365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 12

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

زین کی آنکھ کھلی تو برابر میں حور کی جگہ خالی تھی۔ وہ رات کو کافی دیر سے سویا تھا نیند کا خمار ابھی بھی آنکھوں میں تھا۔۔۔۔ ٹائم دیکھنے کے لئے سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ سے موبائل کا ٹٹولا موبائل وہاں موجود نہیں تھا، آنکھیں کھول کر دیکھا تو یاد آیا یہ مخصوص جگہ تھی موبائل رکھنے کی

“کہا جاسکتا ہے”

سوچتے ہوئے اٹھا دوسری روم میں گیا اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے کیوکہ موبائل حور کے ہاتھ میں تھا کے منع کرنے کے باوجود ۔۔۔۔۔ اسے احساس تھا کہ حور اپنی ماما کو مس کرتی ہوں گی۔۔۔ مگر اپنے نئے بزنس کے چکر میں وہ زیادہ ٹائم دوسری چیزوں کو نہیں دے سکتا تھا اور حور کو اس کی ماما سے ملانے یا بات کرانے کا مطلب ایک نئے چکر کو شروع ہو جانا تھا۔۔

وہ فی الحال ان لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے اس نے حور کو منع کیا تھا مگر اپنا موبائل حور کے ہاتھ میں دیکھ کر اسے ناگوار گزرا، مگر غصہ اسے جب آیا جب اس نے حور کے منہ سے خضر کا نام سنا۔۔۔۔۔ تو غصہ سے اس کی رگیں تن گئیں اور سامنے رکھا ہوا وااس اسنے پوری شدت سے حور کے سامنے دیوار پر دے مارا، وہ بری طرح سہم گئی ۔۔۔۔۔مزید غصہ اسے موبائل کان لگانے کے بعد خضر کی آواز سن کر آیا۔۔۔ مزید وہ حور کو غصے میں کچھ کہتا ہے اس سے پہلے وہ گاڑی لے کر باہر نکل گیا

****

خضر اس وقت آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا جب ایک اننون نمبر سے اس کے موبائل پر کال آئی۔ نمبر جانا پہچانا نہیں لگ رہا تھا پہلے سوچا اگنور کر دے مگر پھر کچھ سوچ کر کال ریسیو کر لی۔۔۔۔۔ مگر دوسری طرف حور کی آواز سن کر وہ حیرت میں ڈوب گیا آخر اتنے دنوں بعد حور کی آواز سنی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا، مگر پھر بیک گراؤنڈ سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز آئی وہ ہیلو ہیلو کرتا رہا، مگر پھر حور کی آواز نہیں آئی۔۔۔۔ کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا وہ جلد سے جلد حور سے ایڈریس معلوم کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ حور تک پہنچ سکے مگر کال ڈسکنکٹ ہوگئی یا کر دی گئی۔۔۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکا وہ ابھی بھی شاک کی کیفیت میں تھا مگر کہیں اندر سے خوشی بھی تھی اس بات کی تھی کہ حور نے اس کو کال کی اور وہ اب بھی اس کو یاد کرتی ہے۔۔۔۔ اب خضر کو یقینا حور کو جلد از جلد ڈھونڈنا تھا اور اس کرمنل کے پاس سے آزاد کروانا تھا

****

حور جوکہ زین کے بیڈ پر دھکا دینے سے ایک دم پیچھے جا گری مگر بیڈ کے بجائے سائیڈ ٹیبل کا کونہ لگنے سے اس کے سر پر خون کی ایک لکیر ماتھے سے نمودار ہوئی اور اسے اپنا دماغ سن ہوتا ہوا محسوس ہوا

****

زین بےمقصد سڑکوں پر گاڑی ڈرائیو کرتا رہا پھر تھوڑی دیر بعد نادیہ بیگم کے پاس چلا گیا تھوڑی دیر بعد ان کا ڈائلیسیس ہونا تھا ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد وہ نادیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گیا ہاتھ تھامے ہوئے پوچھا

“کیسی طبیعت ہے آپ کی اماں”

“میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ میری بہو کیسی ہے”

“بہو کے آتے ہی آپ بیٹے کو بھول گئیں”

حور کا نام سنتے ہی اسے تھوڑی دیر پہلے ہونے والا واقعہ یاد آیا سر جھٹک کر، وہ شرارتا کہنے لگا

“بیٹا تو میری آنکھوں کے سامنے ہیں اس لئے میں نے بہو کا پوچھا”

انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

“ٹھیک ہے وہ بھی ملوانے کے لئے لے کر آؤں گا اسے کسی دن، تھوڑے دن آفس کے کاموں میں بزی ہوں”

زین نے جواب دیا

“بہت پیاری ہے حور ماشاءاللہ سے تمہیں اپنے گھر میں بستا دیکھ کر دل کو اطمینان ہے۔۔۔ کل کو اگر میں نہ رہوں تو تم اکیلے نہیں ہوں گے”

“کیسی باتیں شروع کر دی ہیں آپ نے؟؟ کہاں جا رہی ہیں آپ؟؟ سب رشتے اپنی اپنی جگہ پر لیکن مجھے ہمیشہ آپنی زندگی میں آپکی ضرورت رہے گی”

نادیہ بیگم کے ہاتھ چوم کرو نے آنکھوں پر لگائے

“کوئی کسی کے ساتھ ہمیشہ تھوڑی رہتا ہے سب کو ایک نہ ایک دن تو جانا ہوتا ہے۔ حور بہت پیاری بچی ہے مجھے پتہ ہے وہ تمہیں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑے گی اور تم بھی ہمیشہ اس کا خیال رکھنا”

****

کہاں ہوتے ہو خضر آج کل، ماں سے بھی بات کرنے کا ٹائم نہیں ہے تمہارے پاس”

فاطمہ بیگم نے خضر کو بیڈروم سے نکلتے دیکھ کر شکوہ کیا

وہ آج کل رات کو کافی لیٹ گھر آ رہا تھا۔ سارہ منگنی کے بعد آب ماہم کی شادی کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی جبکہ آسماء نے تو اپنے آپ کو کمرے میں ہی بند کر لیا تھا۔۔۔۔ مگر اب اسماء کے بھائی نے ان کے پاس آنا جانا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ وہ بال بچوں کی شادی کر کے اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئے تھے۔۔ ذمہ داریاں ختم ہوتے انہیں بھولی بسری بہن یاد آ گئی۔۔۔ جسے بہت پہلے مجبوری کا نام دے کر ملنا چھوڑ دیا تھا کبھی کبھی بھائی کے آجانے تو وہ تھوڑی دیر کے لئے بہل جاتی مگر اس کے بعد پھر اپنے آپ کو کمرے میں قید کرلیتی۔ خضر یا پھر ظفر صاحب ہی انکا حال احوال کر لیتے کبھی کبھی

“امی آفس کے کام کی وجہ سے بزی ہوں۔ آپ بتائیں طبیعت کیسی ہے آپ کی”

خضر نے ماں سے پوچھا

“طبیعت وہ کیا ہونا ہے میری۔۔۔ بس اب تم آفس کے کاموں کو ایک طرف رکھو اپنی زندگی کے بارے میں سوچو”

فاطمہ بیٹے کو دیکھتے ہوئے بولیں

“زندگی کے بارے میں ہی سوچ رہا ہوں”

خضر نے سامنے سجے ہوئے ناشتے کو دیکھ کر کرسی کھینچتے ہوئے بولا

“کیا بھلا خاک سوچ رہے ہوں میں آجکل میں تہمینہ کے پاس جانے والی ہوں ممکن نائمہ کے لئے رشتے آرہے ہیں”

فاطمہ نے خضر کو اپنے ارادوں سے آگاہ کیا

“امی میں آپ کو پہلے ہی منع کر چکا ہوں، حور کے علاوہ میں کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرسکتا”

خضر نے ناشتے سے ہاتھ کھینچتے ہوئے بولا

“تمہارے سر سے ابھی تک اس حور کا بھوت نہیں اترا خضر۔۔۔ اب وہ شادی شدہ ہے کسی اور کی بیوی ہے تم ابھی تک اس کے پیچھے مجنوں کی طرف پڑے اپنی زندگی کو برباد کر رہے ہو۔۔۔۔ کان کھول کر سن لو میں ہرگز ایسا نہیں ہونے دوں گی”

فاطمہ کو خضر کی بات سن کر پہلے حیرت ہوئی اور پھر غصہ آنے لگا

“امی میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں ناعیمہ کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں اور رہی بات حور کی اس کا پتہ میں بہت جلد لگا لوں گا اور وہ شادی شدہ ہو یا کچھ بھی۔۔۔۔ مجھے اس سے غرض نہیں پڑتا۔۔۔ وہ بہت جلد اس گھر میں دوبارہ موجود ہوگی”

اپنی بات کہہ کر روکا نہیں بلکہ بغیر ناشتے کے چلے گیا

گاڑی میں بیٹھتے تو اس نے اپنے موبائل سے ایک نمبر ڈائل کیا

“ابھی میں ایک موبائل نمبر تمھیں سینڈ کر رہا ہوں جتنی جلدی ہو سکے مجھے اس کی ڈیٹیل چاہیے”

****

ہاسپٹل سے زین اپنے فلیٹ میں پہنچا گھر کا لاک کھولا تو ساری لائٹس بند تھی۔ لائٹس آن کرکے زین بیڈروم کی طرف بڑھا وہ ابھی تک حور کی فون والی حرکت نہیں بھولا تھا۔۔۔۔۔۔غصہ اب زین کا ختم ہو گیا تھا مگر وہ ناراض ہونے کا حق تو رکھتا تھا یہی سوچتا ہوا اس نے بیڈروم کا دروازہ کھولا بیڈ روم کی لائٹ بھی ہنوز اف تھی۔۔۔۔ لائٹ آن کرتے ہیں پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا، مگر سامنے نظر پڑتے ہی وہ بری طرح ٹھٹک گیا “حور”

زین نے آگے بڑھتے ہوئے حور کو پکارا اور حور کی طرف آگے قدم بڑھائے

*****

زین کے بارے میں ساری معلومات بمعہ ایڈریس خضر کے سامنے تھی اور خضر فاتحانہ انداز میں مسکراتا ہوا کرسی پر بیٹھا ہوا سوچ رہا تھا

“بس حور میں آنے والا ہوں”

خضر اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک اس کے موبائل پر کال آئی جو خبر اس کو دی گئی وہ فورا افس سے دوڑتا ہوا باہر اپنی گاڑی کی طرف لپکا

****

“کیا سوچ رہے ہیں بلال بھائی”

وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا جب تانیہ نے آکر اس سے پوچھا

“کچھ نہیں پانیہ کے جانے کے بعد گھر سونا سونا ہوگیا ہے”

بلال بات بناتے ہوئے بولا

“ہاں یہ بات بھی ہے”

تانیہ کے بولنے پر بلال نے چونک کر تانیہ کو دیکھا

“بھی، سے کیا مراد ہے تمہاری۔۔۔ یہی سوچ رہا ہوں اور کیا سوچوں گا “

بلال بولا

“ثانیہ کو تو جانا تھا آج نہیں تو کل”

تانیہ اداسی سے بولی

“ہاں یہ تو ہے تمہاری فائل بھی اوپر آ گئی ہے۔۔۔۔۔ ایک دن تم بھی اسی طرح اپنے گھر چلی جاؤ گی “

بلال نے آنکھوں میں شرارت لیے۔۔۔۔۔ پیار سے تانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔ بلال کو اپنی یہ بہن بہت عزیز تھی

“میں آپ کو اور بابا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی”

تانیہ نے ناراضی سے بولا

“ابھی خود ہی تو کہہ رہی تھی جس طرح ثانیہ کو آج نہیں کل جانا ہے، اس طرح میری گڑیا تمہیں بھی آج نہیں تو کل جانا ہے”

وہ اسے پیار سے سمجھانے لگا

“بھائی آپ نے اپنے بارے میں کیا سوچا ہے پھر”

تانیہ نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا

“میرا کیا ہے ابو ہیں نا میرے پاس”

وہ اداسی چھپاتے ہوئے بولا

“بھائی فضا اب بھی آپ سے ۔۔۔”

“بس تانیہ چپ ہو جاؤ بالکل۔۔۔۔ اس کی شادی ہونے والی ہے، میں اب دوبارہ تمہارے منہ سے کوئی ایسی بات نہ سنو”

بلال نے تانیہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے کاٹ دی اور کمرے سے باہر چلے گئے

“حور”

زین آگے قدم بڑھاتا ہوا تیزی سے حور کی جانب بڑھا۔۔۔۔ وہ اوندھے منہ نیچے گری ہوئی تھی زین نے قریب آکر اس کو سیدھا کیا اس کے بال چہرے سے ہٹائے تو تکلیف کی ایک لہر اس کے سینے میں دوڑ گئی

“حور حور اٹھو آنکھیں کھولو پلیز”

وہ جو اس نے سوچا تھا ناراضگی کا اظہار کرے گا وہ تو ختم ہو گئی تھی اب تو اس کی جان پر بن آئی تھی اس نے حور کو بازوں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا حور کے چہرے پر آنسوؤں کے نشان خشک ہوچکے تھے اور ماتھے پر لگا خون بھی جم گیا تھا پاوں بھی اسکا کانچ لگنے سے زخمی تھا۔۔۔۔۔ حور کی حالت دیکھ کر زین کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا اسے اپنے عمل پر، اپنے اوپر شدید غصہ آیا۔ وہ جلدی سے اٹھ کر فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا اور پہلے اس کے پاؤں کے زخم کو صاف کرنے لگا اور بینڈیچ کی، ماتھے کے زخم کو صاف کرکے آئنمنٹ لگایا۔۔۔۔ وہ ہلکا سا کسمسای زین نے اپنے لب حور کے ماتھے پر رکھ دیے۔۔۔ زین کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا

“پانی”

حور کی نقاہت زدہ آواز پر وہ اٹھا جلدی سے پانی لے کر آیا سہارا دے کر حور کو پانی پلایا حور نے آنکھیں کھول کر زین کو دیکھا اسے صبح والا واقعہ یاد آگیا۔۔۔۔ وہ زین سے دور ہو کر بیٹھنے لگی۔۔۔۔ شاید یہ ناراضگی کا اظہار تھا، یہ ڈر کا۔۔۔۔ مگر زین نے اس کو اپنے پاس سے دور ہوتے ہوئے دیکھ کر اسے خود سے مزید قریب کر لیا

“پلیز ایم ریلی سوری”

وہ اس کو خود میں بیچے ہوئے شرمندہ لہجے میں کہنے لگا

مگر حور نے زین سے فاصلہ قائم کرنا چاہا تو زین کچھ کہے بغیر پیچھے ہوا روم سے باہر چلے گیا باہر سے کھانا ارڈر کیا اور بیڈروم میں ہی کھانا لے کر آیا

“حور اٹھو کھانا کھا لو شاباش”

اس نے حور کو بچوں کی طرح بہلاتے ہوئے کہا

حور ویسے ہی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لیٹی رہی جیسے اسے زین کی آواز ہی نہ آئی ہو

“تمہاری ناراضگی میرے ساتھ ہے کھانے سے نہیں ہے کھانا کھا لو پلیز”

وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر حور کے قریب بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے بولا

“میں تم سے ناراض نہیں ہوں کیونکہ ہمارے بیچ ایسا کوئی رشتہ نہیں تو ناراضگی کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے”

حور نے بناء ڈرے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

“چلو تو پھر آج ایسا رشتہ بھی قائم کر لیتے ہیں مگر پہلے کھانا کھا لو”

وہ بات کو دوسرے معنوں میں لے گیا اور حور کو اٹھانے لگا

“میرے اور تمھارے درمیان صرف زبردستی کا رشتہ ہے اور دوسرا کوئی رشتہ نہیں بن سکتا”

اس نے زین کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا

“زبردستی کا رشتہ ہے تو ایسے ہی سہی، اب تم اٹھ رہی ہو یا کھانا بھی زبردستی ہی کھلاؤں ۔۔۔۔فورا اٹھ جاو”

زین نے دھونس دکھانا ضروری سمجھا، کہیں کہیں پیار سے بات نہیں بنتی

“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔ میں پلیز آرام کرنا چاہتی ہوں”

حور کا زرہ برابر دل نہیں چاہ رہا تھا اس شخص کی بات ماننے کا

“ہہہم۔۔۔۔ مجھے اندازہ ہو رہا ہے تم نخرے ہی اس لیے دکھا رہی ہوں تمھیں میرے ہاتھ سے کھانا کھانے کا دل چاہ رہا ہے”

زین نے پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے کہا

نہ چاہنے کے باوجود اسے اٹھنا پڑا کیوکہ وہ جانتی تھی وہ اپنی ہی چلائے گا کھانا دونوں نے خاموشی سے کھایا

“مجھے میری ماما سے بات کرنی ہے”

جب زین بیٹھ پر برابر میں بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا کافی دیر سوچنے کے بعد حور نے بولا

“میں نے کچھ کہا ہے تم سے”

جب زین نے اس کی بات کا کوئی رسپانس نہیں دیا تو وہ دوبارہ بولی

دل میں کہیں ڈر بھی تھا، صبح وہ اس کا غصہ دیکھ چکی تھی۔۔۔ مگر کب تک وہ اپنی ماں سے نہیں ملتی حور نے سوچ لیا اب تو آر یا پھر پار

“حور ہم اس ٹاپک پر بعد میں بات کریں گے پلیز ابھی سو جاؤ تم”

زین نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا کام وہ مکمل کرچکا تھا

“میری زندگی کا مجھ پر اتنا بھی اختیار نہیں کہ میں اپنی ماں سے مل سکوں اتنا حق تو دو مجھے”

حور نے اب غصے میں کہا

“ٹھیک ہے اگر حق کی بات ہے تو پھر تم مجھے پہلے میرا حق دو”

زین نے حور پر جھگتے ہوئے کہا

“یہ۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو”

حور اپنی گردن پر زین کی گرم سانسوں کی تپش سے ایک دم بوکھلائی، زین کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنا چاہا۔۔۔۔

“پلیز حور اب نہیں”

زین اس کی ہلکی سی مزاحمت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، اس کے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا، وہ حور کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنیں آسانی سے سن سکتا تھا۔۔۔۔ زین نے پورے استحقاق سے اپنا حق وصول کیا، زین کے جذبوں کی شدتوں کے اگے حور نے بھی اپنی ہلکی پھلکی مزاحمت ترک کرکے خود کو زین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

****

خضر کال سن کر گاڑی کی طرف بھاگا جلد سے جلد اسے ہسپیٹل پہنچنا تھا۔ جہاں فاطمہ کو لے کر گئے تھے ابھی صبح ہی تو ٹھیک تھی اچانک کیا ہوا اتنی طبیعت کیسے خراب ہو گئی۔۔۔۔ یہی سوچتے ہوئے وہ ہوسپٹل پہنچا ظفر مراد وہاں پہلے ہی موجود ہے

“کیا ہوا ابو کیسی طبیعت ہے امی کی”

خضر نے بےقراری سے پوچھا۔۔۔۔ کچھ بھی تھا وہ اس کی ماں تھی اور اسے اپنی ماں سے محبت تھی

“ٹھیک ہے طبیعت ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں خطرے والی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔ بی پی ہائی ہونے کی وجہ سے حالت بگڑ گئی تھی، عبداللہ (نوکر) نے فون کر دیا تو میں اسے ہوسپٹل لے کر آگیا۔۔۔ جاو جاکر مل لو”

خضر روم کی طرف بڑھا

“کیسی طبیعت ہے امی اب آپ کی؟ کیا کر لیا آپ نے اچانک”

خضر نے چیئر پر بیٹھے ہوئے پوچھا

“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے میں زندہ رہوں یا مرو”

وہ صبح کی بات شاید اب تک دل پہ لئے ہوئے بیٹھی تھی

“آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔ ماں ہیں آپ میری، میرے لیے اہمیت کی حامل۔۔۔ کیا مجھے فرق نہیں پڑے گا”

خضر نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھ رہا تھا

“اگر اتنی ہی اہمیت ہے میری تو پھر میری بات کو بھی اہمیت دو”

فاطمہ نے پھر وہی بعد شروع کردی

“امی یہ کوئی وقت ہے ان باتوں کا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ ڈاکٹر نے بات کرنے سے منع کیا ہے آپ کو، آپ پلیز ریسٹ کریں”

خضر کھڑکی سے باہر دیکھ کر بولنے لگا

****

اشعر کسی کام سے بلال کی طرف جا رہا تھا جب بس اسٹاپ پر ایک منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ کوئی لڑکا بہت بدتمیزی سے تانیہ کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہا تھا اور جب وہ جانے لگی تو اس کو روکنے کے چکر میں غیر ارادی طور پر تانیہ کا اسکارف کھینچا۔ ۔۔۔ وہ حلیہ سے ہی کوئی موالی ٹائپ انسان لگ رہا تھا اس لئے لوگ بھی تماشہ دیکھ رہے تھے، اشعر گاڑی سے اتر کر اس لڑکے پر مکے برسانے لگا تانیہ جو کہ پہلے ہی بہت ہراساں نظر آرہی تھی، اب باقاعدہ رونے لگی

“ابے کون ہے تو”

وہ لڑکا ایک دم پڑنے والی افتاد پر بوکھلا کر کہنے لگا

“میں جو بھی کوئی ہو، اگر تو نے اپنی ہمشیرہ کا راستہ آئندہ روکا۔۔۔ تو سیدھے راستے سے تو اوپر جائے گا”

مزید اس کا سر گاڑی کی بونڈ پر مارتا ہوا بولا

“تانیہ آئیے گاڑی میں بیٹھئے”

اشعر تانیہ کے پاس آ کر بولا، تماشہ دیکھنے والوں کا رش کافی بڑھ گیا تھا تانیہ بھی فورا گاڑی میں بیٹھ گئی

اشعر گاڑی وہاں سے دور لے گیا۔۔۔ وہ ابھی تک اپنے آنسو پوچھ رہی تھی جب اشعر نے ٹشو بوکس سے ٹشو نکال کر اس کو دیا

“آپ کو اس طرح اکیلے نہیں نکلنا چاہیے تھا”

اشعر نے ایک جگہ گاڑی روک کر بات شروع کی

“میں روز فضا کے ساتھ یونیورسٹی جاتی ہو، مگر اج کسی وجہ سے فضا نہیں آئی اور وہ مجھے کافی دن سے پریشان کر رہا تھا مگر آج اکیلا دیکھ کر۔۔۔۔۔

تانیہ نے بات ادھوری چھوڑی

“بلال کو کیوں نہیں بتایا آپ نے”

اشعر کو ابھی بھی اس لڑکے پر غصہ آ رہا تھا اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے بولا

“میں ڈر گئی تھی۔۔۔۔ اگر بھائی کو بتاتی تو وہ اس لڑکے کو زندہ نہیں چھوڑتے اور اگر بھائی کو کچھ ہو جاتا تو ہمارا کیا ہوتا”

“اور اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا”

وہ بغیر سوچے سمجھے جلدی میں کیا بول گیا یہ بولنے کے بعد احساس ہوا۔ دونوں کی نگاہیں ملیں۔۔۔ مگر بیل کی آواز پر دونوں کی چونکے

“ہاں بلال بولو”

اشعر نے کال اٹینڈ کرکے کہا

“بولو کیا؟؟؟ تم یہاں آنے والے تھے نا۔ ۔۔۔ میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں تمہارا”

بلال میں بولا

“ہاں یار بس پہنچ رہا ہوں”

اس نے تانیہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور کال ڈسکنکٹ کردی

“چلیں آپ کو گھر ڈراپ کر دو”

اشعر نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا

“نہیں آج بہت امپورٹنٹ کلاس ہے۔ مجھے یونیورسٹی جانا ہوگا۔۔۔۔۔ میں یہاں سے چلے جاؤ گی”

تانیہ نے جھجھکتے ہوئے کہا

“اکیلے کیسے جائیں گیں آپ۔۔۔ میں آپ کو یونیورسٹی ڈراپ کر دیتا ہوں”

اشعر نے کار کا رخ یونیورسٹی کی طرف موڑتے ہوئے کہا

*****

صبح زین کی آنکھ کھلی کافی دیر تک وہ لیٹا رہا پھر برابر میں حور کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔

کل رات جو کچھ ہوا۔۔۔۔۔ فلحال وہ ایسا ارادہ نہیں رکھتا تھا، اس نے خود حور کو اس رشتے کے لیئے وقت دینے کا سوچا تھا وہ حور کی مرضی کے بناء ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ مگر کل رات جب حور نے اپنی ماما سے ملنے کی بات کی، پہلے تو زین نے اگنور کیا وجہ یہ نہیں کہ وہ حور کو اس کی ماما سے ملوانا نہیں چاہتا، وہ فل الحال ظفر مراد اور خضر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ وجہ یہ بھی نہیں تھی کہ وہ ان لوگوں سے ڈرتا تھا۔۔۔۔ اس نے نیا بزنس اسٹارٹ کیا تھا جیسے زیادہ وقت دینا تھا، بس وہ اس وقت کوئی دوسرے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ مگر جب حور ضد کرنے لگی اور اس نے حق کی بات کی تو زین نے سوچ لیا اپنا اور حور کا رشتہ خراب کرنے سے بہتر وہ اس کی ماما سے اس کو ملاوا دے ۔۔۔۔۔ظفر مراد یا خضر جو بھی کرتے ہیں، وہ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی مگر اس سب سے پہلے اسے اپنا اور حور سے رشتہ مضبوط کرنا تھا۔۔۔۔۔۔ کہیں شاید اسے اندر سے اس بات کا ڈر تھا حور اپنی ماما سے ملنے کے بعد اسے نہ بھول جائے بس وہ چاہتا تھا حور کو اپنا اور زین کا رشتہ یاد رہے، حور کو اپنے ساتھ رکھنے کی یہ لاشعوری کوشش تھی۔۔۔۔ کچھ بھی ہو اب وہ حور سے دوری افورڈ نہیں کر سکتا تھا

چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے (پری) منہ ہی منہ میں بولا فریش ہو کر کچن میں چلا گیا۔ ناشتہ لے کر آیا تو حور ابھی تک بے خبر سو رہی تھی

“اور کتنی دیر تک نیند پوری کرنے کا ارادہ ہے، میری نیند آڑا کر”

زین اس پر جھکتے ہوئے بولا حور کی آنکھ کھل گئی

رات کا سوچ کر حور کی آنکھیں شرم سے جھک گئی۔۔۔۔۔ جبکہ زین مسکراتی نگاہوں سے اس کے چہرے پر آئے ہوئے سارے رنگ انجوائے کررہا تھا

“گڈ مارننگ”

حور کو جب کچھ نہ سمجھ نہ آیا تو اس معنی خیز خاموشی کو توڑنے کے لئے کہا

“میری کوئی مارننگ اتنی گڈ ہو بھی نہیں سکتی، تھینکس میری مارننگ کو گڈ منانے کے لیے”

وہ حور کا ہاتھ اپنے لبوں پر لگاتے ہوئے بولا

حور کی نظریں مزید جھک گئی اس کی نظروں میں حیا کا رنگ تھا ناکہ زبرستی حق وصول کرنے کا شکوہ۔۔۔۔ اس بات نے زین کو اندر سے مزید اطمینان بخشا

“چلو اب بلش کرنا بند کرو اور ناشتہ کرو”

زین نے مزید اس کے لال چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا

دونوں نے ناشتہ خاموشی سے کیا، اس کے بعد زین نے حور کے پاوں کی ڈریسنگ کی۔۔۔

“شکر ہے زخم زیادہ گہرا نہیں تھا”

زین نے دل میں سوچا ایک دفعہ پھر اپنے اوپر ملامت کرنے لگا کہ اس کی وجہ سے حور نے تکلیف اٹھائی

سارے عرصے میں بینڈیج کے دوران حور خاموشی سے زین کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔کل رات جو اس کی زندگی میں جو تبدیلی رونما ہوئی تھی۔۔۔بے شک اس سب میں حور کی مرضی شامل نہ ہو، مگر آج صبح اسے زین کا نیند سے جگانا، ناشتہ کروانا اور بینڈیج کرنا برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنی اس بدلتی ہوئی کیفیت کو کچھ نام نہیں دے پا رہی تھی

“اب بیڈ سے اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں، سعیدہ آکر خود صفائی کر لے گئی۔ دروازہ لاک نہیں ہے میں افس کے لئے نکل رہا ہوں شام میں جلدی آ جاؤں گا اور ہاں کھانا میں لیتا آوں گا تم بس ریسٹ کرو”

حور کےچہرے پر آئے ہوئے بال پیچھے کرتے ہوئے زین نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دئے اور آفس کے لیے روانہ ہو گیا

حور عجیب محسوسات میں گھری ہوئی اپنی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی

“بی بی جی صفائی ساری کر لی ہے، میں جا رہی ہو، آپ باہر کا دروازہ بند کر لیں”

سعیدہ کی آواز پر حور نے آنکھیں کھول کر دیکھا

“ٹھیک ہے تم جاو میں دروازہ بند کر لیتی ہوں”

حور نے دوبارہ آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا

ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی حور کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی محسوس ہوا جیسے کہ کوئی گھر میں اندر داخل ہوا ہے۔۔۔۔وہ بیڈ سے ایک دم اٹھی

“کون ہے”

کوئی قدم بڑھاتا ہوا بیڈروم کی طرف آ رہا تھا حور گھبرا گئی