بات نہیں تمہیں دیکھنے کا دل چاہ رہا تھا اس لئے آگیا تھا اب چلتا ہوں”

خضر نے مایوس لہجے میں کہا اور دروازے سے ہی واپس جانے کے لیے مڑا

“ارے نہیں خضر بھائی رکھیے تو”

خضر کے مایوس لہجے سے حور کا دل پگھل گیا تو حور کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا اور اس کے بعد حور کو احساس ہوا کہ اسے خضر کو نہیں روکنا چاہیے تھا کیونکہ زین کے آنے کا وقت تھا اور خضر کو اپنے گھر میں دیکھ کر زین کا کیا ری ایکشن ہوگا یہ وہ سوچ کر ڈر گئی

“کیا ہوا کس سوچ میں پڑ گئی۔۔۔ روکا ہے تو اندر نہیں آنے کا کہوں گی”

خضر نے حور کو غائب دماغ دیکھتے ہوئے کہا

“جی اندر آئے”

حور نے راستہ چھوڑا اور مرے مرے قدموں سے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی خضر اس کے پیچھے تھا

“اور سناؤ کیسی ہو”

خضر نے صوفی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

“میں ٹھیک ہوں آپ بتائیے گھر میں سب کیسے ہیں”

حور نے مروتا پوچھا۔۔ دل اس کا بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ دل ہی دل میں دعا کررہی تھی کہ زین ابھی نہ آئے

“سب لوگ ٹھیک ہے چچی تمہارے ماموں کی طرف گئی ہوئی ہیں تھوڑے دنوں کے لئے”

خضر نے اس کی غائب دماغی نوٹ کی اور جواب دیا

“جی ماما نے بتایا تھا کل میری بات ہوئی تھی ان سے”

حور نے دیوار پر لگی ہوئی وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے خضر سے بولا

“تم نے اپنا نمبر مجھے نہیں دیا حور”

خضر نے اس کو دیکھتے ہوئے شکوہ کیا

“بس ویسے ہی دھیان نہیں گیا میرا”

حور نے باہر کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جیسے اسے ڈر تھا کہ زین یہی کھڑا نہ ہو۔۔۔ زین نے اسے ان لوگوں سے ملنے کے لیے منع کیا تھا اور اس وقت اس نے بھی ہامی بھری تھی مگر یہ بات وہ منہ پر تو خضر یا تایا سے نہیں بول سکتی تھی

“دھیان نہیں گیا یا تمہارے ہزبینڈ نے منع کیا”

خضر کے بولنے پر حور چپ ہی رہی

“خوب سمجھتا ہوں میں ایسے لوگوں کی منٹیلیٹی کو”

“ایسی بات نہیں ہے خضر بھائی مجھے واقعی دھیان نہیں رہا”

حور نے خضر کی بات کو تیزی سے کاٹ کر بولا اسے خضر کے منہ سے زین کے لئے اس طرح سننا اچھا نہیں لگا

“او کے چلو کر لیتا ہوں تمھاری بات پر یقین۔۔۔۔۔۔ یہ بتاؤ گھر کب آوگی”

خضر نے مزید اس ٹاپک پر بات نہ کرتے ہوئے حور سے گھر آنے کا پوچھا

“جی ان شاء اللہ جلد ہی چکر لگاؤں گی”

حور نے دوبارہ گھڑی پر نظر ڈال کر کہا اور دل میں دعا کی کے ٹائم یہی پہ رک جائے

“اوکے میں چلتا ہو۔۔۔ جلدی گھر پہ چکر لگاؤ سب یاد کر رہے ہیں تم کو”

خضر نے اٹھتے ہوئے کہا

وہ حور کا بار بار وال کلاک کی طرف دیکھنا نوٹ کر گیا تھا جو بھی تھا وہ اسے کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا

حور بھی فورا اپنی جگہ سے اٹھ گئی آب کے اس نے مروتا بھی دوبارہ بیٹھنے یا چائے وغیرہ کے لئے نہیں کہا کیونکہ یہ اخلاق نبھانا اس کو کافی مہنگا پڑسکتا تھا۔۔۔ اس لیے وہ چاہتی تھی خضر جلد سے جلد یہاں سے چلا جائے اور خضر کے جاتے ہی اس کی روکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔۔۔۔۔ وہ وہی کاوچ پر بیٹھ گئی ابھی پانچ منٹ گزرے ہونگے دوبارہ بیل بجی وہ فورا اٹھ کر دروازہ کھولنے کے لئے آگے بڑھیں دروازہ کھولتے ہی زین کا چہرہ نظر آیا

“سویٹ ہارٹ اتنے بے صبری سے انتظار کر رہی تھی اپنے معصوم سے شریف سے شوہر کا ایک سیکنڈ میں ہی دروازہ کھول دیا” زین اندر داخل ہوتے ہوئے بولا

حور نے مسکرانے پر اکتفاد کیا وہ ابھی بھی ڈری ہوئی تھی “اگر زین کو پتہ لگ جائے تو؟؟

“کیا ہوا کس سوچ میں گم ہو گئی مسسز”

زین نے حور کے چہرے کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے

کہا

“کچھ نہیں دیر کیوں ہو گی تمہیں آنے میں”

حور نے جلدی سے بات بنائی جبکہ آج دیر سے آنے کا وہ جتنا شکر ادا کرتی ہوں اتنا کم تھا

“میری جان ٹریفک کی وجہ سے ٹائم لگ گیا تم نے مس کیا مجھے”

وہ اسے بانہوں میں لیے ہوئے پوچھ رہا تھا

“ہہہم کیا تھا”

وہ اس کے سینے میں منہ چھپا کر اتنا ہی کہ سکی

“تم ٹھیک ہو حور” زین نے اس کا چہرے دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے کچھ کھوجنے کی کوشش کی

“مجھے کیا ہونا ہے بالکل ٹھیک ہو۔۔۔ تم بتاؤ شاپنگ کرانے کا ارادہ ہے کہ نہیں”

حور نے اس کی تجسس بھری نظروں کو دیکھا فریش موڈ کر کے بولی ابھی تو بچ گئی تھی کہیں اپنے رویے سے نہ پکڑی جائے

“ارادہ تو ہے سویٹ ہارٹ مگر پہلے یہ بتاو فون پر کیا کہا جا رہا تھا صبح۔۔۔ معصوم اور شریف شوہر کی دھونس اور دھمکی نہیں چلے گی اور چپ کر کے آفس کا کام کیا جائے۔۔۔ کیوٹ سی پیاری سی وائی فائف ابھی بزی ہے بات نہیں کر سکتی”

زین آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے صبح والی بعد یاد دلا رہا تھا اور مسکرا کر قدم آگے بڑھا رہا تھا حور مسکرا کر پیچھے ہوتے ہوئے صوفے پر گری اس سے پہلے وہ اس کے اوپر جھکتا حور نے کشن اٹھا کر بیچ میں دیوار بنا دی

“اگر تم نے میرا میک اپ خراب کیا تو میں پروگرام کینسل کر دوں گی” حور نے اپنی طرف سے دھمکی دی

“پروگرام تو خود ہی کینسل ہو چکا ہے اب تو میری کیوٹ سی پیاری سی وائف کا خیر منانے کا وقت آ گیا ہے”

زین کشن دور پھنکتے ہوئے حور کی گردن پر جھکا

“زین پلیز ہٹو ہمہیں چلنا ہے دیر ہو رہی ہے”

حور نے دونوں ہاتھوں کو زین کے سینے پر رکھ کر خود سے دور کیا

“میرے خیال میں شاپنگ کا پروگرام کل نہ رکھ لیں”

زین نے دوبارہ حور کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرتے ہوئے سستی سے کہا

“اگر تم نے واقعی میری بات نہ مانی تو میں تم سے ناراض ہو جاؤنگی” اب کے حور نے سیریز ہو کر دھمکی دی

زین سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اس کو گھورتے ہوئے کہنے لگا

“یہ صرف تمہارے ہی اندر اتنی ہمت ہے کہ تم دھمکی دے کر زین سے کچھ بھی منوا سکتی ہوں”

وہ اٹھتے ہوئے بولا

حور کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ آئی

اس نے کب سوچا تھا کوئی اتنا چاہنے والا ناز اٹھانے والا اس کی زندگی میں اچانک آ جائے گا۔۔۔ مگر وہ کیوں نہ آتا اس کی زندگی میں اس کے پرنس کو تو آنا ہی تھا

آج فضا کی بارات کا فنکشن تھا حور آئینے کے آگے کھڑی ہوئی فائنل ٹچ دے رہی تھی پیچ کلر کا فراک میں اس کے نازک سراپا ہمیشہ کی طرح دلکش لگ رہا تھا زین روم کے اندر آیا اور سجی سنوری حور کو آئینے کے سامنے کھڑا دیکھکر قریب آیا

“کیسی لگ رہی ہوں میں؟؟ میک اپ اوور تو نہیں لگ رہا”

حور نے آئینے میں دیکھ کر زین سے سوال کیا

“ہمیشہ کی طرح حسین بالکل اپنے نام کی طرح”

حور کے گرد دونوں ہاتھ حائل کر کے حور کے کندھے پر اپنی چن رکھتے ہوئے بولا

“تمہیں اندازہ ہے تم کتنی ظالم بیوی ہو”

زین آئینے سے حور کو دیکھتے ہوئے کہا

“وہ بھلا کیوں “

حور نے حیرت سے پوچھا

“شوہر تو تمہارے حسن کا پہلے سے ہی دیوانہ ہے اس طرح ہتھیار سے لیس ہوکر مزید تڑپانا ظلم نہیں تو اور کیا ہے”

وہ بہت سنجیدہ لہجے میں کہہ رہا تھا

“زین تم سے ایک بات پوچھوں”

حور نے بھی اس کی طرح سنجیدہ لہجے اختیار کیا

“ہہہم پوچھو”

وہ ابھی بھی حور کے کندھے پر اپنی چن ٹکائے ہوئے کھڑا تھا

“تمہیں رومینٹک فلمیں بہت پسند ہے کیا”

حور معصومیت سے بولی

“نہیں سویٹ ہارٹ یہ میرے سچے جذبات ہیں، جو تمہارے سامنے آتی ہی امڈ آتے ہیں”

لہجہ زین کا ابھی بھی سنجیدہ تھا جب کہ آنکھوں میں شرارت کا عنصر نمایاں تھا

“مجھے تو ایسا لگتا ہے تم بچپن میں بھی عاشق مزاج ہوں گے”

زین کے ہاتھوں کا حصار توڑ کر وہ بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر کاندھے پر سیٹ کرنے لگی

“ہاں یہ تم نے بالکل ٹھیک کہا انفیکٹ پہلا عشق مجھے میرے بچپن میں اپنے اسکول کی لڑکی سے ہوا تھا”

زین اب مسکراتے ہوئے کہنے لگا

“واقعی”

حور نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر کہا

“100 % سچ”

وہ اب بھی مسکرا رہا تھا

“تو پھر شادی بھی اس چڑیل سے ہی کرنی تھی نا”

حور نے جل کر کہا

“ہاہاہا تم جیلس ہو رہی ہو شاید۔۔۔ ویسے ہونا بھی چاہے وہ تھی بھی بہت حسین”

زین نے انگوٹھے سے حور کے نچلے ہونٹ پر تل سہلاتے ہوئے کہا اسے حور کا یہ روپ دیکھ کر جیسے مزا آ رہا تھا

“ہوگی حسین مجھے کیا۔ ۔۔ میں بھلا کیوں جلوں گی اس چڑیل سے۔۔۔۔ جلدی چلو ہمیں دیر ہو رہی ہے”

حور نے منہ بناتے ہوئے کہا

“مجھے ایسا لگ رہا ہے ہمہیں آج کا پروگرام کینسل کر کے گھر میں رہنا چاہیے”

زین نے خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے کہا

“اور ہمیں ایسا کیوں کرنا چاہیے”

حور نے اسی کے انداز میں پوچھا

“پھر میں تمھیں وہ ساری رومینٹک موویز کا بتاؤں گا جو میں نے اب تک دیکھی ہیں”

زین نے اب پرفیوم حور پر چھڑکتے ہوئے کہا

“میرا خیال ہے گھر میں کافی ٹائم گزر گیا ہمہیں فورا نکلنا چاہیے”

حور نے زین کے ہاتھ سے پرفیوم لے کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا

*****

فضا پر دلہن بن کر خوب روپ آیا تھا وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی مگر آنکھیں اور دل بالکل اداس تھا۔۔۔۔پارلر سے بینکویٹ تک اس کو بلال نے لے کر جانا تھا۔۔۔ فضا کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر ایک پل وہ بالکل ساکت رہ گیا، دل میں کہیں بہت درد محسوس ہوا۔۔۔ اس سوچ سے اس کی آنکھیں جلنے لگی کہ آج کے بعد اس پر کسی اور کا حق ہوگا ایک لمحے کے لیے اس کے دل نے چاہا گاڑی وہ کہیں اور دور بھگا کر لے جائے مگر اپنے خیالوں کو جھٹک کر اس نے فضا کے لیے بیک ڈور کھولا۔۔۔

فضا نے ایک شکوہ بھری نظر بلال پر ڈالی اس نظر میں جانے کیا کیا تھا بلال کا دل تڑپ گیا اور اس نے نظر چرا لی اور گاڑی اسٹارٹ کردی

****

مہمان تقریبا سارے ہی آچکے تھے زین بھی حور کو لے کر تھوڑی دیر پہلے پہنچا تھا، اشعر بلال کے دوست کے توسط سے انوائٹ تھا وہ بھی زین کے آنے سے دس منٹ پہلے ہی آیا تھا ساتھ میں شازیہ (اشعر کی ممی)بھی تھی اشعر نے حور کا ان سے تعارف کرایا وہ ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔۔ حور کی نظر تانیہ پر پڑی تانیہ بھی حور کو دیکھ کر مسکرائی اور اس کی طرف آئی

“کیسی ہی بھابھی آپ”

تانیہ نے حور کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا

“میں بالکل ٹھیک ہوں تم سناؤ کیسی ہو بہت پیاری لگ رہی ہو”

حور بھی خوش دلی سے ملتے ہوئے تانیہ سے بولی

تانیہ نے سوالیہ نظروں سے حور کی طرف دیکھا جیسے وہ پوچھ رہی ہوں یہ خاتون کون ہے جو مستقل اس کو مسکرا کر دیکھ رہی ہیں

“ان سے ملو تانیہ یہ اشعر بھائی کی امی ہیں”

حور نے تانیہ کا اشارہ سمجھتے ہوئے ان سے تعارف کروایا

“السلام علیکم! آنٹی کیسی ہیں آپ؟؟ تانیہ نے جلدی سے انہیں سلام کیا

“وعلیکم السلام بیٹا میں ٹھیک ہوں الحمدللہ آپ غالبا؟ ؟

“یہ بلال بھائی کی سب سے چھوٹی بہن تانیہ ہے”

حور نے شازیہ کو بتایا

شازیہ کو یہ اسکارف والی لڑکی بہت پسند آئی اور مزید باتوں کا سلسلہ جاری رہا

****

اگر تم نے اپنا دیکھنے کا یہ شغل بند نہیں کیا تو دوسرے سب لوگوں کو یہاں مشکوک ہو جانا ہے”

زین نے اشعر کو وہی جملہ لوٹایا جو اس نے فارم ہاؤس پر زین کو بولا تھا جب وہ حور کو دیکھ رہا تھا

“کیا پاگل تو نہیں ہو گئے ہو کیسی باتیں کر رہے ہو”

اشعر جو کہ کافی دیر سے تانیہ کو ممی اور حور سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا یوں اچانک زین کے بولنے پر بوکھلا گیا

“اب یاروں سے پردہ داری”

زین نے آبرو اچکا کر کہا

“یار دراصل ایسی بات نہیں ہے پسندیدگی صرف میری طرف سے ہے۔۔۔ اسے تو شاید معلوم بھی نہیں اور کچھ اوٹ پٹانگ کرکے میں بلال کی نظروں میں اپنا امیج نہیں گرانا چاہتا، وہ بہن ہے اس کی اس لیے اپنے جذبات کا اظہار میں نے تانیہ سے بھی نہیں کیا ہے۔۔۔ ناجانے وہ کیا سمجھے ممی کو بھی یہ سوچ کر نہیں بولا میرے پرپوزل پر بلال نہ جانے کیسے ری ایکٹ کرے”

اشعر نے زین کو تفصیل سے بتایا

“اشعر کسی کو پسند کرنا بری بات نہیں ہے، اگر تمہاری آنکھوں میں پسندیدگی کے علاوہ کوئی دوسرا غلط جذبہ تانیہ کے لئے مجھے دیکھتا تو بلال کو پتہ چلنے سے پہلے میں خود تمہاری درگت بنا دیتا۔۔۔۔ کیونکہ تانیہ بلال کی جتنی بہن ہے اتنی میری بھی ہے اور ایک بھائی ہونے کے ناطے مجھے اس رشتے پر میں کوئی برائی نظر نہیں آتی ہے جو تم تانیہ کے لئے بھیجو گے اور بلال کو بھی برا نہیں لگے گا۔۔۔۔۔

بے شک ہماری دوستی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے مگر میں نے اور بلال نے وہ حالات دیکھیں ہیں جن میں سامنے والے انسان کی پہچان اچھی طرح ہوجاتی ہے اور یقینا تم تانیہ کے لئے بہترین انتخاب ثابت ہوگے”

جیسے ہی زین نے اپنی بات مکمل کی اس کے ساتھ موبائل پر کال آئی

“ہاں فیصل بولو”

زین کال ریسیو کرتے ہوئے بولا دوسری طرف سے جانے کیا کہا گیا جس کے جواب میں زین بولا

“نہیں ابھی مزید تین چار گھنٹے تک اسے اپنے پاس رکھو کوئی نقصان پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ کڑی نظر رکھو اور تین چار گھنٹے سے پہلے اسے فرار نہیں ہونے دینا”

زین بول رہا تھا اور اشعر بڑے غور سے سن رہا تھا

“کام ہو گیا ہے”

زین نے کال ڈسکنکٹ کرتے ہوئے کہا اور اشعر نے سر ہلایا