Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281

Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 Last updated: 2 October 2025

60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Hai Tujhse

(Qismat Se Hari Mein Season 3)

By Palwasha Safi

روحان اور ذیش نے رانا صاحب کے ہارٹ اٹیک کے متعلق گھر پر کسی کو نہیں بتایا۔ شام گئے تک جب وہ تینوں گھر نا پہنچنے تو نور نے فکرمند ہوتے روحان کو کال ملائی۔ "رانا بھائی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔۔۔۔ ابھی وہ خطرے سے باہر ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن انڈر آبزرویشن رہیں گے۔۔۔۔۔ تم کرن اور عائرہ کو فلحال کچھ مت بتانا۔۔۔۔ وہ بہت پریشان ہوجائیں گی۔۔۔۔۔ ذیش تھوڑی دیر تک گھر آجائے گا۔۔۔۔۔ میں رانا بھائی کے پاس ہی رکوں گا۔۔۔۔" روحان نے ہدایت دی۔ رانا صاحب کے بابت جان کر نور آبدیدہ ہوگئی تھی لیکن دروازے پر عائرہ کو نمودار ہوتے دیکھا تو اپنے آنسو چھپا لیئے۔ "تھوڑی دیر تک آجائے گے۔۔۔۔ تم فکر مت کرو۔۔۔۔۔۔ وہ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔" نور نے عائرہ کو گلے لگا کر تسلی دی۔ یہ معاملہ صرف رانا ہاوس تک ہی محدود نا رہا تھا۔ زینب اور اس کا سسرال بھی اس کے ضد میں آگئے تھے۔ "کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔۔۔ آج دیر ہوگئی آنے میں۔۔۔۔" امی جان نے تھکے ماندے ابتہاج اور زینب کو گھر کے اندر داخل ہوتے دیکھ کر استفسار کیا۔ زینب شادی کے بعد بھی ماسٹرز مکمل کرنے ابتہاج کے ہمراہ یونیورسٹی جایا کرتی تھی۔ "کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ کچھ میڈیا والوں نے روک لیا تھا۔۔۔۔۔ ارحام کے متعلق سوال کرنے لگے تھے۔۔۔۔" ابتہاج ابو جان کے ساتھ صوفے پر بیٹھا۔ زینب کو نا چاہتے ہوئے بھی اپنا آپ قصوروار لگنے لگا۔ وہ خاموشی سے کمرے میں چلی گئی۔ "تم اب یونیورسٹی نہیں جاو گی۔۔۔۔۔" اگلے دن زینب یونیورسٹی کے لیے تیار ہورہی تھی جب ابتہاج نے قدرے سختی سے تنبیہہ کیا۔ "پر آخری سمسٹر ہے۔۔۔۔ مس کر دیا تو پورے دو سالوں کی محنت ضائع ہوجائے گی۔۔۔۔۔ " زینب کو دکھ ہونے لگا۔ "میں کلاس سٹوڈنٹس سے نوٹس لیں آیا کروں گا۔۔۔۔۔۔ گھر بیٹھ کر ہی پڑھ لینا۔۔۔۔۔" یہ کہتے وہ اپنا والٹ اور موبائل اٹھائے کمرے سے باہر نکل گیا اور زینب اداس سی بیڈ پر بیٹھ گئی۔ ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ بات یہی نہیں تھمی تھی۔ گھر میں امی جان کا اور ابتسام کا رویہ بھی اس کے ساتھ بدلنے لگا تھا۔ ابستام تو غصہ ظاہر کرنے ہوسٹل شفٹ ہوگیا اور امی جان اسے کھری کوٹی سنا کر اپنی دلی کیفیت کا اظہار کرتی۔ "توبہ توبہ اب تو گھر سے نکلنا بھی محال ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔" امی جان گھر لوٹتے بلند آواز گویا ہوگئی۔ "کیا ہوگیا بیگم۔۔۔۔۔" حسین صاحب نے آنکھوں پر سے گلاسس ہٹا کر انہیں دیکھا۔ زینب کچن میں رات کے کھانے کا اہتمام کرنے لگی تھی۔ وہ لب مینچھے ان کی گفتگو سن کر بھی ان سنی کر رہی تھی۔ "اب تو محلے میں بھی نکلنا عذاب ہے۔۔۔۔۔۔ کبھی میڈیا رپورٹرز گھیر لیتے ہیں تو کبھی محلے کی عورتیں۔۔۔" انہوں نے منہ بھسورتے ہوئے کہا۔ "جلد بازی کر دی آپ نے ابتہاج کے لیے لڑکی پسند کرنے میں۔۔۔۔ ایک مرتبہ اچھے سے پوچھ لیتے خاندان کے بارے میں۔۔۔۔۔" وہ سینے پر ہاتھ باندھے ہونہہ کر گئی۔ "آہستہ بولو کچن میں ہے۔۔۔۔۔ سن لیں گی۔۔۔۔ اور اس سب میں زینب کا کیا قصور۔۔۔۔۔ نقصان تو اسے بھی ہورہا ہے۔۔۔۔ ابتہاج نے اس کے یونیورسٹی جانے پر پابندی تک لگا دی ہے۔۔۔۔ ہر دوسرے دن تم کوئی نا کوئی خبر لا رہی ہوتی ہو۔۔۔۔ اسکا تو گھر سے نکلنا بند ہوگیا ہے۔۔۔۔ اور گھر میں جینا عذاب۔۔۔۔" حسین صاحب نے دھیمی آواز میں کہا۔ امی جان خاموش ہوگئی تھی۔ زینب اپنے آپ کو کمپوز کرتی کمرے میں آگئی۔ لیکن کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کا ضبط جواب دے گیا اور وہ دروازے کے پر سر ٹکا کر رونے لگی۔ ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ کئی دنوں تک عائرہ کو اپنے میڈیکل کالج جاتے آتے ازان حیدر خان کا ڈر لگا رہتا تھا۔ اس کا کئی دفعہ سفیان کو گھر کے حالات سے با خبر کے کا دل کرتا مگر پھر اس کی مصروفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے خاموش ہوجاتی۔ "آج میرا انداز بہت پسند آیا جج صاحبان کو۔۔۔۔۔ میں نے انگلش لاءیر کی بولتی بند کر دی تھی۔۔۔۔۔ اور پتہ ہے۔۔۔۔" اس کی دس دن بعد اس سے کال پر بات ہورہی تھی اور سفیان دن بھر کی رو داد سناتے سناتے چپ ہوگیا۔ "کیا بات ہے جان۔۔۔۔۔ تم اتنی چپ چپ کیوں ہو۔۔۔۔۔ گھر پر سب خیریت ہے نا۔۔۔۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔۔" سفیان نے عائرہ کے مسلسل خاموشی پر استفسار کیا۔ "ہاں۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ اور مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔۔۔ وہ بس۔۔۔۔ پڑھائی کی ٹینشن زیادہ ہے۔۔۔۔۔ تم تو جانتے ہو ڈاکٹر بننا اتنا آسان تھوڑی ہے۔۔۔۔" عائرہ نے ہنستے ہوئے بات کا پہلو بدل دیا۔ "آسان تو کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ لیکن اس اسٹیج کی محنت آگے بہت کام آتی ہے۔۔۔۔" کچھ دیر پڑھائی کے متعلق بات کر کے عائرہ نے کال کاٹ دی۔ چونکہ گھر میں سے کسی نے سفیان کو حالات سے آشنا نہیں کیا تھا اس لیے عائرہ بھی اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سفیان دن میں لاء کالج ہوتا شام کو عدالت چلا جاتا اور رات کو آکر سوجاتا اس لیے بذات خود اسے نیوز دیکھنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ "میری مانو تو اس لڑکی کو رخصت کرو۔۔۔۔۔ ارےےے ابتہاج ابھی جوان ہے۔۔۔۔۔ دوسری شادی کروا دینگے۔۔۔۔۔" ایک ہمسایہ نے حورین خانم کو تجویز دی۔ "اور نہیں تو کیا۔۔۔۔ ابھی آپ نے ابستام کی بھی کروانی ہے۔۔۔۔۔ جب تک یہ مسئلہ بنا رہے گا کون دے گا اسے اپنی لڑکی۔۔۔۔" دوسری نے اپنے حصے کا اضافہ کیا۔ حورین خانم محض سر ہلاتی رہ گئی تھی۔ "امی جان پلیزز۔۔۔۔۔۔ آپ کیوں ان عورتوں کی باتوں میں آرہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ " شام کو جب امی جان نے ابتہاج سے اس معاملے میں بات کی تو وہ چڑ گیا۔ "ایک دفعہ سوچ لو۔۔۔۔ کتنی بدنامی ہورہی ہے۔۔۔۔۔ میں تمہارے لیے اس سے بھی زیادہ خوبصورت اور قابل لڑکی ڈھونڈوں گی۔۔۔۔۔" انہوں نے جذباتی ہوتے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔ وہ جانتی تھی ابتہاج ان کا بہت فرمانبردار ہے۔ "بیگم یہ آپ۔۔۔۔۔" حسین صاحب نے مداخلت کی لیکن حورین خانم نے انہیں خاموش کرا دیا۔ " میں حالات سے گھبرانے والوں میں سے نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ میں ایسے مسائل سے ڈر کر زینب کو نہیں چھوڑنے والا۔۔۔۔۔ آپ اپنی خوبصورت اور قابل لڑکی ڈھونڈنے کی خواہش شوق سے پورا کریں لیکن میرے لیے نہیں۔۔۔۔۔ ابتسام کے لیے۔۔۔۔۔" ابتہاج ہاتھ اٹھا کر اپنا فیصلہ سنا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ زینب گھر میں چل رہے بحث سے بخوبی واقف تھی۔ وہ جانتی تھی امی جان اگر اسے گھر سے نکالنے میں کامیاب نہ ہوسکی تو کم سے کم ابتہاج کی دوسری شادی تو لازمی کروا کر دم لیں گی۔ وہ کمرے میں آئی تو ابتہاج آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا سونے کی اداکاری کر رہا تھا۔ وہ زینب کے شکوہ کن نظروں کو نظر انداز کئے ہوئے تھا۔ "مجھے پتہ ہے آپ اٹھے ہوئے ہو۔۔۔۔۔"زینب نے دل گرفتہ ہوتے اس کا بازو ہٹایا۔ "آپ امی جان کی بات مان لیں۔۔۔۔ کر لیں دوسری شادی۔۔۔۔۔ " اس نے دل پر پتھر رک کر تجویز دی۔ ابتہاج مسکراتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ "تم دنیا کی پہلی عورت ہو جو شوہر کے انکار کے باوجود اسے دوسری شادی کی اجازت دے رہی ہو۔۔۔" اس نے زینب کا مرجھایا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔ "تم فکر مت کرو۔۔۔۔ میں سوسائٹی کی باتوں میں آکر یا امی جان کے بہکاوے میں آکر تمہیں نہیں چھوڑنے والا۔۔۔۔۔ ہمارا رشتہ اتنا کمزور نہیں ہے جو ایسے چھوٹے مشکلات سے ٹوٹ جائے۔۔۔۔۔" اس نے زینب کے پیشانی پر بوسہ دیتے یقین دہانی کروائی۔ زینب نے آنکھیں بند کر کے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ اسے نیک مردوں میں سے ایک دیا گیا تھا اور وہ اس نعمت کی تہہ دل سے شکر گزار تھی۔ ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤