Itni Mohabbat Karo Naw (Part 1) by Zeenia Sharjeel NovelR50412 Itni Mohabbat Karo Naw Episode 22
Rate this Novel
Itni Mohabbat Karo Naw Episode 22
Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel
ریسٹورنٹ کے پرسکون ماحول میں اشعر اور تانیہ بیٹھے ہوئے تھے تانیہ کبھی اپنے اسکارف کو ٹھیک کر رہی تھی جو پہلے سے ہی ٹھیک تھا تو کبھی ڈوپٹے کو،، کبھی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے لگتی پھر کچھ نہیں ہوا تو گھڑی میں ٹائم دیکھنے لگی۔۔۔ اشعر اس کو غور سے دیکھ رہا تھا اور اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا
“آپ ریلیکس ہیں تانیہ”
اشعر نے تانیہ سے پوچھا
“جی میں ٹھیک ہوں لیکن آپ مجھے یہاں پر کیوں لے کر آئے ہیں”
تانیہ نے اشعر سے سوال کیا
“بتایا تو تھا آپ کو کہ ایک ضروری بات کرنی ہے آپ سے” اشعر نے تانیہ کو دیکھتے ہوئے یاد دلایا
“تو پھر کریں نا ضروری بات”
تانیہ نے باہر کے دروازے کو دیکھنا شروع کردیا جیسے ہی بات ختم ہو یہاں سے فورا نکل جائے
دراصل اب وہ اشعر کے ساتھ یہاں آنے کے بعد وسوسوں میں گھرگئی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں اشعر اس کو کیسی لڑکی سمجھ رہا ہوگا کہ اس کے ایک دفعہ بولنے پر اس کے ساتھ آگئی
“اوکے ضروری بات بعد میں پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ کیسے ہیں”
وہ آنکھوں اور لہجے میں نرمی کا تاثر دیتے ہوئے تانیہ سے پوچھ رہا تھا
“اپنے فون پر پوچھا تو تھا”
تانیہ نے بولا
“مگر آپ نے اس وقت بھی نہیں بتایا تھا”
اشعر نے اس کو یاد دلایا،، وہ اب اس کو پرشوخ نظروں سے دیکھ رہا تھا
“آپ کے سامنے ہی بیٹھی ہو کیسی لگ رہی ہوں”
تانیہ اس کی نظروں سے نروس ہو کر لہجے میں بیزاری لاتے ہوئے بولی
“بہت پیاری ہمیشہ کی طرح”
اشعر نے بے ساختہ بولا
“جی کیا مطلب ہے آپ کا”
تانیہ نے پوری آنکھیں کھول کر اشعر کو دیکھتے ہوئے بولا
“آپ کی بات کا جواب دے رہا ہوں آپ نے خود ہی تو پوچھا کیسی لگ رہی ہوں”
اشعر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
“آپ مجھے یہ بات کرنے کے لئے یہاں لے کر آئے تھے”
تانیہ کو جیسے اس کی سوچ پر دکھ ہوا شکل سے تو کتنی ڈیسنٹ لگتا تھا حرکتیں ایک دم سے چھچھوری
“جی یہ بات بھی بتانی تھی کہ آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں اور یہ بات بھی پوچھنی تھی کہ میری ممی آپ کے گھر آنا چاہ رہی ہیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں”
اشعر نے اپنی طرف سے مہذہب طریقہ اپناتے ہوئے بات کا آغاز کیا
“آپ کی مدر ہمارے گھر کیوں آنا چاہتی ہیں”
تانیہ کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے گھبراہٹ میں اشعر سے پوچھا
“جی گھر میں میلاد ہے تو اس کو بلاوہ دینے آرہی ہیں
اشعر کو تانیہ کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہا
“تو میلاد کی بلاوا دینے کے لئے آپ کی مدر کو ہمارے گھر آنا تھا تو آپ یہ بات فون پر کہہ دیتے”
تانیہ کو خود بھی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ اوپر سے مزید بےتکے سوال کرکے خود بھی پریشان ہو گئی
اشعر نے تانیہ کہ گھبراہٹ زدہ چہرے کو دیکھا پاس پڑی بوتل میں سے پانی نکال کر اس کی طرف بڑھایا وہ ایک سانس میں پورا گلاس پانی پی گئی جب وہ گلاس ٹیبل پر رکھنے لگی تو اشعر نے اس کا ہاتھ تھام لیا
“مجھ سے بڑے بڑے ڈائیلاگ بلکل نہیں بولے جائیں گے۔۔۔ کہ میں آپ کے عشق میں جی نہیں سکتا،، نہ ہی آپ کے لئے چاند تارے توڑ کر لانے کی باتیں کرسکتا ہو۔۔۔۔ تانیہ میں جب بھی اپنے لیے لائف پارٹنر کے متعلق سوچا ہے تو ہمیشہ آپ کا خاکہ میری نظروں کے سامنے آیا ہے،، اچھی لگتی ہیں آپ مجھے۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے ہم دونوں ایک دوسرے کو اچھے سے انڈرسٹینڈ کر سکتے ہیں اور ایک اچھی لائف ایک دوسرے کے ساتھ گزار سکتے ہیں۔۔۔۔ میں اپنی مدد کو اپنا پرپوزل لےکر آپ کے گھر بھیج دو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں”
بالآخر اشعر نے بڑی ہمت کرکے تانیہ کو اپنے دل کی بات کہہ دی
تانیہ کی زبان کو بریک لگ چکا تھا وہ کیا بولتی اشعر کے ہاتھ کے نیچے اس کا ہاتھ دبا ہوا تھا جو ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا جسے اشعر نے محسوس کرکے اپنا ہاتھ ہٹایا
“بولیے تانیہ میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں”
اشعر نے بغور اس کو دیکھتے ہوئے کہا
“کیا جواب دوں”
وہ اب بھی کنفیوز ہو رہی تھی
“یعنی میں آپ کی خاموشی کو پھر انکار سمجھو”
اشعر نے سنجیدگی سے پوچھا
“میں نے ایسا تو نہیں کہا”
تانیہ نے جلدی سے بولا
اشعر کے چہرے پر اس کی بات سے مسکراہٹ بکھر گئی اور تانیہ نے اپنے بے ساختہ بولنے پر شرمندہ ہو کر نظر جھکالیں
“یعنی آپ کی خاموشی کو میں اقرار سمجھو”
اشعر نے ٹیبل پر رکھا ہوا تانیہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
تانیہ کا ہاتھ اب کانپ نہیں رہا تھا مگر آنکھیں ہنوز حیا سے جھگی ہوئی تھی اور لبوں پر شرمیلی سی مسکان تھی
“تانیہ گھر چلو”
بلال کی آواز پر دونوں چونکے سامنے کھڑا ہوا بلال سنجیدہ تاثر لیے ہوئے انھی کو دیکھ رہا تھا وہ کب آیا ان دونوں میں سے کسی نے نہیں دیکھا
“بھائی”
تانیہ نے مری ہوئی آواز میں کہا اور شرمندگی سے سر جھکا لیا
اشعر نے اپنا ہاتھ تانیہ کے ہاتھ پر سے ہٹایا اور سیریس ہو کر کھڑا ہو گیا
“بلال میری پوری بات سنو”
اشعر نے بلال سے بات کرنا چاہا بلال نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا اور دوبارہ تانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
“میں باہر ویٹ کر رہا ہوں”
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں تانیہ نے ایک نظر اشعر کو دیکھا اور بلال کے پیچھے چلی گئی بلال کے جانے کے بعد اشعر وہی کرسی پر بیٹھ گیا
*****
“ارے ایک ساتھ ہی آگئے تم دونوں چلو یہ تو اچھا ہوا جلدی سے ٹیبل پر آجاؤ کھانا ریڈی ہے”
فضا نے بلال اور تانیہ کو ایک ساتھ آتے ہوئے دیکھ کر کہا
“میرا کھانا اوپر بیڈ روم میں ہی لے کر آ جاؤ”
بلال سنجیدہ لہجے میں بولتا ہوا وہاں سے چلے گیا
تانیہ نے افسوس بھری نظر بھائی پر ڈالی
“مجھے بھوک نہیں ہے فضا تم لوگ کھانا کھاؤ تھوڑی دیر ریسٹ کروگی بس”
تانیہ فضا سے بولتی ہوئی روم میں چلی گئی
“آج جلدی کیسے آگئے آفس سے تم” فضا روم میں کھانا لاتی ہوئی بلال سے پوچھنے لگی
“کیوں اگر تمہیں اتنا ہی برا لگ رہا ہو تو واپس چلا جاتا ہوں”
بلال بگڑتا ہوا بولا
“ارے ایسا کیا کہہ دیا میں نے جو ہھتے سے ہی اکھڑے چلے جا رہے ہو”
فضا نے کھانے کی ٹرے بلال کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
“یہ کیسا کھانا بنایا ہے نمک کتنا تیز کردیا ہے اس سے تو بہتر ہے بندہ زہر کھا لے”
بلال نے جھنجھلاتے ہوئے غصے میں کہا
“او ہیلو،، کسی اور بات کا غصہ ہے نا تو اسے کھانے پر نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ۔ کھانا بالکل پرفیکٹ بنا ہے کیونکہ وہ میں نے بنایا ہے تمہیں اگر کھانا نہیں کھانا تو باہر جاکر ہوا کھاؤ ماموں کی وجہ سے ہمیشہ نمک مرچ کم رکھتی ہوں کھانے میں،، ای بڑے کے کھانے میں نمک تیز ہے”
بلال کا بولنا عذاب ہو گیا تھا فضا اب نان اسٹاپ شروع ہو چکی تھی اور آخری جملہ بلال کی نقل اتارتے ہوئے کہا
“فضا تم ذرا اپنی زبان کو بریک لگاؤ اور جاتے ہوئے بیڈروم کا دروازہ بند کر دو”
بلال نے اب کے تحمل سے فضا سے بولا،، اشارہ صاف تھا کہ وہ ابھی اس وقت یہاں سے چلی جائے
“بتاؤ بھلا باہر سے لڑ کر آنا ہے اور گھر والوں پر غصہ نکالنا ہے۔ ۔۔اگر اتنا ہی غصہ ہے تو بندہ اپنا سر دیوار پر مار لے”
فضا بڑبڑاتی ہوئی برتن اٹھانے لگی
“میرے خیال میں تم یہاں بیٹھو میں باہر چلا جاتا ہوں”
بلال نے تب کر بولا
“جا تو رہی ہوں برتن نہیں اٹھاؤ کیا۔۔۔ رات کو تو بڑے ڈائیلاگز بولے جاتے ہیں صبح صبح آنکھوں کے سامنے چہرہ نظر آنا چاہیے اور دوپہر ہونے تک وہی چہرہ بیوی کی جگہ ڈائن کا چہرہ لگنے لگتا ہے”
فضا بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
“بتاؤ ایسا کیا کردیا،، غصہ دیکھو نواب زادے کا جیسے کھانے کی جگہ میرا کلیجہ چبانا ہو۔۔۔ اب آئے ذرا بات کرنے یا منانے سر پھاڑ دینے میں نے اس مجازی خدا کا”
کمرے میں بیٹھ کر،، سیڑھیوں سے اترتی ہوئی فضا کی آواز وہ بااسانی سن سکتا تھا۔۔۔۔۔بلال نے جھٹکا
دوپہر میں وہ آفس کے ہی کسی کام سے واپس آ رہا تھا جب اسے ریسٹورینٹ کے سامنے اشعر کی گاڑی کار پارکنگ میں نظر آئی،، پہلے تو اس نے اگنور کرکے جانے کا ارادہ کیا مگر پھر تجسس کے تحت اس نے وہی اپنی کار روک دی اور ریسٹورنٹ کے اندر چلا گیا۔۔۔۔ نظر دوڑانے پر اس کی نظر اشعر پر پڑی مگر ساتھ بیٹھی ہوئی ہستی کو دیکھ کر اس کو شدید جھٹکا لگا،، وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ اس کی اپنی بہن تانیہ تھی
ان ڈیڑھ دو سالوں میں اشعر پر اتنا اعتماد ہوگیا تھا کہ وہ اس میں اور زین میں کوئی فرق نہیں رکھتا تھا اور وہ اس کی بہن کو ریسٹورینٹ کی زینت بنا رہا تھا یہ دیکھ کر بلال کو شدید غصہ آیا اس سے پہلے وہ اپنا ضبط کھوتا اس نے تانیہ کو وہاں سے چلنے کے لئے کہا اور تانیہ سے بھی راستے میں کوئی بات نہیں کی آخر اس کی بہن نے بھی تو اس کی عزت کا خیال نہیں کیا تھا۔۔۔۔ گھر آکر سارا غصہ کو فضا پر نکال چکا تھا مگر فضا بھی اپنے نام کی ہی ایک تھی،،،، اس نے ایک کی جگہ بلال کو چار سنا کر روم سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔۔ سوچوں کا محور موبائل کی بیل نے توڑا اسکرین پر اشعر کا نام جگمگا رہا تھا بلال نے کال کاٹ کر موبائل بند کردیا
******
“گیٹ کھولو”
زین نے چوکیدار سے کہا
“بڑے صاحب کا حکم ہے کہ آپ کو اندر نہ آنے دیا جائے”
اس سے پہلے زین کچھ بولتا
“گیٹ کھولیے اور گاڑی کو اندر آنے دیں خان بابا”
اسماء نے زین کی گاڑی دیکھتے ہوئے چوکیدار سے کہا
“مگر بی بی جی وہ صاحب نے”
اس دن چوکیدار کو سختی سے منع کر دیا گیا تھا اس لئے وہ پریشان ہو کر بولنے لگا
“آپ سے میں کہہ رہی ہوں خان بابا گیٹ کھولیے”
آسماء نے دوبارہ کہا تو اس نے گیٹ کھول دیا گاڑی اندر آئی
“کیسے ہو بیٹا آپ”
گاڑی سے اترتا ہوا دیکھ کر آسماء نے زین سے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں”
زین نے اسماء سے پوچھا
“اللہ کا احسان ہے بیٹا آو اندر چل کے بات کرتے ہیں”
زین آسماء کے ساتھ اندر آنے لگا
“حور کی طبیعت کیسی ہے اب”
زین نے جھجھکتے ہوئے آسماء سے پوچھا
آج صبح اسماء کی کال زین کے پاس آئی تھی اور اس نے زین کو دوپہر میں آنے کو کہا تھا
“بہت سے چڑچڑی ہو گئی ہے تین دنوں سے۔۔۔ جب کہ کبھی کسی بات پر ناراض ہونا، غصہ ہونا یا ضد کرنا تو پہلے آتا ہی نہیں تھا شاید طبیعت کی وجہ سے ایسی ہو رہی ہو”
آسماء نے اپنے روم کی طرف بڑھتے ہوئے زین کو جواب دیا
دوپہر کا وقت تھا تو خضر اور ظفر تو آفس میں تھے مگر فاطمہ گھر پر اپنے کمرے میں موجود تھی۔۔۔۔ کوئی تلخی نہ ہو اس احساس کے تحت اسماء زین کو اپنے اور حور کے مشترکہ بیڈ روم میں لے آئی جہاں حور سو رہی تھی
“بیٹا آپ بیٹھو میں ابھی آتی ہوں”
وہ زین کو کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گئی
زین سوتی ہوئی حور کے پاس بڑھا وہ تین دن بعد اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ زرد رنگ کے کپڑوں میں اس کی رنگت بھی زرہ لگ رہی تھی اور پہلے کی بانسبت تھوڑی ویک بھی لگ رہی تھی سوتے میں بھی اس کے نقوش تنے ہوئے تھے جیسے نیند میں بھی وہ کسی بات پر خفا ہو۔۔۔۔ زین بیڈ پر اس کے قریب جاکر بیٹھا اور اپنا انگوٹھا حور کے ہونٹوں پر پھرنے لگا۔۔۔۔ نیند میں ہلکی سی شکنیں اس کے ماتھے پر ابھریں،،، زین نے اسکی ایک ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر،، جھک کر دوسرے ہاتھ سے اس کے گلے میں پڑا ہوا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھا،، مزید اس کی گردن پر جھک کر خود کو سراب کرنے لگا،،،، حور ہلکا سا کسمسائی اور ہاتھ کی انگلیاں آزاد کروانی چاہئی۔ ۔۔۔۔ جنھیں زین نے مزید جکڑ لیا، اب نیند میں اس کے قرب سے حور کو اپناپن محسوس ہونے لگا اور اس کے تنے ہوئے نقوش نارمل ہونے لگے۔۔۔۔ شاید یہی لمس تھا جو وہ کافی دنوں سے محسوس نہیں کر رہی تھی،،،، حور نے دوسرا ہاتھ زین کے شولڈر پر رکھا کسی احساس کے تحت حور نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔۔ تو زین کو اپنے اوپر جھکا ہوا پایا
“تم۔ ۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو”
حور کے ایک دم اٹھنے سے زین کے کام میں خلل پڑا
“پیار کر رہا تھا” زین نے معصومیت سے جواب دیا۔۔۔ حور کے نارمل نقوش زین کے معصومیت سے جواب دینے پر دوبارہ تن گئے
“تم اندر کیسے آئے” حور نے غصے سے کہا
“اصل وجہ بتاؤں تمہیں غصہ کس بات پر آرہا ہے؟؟؟ میرا تمہارے روم میں آنے پر یا پھر اتنے دنوں بعد پیار کرنے پر”
زین نے آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے مسکرا کے پوچھا
“تم ایک فضول انسان ہو اور میں تمھارے منہ نہیں لگنا چاہتی”
حور کو اس شخص کی ڈھٹائی پر غصہ آنے لگا۔۔۔ یعنی وہ اتنا سیریس ناراض تھی مگر اس انسان کو اس کی ناراضگی کی کوئی پروا ہی نہیں تھی
“میں ایک معصوم اور شریف شوہر ہوں جو اپنی کیوٹ سی پیاری سی وائف کو ہمیشہ اپنے منہ لگانا چاہوں گا”
زین نے حور کے ہونٹوں کو فوکسک کرتے ہوئے کہا اور ایک منٹ لگائے بغیر سوچا ہوا کام انجام دیا،،،، حور نے دونوں ہاتھ زین کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے کرنا چاہا،، مگر پہلے کبھی اس کی چلی ہے جو اب چلتی۔۔۔۔۔۔ زین پیچھے ہٹ کر بیٹھا تو حور اس کو گھور کر اس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ وہ ابھی بھی حور کو دیکھ کر ڈھٹائی سے مسکرارہا تھا،،،
“تمہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ تم میرے ساتھ جاو گی تو زیادہ دیر مجھ سے ناراض نہیں رہ سکوگے اس وجہ سے تم یہاں پر رکی ہوئی ہونا”
زین نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں پر لگایا
“اتنی زیادہ خوش فہمی پالنا بھی کوئی اچھی بات نہیں ہوتی مسٹر شاہ زین۔۔۔۔۔ تم نے جو میرے ساتھ کیا اس کو بھولنے میں کتنا ٹائم لگے گا یہ مجھے بھی نہیں پتہ اور جب تک میں واپس گھر نہیں آؤں گی”
حور نے آگے بڑھ کر بیڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھایا اور پیر پٹختی ہوئی روم سے باہر چلی گئی
تھوڑی دیر بعد اسماء روم میں آئی
“سوری بیٹا میں نے خود آپ کو اس وقت بات کرنے کے لئے بلایا تھا اور بھائی کی کال آگئی تو ان سے بات کرنے میں لگ گئی اپ نے مائنڈ تو نہیں کیا”
اسماء نے سارے کمرے میں نظر دوڑا کر حور کو تلاشنا چاہا
“ارے نہیں آنٹی میں نے بالکل بھی مائنڈ نہیں کیا میں بھی دراصل افس سے آیا تھا اب چلوں گا”
زین نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
“بیٹا حور سے ہوئی آپ کی ملاقات”
آسماء نے جیسے کچھ پوچھنا چاہا
“جو تھوڑی دیر پہلے ہی جاگی تھی ابھی باہر گئی ہے”
زین نے مہذب انداز میں جواب دیا
“بیٹا اس دن حور آپ کے ساتھ گھر کیوں نہیں گئی واپس۔۔۔ کیا آپ دونوں کی بیچ میں کوئی ایسی بات ہوئی ہے جس سے میں لاعلم ہوں اور جو مجھے پتہ ہونا چاہیے”
اسماء نے بہت دنوں سے دل میں اٹھتا ہوا سوال آخر کار زین سے پوچھ ہی لیا
“آنٹی ایشوز تو ہر ریلیشن شپ میں آتے ہیں۔۔۔ بس میرا یہ ماننا ہے کہ انہیں انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے،،، غلطی مجھ سے ہوئی ہے جس کی بنا پر حور مجھ سے ناراض ہے مگر وہ مان جائے گی،، مجھے یقین ہے میں اس کو منالوں گا”
زین نے اسماء کا چہرہ جانچتے ہوئے اندازہ لگایا کہ انھیں حور نے کچھ بھی نہیں بتایا
“فی الحال تو میں چلتا ہوں آنٹی اپنا اور حور کا بہت خیال رکھیئے گا”
زین آسماء سے مل کر کمرے سے باہر نکل گیا
*****
حور منہ پھلا کر لان میں بیٹھی ہوئی تھی سامنے سے اسے خضر اتا ہوا دکھائی دیا،،
ریسٹورینٹ والے واقعے کے بعد سے وہ خضر کا سامنا کرتے ہوئے کتراتی تھی،، خضر نے بھی اس کا کترانا محسوس کیا اور اسی وجہ سے وہ خود سے حور سے بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔ اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ حور واپس اس گھر میں آ گئی ہے،، اب انتظار تھا تو صرف اس بات کا کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس گھر میں واپس آجائے
“کیسی ہو حور؟ اس وقت یہاں پر کیا کررہی ہو،،،،، طبیعت کیسی ہے تمہاری اب”
خضر نے حور کو لان میں دیکھا تو اس کے پاس آ کر پوچھا
“میں ٹھیک ہوں طبیعت بھی ٹھیک ہے اور یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے”
حور نے خضر کے ہاتھ میں آئسکریم دیکھی تو پوچھا
“آئسکریم ہے ردا نے منگوائی تھیں” خضر نے بتایا
“میرا آئس کریم کھانے کا دل چاہ رہا ہے خضر بھائی کیا یہ میں لے سکتی ہو”
حور نے خضر سے پوچھا
“ہاں کیوں نہیں مگر تمہاری ابھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جب تمہاری طبیعت ٹھیک ہوجائے گی تو بہت ساری آئسکریم کھلاؤنگا،،،، ابھی احتیاط کرو ورنہ مزید طبیعت خراب ہو سکتی ہے”
خضر حور کی فکر کرتے ہوئے بولا
“یہ بولیں کہ آپ یہ ردا کیلئے لائے ہیں اور مجھے نہیں دینا چاہتے”
حور نے چڑچڑے پن سے کہا جو کہ کبھی بھی اس کی شخصیت کا خاصہ نہیں رہا
“کیسی باتیں کر رہی حور پہلے کبھی تمہیں کسی چیز کے لئے منع کیا یہ لو ائسکریم”
خضر نے آئسکریم حور کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
حور نے آئسکریم تھام کر وہی کھانا شروع کردی۔۔۔۔۔ اسے پتہ تھا ابھی زین واپس جانے کے لیے باہر نکلے گا یا تو وہ اس کا ضبط آزمانا چاہتی تھی یا غصہ دیکھنا چاہتی تھی یا پھر تھوڑی دیر پہلے ہونے والی حرکت کا بدلہ لینا چاہتی تھی اسے خود بھی سمجھ میں نہیں آیا
زین واپس جانے کے لئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تو اسکی نظر لان میں حور اور خضر پر پڑی،،،، ایک پل کے لئے اس کے ماتھے کی رگیں تنی مگر پھر دوسرے ہی پل اس نے خود کو نارمل کیا کیونکہ مزید غصے سے اب کام خراب ہو سکتا تھا۔۔۔ مگر کچھ نہ کچھ بندوبست تو کرکے جانا ہی تھا،، یہی سوچتا ہوا وہ لان کی طرف بڑھا
“یہ کس بے وقوف نے آئسکریم دی ہے کھانے کے لئے اور تم کھا بھی رہی ہو،، پتہ بھی ہے نہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے”
زین انکھوں سے گلاسز اتار کر شرٹ میں اٹکاتا ہوا ان دونوں کے قریب آیا اور حور کے ہاتھ سے آئسکریم لے کر دور اچھالی
“یہ کیا بدتمیزی ہے شاہ”
حور نے زین کو دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا
“اسے بدتمیزی نہیں سویٹ ہارٹ کیئر کہتے ہیں،، تمہیں پتہ ہے نہ تمہاری طبیعت خراب ہوتی ہے تو میری جان پر بن آتی ہے۔۔۔۔۔اپنے شاہ پر رحم کرو اور اب جلدی جلدی سے اپنی طبیعت ٹھیک کرلو میں مزید تمہاری طبیعت خرابی بالکل افورڈ نہیں کرسکتا”
وہ حور کے چہرے پر آئی ہوئی لٹیں پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگا
“ایک منٹ تم یہاں کیسے آئے؟؟ تمہیں اندر کس نے آنے دیا”
خضر زین کو اپنے گھر میں موجود دیکھ کر چونکا اور غصے سے کہنے لگا
“آخر تمہیں یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی خضر کہ جب میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں تم مجھے کسی دوسرے کا بیچ میں مداخلت کرنا سخت زہر لگتا ہے ،، اچھی عادت نہیں ہے یہ تمہاری، پلیز بدلو اس کو اور رہی بات میرے یہاں پر آنے کی تو جب تک میری بیوی اس گھر میں موجود ہے تو کسی کا باپ بھی مجھے یہاں آنے سے نہیں روک سکتا”
زین نے دوستانہ انداز میں کہتے ہوئے آخر میں خضر کو باور کرایا
“حور اب تمہارے ساتھ واپس نہیں جانے والی، یہ بات اس نے خود اپنے منہ سے اس دن کہی تھی شاید تم بھول رہے ہو”
خضر نے اس کو جتانے والے انداز میں تین دن پہلے کا واقعہ یاد دلایا
“اس کا کہنا یا نہ کہنا میرے لیے معنی نہیں رکھتا۔۔۔ اگر میں چاہوں تو اس وقت بھی حور کو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہوں کون روکے گا مجھے تم؟؟ اگر میں ابھی حور کو اپنے ساتھ واپس لے جاو تو وہ خود بھی مجھے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی”
زین نے چیلنجنگ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا
“شاہ تم”
حور نے کچھ بولنا چاہا تو زین نے اپنی شہادت کی انگلی حور کے ہونٹوں پر رکھ کر اس کو کچھ بھی بولنے سے باز رکھا
“شش شاہ کی جان اب میری سنو۔۔۔۔ جلدی سے اپنی طبعیت ٹھیک کرو مزید تمہیں یہاں پر برداشت نہیں کرنے والا میں،،، ابھی تھوڑی دیر پہلے اندر بتایا تھا نہ تمہیں کہ کتنا مس کر رہا ہوں اندازہ نہیں ہوا تمہیں”
زین حور کے گالوں کو اپنی انگلیوں سے چھوتے ہوئے گردن تک لایا
حور زین کی حرکت پر بدک کر پیچھے ہٹی اور گھور کر زین کو دیکھنے لگی جبکہ دوسری طرف خضر لب بیچ کر رہ گیا
“حور سے زیادہ پیار جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ جو اس دن تم نے ریسٹورنٹ میں اس کے ساتھ کیا تھا وہ تماشہ دنیا نے دیکھا تھا اور مجھے بھی ابھی تک یاد ہے”
“کیا ہے نا خضر میں اپنی بیوی کے معاملے میں بہت زیادہ ٹچی ہو،،، اسے اگر ہوا بھی چھو کر گزر جائے نا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔اور تمہیں تو میں صرف اس لیے بخش دیتا ہوں کہ تم اس کے کزن ہو،، یقین جانو تم خوش قسمت ہو کہ اس دن ریسٹورنٹ سے اپنے پیروں پر چل کر گھر گئے اور یاد تو تم ابھی بھی بہت کچھ رکھنے والے ہو”
یہ کہتے ہوئے زین نے اچانک حور کو اپنی طرف کھینچا اور ایک سیکنڈ بھی لگائے بغیر وہ حور کے چودہ طباق روشن کر چکا تھا۔۔۔ حیرت اور بے یقینی سے حور کی آنکھیں پھٹی کی پٹھی رہ گئیں اور دوسری طرف 14 طباق تو خضر کے بھی روشن ہو چکے تھے مگر وہ صرف سرخ چہرے کے ساتھ مٹھیاں بیچ کر رہ گیا
“آئسکریم کا ٹیسٹ بالکل اچھا نہیں تھا خیر رات میں کال کروں گا پک کر لینا”
آئس کریم کا ٹیسٹ اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے ہوئے وہ حور کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے بولا
حور ابھی بھی آنکھیں پھاڑے ہوئے زین کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی زین نے اس کو دیکھ کر شرارت سے اپنی ایک آنکھ دبائی اور مسکرا دیا اور جانے سے پہلے سے خضر کی طرف مڑا
“جب تک یہ یہاں پر موجود ہے تو اپنی بہن کا خیال رکھنا”
وہ جاتے جاتے بھی خضر کو مزید سلگانہ نہیں بھولا
زین کے جاتے ہی حور نے بھی خضر کو دیکھے بناء اندر کی طرف دوڑ لگادی اسے اب زین کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا
“اف میرے خدا یہ شخص تو میرے جانے کے بعد فل ٹائم بے ہودگی پر اتر آیا ہے،، توبہ ہے خضر بھائی کے سامنے ہی۔۔۔۔۔” آگے کا منظر سوچ کر حور کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہوگیا
“اف کیا سوچ رہے ہوں گے خضر بھائی بھی،، ان کے سامنے جاتے ہوئے کتنی شرم آئے گی۔۔۔۔۔ بلکہ سامنا ہی نہیں کروں گی اب میں ان کا”
اور شاید یہی اس کا شوہر بھی چاہتا تھا
*****
زین صبح آفس پہنچا تو ماحول میں عجیب سے تناؤ کا احساس ہوا۔ بلال اور اشعر دونوں ہی چپ تھے دونوں ہی اس کی بات کا جواب سرسری انداز میں دے رہے تھے اور ایک دوسرے کو بالکل بھی مخاطب نہیں کر رہے تھے
“کیا پرابلم ہے تم دونوں کے ساتھ”
کافی دیر دیکھنے کے بعد آخرکار زین نے دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“کوئی پرابلم نہیں ہے یہ فائل صدیقی صاحب کو دینے جا رہا ہوں تاکہ شام تک اس کی ڈیٹیلز مل جائیں”
فائل لے کر بلال روم سے باہر چلا گیا
“کیا بات ہوئی ہے آشعر! تم دونوں کے درمیان”
زین نے اشعر سے پوچھا
“بس یار جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہوگیا”
اشعر نے مایوس لہجے میں کہا
“یہ پہیلیاں کم بوجھاو اور کام کی بات پر آو فورا”
زین نے سگریٹ ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا
“ہونا کیا تھا کل اس سالے کو پتہ چل گیا کہ میں اسے سالا بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔ تب سے خونخوار نظروں سے مجھ معصوم کو گھورے جا رہا ہے”
اشعر کے لہجے سے ابھی بھی مایوسی کم نہیں ہوئی تھی
“اور تمہارے اس کارنامے کا اس کو معلوم کیسے ہوا”
زین نے لائٹر جلاتے ہوئے کہا
“اپنی ہونے والی شریک حیات سے اس کی مرضی اور رائے جاننے کے لیے اس کو ملنے گیا تھا پتہ نہیں یہ وہاں کہاں سے ٹپک پڑا”
اشعر نے ٹھنڈی آہ بھری
“ہاہاہا تو یہ بات ہے”
زین نے ہنستے ہوئے کہا
“تم ہنس رہے ہوں ظالم انسان یہاں میری بینڈ بجی ہوئی ہے”
اشعر نے تپتے ہوئے کہا
“شکر کرو بینڈ اس نے تمھاری بجائی نہیں صرف گھورنے پر ہی انحصار کیا ہے بائی داوے آپ کی ہونے والی شریک حیات کا کیا خیال ہے آپ کے بارے میں”
زین نے مسکراتے ہوئے سگریٹ کا دھواں منہ سے چھوڑا
“شکر ہے یار اس کے خیالات میرے بارے میں نیک ہیں۔۔۔۔ اپنے کھڑوس بھائی کی طرح نہیں”
اشعر نے تانیہ کا چہرہ یاد کرتے ہوئے مسکرا کر کہا
“ہہمم تو یہ معاملہ ہے سارا”
زین نے اشعر کو دیکھتے ہوئے کہا
“ہاں یہ بات ہے ساری جبھی تو مجھ سے صحیح طرح اداس بھی نہیں ہوا جا رہا”
اشعر کے لہجے میں ایک امید تھی جیسے وہ بلال کو منا لے گا
*****
“بھائی پانی”
بلال کے آفس سے آتے ہی تانیہ ہمت کرکے پانی کا گلاس بلال کے سامنے لے کر آئی۔۔۔۔ کل جب بلال اس کو گھر لے کر آیا تھا تو وہ اس کے بعد سے کمرے سے نہیں نکلی تھی فضا کے پوچھنے پر بھی طبیعت خرابی کا بہانہ بنا دیا مگر اس طرح چپ رہنے کا مطلب اپنے آپ کو مجرم ثابت کرنا تھا۔۔۔۔۔ اس لیے اس نے بلال سے بات کرنے کا سوچا
“بھائی آپ پلیز میری بات سنیں”
بلال اٹھ کر جانے لگا تو ایک دم تانیہ سامنے آکر بولی
“کوشش کرو کہ اپنی شکل مجھے نہیں دکھاو”
بلال تانیہ کو بول کر ٹھہرا نہیں کمرے سے باہر نکلنے لگا مگر سامنے کھڑی فضا کو دیکھ کر ایک لمحے ٹھٹکا پھر وہاں سے چلا گیا
فضا نہ سمجھی سے بلال کو دیکھنے لگی کمرے میں آئی تو تانیہ کو روتے ہوئے دیکھا
“تانی کیا ہوا ہے”
فضا نے تانیہ کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا
“بھائی مجھ سے ناراض ہیں فضا وہ مجھ سے بات تو دور کی بات میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہ رہے ہیں،، جب کہ میری کوئی غلطی نہیں تھی”
فضا کے گلے لگتے ہی تانیہ نے رونے میں مزید شدت آگئی
“بات کیا ہوئی ہے تم دونوں بہن بھائیوں کے درمیان مجھے کچھ بتاو تو سہی”
فضا کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا تانیہ نے کل والا سارا واقعہ فضا کو سنایا
“ہہمم تو یہ بات ہے” فضا نے سن کر کچھ سوچتے ہوئے کہا
“میری بس یہ غلطی تھی فضا میں اس وقت اشعر کے کہنے پر ان کے ساتھ چلی گئی۔۔۔۔ مگر اس سے پہلے یا اس وقت بھی میں نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے بھائی کا سر جھکے”
تانیہ نے روتے ہوئے کہا
“افوہ یہ رونا بند کرو اپنا میں تمہیں جانتی نہیں کیا جو مجھے وضاحتیں دے رہی ہو اور اپنے اس سڑے ہوئے بھائی کے رویہ کو سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس کا بس چلے وہ تو ہواؤں کی بات تو کا بھی برا مان جائے تم اس سمت کیوں چل رہی ہو”
فضا نے بلال کی نکل اتارتے ہوئے کہا
“ویسے ایک بات ہے تانیہ اشعر بھائی ہے تو بڑے ڈیشنگ بہت زیادہ پیارے لگو گے تم دونوں ایک ساتھ”
فضا نے خوش ہوتے ہوئے تانیہ سے کہا
“نہیں فضا ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا میں بھائی کو مزید ناراض نہیں کرسکتی اور اشعر کو خود ہی منع کر دوں گی کہ وہ اپنی مدر کو ہمارے گھر نہ بھیجیں”
تانیہ نے افسردگی سے کہا
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا اگر کوئی بھی ایسی بیوقوفی کی نا تم نے تو سچ مچ پٹو گی میرے ہاتھوں سے اور تمہارے اس سڑے ہوئے بھائی کو آنے دو،، آج دو دو ہاتھ کرتی ہوں اس سے میں۔۔۔۔ سمجھتا کیا ہے وہ خود کو،، اپنی اسٹوری میں تو خود ولن بنا ہی اور اب بہن کی اسٹوری میں بھی وہی کردار ادا کر رہا ہے”
فضا نے غصہ میں بھناتے ہوئے کہا
“نہیں فضا تم بھائی سے کچھ نہیں کہو گی اس معاملے میں۔۔۔۔ اس معاملے کو زیادہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، بات یہی ختم ہوجائے گی یہی بہتر ہے”
تانیہ نے اٹھتے ہوئے کہا
“میری بات غور سے سنو تانیہ اگر تم نے اشعر بھائی کو فون کرکے کچھ بھی بولا تو تم اشعر بھائی کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ بھی زیادتی کروگی اور رہی بات تمہارے بھائی کی تو تم اس کی فکر نہیں کرو مجھ پر بھروسہ رکھو میں تمہارے ساتھ کبھی بھی زیادتی نہیں ہونے دوں گی”
فضا سنجیدہ لہجے میں اس کو یقین دلایا
“مگر فضا تم نہیں جانتی وہ بھائی”
“ارے چھوڑو اس وقت بھائی وہای کو،، بھوک لگ رہی ہے کھانا کھاؤ چلو میرے ساتھ۔۔۔ ماموں کو بھی دوا دینی ہے پھر”
فضا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
*****
“ابو مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے”
خضر نے اسٹیڈی میں آتے ہوئے ظفر مراد سے کہا
“ہاں بولو میں سن رہا ہوں”
انھوں نے مصروف انداز میں جواب دیا
“آپ نے تو اسے بڑے دعوے سے کہا تھا کہ آپ زین سے سب کچھ واپس چھین لیں گے حور اور ساری رقم جو اس نے ہم سے چھینی ہے وہ سب واپس لے لیں گے”
خضر نے ظفر مراد کو یاد دلاتے ہوئے کہا
“وہ سب مجھے یاد ہے آگے بولو”
ظفر مراد نے خضر سے بولا
“تو پھر اس معاملے کو اتنا تول کیوں دے رہے ہیں،، جو بھی کچھ کرنا ہے کرکرا کے فارغ کریں وہ زین روز یہاں پر آجاتا ہے مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا”
خضر کو آج شام والا منظر یاد آیا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی
“کوئی تول نہیں دیا میں نے اس معاملے کو بہت سمجھ داری سے قدم اٹھانا پڑتا ہے ایسے معاملوں میں جلد بازی میں صرف نقصان کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔۔ میں نے کہا تھا نہ حور اور پیسہ سب واپس اس گھر میں آئے گے حور آگئی ہے اور اب بس پیسہ واپس لانا ہے اپنا،،،،، اس پر حور کے سائن ہونے کے بعد ہی ہمہیں اگلا قدم اٹھانا ہے” ظفر مراد نے پیپر خضر کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا
“کیا ہے ان پیپرز میں”
خضر نے ظفر مراد سے پوچھا
“یہ تم خود ہی دیکھ لو”
ظفر مراد نے پیپرز خضر کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا خضر نے ایک نظر پیپرز کو دیکھا اور پھر ظفر مراد کو
“کیا حور ان پیپرز پر سائن کرے گی” خضر نے ظفر مراد سے سوال کیا
