60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 9

عائرہ نہا کر اپنے بال تولیہ میں رگڑتی واشروم سے باہر آئی تو اس کے بیڈ پر ٹوکری میں ایک چھوٹی سی سفید کلر کا بلی کا بچہ رکھا ہوا تھا۔
“Awwww….. so cute
عائرہ اسے دیکھتے اس کے پاس آئی اور ہلکے ہاتھوں سے اس ننھی سی بلی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار کرنے لگی۔
“پیاری kitten کون لایا آپ کو۔۔۔۔۔ اللااااا کتنی پیاری ہو۔۔۔۔۔۔ ماشااللہ۔۔۔۔۔ شو شو شویت۔۔۔۔” وہ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پھیر اٹھا کر ہلاتی خوشی سے چہک رہی تھی۔ اس کے کھلے گیلے بال کمر کو تر کر رہیں تھے۔
“آپ کا نام کیا ہے۔۔۔۔۔ ہممممم میں آپ کا نام وائٹ فیری رکھوں گی۔۔۔۔۔” وہ بلی کے بچے سے گفتگو کرنے میں مگن تھی۔
سفیان اپنی مسکراہٹ دبائے ہوئے دبے پاؤں چلتا اس کے کمرے میں آیا اور اس کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ عائرہ ایک غصیلی نظر اس پر ڈال کر سنجیدہ ہوگئی۔ وہ سمجھ گئی تھی وہ بلی کا بچہ سفیان لایا ہے۔
“ابھی بھی ناراض ہو۔۔۔۔۔ چلو سوری۔۔۔۔۔ کان پکڑ لیئے۔۔۔۔۔” اس نے معصوم شکل بناتے کان پکڑ لیئے۔
جب عائرہ کے جانب سے کوئی ردعمل نا ملا تو وہ ٹوکری اٹھا کر واپس جانے لگا تھا پر عائرہ نے اسے روک لیا اور اس کے ہاتھ سے ٹوکری واپس لے لی۔ وائٹ فیری سر اوپر اٹھا کر عائرہ کے بازو پر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی اور عائرہ کو اس کے نرم پیروں سے گدگدی ہونے لگی وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
” ایک بات کہوں۔۔۔۔۔” سفیان اسے گہری نظروں سے دیکھتا بہانے سے بلی پر انگلی پھیرتے سہلانے لگا۔
“تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔۔ ان میں آنسو اچھے نہیں لگتے۔۔۔۔۔ تم ہمیشہ یوں ہی ہنستی رہنا۔۔۔۔۔ اچھی لگتی ہو۔۔۔۔۔” نرم لہجے میں اس نے اپنی دل کی بات کہہ دی۔ اس کے زبان سے نکلنے والے ہر لفظ پر اس کے دل نے حقیقت کی مہر لگا دی تھی۔
عائرہ نے اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھا۔ کچھ پل سیاہ آنکھوں اور بھوری آنکھوں کا ملن ہوا۔ ایک الگ ہی احساس اور جذبہ تھا سفیان کی براون آنکھوں میں جس نے عائرہ کو نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا۔
“بہت کیوٹ ہے۔۔۔۔۔ اس گفٹ کے لیے تھینکس۔۔۔۔۔” عائرہ نے سر جھکائے وائٹ فیری کو اپنے حصار میں جھلاتے ہوئے سفیان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ سر جھٹکتا اس کی آنکھوں کے حصار سے نکل کر تشکر وصول کرتے بلی کی جانب متوجہ ہوگیا ۔ یہاں سے ان کی دوستی کا آغاز ہوا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فیرویل پارٹی کے ایک ہفتے بعد اسکول کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوچکا تھا۔ عائرہ امتحانی کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی اپنا پرچہ حل کر رہی تھی جب زرار اور اس کے دوست نے پاس سے گزرتے ہوئے ایک طے شدہ کاغذ عائرہ کے پیروں میں پھینک دیا۔
“دیکھتا ہوں کیسے بچتی ہے اب۔۔۔۔۔ اس کی وجہ سے سفیان نے میری انسلٹ کی تھی نا۔۔۔۔۔ اب میں نے اسے اسکول سے نا نکلوا دیا تو دیکھنا۔۔۔۔۔” دبے دبے غصے سے کہتے وہ دونوں بھاگ گئے۔
عائرہ نے پریشانی سے جھک کر پیروں کے پاس سے کاغذ اٹھایا۔ ابھی اس نے کھول کر دیکھا بھی نہیں تھا کہ اڈھیر عمر لمبا چوڑا ایگزیمنر اس کے سر پر آنپہنچا اور وہ کاغذ اس کے ہاتھ سے چھڑپ لی۔
“مس عائرہ مبشر۔۔۔۔۔ آپ کاپی کر رہی ہے۔۔۔۔۔ چیٹنگ کر رہی ہیں۔۔۔۔” ایگزیمنر نے سختی سے پوچھا۔
“ننن۔۔۔ نو سر۔۔۔۔۔ میں کاپی نہیں کر رہی۔۔۔۔۔” عائرہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ روہانسی ہوگئی۔
“تو پھر یہ کہاں سے آیا۔۔۔۔۔۔ کون دے رہا ہے آپ کو چیٹنگ۔۔۔۔” انہوں نے کھڑکی کے پاس جھانکا پر وہاں کوئی نا تھا۔
“سر پلیز میرا یقین کریں۔۔۔۔ میں چیٹنگ نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔ یہ کسی نے میرے پیروں میں پھینک دیا تھا۔۔۔۔” وہ مضطرب سی وضاحت دینے لگی۔
ایگزیمنر نے اس کی ایک نا سنی اور اس کا پیپر لے کر ساتھ وہ کاغذ سٹیپلر کرنے لگا۔
“سر میرا پیپر۔۔۔۔۔” وہ سر سے درخواست کرنے لگی۔
“آوٹ فرام دی کلاس۔۔۔۔۔ تمہارا پیپر کینسل کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔” سر نے درشتی سے کہتے اسے انگلی دکھا کر کلاس سے نکل جانے کو کہا۔
عائرہ آبدیدہ ہو کر کلاس سے نکل آئی۔ اس کا دماغ ماف ہوتا جا رہا تھا۔ وہ کیا کریں۔ ڈیڈ کو کال کریں۔ روحان چاچو کو بلائے۔ ذیش بھائی تو خود MBA کرنے شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اس کی بڑی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔ وہ اسی کشمکش میں چل رہی تھی جب اس نے اپنے پیچھے زرار کا ہنسنا سنا۔
” کیوں بےبی ڈول پیپر کینسل ہوگیا۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔۔ سال ضائع ہوگیا چچ چچ۔۔۔۔ اب کیا کرو گی۔۔۔۔ سمندر میں ڈوبنے جاو گی۔۔۔۔۔” وہ ہنستے ہنستے عائرہ کو چڑانے لگا۔
“لیکن زرار اسے تو پانی سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔۔” دوسرے دوست کے تبصرے نے عائرہ کا مزید دل دکھا دیا۔ وہ ان سے پیچھا چھڑانے تیز تیز چلنے لگی۔
وہ متواتر ان کا تمسخر نظرانداز کرتے اپنے پیپر کا سوچ رہی تھی۔ ایک خیال آتے ہی وہ بے اختیار اپنے کیمپس کا گیٹ عبور کرتی کالج سائیڈ پر آگئی اور راہ چلتی ایک فیمیل اسٹوڈنٹ سے سفیان کا پوچھا۔
لڑکی کے بتائے جگہ پہنچ کر اس نے سفیان کو اپنے کسی اسائنمنٹ پر پریزنٹیشن دیتے دیکھا۔ جونہی اس کی نظر اداس عائرہ پر پڑی وہ پروفیسر کو ایکسیوز کرتے اس کے پاس آیا۔
عائرہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے من و عن ساری رو داد سنائی۔ زرار نے عائرہ کا پیپر کینسل کروا کر اس سے اپنا بدلہ لے لیا تھا۔ پر وہ نہیں جانتا تھا عائرہ کو رلا کر اس نے سفیان کے ہاتھوں اپنی شامت کو دعوت دی تھی۔
سفیان آگ بگولا ہوتا عائرہ کا ہاتھ تھامے اسکول کیمپس میں آیا اور زرار پر جھڑپ پڑا۔ اس سے پہلے زرار سنبھلتا وہ اس پر لاتوں اور گھونسوں کی برسات کرتے اسے زمین بوس کر گیا تھا۔
عائرہ کا دل دہل گیا۔ اس نے اپنی وجہ سے سفیان کو بھی مصیبت میں ڈال دیا تھا۔ آس پاس کے سیکیورٹی گارڈز اور کلرک نے جمع ہو کر سفیان اور زرار کو ایک دوسرے سے دور کیا۔
ایک گھنٹے بعد عائرہ اور سفیان دونوں پرنسپل کے آفس میں اپنی حاضری دینے موجود تھے۔ سامنے ہی ان دونوں کے والد صاحبان یعنی رانا مبشر اور روحان تشریف فرما تھے۔ آفس میں ان کے علاوہ زرار اور وہ ایگزیمنر بھی موجود تھا۔
چند بحث و مباحثہ کرنے کے بعد نتیجہ یہ ہوا کہ عائرہ کو وہی آفس میں بیٹھے بیٹھے دوبارہ سے پیپر دینے کی اجازت ملی اور زرار کا ایسا مزاق کرنے پر تین دن کے لیے کالج میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا اور سفیان کو مار پیٹ کرنے پر جرمانہ بھرنا پڑا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“اتنا کیوں مارا۔۔۔۔۔۔ پیار سے سمجھا بھی تو سکتے تھے۔۔۔۔” شام کو ٹیرس پر بیٹھے سفیان سے عائرہ نے سوال پوچھا۔
“تمہیں ہرٹ کرنے والے کے لیے میرے دل میں کوئی ہمدردی یا پیار کی گنجائش نہیں ہے۔۔۔۔۔” سفیان نے سپاٹ انداز میں جواب دیا۔
“جو تمہیں رلائے گا۔۔۔۔۔ میں اس کا اس سے بھی برا حشر کروں گا۔۔۔۔۔” اس نے آگے ہو کر عائرہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا عائرہ۔۔۔۔ تم میرے لیے بہت خاص ہو۔۔۔۔۔ مجھ سے نہیں برداشت ہوتے تمہارے آنسو۔۔۔۔” اس نے پیار سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وضاحت دی۔ انڈائریکٹلی وہ عائرہ سے اپنے محبت کا اظہار کر گیا۔
اور عائرہ ساکن سی اس کے نرم لمس کو محسوس کرتی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
کیا یہ ہے وہ سچا ساتھی جس کی اس نے خواہش کی تھی۔ جو اس کے ایک آنسو پر دنیا کو ہلا کر رکھ دے۔ جو سب کچھ بھلائے اسے رلانے والے کو جان سے مارنے پر آجائے۔ ہنسی تو سب دیتے ہے لیکن آنسو پونچھنے والا صرف قسمت والی کو ملتا ہے۔
پر یہ قسمت کتنا ساتھ دینے والی تھی یہ ان دونوں کو جلد پتا لگنے والا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ایک سال سے ارحام اسموکنگ کرنے میں مگن تھا۔ رانا صاحب کے تعلیمات وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔ وہ صبح کو اسکول جاتا۔ شام تک اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ رہتا اور رات گھر آکر سیدھے اپنے بیڈروم میں ۔ ماں باپ سے تو پھر بھی ملاقات ہوجایا کرتی تھی لیکن چاچو چچی اور کزنز کو تو اس کی شکل دیکھے ہفتے گزر جاتے۔
15 سال کا ہوتے اس رات اس نے پہلی دفعہ نائٹ کلب میں قدم رکھا۔ رنگین لائٹس ہر سوں دھواں لڑکے لڑکیوں کا ہجوم۔ سب ڈانس میں مگن۔ وہ جگہ اسے کوئی اور ہی دنیا لگی۔
اس کلب میں اس کی دوستی البرٹ سے ہوئی۔ البرٹ 21 سالہ نوجوان دبلا پتلا سا لمبا لڑکا تھا۔
اس کے ساتھ گھومتے پھرتے ڈانس کرتے سموکنگ کرتے ارحام اس زنگین دنیا کے مزے لیں رہا تھا جب اس نے کلب میں شور سنا۔ پولیس نے ریڈ کر دی تھی اور بہت سے منشیات کی خرید و فروخت کرنے والے اسمگلرز کو گرفتار کر لیا۔
تفتیش کے لیے وہاں موجود سب ہی لوگوں کو تھانے لے جایا گیا جن میں ارحام بھی شامل تھا۔
رانا ہاوس میں سب کے تاثرات تشویشناک تھے۔ رانا صاحب اور روحان دونوں ہی اپنی پہچان استعمال کر کے ارحام کے دوستوں سے اسکول سے۔ اور جہاں جہاں ان کو ارحام کی موجودگی متوقع تھی، وہاں کالز کر کے اسے ڈھونڈ رہے تھے۔ کرن اپنے بیٹے کی خیریت کی دعائیں کرتی بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔
ارحام نے پولیس اسٹیشن میں اس آفسر کو اپنی اسکول آئی ڈی دکھائی اور اپنے گھرانے کے تعلقات سمجھائے۔
“تو اس رانا مبشر کے سپوت ہو تم۔۔۔۔۔ بہت آگے تک جاو گے بیٹا۔۔۔۔۔ باپ کا نام خوب روشن کرو گے۔۔۔۔” طنزیہ ہنستے ہوئے اس آفسر نے ارحام کی ایک بات نہ سنی۔
ارحام نے اپنے دوستوں کو کال کر کے مدد کے لیے بلایا لیکن کوئی نا آیا۔ البرٹ بھی منظر عام سے غائب تھا۔ اس نے بے دلی سے اپنے فیملی کو انفارم کرنے کا سوچا۔ لیکن ڈیڈ کے غضب کا سوچ کر ارادہ کمزور پڑ جاتا۔ بلاآخر اس نے گھر کے سمجھدار لڑکے کو کال ملائی۔ رانا ذیشان اس کا ذیش بھائی۔
سالوں سے جن دوستوں کو اس نے اپنا سمجھا تھا جن کے ایک آواز پر وہ اپنی پوری جیب خرچ ان پر لٹا دیا کرتا تھا آج مشکل وقت میں سب منہ پھیر گئے تھے اور اسے صرف اپنا خونی رشتہ ہی کام آیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رانا صاحب مضطرب سے دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہے تھے۔ آخر انہوں نے پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے کا فیصلہ کیا اور اپنے فیصلے کو تکمیل دینے گھر سے نکل رہے تھے کہ سامنے سے ارحام اور ذیشان گھر میں داخل ہوتے نظر آئے۔
ارحام شرمندگی کے باعث سر جھکائے ہوئے تھا اور ذیشان کے تاثرات سپاٹ تھے۔
کرن تو اسے دیکھتے اس کے جانب بھاگی اور اسے سلامت دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتے اسے سینے میں بھینج لیا تھا۔
“کہاں گئے تھے۔۔۔۔” ارحام نے رانا صاحب کی سرد آواز سن کر تھوک نگلا۔
“کہاں سے لا رہے ہو اسے۔۔۔۔” سوال ذیشان سے بھی اسی بے لچک لہجے میں ہوا۔
ذیشان نے بے رخی سے ارحام کو دیکھا۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئی۔ خوف سے اس کے چہرے پر پسینہ نمودار ہوا۔ رانا صاحب مشکوک نظروں سے کبھی ارحام کو دیکھتے کبھی ذیشان کو۔
ہاتھ پیچھے باندھتے وہ ان دونوں کے مابین دیوار کی صورت کھڑے ہوگئے تاکہ نظروں کے اشارے سے بہانہ نا بنا سکے۔
ذہشان ہمیشہ سے ہی سنجیدہ مزاج تھا اور اپنے بڑے پاپا تو اسے جان سے بھی زیادہ عزیز تھے وہ چاہ کر بھی ان سے جھوٹ نہیں کہہ سکا اور اس نے ارحام کے جانب دیکھے بغیر من و عن ساری داستان سنا دی۔
رانا ہاوس میں سناٹا چھا گیا۔ روحان کے دونوں بیٹے اس معاملے میں سلجھے ہوئے تھے وہ اس گھر کے قائدے قانون کو بخوبی جانتے تھے۔ انہوں نے کبھی بڑے پاپا اور پاپا کے تعلیمات کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ ارحام وہ پہلا حضرت ثابت ہونے والا تھا جو رانا مبشر اور روحان کے ہر رُول کی دھچیا اڑا کر رکھنے والا تھا۔
“کلب میں کیا کر رہے تھے تم۔۔۔۔۔۔ ” رانا صاحب طیش میں آگئے۔ کرن نے ارحام کو ان سے بچانے مزید بازووں میں چھپا لیا۔
“رانا صاحب اس دفعہ جانے دیں۔۔۔۔ بچہ ہے۔۔۔۔۔ غلطی ہوگئی اس سے۔۔۔۔۔ میں سمجھا دوں گی۔۔۔۔۔ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔” کرن کی ممتا نے اسے رانا صاحب کے غضب سے بچا لیا۔ اور ارحام کے آنسو دیکھ کر رانا صاحب کا دل بھی کچھ موم ہوگیا تھا اس لیے وہ تھوڑا ڈانٹ ڈپٹ کر چلے گئے۔ ارحام نے جان بچی سو لاکھوں پائے سوچتے سکون کا سانس لیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ارحام۔۔۔۔۔ آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیئے۔۔۔۔۔ وہ اچھے لڑکوں کی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ سو فساد جڑے ہوتے ہیں ایسے مقامات سے۔۔۔۔۔۔” کرن کمرے میں لا کر اسے سمجھانے لگی۔
“یہ عمر بہت نازک ہوتی ہے۔۔۔۔ اس میں اگر ہم اپنے آپ پر قابو پا لیں تو آگے کے زندگی آسانی سے گزرتی ہے۔۔۔۔۔ یہ عمر کردار سازی کا دور ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اس عمر میں کئی سارے بدلاو آتے ہیں۔۔۔۔۔ پر بیٹا۔۔۔۔۔ اس عمر میں اگر ہم برائی میں پڑھ گئے تو ہمیں اس کی عادت ہوجاتی ہے اور عادت ختم کرنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔ اپنے کردار کو بہت مضبوط بنانا ہے آپ نے۔۔۔۔۔ آپ کا کردار نا صرف آپ کا بلکہ میرے اور آپ کے ڈیڈ کے کردار سے بھی جڑا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میرے اور آپ کے ڈیڈ کے کردار پر باتیں بنے۔۔۔” کرن نے ارحام کی تھیوڑی اوپر کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ارحام نے معصومیت سے سر نفی میں ہلایا۔
“جب بھی دوستوں کا انتخاب کرو۔۔۔۔۔ آپ نے یاد رکھنا ہے کہ آپ کی حفاظت وہی راستہ کرے گا جو اللہ کے ساتھ جڑا ہو۔۔۔۔۔۔ جب بھی اللہ کی مرضی کے خلاف جانے کا دل چاہ رہا ہو۔۔۔۔۔ تو یاد رکھو اگر آپ اس غلط کام کو کر ڈالو گے تو آپ اللہ کی حفاظت سے نکل جاو گے۔۔۔۔۔ آپ اللہ کی پناہ سے نکل جاو گے۔۔۔۔ پھر نا ڈیڈ آپ کو بچا سکے گے۔۔۔۔۔ نا میں۔۔۔۔ بس اب آپ نا ایسے دوستوں سے ملو گے نا ایسے جگہوں پر جاو گے۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی اور بات تو نہیں ہے۔۔۔۔۔” کرن نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے آخری فقرہ قدرے درشتی سے کہا۔
ارحام نے سر جھکا کر نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ سموکنگ کی بات چھپا گیا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(حال)
وہ بلیک سوٹ بوٹ میں تیار بال نفاست سے بنائے آفس میں ٹہلتا کوئی فائل پڑھ رہا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا۔ نا آشنا نمبر دیکھ کر اس نے ائیر پوڈ کو ہلکا دبا کر ڈٹی آواز میں ہیلو کہا۔
“صاحب۔۔۔۔ میں کمال خان بول رہا ہوں۔۔۔۔ وہ اسٹال والا۔۔۔۔” سرگوشی نما آواز اس کے سماعتوں میں پڑی۔
“ہاں کمال خان بولو۔۔۔ کیا خبر ہے۔۔۔۔۔” اسے پہچان کر وہ ساری توجہ کال پر مرکوز کر کے سننے لگا۔
“ابھی البرٹ آیا ہے میرے پاس۔۔۔۔۔ نیا مال لے کر۔۔۔۔۔ وہ آپ نے کہا تھا نا۔۔۔۔ میں آپ کو اطلاع کروں۔۔۔۔۔” اس نے مخبری کرتے فاصلے پر بیٹھے اس دراز قد پتلے لڑکے کو دیکھا۔
“ویری گڈ۔۔۔۔۔ اسے وہی بیٹھا کر رکھو۔۔۔۔۔ میں آرہا ہوں۔۔۔۔۔ دھیان رہے بھاگنے نا پائے۔۔۔۔۔” ہدایت دیتے اس نے میز پر پڑے اپنے گلاسس والیٹ اور موبائل اٹھائے اور تیزی سے کیبن سے باہر کو بھاگا۔ کوریڈور میں اسے بھاگتے دیکھ کر اس کے دونوں گارڈز بھی الرٹ ہوگئے اور اس کے پیچھے بھاگنے لگے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جائے وقوع پر پہنچ کر وہ کار سے اتر کر کوٹ کے بٹن بند کرتا بلیک گلاسس لگائے تیزی سے کمال خان کے اسٹال پر آیا اور سامنے ہی بینچ پر 27 سالہ پتلا لڑکا بیٹھا ملا۔ ابھی اس نے البرٹ کو پکارا ہی تھا کہ وہ اسے پولیس والا سمجھ کر بھاگنے لگا۔
اب البرٹ آگے اور وہ اور اس کے گارڈز البرٹ کے پیچے۔
“البرٹ سٹاپ۔۔۔۔۔” اس نے صدا لگائی پر وہ نہیں رکا۔
“البرٹ سٹاپ otherwise آئی ویل شوٹ یو۔۔۔۔۔” وہ کھڑا ہو گیا اور اپنی گن نکال کر البرٹ کا نشانہ باندھنے لگا۔
البرٹ نے کانپتے اپنی سپیڈ مزید تیز کر دی لیکن وہ یہ نہ سمجھ سکا کہ اس کی رفتار گن سے نکلنے والے گولی کی سپیڈ سے زیادہ تیز نہیں ہوسکتی۔
غور سے البرٹ کو دیکھتے اس نے گن کا رخ قدرے نیچھے کیا اور ٹریگر دبا کر فائر کر دیا۔
گولی البرٹ کے پاوں میں لگی وہ کراہتا ہوا نیچے گر پڑا۔
“میں ایک سوال پوچھوں گا۔۔۔۔۔ اور اس کا سچ سچ جواب دینا۔۔۔۔۔۔” اس نے زمین بوس ہوئے البرٹ کو سیدھا کیا اور غضب سے اسے گھورتے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا۔
“ارحام۔۔۔۔۔ کہاں۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔” اسی دو ٹوک انداز میں سوال کیا۔
“میں کسی ارحام کو نہیں جانتا۔۔۔۔۔” البرٹ نے اپنا پاوں پکڑے خون کو روکنے کی کوشش کرتے درد سے کراہتے اتنا ہی کہا۔
اس کا پارا آسمان کو چڑھنے لگا اس نے گن پکڑے ہاتھ سے ہی البرٹ کو ایک زور دار ضرب لگائی۔ اس کی گردن ایک سمت لڑک گئی
“اگر وقت رہتے تم نے مجھے ساری سچائی بتا دی تو میں تمہیں بچا لوں گا۔۔۔۔ ورنہ میں تمہیں ڈرگز اور بچے اسمگل کرنے کے جرم میں اندر کروا دوں گا۔۔۔۔۔” اب کی بار لہجا سخت پر قدرے ہمدرد تھا۔ اس نے جیب سے اپنا بزنس کارڈ نکال کر البرٹ کو دکھایا۔
البرٹ اتنا پڑھا لکھا تو تھا ہی کہ اس کارڈ میں درج اس نوجوان کا پیشہ پڑھ سکے۔ وہ عبارت پڑھتے البرٹ کے اوسان خطا ہو گئے۔
“میں جانتا ہوں ارحام کو۔۔۔۔۔ وہ آیا تھا میرے پاس۔۔۔۔ دو سال پہلے۔۔۔۔۔ اس کے گھر والوں نے اسے نکال دیا تھا۔۔۔۔۔ اور وہ اپنے ڈیڈ سے بہت تنگ آگیا تھا۔۔۔۔۔ اور وہ۔۔۔۔۔” وہ البرٹ کو دوسرا گھونسہ مارنے لگا تھا کہ اس کا منہ کھل گیا اور وہ طوطے کی طرح حقیقت بتانے لگا۔
“اس کی ہسٹری نہیں چاہیئے ایڈیت۔۔۔۔ وہ اس وقت کہاں ہے یہ بتاو۔۔۔۔” اس نے بیچ میں البرٹ کو ٹوک کر اپنا اصل مدعہ دوہرایا۔
“وہ۔۔۔۔۔ آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔” گولی لگنے کی تکلیف۔ خون کا بہاو۔ اور اوپر سے اس مضبوط ہاتھ کے ضرب سے البرٹ کی حالت غیر ہونے لگی۔ وہ بات کرتے کرتے کراہ اٹھا۔
“Albert…. where is…. irhaam….”
اس نے البرٹ کو جھنجوڑ کر تند و تیز آواز میں سوال کیا۔
“فففف فرانس۔۔۔۔۔ اسے میں نے اپنے ببببباس کے پاس فرانس بھیج دیا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر مجھے معلوم ہوا کہ وہ اسسسسس کے ہاں سے بھھھھھاگ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اب کہاں ہے مجھے نہیں پتا۔۔۔۔۔۔ ” البرٹ نے اکھڑے سانس میں کہا اور بے ہوش ہوگیا۔
“جلدی۔۔۔۔ ہسپتال لے چلو اسے۔۔۔۔۔ مجھے ابھی اس کے باس کا ایڈریس بھی چاہیئے۔۔۔۔۔ مرنا نہیں چاہیئے یہ۔۔۔۔۔” اس نے تیزی سے اپنے گارڈز کو آواز لگائی۔ وہ فورا سے پہلے آگے ہوئے اور البرٹ کو بازووں میں اٹھائے کار کی جانب بھاگے۔
“تم دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپ جاو رانا ارحام مبشر۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا۔۔۔۔۔ فرانس۔۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔” کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے اس نے حقارت سے کہا اور آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(ماضی)
عائرہ کی 17 برتھ ڈے پر سفیان نے اسے ایک ریسٹورنٹ میں بلایا۔ وہ بلیک کلر کا لبما میکسی پہنے لمبے بال کھلے رکھے ہلکا میک اپ کئے ہوئے شام کے وقت ڈرائیور کے ساتھ مطلوبہ ریسٹورنٹ پہنچی تو دروازے پر ہی مینیجر نے اسے ایک گلدستہ پیش کرتے برتھ ڈے وش کیا۔
وہ کچھ متذبذب سی مشکور ہوتے ہوئے اس کے پیچھے چلنے لگی۔ راہ داری کے آخر میں بنے کھلے لان تک اسے لا کر وہ مینیجر واپس مڑ گیا۔
سامنے ہی بلیک ٹو پیس سوٹ میں تیار سفیان اس کے استقبال میں کھڑا ملا۔
عائرہ وہاں کی ڈیکوریشن دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔ چاروں طرف سرخ اور بلیک کلر کے بڑے بیلون لگائے گئے تھے۔ چار ستون پر مبنی اس سینٹرل میز کے ہر ستون کو خوبصورت پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ میز پر سرخ کلر کی سلک کی شیٹ بچھائی گئی تھی اور دو عدد سینٹرل موم بتی اسٹینڈ پر خوشبو دار کینڈل رکھے گئے تھے۔
بلیک اور سرخ ہی پردوں کو لگایا گیا تھا جس پر بیل کی صورت چھوٹی لائٹس چمک رہی تھی۔
عائرہ نے اپنے میکسی کا دامن اٹھائے جیسے ہی لان پر قدم رکھا اوپر سے گلاب کی پتیوں کی برسات ہوگئی۔ چند ویٹرز دوسری منزل پر کھڑے سفیان کے پلان کے مطابق اس پر پھول برسا رہے تھے۔ وہ چہکتے ہوئے اس پھولوں کے برسات سے گزرتی سفیان کے عین سامنے آئی۔
“ہیپی برتھ ڈے مائی لیڈی۔۔۔۔” اس نے عائرہ کا ہاتھ تھام کر اسے وش کیا۔
عائرہ کے پاس اپنے جذبات بیان کرنے الفاظ نہیں تھے وہ یک ٹک اسے دیکھتی رہی۔ غیر محسوس طور پر سفیان جیب سے ایک خوبصورت سا دنیا کے شکل کا چھوٹا سا گیند نما پینڈینٹ نکالتا عائرہ کے پیچے آیا اور اس کے بال آگے کو کر کے اسے وہ پینڈینٹ پہنا دیا۔
“آج سے میری دنیا تم ہو عائرہ۔۔۔۔۔ تم نہیں۔۔۔۔۔ تو میں کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ میری دنیا اب تمہارے پاس ہے۔۔۔۔۔ پلیز اسے سنبھال کر رکھنا۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں بکھر جاوں گا۔۔۔۔۔۔” اس نے عائرہ کے عقب میں کھڑے کھڑے اسے کندھوں کو تھامے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کیا۔
وہ نظریں جھکائے بلش کرنے لگی۔ اس کی سفید گردن پر نظر پڑتے سفیان کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ بہت سے خیالات من کو بہکا کر گزر گئے۔ وہ سر جھٹکتا اپنے من سے ایسے خیالات مہو کرتا واپس عائرہ کے سامنے آیا۔
“محبت ایک معتبر احساس ہے۔۔۔۔۔۔ اس میں پہلی شرط عزت اور دوسری اعتبار کی ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔۔۔ اور تمہیں مجھ پر اعتبار۔۔۔۔۔۔ اس رشتے کی بنیاد عزت سے رکھی جائے گی۔۔۔۔۔ ٹرسٹ می۔۔۔۔۔ ” سفیان سنجیدگی سے کہتا اس کا ہاتھ تھامے ٹیبل تک لایا۔ سیٹ پیچھے کر کے اس نے عائرہ کو بیٹھنے کا کہا۔ پھر دوسری سمت خود تشریف فرما ہوگیا۔
عائرہ جان نثار نظروں سے سامنے بیٹھے اپنے انتخاب پر فخر کرتی اس 21 سالہ وجہیہ مرد کو دیکھنے لگی۔ وہ اس کے اس غیرت مند ادا پر فدا ہوگئی تھی۔
کچھ ہی دیر میں ایک چھوٹا نفیس سا کیک لا کر اس نے عائرہ کے سامنے رکھا۔ دونوں نے مل کر چھری اٹھائی اور ساتھ میں کیک کاٹنے لگے۔
“تمہیں پا کر میری زندگی مکمل ہوگئی ہے سفیان۔۔۔۔۔ تھینکیو سو مچ۔۔۔۔۔ یہ میری زندگی کا سب سے یادگار دن ہے۔۔۔۔۔” عائرہ نے کیک کا ٹکڑا سفیان کو کھلایا اور سفیان نے عائرہ کو۔
“میرا بھی۔۔۔۔۔” حسب عادت اسے چھیڑتا سفیان نے کیک پر سے کچھ کریم لے کر عائرہ کے گالوں پر لگا دیا۔ عائرہ اس شرارتی لیکن محبت سے بھر پور انسان کو دیکھ کر واری واری ہوگئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔