365.4K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Itni Mohabbat Karo Naw Episode 11

Itni Mohabbat Karo Naw by Zeenia Sharjeel

زین کی آنکھ کھلی تو حور کمرے میں موجود نہیں تھی۔ وہ روم سے باہر نکلا تو کچن سے کام کرنے کی آوازیں آ رہی تھی۔۔۔۔ زین کچن کے اندر داخل ہوا تو حور کھانا بنانے میں مصروف تھی، اس کی پشت پر گیلے بال کھلے ہوئے تھے جو اس کی کمر کو چھپا رہے تھے

“کیا ہو رہا ہے”

زین حور کے قریب جاکر بال سائڈ میں کرتا ہوا حور کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا۔۔۔۔ زین کے ہونٹ حور کے کان سے مس ہوئے تو وہ مزید خود میں سمٹ گئی

“کھانا بنا رہی تھی رات کے لیے”

حور نے جھجکتے ہوئے دھیمی آواز میں جواب دیا

“کچھ چاہئے تمہیں”

اس کے اتنے قریب کھڑے ہونے سے نروس ہو رہی تھی اس لئے خود سے ہی پوچھا

“ہاں چاہیے تو”

زین نے حور کے کندھے پر اپنی تھوڑی ٹکاتے ہوئے کہا

“چائے بنا دیتی ہوں”

حور نے اس سے پوچھا نہیں بلکہ خود ہی چائے کا کہا کیوں کہ اسے توقع تھی کہ وہ کوئی الٹا ہی جواب دے گا

“چائے نہیں تھوڑی سی چاہ چاہیے”

زین نے ہونٹوں سے اس کے گالوں کو چھوتے ہوئے کہا

زین کی اس حرکت پر حور ایک دم بدک کر پیچھے ہوئی تو حور کی پشت زین کے سینے سے ٹکرائی۔۔۔۔ زین حور کے بالوں میں شیمپو کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ حور انکھیں بند کر کے اپنے اپ کو نارمل کرنے لگی

“بیہودہ انسان”

حور نے زین کو دل ہی دل میں ایک اور لقب سے نوازا

****

مسعور صاحب کی خیریت پوچھنے زین بلال کے گھر پہنچا تو وہاں رضیہ خالہ (فضا کی امی) بھی موجود تھیں ان سے سلام دعا ہوئی تو باتوں ہی باتوں میں انہوں نے بتایا کہ

“فضا کے رشتے والے شادی جلد سے جلد چاہ رہے ہیں کیونکہ لڑکے کو باہر جانا ہے”

زین نے بے ساختہ بلال کو دیکھا وہ نظریں چرا کر سوتے ہوئے مسعود صاحب کو دیکھنے لگا

****

خضر ظفر مراد کے روم میں آیا

“مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے”

خضر سنجیدگی سے بولا

“ہاں پوچھو کیا پوچھنا ہے”

انہوں نے اپنی توجہ خضر کی طرف مرکوز کرتے ہوئے کہا

“زین نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا ابو”

خضر نے سوال کیا

“یہ بات تم اسی سے جاکر پوچھو میں نے تو سب کی جان بچانے کے لئے اسے اتنی بڑی رقم دے دی”

انہوں نے اپنی بات کو چھپاتے ہوئے برہمی سے خضر کو جواب دیا

“مجھے ان پیسوں سے کچھ بھی غرض نہیں لیکن مجھے حور واپس چاہیے”

خضر نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا

“یاد رکھو خضر وہ حور کو ایسے ہی سب کے سامنے سے لے کر نہیں گیا۔۔۔۔۔ باقاعدہ نکاح کیا ہے اس نے حور سے، اب تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی ضد چھوڑو، حور کو بھول جاؤ۔۔۔۔۔۔ تمہاری ماں اس دن صحیح کہہ رہی تھی”

انہوں نے بیٹے کے تیور دیکھتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی

“یہ ممکن نہیں ہے ابو، حور میری ہونے والی منگیتر تھی اس نے زبردستی چھینا ہے مجھ سے حور کو۔۔۔۔میں حور کو واپس اس گھر میں لاکر رہوگا”

خضر یہ بول کر رکا نہیں باہر چلے گیا

ظفر مراد اپنے بیٹے کو جاتا دیکھتے رہ گئے، وہ یہ نہیں بتا سکے کہ انہوں نے بھی ماضی میں زین اور اس کی ماں سے ان کا پیسہ اسی طرح چھینا تھا

****

بلال کمرے میں داخل ہوا تو فضا کو مسعود صاحب کے پاس بیٹھا دیکھ کر ٹھٹک گیا۔۔۔ وہ کافی کمزور اور بجھی بجھی دکھ رہی تھی بلال کے دل کو کچھ ہوا

“کیسی ہو”

بلال فضا کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“بہت خوش! دیکھ کر محسوس نہیں ہو رہا تمیں”

فضا نے تلخی سے جواب دیا

اس کی بات سن کر بلال چپ ہو گیا۔ اتنے میں تانیہ کمرے میں آئی

“یہ لو بھی فضا تم بھی گرما گرم شامی کباب کھاو اور بتاؤ کل یونیورسٹی جانے کا ارادہ ہے کہ نہیں”

تانیہ نے پلیٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

“نہیں کل یونیورسٹی کیسے آسکتی ہوں۔۔۔۔ آب تو مجھے اپنی شادی کی تیاریاں کرنی ہے ویسے بھی وقت بہت کم رہ گیا ہی شادی میں”

تانیہ کے ہاتھ سے فضا پلیٹ لیتے ہوئے بولی

تانیہ نے ایک نظر افسوس سے فضا کو دیکھا اور پھر بلال کو

“یہ لیں بھائی آپ بھی لیں آپ نے تو ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا”

تانیہ نے بلال کو دیکھتے ہوئے پلیٹ اس کی طرف بڑھائی

“نہیں تانیہ رہنے دو ابھی دل نہیں چاہ رہا”

بلال نے انکار کردیا

“پر بھائی کباب تو آپ کو بہت پسند ہیں نا”

“رہنے دو تانیہ مجبور لوگوں کی کوئی پسند ناپسند نہیں ہوتی”

جواب فضا کی طرف سے آیا

بلال نے ایک شکوہ بھری نظر فضا پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا

****

زین حور کے ساتھ اپنے نیو فلیٹ میں شفٹ ہو گیا یہ تین بیڈرومز کا ایک فرنشڈ اور کشادہ فلیٹ تھا۔۔۔۔اب اسے اشعر اور بلال کے ساتھ اپنے پلان کئے ہوئے بزنس کا آغاز کرنا تھا۔ اشعر کا بھی سرمایہ لگا ہوا تھا پارٹنرشپ کی بنیاد پر ان دونوں نے بزنس کا آغاز کیا بلال نے بھی اس میں بھرپور تعاون کیا۔ وہ تینوں اس برے کام کو چھوڑ کر اپنے نئے بزنس کو وقت دینے لگے۔ لیکن ایک آخری کام جو زین کے دماغ میں تھا وہ اسے انجام دینا تھا

****

خضر نے اپنے طور پر زین کا پتہ معلوم کروایا مگر اس کو جو ایڈریس ملا وہ اس کے پرانے گھر کا تھا تھوڑے دن پہلے ہی وہ کہیں اور شفٹ ہو گیا تھا

****

زین اسپتال سے نادیہ بیگم کو لے کر اپنے نئے فلیٹ میں آیا۔ انہوں نے حیرت سے زین کو دیکھا تو اس نے بتایا کہ اس نے اپنا بزنس اسٹارٹ کیا ھے۔ اور زین نے دوسرا سرپرایز حور کو سامنے لا کر دیا

“یہ حور ہے اماں آپ کی بہو”

حور نے بھی حیرت سے سامنے خاتون کو دیکھا پھر زین کو ۔۔ نادیہ بیگم نے حور کو اپنے پاس بلایا ، حور تھوڑا ہچکچائی پھر زین کے اشارے پر وہ نادیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ نادیہ بیگم نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما اور ماتھے پر پیار کیا

“بہت خوبصورت ہیں میری بہو بالکل اپنے نام کی طرح”

انہوں نے اپنے ہاتھوں سے دو سونے کی چوڑیاں (جو کہ مشکل وقت میں بھی سنبھال کر رکھی تھی) اتار کر حور کے ہاتھ میں پہنائیی

“یہ میں نے اب تک زین کی دلہن کے لیے سنبھال کر رکھی تھی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے، اللہ پاک تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے”

انھوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں کو دعا دی

حور نے زین کی طرف دیکھا تو وہ ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔حور کو زین کی امی بہت اچھی لگی۔ حور جب سب کاموں سے فارغ ہو کر بیڈ روم میں آئی تو زین ٹیرس میں کھڑا ہوا اسموکنگ کر رہا تھا۔۔۔۔ حور کو دیکھ کر روم میں آیا

“اماں کیا کر رہی ہیں”

زین نے حور کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“ابھی ابھی سوئی ہیں”

حور جواب دیکھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی

“تمہاری اماں بہت اچھی ہیں”

حور نے زین سے کہا تو زین مسکرانے لگا

“اور اماں کا بیٹا؟ وہ کیسا ہے”

زین قریب بیٹھتے ہوئے بولا

حور خاموش رہی

“کیا ہوا کافی مشکل سوال پوچھ لیا میں نے”

وہ حور کے ہاتھ میں موجود چوڑی کے ڈیزائن پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے بولا

زین حور کی دلی کیفیت سمجھ سکتا تھا۔۔۔ حور کی زندگی میں اتنا اچانک زین کا آ جانا، ایک نئے رشتے میں بن جانا۔۔۔۔ یہ سب حور کے لئے نیا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ جو اپنے اور حور کے رشتے کو ٹائم دے رہا تھا

“تمہاری اماں ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتی”

حور نے اس کے سوال کو نظرانداز کرکے دوسرا سوال کیا

“ان کے ہفتے میں دو دفعہ ڈائلیسس ہوتے ہیں اور اسپتال میں اچھی کیئر بھی ہو جاتی ہے”

زین بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا

“تمہاری اماں کو دیکھ کر مجھے میری ماما یاد آ رہی ہیں”

حور نے ڈرتے ہوئے بولا کیا پتا اسے غصہ ہی آجائے

“ملواو گا بہت جلدی ابھی تھوڑے دن صبر کر لو شیڈیول بہت بزی چل رہا ہے”

زین نے حور کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے نرمی سے کہا

زین کو اس بات کا احساس بھی تھا کہ حور کو آپنی آمی یاد آتی ہوگی مگر نیا بزنس ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کاموں میں الجھا ہوا تھا

****

صبح حور کی آنکھ کھلی تو اس نے برابر میں زین کی خالی جگہ کو دیکھا، وہ فریش ہو کر نادیہ بیگم کے کمرے میں آئی۔۔۔ تو زین نادیہ بیگم کو اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کروا رہا تھا۔ حور کو اپنے دیر سے اٹھنے پر شرمندگی ہوئی

“یہاں کیوں کھڑی ہو ادھر آؤ یہاں بیٹھو میرے پاس”

حور کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر نادیہ بیگم نے کہا زین نے بھی پلٹ کر دیکھا۔۔۔ حور آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی نادیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی، زین ناشتے کے خالی برتن اٹھا کر کچن میں چلا گیا

“میں آج بہت خوش ہوں زین کا میرے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ مگر اب تم آگئی ہوں میرے بیٹے کی زندگی میں، اس لئے میں آج مطمئن ہوں۔ اس کو کبھی بھی خود سے دور مت کرنا وعدہ کرو حور مجھ سے۔۔۔ وعدہ کرو ہمیشہ اس کے ساتھ رہوں گی اور اس کا خیال رکھوں گی”

وہ حور کا ہاتھ پکڑ کر کہہ رہی تھی حور نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اثبات میں سر ہلایا

وہ ان کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی مگر ساری زندگی کرمنل کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ جس نے اس سے زبردستی نکاح کیا ہے۔ ۔۔۔۔

“چلیے اماں دیر ہو رہی ہے”

زین پتا نہیں کب سے دروازے پر کھڑا ہوا تھا اس کی آواز پر حور کی سوچوں کا محور ٹوٹا

آج ثانیہ کی برات تھی حور آئینے کے آگے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔ زین کمرے میں داخل ہوا اس کی نظر حور پر پڑی وہ قریب آکر حور کا مکمل جائزہ لینے لگا۔ زین کی نظروں کی تپش سے، حور کے پھرتی سے بال بناتے ہوئے ہاتھوں کی رفتار میں کمی آگئی۔۔۔۔ زین نے حور کو کندھوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔ تھوڑی سے پکڑ کر چہرہ اونچا کیا دوسرا ہاتھ کمر کے گرد حائل کیا

“کیا ضرورت تھی مزید خوبصورت لگنے کی؟ اب کس کافر کا کہیں جانے کا دل چاہے گا”

وہ خمار آلود آواز میں کہتا ہوا حور کے اوپر جھکا

“زین نہیں پلیز”

حور اتنا ہی کہ سکی، زین نے اپنی شہادت والی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی “شش”

چند لمحوں کی خاموشی کو موبائل کی آواز نے ختم کیا زین پیچھے ہٹا اور کال ریسو کی

“کیا ہوا یار کب تک پہنچو گے”

دوسری طرف بلال تھا

“بس گھر سے نکلنے والے ہیں”

زین بلال سے بات کرتا ہوں واڈروب سے کپڑے نکالنے لگا۔

حور نے اپنی سانسوں کی روانی بحال کی۔۔۔۔ اور آئینے کے سامنے کھڑی دوبارہ لپ اسٹک لگاتے ہوئے بڑبڑانے لگی

“فضول انسان نہ ہو تو”

****

اشعر شادی ہال میں اینٹر ہوا وہ بلال کو ہی دیکھ رہا تھا جو سے کافی دور کھڑا کسی کام میں مگن نظر آ رہا تھا۔۔۔ بلال کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے لگا اچانک کسی سے زور دار ٹکر ہوئی

“اف میرے خدا کیا آنکھیں نہیں ہیں آپ کے پاس”

تانیہ جو کہ بڑے سے تھال اٹھائے چلی آ رہی تھی کی طرح اشعر سے ٹکرائی اور ہاتھ سے تھام چھوٹ گیا سارے گجرے نیچے بکھر گئے۔۔۔۔ گجرے اٹھاتے ہوئی جب سامنے نظر پڑی تو زبان کو بریک لگ گئی

“او آپ سوری میں نے آپ کو دیکھا نہیں”

تانیہ نے گجرے اٹھاتے ہوئے بولا

“سوری آپ کو نہیں مجھے کہنا چاہیے غلطی میری تھی، دراصل میرا دھیان بلال کی طرف تھا”

اشعر بھی نیچے جھک کر تانیہ کے ساتھ گجرے اٹھاتے ہوئے بولا

وہ پچھلے دنوں کی بانسبت آج میکپ کئے ہوئی تھی مگر اسکارف اپنی جگہ، آج بھی اس کی شخصیت کا وقار بڑھا رہا تھا

گجرے جب تھال میں ڈال دیے تو تانیہ شکر یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی مگر اشعر اب بھی اس کے شخصیت کے سحر میں کھویا ہوا تھا جب کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

“یہاں کھڑے کھڑے کیا سو گئے ہو تم” چونک کر اس نے زین کو دیکھا جو شاید ابھی آیا تھا حور بھی اس کے ساتھ تھی

“السلام و علیکم بھابھی کیسی ہیں آپ”

اشعر زین سے ملنے کے بعد حور سے حال احوال پوچھنے لگا

“جی الحمدللہ میں ٹھیک ہوں”

حور نے آہستہ سے جواب دیا

“ارے تم دونوں یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو”

بلال ان دونوں کو دور سے دیکھتے ہوئے قریب آیا

“آپ کیسی ہیں بھابھی آئیے آپ کو تانیہ اور رانیہ آپی سے ملواتا ہوں”

زین اور اشعر وہیں کھڑے تھے بلال حور کو لے کر تانیہ کے پاس آیا اور حور کا تعارف کروایا

“ارے اپ زین بھائی کی وائف ہیں اتنی کیوٹ سی”

تانیہ حور سے بہت خوش دلی سے ملی اور فضا رانیہ آپی سے بھی ملی۔ ۔۔۔سارا وقت تانیہ نے حور کو اپنے ساتھ ساتھ رکھا، حور کو بھی تانیہ بہت پیاری لگی

“ایسے بھی کوئی اپنی بیوی کو گھور گھور کے دیکھتا ہے بھلا”

زین کی نظریں جو حور پر تھی بلال نے زین کو دیکھ کر ٹوکا

“چلو میری نظریں تو اپنی بیوی پر ہی ہیں تم یہ بتاؤ تم کس خوشی میں یہاں وہاں دیکھ رہے ہو”

زین نے فضا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بلال پر چوٹ کی

“مجھے کیا ضرورت ہے بھلا یہاں وہاں دیکھنے کی”

بلال اپنی چوری پکڑے جانے پر گڑبڑایا

“میری ایک نظر اپنی بیوی پر ہے تو دوسری نظر اپنے دوستوں پر اس لئے مجھ سے زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں”

زین نے مزید بلال پر چوٹ کی تو بلال نے چپ رہنے میں ہی اپنی عافیت جانی۔ جبکہ دوسری طرف اشعر نے اپنی نگاہیں تانیہ سے ہٹا کر اپنے موبائل فون میں مرکوز کرکے احتیاط برتی

ثانیہ کی شادی بخیر خوش اسلوبی کے ساتھ ہوگی اور وہ رخصت ہو کر اسجد کے گھر چلی گئی

****

کپڑے چینج کرکے حور کی تھکن کے باعث فورا ہی آنکھ لگ گئی۔ جبکہ زین کافی دیر تک لیپ ٹاپ پر اپنا کام کرتا رہا کافی دیر بعد اس نے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا۔ حور کا بلنکٹ صحیح کر کے وہ بھی لیٹ گیا

صبح حور کی آنکھ کھلی پہلے تو وہ چھت کو دیکھتی رہی

“آج کتنا برا خواب دیکھا ہے میں نے، اللہ پاک ماما ٹھیک ہو بس”

وہ اداسی سے سوچنے لگی اور زین کو دیکھنے لگی

“کہا بھی تھا میری ماما سے میری بات کروا دو، مگر اپنے ہی کاموں میں بزی رہنا ہے۔۔۔۔ میری تو کوئی فکر ہی نہیں ہے”

حور نے شکوہ بھری نظر سوتے ہوئے زین پر ڈالی اور دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوئی

سائیڈ ٹیبل پر رکھے موبائل پر حور کی نظر گئی تو زہن میں ایک خیال سا آیا۔۔۔ کیو نہ ماما کو کال کر لی جائے ماما سے بات ہوجائے تو دل کو تسلی ہو جائے گی۔ زین تو گہری نیند میں سو رہا ہے اس کو کیا پتہ چلے گا یہی سوچ کر حور آرام سے اٹھی بلینکٹ ہٹایا اس نے دوپٹہ لینے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ زین کے نیچے دبا ہوا تھا بغیر دوپٹے اور بغیر سلیپرز کے زین کے سائڈ پر آئی، آہستہ سے موبائل اٹھایا جبکہ نگاہیں زین پر تھی دبے پاؤں موبائل لے کر وہ دوسرے روم میں آ گئی دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے موبائل ان لاک کیا اور گھر کا نمبر ملایا دوسری طرف بیل جا رہی تھی مگر کوئی کال نہیں اٹھا رہا تھا

یہ جرات بھی آج اس نے صرف ماما کو خواب میں روتا ہوا دیکھ کر کی۔ دوبارہ نمبر ٹرائی کرنے کے بعد بھی کوئی رسپانس نہیں آیا تو ہمت کرکے خضر کا نمبر ملایا کیوکہ وہی اس کو زبانی یاد تھا۔ اس وقت حور بھول گئی کہ وہ کتنے بڑے مسئلے سے دوچار ہو سکتی ہے بس یاد تھا تو ایک دفعہ ماما کی خیریت مل جائے۔ ۔۔بیلسز جاتی رہی لیکن تیسری بیل پر موبائل اٹھا لیا گیا

“ہیلو کون”

خضر کی آواز موبائل سے ابھری

اتنے دنوں بعد کسی اپنے کی آواز سن کے دل بری طرح دھڑکا

“کون بول رہا ہے”

آواز نہ آنے پر خضر دوبارہ بولا

“میں۔۔۔۔ میں بول رہی ہوں حور خضر بھا”

ابھی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز کے ساتھ کوئی چیز دیوار پہ ٹکرائی۔۔۔۔ حور کا دل بری طرح دھڑکا سامنے نظر پڑھتے ہی حور کی روح فنا ہونے لگی۔ زین لب بیچے ہوئے غصے کی حالت میں اسی کی طرف آ رہا تھا ابھی جو وااس اس نے غصے میں آ کر دیوار پر مارا تھا کرچی کرچی ہو کر زمین پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ زین کے قریب آنے سے وہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹی ساری کرچیاں ننگے پاؤں ہونے کے باعث اس کے پاؤں میں چبھی، حور کو اس تکلیف سے زیادہ اپنے سامنے کھڑے زین کے تاثرات سے خوف آرہا تھا۔۔۔۔ قریب آ کر زین نے حور کے ہاتھوں سے موبائل لے کر اپنے کان پر لگایا جس میں سے خضر کی آواز آ رہی تھی

“تم ٹھیک ہونا حور یہ کس چیز کی آواز تھی پلیز بات کرو مجھ سے اپنا ایڈرس بتاؤ مجھے کہاں ہو تم”

زین نے موبائل غصے کی حالت میں پوری قوت سے دیوار پہ دے مارا حور کی تو جان ہی نکل گئی زین نے حور کے قریب آ کر اس کے بال مٹھی میں لئے

“کیوں کال کی تم نے خضر کو”

لال آنکھیں لیے سرد تعصورات سے وہ حور سے سوال کر رہا تھا

حور کو آج اتنے دنوں بعد زین کو دوبارہ اس روپ میں دیکھ کر خوف آنے لگا اور اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا

“جواب دو”

حور کے کچھ نہ بولنے پر اس نے دوسرے ہاتھ سے حور کا منہ پکڑا اور زور سے دہھاڑا

“مجھے ماما سے بات کرنی تھی”

اس طرح منہ پکڑنے سے زین کی انگلیاں حور کے گالوں میں گڑھ رہی تھی۔۔۔ دوسرے ہاتھ میں حور کے بال جکڑے ہوئے تھے، ان کی گرفت سے بھی حور ، زین کے غصہ کی شدت کا اندازہ لگا سکتی تھی۔۔۔۔ایسے میں جو نیچے اس کے پاؤں میں کانچ کے ٹکڑے چبھ رہے تھے۔۔۔۔ اس کی تکلیف کا احساس زین غصے میں کہی دب گیا

“ماما سے بات کرنی تھی تو خضر کا نمبر کیوں ملایا”

زین کی گرفت میں مزید سختی آئی

“زین پلیز چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے”

حور کی آنکھوں میں اب آنسو آگئے

“مجھے کیسے تکلیف دینے کا سوچا تم نے جواب دو؟ کیوں ملایا خضر کا نمبر”

دونوں ہاتھ نیچے کرتا ہوا اب اسے ایک بازو سے کھینچ کر بیڈروم میں لے کر جا رہا تھا

“گھر کا نمبر نہیں مل رہا تھا اس لئے خضر بھائی کا نمبر ملایا تھا تاکہ میری ماما سے بات ہوجائے”

حور زین کے ساتھ کھینچتی ہوئی وضاحت دیتی جا رہی تھی

“میرے منع کرنے کے باوجود تم نے کال کی دل تو چاہ رہا ہے تمھیں۔۔۔۔”

بیڈ روم کے دروازے تک لاکر اس نے حور کو زور سے بیڈ پر دھکا دیا بات ادھوری چھوڑ کر اس کو دیکھے بغیر بیڈ روم سے باہر نکل گیا۔ ٹوٹا ہوا موبائل اٹھایا کیز لے کر وہ گھر لاک کر کے باہر چلا گیا