Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 6
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 6
آج وہ اپنے مقصد کو پانے کے ایک قدم اور قریب ہوگیا تھا۔ آج وہ عائرہ کو کسی ریسٹورنٹ نہیں بلکہ اپنے فارم ہاوس پر لیں آیا تھا۔
وہ شیشے کا بنا فارم ہاوس بہت ہی خوبصورت تھا۔ عائرہ دہلیز پر قدم رکھتے ہی خوشی سے جھوم اٹھی تھی۔ ہر طرف سب سے اعلی اور مہنگی ترین انٹیکٹ سے سجایا وہ فارم ہاوس عائرہ کو اپنے سحر میں مبتلا کر رہا تھا۔ وہ ایک ایک چیز کا جائزہ لیتے آگے بڑھ رہی تھی۔ اور وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے پیچھےچل رہا تھا۔
ایک الماری کے پاس عائرہ رک گئی۔ وہاں بہت ہی قدیم آثار کے ہتھیاروں کی نمائش سجائی گئی تھی۔ عائرہ ساتھ ساتھ ہر ہتھیار کی ہسٹری پڑھ رہی تھی جب اس کے پیچھے کھڑے نوجوان کے موبائل میں وائبریشن ہوئی۔ وہ بے آواز الٹے قدم چلنے لگا۔
دروازے سے نکل کر اس نے باہر سے ہی کنڈی لگا دی تا کہ عائرہ اس کے رابطے میں خلل نہ بن سکے۔
“ہاں بولو۔۔۔۔۔ کیا خبر ہے ارحام کی۔۔۔۔” ڈٹی آواز میں پوچھتے اس نے ملاتشی نظروں سے آس پاس دیکھا۔
“سر ارحام کی تو کوئی خبر نا ملی۔۔۔۔۔ پر۔۔۔۔ اس کا وہ بیسٹ فرینڈ دانیال مل گیا یے۔۔۔۔ راولپنڈی میں ہے۔۔۔۔” اس نے ایک امید دلائی۔
“ویری گڈ۔۔۔۔۔ اسے پکڑ کر رکھو۔۔۔۔ میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔۔ دھیان رہے بھاگنے نا پائے۔۔۔۔۔” تیزی سے کال پر ہدایت دے کر وہ واپس اندر کو بھاگا۔
“کیا جان۔۔۔۔ دروازہ لاک کیوں کر دیا تھا۔۔۔۔۔ “عائرہ نے منہ بنائے گلہ کیا۔
“سوری جان کی جان۔۔۔۔۔ ایک بہت امپورٹینٹ کال پر بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔ اچھا تم نے سب چیزیں دیکھ لی۔۔۔” اس نے فورا سے بحث کا رخ بدل دیا۔
“ہاں بہت زبردست ہے۔۔۔۔ بہت اچھی کولیکشن ہے۔۔۔۔” عائرہ نے پھر سے ایک نظر سب ڈیکوریشن پر دوڑائی۔
“ہممم تمہیں جو بھی پسند ہو وہ لے لو۔۔۔۔” آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس نے پیشکش کی۔
“کچھ بھی۔۔۔۔۔” عائرہ کی آنکھیں چمک اٹھی۔
“کچھ بھی۔۔۔۔ تم پر تو سب قربان ہے۔۔۔۔۔” وہ بے تاج بادشاہ اپنی ساری دنیا عائرہ پر وار دینے کے جذبے سے بولا۔
“اوکے ادھر آو۔۔۔۔” اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اپنے ساتھ لیں جانے لگی۔
“مجھے یہ بہت پسند ہے۔۔۔۔۔” عائرہ نے اسے ایک قد آدم ایرانی نکاشی سے بنے خوبصورت مرر کے سامنے کھڑا کیا اور اسے آئینے میں اس کا اپنا عکس دیکھایا۔ اور خود اس کے آوٹ میں کھڑی پیچھے سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیئے۔
“یہ تو ہمیشہ سے تمہارا ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے عائرہ کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے اور سر ہلکا پیچھے جھکا کر اس کے رخسار پر بوسہ دیا۔
وہ بلش کرنے لگی۔ اس نے عائرہ کو ہاتھ سے تھام کر اپنے آگے کیا اور اسے بانہوں میں بھینچ لیا۔ عائرہ کو اپنی محبت پر رشک آنے لگا۔ اس نے آنکھیں موندھے اس کے گرد گرفت مضبوط کر لی۔
وہ ہلکے ہاتھ انگلیوں کی پھوروں سے عائرہ کی کمر کو چھونے لگا۔ دل میں کئی جذبات امڑنے لگے۔ دھڑکن کی رفتار بڑھنے لگی۔ لیکن دماغ بار بار اسے جھنجوڑ رہا تھا۔ اسے کال پر اپنے آدمی کی کہی بات یاد آئی۔ اس سے پہلے وہ مزید بہکتا اور جذبات اختیار سے باہر ہوجاتے اس نے عائرہ کو اپنے حصار سے الگ کیا۔
“اچھا جان۔۔۔۔۔۔ ہمیں چلنا ہوگا۔۔۔۔ مجھے ایک بہت امپورٹینٹ کام آگیا ہے۔۔۔۔” اس نے مدھم آواز میں معصوم تاثرات بنائے کہا۔
“دس از ناٹ فیئر۔۔۔۔۔ تم نے کہا تھا آج پورا دن میرے ساتھ گزارو گے۔۔۔۔۔” عائرہ بچوں جیسے منہ بنانے لگی۔
“جانا بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔ پلیززززز۔۔۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔۔۔ ہم بہت جلد یہاں دوبارہ آئیں گے۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ پھر شکار کے لیے بھی چلیں گے۔۔۔۔۔” اس نے اپنے ایک اور شوق سے آگاہ گیا۔ وہ عائرہ کو کندھوں سے تھامے منانے کی کوشش کرنے لگا۔
“لیکن میں معصوم جانوروں کو شوٹ نہیں کروں گی۔۔۔۔” شکار پر جانے کا سن کر عائرہ کی آنکھیں چمک اٹھی تھی مگر پھر جانوروں کے خیال سے ارادہ ترک کرنے لگی۔
“اچھا تم مجھے شوٹ کرنا۔۔۔۔” اس نے مزاحیہ انداز میں کہا۔ لیکن عائرہ کی آنکھیں پھیل گئی۔
“کسی بےہودہ بات کر رہے ہو۔۔۔۔” عائرہ کا دل دھڑک گیا اس نے ڈپٹتے ہوئے اس کے سینے پر تھپکی ماری۔
“اچھا اچھا سوری۔۔۔۔۔تم صرف ساتھ چلنا بس۔۔۔۔۔ ” وہ ہنستا ہوا قریب ہوا اور عائرہ کو سینے سے لگا لیا۔ عائرہ کی تیز دھڑکن اسے بخوبی محسوس ہورہی تھی۔
اسی طرح خود سے لگائے وہ واپسی کے لیے روانہ ہوگئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نور اپنے حصے کے لان میں بیٹھی کافی پیتے کوئی میگزین دیکھ رہی تھی۔ اور اسی کے سامنے کرسی پر ذیشان بیٹھا کافی پیتے لیپ ٹاپ پر کچھ پڑھ رہا تھا جب جالی دار گیٹ پر دستک ہوئی۔ دونوں ماں بیٹے نے بہ یک وقت سر اٹھا کر دیکھا۔
“بڑے پاپا مما۔۔۔۔ وہاں کیوں کھڑے ہیں۔۔۔۔۔ اندر آئے نا۔۔۔۔۔” ذیشان نے فورا سے اٹھا اور رانا صاحب اور خاموش کھڑی کرن کو اندر آنے کا کہا۔
“السلام علیکم رانا بھائی۔۔۔۔۔ آئیں بیٹھے۔۔۔۔” نور نے سر پر ڈوپٹہ لیتے ہوئے سلام کیا اور کرن سے گلے ملی۔ ان دونوں بھائیوں کے مابین چاکی کے باعث نور اور کرن میں ایک مرتبہ پھر دوری آگئی تھی۔
“وعلیکم السلام۔۔۔۔۔ روحان گھر پر ہے۔۔۔۔۔۔” سلام کا جواب دے کر رانا صاحب روحان کا پوچھتے اندر آئے۔
“پاپا تو باہر گئے ہیں۔۔۔۔۔ میں انہیں کال کر کے بلاتا ہوں۔۔۔۔” ہمدردانہ تجویز دیتے ہالف سلیف گرین کلر کے ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں ملبوس ذیشان نے جیب سے موبائل نکالا پر رانا صاحب نے اسے ٹوک دیا۔
“میں دراصل نور سے ہی بات کرنے آیا ہوں۔۔۔۔” انہوں نے لان کے کرسی پر بیٹھتے کہا۔ کرن نور اور ذیشان بھی ایک دوسرے کو دیکھتے اس چار نفری گول میز کے کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
“ہم یہاں عائرہ کی شادی کی تاریخ مانگنے آئے ہیں۔۔۔۔ میرے خیال میں اب اس فرض کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔۔۔ آپ کی بھی رضامندی ہو تو۔۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے سامنے افق میں دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ گھر کے اس حصے کے جانب دیکھنے سے گریزاں تھے۔ دل کے کئی زخم تازہ ہونے لگے تھے۔
“ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے رانا بھائی۔۔۔۔۔ عائرہ اس گھر کی ہی بچی ہے۔۔۔۔۔ جیسا آپ فیصلہ کریں۔۔۔۔ ہمیں منظور ہیں۔۔۔۔” نور نے اپنائیت سے انہیں تسلی بخش جواب دیا۔
“اور تم کیا کہتے ہو۔۔۔۔” رانا صاحب نے ذیشان کے جانب رخ کر کے نرمی سے پوچھا۔
“بڑے پاپا۔۔۔۔ آپ ہمارا سر چشمہ ہو۔۔۔۔۔ آپ جونسی بھی تاریخ طے کریں۔۔۔۔ ہم بارات لیں کر آجائے گے۔۔۔۔” ذیشان نے رانا صاحب کا ہاتھ تھامے ان کے ہاتھ کو عقیدت بھرا بوسہ دیا۔ رانا صاحب نے تسکین سے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“لیکن روحان اور سفیان۔۔۔۔۔” کرن نے پہلی دفعہ گفتگو میں مداخلت کی۔ اس کے سوال پر رانا صاحب کی مسکراہٹ واپس سمٹ گئی۔
“انہیں آپ مجھ پر چھوڑ دیں مما۔۔۔ میں انہیں بتا دوں گا۔۔۔۔” ذیشان اٹھ کر کرن کے پاس آیا اور اس کے کندھے کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے تسلی دی۔ کرن اس کے احترام اور محبت پر مسکرا دی اور اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا۔
شادی کے متعلق چند ضروری باتیں کر کے وہ دونوں میاں بیوی واپس اپنے پورشن میں آگئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سفید تھری پیس سوٹ میں ملبوس آنکھوں پر بلیک گلاسس لگائے وہ دنیا کو انگلی پر لیں کر چلنے والا حسین و جمیل لگ رہا تھا۔
ایک ریسٹورنٹ کے راہ داری میں وہ تیز تیز چل رہا تھا اور اس کے دو ہٹے کٹے لمبے چوڑے گارڈز بھی اس کی حفاظت کرتے پیچھے آرہے تھے۔
سب سے کونے کے میز پر وہ ایک 19 سالہ نوجوان لڑکے کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ اس کے گارڈز موودب انداز میں ہاتھ باندھے اس کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔
وہ پیر جھلاتے سر تا پیر بغور اس نوجوان کو مشاہدہ کر رہا تھا۔ اس کی کٹیلی نظروں سے دانیال عرف ڈینی کا حلق خشک ہونے لگا۔
“ارحام کہاں ہے۔۔۔۔۔ “سرد لہجا سپاٹ تاثرات اور بنا کوئی تہمید باندھے سیدھے سیدھے پوائنٹ کا سوال پوچھا گیا۔
“مم۔۔۔۔مجھے نہیں پتا۔۔۔۔۔ ” ڈینی نے تھوک نگل کر گلا تر کرتے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔
اس کی لبوں پر اپنی مخصوص شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ سمجھنے کے انداز میں سر کو جنبش دیتے ہوئے اس نے جیب سے ایک پیکٹ نکالا اور ایک عدد سیگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبائی۔ شاہین کے پروں کے اشکار کا بنا لائٹر اٹھایا اور وہ سیگریٹ سلگائی۔ ایک کش بھر کر اس نے باقی کا سیگریٹ ڈینی کے جانب بڑھائی۔
پہلے تو وہ متذبذب ہوا لیکن اس کے اسرار پر جھجکتے ہوئے ڈینی نے سیگریٹ لے لی اور کش بھرنے لگا۔
“سیگریٹ سموکنگ کے علاوہ اور کونسا نشہ کرتا تھا ارحام۔۔۔۔۔” اس نے اپنے لیے ایک اور سیگریٹ سلگاتے ہوئے دھویں کے غبار کے بیچ ہی ڈینی کو ایک سرد نگاہ سے دیکھا۔
“صرف سیگریٹ نوشی کی ہی عادت تھی۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔” ڈینی کہتے کہتے رک گیا۔
“لیکن کیا۔۔۔۔۔۔” اس نے آگے ہو کر ڈینی کو آبرو اچکا کر ٹوکا۔
“لیکن وہ۔۔۔۔۔ یہ عام لوکل سیگریٹ نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔۔ وہ ایک مخصوص فلیورڈ سیگریٹ ہوتی۔۔۔۔۔ جو یہاں بہت کم صرف اپنے اپنے ٹکانوں پر سمگل ہو کر آتی ہے۔۔۔۔۔” اس نے سرگوشی کرتے ہوئے وضاحت دی۔
“ارحام کہاں سے لیتا تھا۔۔۔۔۔” اسے ڈینی کے معلومات میں کوئی دلچسپی نا تھی۔ وہ صرف ارحام مبشر کو ٹریس کرنا چاہتا تھا۔
“وہ مجھے نہیں پتا۔۔۔۔” ڈینی صاف مکر گیا۔
اس کے آبرو تن گئے اس نے نظریں اٹھا کر اپنے گارڈ کو دیکھا اور سر کو ہلکا خم دے کر اشارہ کیا۔ گارڈ اس کا اشارہ سمجھ کر سر کو خم دیتا ڈینی کے سر پر جا پہنچا اور اس کا گلا اپنے بازو میں دبوچ لیا۔
ڈینی ہاتھ پیر چلاتا آزاد ہونے کے جتن کرنے لگا۔
“یہ کوئی عام مادہ نہیں ہے دانیال اکرام اللہ۔۔۔۔۔ acid ہے۔۔۔” وہ اٹھ کر ڈینی کے سامنے آیا اور ایک چھوٹی بوتل اس کے آنکھوں کے سامنے لہرائی۔
“اس کی ایک چھنٹ۔۔۔۔۔ تمہارے اس خوبصورت چہرے کا زاویہ بدل سکتی ہے۔۔۔۔۔” ڈینی کو دھمکاتے ہوئے اس نے بوتل تھوڑی سی ترچی کر کے میز پر ایک بوندھ تیزاب گرایا تو اس جگہ جھاگ بننے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے مہنگی ترین لکڑی کے بنے میز کے اس حصے سے دھواں نکلنے لگا۔
ڈینی کی سانس رکنے لگا وہ وحشت زدہ سا اس کی طیش سے سرخ پڑتی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
“سیدھی طرح اس جگہ کا ایڈریس بتا دو ورنہ۔۔۔۔۔۔” اس نے ڈینی کی تھیوڑی دبوچی اور اس کا سر اوپر کو کر کے دوسرے ہاتھ میں پکڑی تیزاب کی بوتل ترچی کرنے لگا۔
“رکو۔۔۔۔ بتاتا ہوں۔۔۔۔۔ پلیزززز۔۔۔۔۔ بتاتا ہوں رک جاوں۔۔۔۔۔” ایک ہی سانس میں انہیں روکتے ڈینی نے ہاتھ ہوا میں بلند کر دیئے۔
وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا اور اپنے گارڈ کو بھی دو انگلیاں اٹھا کر اس کا گلا چھوڑنے کا اشارہ کیا۔
ڈینی نے ایک نظر اس جوان کو دیکھا اور دوسری نظر اس کے دونوں گارڈز کو۔ پھر دھیمی آواز میں وہ اس جگہ کا پتہ درج کروانے لگا جہاں سے ارحام وہ مخصوص قسم کا سیگریٹ لیا کرتا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہوٹل میں آگ لگنے کے بعد ارحام نے اپنے رہنے کے لیے 3 اور اسٹوڈنٹس کے ساتھ ایک مشترکہ فلیٹ رینٹ پر لیں لیا تھا۔ اور وہ جم کوچ کے ہمراہ معاونت کے طور پر مقرر ہوگیا۔ دن میں جم اور شام کو ایک نائٹ کلب میں سروس۔ یہی اس کے زندگی کا ماحول بن گیا تھا۔
انشورنس کمپنی نے ہوٹل کو ہوئے تاوان کا آدھا معاوضہ تو میمونہ آنٹی کو دے دیا تھا لیکن وہ اتنا نہیں تھا کہ دوبارہ ہوٹل بحال ہو سکے اس لیے انہوں نے اپنی کار بھی بھیج دی۔ ان سب رقم کو ملا کر مینونہ آنٹی نے ہوٹل کی مرمت کروانے کے ساتھ ساتھ گامینٹس کا ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ حدیل کو اب اپنے کالج فیس کا بندوبست خود کرنا تھا اس لیے اس نے ایک فوڈ فیکٹری میں اسسٹینٹ کی جاب جوائن کر لی۔
وہ جو حدیل سے دور جانے کا ارادہ بنائے ہوئے تھا لیکن ایک دن بھی اس کے بغیر پیرس میں ٹِک نہیں سکا۔ اسے حدیل سے محبت تھی یا نہیں وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا لیکن اتنا ضرور جانتا تھا وہ لڑکی اسے دل سے عزیز ہے اور وہ اپنے پاگل پن کے ہاتھوں اسے ہرٹ نہیں کر سکتا۔
اپنی اپنی مصروفیات کے چلتے ارحام اور حدیل میں ملنا کم ہوگیا تھا لیکن وہ ہر وقت رابطے میں ضرور رہتے۔ اس حادثے کے بعد ارحام اس کے ہر میسج اور کال کا فورا سے جواب دیا کرتا تھا۔ وہ کسی صورت اپنی سابقہ غلطی دوہرانا نہیں چاہتا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آج حدیل کی 18 برتھ ڈے تھی اور اس نے اپنے سب ہی قریبی فریندز کو ریمو (remo) کے فادر کے کلب میں پارٹی دینے کا پلان بنایا۔
پارٹی سے ایک دن پہلے وہ ارحام کے ساتھ شاپنگ پر گئی۔ اپنے لیے اس نے وائٹ لانگ اسکرٹ اور سلیف لیس بلیک فلورل بلاوز لیا۔ اور ارحام نے عام سی وائٹ شرٹ اور جنیز لیئے۔
پیرس کا موسم اس دن بہت خوشگوار تھا۔ صبح سے آسمان بادلوں سے دھکا ہوا تھا اور شام تک ہلکی بوندھا باندھی بھی شروع ہو چلی تھی۔ ٹھنڈی ہواوں نے شہر کا رخ کیا ہوا تھا۔ محبتوں کے شہر میں ہر سوں پیار کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔
پارٹی کی رات حدیل نے اس سلیف لیس بلاوس اور لانگ اسکرٹ کے ساتھ سنہرے لمبے بال کھلے رکھے تھے اور نفیس سے میک اپ میں وہ سب سے دل نشین لگ رہی تھی۔ ارحام پہلی دفعہ کسی کلب میں مہمان بن کر آیا تھا۔ ہلکی روشنی اور محسور کن میوزک کے چلتے سماء مزید زنگین اور خمار آلود ہوگیا تھا۔
“ہیپی برتھ ڈے پرنسیس۔۔۔۔۔” ریمو نے ہاتھ ہوا میں بلند کر کے آگے آتے بلند آواز میں صدا لگائی۔
“تھینکیو ریمو۔۔۔۔۔” اس نے بر وقت ریمو کے بازو کو پکڑ کر اسے گلے لگنے سے روک لیا۔
ارحام کو وہ پہلے بھی نا پسند تھا اور اب اس حرکت کے بعد تو مزید زہر لگ رہا تھا۔ اس کے عصاب تن گئے لیکن وہ حدیل کی سالگرہ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے اپنے غصے کو قابو رکھے رہا۔
ریمو نے حدیل کے روکنے کی کوئی پرواہ نہیں کی اور وہ یوں ہی ہنستا جھومتا ارحام سے مصافحہ کرنے لگا۔
ارحام نے دائیں ہاتھ سے اس کے ہاتھ کو جنبش دیتے جتاتے ہوئے اپنا بائیاں ہاتھ بڑھا کر حدیل کے کمر کے گرد مائل کر دیا۔
حدیل ارحام کے اس طرز پر کرنٹ کھا کر سیدھے ہوئی اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ ارحام اس کی نظروں کو نظر انداز کرتے ریمو سے پارٹی کے بابت مہو گفتگو تھا۔
اسی دوران ان کے باقی فرینڈز بھی گروہ کی شکل حدیل کے گرد جمع ہو کر ملنے لگے۔ ارحام سارا وقت یوں ہی اسے اپنے حصار میں لیئے ہوئے تھا جس سے ریمو کے بشمول کئی دوسرے میل فرینڈز کو کھٹک ضرور محسوس ہوئی۔
سب سے سالگرہ کی مبارکباد وصول کرتے وہ اپنی فیمیل فرینڈز کے جمکٹے کے ساتھ آگے بڑھ گئی اور ارحام ایک میز پر کمر ٹکا کر سموکنگ کرنے لگا۔
Irhaam…. come dance with us……
وہ حدیل کو دیکھتے اپنے خیالوں میں گم سیگریٹ کے کش بھر رہا تھا جب اس نے حدیل کی ایک دوست کو کہتے سنا۔ حدیل بھی ڈانس فلور پر ڈانس کرتی اسے اشارہ کرتے ہوئے پاس بلا رہی تھی۔
اس نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا اور اس فرینچ لڑکی کو بھی ہاتھ اٹھا کر معذرت کر دی۔ کلب میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکیاں موجود تھی۔ کچھ تو اس ہینڈسم نوجوان سے بات کرنے بھی آئی مگر اس کے توجہ کا مرکز صرف حدیل فرانسیسکو تھی۔ وہ مخمور نظروں سے حدیل کو دیکھے جا رہا تھا۔ اسے اس پر بہت پیار آنے لگا لیکن پھر آنکھوں میں سختی در آئی تھی۔ ریمو نے ڈانس کرتے کرتے حدیل کے جانب رخ کیا اور اب قریب ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
ارحام نے ایش ٹرے پر سیگریٹ کا بقیہ حصہ زور سے دبایا اور تیزی سے ڈانس فلور کے جانب گامزن ہوا۔ حدیل اور ریمو کے بیچ آ کر وہ حدیل کے جانب رخ کر کے مسکرایا۔
حدیل کو لگا وہ اس کے ساتھ ڈانس کرنے آیا ہے اس کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں تھا وہ اس کے گردن کے گرد بازو مائل کرتے مزید اچھلنے لگی۔ ارحام نے بھی ساتھ دینے اسے کمر سے تھام لیا۔
ارحام کی ریمو کی طرف پشت تھی۔ ریمو کے میوزک پر چلتے قدم رک گئے وہ غصے سے ارحام کی پیشت کو دیکھتا ڈرنک بار کے جانب بڑھ گیا۔
وہ دڑنک کرتا ارحام اور حدیل کو حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر اور ڈانس کر کے وہ پورا گروپ بار کے جانب آگیا اور سب اپنے اپنے آرڈرز نوٹ کروانے لگے۔
ارحام کی قربت پا کر حدیل تو مانو آسمانوں پر تھی اسے جیسے ریمو دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔
حدیل سموکنگ اور ڈرنک نہیں کرتی تھی اور ارحام کو بھی صرف سموکنگ کی لت تھی۔ ڈرنک وہ بھی نہیں کرتا تھا اس لیے حدیل نے اپنے اور ارحام کے لیے سافٹ ڈرنک آرڈر دیئے اور باقی سب نے اپنی پسند کی شراب۔
آرڈر نوٹ کروانے کے بعد وہ سب ایک میز کے گرد جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ ان کی ایک دوست نے ریمو کو ساتھ چلنے کی پیشکش کی لیکن اس نے فلحال یہی بیٹھ کر ڈرنک کرنا چاہتا ہوں کہہ کر ساتھ چلنے سے انکار کر دیا۔
چند منٹ بعد جب ایک ویٹر ٹرے میں ان کا آرڈر لیئے اس سمت جا رہا تھا تو ریمو نے اسے راستے میں ہی روک لیا اور جیب سے ایک کیپسول نکال کر اس کے اندر کا مواد سافٹ ڈرنک کے ایک گلاس میں ڈال دیا۔
“دھیان رہے۔۔۔۔۔ یہ گلاس اس کالے بالوں والے کو دینا۔۔۔۔” ریمو نے درشتی سے تنبہیہ کیا۔
وہاں سب سنہرے گرے یا براون بالوں والے تھے ایک ارحام ہی سب میں الگ سیاہ بالوں کا مالک تھا اس لیے ریمو نے ویٹر کو سیاہ بالوں سے اس کی نشاندہی کروائی۔
چونکہ کلب ریمو کے فادر کا تھا اس لیے ویٹر خاموشی سے سر اثابت میں ہلاتا ان فرینڈز کے پاس گیا اور سب سے پہلے اس نے ارحام کو ہی وہ مواد ملایا ہوا سافٹ ڈرنک کا گلاس تھمایا۔ باقی سب کو ان کا آرڈر تسقیم کر کے وہ ویٹر دوسری سمت بڑھ گیا۔
ارحام کو وہ سافٹ ڈرنک پیتے دیکھ کر ریمو کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ وہ اپنے آپ کو کمپوز کرتا ان سب کے پاس چلا آیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سفیان ہشاش بشاش تیار بالوں کو رائٹ سائیڈ پر جمائے تازی شیو تراشی ہوئی lays چیپس کھاتا رانا ہاوس میں داخل ہوا۔ لاؤنج میں داخل ہوتے وہ ٹھٹک گیا۔ گھر میں ہر سوں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ فضا میں ملازمین کے کام کرتے ہاتھوں تک کی چھاپ نا تھی۔ اس کا دل بد مزہ ہونے لگا۔
اس نے ایک نظر کرن کے کمرے کے بند دراوزے کو دیکھا پھر رانا صاحب کے۔
ایک لمبی سانس لے کر اس نے لیز کا پیکٹ سینٹرل ٹیبل پر رکھا اور ہاتھ جھاڑتے رانا صاحب کے کمرے کے جانب بڑھ گیا۔
بغیر دستک دیئے اس نے ہلکے سے ناب گھما کر دیکھا رانا صاحب سامنے جائے نماز پر بیٹھے تھے۔ وہ دبے قدموں سے چلتے اندر آیا اور دو زانو ہو کر ان کے سامنے بیٹھا۔
رانا صاحب کے آگے قرآن پاک کا سورہ رحمن کھلا تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھی رخسار بھیگے ہوئے تھے اور لب مسلسل حرکت کر رہے تھے۔ وہ زبانی سورہ رحمن تلاوت کر رہے تھے۔
ان کے بھیگی سفید داڑھی دیکھ کر سفیان کے گلے میں آنسوؤں کا پھندا لگنے لگا۔ وہ جو ان سے عائرہ کے متعلق کچھ کہنے آیا تھا فورا سے اٹھا اور بنا انہیں ڈسٹرب کئے واپس کمرے سے باہر آگیا۔
سر جھٹکتا لاؤنج کے سینٹرل ٹیبل تک آکر وہ رک گیا۔ جہاں تک اسے یاد پڑتا تھا وہ یہاں لیز کا پیکٹ رکھ کر گیا تھا اور اب وہ جگہ خالی تھی۔ وہ آس پاس دیکھتے تلاش کرنے لگا جب اس کے سماعتوں میں چپس چٹخنے کی آواز پڑی۔ سامنے دیکھنے پر اس کی نظر عائرہ مبشر پر پڑی جو بلیک پینٹ اور فیروزی کُرتی زیب تن کئے سلکی بالوں کی لمبی پونی بنائے بڑے صوفے پر پیر دراز کئے LCD پر مووی دیکھتے مزے سے وہی لیز چپس کھا رہی تھی۔
“بغیر پوچھے کسی کی چیز نہیں اٹھاتے۔۔۔۔۔” سفیان نے دبے دبے خفگی سے کہا۔
“اور کھانے کی چیز تو بلکل نہیں۔۔۔” اپنی بات مکمل کرتے وہ ٹی وی اسکرین کے سامنے آگیا اور ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا۔
“یہ۔۔۔۔۔ “آپ” کہہ رہے ہے رانا سفیان۔۔۔۔۔۔” عائرہ نے تعجبی انداز میں آپ لفظ پر زور دے کر مخاطب کیا۔
“جو خود 7th کلاس۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔۔۔ 6th کلاس سے میرا لنچ باکس چھین کر کھاتے آرہے ہیں۔۔۔۔۔” اس نے جتاتے ہوئے خفگی کا اظہار کیا۔
“تم لڑکیاں اتنی پرانی باتیں کیسے یاد رکھ لیتی ہو۔۔۔۔۔” سفیان نے چڑ کر کہا اور اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔
“کیونکہ ہم اپنا لنچ باکس چور کبھی نہیں بھولتیں۔۔۔۔” عائرہ نے گردن اکھڑا کر آبرو اچکائے۔
“کتنا پیارا بچپن تھا ہمارا۔۔۔۔۔۔ سب مل جل کر رہتے تھے۔۔۔۔۔ پتا نہیں یہ دوریاں کب ختم ہوگی۔۔۔۔۔” سفیان کے آواز میں افسردگی در آئی تھی۔
اس نے کھوئے ہوئے انداز میں ہاتھ بڑھا کر چپس لینے کی کوشش کی۔
“جب ارحام واپس آئے گا تب۔۔۔۔۔” عائرہ نے دل گرفتگی سے آہ بھری اور سفیان کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر تھپکی ماری۔
سفیان جھنجھلا کر اٹھا اور عادت سے مجبور عائرہ کی پونی کھینچتا باہر بھاگا اور وہ منہ بھسورتے رہ گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔
