Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 2
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 2
“رانا صاحب۔۔۔۔۔” کرن انہیں مخاطب کرتی ان کے پیچھے پورچ تک آئی۔
“حکم میری جان۔۔۔۔ ” وہ گاڑی کے جانب جاتے جاتے رکے اور آنکھوں پر سے سیاہ گاگلز اتار کر اپنی سر چشمہ زندگی کو دیکھنے لگے۔
“دوپہر کو مری کے لیے نکلنا ہے۔۔۔۔۔۔ یاد ہے نا۔۔۔۔۔” اس نے آنکھوں کی پتلیاں سکیھڑے رانا صاحب کو دیکھا۔
رانا صاحب کے تاثرات ایک پل کے لیے ساکت ہوگئے۔ وہ واقعی مری کی ٹرپ بھولے ہوئے تھے۔
“فکر ناٹ۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے۔۔۔۔ میں جلدی آجاوں گا۔۔۔۔” لیکن اگلے ہی پل مسکراتے ہوئے انہوں نے کرن سے جلدی آنے کا وعدہ کیا اور اس کا بازو تھپتھپا کر یقین دہانی کروائی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
یہ منظر مری کا ہے۔ رانا مبشر نے کچھ سالوں پہلے نتھیا گلی سے آگے پہاڑ کی چوٹی پر ایک فارم ہاوس بنوایا تھا جو ندی سے قریب پڑتا تھا۔ وہ دونوں بھائی اپنے بیوی بچوں سمیت ہر سال وہاں چھٹیاں گزارنے آیا کرتے تھے۔
دوپہر کو نکلے تو شام کو مری پہنچے۔ رات فارم ہاوس پر خوب آرام کر کے وہ سب صبح کو سیر کے لیے نکلے۔ ان دنوں مری کا موسم بہت خوشگوار اور محسور کن تھا۔ ہلکے بادلوں سے آسمان دھکا ہوا۔ فضاء میں بہار کی ٹھنڈی ہوائیں آنے والے سیاحوں کو اپنے سحر میں کھو جانے کا پورا حق ادا کر رہی تھی۔
“پاپا کشتی میں بیٹھتے ہیں۔۔۔۔” پہاڑی سے اتر کر جب وہ دونوں فیملیز ندی کے سرے پر پہنچے تو سفیان کشتی میں بیٹھنے کی ضد کرنے لگا۔
“ہاں کشتی میں جانا ہے۔۔۔۔۔ کشتی میں جانا ہے۔۔۔۔” سفیان کی ضد پر ارحام نے بھی ایڑیاں رگڑنی شروع کی۔
دس سے پندرہ منٹ بعد دو کشتیاں بُک کی گئی۔ ایک میں روحان نور اور سفیان بیٹھے جبکہ دوسرے میں رانا صاحب ارحام اور زینب۔
عائرہ کو گہرے پانی سے ڈر لگتا تھا اس لیے اس نے ندی میں جانے سے معذرت کر لی۔ کرن عائرہ کے ہمراہ کنارے پر ہی رک گئی اور ان کے ساتھ مروتاً ذیشان نے ٹھہرنا مناسب سمجھا۔
پورا پون گھنٹا لگا ان سب کو ندی کا چکر لگا کر واپس کنارے پر آنے میں۔ ابھی وہ کنارے سے کچھ فاصلے پر ہی تھے جب چائے والے کے ٹھیلے پر عائرہ نے ان کو آتے دیکھ کر اچھلتے ہوئے ہاتھ بلند کر کے ہوا میں لہرائے۔
“ارحام۔۔۔۔۔۔۔ارحام۔۔۔۔۔۔ ” وہ بلند آواز صدا لگاتی ان کو اپنے جانب متوجہ کرنے لگی۔
اس کی آواز سنتے ارحام بھی خوشی سے چہکتا اپنی جگہ سے اٹھا اور اچھلتے ہوئے ہاتھ لہرانے لگا تھا کہ ایک جگہ کشتی ڈگمگائی اور ارحام لڑکھڑا کر پانی میں گر گیا۔
“ارحام۔۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے اسے پکارتے پھرتی سے پانی میں چھلانگ لگائی اور لپک کر ارحام کو تیزی سے پانی سے نکال کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ روحان بھی مدد کرنے اپنے کشتی سے اتر کر تیزی سے رانا صاحب کے جانب بھاگا۔
رانا صاحب ارحام کو خود سے لگائے چلتے ہوئے کنارے پر آئے۔ انہوں نے صد شکر ادا کیا کہ وہ کنارے کے قریب تھے اور پانی زیادہ گہرا نہیں تھا۔ کنارے پر پہنچ کر بھی ارحام ڈرا سہما روتا کھانستا ٹھنڈ سے تر تر کانپتا اپنے ڈیڈ کے سینے سے لگا ہوا تھا۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔۔ اٹس فائن میرا بچہ۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ ہے نا آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ ڈیڈ آپ کو کچھ نہیں ہونے دینگے۔۔۔۔۔” رانا صاحب اپنے لخت جگر کو سینے میں بھینجے اس کی پیٹھ تھپتھپاتے دلاسہ دے رہے تھے۔
کرن بھی رانا صاحب کے پہلو میں بیٹھ کر بھیگی آنکھوں سے ارحام کا ہاتھ چومتی اسے پیار کرنے لگی۔
(حال)
بھیگی پلکیں اٹھا کر کرن نے سامنے دیکھا تو منظر بدل چکا تھا۔ وہ ماضی کی یادوں سے حال میں لوٹ آئی تھی۔اس نے سائید ٹیبل پر رکھے 17 سالہ نوجوان ارحام کی تصویر کو اٹھا کر سینے سے لگایا۔ نا جانے آج اس کے جگر کا ٹکڑا کس کس طوفان میں پھنسا تھا لیکن اسے بچانے اس کے ڈیڈ کا ساتھ نہیں تھا۔ نا جانے وہ زندگی کے دلدل میں کس حد تک دھنس چکا تھا لیکن اس کا ہاتھ تھامنے اس کی ماں ساتھ نہیں تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
تاریک رات کے اس پہر وہ سفید شرٹ اور بلیو جینز (جن کو وہ پچھلے دو سالوں سے استعمال کر رہا تھا)، پر اس نائٹ کلب (جہاں وہ کام کرتا تھا) کے نیم ٹیگ والا ایپرن پہنے ہاتھوں میں سپرے کی بوتل اور کپڑا لیئے میزوں کی صفائی کر رہا تھا۔
یہ شاید کسی نے خواب میں بھی نہ سوچا ہوگا کہ زندگی ایسا رخ بھی لیں گی جہاں ارحام مبشر، مشہور اور معروف رعب و دبدبہ کے مثال دنیا کے ٹاپ بزنس مین رانا مبشر اور اپنے وقت کی با عزت سب کی دل نشین مصنفہ اور سوشل ایکٹیوسٹ کرن مبشر کا چشم و چراغ، ان کا بیٹا ایک نائٹ کلب میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرنے پر مجبور ہوگا۔
“بار از کلوزد۔۔۔۔۔” ارحام نے پاس سے گزرتے اس سرخ و سفید سنہرے داڑھی مونچھ والے فرینچ کو ٹوکا۔
وہ موٹا چوڑا لمبا فرینچ آدمی شاید انگلش سے نا آشنا تھا۔ وہ ارحام کی بات سنے بغیر اپنی دھن میں آگے چلتا گیا۔ ارحام کے آبرو تن گئے۔ اپنے غصے کو قابو کرتے وہ بار کے بند ہونے کو اشارے سے سمجھانے کی کوشش کرنے لگے۔ اس سرخ و سفید چھوٹی آنکھوں اور سنہرے بالوں والے آدمی نے فرینچ میں بڑبڑاتے ہوئے ارحام کو پرے دکھیلا۔
“دکھیلنے تک تو ٹھیک تھا۔۔۔۔۔۔ پر میری مما کو گالی نہیں دینی چاہیئے تھی۔۔۔۔۔” اس نے دانت پیستے ہوئے غضب سے فرینچ آدمی کو دیکھا اور بار کے شیلف پر سے ایک شراب کی بوتل اٹھا کر اپنے پورے تاب سے اس آدمی کے سر پر پھوڑ دی۔ وہ کراہ اٹھا اور سر پکڑ کر لڑکھڑاتا ہوا زمین بوس ہوگیا۔ دو سال سے پیرس کی گلیوں میں پِھرتے کم سے کم وہ اتنی فرینچ ضرور سیکھ گیا تھا کہ گالی اور عام گفتگو میں فرق بتا سکے۔
کلب کے مالک نے توڑ پھوڑ اور رونے کراہنے کی آوازیں سنی تو حواس باختہ سا نیم برہنہ حالت میں اپنے کمرے سے باہر آیا اور سامنے کا منظر دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔
“ستیاناس ہو تیرا۔۔۔۔۔۔ کم بخت لڑکے۔۔۔۔۔۔ وہ کونسی منحوس گھڑی تھی جب میں نے تجھے یہاں کام پر رکھا۔۔۔۔۔ جب سے آیا ہے میرا نقصان ہی کروائے جا رہا ہے۔۔۔۔۔ اب کھڑے کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو میرا۔۔۔۔۔ جلدی ایمبولینس منگواو۔۔۔۔۔ میرا کلب بند کروائے گا کیا۔۔۔۔۔” وہ چھوٹا قد موٹے جسامت کا اڈھیر عمر آدمی فرینچ اور انگلش مکس کر کے ارحام کو جھڑکتا بار کے پاس آیا اور خون سے لت پت ہوتے اس وجود کو دیکھ کر روہانسی ہوگیا۔
“جب دیکھو۔۔۔۔۔ اپنی طاقت آزماتا رہتا ہے۔۔۔۔۔ باپ کی جاگیر سمجھ رکھا ہے میرے کلب کو۔۔۔۔۔” وہ مسلسل خود کلامی کرتا ارحام پر جملے کس رہا تھا۔
“سر باپ پر مت جاو۔۔۔۔۔” اس نے سنجیدگی بھرے لہجے میں کہتے مڑ کر کاونٹر پر پڑے فون کا کریڈل اٹھایا اور ایمبولینس کا نمبر ڈائل کیا۔
“کیوں تیرا بات کسی ریاست کا وزیر اعظم ہے کیا۔۔۔۔۔ اب اتنے نقصان کا ہرجانہ کون بھرے گا۔۔۔۔۔ ایسے مردوں کو جب اولاد سنبھالنی نہیں آتی تو پیدا کیوں کرتے ہے۔۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔” مالک کے طنزیہ کلمات ارحام کا پارا آسمان کو چڑھانے میں خوب مدد دے گئے۔
وہ ایڑیوں کے بل گھوما اور مالک کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا اس پر جھڑپ پڑا۔
کلب کا مالک جو اس زخمی آدمی کو بیٹھانے میں مدد کر رہا تھا ارحام کے اچانک حملے کے لیے تیار نہ تھا۔
“بولا نا۔۔۔۔۔باپ۔۔۔۔ پر۔۔۔۔۔مت۔۔۔۔جانا۔۔۔۔۔” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے مالک کا گلا دبوچے اسے دیوار سے لگا گیا۔
اس نوجوان لڑکے کے خونی انداز سے کلب اونر گھبرا گیا اور ہار ماننے کے جیسے ہاتھ ہوا میں اٹھا دیئے۔
ارحام گرم اور تیز تنفس لیتا اس سے دور ہٹا۔ اپنا ایپرن اتار کر زور سے فرش پر پھیکھا۔ حقارت بھری نظروں سے وہ کلب اونر اور پھر سر پھٹے آدمی کو دیکھتے لمبے لمبے ڈگ بھرتا مین گیٹ کے جانب روانہ ہوگیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“یو ڈیم اٹ ارحام۔۔۔۔۔۔ کیا کر دیا تُو نے۔۔۔۔۔۔ یہ تیسری جاب ہے جو تیرے جنون کی وجہ سے تیرے ہاتھ سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔” وہ گیٹ کے دائیں جانب اسٹریٹ لائٹ کے پلر پر زور زور سے مکہ مارتا اپنی بے بسی پر پچھتا رہا تھا۔
آخری ضرب پر اس کے ہاتھ میں درد کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اسسسس کرتا اپنا ہاتھ پیچھے کرتا لب مینچھے آگے بڑھ گیا۔ پارکنگ میں آکر اس کی نظر سامنے کھڑی بلیک کلر کی چمکتی گاڑی پر پڑی۔
“چلو ابھی ایک آسرا باقی ہے۔۔۔” اس نے جیب سے ایک ڈیجیٹل چابی نکالی اور بٹن دبا کر کار کا دروازہ کھولا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے بیک ویو مرر میں خود کو سنبھالتے تاثرات کمپوز کئے۔ جو بھی ہو پر تھا تو وہ رانا مبشر کا خون۔ نا وہ حالات سے مات کھانے والوں میں سے تھا نہ قسمت کا رولا ڈالنے والوں میں سے۔
دس منٹ بعد وہ اپنے موبائل سے UBER سسٹم ایکٹیو کر کے ہائی وے پر گاڑی دوڑا رہا تھا۔
یہ بلیک کلر کی چمکتی کار اس کے دوست کی تھی جو وہ ارحام کو اوبر کے ذریعے چلا کر اپنے لیے روزی کمانے کو دے دیا کرتا تھا۔
ہائے وے پر تیز سپیڈ سے کار چلاتے وہ ایک موڑ مڑا ہی تھا کہ اسے اپنے عقب میں پولیس موبائل کا سائرن سنائی دیا۔ وہ موبائل اس کا تعاقب کرتے اسے رکنے کا اشارہ دیتے سائرن بجا رہے تھے۔
“یہ ساری مصیبتیں ایک ساتھ آج ہی آنی تھی۔۔۔۔۔” ارحام کے تاثرات بدل گئے۔ وہ بیک ویو مرر میں اس موبائل کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔ اس نے غصہ ضبط کرنے سٹیرنگ پر ہاتھ دے مارا اور کار ایک سائیڈ پر روک دی۔
دو سرخ و سفید چھوٹی آنکھوں اور بڑی بڑی مونچھوں والے پولیس آفسر اس کے پاس آئے اور فرینچ میں گویا ہوئے۔
“No french…. English please…..”
ارحام مدافعتی انداز میں معصوم تاثرات بنائے انہیں وضاحت دینے لگا۔
“تم سگنل توڑتے ہوئے نو اینٹری میں گھس آئے ہو۔۔۔۔” ایک آفسر نے فرینچ طرز کے انگلش میں اسے در پیش مسئلے سے روشناس کرایا۔
“اووو۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔۔ میرا دھیان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔ میں واپس نکل جاوں گا۔۔۔۔۔ تھینکیو آفسر۔۔۔۔۔” ارحام نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔
Wait a second young boy
ان میں سے بڑے آفسر نے ہاتھ بڑھا کر سٹیرنگ پر ایک قسم کا آلا لگا دیا جس سے وہ ساکت ہوگئی اور ارحام کے فرار کا راستہ مسدود کر دیا۔
Show me your passport and driving license
اب وہ تند تاثرات بنائے اس سے ضروری دستاویزات مانگ رہا تھا۔ اے سی کے ٹھنڈی کار میں بھی ارحام کے چہرے پر نمودار ہوتا پسینہ اسے مشکوک ثابت کرنے کافی تھا۔
وہ اپنی جیب ٹٹولتا۔ کار کے ڈش بورڈ کو کھول کر کاغذات ڈھونڈنے کی اداکاری کرنے لگا۔ چونکہ وہ دو سال پہلے غیر قانونی طریقے سے فرانس آیا تھا اور دوست کے رحم و کرم پر اس کی کار بطور اوبر چلا کر اپنا پیٹ پال رہا تھا اس لیے نا اس کے پاس لائسنس تھا نا پاسپورٹ۔
ارحام کا گلا خشک ہونے لگا۔ وہ ان کے تفتیش سے بچنے کے ترغیبات سوچنے لگا لیکن اس کا دماغ دوڑانا بے سود تھا اس آفسر نے دروازہ بجا کر اسے کار سے اترنے کا کہا۔ وہ مجبوراً ہاتھ ملتا لب مینچھے کار سے باہر نکل آیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” officer please let me explain…. just once listen to me….. please give me a chance….”
ارحام آدھ گھنٹے سے پولیس اسٹیشن میں اس آفسر کے آگے پیچھے گھومتا انہیں قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
Your penalty is 700 euro
اس آفسر نے کچھ لکھتے ہوئے اسے اس کے جرمانے کی رقم سے آگاہ کیا۔
وہ محل کا شہزادہ۔ رانا مبشر کے ہر عضو کا وارث۔ کرن کے ارمانوں کا مجسمہ۔ جس کی جیب میں اس وقت پھوٹی کوڑی تک نا تھی وہ سات سو یورو کہاں سے جرمانہ بھرتا۔
فرانس میں اس کے جنونی فطرت کے باعث اس کی اب تک کسی سے ایسی دوستی نہیں ہوسکی تھی جسے وہ مشکل وقت میں مدد کے لیے بلا سکے۔
وہ اس بات سے بھی خوب واقف تھا اگر جرمانہ نا بھرنے پر پولیس آفسر نے اسے پاکستان ایمبیسی کے حوالے کیا تو وہ رات ختم ہونے سے پہلے اسے پاکستان دیپورٹ کر دینگے بلکہ غیر قانونی طریقے سے فرانس آنے پر اسے جیل بھی بھجوا سکتے ہیں۔
ایک امید کے تحت اس نے آفسر کے کال کرنے کی درخواست کی۔ جونہی اسے اجازت ملی اس نے کلب کے مالک کو کال ملائی۔
“سر۔۔۔۔ میں ایک مشکل میں پھنس گیا ہوں۔۔۔۔۔ تھوڑی مدد کر دینگے۔۔۔۔۔ میں ڈبل شفٹ کام کر دیا کروں گا۔۔۔۔۔ فری میں آپ کی سروس کروں گا۔۔۔۔۔ بس ابھی مدد کر دے۔۔۔۔” اس وقت قسمت کے ہاتھوں اپنے آپ کو وہ جس قدر لاچار تصور کر رہا تھا شاید ہی پہلے کبھی کیا ہو۔
“ایک تو میرا اتنا نقصان کرا کر۔۔۔۔۔ مجھ پر حملہ بول کر۔۔۔۔۔ میری رحم میں دی ہوئی نوکری میرے منہ پہ مار کر گئے ہو۔۔۔۔۔ اوپر سے میں تمہاری مدد کروں۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ کیا رکھا ہے تم نے۔۔۔۔۔ مجھے پاگل کتے نے نہیں کاٹا۔۔۔۔۔” اسپیکر پر مالک نے بے درد لہجے میں اسے ڈپٹ کر کال کاٹ دی۔
وہ خالی ذہن اپنے موبائل کو تکنے لگا۔
“اگر اس وقت وہ پاکستان میں ہوتا تو کیا اس کے ڈیڈ اسے بچاتے۔۔۔۔۔” دل ہی دل اس نے خود سے سوال کیا۔
“یقیناً بچاتے۔۔۔۔۔ وہ اپنی پوری دولت اس پر نچھاور کر دیتے۔۔۔۔۔۔” اس کے ضمیر نے اسے ملامت کیا۔
“آ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔ میرے اللہ۔۔۔۔۔۔ یہ کیسا گناہ سر زد ہوگیا ہے مجھ سے۔۔۔۔۔ باپ کے مان کو توڑنے کا گناہ۔۔۔۔۔ ماں کو رلانے کا گناہ۔۔۔۔۔ بہن کی عزت داو پر لگانے کا گناہ۔۔۔۔۔” اس نے اپنے آپ پر لعنت ملامت کرتے ہوئے سوچا۔
سامنے بیٹھے آفسر نے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مار کر ارحام کو اپنے جانب متوجہ کیا۔
“One more call please….. last one…..”
اس کے حواس بیدار ہوئے اور شرم ساری سے ڈوب مرنے کے چوراہے پر اسے ایک اور شخص یاد آیا۔ ایک پل کو اس کا دل بیٹ مس کر گیا۔ وہ انسان پہلے بھی اس کا مسیحا بن کر آیا تھا اور آج بھی ارحام کو اسی سے امید تھی۔
“Hallo…”
دو بیل جانے پر کال موصول کی گئی اور کال کے دوسرے جانب فرینچ طرز میں اس نے ایک نسوانی آواز سنی۔
” i need you hadeel…..”
“میں ایک پرابلم میں پھنس گیا ہوں۔۔۔۔ آئی نیڈ یو حدیل۔۔۔۔۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔۔۔” ارحام نے مبہم آواز میں کہا۔ نا انگلش نا فرینچ وہ کال پر موجود مخالف جنس سے اردو میں گویا ہوا۔
“ہممم۔۔۔۔ کہو کیا پرابلم ہے۔۔۔۔” جواب بھی مغربی طرز موٹی موٹی اردو میں ملا۔
ارحام کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس نے من و عن، جُو کے تُو کلب میں ہوئے حادثے سے لیکر اب تک ساری رو داد سنائی۔
” اوکے۔۔۔۔ میری آفسر سے بات کرواو۔۔۔۔” پورا معاملہ جان کر حدیل نے سپاٹ انداز میں کہا۔
اس کے لہجے کی پروا کئے بغیر ارحام نے اپنا موبائل سامنے بیٹھتے آفسر کی طرف بڑھایا۔
آفسر اور حدیل نے فرینچ زبان میں تبادلہ خیال کیا۔
ارحام کو ان کی گفتگو تو سمجھ نہیں آئی لیکن آخر میں آفسر کو سر اثابت میں جنبش دیتے ہوئے دیکھ کر وہ مطمئن ہوگیا۔ حدیل اپنا کام کر چکی تھی وہ آفسر کو قائل کر چکی تھی۔
Sit here…. your friend is coming….
اس آفسر کو اپنی نشست سے اٹھتے دیکھ کر ارحام بھی اٹھنے لگا تھا لیکن آفسر نے واپس بیٹھنے کو کہا اور حدیل کی آمد کی اطلاع دی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کرن اپنے کمرے میں بیڈ پر نیم دراز ہو کر بیٹھی اپنا دھیان بٹانے کوئی کتاب پڑھ رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے کتاب پر سے نظریں اٹھا کر دروازے پر کھڑے اس شخص کو دیکھا۔ بے روخی کا یہ عالم تھا کہ رانا مبشر کو کرن کے کمرے میں آنے کے لیے دستک دینی پڑتی تھی۔
کرن سیدھی ہو کر بیٹھی تو جیسے رانا مبشر کو اندر آنے کی اجازت ملی۔ انہوں نے بیڈ پر اس کے پہلو میں بیٹھ کر اس کے جھکے چہرے پر نظریں جما دی۔ ان کی خوبصورت بیوی کتنا بدل گئی تھی۔ چہرہ زرد پڑنے لگا تھا جسم بوجھل ہوگیا تھا۔ رات بھر جاگتے اور روتے رہنے سے آنکھوں کے گرد گہرے حلقوں کا بسیرا بن گیا تھا۔
رانا صاحب سے کرن کی ایسی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ انہوں نے محبت سے کرن کے ہاتھ کو تھاما جو کرن نے مضطرب ہو کر واپس کھینچ لیا اور ان کے پاس سے کھسکتی سمٹ کر بیٹھ گئی۔
رانا مبشر جتنی ہمت جمع کر کے اس کے پاس آئے تھے کرن کے اس رویے پر رو دینے کو ہوگئے لیکن بر وقت اپنے آپ کو کمپوز کر کے لمبی سانس لی۔
“میں جتنی جلدی ہوسکے۔۔۔۔۔ عائرہ کی شادی کر دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔” بات کا آغار عائرہ کی شادی سے ہوا۔ وہ اپنی خراب طبیعت کا بتا کر کرن کو مزید اذیت نہیں دینا چاہتے تھے اس لیے وہ بات دل میں راز کر لی۔
“تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔۔” بے حد نرمی سے کہتے انہوں نے ایک امید بھری نظر سے کرن کو دیکھا۔ وہ کم سے کم کرن کے ساتھ درشتی سے گفتگو نہیں کر سکتے تھے اور یہ بات کرن بھی جانتی تھی۔
“جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔۔۔ میں کچھ بھی کہوں۔۔۔۔۔ کرنا تو آپ نے اپنے من کی ہے۔۔۔۔۔ تو میرا نظریہ پوچھنے کا کیا فائدہ۔۔۔۔۔۔ میں تو بس ایک بے مول مادہ بن کر رہ گئی ہوں۔۔۔۔” اس کے الفاظ میں طنز نہیں تھا صرف درد تھا جس پر رانا صاحب نے لب مینچھ لیئے۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ تم عائرہ سے بات کر لینا۔۔۔۔” اپنا فقرہ مکمل کر کے وہ رکے نہیں تھے۔
ان کے اٹھ کر جاتے کرن نے بے بسی سے ان کی جھکی پیٹھ کو دیکھا۔ اولاد کی غلطیاں باپ کی شان سے اکڑی کمر کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ یہ مثال کرن کو اس وقت سمجھ آئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
