Itni Mohabbat Karo Naw (Part 1) by Zeenia Sharjeel NovelR50412 Itni Mohabbat Karo Naw Episode 16
Rate this Novel
Itni Mohabbat Karo Naw Episode 16
Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel
مہمان سارے جمع ہو چکے تھے مگر بارات کا دور دور تک پتہ نہیں تھا اب رضیہ خالہ کو اور ان کے شوہر صابر کو تشویش ہونے لگی تھی سب بار بار پوچھ رہے تھے۔۔۔۔ صابر صاحب نے لڑکے والوں کو فون کیا تو انہوں نے عجیب انکشاف کیا جس کو سن کر صابر صاحب ساکت رہ گئے
“بتائیں کیا کہ رہے ہیں وہ لوگ کب تک پہنچنے والے ہیں؟؟ کتنی دیر ہو گئی ہے۔۔۔۔ آپ خاموش کیوں ہیں بول کیوں نہیں رہے ہیں؟؟
رضیہ خالہ نے ایک دم سوالات کی بوچھار شروع کردی شوہر کی حالت دیکھ کر ان کا دل آنے والے وقت سے ڈرنے لگا
“بولیے صابر صاحب جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں کیا ہوا ہے کیا کہہ رہے ہیں وہ لوگ”
رضیہ خالہ نے میاں کو جھنجوڑ کر پوچھا جس سے وہ ہوش کی دنیا میں آئے
“وہ لوگ معذرت کر رہے ہیں برات لے کر نہیں آ سکتے کیونکہ ذیشان شام سے نکلا ہوا تھا ابھی تک گھر نہیں پہنچا ہے۔۔۔۔ ان کے گھر میں خود ایک کہرام مچا ہوا ہے”
صابر صاحب نے کھوئے کھوئے انداز میں بیوی کو بتایا
“یااللہ اب کیا ہوگا”
رضیہ خالہ نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جب بلال نے پیچھے سے آ کر انہیں تھام لیا۔۔۔۔ بلال بھی پوری بات سن چکا تھا یہ خبر اس کو بھی تشویش میں مبتلا کر گئی
“خالہ پلیز سنبھالیں اپنے آپ کو”
بلال میں انہیں سہارا دیتے ہوئے کرسی پر بٹھایا
“یہ کیا ہو گیا بلال ہمارے ساتھ۔۔۔۔ میرے اللہ یہ کیا غضب ہوگیا، اب کیا ہوگا ہم تو برباد ہو گئے ہیں۔۔۔۔ تماشہ لگ گیا ہمارا تو،، رضیہ خالہ مسلسل روئے جارہی تھی صابر صاحب خود سر پکڑ کر ایک جگہ بیٹھ گئے تھے
“آپ مجھے نمبر دیں ان لوگوں کا میں بات کرتا ہوں ان سے”
بلال موبائل لے کر دوسری طرف سائڈ پر گیا اور کال ملانے لگا مگر بیل جا رہی تھی کسی نے اٹھایا نہیں
” کیا ہوا بلال خیریت ہے سب”
اشعر نے اس کو دیکھ کر پوچھا زین بھی اس کے ساتھ ہی تھا، بلال نے ان دونوں کو ساری سچویشن بتائی ان دونوں نے بھی افسوس کا اظہار کیا
“خالو اور رضیہ خالہ کہاں ہیں”
زین نے بلال سے سوال کیا
“وہاں اس سائیڈ” بلال کے بتانے پر زین ان کے پاس چلا گیا وہاں دونوں میاں بیوی رو رہے تھے اسجد اور ثانیہ کی ساس انہیں دلاسہ دے رہی تھی زین کے آتے ہی انہوں نے رو رو کر زین کو سب بتایا زین بھی ان کے لئے بلال کی طرح ہی گھر کا فرد تھا۔
“ہمارا تو تماشہ لگ گیا، باہر اتنے سارے لوگ کس کس کو ہم کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ میری فضا کی زندگی برباد ہوگئی کون کرے گا اس سے شادی”
رضیہ خالہ رو رو کر ہلکان ہو گئی
“خالہ اگر میں ایک بات کہوں تو آپ مانیں گی میری بات۔۔۔۔ فضا کو میں اپنی بہن سمجھتا ہوں کبھی اس کے لئے برا مشورہ نہیں دوں گا۔۔۔ ابھی موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے جبکہ پورا ہال مہمانوں سے بھرا ہوا ہے اور وہ لوگ اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ لڑکا ان کا غائب ہوگیا ہے اور پتہ نہیں کب تک اس کا پتہ لگے تو آپ اس کی جگہ پر اگر بلال سے فضا کی۔۔۔۔”
زین نے بات ادھوری چھوڑی خالہ نے زین کی بات سن کر حیرت سے اسے دیکھا انہیں تو بلال شروع سے ہی پسند تھا مگر بیٹی کی ماں اپنے منہ سے بات کیسے کہہ سکتی تھی اور ابھی بھی اپنے منہ سے کیسے کہہ سکتی تھی کہ میری بیٹی کو اپنا لو
“بہت مناسب مشورہ دیا ہے بیٹا تم نے۔۔۔ وقت اور موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سوچ کیا رہے ہیں بھائی صاحب رضیہ بولو کچھ۔۔۔۔ سب مہمان پوچھ رہے ہیں برات کا۔۔۔۔ جو کچھ بھی کرنا ہے ابھی ہی وقت ہے کسی ایرے غیرے کے پلے نہیں باندھ رہی ہوں اپنی بیٹی کو بلال اپنا ہی بچہ ہے”
ثانیہ کی ساس نے اپنی بہن اور بہنوئی کو سمجھانا چاہا
“میں بلال سے کیسے کہوں ہماری عزت رکھ لے”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی
“آپ اس کی فکر نہ کریں میں بات کرتا ہوں بلال سے آپ پریشان مت ہوں”
زین نے انھیں دلاسہ دیتے ہوئے بلال سے بات کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لی وہاں سے چلا گیا
*****
“یہ کیا کہہ رہے ہو زین یہ کوئی موقع ہے اس پریشانی میں ایسی بات کرنے کا”
بلال جو پہلے ہی پریشان تھا زین کی بات سن کر ہکا بکا رہ گیا
“یہی موقع ہے بلال ایسی بات کرنے کا۔۔۔ جاو دیکھو خالا خالو کو کس طرح بے بس نظر آرہے ہیں اور فضا۔۔۔۔ اس کا سوچو تم، پلیز دماغ سے سوچ کر جواب دو اس مشکل وقت میں اپنی ہی اپنوں کے کام آتے ہیں”
زین نے بلال کو ریسانیت سے سمجھانا چاہا
“یہ سب کیسے میرا مطلب؟؟؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا” بلال اس سچویشن میں واقعی پریشان ہو گیا تھا
“مطلب تمہیں ابھی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔۔۔۔۔ تو ٹھیک ہے اس شادی ہال میں کوئی ایک انسان تو ایسا ملے گا جو ترس کھا کر فضا کو اپنا لے بلکہ کوئی اور ہی کیوں میں اشعر سے بات کرتا ہو”
زین کے بولتے ہیں بلال چیخا
“زین تم ایسا کیسے بول سکتے ہو جب کہ تم معلوم بھی ہے”
پتہ نہیں وہ غصے میں کیا بولنے والا تھا مگر رک گیا
“وقت گزر رہا ہے بلال مجھے بتاؤ رضیہ خالہ اور خالو تم سے آس لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں انہیں جا کر میں کیا جواب دو”
زین نے دو ٹوک انداز میں بلال سے پوچھا
“ٹھیک ہے میں راضی ہوں”
بلال نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا
جلد سے جلد نکاح خواں کو بلایا گیا نکاح کا مرحلہ طے ہوا، نکاح کے بعد رخصتی کا مرحلہ بھی عمل میں آیا اس طرح فضا ماں باپ کی دعاؤں کے ساتھ بلال کے سنگ رخصت ہوکر چلے گئی
****
“میں تو ابھی تک شاک میں ہو زین یہ سب کیا ہوا ہے آج” حور نے اپنی چوڑیاں اتارتے ہوئے زین سے کہا جو بیڈ پر بیٹھا ہوا کچھ سوچتے ہوئے اسموکنگ کر رہا تھا
“کیوں کیا ہوا اس میں شاک ہونے والی کیا بات ہے”
اس نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے کہا
“کیوں نہیں ہے بھلا ایسی بات۔۔۔ ایسا سب کچھ تو فلموں اور ڈراموں میں دیکھا ہے۔۔۔۔ ریئل لائف میں کہاں ہوتا ہے جو آج شادی میں ہوا ہے”
حور اب اپنے دوسرے ہاتھ کی چوڑیاں اتار رہی تھی
“یہ سب کچھ بھی زندگی کا ایک حصہ ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔ اب میرا اور تمہارا نکاح ہی دیکھ لو یہ بھی تو کسی فلم کی اسٹوری جیسا لگتا ہے”
زین نے حور کے گلے سے چین اتارتے ہوئے کہا
“خیر ایسا تو میں نے کسی فلم میں بھی نہیں دیکھا ہے کہ گن پوائنٹ پر نکاح ہوا ہو”
حور زین کے ہاتھ گردن سے ہٹاتے ہوئے سے بولی
“لگ پتہ جاتا تو میں اگر میں اس دن موبائل سے کال ملا دیتی اور پولیس وہاں آجاتی”
حور نے ڈرانے والے انداز میں کہا
“پھر تو سبھی بہت خوش ہوتے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جیل میں ہوتا اور تھوڑے دنوں بعد تمہاری تمہارے کزن کے ساتھ منگنی”
زین سرد انداز اختیار کرتے ہوئے کہا
گفتگو کب اپنے ٹریک سے ہٹ کر غلط موڑ پر چلے گئی حور کو بھی اندازہ نہیں ہوا
“میرا وہ مطلب نہیں تھا زین اگر کسی بھی لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔”
حور نے زین کو وضاحت دینی چاہیے
“N0w leave this topic “
زین نے حور کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔زین کو کب کیا بات بری لگی اسے خود بھی نہیں پتا چلا
“زین تم غلط سمجھ رہے ہو مجھے وضاحت تو۔ ۔۔۔”
حور نے دوبارہ سمجھانا چاہا
“اسٹاپ اٹ سمجھ میں نہیں آ رہا تمہیں”
زین آؤٹ آف کنٹرول ہو کر ایک دم چیخا اور حور وہی سہم کر اسے دیکھنے لگی
“تم سو جاؤ مجھے کام ہے”
اپنا لیپ ٹاپ لے کر وہ روم سے چلا گیا
“کتنا بدتمیز انسان ہوجاتا ہے یہ شخص غصے میں۔۔۔۔۔ ذرا بھی احساس نہیں کرتا۔۔۔۔ بدلحاظ کہیں کا، وضاحت کر تو رہی تھی۔۔۔ مگر نہیں”
وہ انکھوں میں آئے ہوئے آنسو صاف کر رہی تھی
زین دوبارہ بیڈروم میں آیا اور اپنا سگریٹ اور لائٹر اٹھایا، ایک نظر حور پر ڈالی تو اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھی اسے مزید غصہ آیا
“میں نے تمہیں سونے کے لئے کہا تھا رونے کے لئے نہیں کس بات کا ماتم منارہی ہو ہاں؟؟؟
اب وہ حور کے سر پر کھڑا ہوا جانے اسے کیا کیا بول رہا تھا
“تم بہت برے ہو زین۔۔۔۔ چلے جاؤ اس وقت روم سے”
حور کو مزید رونا آنے لگا
اب وہ زین کے پیار کی عادی ہوگئی تھی یہ روپ، یہ رویہ اسے بری طرح ہرٹ کررہا تھا
*****
“آخر مجھے کیوں اتنا غصہ آگیا تھا۔۔۔ مجھے اس طرح اوور ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا مگر یہ سوچ کے مجھے جلا کر رکھ دیتی ہے اگر میں لاعلم رہتا اور خضر کے ساتھ حور کی۔۔۔۔”
اس سے زیادہ وہ آگے سوچ نہیں سکا اور لیپ ٹاپ بند کرکے وہ دوبارہ سگریٹ سلگانے لگا
کافی دیر بعد جب وہ روم میں آیا تو حور دوسری طرف کروٹ لئے ہوئے لیٹی تھی وہ بھی برابر میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔۔ اس نے حور کا رخ اپنی طرف کرنا چاہا حور نے بری طرح اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔ دونوں ہی جاگ رہے تھے مگر دونوں نے اپنی اپنی جگہ خاموش تھے
آج اس کے ساتھ کیا ہوا تھا یہ سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو رہا تھا بلال سے ذیشان تک، پھر دوبارہ بلال تک کا سفر۔۔۔۔ دعائیں یوں بھی پوری ہو سکتی ہے جب ان کی امید ختم ہوجائے اس کو یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔ اس نے بلال کو بہت چاہا تھا ہر دعاؤں میں مانگا تھا مگر جب اس کو یقین ہو گیا کہ وہ اس کی قسمت میں نہیں ہے پھر اللہ سے دعاؤں میں اسے مانگنا بھی چھوڑ دیا۔ مگر جب اس نے امید چھوڑ دی تو وہ بن مانگے اس کی زندگی میں شامل ہو گیا۔۔۔۔ اگر سب کچھ نارمل طریقہ طریقے سے اس کی زندگی میں ہوتا تو وہ اپنے آپ کو دنیا کی خوش نصیب لڑکی سمجھتی مگر اب اسے ایک بات کا دکھ تھا
“بلال مسعود تم نے مجھے محبت بھیک میں بھی دینا گوارا نہیں کری، لڑکی ہو کر میں نے پہل کی، اپنی جذبات کا اظہار کیا مگر تمہارے آگے وہ جزبات بےمعنی تھے لیکن آج تم نے یہ ثابت کر دیا کہ تمہاری نظر میں میری محبت سے بڑھ کر ہمدردی کا جذبہ تھا اور اسی جذبے کی وجہ سے تم نے مجھے قبول کیا ہے۔۔۔۔ لفظ ہمدردی سوچ کر فضا کی آنکھ میں آنسو آگئے جس کو صاف کرکے وہ اٹھی اور اپنے بھاری لہنگے ہیوی جیولری اور میک اپ سے خود کو آزاد کروایا ہلکا پھلکا سا سوٹ (جو کہ تھوڑی دیر پہلے تانیہ دے کر گئی تھی) پہنا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی
****
کافی دیر بعد بلال کمرے میں داخل ہوا تو فضا کو سوتے ہوئے پایا اس نے فضا کو نظر بھر کر دیکھا سادہ سے روپ میں نیند کی وادیوں میں ڈوبی ہوئی وہ اسے خفا خفا لگی۔۔۔ مگر اسے یقین تھا وہ اسے جلد منا لے گا ویسے بھی محبت کرنے والے زیادہ دیر تک خفا نہیں رہ سکتے وہ وارڈ روب سے کپڑے نکال کر چینج کرنے چلے گیا
*****
حور کی صبح آنکھ کھلی تو کمرے میں اپنے آپ کو تنہا پایا وہ اٹھ کر کچن میں گئی، وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا واپس آکر وہ دوبارہ لیٹ گئی۔۔۔۔ اسے اپنی طبیعت میں عجیب بوجھل پن محسوس ہو رہا تھا کیا کوئی شخص اتنی جلدی اپنا عادی بنا لیتا ہے اس کے بنا آپ کو کچھ اچھا نہیں لگتا اور اپنی عادت ڈال کر یہ رویہ رکھنا یہ بھی تو ظلم ہے خیر ظالم تو وہ شروع سے ہی تھا حور نے سوچتے ہوئے دوبارہ آنکھیں موند لیں
*****
زین آفس میں بیٹھا ہوا کل رات والے اپنے رویے کو سوچ رہا تھا
“مجھے اتنا ہارش نہیں ہونا چاہیے تھا وہ تو نارمل بات کر رہی تھی میں بلاوجہ میں غصہ کر گیا۔۔۔صبح بنا بتائے اسے آفس آگیا کتنا ہرٹ ہوئی ہوگی اب تک تو سو کر اٹھ گئی ہوگی”
زین نے حور کو کال کرنے کے لئے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو بلال روم کے اندر آیا
“تم۔۔۔۔ تم آج آفس میں کیا کر رہے ہو” زین نے حیرت سے بلال کو دیکھا اور موبائل واپس ٹیبل پر رکھ دیا
“ظاہری بات ہے یار آفس میں بندہ کام کرنے کے لئے آتا ہے”
بلال نے بیٹھتے ہوئے زین کو جواب دیا
“وہ تو ٹھیک ہے مگر کل ہی تمہاری شادی ہوئی ہے”
زین نے جیسے اسے یاد دلایا
“اور شادی کس انداز اور کن حالات میں ہوئی ہے”
بلال نے کل والا واقعہ یاد کر کے کہا
“چلو تم نہ سہی فضا تو خوش ہو گی نا۔ ۔۔ ایک بیوقوف! جیسے وہ غلطی سے دل دے بیٹھی تھی اب اس کی زندگی میں شامل ہو گیا ہے”
زین نے ہنسی چھپاتے ہوئے کہا
“خوش! ایسی ویسی۔۔۔۔ میرے کمرے میں آنے پر محترمہ نے میرا استقبال اپنے خراٹوں کی آواز سے کیا” بلال نے جل کر کہا
“ہا ہا ہا تمہارے جیسا خشک بندہ ایسے ہی ویلکم کو مستحق ہے”
زین نے آپ کے ہنستے ہوئے کہا
بلال نے زین کو گھور کر دیکھا اتنے میں اشعر بھی آفس آگیا
“ارے یہ کیا دلہے صاحب بھی افس آگئے صبح صبح”
اشعر نے حیرت سے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا
“بند کردو اب تم دونوں میرا ریکارڈ لگانا ورنہ شہید ہو جاؤ گے میرے ہاتھوں”
اشعر اور زین نے بلال کو دیکھ کر اپنی ہنسی دبائی
****
شام میں ولیمے کی تقریب تھی جو کہ بلال کے منع کرنے پر بھی زین نے اپنی طرف سے ریسٹورینٹ میں رکھی اور کل والے خاص خاص لوگوں کو مدعو کیا
بلال گھر پہنچا تو فضا کا سامان (فرنیچر) اس کے روم میں رکھا جا رہا تھا البتہ فضا اسے کہیں نظر نہیں آئی۔۔۔ باتوں ہی باتوں میں اسے پتہ چلا کہ وہ تانیہ کے ساتھ پارلر گئی ہوئی ہے، صبح وہ فضا کے اٹھنے سے پہلے ہی آفس نکل گیا تھا اس لیے اب تک فضا اور بلال کا سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ رضیہ خالہ سے اسے یہ بات بھی پتہ چلی کہ آج صبح ہی ان کے گھر ذیشان کے گھر والے ذیشان سمیت آئے کافی شرمندہ تھے اور معافی بھی مانگ رہے تھے مگر قصوروار وہ بھی نہیں تھے کیونکہ ذیشان جب گھر سے نکلا تو اس کو بے ہوش کرکے گاڑی میں ڈال دیا گیا، ہوش میں آنے کے بعد اسے چار سے پانچ گھنٹے قید میں رکھا پھر بنا کچھ مانگے یا نقصان پہنچائے چھوڑ دیا گیا۔۔۔۔ یہ کیا معمہ تھا بلال کو خود بھی اس وقت سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔ اس نے سوچا شاید اس طرح فضا اور اسکا ملن لکھا ہوا تھا
****
زین گھر پہنچا بیل بجانے پر بھی حور نے دروازہ نہیں کھولا کیز سے لاک کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا۔۔۔ تو حور بڑے انہماک سے ٹی وی دیکھ رہی تھی شاید یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا۔ ۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر وہ بھی کاوچ پر اس کے پاس بیٹھ گیا
“شوہر جب گھر آتا ہے تو اچھی بیویاں شوہر سے چائے پانی کا پوچھتی ہیں، چلو وہ نہ پوچھے بندہ سلام دعا ہی کر لیتا ہے”
زین نے حور کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجہ بناتے ہوئے کہا
“جی صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔ یقینا یہ اچھی بیویوں کی خصوصیت ہے”
حور نے ٹی وی پر نظریں جماتے ہوئے جواب دیا
“تو یعنی تم یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ تم اچھی بیوی نہیں ہو”
زین تھوڑا سا کھسک کر اس کے پاس بیٹھا اور اپنا ہاتھ پھیلا کر حور کے شولڈر پر رکھا
“یقینا اچھی بیوی اچھے شوہروں کو ہی ملتی ہیں”
اب بھی جواب ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے دیا گیا اور تھوڑا دور ہو کر صوفے پر بیٹھ گئی
“یعنی میں اچھا شوہر نہیں”
زین نے حور کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہوئے پوچھا وہ مسلسل ناراض سی حور کو دیکھ رہا تھا
“اپنے بارے میں آپ کو خود زیادہ اچھا پتہ ہو گا۔۔۔۔ میں کیا کہہ سکتی ہوں”
حور نے اپنا ہاتھ زین کے ہاتھوں سے آزاد کراتے ہوئے بولا
“تو پھر یہ بتاؤ کہ اچھا شوہر بننے کے لئے کیا کرنا پڑے گا” اب کے زین نے دونوں ہاتھوں سے حور کا چہرہ تھام کر۔۔۔ رخ اپنی طرف کیا جو کہ مسلسل ٹی وی کی طرف تھا
“مجھے کیا پتا یہ بھی جاکر کسی اچھی شوہر سے پوچھئے”
حور نے زین کے دونوں ہاتھ اپنے منہ سے ہٹائے اور اٹھنے لگی
“معافی نہیں ملی گی کیا آج”
زین نے اس کا ہاتھ تھام کر واپس بھٹایا
“پہلے کان پکڑو”
حور نے شرط رکھی
“اوکے جناب”
زین نے حور کے دونوں کان پکڑ لئے جس پر اس کو ہنسی آگئی اور حور کو ہنستے ہوئے دیکھ کر زین خود بھی مسکرا دیا
“اگر آب آئندہ تم نے مجھ پر بلاوجہ میں غصہ کیا نا تو یاد رکھنا بہت برا ناراض ہوگی میں پھر مناتے رہنا”
حور نے زین کو وان کیا
“اوکے سویٹ ہارٹ مگر ایک بات ہے تم غصے میں آپ جناب کر کے شوہر کو عزت دے دیتی ہوں”
زین نے حور کو چھیڑتے ہوئے کہا جس پر حور نے آنکھیں گھمائی
“ویسے کان پکڑ کر سوری کرنے کے علاوہ بھی ایک اور طریقہ ہے جس سے سوری کیا جاتا ہے” زین کہتے ہوئے حور کی طرف جھکا حور اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر جلدی سے صوفے سے اٹھ گئی زین ہنستا ہوا ریموٹ سے چینل چینج کرنے لگا
