365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 13

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

زین گھر سے نکلا تو معمول کے مطابق نادیہ بیگم کے پاس گیا وہاں پر تھوڑا وقت گزار کر افس آگیا۔۔۔۔۔ بلال وہاں پہلے ہی موجود تھا آفس ورک ڈسکس کرکے زین نے بلال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

“رضیہ خالہ کا فون آیا تھا میرے پاس وہ بتا رہی تھی کہ فضا کا نکاح ہے”

زین نے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا

“ہاں پرسوں آئی تھیں گھر پر تو بتا رہی تھیں”

بلال نے میز کی سطح کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

“ای تھنک تم غلط کر رہے ہو، اپنے ساتھ بھی اور فضا کے ساتھ بھی”

زین نے دوبارہ وہی ٹاپک شروع کیا

“لیو دس ٹاپک زین اب وقت نکل چکا ہے کچھ نہیں ہوسکتا اب”

بلال نے سنجیدہ لہجے میں فائل اپنے سامنے رکھتے ہوئے کہا

“وقت ابھی ہاتھ میں ہے بلال۔۔۔ ہم کچھ کرسکتے ہیں ابھی بھی”

زین نے چیئر سے آگے کھسکتے ہوئے کہا

“مثلا کیا؟ کیا کر سکتے ہیں”

بلال نے فائل پر سے نظر اٹھاتے ہوئے کہا

“ہم خالہ خالو سے بات کرسکتے ہیں اور مجھے یقین ہے میں انہیں تمہارے لئے آرام سے قائل کر لوں گا”

زین نے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا

“زین تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں وقت اب نکل چکا ہے۔۔۔۔ تماشا لگانے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی فضا ایک اچھی لائف ڈیزرف کرتی ہے، جو اسے میرے ساتھ تو نہیں مل سکتی اس لئے میں مطمئن ہوں”

بلال نے اپنا لہجے میں بشاشت پیدا کرتے ہوئے کہا

“مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تم کتنے مطمین ہوں”

زین نے سنجیدہ لہجے میں سر جھٹکتے ہوئے کہا

“ہیلو بڈییز کیا چل رہا ہے”

اشعر نے آتے ہی چہکتے ہوئے کہا

“کچھ نہیں تمہارا ہی ویٹ ہو رہا تھا کہاں رہ گئے تھے تم”

بلال نے پوچھا

“یار کچھ نہیں بس گھر کے کاموں میں پھنس گیا تھا”

آشعر نے اپنی ہی ترنگ میں جواب دیتے ہوئے کہا

زین خاموش نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا اشعر نے زین کی طرف دیکھا

“کیا ہوگیا میرے بھائی ایسے کیوں گھور رہے ہو”

اشعر سے رہا نہ گیا تو زین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا

“دیکھ رہا ہوں آج کل تم کچھ زیادہ ہی چہک رہے ہو”

زین نے اشعر کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا

“تو چہکنا، خوش ہونا۔۔۔ کوئی بری بات تو نہیں ہوتی نا میرے دوست”

اشعر نے گڑبڑاتے ہوئے جواب دیا

“تو اس چہکنے، خوش رہنے کی کوئی (خاص وجہ) بھی تو ہو گی نہ۔۔۔۔دوستوں سے شیئر نہیں کرو گے یا اس (خاص وجہ) کا میں خود ہی پتہ لگاؤ”

زین نے ٹیبل سے سگریٹ اٹھائی اور پاکٹ سے لائٹر نکالتے ہوئے کہا

“او بھائی میرے! یہ دیکھ اور مجھے معاف کر”

اشعر نے زین کے آگے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

“چلو یار تمہیں بھی معاف کیا۔۔۔۔ کیا یاد کرو گے تم بھی”

اسموکنگ کرتے ہو اپنے لیب ٹاپ پر مصروف ہوگیا

جبکہ دوسری طرف اشعر، اپنے اس دوست کے اندر کا جاسوس بیدار ہوتے ہوئے دیکھ کر محتاط ہو گیا۔ پھر خاص وجہ (تانیہ) کا خیال آیا تو لبوں پر مسکراہٹ آ گئی جسے وہ فورا چھپا گیا

****

“کون؟ کون ہے” حور نے بیڈ روم سے باہر نکلتے ہوئے کہا

سامنےکھڑے شخص کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری طرح گھل گئی

“خضر بھائی آپ”

وہ بے یقینی سے خضر کو دیکھتے ہوئے بولی

“کیسی ہو حور تم اور یہ کیا ہوا ہے تمہیں”

وہ بے قراری سے اس کی طرف بڑھا اور ماتھے کو چھونا چاہا جب ہی حور دو قدم پیچھے ہوئی تو خضر رک گیا

“وہ ۔۔۔۔وہ میں گر گئی تھی”

حور نے اپنے ماتھے کو انگلیوں سے چھوتے ہوئے بولا

“ماما کیسی ہیں خضر بھائی؟؟ وہ ٹھیک تو ہیں ناں اور گھر میں سب کیسے ہیں”

حور کو اپنی ماما کے ساتھ ساتھ گھر بھی یاد آیا۔۔۔۔ جیسا بھی تھا ایک وقت وہاں گزارا تھا اس نے

“اسماء چاچی ٹھیک ہیں، تمہیں بہت مس کرتی ہیں۔۔۔۔ گھر میں بھی سب ٹھیک ہے، ماہم کی منگنی ہوگئی ہے شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔سب ویسے ہی ہے بس میں کہی تھم گیا ہو”

آخری فقرہ خضر نے دل میں بولا

“ماما کو بہت مس کیا ہے میں نے۔۔۔۔ شکر ہے وہ ٹھیک ہیں آپ ان کا خیال رکھیے گا پلیز”

بہت دنوں بعد کسی اپنے کو دیکھ کر، اپنے سے باتیں کر کے اس کی آنکھیں بھر آئیں

“حور تم میرے ساتھ ابھی چل رہی ہو۔۔۔۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں”

خضر نے حور کو روتے ہوئے دیکھ کر کہا

“میں۔۔۔۔ میں کیسے جا سکتی ہوں خضر بھائی”

حور نے اپنے لہجے میں حیرت سموتے ہوئے خضر سے کہا

“کیا مطلب ہے تمہارا؟ کیسے نہیں جاسکتی ہوں تم میرے ساتھ۔۔۔ وہ تمہارا گھر ہے، جہاں میں تمہں لے کر جا رہا ہوں، چچی انتظار کر رہی ہیں تمہارا”

خضر نے حور سے زیادہ نے حیرت میں مبتلا ہو کر، حور سے کہا جیسے وہ توقع نہیں کر رہا تھا حور سے اس بات کی

“آپ۔۔۔۔۔ آپ ابھی جائے خضر بھائی میں آوگی تھوڑے دنوں بعد ماما کے پاس، سب لوگوں سے ملنے آپ کے گھر پر”

حور نے “آپ کے گھر” کہا، شاید اس کے دماغ نے قبول کر لیا تھا کہ وہ گھر اب اس کا اپنا نہیں ہے۔۔۔ یہ گھر اس کا اپنا ہے جہاں وہ کھڑی ہے

“حور تمھیں اس شخص سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں آگیا ہوں اور اب وہ شخص تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا”

خضر نے حور کو سمجھانا چاہا

“میں ڈر نہیں رہی ہوں خضر بھائی، میں سچ بول رہی ہوں میں بہت جلد ماما سے اور آپ لوگوں سے ملنے آؤگی”

حور نے جواب دیا

“حور تم کیسی باتیں کر رہی ہو، تم اس کرمنل کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہوں۔۔۔۔ حالت دیکھو اپنی زرہ کیا حالت بنا دی اس نے تمہاری”

حور آج اسے حیران کرنے پر تلی ہوئی تھی اس کی باتیں خضر کو شاک پر شاک دے رہی تھی

“وہ کرمنل اب میرا ہزبینڈ بھی ہے اور ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔۔۔ وہ تو میں گر گئی تھی اس لئے چوٹ لگ گئی ہے۔۔۔۔آپ پلیز ابھی جائیں”

حور نے وضاحت دینی چاہی

“حور تم میرے ساتھ اس وقت چل رہی ہو اور یہ میں تمہیں آخری دفعہ کہہ رہا ہوں”

خضر کو اب حور پر غصہ آنے لگا

“آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ہیں خضر بھائی اور نہ ہی مجھ پر ایسا کوئی حق رکھتے ہیں۔۔۔۔ میں آپ سے کہہ رہی ہو ناکہ میں بہت جلد گھر آو گی تو آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں میری بات کو”

حور تھوڑا تلخ ہو کر بولی شاید زندگی میں پہلی بار حور نے خضر سے اس لہجے میں بات کی تھی

خضر چپ کر کے حور کو دیکھتا رہا اور پھر جانے کے لئے قدم اگے بڑھائے مڑ کر واپس دیکھا

“میں دوبارہ آؤں گا”

یہ بول کر وہ رکا نہیں چلا گیا

وہ اپنے ادا کیے ہوئے لفظوں پر خود بھی حیران تھی۔۔۔ کیا ایک رات میں سب کچھ بدل گیا تھا۔۔۔۔ شاید ہاں؟ وہ شخص جس نے اسے زبردستی نکاح کیا، جس کے ساتھ وہ خود نہیں رہنا چاہتی تھی، بھاگ جانا چاہتی تھی اور اب موقع بھی تھا تو وہ کیوں کھڑی تھی اس کے گھر میں۔۔۔۔۔۔۔ کیوں وہ اس شخص کی وضاحتیں اور صفایاں دوسروں کو دے رہی تھی اور اسے اپنا ہسبینڈ کہہ رہی تھی۔۔۔۔ کیا وہ اسے اپنا ہسبنڈ ایکسپٹ کر چکی تھی وہ خود بھی الجھ گئی

زین آج سے دروازہ لاک کرکے نہیں گیا تھا۔ تو کیا اسے بھی اندازہ ہو گیا تھا وہ اب کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔۔ یا شاید وہ بھی اس پر اعتبار کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ سارا دن بس یہی باتیں سوچتی رہی، پھر اپنے شکن آلود کپڑوں پر نظر ڈال کر الماری کی طرف بڑھ گئی

*****

زین جب گھر پہنچا تو حور کو ٹیرس میں کھڑے ہوئے پایا وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ زین چلتا ہوا اس کے پیچھے آکر رکا حور کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اس کے سر کا بوسہ لیا۔۔۔۔ حور جو آج سارا دن ایک عجیب وغریب کیفیت میں گھری ہوئی تھی، زین کو دیکھ کر چونکی

“کیسی طبیعت ہے اب سویٹ ہارٹ”

زین نے حور کا رخ اپنی طرف موڑ کر ماتھے کے زخم کو انگلی سے چھوتے ہوئے پوچھا

“ٹھیک ہے طبیعت”

حور نے نظریں جھکائے آہستہ سے جواب دیا

“کیا کیا آج سارا دن؟ مجھے مس کیا؟

وہ حور کی کمر کے گرد اپنے دونوں ہاتھ حائل کیے ہوئے گہری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

حور نے بنا کوئی جواب دیے ہوئے نظریں اٹھا کر زین کو دیکھا

“ذرا سا بھی نہیں”

وہ اب بھی دلچسپی سے مسکراتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اسی کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

“میں چائے لے کر آتی ہوں”

حور نے دوبارہ پلکیں جھکائیں اور ٹیرس سے جانے لگی تو زین نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا

“رہنے دو چائے کا موڈ نہیں ہے، بغیر سویٹر کے یہاں کیوں کھڑی ہو؟ سردی لگ جائے گی اندر چلو”

وہ فکرمندی سے کہتا ہوں اسے ٹیرس سے لے آیا

حور کچن میں جاکر، منع کرنے کے باوجود چائے بنانے لگی چائے لے کر روم میں آئی تو زین ڈریس چینج کر چکا تھا

زین کو چائے کا کپ تھما کر وہ اپنا کپ لے کر بیڈ پر بیٹھ گئی

“کیسا گزرا آج کا دن”

زین نے چائے کا کپ لبوں پر لگاتے ہوئے پوچھا

“ہہہم صحیح گزرا”

اس نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے جواب دیا

“اس طرح گھر میں فارغ بیٹھنے سے بہتر ہے تم اپنی اسٹیڈیز دوبارہ شروع کر دو۔۔۔۔۔ایڈمیشن اوپن ہو جائے تو تمہیں فارم لاکر دے دوں گا”

زین نے چائے کا خالی کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا

“ایک بات پوچھوں تم سے”

حور نے سوال کیا

“پوچھو”

زین اس کو دیکھتے ہوئے بولا

“تم آج آفس جاتے ہوئے باہر سے دروازہ کیوں نہیں لاک کر کر گئے۔۔۔۔ اگر میں اس گھر سے چلی جاتی تو”

حور آج سارا دن خود اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئی تو یہ سوال اس نے زین سے پوچھ لیا

“دروازہ باہر سے اس لئے لاک کرکے نہیں گیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ جب میں گھر آؤں گا تو تم گھر میں موجود میرا انتظار کر رہی ہو گی”

زین بیڈ پر حور کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا

زین کے لہجے میں یقین دیکھ کر حور اس کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔ اتنے دنوں میں آج پہلی بار حور نے زین کو غور سے دیکھا بلاشبہ وہ ایک اچھی پرسنالٹی کا مالک تھا

“لے لیا اچھی طرح میرا جائزہ”

حور زین کی آواز پر چونکی

“نہیں میں تو بس ویسے ہی”

حور کی چوری پکڑی گئی اوپر سے اس سے بات نہیں بنی، تو وہ اچھی خاصی نروس ہو گئی

“بس ویسے ہی کیا”

اب وہ اس کے اوپر جھگتے ہوئے پوچھ رہا تھا

“پلیز ہٹو مجھے رات کے کھانے کے لئے تیاری کرنی ہے”

حور زین کو پیچھے کرتے ہوئے اٹھنے لگی

“چپ کر کے بیٹھی رہو، کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کچن میں جانے کی ڈنر آج ہم بات کریں گے”

اس سے پہلے وہ مزید اپنی چلاتا موبائل کی بیل نے اس کے کام میں خلل ڈالا زین پیچھے ہٹتا ہوا کال ریسیو کرنے لگا۔۔۔۔ اتنے میں حور کو موقع ملا تو وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر کاوچ پر آکر بیٹھ گئی

اس سے پہلے وہ مزید اپنی چلاتا موبائل کے بیل نے اس کے کام میں خلل ڈالا زین پیچھے ہٹتا ہوا کال ریسیو کرنے لگا۔۔۔۔ اتنے میں حور کو موقع ملا تو وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر کاوچ پر بیٹھ گئی

“ہاں فیصل بولو کیا خبر ہے”

زین سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے بولا

دوسری طرف سے کچھ بولا جارہا تھا جو زین بہت غور سے سن رہا تھا

حور اس کو غور سے دیکھ رہی تھی

“ٹھیک ہے ابھی کے لئے اتنی انفارمیشن کافی ہے۔۔۔۔نہیں ابھی تھوڑے دن روک جاؤ جب میں کہوں تب کام کرنا، ابھی صرف اس پر نظر رکھو”

زین نے کال کاٹ کر کے موبائل بیڈ پر اچھلا

حور کو زین کی باتیں سن کر کچھ عجیب سا لگا۔ ۔۔ آج صبح والی خضر کی باتیں یاد آنے لگیں

“حور تم کیسی باتیں کر رہی ہو تم اس کرمنل کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہوں”

اس کا دل بجھ سا گیا تھوڑی دیر پہلے چھایا ہوا سکوت جو ماحول ڈھاکے ہوئے تھا وہ چھناکے سے ٹوٹا

“کیا کرتا پھر رہا ہے یہ شخص۔۔۔۔ کیا یہ الٹے سیدھے کام چھوڑ کر راہ راست پر نہیں آسکتا۔۔۔۔ پتہ نہیں کس بے چارے کی شامت آئی ہوئی ہے، جس کے پیچھے اپنا جاسوس لگا دیا نظر رکھنے کے لئے۔۔۔۔ کہیں اس نے میرے اوپر بھی تو نظر نہیں رکھوائی”

اس سوچ کے آتے ہی حور کو جھرجھری سی چڑی

“اگر اسے یہ پتہ چل گیا کہ آج خضر بھائی آئے تھے۔۔۔۔۔ کیا مجھے اسے بتانا چاہیے۔۔۔۔ نہیں، نہیں”

اس سے آگے حور سے سوچا ہی نہیں گیا

“اللہ پاک پلیز اس بندے کو سدھار دیجیے”

اس کے دل نے شدت سے یہ دعا کی شوہر تو وہ اسے قبول کر چکی تھی بس اب اسے راہ راست پر لانے کے لئے دعا ہی کر سکتی تھی

“اتنا کیوں خود کو سوچ سوچ کر ہلکان کر رہی ہو جو بات دل میں ہے وہ سیدھا سیدھا پوچھ لو”

زین کافی دیر سے حور کے چہرے کے اوتار چڑھاؤ دیکھ کر بولنے لگا

“اور وہ بات تم مجھے سیدھے سیدھے بتا دو گے”

حور نے سنجیدگی سے زین کو جواب دیا

“کیوں نہیں سویٹ ہارٹ جو بات تم سے تعلق رکھتی ہے وہ تم مجھ سے پوچھوں میں تمھیں بتا دوں گا”

زین نے بیڈ کے کراون سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا

“ابھی تم موبائل پر کس پر نظر رکھنے کی بات کر رہے تھے”

حور نے ہمت کر کے پوچھا

زین نے غور سے حور کو دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس آنے کے لیے کہا۔۔۔۔۔۔حور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی بیڈ کے پاس آکر کھڑی ہوئی۔ ۔۔۔ زین نے حور کو دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، جسے تھوڑی جھجک کے بعد حور نے تھام لیا۔۔۔۔ زین نے حور کا ہاتھ کھینچا۔۔۔۔ تو حور خود بھی کھنچتی ہوئی زین پر آگری

زین نے نرمی سے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا

“اس بات کا تعلق تم سے بالکل بھی نہیں ہے، ادھر ادھر کی باتوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ صرف اپنے اور میرے متعلق سوچا کرو، بات کیا کرو۔۔۔ جو میں چاہتا ہوں وہ تم مجھ سے پوچھتی نہیں۔۔۔۔۔۔ اگر وہ سب باتیں جان لو پھر تمہیں سارے سوالوں کے جواب خود مل جائیں گے۔۔۔ ساری الجھنیں ختم ہو جائیں گی”

وہ حور کے چہرے پر آئے ہوئے بال ہٹاتے ہوئے نرم لہجے میں کہہ رہا تھا

حور کو اس کی کوئی بات سمجھ نہیں آئی بلکہ سب کچھ حور کے سر پر سے گزر گیا

“کیا ایسی کوئی بات ہے جو تم مجھے بتانا چاہتی ہوں”

زین گہری نظروں سے حور کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میں چینج کرکے آتی ہو ہمیں ڈنر کے لیے باہر جانا ہے نا”

ایک لمحے کو حور کے دل میں خیال آیا کہ آج صبح خضر والی بات بتا دی لیکن اگلے ہی لمحے حور نے اپنے خیال کی نفی کی

“چینج کرنے کی ضرورت نہیں ہے ایسے ہی سہی ہے، اگر اور زیادہ خوبصورت لگی تو شاید پھر ڈنر کا پروگرام کینسل کرنا پڑے”

زین بھی بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولا

****

ریسٹورینٹ کے اچھے ماحول میں ڈنر کے بعد زین میں حور کے لئے چاکلیٹ فلیور کی آئسکریم منگوای

“تمھیں کیسے پتہ چلا کہ آئسکریم میں مجھے چاکلیٹ فلیور پسند ہے”

حور نے اپنی پسند کا فلیور دیکھ کر بے ساختہ زین سے پوچھا

“مجھے تمہاری ہر پسند ناپسند کے بارے میں معلوم ہے اور ابھی سے نہیں بہت پہلے سے”

زین نے ہاتھ کی مٹھی کو بند کرتے ہوئے اپنے لبوں پر رکھا اور مسکراتی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے حور کو بولا

“مثلا کیا کیا معلوم ہے تمہیں؟؟

حور نے چونکتے ہوئے پوچھا

“تم سوال کرتی جاو میں تمہاری پسند ناپسند بتاتا جاؤنگا”

زین نے کانفیڈنٹ ہو کر کہا

“ہاں تمہیں تو سب معلوم ہوسکتا ہے۔ ۔۔ ہر کسی کی معلومات رکھنے کے لئے تم لوگوں کے پیچھے بندے جو لگا دیتے ہو”

حور کے منہ سے ساختہ نکل گیا یہ جانے بناء کے زین کا ری ایکشن کیا ہوگا

“ہاہاہاہا مگر مجھے تمہیں جاننے کے لئے تمہارے پیچھے کسی کو لگانے کی ضرورت نہیں ہے”

جیسے وہ اس کی بات سے مختطوط ہوا ہوں

“اپنی ماما سے ملنا ہے تمہیں”

زین کے اچانک سوال پر حور کا منہ میں لے جاتا ہوا آئس کریم والا ہاتھ وہی تھم گیا اور وہ اسکو بے یقینی سے دیکھنے لگی

“تم۔۔۔ تم واقعی مجھے میری ماما سے ملواؤں گے”

حور کی آنکھوں میں ابھی تک حیرت تھی، جیسے اسے زین کی بات کا یقین نہیں آ رہا ہوں

“ہہہم یہ ایسکریم ختم کرو پھر چلتے ہیں”

زین نے اس کا خوشی سے تمتماتا ہوا چہرہ دیکھ کر کہا

“بس کھالی میں نے اب ہمیں چلنا چاہیے”

حور آدھی آئسکریم چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی تو زین بھی کھڑا ہو گیا

******

“حور میں تمہارا یہی ویٹ کر رہا ہوں آدھے گھنٹے کے اندر واپس آو اپنی ماما سے مل کر”

زین نے ظفر مراد کے گھر سے باہر گاڑی روکتے ہوئے کہا

“تم اندر نہیں آؤ گے”

حور نے جھجکتے ہوئے پوچھا

“نہیں میں تمہارا باہر ہی ویٹ کر رہا ہوں”

زین نے منہ میں سگریٹ رکھتے ہوئے کہا

حور کار سے اتر گئی، کتنے دنوں بعد وہ اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی اندر کی طرف بڑھی تو عبداللہ نے دروازہ کھولا

“ارے حور بی بی آپ”

عبداللہ حیرت سے دیکھتے ہوئے بولا

“کیسے ہو عبداللہ گھر میں سب کہاں ہیں کوئی نظر نہیں آ رہا”

حور اندر داخل ہوئی پورے گھر پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا

“سب لوگ بڑی بیگم صاحبہ (فاطمہ تائی) کو دیکھنے اسپتال گئے ہوئے ہیں”

عبداللہ نے بتایا

“کیوں کیا ہو گیا فاطمہ تائی ہو”

حور نے حیرت سے پوچھا

“آج صبح اچانک طبیعت خراب ہو گئی تھی، میں نے بڑے صاحب کو فون کرکے بتایا تو وہ انھیں اسپتال لے کر گئے ہیں۔۔۔۔ کافی دیر ہو گئی ہے جی سب لوگوں کو اسپتال گئے ہوئے”

عبداللہ نے سب تفصیل سے بتایا

“اور ماما؟ وہ بھی کی ہوئی ہیں”

حور نے افسردگی سے پوچھا

“نہیں جی وہ تو اپنے کمرے میں ہیں آرام کر رہی ہیں” عبداللہ نے بتایا

“اچھا میں ان سے مل کر آتی ہوں”

وہ جلدی سے آسماء کے کمرے کی طرف گئی

“ماما “

کمرے میں پہنچتے ہی حور نے اسماء کو پکارا

“حور”

دوسری طرف اسماء جو بیڈ کر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی ایک دم آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا

“ماما میں آگئی آپ کے پاس”

حور اسماء کے گلے لگتے ہوئے بولی

“حور تم واقعی میرے سامنے ہونا یہ خواب نہیں ہے نا”

اسماء ابھی بھی خواب کی سی کیفیت میں تھی وہ بار بار حور کو چھو چھو کر دیکھ رہی تھی تاکہ خود کو یقین دلاتے ہیں

“میں نے تو بالکل امید چھوڑ دی تھی کہ میں اپنی بچی کو دوبارہ بھی دیکھ سکوں گی”

اسماء روتے ہوئے ہوئے حور کو پیار کرتے ہوئے کہنے لگی

“ماما میں نے آپ کو بہت مس کیا بہت زیادہ”

حور آسماء کے آنسو صاف کرتے ہوئے خود رونے لگ گئی

“یہ ماتھے پر کیا ہو گیا تمہیں تم ٹھیک ہونا بیٹا”

وہ حور کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے پوچھنے لگی

“ارے کچھ نہیں تو بس ایسی ہی چوٹ لگ گئی تھی آپ پریشان نہیں ہوں میں بالکل ٹھیک ہوں”

حور نے آسماء کو اطمینان دلایا

حور اور اسماء کافی دیر تک باتیں کرتے رہے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا، حور کی گھڑی پر نظر پڑی تو ایک دم اسے یاد آیا کہ زین نے اسے آدھے گھنٹے کا کہا تھا۔۔۔۔ لیکن اب ایک گھنٹہ ہو گیا ہے زین اس کا باہر ویٹ کر رہا ہوگا

“ماما مجھے جانا ہے آپ اپنا خیال رکھیے گا”

حور نے اٹھتے ہوئے کہا

“مگر میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی حور، اب تم کہیں نہیں جاو گی”

آسماء اسے روکتے ہوئے کہنے لگی

ماما پلیز اس طرح نہیں کریں۔۔۔ میں پھر آؤں گی آپ سے ملنے۔۔۔ زین باہر میرا ویٹ کر رہا ہے”

اس نے آسماء کو پیار سے سمجھایا

“نہیں اب تم اس کے ساتھ نہیں جاوں گی ایسے لوگ خطرناک ہوتے ہیں میں تمہاری زندگی خطرے میں نہیں دیکھ سکتی”

اسماء اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی

“ماما مجھے آپ سے وہی ملوانے لایا ہے اگر وہ نہ لاتا، تو کیا میں آپ سے ملنے آسکتی تھی۔۔۔ آپ میرا یقین کریں مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے بہت خیال رکھتا ہے وہ میرا۔۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے ملنے آؤں گی مگر مجھے ابھی جانا ہوگا”

حور آسماء کو سمجھا کر گلے لگا کر باہر نکل گئی

****

حور کے گاڑی سے اترنے کے بعد زین نے سب سے پہلے پسٹل چیک کی جو کہ احتیاط کے طور پر وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔۔۔۔ آدھے گھنٹے گاڑی میں بیٹھا وہ حور کا انتظار کرتا رہا۔۔۔ آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد گاڑی سے اتر کر باہر ٹہلنے لگا، اشعر کی کال آگئی اسے آفس سے متعلق کوئی کام کی بات کرنی تھی

“اور کہاں ہو اس وقت، کیا ہو رہا ہے”

آشعر نے زین سے سوال کیا

“اپنے سسرال اور بیگم کا انتظار ہو رہا ہے”

زین نے جواب دیا

“کیا مطلب سسرال؟؟ کیا تم اس وقت ظفر مراد کے گھر پر موجود ہوں”

اشعر نے حیرت سے پوچھا

“گھر کے اندر نہیں باہر موجود ہو حور کو اس کی ماما سے ملوانے لایا تھا اسی کا ویٹ کر رہا ہوں”

زین نے اشعر کو بتایا

“یہ کیا بیوقوفی کی ہے تم نے زین۔ ۔۔۔ تم وہاں اکیلے چلے گئے وہ بھی بھابھی کو لے کر اور بتایا بھی نہیں مجھے۔۔۔۔۔ وہیں پر رکو تم میں دس منٹ میں ابھی آتا ہوں”

زین کی بیوقوفی پر اشعر کو ماتم کرنے کا دل چاہا

“ریلکس یار خطرے کی کوئی بات نہیں ہے سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ سیفٹی کے لئے پسٹل رکھ لی ہے میں نے، لیکن اس کی بھی نوبت نہیں آئے گی۔۔۔ تم بالکل بے فکر رہو اور ویسے بھی حور باہر آنے والی ہے میں تمہیں بعد میں کال کرتا ہوں”

زین نے کال ڈسکنیکٹ کرتے ہی کھڑی میں ٹائم دیکھا

اسے احساس ہوا کے حور کو اندر گئے ہوئے ایک گھنٹہ ہو گیا ہے۔۔۔۔ واپس گاڑی میں بیٹھ کر زین نے پسٹل نکالی اور قدم ظفر مراد کے گھر کی طرف بڑھائے۔ ۔ ۔ وہ جیسے ہی گیٹ پر پہنچا تو اسے سامنے سے حور آتی ہوئی دکھائی دی۔۔۔۔۔زین نے پسٹل جیب میں رکھ لی

“اتنی دیر لگا دی تم نے واپس آنے میں”

زین نے حور کے آتے ہوئے دیکھ کر کہا

“بس ماما سے بات کرتے ہوئے ٹائم کا اندازہ ہی نہیں ہوا اور واپس آ تو گئی ہونا”

حور نے زین کو جتاتے ہوئے کہا

“واپس تو آنا ہی تھا تمہیں”

زین حور کو دیکھتے ہوئے بولا

“اتنا کونفیڈنس۔۔۔۔۔ اتنا کونفیڈنس بھی اچھا نہیں ویسے”

حور نے ابرو اچکاتے ہوئے بولا اسے اس وقت زین کو تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا

اس سے پہلے زین حور کو کوئی جواب دیتا سامنے سے گاڑی آتی ہوئی دکھائی دی جس میں ظفر مراد اور خضر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ان دونوں نے بھی زین اور حور کو دیکھ لیا اور گاڑی وہیں روک دی