Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 1
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 1
رانا ہاوس جو کبھی اتفاق اور محبت کا مثال تھا آج دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا تھا۔ دوسرے حصے کے بہ نسبت پہلے حصے کی خاموشی ہولناک منظر پیش کیا کرتی تھی۔
سنگ مر مر کے بنے اس بڑے سے لاؤنج کے رائٹ سائیڈ میں رکھے ڈائننگ ٹیبل پر وہ پیار کی مورت بت بنی بیٹھی تھی۔ ویران آنکھیں سیڑھیوں کے اوپر بائیں جانب پہلے کمرے کے بند دروازے پر ٹکی ہوئی تھی۔
دو برس پہلے وہ کمرا مقفل ہوا تھا اور نا جانے کتنے برس بند رہنا تھا پر وہ ماں تھی دل کے ایک بنجر کونے میں آج بھی یہ امید زندہ تھی کہ اس کا لخت جگر اپنی ماں کی سسکیاں ضرور محسوس کرے گا اور اس کے پاس لوٹ آئے گا۔ نا جانے اب قسمت کس سمت لیں جانے والی تھی۔
رانا مبشر اپنی وجیہہ شخصیت لیئے سفید قمیض شلوار پہنے اور کندھوں پر سیاہ شال ڈالے، سفید پڑتی شیو جو کہ پہلے سے بڑھی ہوئی رکھنے لگے تھے اور بالوں کو سائیڈ پر جمائے ہوئے ہمیشہ کی طرح چارمنگ لگ رہے تھے۔ وہ با رعب انداز میں گردن اکڑا کر چلتے ٹیبل کی سربراہی کرسی پر آ بیٹھے۔
ملازم موودب طریقے سے ان کے کپ میں چائے بنانے لگا۔ رانا صاحب نے گھٹنوں پر نیپکن بچھاتے ہوئے سامنے بیٹھی خاتون پر ایک نظر ڈالی اور جعلی کنکارتے ہوئے اسے اپنے جانب متوجہ کرنا چاہا لیکن وہ بے حس بیٹھی بنا پلکیں جھپکائے بھوری آنکھیں اس بند دروازے پر مرکوز کئے ہوئے تھی۔
جہاں رانا مبشر کی ایک پکار پر وہ جان وار دینے کو بھی تیار ہوتی اب دو برس پہلے کیئے ان کے ایک فیصلے نے اس ماں کے سارے احساسات کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ وہ فیصلہ غلط تھا یا صحیح یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا لیکن موجودہ وقت گزارنا دن بہ دن رانا مبشر کے لیے تکلیف کا باعث بنتا جا رہا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“گڈ مارننگ ڈیڈ۔۔۔۔۔” یہ وہ آواز تھی جو قسمت سے ہارے رانا مبشر کی زندگی میں خوشیاں بھر دیتی۔ 21 سالا عائرہ مبشر۔ ان کے دل کا ٹکرا۔
عائرہ نے رانا صاحب کے کندھے کے گرد بازو مائل کر کے انہیں صبح بخیر وش کیا اور ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے رخسار سے لگا کر پھر اس پر بوسہ دیا۔ پچھلے پندرہ سالوں سے یہ ان باپ بیٹی کے صبح کا آغاز کرنے کا اپنا مخصوص انداز تھا۔
باپ سے لمبا قد وراثت میں لیئے اور ماں سے سفید رنگت۔ بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھیں جو کسی سے ٹکرائے تو اس کی دنیا اجاڑ دے۔ لمبی ناک اور گلابی ہونٹ۔ اپنی پر کشش مسکراہٹ سے کسی کے بھی دل پر تیر چلا دے۔ کمر تک آتے لمبے سلکی سیاہ بال۔ اونچی گردن اور ملائم بدن۔ فیری ٹیل کی شہزادی سے بھی زیادہ حسین۔ عائرہ زندگی سے بھر پور دو شیزا تھی۔ وہ ماں اور باپ دونوں کی لاڈلی تھی لیکن باپ کی آنکھوں کا ٹھنڈک تھی۔ رانا مبشر کا دن عائرہ کو دیکھ کر شروع ہوتا اور اسی پر ختم۔
عائرہ نے ڈیڈ کے رائٹ سائیڈ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے ٹیبل کے دوسری سربراہی کرسی پر بیٹھی اپنی ماں کو دیکھا جو پچھلے دو برس سے باقی دنیا سے بیگانی ہوگئی تھی۔ ابھی بھی اس کی ویران اور خشک آنکھیں اس بند دروازے پر جمی ہوئی تھی۔ ایک درد کی لہر عائرہ کے دل میں اٹھی لیکن پھر سر جھٹکتے وہ ڈیڈ کے ساتھ ناشتہ کرنے لگی۔ وہ جانتی کم سے کم آج کے دن اس کی ماں ایسی ہی رہنے والی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
یہ منظر ہے پیرس کا۔ فرانس کا دارلحکومت اور سب سے دلکش شہر۔ محبتوں کا شہر۔ عشق کا شہر۔ تاریخی حیثیت سے سب سے بڑا پرانا اور خوبصورت شہر۔ جو یہاں آتا ہے یہی کا ہو کر رہ جاتا ہے اور اس شہر کی وسیع گلیوں میں وہ 19 سالا نوجوان اپنی تمام تر وجیہہ نین نقش لیئے تنہا پِھر رہا تھا۔
اپنے باپ چچا اور باقی کزنز جیسے لمبا قد اسے وراثت میں ملا تھا۔ گہری آنکھیں اتنی دلنشین کہ جنس مخالف فریفتہ ہوئے بغیر نہ رہ سکتیں۔ تھیکی ناک گلابی ہونٹ سفید رنگت اور مضبوط جسامت اسے سراپا حُسن قرار دے گیا تھا۔ مغرور اتنا کہ ناک پر مکھی بھی نہ بیٹھ سکے اور جنون ایسا کہ نظروں سے ہی مقابل کو ڈھیر کر دیں۔
ارحام مبشر وجیہہ شخصیت، غرور، رعب اور جنون کا حامل رانا مبشر کے جوانی کی عکاسی کر رہا تھا۔
محبتوں کے شہر میں بھی قسمت کے ہاتھوں وہ محبت کا پیاسہ نوجوان اکیلے در در کی ٹھوکریں کھانے کو بھیج دیا گیا تھا۔ برف باری کی اس سرد رات، تاریکی میں وہ جینز اور ہائی نیک پہنے منہ کے گرد مفلر لپیٹے، اوورکوٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے انجان گلی کوچوں سے گزر رہا تھا۔ رات کے اس پہر ایک آدھ میڈیکل سٹور اور مشروبات کے دکانوں ہی کے کھلے رہنے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ وہ یک تنہا زندہ بشر آسمان سے گرتے برف کو چیرتا مین سڑک پر آیا تو اسے ایک 24hour سروس فرینچ بیکری کھلی ملی۔ وہ بھاری قدموں سے چلتا ہوا قریب آیا اور شیشے کے پار نظر آتے اشتہا انگیز بیکری آئٹم پر نظر دوڑائی۔ ماضی کی کئی تلخ یادوں نے اس کے گرد طواف کیا۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو می مما۔۔۔۔” اس نے دل ہی دل اپنے آپ کو اپنی سالگرہ وش کی۔ 21 جنوری اس کے پیدائش کا دن۔ آج وہ وجیہہ لڑکا 19 سال کا ہوچکا تھا۔ وہ جانتا تھا کسی اور کو یاد ہو نہ ہو لیکن اس کی مما اس کے جنم دن پر اسے ضرور یاد کر رہی ہوگی۔
ایک چاکلیٹ کیک پر اس کی نظریں جم گئی۔ وہ کتنی ہی دیر اسے تکتا یادوں کے بوچھاڑ تلے دب گیا۔ اس کی 19 سالہ زندگی ایک فلم کی مانند اس کے آنکھوں کے پردوں پر چلنے لگی۔
(ماضی)
“اِرحام(Irhaam)۔۔۔۔ اٹھو بیٹا اسکول کے لیے دیر ہوجائے گی۔۔۔۔” کرن اپنے دس سالہ بیٹے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسے جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔
رانا مبشر اور کرن کو اللہ نے عائرہ کے دو سال بعد بیٹے سے بھی نوازا جس کا نام انہوں نے اِرحام مبشر رکھا۔ نور کو جہاں سفیان نے اپنی شرارتوں سے سب سے زیادہ تنگ کر رکھا تھا وہی کرن کو ارحام نے۔ جب کہ بارہ سالہ عائرہ با سلیقہ اور با تہذیب سگھڑ بچی تھی۔ وہ روز از خود اٹھ جایا کرتی اور خود ہی اسکول کے لیے تیار ہو کر تہذیب سے ناشتہ کرنے بیٹھ جاتی۔
اس وقت بھی عائرہ اپنے اور ارحام کے مشترقہ کمرے میں اسکول کا یونیفارم پہنے آئینہ کے سامنے کھڑی کندھوں تک آتے بالوں کو برش کرنے میں مصروف تھی۔
ارحام مما کے پچھلے دس سے پندرہ منٹ کے محنت کرنے کے بعد آنکھیں مسلتا ہوا اٹھا اور بے دلی سے منہ کھولے جمائی لینے لگا۔
کرن جو ان دونوں کے کھلونے ترتیب سے رکھ کر اب کمفرٹر طے کر رہی تھی فوراً سے قریب آئی اور ارحام کے منہ کے آگے ہاتھ کیا۔
“جمائی لیتے ہوئے منہ کے آگے ہاتھ رکھتے ہے ارحام۔۔۔۔۔۔۔” کرن نے پیار سے سمجھایا لیکن ارحام نے مانو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا ہو۔ وہ بغیر نصیحت پر دھیان دیئے سست روی سے چلتا واشروم میں داخل ہوا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“یہ لو۔۔۔۔ یہ باپ بیٹے ایک جیسے ہیں۔۔۔۔۔ بیٹے کو جگا دیا تو یہاں یہ اب تک سو رہے ہیں۔۔۔۔۔” اپنے بیڈروم میں داخل ہوتے اس کی نظر کمفرٹر میں منہ چھپائے رانا صاحب پر پڑی۔
“رانا صاحب۔۔۔۔۔ ” کرن نے مخاطب کرتے ان کے خاکی پڑتے بالوں پر، جو اب بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ پیشانی کے حصے سے جھڑنے لگے تھے؛ ہاتھ پھیرا۔
رانا مبشر کی یہ عادت کرن نے ہی بگاڑ رکھی تھی وہ چاہے جاگے بھی ہوتے لیکن جب تک صبح سویرے اپنی دل عزیز زوجہ کا محبت بھرا لمس محسوس نا کرتے وہ اٹھتے نہیں تھے۔
“چلیں اٹھے بہت ہوگئی اوور ایکٹنگ۔۔۔۔۔” کرن کے ایک مرتبہ نرمی سے مخاطب کرنے پر جب وہ اپنی مسکراہٹ دبانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے تب دوسری دفعہ کرن نے قدرے تنبیہی انداز میں ان کے کندھے پر تھپکی دی۔
انہوں نے دل کھول کر مسکراتے ہوئے کرن کا ہاتھ تھام کر اپنے گردن کے گرد مائل کیا اور اسے کمر سے تھام کر اپنے سینے سے لگایا۔ کرن ان کی گہری آنکھوں میں اپنی بھوری آنکھیں نسب کرتی ان کے سینے سے لگ گئی۔
زندگی نے ان کے محبت کو ایک اور صبح نذر کی تھی جس کے دونوں مشکور تھے۔ آنے والے کل سے بے خبر اس لمحے انہوں نے اپنے موجودہ نعمتوں کا شکر ادا کرتے دن کا آغاز کیا۔
رانا صاحب کرن کے پیشانی پر بوسہ دیتے اسے صبح بخیر وش کر کے اٹھے اور اپنا رائل بلیو کلر کا نائٹی گاون پہتے واشروم کے جانب بڑھ گئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“مما۔۔۔۔۔ بس۔۔۔۔۔” ارحام نے دو نوالے کھا کر منہ بھسورتے مزید کھانے سے منہ کیا۔
“بلکل نہیں۔۔۔۔۔ پورا ختم کرنا ہوگا۔۔۔۔۔ ابھی تو آدھا پراٹھا بھی نہیں ہوا۔۔۔” کرن نے اس کے ننھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں جکڑے اسے ایک اور نوالہ کھلایا۔
17 سالہ زینب اور ذیشان ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ کرنے کے ساتھ اپنی اپنی کتاب پکڑے آخری مرتبہ سبق دہرانے میں مصروف تھے۔ زینب کے تاثرات نارمل جبکہ ذیشان کے پریشان کن لگ رہے تھے۔ آج ان کے انٹرمیڈیٹ بورڈ کا پہلا پیپر تھا۔
15 سالہ سفیان لا پرواہی سے بے باک انداز میں چلتا ہوا آیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھتے اس نے ساتھ بیٹھی عائرہ کی پونی کھینچی۔
“آ۔آ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔ مما۔۔۔۔” عائرہ درد اور غصے کی شدت سے کراہ اٹھی۔
کرن نے سفیان کی شرارت نظر انداز کر دی لیکن نور کے آبرو تن گئے تھے۔ اس سے پہلے وہ سفیان کو ڈانٹ لگاتی رانا مبشر اور روحان آفس کے لیے سوٹ بوٹ میں ہشاش بشاش تیار کسی ضروری میٹینگ پر مباحثہ کرتے ٹیبل کے جانب آرہے تھے۔
“کیسا ہے میرا بچہ۔۔۔۔۔” رانا مبشر نے باری باری عائرہ اور ارحام کے سر پر بوسہ دیتے اپنے بچوں کو پیار کیا۔ باپ کے شفقت سے سر شار ان دونوں سر اثابت میں ہلا کر اپنے خیریت کی تصدیق دی۔
“ذیش۔۔۔۔ زینب۔۔۔۔۔ آل سیٹ۔۔۔” روحان نے کارن فلیکس نکالتے ہوئے پوچھا۔
“یس پاپا۔۔۔۔” دونوں نے ایک آواز میں جواب دیا۔
“آل دی بیسٹ بچوں۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی
“تھینکیو بڑے پاپا۔۔۔۔” ایک مرتبہ پھر ہم آہنگ آواز گونجی۔
ذیشان اور زینب، دونوں نے ایک دوسرے کو کاپی کیٹ کی نظروں سے دیکھا۔ ان کی اس کیفیت پر سفیان اور ارحام کا قہقہہ فضاء میں بلند ہوا۔
اس ہنستے بستے گھرانے کی خوشیوں پر قسمت بھی اسی تاب سے ہنسی تھی۔
(حال)
ارحام کے سوچوں کا تسلسل اس بیکری کے مالک کی چنگھاڑتی آواز پر ٹوٹا۔ نا جانے وہ کتنی دیر سے اسے فرینچ میں جھڑکتا دوکان کے سامنے سے ہٹنے کو کہہ رہا تھا۔ دو سال ہوگئے تھے ارحام کو پیرس میں لیکن وہ اب تک اکے دکے الفاظ کے ما سیوا فرینچ سیکھنے میں ناکام رہا تھا۔ ہاں وہ اپنی بہن اور کزنز جیسے پڑھائی میں کبھی تیز نہ تھا۔ اس کے قابلیت کے آگے ہمیشہ اس کی انا کی دیوار مائل ہوجایا کرتی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رانا مبشر اپنے آفس کے کیبن میں راکنگ چیئر پر بیٹھے سر چیئر کی پشت سے ٹکائے ہوئے تھے۔ اس خوب رو وجیہہ مرد کے چہرے پر تھکن اور بے بسی صاف ظاہر تھی۔ ماضی کا درد وہ بھلائے نہیں بھلا پا رہے تھے۔ تین سال پہلے ہی انہوں نے کام سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ لیکن گھر میں تنہائی اور دکھ ان کا کلیجہ کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا اس لیے وہ پچھلے دو برس سے روز بے مقصد آفس آجایا کرتے اور شام تک اپنے کیبن میں دیوار گھیر کھڑکی کے سامنے راکنگ چیئر پر بیٹھے رہتے۔
روحان خاموشی سے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کیبن کے در پر کھڑے رانا بھائی کی پشت کو تَک رہا تھا۔ وہ رانا بھائی جن کے لیے اس کی جان بھی حاضر ہوتی تھی آج وہ ان کے اس درد کو کم کرنے میں مدد کرنے سے قاصر تھا۔
“پاپا۔۔۔۔” ذیشان نے دھیمی آواز میں مخاطب کیا
روحان نے ایک سرد کٹیلی نظر اپنے لمبے چوڑے امرجنگ (ابھرتے) بزنس مین بیٹے پر ڈالی اور سپاٹ تاثرات بنائے الٹے قدم اپنے کیبن کے جانب روانہ ہوگیا۔
باپ کے سرد لہجے نے ذیشان کے قدم منجمد کر دیئے تھے وہ ایک نظر پاپا کی جھکی ہوئی پشت کو دیکھتا اور دوسری نظر بڑے پاپا کو۔ کون حق پر تھا کون نا حق یہ فیصلہ کرنا اسے مشکل سے دوچار کر رہا تھا۔
26 سالہ ذیشان قابلیت کی مثال۔ قد قامت میں لمبا چوڑا مضبوط جسامت کا حامل۔ تیز ترار دماغ۔ فٹنس کانشیئس (fitness conscious)۔ ماں سے وراثت میں ملی لائٹ براون نشیلی آنکھیں جن پر مڑی ہوئی پلکوں کا راج تھا۔ ایک برابر ناک جس پر دنیا کو فتح کرنے جتنا غرور تھا۔ گلابی ہونٹ جن پر وہ ترچھی مسکان سجائے وہ مخالف جنس کا قتلِ عام کرنے میں ماہر تھا۔ اپنے نرم گوئی اور ہمدرد رویے سے وہ پل میں سب کو اپنا دیوانہ بنا دینے والا نوجوان تھا۔
“بڑے پاپا۔۔۔۔۔” ذیش نے رانا مبشر کو کھانستے سنا تو فوراً ان کے پاس لپکا۔
“کچھ نہیں۔۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔۔” رانا صاحب نے ذیش کی آنکھوں میں فکرمندی کے ایثار دیکھے تو لا پروا انداز میں ہاتھ لہراتے ہوئے وضاحت دی۔
یہ بات قطعی غلط نہ تھی کہ رانا مبشر اور ذیشان کے مابین بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ تھی۔ ذیش اپنے بڑے پاپا سے جان نچھاور کرنے کے حد تک محبت کرتا تھا اور رانا مبشر کو بھی وہ اپنے دل و جان سے عزیز تھا۔
“سوچ رہا ہوں۔۔۔۔۔ عائرہ کی شادی کروا دوں۔۔۔۔۔۔ وقت رہتے یہ فریضہ سرانجام دے دوں۔۔۔۔۔ پھر سکون سے اس فانی دنیا سے رخصت ہو سکوں گا۔۔۔۔۔۔” رانا صاحب کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے گویا تھے۔ چند دنوں سے ناساز رہتی طبیعت کے باعث انہیں عائرہ کی شادی کی فکر ستانے لگی تھی۔
“بڑے پاپا۔۔۔۔۔ ایسا کیوں بولتے ہے۔۔۔۔۔ آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ میں آج ہی آپ کو ایک دوسرے اچھے ڈاکٹر کے پاس لیں کے چلوں گا۔۔۔۔۔” رانا صاحب کے کہے الفاظ ذیشان کو اپنے سر پر گرتے تلوار جیسے لگے۔ وہ ان کی جدائی کا سوچ کر ہی خول اٹھا۔
اسے لگا شاید موجودہ ڈاکٹر کے علاج کا بڑے پاپا پر اثر نہیں ہورہا لیکن وہ اس بات سے انجان تھا کہ زندگی کے دیئے اس درد کے باعث، غفلت کی وجہ سے انہوں نے کافی عرصہ سے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کھائی ہی نہیں ہے تو صحت میں بہتری کیسے آتی۔
“بیٹا جانا تو سب نے ہے۔۔۔۔۔ آنے والے کل کا کسے پتا۔۔۔۔۔ بس میں چاہتا ہوں موت آنے سے پہلے اپنی بیٹی کا گھر بستا دیکھ سکوں۔۔۔۔۔ میں آج ہی اس سے اس معاملے میں بات کرتا ہوں۔۔۔۔” وہ ذیشان کے تجویز پر پھیکا مسکرائے اور ایک نیتجے پر پہنچے۔
ذیشان یونہی ان کے راکنگ چیئر کے قدموں میں دو زانو بیٹھا رانا صاحب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔
نا چاہتے ہوئے بھی اسے ارحام پر شدید غصہ آنے لگا۔ جس عمر میں اسے اپنے ڈیڈ کا سہارا بننے کا فریضہ سر انجام دینا چاہیئے تھا وہ انہیں مزید تکالیف میں مبتلا کر کے چلا گیا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کرن اس وسیع و عریض کمرے میں موجود کنگ سائز بیڈ پر اکیلی بیٹھی بیڈ کراون سے سر ٹکائے ہوئی تھی۔ اس حادثے کے بعد اس نے رانا صاحب سے کمرا جدا کر دیا تھا۔ دو برس سے وہ دونوں سچے پیار کا مثالی نمونہ الگ الگ رہنے پر مجبور تھا۔
بیڈ کے کراون سے ٹیک لگائے وہ سامنے دیوار پر فریم شدہ تصاویروں کو یکسانیت سے دیکھے جا رہی تھی۔ ہر تصویر اپنی الگ کہانی بیان کر رہا تھا۔ سب سے بڑی تصویر میں وہ دونوں میاں بیوی خوش خوشحال نظر آرہے تھے۔
دوسرے میں بلیک گاون پہنے وہ رانا صاحب کے بازو میں ہاتھ ڈالے کھڑی ہنس رہی تھی۔ رانا صاحب دو سالہ عائرہ کو گود میں اٹھائے مسکرا رہے تھے۔ یہ غالباً ترکی میں اس کے کتاب کی نمائش کے دوران لی گئی یاد گار تصویر تھی۔
تیسرے تصویر پر نظر پڑھتے کرن زخمی مسکرائی۔ وہ 21 جنوری کی تصویر تھی۔ اس کے بیٹے کی پیدائش کے وقت کی تصویر۔ رانا مبشر نو زائدہ ارحام کو اپنے ہاتھوں میں اٹھائے مارے خوشی کے مانو اڑ رہے ہو۔
اگلی تصویر ان کے مری میں پکنک کے دوران لی گئی فیملی پکچر تھی۔ کرن اور رانا مبشر ایک ساتھ کھڑے ہے اور ان کے آگے 14 سالہ عائرہ اور 12 سالہ ارحام کھڑے پوری بتی سی دکھا کر ہنس رہے ہیں۔ رانا صاحب کا ہاتھ ارحام کے سر پر رکھا ہوا ہے اور وہ بھی زندگی سے مطمئن خوشی سے مسکرا رہے ہے۔ اس لمحے ایسے ہی قسمت بھی اپنا کھیل کھیلتے اس فیملی کو دیکھتے ہنس رہی تھی۔
نا جانے اس خوشحال فیملی کو کس کی بری نظر لگ گئی۔ نا جانے ارحام کے سر سے باپ کا وہ ہاتھ کب سرک گیا۔ کرن کی آنکھیں بھر آگئی منظر پانی میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔
(ماضی)
رانا صاحب ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑے آفس کے لیے تیار ہورہے تھے۔ کرن ان کے عقب میں ان کا کوٹ لے کر کھڑی تھی۔ رانا صاحب نے اس کے ہاتھوں اپنا کوٹ پہنا اور رخ کرن کے جانب کیا۔ کرن ان کی ٹائی باندھ کر ان کے شرٹ کا کالر درست کر رہی تھی جب رانا مبشر کی نگاہوں نے دل فریبی سے کرن کے چہرے کا طواف کیا۔ انہوں نے کرن کو کمر سے تھام کر اپنے قریب کیا تو وہ کسمسا سی گئی۔
“رانا صاحب۔۔۔۔ چھوڑے بچے آجائے گے۔۔۔۔” اس نے رانا صاحب کی شریر مسکراہٹ سے گڑبڑا کر ان کے حصار سے الگ ہونے کی کوشش کی۔
“آنے دو۔۔۔۔ میرے بچے جانتے ہیں۔۔۔۔۔ ان کے ڈیڈ۔۔۔۔۔ ان کی مما سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔” انہوں نے کرن کے کمر کے گرد اپنی انگلیاں باہم پھنسا کر اس کے فرار کا راستہ بند کر دیا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوگئے کہ رانا صاحب کرن کی تیز ہوتی دھڑکن سن پا رہے تھے اور کرن ان کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی۔
دیکھتے دیکھتے وہ دونوں ایک دوسرے کے آنکھوں میں کھو گئے۔ رانا مبشر نے اپنے لب کرن کے لبوں سے جوڑ لیئے۔ کرن اپنے سراپا محبت شوہر کے لمس سے مدہوش ہونے لگی اور ان کے گردن کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے لگی۔
چند لمحے ایک دوسرے میں سمائے ہوئے محبت کے نذر کر کے جب رانا صاحب کی تشنگی میں کمی آئی تو انہوں نے کرن کے لب آزاد کیے۔ ان کے شدت عشق کو برداشت کرتے کرن کی سفید رنگت سرخ ہونے لگی تھی۔ وہ بلش کرتے نظریں جھکا گئی۔
رانا صاحب نے سر پر ہاتھ پھیرتے کرن کے شدت سے بکھرے اپنے بالوں کو پھر سے سیٹ کیا اور رخ موڑ کر مرر میں اپنا جائزہ لیا۔
“آئی لو یو۔۔۔۔۔” تیاری سے مطمئن ہو کر انہوں نے ساتھ کھڑی کرن کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیئے اور باری باری ان کو چوم کر اپنے عقیدت کا اظہار کیا۔
“آئی لو یو ٹو۔۔۔۔۔” کرن ان کے رخسار پر بوسہ دیتے ان کے اس جان نثار انداز پر مشکور ہوئی۔
ابھی وہ دونوں اپنے اظہار محبت میں مگن تھے جب دروازہ کھلا اور ارحام بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا عائرہ منہ بنائے اسے مارنے کے ارادے سے اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔
“عائرہ۔۔۔۔ ارحام۔۔۔۔ آرام سے۔۔۔۔” کرن کا دل ان دونوں کے تیز رفتار سے ڈگمگانے لگا۔
“مما اس نے میری باربی ڈول توڑ دی۔۔۔۔۔۔” عائرہ کو جب اتنا بھاگ کر بھی ارحام ہاتھ نا لگا تو کرن سے لپٹ کر رونے لگی۔ بہن کے آنسو دیکھ کر ارحام جوش و خروش سے بھاگتا اسے مزید چڑھانے لگا۔
“بدمعاش۔۔۔۔۔ میری بیٹی کو رولایا تم نے۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے ارحام کو بازو میں اٹھا لیا اور اس کے پیٹ پر جھک کر گد گدانے لگے۔
” ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔” وہ کسمساتا ہوا سر پورا آگے پیچھے ڈالتا چہک اٹھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
