Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 15
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 15
دانین گھر لوٹی تو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی اور ناک سرخ ہورہی تھی۔ اس نے لرزتے ہوئے اپنے گھر کا گیٹ کھولا۔ پورے گھر میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ اس کا دل دہل گیا۔ لاونج میں قدم رکھتے بابا صوفے پر بیٹھے کوئی اسلامی کتاب پڑھتے نظر آئے۔ اماں اور تائی کچن میں رات کے کھانے کا اہتمام کرنے میں مصروف تھی۔
ہر سوں خاموشی دیکھ کر دانین سکون کا سانس لیتی اپنے کمرے کے جانب بڑھ گئی۔ لیکن یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی جسے وہ سمجھ نا سکیں۔
واشروم میں شاور کے دوران روتے ہوئے وہ اپنے جسم کو ڑگڑ ڑگڑ کر صاف کر رہی تھی۔ اسے آپ سے نفرت ہونے لگی۔ ارحام کا لمس یاد کرتے اسے شرمندگی کا احساس ہوتا تھا اور وہ اس غلاظت سے خود کو پاک کرنا چاہتی تھی۔
نہا کر اس نے نئے کپڑے زیب تن کئے۔ ڈوپٹہ سر پر لیتے چہرے کے گرد لپیٹا اور اللہ کے حضور نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی۔ ہر رکعت کے ساتھ اس پر رقت طاری ہوجاتی اور وہ کانپنے لگ جاتی۔
“اے میرے اللہ۔۔۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔۔۔۔ میں آپ کے راہ سے بھٹک گئی۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔۔۔۔ مجھے بچا لو۔۔۔۔۔ مجھے رسوا ہونے سے بچا لو۔۔۔۔۔ میرے باپ بھائی کے دل میں میرے لیے رحم ڈال دو۔۔۔۔۔ میں دوبارہ ایسی غلطی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ میرے اللہ میری فیملی کی عزت داغ دار ہونے سے بچا لو۔۔۔۔” ہاتھ دعا میں اٹھائے وہ کتنی ہی دیر اللہ کی پناہ مانگتی روتی رہی۔ ہوش تب آیا جب اس کا گھر طوفان کی زد میں آگیا۔
اذان حیدر خان بلند آواز اسے پکارتا گھر میں داخل ہوا۔ اس نے کمرے سے نکلتے زیر لب کلمہ پڑھا۔ وہ جانتی تھی یہ طوفان اسے ڈبو دیں گا۔ زندہ رہی بھی تو وہ پھر سر اٹھا کر جی نہیں سکے گی۔
“اذان سب خیریت تو ہے۔۔۔۔۔ کیوں اتنے طیش میں ہو۔۔۔۔۔” قاری حیدر خان نے بیٹے کے تنے تاثرات دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔
“یہ اپنی لاڈلی سے پوچھیں بابا۔۔۔۔۔۔ کیا گل کھلایا ہے اس نے۔۔۔۔۔۔ ” اذان کی آواز بے لچک تھی۔
حیدر خان نے تعجب سے رخ پیچھے موڑ کر کمرے کے دروازے سے لگی دانین کے جانب دیکھا تو وہ سر جھکا گئی۔
“کیا کیا ہے اس نے۔۔۔۔۔” حیدر خان نے شکستہ آواز میں اذان کو مخاطب کیا۔
” اس نے وہ کیا تایا ابو۔۔۔۔۔۔ جس سے ہم بھی محلے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں بچیں۔۔۔۔۔” جواب دانین کے چھوٹے کزن کے جانب سے ملا۔
حیدر خان کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا۔ دل میں الگ الگ وسوے امڑنے لگے۔
“کون ہے وہ لڑکا۔۔۔۔۔” لالا نے آگے آکر دانین کا بازو دبوچ کر اسے جھنجوڑا۔
“کون لڑکا۔۔۔۔۔” حیدر خان کا گلا خشک ہونے لگا۔ اماں پر مانو آسمان ٹوٹ پڑا تھا وہ سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے دانین کو دیکھ رہی تھی۔
“وہی جس کے ساتھ یہ۔۔۔۔۔ ” اذان خاموش ہوگیا۔ بڑے بزرگوں کے سامنے اس سے اپنی بہن کے بارے میں ایسا بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔
دانین نے اشک بار آنکھوں سے پہلے لالا کو دیکھا پھر بابا کو ۔ وہ لالا سے اپنا بازو چھڑا کر بابا کے سینے سے جا لگی۔
“بابا معاف کر دیں غلطی ہوگئی۔۔۔۔۔۔ پلیز بابا۔۔۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔۔ ” وہ حیدر خان کے سینے پر سر رکھ کر زار و قطار رونے لگی۔
“ہوا کیا ہے کوئی بتائے گا بھی۔۔۔۔۔” ڈٹی آواز میں سوال دانین کے تایا ابو کے جانب سے ہوا۔ ان سے اپنے گھر کا ماحول بگڑتا ہوا دیکھا نہیں گیا۔
دانین نے کرب سے آنکھیں بند کر لی تھی۔ اذان اپنے غضب کو قابو کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ حیدر صاحب سے کچھ بولا نہیں گیا۔ اماں کے آنسو جاری ہوچکے تھے۔
“ایک لڑکے کے ساتھ نا زیبا حرکت کرتے ہوئے ویڈیو آئی ہے اس کی انٹرنیٹ پر۔۔۔۔” جب اذان اور باقی کزنز کے جانب سے جواب نا ملا تو دانین کے چاچو نے کنکارتے ہوئے دونوں بڑے بھائیوں کو درپیش مسئلے سے آگاہ کیا۔
باسط خان کی بات سن کر منصور خان اور حیدر خان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ حیدر خان کے ہاتھ پہلو میں جا گرے۔ اذان نے لب مینچھے مٹھیاں سخت کر لی تھی۔ دانین کا دل کیا وہ کہی ڈوب کر مر جائے فنا ہوجائے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ویڈیو اس کے بھائی اور کزنز کے علاوہ چاچو تک بھی پہنچ جائے گی۔
“بس اب یہی رہ گیا تھا کہ اس گھر کی بیٹیوں کی ویڈیو انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگے۔۔۔۔۔” تائی نے سینہ کوبی شروع کر دی۔
“اللہ اللہ دانین یہ کیا کر دیا۔۔۔۔۔ ناک کٹوا دی پورے خاندان کی۔۔۔۔۔” چاچی نے بھی اپنے حصے کا اضافہ کیا۔
“جب منع کیا تھا کہ آگے مت پڑھاو۔۔۔۔۔۔ دسویں کرا کر بیاہ دو۔۔۔۔۔ تب بہت اعتماد دکھا رہے تھے اپنی بیٹی پر۔۔۔۔۔ اب دیکھو کیا کر دیا ہے اس نے۔۔۔۔” منصور خان کا پارا چڑھنے لگا وہ حیدر خان کو سنانے لگے۔
حیدر خان نے خاموشی سے دانین کو اپنے حصار سے الگ کیا۔
“بابا میری بات سنے میں آپ کو سب بتاتی ہوں۔۔۔۔ بابا میرا یقین کریں۔۔۔۔۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔۔۔۔۔ بابا۔۔۔۔۔” دانین ان کے پیروں میں بیٹھ گئی۔
اذان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اس نے دانین کو بالوں سے جکڑ کر اٹھایا۔
“نام کیا ہے اس کا۔۔۔۔۔ گھر کہاں ہے اس کا۔۔۔۔۔” انگار برستی آنکھوں سے اس نے دانت پر دانت جمائے ہوئے پوچھا۔
دانین نے لزرتی آواز میں ارحام کا نام اور پتہ بتایا وہ اسے فرش پر پٹختا کمرے کے اندر بھاگا اور پستول لیتا گھر سے باہر کو بھاگا۔
“اذان رک جاو۔۔۔۔۔ اذان۔۔۔۔۔” حیدر خان نے بیٹے کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس پر غیرت کا جنون سوار ہوگیا تھا۔
“روکے اذان کو۔۔۔۔۔ خدا را خون خرابہ نہ کریں۔۔۔۔۔ معاملے کو بیٹھ کر حل کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اذان میری بات سنو۔۔۔۔۔” اماں نے شوہر کے آگے ہاتھ جوڑے پھر بیٹے کو پکارتی لاؤنج سے باہر نکل گئی۔
دانین کا سر چکرانے لگا۔ اس کی ایک غلطی نے خان فیملی کی ساکھ بکھیر کر رکھ دی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ایسا ہی ایک طوفان رانا ہاوس میں ارحام کا منتظر تھا۔ وہ ابھی ابھی گھر لوٹا اور لاؤنج میں داخل ہوتے ہوتے رک گیا۔ بڑے صوفے پر کرن اور نور بیٹھی زینب کی جیولری دیکھ رہی تھی۔
ارحام نے خون کے دھبے لگے شرٹ کو اتار کر بیگ میں ڈال دیا اور چہرے کے آگے ہاتھ رکھ تیز تیز چلتا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کمرے میں چلا گیا۔ اس نے اپنے پیچھے کرن کی آواز سنی لیکن وہ نظر انداز کر گیا۔
واشروم میں گھس کر اس نے شاور ان کیا اور اپنے ہاتھوں اور چہرے پر لگے زخموں پر جمے خون کو صاف کرنے لگا تھا جب اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔
اس نے دوسری شرٹ پہن کر دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی کرن حواس باختہ ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
” یہ اتنی چوٹیں کیسے لگی ہے۔۔۔۔۔” وہ اس کے پیشانی پر رخسار پر ہونٹ کے پاس زخموں کو دیکھ اور بازووں پر لگے خراشوں کو دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی۔
“کچھ نہیں مما اتنی نہیں لگی۔۔۔۔ آپ جاو۔۔۔۔۔” ارحام کا اس وقت کسی سے بات کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا وہ کرن کو واپس بھیجنے لگا۔
“ارحام۔۔۔۔۔ کسی سے لڑائی جھگڑا کر کے آئے ہو۔۔۔۔” کرن نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
“نہیں مما۔۔۔۔ وہ بس۔۔۔۔۔۔ فرینڈ سے تھوڑی فائٹ ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ پر زیادہ کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔ پلیز ابھی مجھے اکیلے چھوڑ دو۔۔۔۔۔ آپ جاو۔۔۔۔” اس نے تنے ہوئے اعصاب سے کہا اور کرن کو کمرے سے باہر نکال کر دروازہ لاک کر دیا۔
بالکونی میں آکر وہ اپنا جنون قابو کرنے سموکنگ کرنے لگا۔ جا جا کر دانین کے الفاظ اس کا طمانچہ ارحام کو یاد آرہا تھا۔ اس کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
شام کے وقت اس کا آپا کچھ قابو ہوا ہی تھا کہ اسے شور سنائی دیا۔
“ارحام۔۔۔۔۔باہر نکل سالے۔۔۔۔۔ میں تیری کھال ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔۔۔۔۔ باہر آا تیری گرمی نکالتا ہوں۔۔۔۔۔” اذان خان سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ دھکم پیل کرتے بلند آواز میں دھاڑتے لاؤنج کے اندر گھس گیا۔
شور شرابا سن کر سب اپنے اپنے کمروں سے باہر آگئے تھے۔ ارحام بے تاثر چہرا بنائے نیچھے آیا تو اذان خان اس پر جھڑپ پڑا اور ارحام کو تیوڑی دبوچ لیا۔
“چھوڑو اسے۔۔۔۔۔ میں نے کہا چھوڑو۔۔۔۔۔ کون ہو تم۔۔۔۔۔ اس طرح ہمارے گھر میں گھس کر ہنگامہ کر رہے ہوں۔۔۔۔۔” ذیشان نے اذان خان کے ہاتھوں سے ارحام کو آزاد کرایا۔
“ارحام۔۔۔ کون ہے یہ۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے ارحام کے جانب دیکھا۔ وہ اتنا ضرور سمجھ گئے تھے ارحام کوئی نئی مصیبت کو دعوت دے کر آیا ہے۔
“میں نہیں جانتا۔۔۔۔ پتا نہیں کون ہے۔۔۔۔۔” ارحام جان کر بھی انجان بن گیا۔
“مجھے نہیں جانتے پر دانین کو تو جانتے ہو۔۔۔۔۔ میری بہن کے ساتھ ایسی حرکت کرنے پر میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔” اذان نے بپھرے شیر کے مانند ذیشان کے بازووں سے ہاتھ بڑھا کر ارحام کو جھڑپنے کی کوشش کی۔
ارحام اس کی پہنچ سے چند قدم پیچھے ہوگیا۔ اسی اثناء حیدر خان پولیس سمیت رانا ہاوس آگئے۔ رانا صاحب اور روحان پولیس کو دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔
“بابا آپ یہاں کیوں آئے۔۔۔۔۔ اسے میں اکیلے ہی دیکھ لوں گا۔۔۔۔۔” اذان بابا کے جانب بڑھ گیا۔
“اذان ہوش سے کام لو۔۔۔۔۔۔ میں بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔ تم اب کچھ نہیں کرو گے۔۔۔۔۔ سمجھ آئی۔۔۔۔۔” حیدر خان بیٹے کو سمجھانے لگے۔
“کیا کیا ہے تم نے۔۔۔۔۔ کون ہے یہ لوگ اور پولیس کیوں لائے ہیں۔۔۔۔۔ ” رانا صاحب کے طیش میں اضافہ ہوگیا۔
“کچھ نہیں کیا ڈیڈ۔۔۔۔۔ ان غریب لوگوں کو تو تماشہ بنانا ہوتا ہے۔۔۔۔ ” ارحام نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا۔
“رانا صاحب آپ کے بیٹے نے ان کی بیٹی کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت کی ہے اور اوپر سے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی ہے۔۔۔۔” پولیس آفسر نے پروفئشنل انداز میں رانا صاحب کو آگاہ کیا۔
رانا ہاوس میں سکوت چھا گیا۔ بے اختیار کرن آگے آگئی اور بے یقینی سے ارحام کو دیکھا۔ رانا صاحب اپنی جگہ منجمد ہوگئے تھے۔
“آفسر۔۔۔۔ کیا میں وہ ویڈیو دیکھ سکتا ہوں۔۔۔۔” ذیشان نے معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے استفسار کیا۔
حیدر خان نے معاملہ پولیس کے حوالے چھوڑ دیا تھا اور بابا کے منع کرنے پر اذان حقارت سے ارحام کو گھورتے خاموش رہنے پر مجبور تھا۔
آفسر نے ذیشان کو ویڈیو دکھائی۔ اس کا رنگ اڑتا دیکھ کر روحان نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے موبائل لیا اور خود بھی تصدیق کرنے لگا۔
رانا صاحب حرکت میں آئے انہوں نے روحان سے موبائل لینا چاہا تو ذیشان نے موبائل اچک لیا وہ بڑے پاپا کو اس تذلیل میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے جس سے روحان اور وہ خود اس وقت دو چار تھے۔
“ہمیں ارحام کو ہراسمنٹ کے کیس میں گرفتار کرنا پڑے گا۔۔۔۔” پولیس اہلکار نے اعلانیہ کہتے قدم ارحام کے جانب بڑھائے۔
ارحام کی سانس رکنے لگی اس نے بے بسی سے ڈیڈ کے جانب دیکھا پر وہ سپاٹ تاثرات بنائے سامنے دیکھ رہے تھے۔
“مما پلیززز۔۔۔۔۔ میں نے ویڈیو وائرل نہیں کی۔۔۔۔۔ وہ تالم شاہ کی چال تھی۔۔۔۔۔ بلیو می۔۔۔۔ یہ سب ایک مس انڈرسٹینڈنگ ہے۔۔۔۔ مما سیف می۔۔۔۔۔” رانا مبشر سے نا امید ہو کر ارحام کرن کے جانب بھاگا۔
“چھوڑو۔۔۔۔۔ لیو می۔۔۔۔” پولیس اہلکار اسے بازووں سے پکڑے گھسیٹنے لگے۔ وہ خود کو آزاد کرانے کے جتن کرنے لگا۔
ذیشان نے پولیس کو روکنے قدم بڑھائے تھے پر رانا صاحب نے اسے تند و تیز نظروں سے گھورا تو وہ وہی رک گیا۔ روحان بھی خاموشی سے ہاتھ پیچھے باندھے کھڑا تھا۔
ارحام بار بار کرن کو پکارتا رہا وہ اسے روکنے لگی پر رانا صاحب نے کرن کا ہاتھ جکڑ کر روک لیا۔ ارحام کی آنکھیں ڈبڈبا گئی۔
“کیا کر رہے ہے رانا صاحب۔۔۔۔۔ روکے انہیں۔۔۔۔۔ ارحام کہہ رہا ہے نا مس انڈرسٹینڈنگ ہے۔۔۔۔۔ روکے اسے۔۔۔۔۔ رانا صاحب پلیزززز۔۔۔۔۔” کرن حواس باختہ رانا صاحب کی منت کرنے لگی لیکن وہ مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھامے سرد نگاہوں سے ارحام کو جاتے دیکھ رہے تھے۔
پولیس وین میں سوار ہو کر جب ارحام کو لیں گئے تب رانا صاحب نے کرن کا ہاتھ پر گرفت چھوڑ دی۔ وہ وہی بیٹھ کر بیٹے کی فریاد کرنے رونے لگی۔
“ارحام کے کئے پر میں معذرت چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس ویڈیو کو جلد از جلد سوشل میڈیا سے ہٹوا دوں گا۔۔۔۔” رانا صاحب نے سر جھکائے قاری حیدر خان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔
“ایسا کرنے سے میری بہن اور فیملی کی جو بدنامی ہوئی ہے وہ واپس تو نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔” اذان خان غضب میں آگیا۔
“آپ کی بہت عزت کرتے ہیں ہم رانا مبشر صاحب۔۔۔۔۔ ہمیں آپ سے پورے تعاون کی توقع ہے۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے آپ سچائی کا ساتھ دینگے۔۔۔۔۔” حیدر خان نے رانا صاحب کے ہاتھ تھام لیئے۔
اذان مزید بحث کرنا چاہتا تھا لیکن حیدر خان نے اسے روک لیا اور اسے لیئے وہاں سے روانہ ہوگئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دانین کا رو رو کر برا حال ہوگیا تھا۔ تائی اور چاچی بات بات پر اسے کھری کوٹی سنانے لگ جاتی اور بچی کچی کسر پھوپھو نے آکر پوری کر دی تھی۔
بابا اور اذان کے گھر میں داخل ہوتے ہی پھوپھو سر پیٹتی اپنے لالا کے گلے لگ کر رونے لگی۔
“یہ سب کیا ہوگیا لالا۔۔۔۔۔ کون تھا وہ خبیس۔۔۔۔” پھوپھو کے آنسو اذان کی غصب میں شعلہ بھڑکانے کے مانند کام کر رہے تھے۔
“کرم جلی۔۔۔۔۔ دیکھ میرے مظلوم بھائی کی کیا حالت کر دی ہے۔۔۔۔۔ کلیجے کو ٹھنڈک مل گئی عشق معشوقی کر کے۔۔۔۔۔” دانین کو طعنے دیتے وہ صوفے پر ڈھے کر بیٹھ گئی۔
“اماں اس سے پہلے میرے ہاتھوں اس کا قتل ہوجائے۔۔۔۔ اندر لیں جاو اسے۔۔۔۔۔” اذان نے ماں کو مخاطب کیا۔ وہ پھرتی سے اٹھ کر دانین کو کمرے میں لیں جانے لگی۔
دانین نے بھیگی آنکھوں سے بابا کے جانب دیکھا ان کا سر جھکا ہوا تھا نظریں فرش پر جمی ہوئی تھی۔ دانین کا دل بھر آنے لگا وہ بے دم قدموں سے کمرے کے جانب جانے لگی۔
“حیدر ابھی بھی قصہ ہاتھ سے نہیں نکلا۔۔۔۔۔ قبیلے میں اس سب کی خبر نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔ ابھی سے اس کے قدم جما دو۔۔۔۔۔ ورنہ کل کو منہ چھپانے کی بھی جگہ نہیں ملے گی۔۔۔۔” منصور خان نے ہمدردی سے تجویز دی۔
“لالا وہ میری نند کے لڑکے کا رشتہ ابھی بھی موجود ہے۔۔۔۔ آپ کہو تو میں ان سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔۔ اس سے پہلے یہ اپنے کسی عاشق کے ساتھ فرار ہوجائے میری مانو تو شادی کرا دو۔۔۔۔۔” پھوپھو نے سال پہلے دانین کے لیے آئے رشتے کی پیشکش یاد کروائی۔
دانین کے حواس بحال ہوئے وہ اماں سے ہاتھ چھڑا کر بابا کے سامنے آئی۔
“بابا میں جانتی ہوں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔۔۔۔ لیکن مجھے ایسی سزا نا دیں۔۔۔۔۔ پلیززز بابا۔۔۔۔۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔۔ میری ابھی شادی مت کروائیں۔۔۔۔ ” وہ ہاتھ جوڑے بابا کے سامنے التجا کرنے لگی۔
“آپ سب کو اس کی زندگی کا جو بھی فیصلہ کرنا ہے۔۔۔۔۔ کر لیں۔۔۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ آپ سب نے جب کہا۔۔۔۔۔ میں اسے یہاں سے رخصت کر دوں گا۔۔۔۔۔ میرے پاس اب کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں ہے۔۔۔۔ جیسا آپ سب ٹھیک سمجھے میں وہی کروں گا۔۔۔۔۔۔” حیدر خان نے اعلانیہ صورت میں بلند آواز میں اپنا فیصلہ سنایا۔
وہ نا دانین کی سن رہے تھے نا اسے دیکھ رہے تھے۔ اپنا فیصلہ سنا کر وہ اس کے پہلو سے گزر کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ اور دانین خالی ہاتھ وہی کھڑی رہ گئی۔ ایک بابا ہی اس کے سب سے بڑے سہارا تھے لیکن اس سہارے نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اپنے قسمت سے ہاری دانین بے حس و حرکت وہی بیٹھتی چلی گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سفیان زینب اور عائرہ سورج غروب ہونے کے بعد شاپنگ سے گھر لوٹے۔ لاونج میں داخل ہوتے وہ تینوں حیران پریشان ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ سب کے چہرے اترے ہوئے تھے اور کرن ہلکا ہلکا سسک رہی تھی۔
“مما کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہے۔۔۔۔۔” عائرہ بھاگتے ہوئے کرن کے پاس آئی۔
کرن نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیں لیے۔ آنکھیں پھر سے بھر آگئی تھی۔
“پاپا سب خیریت تو ہے۔۔۔۔” سفیان نے سنجیدگی سے روحان کو مخاطب کیا۔
“ارحام کو پولیس لیں گئی ہے۔۔۔۔۔” روحان نے بے یقینی سے لمبا سانس لیتے من و عن ساری رو داد سنائی۔
“ڈیڈ آپ کو ان سے بات کرنی چاہیئے تھی۔۔۔۔ ارحام سے غلطی ہوگئی ہے۔۔۔۔ بچہ ہے۔۔۔۔” عائرہ نے شکوہ کن انداز میں رانا صاحب سے پوچھا۔
“کب تک وہ ایسی غلطیاں کرے گا اور میں بچہ سمجھ کر اس کا دفاع کرتا رہوں گا۔۔۔۔۔ نہیں عائرہ۔۔۔۔۔ اب وہ بچہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ اسے احساس ہونا چاہیئے اپنی غلطی کا۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔
عائرہ کرن کے گرد بازو مائل کر کے اسے دلاسہ دینے لگی۔
رات کو کرن اپنے جذبات پر قابو پاتی رانا صاحب کے پاس آئی۔ وہ بالکونی میں کھڑے تاریک آسمان کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں بھی اپنے بیٹے کو حوالات میں دیکھنا ناگوار گزر رہا تھا۔
کرن نے ان کے کندھے پر سر رکھ کر ان کے گرد بانہیں پھیلاتے انہیں اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ اس وقت ان کے جذبات سے خوب واقف تھی اگر وہ ماں تھی تو رانا صاحب بھی باپ تھے۔
“تم مجھے اس وقت بہت ظالم باپ سمجھ رہی ہوگی۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے کرن کے گرد بازو مائل کر کے اسے خود سے لگایا۔
“ارحام کو سلاخوں کے پیچھے دیکھ جتنی تکلیف تمہیں ہورہی ہے۔۔۔۔۔ اتنی ہی مجھے بھی ہورہی ہے۔۔۔۔۔” وہ اپنے مخصوص نرم انداز میں گویا تھے۔
“قرآن پورا رہنمائی ہے۔۔۔۔۔ اور قرآن پاک ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ جب ہماری زندگی میں کچھ ایسا ہورہا ہو۔۔۔۔۔ جس کی سمجھ نا آئے تو ہمیں صبر کر لینا چاہیئے۔۔۔۔۔ کیونکہ ہر چیز میں اللہ کی حکمت چھپی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اور یہ ضروری نہیں ہمیں ہر حکمت فوری طور پر سمجھ آجائے۔۔۔۔۔ کبھی کبھی یہ باتیں۔۔۔۔۔ وقت کے ساتھ سمجھ آتی ہے۔۔۔۔۔ وقت قدرت کے سارے راز کھول دیتا ہے۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے کرن کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے تسکین دلائی۔ اور صبر کرنے کا درس دیا۔
“تم ارحام کے ہدایت کے لیے دعا کرو۔۔۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالی انسان کو ہر نعمت بنا مانگے دے دیتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن ہدایت وہ واحد چیز ہے۔۔۔۔۔ جس انسان کو صرف مانگنے پر ملتی ہے۔۔۔۔ دعا کرو ہمارے بیٹے کو ہدایت مل جائے۔۔۔۔ وہ راہ راست پر آجائے۔۔۔۔۔” ایک امید بھری آہ بھرتے ہوئے وہ کمرے کے اندر آگئے۔
“رانا صاحب میری آپ سے ایک ریکویسٹ ہے۔۔۔۔۔ آپ ارحام کو بیل کرا دو۔۔۔۔۔ گھر میں شادی کا ماحول ہے۔۔۔۔۔ پرسوں سے زینب کے فنکشنز شروع ہونے والے ہیں۔۔۔۔۔ ابتہاج کے سارے رشتہ دار آچکے ہیں۔۔۔۔ ایسے میں سو باتیں بنے گی۔۔۔۔۔ زینب کے سسرال والوں پر برا اثر پڑے گا۔۔۔۔۔ میرا نا سہی۔۔۔۔۔ روحان اور نور کا سوچ لیں ان کی بیٹی کی شادی ہے۔۔۔۔۔” کرن نے نرم لہجے میں سمجھایا۔
“ٹھیک ہے میں صبح اسے رِہا کرا دوں گا۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے سر کو خم دیتے کرن کی تجویز مان لی۔
کرن مشکور ہوتے ان کے سینے سے لگ گئی۔ رانا صاحب نے اس کے پیشانی پر بوسہ دیتے اس کے گرد بازو مائل کر دیئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارحام حوالات کے اس چار دیواری میں فرش پر بیٹھے خالی ذہن دیوار کو گھور رہا تھا۔
پہلے دانین کا تھپڑ پھر تالم شاہ سے لرائی۔ گھر پر اذان کا اسے جھڑکنا اور ڈیڈ کا اسے پولیس کے حوالے کرنا۔ ایک ایک کر کے دن بھر کے واقعات اسے اندر سے حیوان بنا رہے تھے۔
“دانین حیدر۔۔۔۔۔۔ اس تھپڑ کا بدلہ میں سود سمیت واپس لوں گا۔۔۔۔۔” دل ہی دل سوچتے اس نے ہاتھ کی مٹھی بنائے دیوار پر ضرب دے ماری۔
وہی دوسرے جانب تالم شاہ ارحام سے بدلہ لینے کے آگ میں تپ رہا تھا۔
“اس نے تالم شاہ پر ہاتھ اٹھانے کی جرآت کی ہے۔۔۔۔۔ اسے تو میں دیکھ لوں گا۔۔۔۔۔” وہ غصے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔
“اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔۔۔ دانین کی فیملی نے اسے گرفتار کروا دیا ہے۔۔۔۔۔ حوالات کی ہوا کھا رہا ہے ابھی۔۔۔۔” زارون نے ارحام کی گرفتاری کی خبر سنا کر مانو تالم شاہ کے غصے پر پانی ڈال دیا تھا وہ اطمینان کا سانس لیتے ارحام کی حالت سوچ کر محظوظ ہونے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اگلی صبح رانا صاحب اور سفیان لیگل کاغذات تیار کروا کر جیل میں موجود تھے۔
” چلو لڑکے۔۔۔۔۔ تیری بیل ہوگئی ہے۔۔۔۔۔” حوالات کا تالہ کھولتے اس حوالدار نے ارحام کو متوجہ کیا۔
وہ خستہ حال حوالات سے باہر آیا۔ ایک پل کو اپنے لخت جگر کی ایسی حالت دیکھ کر رانا صاحب کا دل دہل گیا تھا۔
رانا صاحب نے شفقت سے اسے سینے سے لگایا۔ پھر اسے لگے چوٹوں کو غور سے مشاہدہ کرنے لگے۔
“بڑے پاپا میری سائبر کرائم برانچ سے بات ہوگئی ہے۔۔۔۔ ہمیں بس اس ویڈیو کی سورس انہیں دینی ہے۔۔۔۔ وہ سوشل میڈیا سے وہ ویڈیو ریمو کر دینگے۔۔۔۔۔ ارحام کیا تمہارے پاس اب بھی وہ ویڈیو ہے۔۔۔۔۔” سفیان نے بڑے پاپا کو رو داد سے آگاہ کرتے ارحام کو مخاطب کیا۔
ارحام نے سر اثابت میں ہلایا اور آفسر کے ٹیبل پر پڑے اپنے سامان میں سے موبائل اٹھا کر وہ ویڈیو نکال کر سفیان کو موبائل تھما دیا۔
“سفیان۔۔۔۔ تم سائبر کرائم برانچ جاو۔۔۔۔۔ میں ارحام کو ہسپتال لے کر جاتا ہوں۔۔۔۔” رانا صاحب سفیان کو ہدایت دیتے ارحام کو باہر لیں جانے لگے۔
“اٹس اوکے ڈیڈ۔۔۔۔۔ اتنی نہیں لگی۔۔۔۔۔۔” ارحام کو ان کے ساتھ جانے میں جھجک ہورہی تھی۔
“ڈاکٹر دیکھ لیں تو بہتر ہے۔۔۔۔۔ کہی انفیکشن بڑھ نا جائے۔۔۔۔۔” انہیں ارحام کے زخموں کی فکر ہورہی تھی۔
کار میں وہ دونوں خاموشی سے بیٹھے رہے۔ نا رانا صاحب نے اس سے کوئی سوال کیا۔ نا ارحام نے کوئی شکوہ۔ دونوں کی بیچ مائل خاموشی بہت کچھ کہہ رہی تھی جسے رانا صاحب نے بھی نظر انداز کیا ہوا تھا اور ارحام نے بھی۔
“معمولی سی چوٹیں ہیں مسٹر رانا۔۔۔۔۔ میں کچھ دوائیاں لکھ دیتا ہوں۔۔۔۔ چند دنوں میں ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔۔۔” ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد رانا صاحب کو تسلی دی۔
وہ دونوں گھر لوٹے تب تک سفیان بھی آچکا تھا۔
“کام ہوگیا ہے بڑے پاپا۔۔۔۔۔ دو دن کے اندر ویڈیو انٹرنیٹ پر سے ہٹ جائے گی۔۔۔۔” سفیان نے مستحکم بھرے انداز میں کہا۔
“اس لڑکی کی فیملی پھر تو نہیں آئے گی۔۔۔۔۔ اس کا وہ بھائی مجھے بہت خطرناک لگا تھا۔۔۔۔” کرن نے اپنی تشویش ظاہر کی۔
“میں ان سے بات کر لوں گا۔۔۔۔۔ وہ دوبارہ نہیں آئے گے۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے اسے یقین دہانی کروائی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ہوش آیا۔۔۔۔۔” حیدر خان نے اپنی زوجہ سے دانین کے متعلق سوال کیا جو کل رات سے تیز بخار کے باعث نیم بے ہوش پڑی تھی۔
“نہیں۔۔۔۔۔ پٹیاں کر کر کے تھک گئی لیکن بخار کم ہو کر ہی نہیں دے رہا۔۔۔۔۔۔۔ آپ ڈاکٹر کو بلوا لیجئے۔۔۔۔۔” انہوں نے شوہر سے درخواست کی۔
حیدر صاحب دانین پر غصہ ضرور تھے لیکن تھی تو وہ ان کی اولاد ہی۔ اس کا برا نہیں چاہ سکتے تھے۔ انہوں نے بیوی کی تجویز مانتے ڈاکٹر کو کال ملائی۔
اگلے شام دانین کا ڈاکٹر کے لگائے ڈرپ کی وجہ سے بخار کم ہو گیا تھا ۔ اس نے ہوش میں آتے سب سے پہلے بابا کو یاد کیا۔
“تیرے بابا تاتا چاچو اور اذان۔۔۔۔ سب کو رانا مبشر نے اپنے دفتر جرگہ کرنے بلایا ہے۔۔۔۔۔ یہ سب وہی گئے ہیں۔۔۔۔” اماں نے اس کے لیے پھل کاٹتے ہوئے مصروف انداز میں جواب دیا۔
دانین کو پھر سے اپنا سر چکراتا محسوس ہوا۔ نا جانے اب یہ طوفان کونسا نیا رخ لینے والا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔
