Itni Mohabbat Karo Naw (Part 1) by Zeenia Sharjeel NovelR50412 Itni Mohabbat Karo Naw Episode 17
Rate this Novel
Itni Mohabbat Karo Naw Episode 17
Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel
حور اور زین ولیمے کی تقریب میں پہنچے بلال سے ریسپشن پر ملاقات ہوئی فضا ولیمے کی دلہن بن کر بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ حور تانیہ سے باتیں کر رہی تھی اچانک اسے اپنی طبیعت بوجھل سی محسوس ہو رہی تھی بلکہ صبح سے ہی وہ اپنی طبیعت میں بوجھل پن سا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اس نے زین سے گھر چلنے کے لئے کہا
“خیریت کیا ہوا تمہیں”
اس نے حور کا زرد پڑھتا ہوا چہرہ دیکھ کر کہا
“مجھے کچھ اچھا فیل نہیں ہو رہا”
حور نے جواب دیا
“اوکے چلو پھر گھر چلتے ہیں”
زین نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
مگر جیسے ہی حور کھڑی ہوئی اسے زور سے چکر آیا اس سے پہلے وہ گرتی زین نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا
“کیا ہوا حور تم ٹھیک ہو”
زین نے فکرمندی سے پوچھا
تانیہ اور شازیہ کے علاوہ اشعر اور بلال بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے
“نہیں میں ٹھیک ہوں آنکھوں کے آگے اندھیرا سا آگیا تھا مگر اب ٹھیک ہے” اس نے سب کی نگاہیں اپنے اوپر مرکوز ہوتے ہوئے دیکھ کر کہا
“مجھے لگتا ہے ہمیں چلنا چاہیے”
زین نے بلال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“ہاں میرا بھی خیال ہے تم لوگ نکلو”
بلال نے زین کی بات کی تائید کی
“بیٹا کسی ڈاکٹر کو دکھاتے ہوئے گھر جانا”
شازیہ نے مشورہ دیا
“جی آنٹی”
زین نے جواب دیا
سب سے اجازت لے کر حور کو سہارا دیتے ہوئے وہ گاڑی تک لے کر آیا
“تم ٹھیک ہو حور” گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے زین نے ایک نظر حور پر ڈالتے ہوئے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں زین بس طبیعت تھوڑی ڈل ہو رہی ہے نیند لونگی تو فریش ہو جائے گی”
حور نے اپنے طور پر زین کو مطمئن کرنا چاہا مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکی
زین نے گاڑی ایک کلینک کے پاس روکی
“مجھے لگتا ہے ہمہیں چلنا چاہیے” حور نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا
“میرا خیال ہے آنٹی ٹھیک کہہ رہی تھیں چیک اپ کروا لینا چاہیے۔۔۔ میں مطمئن ہو جاؤں گا شاباش اترو”
زین نے اپنی طرف کا ڈور کھولتے ہوئے حور سے کہا
ڈاکٹر کے چند سوالات کے بعد اس کا ایک ٹیسٹ کروایا مبارکباد کے ساتھ گڈ نیوز سنائی
اس خبر سے دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خوش تھے زین کو اپنی خوشی اور فیلینگ کا اظہار سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس انداز میں کرے جبکہ حور اپنی جگہ نظریں جھکائے بیٹھی ہوئی تھی حیا کا رنگ اس کے چہرے پر واضح تھا جو زین کو بہت اچھا لگ رہا تھا ان دونوں نے خاموشی سے گھر کا راستہ طے کیا۔۔۔۔۔ گھر پہنچ کر حور ڈریس چینج کرنے کے ارادے سے کپڑے لے کر اٹھیں تو زین نے اس کو روک کر بیڈ پر بٹھایا اور ہاتھ تھام کر کہنے لگا
“میں آج بہت خوش ہوں تم جانتی نہیں ہوں تم نے میری زندگی کو کتنا حسین بنا دیا ہے میں اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت انسان تصور کرنے لگا ہوں۔۔۔۔ تم نے آج مجھے اتنی بڑی خوشی دی ہے اس کے لئے تھینکس بہت چھوٹا لفظ ہے”
زین نے حور کا ہاتھ اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے کہا
حور نے مسکراتے ہوئے زین کو دیکھا
“اور سنو مجھے بیٹی چاہیے بالکل پری جیسی”
وہ اس کا بلش ہوتا ہوا چہرہ دیکھ کر مزید گویا ہوا
دونوں ہی مستقبل کے حسین تصور میں کھوئے ہوئے تھے یہ جانے بغیر کے آنے والے وقت کو کسی کو نہیں پتہ ہوتا
*****
فضا روم میں آکر ڈریس چینج کرنے کے ارادے سے اٹھی ہی تھی کہ بلال روم میں آگیا
“کیسی ہو”
بلال نے فضا کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
“جیسی لگ رہی ہوں ویسی ہی ہوں”
اس نے سیدھا جواب تو بلال کو دینا سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔ ۔ فضا وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی
“یعنی بہت حسین” بلال نے فضا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
“پلیز بلال ڈرامے بند کرو اپنے”
اس نے بلال کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا
“اوکے مگر اتنی جلدی چینج کیوں کر رہی ہوں ابھی تو میں نے سہی سے دیکھا بھی نہیں”
اس نے فضا کا ہاتھ سے کپڑے لیتے ہوئے کہا
“میں نے ابھی ابھی کہاں تھا اور پھر کہہ رہی ہوں ڈرامے بند کرو”
فضا نے اس کے ہاتھ سے اپنا ڈریس لیا اور آگے بڑھ گئی
دھلے ہوئے چہرے کے ساتھ کپڑے چینج کرکے فضا روم میں واپس آئی تو بلال ویسے ہی کھڑا تھا
“مجھے پتا ہے فضا تم مجھ سے ناراض ہو حق بنتا ہے تمہارا۔۔۔۔ مگر تم خود سوچو، اپنے اپکو میری جگہ پر رکھ کر تو تمہیں خود اندازہ ہوگا”
وہ اسے رسانیت سے سمجھانے لگا
“مجھے اس بارے میں یا کسی بھی بارے میں کوئی بھی بات نہیں کرنی ہے” فضا نے اپنا تکیہ اٹھایا اور صوفے پر رکھا
“اوکے مگر یہ تو قبول کر لو تمہارے لیے لایا ہوں منہ دکھائی”
بلال نے ایک ڈبہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“جہاں ہمدردی میں رشتے جوڑے جائیں وہاں یہ تکلفات ضروری نہیں ہوتے” اس نے ڈبے پر اک نظر ڈال کر بولا اور تکیہ سیٹ کرکے لیٹ گئی
بلال نے ڈبہ دراز میں رکھ دیا اور ڈریس لے کر خود بھی چینج کرنے لگا
*****
صبح حور کی آنکھ کھلی تو زین پہلے سے ہی اٹھا ہوا تھا حور کچن میں جاکر ناشتے کے لئے چائے کا پانی رکھنے لگی
“کیا ضرورت تھی اٹھنے کی ڈاکٹر نے ریسٹ کرنے کو کہا تھا نہ تمہیں”
وہ شاید حور کو اٹھتا ہوا دیکھ کر جلدی میں آگیا منہ پر شیونگ کریم لگی ہوئی تھی
حور نے اس کو مسکرا کر دیکھا پھر اس کو شرارت سوجی اس نے چائے کا پانی کے چند چھیٹے لے کر زین کے اوپر چھڑکیں۔۔۔۔ جو اس کے پیچھے ہونے کے باوجود بھی منہ اور شرٹ پر آئے۔۔۔۔ حور ہنسنے لگی زین نے ابرو اچکا کر حور کو دیکھا
“اب تم کیسے بچو گی مسسز”
وہ حور کے قریب آیا اور بھاگنے کا موقع دیئے بغیر پکڑ کر شیونگ کریم والا منہ حور کے منہ پر رگڑا
“نہیں زین پلیز نہیں”
جب تک حور کچھ بولتی وہ اپنی کاروائی مکمل کر چکا تھا
حور کا منہ شیئونگ کریم سے سج چکا تھا
“اللہ بچائے تم سے تو، بس شروع ہو جایا کرو”
زین کو پیچھے کرتے ہوئے منہ بنا کر حور نے کہا
“سویٹ ہارٹ شروع تم ہوئی ہوں آج صبح صبح”
زین سامنے پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر حور کا منہ صاف کرنے لگا۔۔۔ اس طرح ٹشو سے منہ صاف کرنے پر اس کو “شاہ” یاد آیا، حور زین کو دیکھنے لگی
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہوں”
زین چاہتا تھا وہ اسے خود سے شاہ کا پوچھے یا بتائے، اس پر اعتبار کرے
“نہیں کچھ نہیں جاو منہ دھوکر آو ناشتہ ریڈی کرتی ہوں”
حور نے کیبنٹ سے کپ نکالتے ہوئے کہا
“زین کو شاہ کے بارے میں بتاؤں کیا پتہ زین کو یہ ذکر پسند نہ آئے ویسے بھی اس نے یہ باور کرایا ہے کہ اسے کسی تیسرے کی مداخلت برداشت نہیں”
پیار کا رشتہ ان دونوں کے درمیان قائم ہو گیا تھا مگر شاید اعتبار کا رشتہ قائم ہونا ابھی باقی تھا
“ناشتہ ریڈی ہے زین آجاؤ”
حور نے بیڈ روم کے دروازے سے جھانکتے ہوئے کہنے لگی
ویسے ہی موبائل کی رنگ ٹون بجی
لگتا ہے تمہاری ماما کی کال آگئی ہے” زین نے ڈریسر کے سامنے بال بناتے ہوئے بولا
“اتنی صبح صبح” حور کہتے ہوئے اپنے موبائل کی طرف بڑھی مگر ماما کی جگہ خضر کا نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئی
“خضر بھائی کو میرا نمبر کس نے دیا”
اس نے جلدی سے کال ڈسکنیکٹ کرکے موبائل off کیا
“کیا ہوا بات نہیں کی ماما سے”
زین نے حور کی طرف آتے ہوئے پوچھا
“ابھی بھوک لگ رہی ہے بعد میں کروں گی بات ناشتہ کرکے سکون سے” حور نے مسکراتے ہوئے نارمل انداز میں کہا اور روم سے چلی گئی اس کے پیچھے زین بھی روم سے نکل گیا
****
خضر نے موبائل کی طرف دیکھا اس کی کال کاٹ دی گئی تھی اس نے دوبارہ نمبر ٹرائی کیا تو سیل off تھا اس کا موڈ خراب ہو گیا۔۔۔
“شاید زین نے یہ حرکت کی ہو پر یہ بھی ہوسکتا ہے حور نے میری کال کاٹ دی ہو اور موبائل off کر دیا ہو۔۔۔۔۔ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے کیوں نہیں کرسکتی ہوں زین کے ڈر سے ایسا کر سکتی ہے۔۔۔۔ چلو کال نا سہی اب جاکر ہی ملاقات کرنا پڑے گی
******
زین کے آفس جانے کے بعد وہ سارا دن یہی سوچتی رہی کہ خضر بھائی کو کیسے منع کرے آخر وہ خود کیوں نہیں سمجھ جاتے ہیں۔۔۔۔
“کیا مجھے ان سے بات کرنی چاہیے نہیں نہیں اگر زین کو پتہ چل گیا تو؟ اس کے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن تھی اس کے دماغ کے ساتھ ساتھ دل نے بھی زین کو اور اس سے جڑے رشتے کو قبول کر لیا تھا۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ زین کے اور اس کے درمیان کسی بھی قسم کی تلخ کلامی ہو اب تو ایک نئی وجہ بھی آ گئی تھی جو اسے زین سے مزید محبت کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
زین ہر لحاظ سے بہت اچھا شوہر ثابت ہوا تو لونگ کیئرنگ مگر ایک چیز جو اس میں بری تھی وہ اس کا غصہ تھا۔۔۔۔ خیر پرفیکٹ تو کوئی بھی انسان نہیں ہوتا حور کے سوچوں کا دھارا خضر سے دوبارہ زین کی طرف آگیا
زین آفس سے گھر آیا تو حور ٹیرس میں موجود سوچوں میں گم تھی اسے زین کے آنے کا احساس ہی نہیں ہوا
“کیا سوچا جارہا ہے”
زین نے حور کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے کان میں سرگوشی کی
“تم کب آئے؟ آج جلدی آ گئے آفس سے”
حور اس کے حصار میں آنے سے چونکی یا ڈری نہیں بلکہ اب وہ اس کے لمس کو پہچانتی تھی اور شاید اس کی عادی بھی ہو گئی تھی
“ہاں آج جلدی آگیا۔۔۔ تمہارا سیل کیوں آف ہے دوپہر سے؟ کب سے کال ملا رہا تھا”
زین اس کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“بیٹری لو ہوگئی ہوگی چارج پر لگا دیتی ہوں، تم فریش ہو کر آؤ میں چائے لے کر آتی ہوں”
حور بات بناتے ہوئے زین سے الگ ہوئی
“حور کیا ہوا ہے کوئی بات ہے؟ اگر کوئی بات ہے تو تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہوں”
حور جانے لگی تو زین نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر غور سے حور کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا
“نہیں کوئی بات نہیں ہے بس ویسے ہی طبیعت ڈل سی ہو رہی ہے”
اف اک تو اس انسان کی آنکھوں کی جگہ ایکسرے فٹ ہے فورا ہی پتہ لگا لیتا ہے
“چائے رہنے دو چلو باہر چلتے ہیں میں کال بھی اس لئے کر رہا تھا تاکہ تمہیں بتا دو گائناکالجز سے تمھارا اپائنمنٹ لیا ہے اچھا ہے پراپر چیک اب ہو جائے گا۔۔۔ پھر وہاں سے اماں کے پاس ہسپتال چلے گیں، تم اپنی ساس سے مل لینا اور پھر تمھاری ماما کی طرف چلیں گے، تو پھر میں اپنی ساس سے مل لوں گا۔۔۔ کیا خیال ہے” زین پورا پلان بناتے ہوئے آخر میں حور سے اپنا مشورہ مانگا
“تم میری ماما سے ملو گے”
حور نے حیرت سے پوچھا
“اگر تم ملوانا چاہو تو ضرور”
زین حور کے گال چھوتے ہوئے بولا، وہ اس کو خوش دیکھنا چاہتا تھا اور اس کی خوشی کے لئے اتنا تو کر سکتا تھا
“تم ان سے ملو گے تو مجھے بہت اچھا لگے گا زین”
حور نے خوش ہوتے ہوئے کہا
“تو چلو شاباش جلدی سے ریڈی ہو جاؤ”
زین نے کاوچ پر بیٹھتے ہوئے ٹی وی آن کرلیا
****
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد ٹیسٹ لکھے اور چھوٹی عمر اور ارلی پریگنینسی کی وجہ سے احتیاط بتائی۔۔۔ وہاں سے زین حور کو نادیہ بیگم کے پاس لے کر آیا وہ حور کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی بہت ساری دعائیں دی۔۔۔ خوشخبری کا پتہ چلا تو بہت ساری احتیاط کا کہا اور زین کو اس کا خیال رکھنے کی تلقین کی
اسماء چونکہ اپنے بھائی کے گھر تھی ایڈریس لے کر حور اور زین وہاں پہنچے وہاں بہت خوش دلی سے ان کا استقبال کیا گیا حور کے ماموں زین سے ان سے بہت اچھے طریقے سے ملے۔۔۔سیاست اور دوسرے موضوعات پر باتوں کے ساتھ اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا۔۔۔ آسماء بھی مطمئن ہو گئی آج اسے زین پہلی ملاقات کی بانسبت بہت اچھا اور سلجھا ہوا لگا، سب سے بڑھ کر اس کی آنکھوں میں حور کے لئے محبت اور کیئر دیکھ کر جو تھوڑے بہت وہم تھے وہ بھی جاتے رہیں۔۔۔ ایک اچھی شام گزار کا وہ لوگ سب کی دعاؤں کے ساتھ اپنے گھر سے روانہ ہوئے
****
“آج میں بہت خوش ہوں تھینکیو سو مچ”
حور نے بیٹڈ پر لیٹتے ہوئے زین سے کہا جو پاس ہی بیٹھ اپنے موبائل میں مصروف تھا
“تھینکس کس بات کا سویٹ ہارٹ خوش رہا کرو بس اور احتیاط کرو جس چیز کا ڈاکٹر نے کہا ہے”
زین نے موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے
حور سے کہا
“زین تمہیں مجھ سے محبت کب ہوئی”
حور نے اچانک سوال کیا
“جب تمہیں پہلی بار دیکھا شاید تب ہی ہو گئی تھی”
زین نے کچھ سوچتے ہوئے مسکراتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ جواب دیا
“وہاں پر جب ہسپتال میں تو مجھ سے ٹکرائے تھے۔۔۔ مگر اس کے بعد تو تم جب بھی مجھے ملتے ڈراتے رہتے بلکہ اچھا خاصا ڈرایا تم نے مجھے۔۔۔ ایسے بھی کوئی محبت کرتا ہے بھلا”
حور نے پہلی ملاقات کے بعد ساری ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا
“ہسپتال میں ہماری پہلی ملاقات نہیں ہوئی تھی اور اس وقت ہسپتال میں بھی تم مجھ سے ٹکرائی تھی میں تم سے نہیں۔۔۔۔ میں کوئی ڈراتا تھوڑی تھا وہ تو صرف اپنا حق جتاتا تھا اور یہ بات صحیح کہی بالکل بدتمیز میں واقعی بہت ہوں” زین نے حور کے گلے میں موجود دوپٹہ اتار کر ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا
“اگر اسپتال میں ہماری پہلی ملاقات نہیں ہوئی تو پھر کہاں ہوئی ہماری پہلی ملاقات”
حور کا دماغ اسی بات پر اٹک گیا تو زین سے پوچھنے لگی
“یہ میں تمہیں نہیں بلکہ تم مجھے سوچ کر بتاؤں گی”
زین برابر میں لیٹتے ہوئے بولا
“مجھے تو یاد پڑتا ہیں ہم پہلی دفعہ اسپتال میں ہی ملے تھے اس سے پہلے کا تو مجھے کچھ یاد نہیں پڑتا”
حور نے سوچتے ہوئے بولا
“دماغ پر زور ڈالو شاید کچھ یاد آجائے”
زین اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پہ لگاتے ہوئے بولا
“نہیں ہمارا پہلا ٹکراؤ اسپتال میں ہوا تھا اور اس کے بعد تم نے ہمیشہ مجھے ڈرانے کی ٹھانی تھی”
حور نے بات ختم کی
“تو اب ڈر نہیں لگتا تمہیں مجھ سے” زین نے کہنی کے بل بیٹھتے ہوئے حور سے پوچھا
“نہیں اب تو بالکل بھی نہیں لگتا”
حور نے بہادر بنتے ہوئے بولا
“جبکہ لگنا تو چاہیے”
زین اس کے اوپر جھکتے ہوئے بولا اور ایک معصوم سی شرارت کر کے دور ہٹا
“ایسے ہی نہیں میں تمہیں فضول انسان کہتی”
حور نے گھور کر کہا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی
*****
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میٹنگ ختم ہوئی تھی تو وہ تینوں اپنے روم میں آئے تھے اسی کے متعلق پوائنٹ ڈسکس کر رہے تھے کہ پی اے کی کال آئی۔۔۔ بلال نے ریسیو کی
“سر کوئی فیصل نامی بندہ شاہ زین سر سے ملنا چاہتا ہے”
پی اے نے بلال کو بتایا
“ٹھیک ہے اس کو اندر بھیج دو”
بلال نے پی اے کو جواب دے کر فون رکھا
“السلام علیکم سر کیسے ہیں اپ لوگ”
فیصل نے روم میں آتے ہی مہذب انداز اپناتے ہوئے سلام کیا
“تم۔۔۔ تم یہاں کیوں آئے ہو”
زین نے حیرت سے اسے دیکھا اس کی پیشانی پر فیصل کو دیکھ کر بل پڑ گئے
“سر میرا موبائل چوری ہو گیا تھا اس لئے فون پر کانٹیکٹ نہیں کر سکا آپ دونوں سے، یہ دینے آیا ہوں”
فیصل نے ایک اینولپ آگے بڑھاتے ہوئے کہا
“ٹھیک ہے فیصل تم اس وقت جاؤ ہم بعد میں بات کرتے ہیں”
اشعر نے جلدی سے آگے بڑھ کر اینولپ فیصل سے لیتے ہوئے کہا
“مگر اس میں کیا ہے”
بلال نے تجسس سے پوچھا
“بلال کو صاف محسوس ہوا زین اور اشعر صاف کچھ چھپا رہے ہیں تھے۔ ۔۔۔ اس کے سامنے فیصل سے بات نہیں کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔ کہیں کچھ گڑ بڑ تھی
“سر یہ اس لڑکے کے کچھ کاغذات رہ گئے ہیں جسے چند گھنٹوں کے لئے۔۔۔۔” فیصل بلال کو بتانے لگا تھا
“تمہیں سنائی نہیں دے رہا اشعر نے کیا کہا ہے۔۔۔ بعد میں بات ہوگی جاو ابھی”
زین فیصل کی بات کاٹتے ہوئے بولا
“اوکے سر مائنڈ کیوں کر رہے میں تو اس لئے دینے آیا ہوں کہیں کوئی ضروری کاغذات نہ ہو اور آپ کے کچھ کام آ جائیں چلتا ہوں”
فیصل منہ بناتے ہوئے وہاں سے چلا گیا اشعر اور زین نے سکھ کا سانس لیا
“کیا ہو رہا ہے یہ سب اور کیا چھپا رہے ہو تم دونوں مجھ سے”
بلال نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا
“ارے کچھ نہیں یار تھوڑے دن پہلے کام پڑ گیا تھا اس سے اسی سلسلے میں آیا تھا”
اشعر نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا
“بات کو ٹالو نہیں اشعر۔۔۔ کونسا کام پڑ گیا تھا فیصل سے جب کہ ہم تینوں ہر وہ کام چھوڑ چکے ہیں۔۔۔ جس کی وجہ سے ہمیں فیصل کی مدد لینا پڑے، تو اب ایسا کونسا کام پڑ گیا تھا؟؟ تم دونوں مجھ سے کیا چھپا رہے ہو”
اب کے بلال نے زین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“یار بلال ایسی کوئی بات نہیں ہے تم کیوں بات کی کھال نکال رہے ہو بلاوجہ۔۔۔۔ ہم دونوں تم سے بھلا کچھ کیوں چھپائیں گے”
زین کی لمبی چوڑی وضاحت بھی بلال کو مطمئن نہ کر سکی
ٹھیک ہے یہ اینولپ مجھے دکھاؤ کیا ہے اس میں”
بلال نے اشعر کے ہاتھ سے انوولپ لیتے ہوئے کہا۔۔۔ اس کو کھول کر دیکھا تو اس میں کاغذات تھے جس میں ذیشان کا نام لکھا ہوا تھا۔۔۔ صرف دو سیکنڈ لگے اس کو ساری کہانی سمجھنے میں
بلال نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھا اور اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا
“اس دن جو بھی کچھ ہوا وہ سب کچھ تم دونوں کی کارستانی تھی”
بلال نے حیرت سے پوچھا
دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کوئی کچھ نہیں بولا
“تم لوگوں کو ذرا بھی احساس ہے کہ کتنا بڑا تماشہ لگایا ہے تم لوگوں نے” بلال نے اینوولپ پھینکتے ہوئے زین اور اشعر کو جھاڑا اور روم سے باہر نکل گیا
اشعر اور زین ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے
