365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 19

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

وہ تینوں آفس کے کیفیٹیریا میں بیٹھے ہوئے کافی پی رہے تھے بلال نے اس دن کے بعد سے اس موضوع پر زین یا اشعر سے کوئی بات نہیں کی تھی بلکہ آفس کے کام کے علاوہ وہ ان دونوں سے کوئی خاص بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔ ابھی بھی ان تینوں کے درمیان خاموشی تھی جسے اشعر کی آواز نے توڑا

“اس دن جو بھی کچھ میں نے اور زین نے کیا وہ تمہارا سوچ کر کیا تھا، تمہیں خوش دیکھنے کے لئے۔۔۔ ہم یہ سوچ رہے تھے کہ تم فضا بھابھی سے اتنی محبت تو کرتے ہو کہ اگر کبھی تمہیں اس حقیقت کا پتہ بھی چلا کہ ذیشان کو ہمارے کہنے پر فیصل نے اٹھایا ہے, تم اس بات کو realize کرو گے ہم نے تمہاری خوشی کی خاطر اپنی دوستی نبھائی مگر اب مجھے لگتا ہے کہ ہم نے واقعی غلط کیا”

اعشر نے سنجیدگی سے بلال سے کہا

“کر لی تم نے بکواس یا اور بھی کچھ کہنا ہے ابھی”

بلال نے بھی اسی کی طرح سنجیدگی سے اشعر سے پوچھا

“ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے وہ، اب مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے نہیں اٹھانا چاہیے تو اس بیچارے ذیشان کو”

زین نے بھی اشعر کی سائیڈ لیتے ہوئے کہا

“مجھے لگ رہا ہے کہ آج تم دونوں کا میرے ہاتھوں سے پٹنے کا دل چاہ رہا ہے جو فضول میں بکواس کیے جارہے ہو”

بلال نے اب زین کو دیکھتے ہوئے کہا

“او بھائی تو پھر صاف بتا کب تک یہ روٹھی ہوئی حسیناؤں کی طرح منہ لٹکا کر رہنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔ یہاں کوئی منانے ونانے والا چکر نہیں ہے خود ہی انسان بن جا”

اشعر نے ساری اخلاقیات ایک طرف کرتے ہوئے بلال کو اصلیت دکھانے میں دیر نہیں کی جس پر بلال اشعر کو گھورتا رہ گیا جبکہ زین کی باقاعدہ ہنسی چھوٹ گئی

“قسم سے دو دن سے یہ جتنے نخرے دکھا رہا ہے اتنے نخرے تو میں اپنی بیوی کے برداشت نہ کرو”

غلط وقت پر اشعر کی زبان پھسلی جسے وہ دانتوں تلے دبا گیا

“فضول میں نہ ہانکہ کرو اپنی، کوئی ناراض وراض نہیں ہوں میں تم دونوں سے اور نہ ہی کبھی ہو سکتا ہوں۔۔۔ بائے داوے یہ بیوی تمہیں آج کیسے یاد آ گئی جو ابھی تک تمہاری زندگی میں میری اطلاع کے مطابق آئی تو نہیں ہے”

بلال نے اشعر کو دیکھتے ہوئے کہا

“بالکل بلال میں بھی یہی بات پوچھنے والا تھا اچھا سوال کیا ہے۔۔۔۔ بیوی کا یہاں کیا ذکر؟؟ بے سبب تو ایسے کوئی ذکر بھی نہیں کرتا یقینا دال میں کچھ کالا ہے”

زین نے بھرپور اداکاری کرتے ہوئے بلال سے کہا

جس پر اشعر کا دل چاہا کہ ایک زوردار مکہ وہ زین کے منہ سے جڑ دے

“ارے یار غلطی ہوگئی معاف کر دو ایسی کوئی بات نہیں چھوڑو اس ٹاپک کو چلو واپس۔۔۔ کچھ ضروری پوائنٹ ڈسکس کرنے ہیں کل کے پروجیکٹ کے لئے”

اشعر نے جلدی سے بات گمانی چاہی

“ہاں مگر تمہاری زندگی سے امپورٹنٹ تو پروجیکٹ نہیں ہے ہمارا۔۔۔۔ اس کو چھوڑو مجھے اور بلال کو یہ بتاؤ کہ اکیلے میں کسے خیالوں میں سوچ کر مسکریا جاتا ہے”

زین اسے آج کہاں ایسے بخشنے والا تھا۔۔۔ اس نے بھرپور خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشعر کی ٹانگ کھینچی

“یار یہ دیکھ رہا ہے آج دوسری بار تیرے آگے ہاتھ جوڑے ہیں میرے بھائی، مجھ سے آج تک جو غلطیاں ہوئی ہیں مجھے معاف کر دے پلیز”

اشعر نے دونوں ہاتھ زین کے آگے جوڑتے ہوئے بیچارگی سے کہا

“چلو ابھی نہ سہی پھر کبھی سہی، معاف کیا آج تو”

زین نے مسکراتے ہوئے کہا

اشعر لمبا سانس کھینچ کر ریلیکس ہوا اور گھور کر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس خطرناک آدمی کو دیکھا جو ابھی بھی اشعر کو دیکھتے ہوئے مسکرائے جا رہا تھا۔۔۔ جبکہ بلال ان دونوں کی گفتگو کو مذاق سمجھتے ہوئے کافی پینے میں مصروف تھا۔ ۔۔ میسج ٹون بجنے پر زین نے ٹیبل پر پڑا ہوا سیل فون اٹھایا اور میسج دیکھنے لگا

****

حور نے بہت سوچتے ہوئے خضر سے نہ ملنے کا فیصلہ کیا اور خضر کو فون کر کے منع کرنے کا سوچا

“ہیلو خضر بھائی”

کال ریسیو ہوتے ہی حور نے کہا

“ہاں بولو حور پھر تم نہیں آ رہی ہو کیا”

خضر نے چھوٹتے ہی حور سے سوال کیا

“مطلب”

حور گڑبڑا گئی کہ خضر کو کیسے پتہ چلا اس نے پروگرام کینسل کرنے کے لیے کال کی ہے

“مطلب صاف ہے حور تمہارے اس کنزرویٹیو شوہر نے منع کردیا ہوگا۔۔۔ میں خوب جانتا ہوں ایسے انسانوں کی منٹیلٹی کو”

“نہیں میں نے یہ بتانے کے لئے آپ کو کال کی تھی کہ میں سہی پانچ بجے آپ کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ جاؤ گی”

حور نے خضر کی بات سن کر اس کو جواب دیا

“ٹھیک ہے پھر میں پانچ بجے تمہارا ویٹ کرونگا”

خضر کال ڈسکنیکٹ کر کے مسکرانے لگا

حور خضر کے بتائے ہوئے ریسٹورینٹ میں صحیح وقت پر پہنچ گئی مگر اب گھر سے نکلنے کے بعد اس کو گلٹ فیل ہو رہا تھا شاید اس نے ٹھیک نہیں کیا مگر اس نے سوچا آج وہ خضر بھائی سے دو ٹوک بات کریں گی۔۔۔۔ کہ وہ اپنی زندگی میں خوش ہے اور اسے اپنی زندگی جینے دیں

“حور میں یہاں ہوں”

وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی، خضر کی آواز پر مڑی

“کیسے ہیں آپ”

حور نے سنجیدگی سے پوچھا مسکراہٹ یا خوشی کی اس کے چہرے پر رمق بھی نہیں تھی۔۔۔۔ یہ چیز خضر نے نوٹ کی

“میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو آؤ بیٹھو”

خضر نے خیریت پوچھنے کے ساتھ ہی چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ بھی کیا

“میں یہاں پر بیٹھنے نہیں آئی ہوں خضر بھائی میں صرف آپ کو یہ بتانے آئی ہو”

“حور پلیز بیٹھو آرام سے بات کرتے ہیں نا”

حور کی بات مکمل ہونے سے پہلے خضر نے حور کو اپنی مخصوص نرم لہجے میں کہا جیسے وہ ہمیشہ حور سے بات کیا کرتا تھا ناچار ہی سہی حور کو بیٹھنا پڑا

“ویک لگ رہی ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”

خضر نے حور کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“ایسے ہی نظر کا دھوکا ہوا ہوگا آپ کو، میں بالکل ٹھیک ہو۔۔۔ طبیعت بھی ٹھیک ہے میری”

حور بس وہاں سے جلدی جانا چاہتی تھی اس کو گھبراہٹ شروع ہوگئی

“میری نظر تمہارے معاملے میں کبھی دھوکا نہیں کھا سکتی۔۔۔ خیر تم کہہ رہی ہو تو ٹھیک کہہ رہی ہو گی”

خضر نے اس کو جتایا

“آپ نے مجھے اس طرح کیوں بلایا ہے خضر بھائی”

حور جلدی سے کام کی بات کرکے وہاں سے نکلنا چاہتی تھی

خضر نے اس کو جواب دینے کے بجائے ویٹر کو اشارہ کیا جو کہ ریڈ فلور کا ایک خوبصورت بوکے اور ایک کیک لے کر آیا

“ہیپی برتھ ڈے حور”

خضر مسکرا کر بولا تو حور کو اپنے ایٹی ٹیوڈ پر افسوس ہونے لگا۔۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے چھائی ہوئی بیزاری کہیں غائب ہو گئی وہ اس کا کزن تھا جو ہر سال اس کا برتھ ڈے یاد رکھتا تھا،ہمیشہ اس کے کام آتا تھا اور اس کا خیال رکھتا تھا۔۔۔۔ آج وہ کیسے اپنی زندگی میں مگن ہو کر اس سے بے رخی برت رہی تھی اسے مزید شرمندگی نے آ گھیرا

“آپ کو آج میرا برتھ ڈے یاد تھا” اس نے مسکرا کر خضر سے پوچھا

“اس سے پہلے کیا کبھی بھولا ہوں”

خضر نے نائف حور کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ حور نے کیک کاٹا خضر نے ایک چھوٹا سا ٹکڑا حور کو کھلانے کے لئے آگے بڑھایا، حور نے جھجکتے ہوئے منہ کھولا ہی تھا۔۔۔ آنے والے نے زور سے خضر کا ہاتھ جھٹکا کیک کا ٹکڑا اچھلتا ہوا دور جا گرا۔۔۔۔۔اس سے پہلے حور دیکھتی ایک زوردار چانٹا حور کے منہ پر پڑا، جس سے حور کا دماغ گھوم گیا دھندلاہٹ آنکھوں سے کم ہوئی۔۔۔ تو سامنے والے کا چہرہ واضح ہوا جسے دیکھ کر اس کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔ زین آنکھوں میں بےیقینی لیے حور کو غصہ میں گھور رہا تھا

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس پر ہاتھ اٹھانے کی”

اس سے پہلے خضر زین کی طرف بڑھتا۔۔۔۔ زین نے خضر کا گریبان پکڑ کر زور دار مکہ خضر کے منہ پر جڑدیا

سارے لوگ تماشا دیکھنے میں مصروف تھے ویٹرز قریب آئے مگر زین کے تیور دیکھ کر وہی رک گئے

“یہ تمہارے لئے میری آخری وارننگ ہے میری بیوی سے دور رہنا تم”

زین شہادت کی انگلی اٹھائے خضر کو وان کرتا ہوا حور کی طرف مڑا غصے سے اس کو دیکھا اس کا ہاتھ کھینچتے ہوئے تیز قدم آگے بڑھانے لگا اور حور کسی پتھر کے مجسمے کی طرح اس کے ساتھ چلنے لگی

زین نے گاڑی کا دروازہ کھول کر حور کو پٹخنے کے انداز میں اندر پھینکا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آکر کار ڈرائیو کرنے لگا ۔۔۔۔ پندرہ منٹ کا راستہ پانچ منٹ میں طے کر کے وہ اپارٹمنٹ میں پہنچا، دوبارہ حور کا ہاتھ کھینچ کر اسے گاڑی سے باہر نکالا، ہاتھ کی گرفت میں سختی اس قدر تھی کہ حور کو محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ہی نہ ٹوٹ جائے مگر وہ بناء اف کیے ہوئے اس کے ساتھ چلتی چلی جا رہی تھی، خوف کے مارے اس کی زبان تالو سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔۔ بیڈ روم میں لاکر بےدردی سے حور کو بیڈ پر پھینکنے کے انداز میں بٹھایا،، حور کا چہرہ لٹھے کی ماند سفید ہو چکا تھا سارے جسم کا خون خشک ہوچکا تھا

“کیا بکواس کی تھی میں نے اس دن تم سے۔۔۔ کہ مجھے جھوٹ اور دھوکہ پسند نہیں ہے بولا تھا کہ نہیں”

زین اس پر جھگتا ہوا اس کا منہ پکڑے ہوئے حور سے پوچھ رہا تھا زین کی انگلیاں حور کے گالوں میں بری طرح گھڑ رہی تھی

“جواب دو”

زین بری طرح دھاڑا اس کی آواز پورے فلیٹ میں گھونجی حور وہ کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے

“بولا تھا”

حور نے کانپتی ہوئی آواز نے جواب دیا

“تو کیسے دیا تم نے مجھے دھوکا۔۔۔ کیوں گئیں اس سے ملنے”

زین نے حور کا منہ جھٹکے سے چھوڑا تو وہ بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں گری۔۔۔ درد اور خوف سے حور کی آنکھیں ایک لمحے کے لیے بند ہوئی، مگر جو آنکھیں کھلیں تو حیرت سے وہی ساکت رہ گئیں۔۔۔ زین کے ہاتھ میں اسکا بیلٹ تھا، آگے کی سوچ سے حور بری طرح کانپ گئی جیسے ہی زین نے بیلٹ والا ہاتھ اٹھایا

“شاہ پلیز نہیں”

حور آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے زور زور سے رونے لگی

زین کا بیلٹ والا ہاتھ وہی ہوا میں رک گیا۔ ۔۔وہ ابھی بھی لب بیچے ہوئے حور وہ زور زور سے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ زین نے غصے میں بیلٹ کھینچ کر دیوار پر دے ماری،، حور اس سے بھی بری طرح ڈر گئی۔۔۔ وہ لال انگارہ ہوتی آنکھوں سے حور کو گھورتے ہوئے کمرے سے باہر دروازہ بند کر کے چلا گیا، دروازہ بند کرنے کی آواز سے پورے گھر کے در و دیوار کانپ گئے اور حور بھی۔۔۔۔ حور اوندھے منہ ہو کر زور زور سے رونے لگی

****

“آآآآآ”

جب تک تانیہ بھاگتے ہوئے کہ کچن میں پہنچی فضا زمین بوس ہو چکی تھی

“یہ کیا کر رہی تھی تم اوپر چڑھ کے بے وقوف خاتون یہ اسٹول تو پہلے ہی سے ماشاءاللہ ہے اوپر سے تم اس پر چڑھ گئی”

تانیہ نے فضا کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا

“تانیہ میں گری ہوئی ہو تم مجھے اٹھانے کے بجائے باتیں سنا رہی ہو۔۔۔ اللہ جی درد ہو رہا ہے مجھے”

تکلیف کے آثار اسکے چہرے پر نمایاں تھے تانیہ نے اسے سہارا دیتے ہوئے اٹھانا چاہا

“آہ”

پاوں پر زور پڑتے ہی فضا کی دوبارہ چیخ نکل گئی

“شاید پاؤں میں موچ آ گئی ہے بہت درد ہو رہا ہے”

جیسے تیسے تانیہ فضا کو کمرے میں لے کر آئی اور خود بھی ہانپ گئی

تھوڑی دیر بعد بلال آفس سے گھر آیا ڈرائنگ روم میں فضا کو صوفے پر لیٹے ہوئے دیکھا

“کیا ہوا سب خیریت ہے”

بلال کو تشویش ہوئی

“آپ کی بیگم اپنے پاوں پر ظلم ڈھا کر بیٹھی ہوئی ہیں اور تو باقی سب خیریت ہے”

تانیہ نے جواب دیا

“کیا ہوا تم ٹھیک ہو”

اب بلال فضا کے قریب بیٹھتے ہوئے فضا سے پوچھ رہا تھا

“اسٹول پر چڑھی ہوئی تھی بیلنس نہیں رہا تو گر گئی پاؤں میں موچ آ گئی ہے شاید بہت درد ہو رہا ہے”

فضا نے رونی شکل بناکر بلال کو بتایا

“کیا ضرورت تھی بیچارے اسٹول پر چڑھنے کی نازک سا اسٹول۔۔ کہا اس کی اتنی برداشت کہ وہ تمہارا وزن برداشت کرے”

بلال بات کو مذاق کا رنگ دے کر اس کا پاؤں دیکھنے لگا

“ہاتھ ہٹاو اپنا میرے پاؤں پر سے۔۔۔۔ کیا بول رہے ہو تم، کیا مجھے کوئی پہلوان سمجھ رکھا ہے تم نے، جو اس طرح بول رہے ہو”

فضا نے اچھا خاصا برا مانتے ہوئے کہا

“اچھا یار sorry دکھاؤ تو اپنا پاؤں ذرا”

بلال نے پاؤں چیک کیا تو واقعی ہلکی سوجن تھی

رات کے کھانے کے بعد جب روم میں جانے کا وقت آیا

“میرے خیال میں بھائی فضا کو یہیں چھوڑ دیں یہ سیڑھیاں کیسے چلے گی”

تانیہ نے فضا کے خیال سے کہا

“کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی تم ابو کا خیال رکھو یہی کافی ہے۔۔۔۔ اپنی بیگم کو میں خود اٹھا کر لے جاؤ گا۔۔۔ ویسے بھی اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہیے”

وہ الگ بات تھی اتنے دنوں میں فضا کے کمرے میں موجودگی کا وہ عادی ہو گیا تھا۔۔۔ بے شک وہ ابھی تک اس سے ناراض تھی، صوفے پر سوتی تھی۔۔۔ مگر بلال کے لیے احساس ہی کافی تھا کہ وہ اس کے پاس ہے

“ٹھیک ہے پھر”

تانیہ نے ہنسی دبائی جبکہ فضا نے بلال کو گھور کر دیکھا

جیسے ہی بلال نے فضا کو سہارا دے کر اٹھانا چاہا، جان بوجھ کر آنکھیں باہر نکال کر ایسی شکل بنائی جیسے بہت وزنی چیز اٹھا لی ہو۔۔۔۔ جس پر تانیہ زور سے ہنسنے لگی

“بلال اگر اب تم نے بدتمیزی کی نہ تو میں سچ مچ ناراض ہو جاؤں گی تم سے اور تم اپنے دانت اندر رکھو”

فضا نے دونوں بہن بھائی کو گھرکا

“میں کیا کہہ رہا ہوں، کچھ کہہ رہا ہوں تمہیں۔۔۔ بس مجھے تو اسٹول سے ہمدردی محسوس ہو رہی ہے”

بلال نے فضا کو اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کہا

“اتارو! ابھی کے ابھی اتارو کہیں نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ”

فضا نے برا مانتے ہوئے کہا

“سوچ لو ابھی اتار دوں”

جیسے ہی بلال نے اپنی گرفت ہلکی سی ڈیلی چھوڑی۔۔۔ ویسے ہی فضا نے مضبوطی سے بلال کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بلال کو پکڑ لیا

“تم دنیا کے بدتمیز انسانوں ہو۔۔۔ جس کا ثبوت آج تم مجھے بار بار دے رہے ہو۔۔۔ شاید تم چاہ رہے ہو کہ میرا دوسرا پاؤں بھی ٹوٹ جائے”

بلال پر فضا کو سچ مچ غصہ آنے لگا بلال نے فضا کو بیڈ پر آکر لٹایا

“جبکہ بدتمیزی تو ابھی تک میں نے شروع بھی نہیں ہے تم سے”

وہ فضا کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا اور خود بھی بیڈ کی دوسرے سائیڈ پر آکے لیٹ گیا

“دماغ پر چوٹ تو نہیں لگی ہوئی ہے، میں صوفے پر لیٹتی ہوں روزانہ”

فضا نے بیڈ سے اٹھنا چاہا

“خالا خالو نے جب اتنا بڑا بیڈ دیا ہے، جس پر ہم دونوں آسانی سے آسکتے ہیں تو پھر کیا ضرورت ہے صوفے پہ لیٹنے کی

بلال نے پاکٹ سے موبائل اور والٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا

“تم کچھ زیادہ ہی فری نہیں ہو رہے ہو بلال”

فضا نے گھورتے ہوئے اس سے کہا

“تو اپنی بیوی سے ہو رہا ہوں نہ۔ ۔۔۔ پڑوسی کی بیوی سے تو نہیں”

بلال نے ذرا سا ہاتھ کھینچ کر فضا کو برابر میں لیٹایا

“مجھے یہاں نہیں لیٹنا بلال”

فضا نے سنجیدگی سے کہا

“کیوں بھروسہ نہیں ہے خود پر “

بلال معصومیت سے بولا

“کیا فضول بول رہے ہو تم۔۔۔ ایک نمبر کے وہیات انسان ہو تم”

فضا نے دانت پیس کر کہا

“نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے چپ کر کے لیٹ جاؤ اور اتنا بھی وہیات انسان نہیں ہوں جو تمہاری مجبوری کا فائدہ اٹھاو۔۔۔۔ اس لیے آب اپنی چونچ بند کرو اور چپ کر کے سو جاؤ”

بلال نے سائڈ پر رکھا ہوا موبائل اٹھا کر کہا جبکہ فضا اس کو گھور کر رہ گئی

*****

شام سے رات ہو گئی حور ایک ہی پوزیشن میں بیڈ پر لیٹی رہی۔۔۔ جب تھک گئی تو خود ہی اٹھ کر بیٹھ گئی

آج اس کی برتھ ڈے کا دن اتنا بھیانک بھی ہوسکتا ہے یہ تو اس میں تصور میں بھی نہیں سوچا تھا کل رات 12 بجے وہ کتنی خوش تھی زین کی پیار نے اور اظہار نے اسے عرش پر بیٹھا دیا تھا اور آج۔ ۔۔۔

حور اٹھ کر ڈریسر کے پاس گئی اور آئینے میں خود کو دیکھنے لگی اپنے دائیں گال پر انگلیاں پھیر کر اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آگئے۔۔۔۔ زین کی انگلیوں کے نشان کافی ہلکے ہو چکے تھے مگر تکلیف اسے پہلے سے بڑھ کر ہو رہی تھی

“‏اف کیا ہو گیا میرے ساتھ۔۔۔ کیوں چلے گی میں خضر بھائی کے بلانے پر”

وہ دوبارہ اس گھڑی کو کوسنے لگی جب اس نے خضر سے ملنے کا فیصلہ کیا تھا

“اور شاہ غصہ کے ساتھ ساتھ کتنی ناعتباری تھی اس کی آنکھوں میں میرے لیے”

شام والا منظر یاد کر کے اسے ایک بار پھر رونا آنے لگا۔۔۔ زین سے وہ اچھی خاصی ڈر گئی تھی

“جو بھی ہو غلطی میں نے کی ہے مجھے خود اس کے پاس جانا چاہیے اس سے معافی مانگنا چاہیے۔۔۔۔ اس نے مجھے ماما سے تو ملوا دیا تھا اور میں نے بھی تو بس یہی چاہا تھا اس سے۔۔۔مجھے خضر بھائی کو فون پر ہی منع کر دینا چاہیے تھا بھلے ہی وہ کچھ بھی سوچتے رہتے مگر آج مجھے یوں بیٹھ کر رونا تو نہیں پڑتا”

حور آنسو صاف کرتے ہوئے روم سے نکلی

“شاہ کہاں ہوگا مجھے اسے منانا چاہیے اور وہ مان جائے گا بہت پیار کرتا ہے مجھ سے۔۔۔ میں معافی مانگو گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا، بالکل پہلے کی طرح”

کبھی کبھی ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا نہیں ہوتا ہے یا حور نے غلط وقت کا انتخاب کیا یا پھر واقعی آج حور کی برتھ ڈے کا دن اس کے لئے بہت برا ثابت ہونے والا تھا

وہ دوسرے روم کی طرف بڑھی جہاں کا دروازہ بند تھا اس روم میں اس کا شاہ موجود تھا