365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 2

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

زین نادیہ بیگم کو اسپتال سے گھر لے کر جارہا تھا اچانک اس کی نظر گاڑی میں بیٹھے اس وقت پر پڑی جس سے زین کی رگیں تن گی ۔یہ وہی شخص تھا جس کی وجہ سے آج وہ زندگی میں اس مقام پر تھا .اس کے باپ کا دوست ظفر مراد۔زین نے اس گاڑی کا پیچھا کرنا چاہا مگر گاڑیوں کے سمندر میں گاڑی کہاں گئ اسے سمجھ نہیں آیا شکستہ قدم لےکر واپس آیا

“تو یہ واپس اس شہر میں آگیا ہے” اس نے نفرت سے سوچا

********

وہ کالج سے گھر پہنچی ہی تھی کہ اسے ماحول میں تلخی کا احساس ہوا

اسماء :”آگئی ہو حور چلو فریش ہو جاؤ میں کھانا لاتی ہوں تمہارے لئے”

حور: “ماما آپ کی آنکھیں اتنی لال کیوں ہو رہی ہیں؟؟؟

“کچھ نہیں ابھی پیاز کاٹی تھی شاید اس وجہ سے ہو رہی ہوں”

انہوں نے ٹالنا چاہا ۔

حور: “مجھے لگ رہا ہے آپ روئی ہیں. ماما پلیز مجھے بتائیں کیا بات ہے اور ویسے بھی چچی اور تائی کے تیور دیکھ کر لگ رہا ہے کچھ ہوا ہے پلیز بتائے نہ کیا ہوا ہے”

“کل جو لوگ ماہم کو دیکھنے آئے تھے وہ تمہیں پسند کر گئے ہیں انہوں نے صاف کہہ دیا ہے اگر تمہارا رشتہ دینا ہے تو ٹھیک ہے”

اسماء کپڑوں کی تہ لگاتے ہوئے حور کو بتانے لگی

“تو اس لیے چچی اور تائی نے آپکو باتیں سنائی ہوگیں” وہ افسردگی سے بولی

“ظاہری سی بات ہے پہلے بھی جو رشتہ آیا تھا وہ اسی طرح سے واپس ہو گیا تھا”

آسماء نے بولا

“خیر چھوڑو تم فریش ہوں میں کھانا لاتی ہوں”

وہ حور کو شرمندہ دیکھ کر بولیں ویسے بھی ان کی بیٹی کا تو کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔!

*******

بلال زین کے گھر آیا زین ابھی دوائیاں لے کر گھر آیا ہی تھا

“کیسی طبیعت ہے اب آنٹی کی”

بلال نے پوچھا

اب بہتر ہے. پراپر ٹریٹمنٹ کروانا ہوگا

اور علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوگی. بس یار یہی سوچو تو ایسا لگتا ہے سارے دروازے بند ہو جاگئے ہیں کیا کروں کہاں سے لاؤں اتنا پیسا”

زین نے لاچاری سے کہا۔۔!

“میں نے اس دن جو تجویز دی تھی اس پر عمل کرو”

بلال نے آرام سے جواب دیا

“دماغ خراب ہے تمہارا ابھی تک دماغ سے نکالی نہیں تم نے وہ فضول بات”

زین نے ڈپٹتے ہوئے اسے کہا

“ٹھیک ہے پھر اس کا کوئی دوسرا حل ہے تو مجھے بتاو تاکہ میں بھی تمہارے ساتھ ساتھ اپنی الجھنوں کو دور کروں”

بلال نے آرام سے کہا

“یار تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو یہ صحیح نہیں ہوگا میرا دل نہیں مان رہا ہے”

زین نے بلال کو سمجانا چاہا

“وہی تو میں کہ رہا ہوں کوئی دوسرا راستہ ہے تمہارے پاس تو مجھے بھی بتاؤ. نہیں تو یونہی ہاتھ پر ہاتھ رکھے ہوئے آنٹی کو سسکتے ہوئے دیکھو”

بلال ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہوگیا اور زین اپنا سر تھام کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔!

*******

“مجھے تو نہیں لگتا بھابھی جب تک یہ لڑکی ہمارے سر پر مسلط ہماری بیٹیوں کے نصیب کھولیں گے”

سارہ چچی کو رشتہ ختم ہونے کا تو ابھی تک نہیں بھولا تھا

“مجھے تو کچھ اور ہی فکر کھائے جارہی ہے”

فاطمہ تائی نے کچھ سوچتے ہوئے بولا

“بھلا وہ کیا ؟؟؟چچی نے پوچھا

“میں نے کچھ دنوں سے نوٹ کیا ہے خضر حور کے آگے پیچھے رہتا ہے کافی ہمدردی ہو رہی ہے اسے”

فاطمہ تائی نے جیسے اپنا بوجھ ہلکہ کرنا چاہا

“یہ بات تو میں نے بھی نوٹ کی تھی مگر بولا اس لئے نہیں کہیں آپ کو برا نہ لگ جائے” سارا چاچی نے بھی ہمدردانہ لہجہ اختیار کیا

“اور ویسے بھی یہ آسماء صرف شکل سے ہی سیدھی ہے. اس نے ہی کوئی پٹی پڑھائی ہوگی اپنی بیٹی کو”

سارہ چچی نے مزید آگ لگانے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیں

“میں اپنے جیتے جی تو ایسا ہرگز بھی نہیں ہونے دوں گیں. اس گھر میں صرف نیہا ( بھانجی) ہی میرے بیٹے کی دلہن بن کر آئے گی اور آب اس حور کا بھی کچھ سوچنا پڑے گا”

انہوں نے بھڑکتے ہوئے کہا”

“جلد ہی سوچیے گا کہیں بات آگے نہ پڑجائے” سارا چچی اپنا کام دکھا کر مطمئن ہوگیں۔۔۔۔۔!

شاہ کی پری پر نظر پڑی وہ بریک میں اپنی books کھولے مصروف تھی. شاہ اس کے قریب آیا

“کیا ہورہا ہے پری ؟؟شاہ نے پری سےپوچھا۔

“مجھ سے پروبلم ‏solve نہیں ہو رہا” اس نے افسردگی سے کہا

“ذرا دکھاؤ مجھے” شاہ نے ہاتھ میں بک لیتے ہوئے کہا

“ارے یہ تو بہت ہی ایزی ہے ادھر دیکھو میں سمجھاتا ہوں”

“آیا نہ سمجھ میں؟شاہ نے پوچھا

“بالکل نہیں” پری نے ایک ادا سے جواب دیا!

اس کے بعد ساتویں دفعہ سمجھانے پر پری کو سمجھ میں آہی گیا

“وہ کیا ہے نا میرا math تھوڑا ویک ہے” پری نے معصومیت سے کہا

“اسے تھوڑا ویک نہیں کہتے ہیں بہت زیادہ ویک ہو تم math میں” شاہ نے سنجیدگی سے کہا

“جاؤ نہیں ہو تم میرے دوست نہیں بات کرتی میں تم سے”

پری اچھا خاصا برا مان گئ ۔۔

“ارے میں تو مذاق کر رہا تھا خفا تو نہیں ہو”

اس نےدو انگلیوں سے پری کے گال کو چھوا

آخر پری مان گئی۔ ۔

جیسے جیسے دن گزر رہے تھے ان دونوں کی دوستی اور پکی ہوتی جا رہی تھی اور انکی دوستی کی کتنی مدت ہے یہ دونوں ہی اس سے بے خبر تھے ۔۔۔۔۔!

*******

حور کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی خضر وہی چلا آیا ۔۔۔۔

“اور کیا بنا رہی ہو ڈیر کزن”

“میں رات کے کھانے کے لئے قیمہ بنا رہی ہوں اور ابھی پلاؤ بنایا ہے.کیا آپ کو کچھ چاہیے؟

اس نے کام کرتے ہوئے خضر سے پوچھا

ایک وہی تو تھا جو سارے کزنز میں اسکا خیال رکھتا تھا ورنہ تو سب ضرورت کے وقت ہی اس کو پکارتے تھے”

“اگر مسئلہ نہ ہو تو ایک کپ چائے بنا دو”

وہ سامنے ہی چیئر پر بیٹھ گیا”

“مسئلہ کیسا خضر بھائی ابھی بنا دیتی ہوں”

وہ چائے کا پانی چڑھانے لگی

“تمہاری اسٹیڈیز کیسی جا رہی ہے کہیں کوئی پرابلم تو نہیں”

خضر نے سامنے ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا

“نہیں اسٹیڈیز تو اچھی چل رہی ہے ایگزیم بھی ہونے والے ہیں بس اس کی تیاریوں میں مصروف ہوں”

اس نے چائے کا کپ سامنے رکھتے ہوئے کہا

اگر کوئی بھی پرابلم ہو تو بلا جھجگ پوچھ لینا”

“جی اگر کوئی مسئلہ ہوا تو آپ کا ہی سر کھاؤ گی” حور نے مسکراتے ہوئے خضر کو جواب دیا”

خضر بھی مسکرانے لگا اتنے میں ایک فاطمہ تائ آگئ

“تم یہاں کیا کر رہے ہو خضر”

امی چائے پی رہا تھا کچھ کام ہے آپ کو

“ہاں مجھے تہمینہ(خالا) کے گھر جانا ہے اور تم یہاں کیوں کھڑی ہو؟۔انہوں نے حور سے پوچھا

“جی تائی رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی”

حور نے کام ختم کرتے ہوئے جواب دیا

“ہوگی نہ تیاری؟۔۔تائی نے پوچھا

“جی”حور نے اتنا ہی کہا

“تو جاؤ اپنے کمرے میں” یہ کہتے ہیں وہ بھی چلے گئیں۔۔۔ اور پیچھے حور بھی کچن سے نکل گئی

خضر وہاں بیٹھ کر افسوس سے اپنے گھروالوں کے رویے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔!!!!

******

رات 12 بجے کا وقت تھا یہ سڑک بہت ہی سنسان تھی جہاں وہ دونوں جھاڑیوں میں چھپے اپنے شکار کے تعقب میں تھے. تھوڑی دیر خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے ایک گاڑی جو دور سے آتی دکھتی ہے وہ دونوں چوکنے ہو جاتے ہیں قریب آتے ہی سڑک پر پڑے کانچ سے گاڑی کے ٹائر برسٹ ہوتے ہیں اور گاڑی جھٹکا کہا کر رکتی ہے گاڑی میں بیٹھا وہ شخص گاڑی کا دروازہ کھول کر ٹائر دیکھنے باہر نکلتا ہے اچانک ہی وہ دونوں جھاڑیوں سے نمودار ہوتے ہیں اور اس شخص پر حملہ کر دیتے ہیں. دونوں ہاتھ او پر کرلو اور “خبردار کوئی ہوشیاری دکھائی تو یہی کاٹ کر پھینک دونگا”

نقاب پوش میں سے ایک… جس کے ہاتھ میں چھوٹا سائز کاچاقو ہوتا ہے وہ اپنی طرف سے اس شخص کو دھمکانے کی پوری کوشش کرتا ہے

“اوکے اوکے میں کچھ نہیں کر رہا لیکن میرے پاس کچھ نہیں ہے پلیز مجھے جانے دو”

اس شخص نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا

دوسرا نقاب پوش اپنے ساتھی کے کان میں سرگوشی کرتا ہے

“یار یہ بچارا سچ بول رہا ہے اس کو جانے دیتے ہیں” ۔۔مگر اس کی سرگوشی اتنی آہستہ نہیں تھی جو سامنے کھڑے شخص کو سننے میں نہ آئی ہو. وہ پل میں سمجھ گیا یہ لوگ اس کام میں نئے ہیں یا بالکل اچھے کھلاڑی نہیں ہئں

“میرے پاس سے تم دونوں کو کچھ نہیں ملے گا. لیکن اگر تم لوگ مجھے نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کرتے ہو تو گاڑی میں موجود رقم تمھارے حوالے کر دیتا ہو. اس شخص نے بولا

“جلدی کرو بغیر کسی ہوشیاری کے رقم ہمارے حوالے کردو” ایک نقاب پوش بولا

“ٹھیک ہے”

اس شخص نے گاڑی کی طرف جا کر گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے ہوشیاری سے پسٹل نکالا.

وہ دونوں اس کے پیچھے ہی کھڑے تھے وہ ایک دم مڑا

“اب تم دونوں جلدی سے اپنے اپنے چاقو نیچے رکھ کر ہاتھ اوپر کر لو یہ پستول لوڈڈ ہے”

ان دونوں کے پسینے چھوٹ گئے اور جلدی جلدی اپنے چاکو نیچے رکھ کر ہاتھ اوپر کر لئے

“گڈ اب اچھے بچوں کی طرح ذرا اپنے چہروں سے کپڑا ہٹاو”

ان دونوں نے فرمابرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نقاب ہٹایا. وہ اشعر کے ہم عمر دو لڑکے تھے

“شاباش اب جلدی سے یہ بتاؤ تم دونوں کو یہی شوٹ کر کے چلا جاؤں یا پولیس کو انفارم کر دوں؟

یہ سن کر ان دونوں کی ہوائیاں اڑ گئی ان میں سے ایک جلدی سے بولا

“دیکھو پلیز ہمیں جانے دو ہم لوگ کوئی چور نہیں اور یہ سب بہت مجبوری کی بنا پر کیا ہے. وہ بھی پیلی بار… ہم ایسے بلکل نہیں ہیں”

“وہ تو تم دونوں کے چاقو کے سائز اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھ کر مجھے پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا”

“پلیز ہمیں جانے دو ہم بہت مجبور ہیں اب ایسا نہیں کریں گے”

ان میں سے ایک بولا

“چلو پھر تم دونوں اپنی اپنی مجبوریاں بتاؤ پھر کوئی فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے”