Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 8
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 8
پارٹی کی صبح کرن کی نیند کھلی تو اس نے رانا صاحب کو نیم دراز لیٹے کہنی تکیے پر رکھے اور ہاتھ پر سر ٹکائے ٹکٹکی باندھے خود کو دیکھتے پایا۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔” کرن انگڑائی لیتے ان کے قریب کھسکی۔
“دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔ میری بیوی آج بھی کتنی حسین ہے۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے شرارتی انداز میں کہا۔
“تھینکیو سو مچ کرن۔۔۔۔۔ میری زندگی کو اتنا خوبصورت بنانے کے لیے۔۔۔۔۔ ہر قدم پر میرا ساتھ دینے کے لیے۔۔۔۔۔ مجھے اتنے اچھے بچوں سے نوازنے کے لیے۔۔۔۔۔۔” انہوں نے مشکور ہوتے عقیدت سے کرن کے پیشانی پر بوسہ دیا۔
“تھینکیو رانا صاحب۔۔۔۔۔ مجھ سے اتنی محبت کرنے کے لیے۔۔۔” اس نے ان کا شکریہ ادا کرتے ان کے گرد بازو مائل کر دیئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دوپہر کو روحان آفس سے جلدی آگیا تھا اور اپنے 20 سالہ جڑوا بچوں کا منتظر دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔ آج ان کے GCSE کا رزلٹ آنے والا تھا۔ کوئی شک نہیں ٹاپ تو دونوں نے کیا ہوگا لیکن پھر بھی وہ ان کی کامیابی ان کے زبانی سننا چاہتا تھا۔
پورچ میں کار رکنے کی آواز آئی تو وہ لاؤنج کے دوازے پر آکر رک گیا۔ سب سے پہلے چہکتے ہوئے زینب انٹر ہوئی۔
20 سال کی زینب میں خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ذہانت بھی میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اس کی بھوری آنکھیں گلابی ہونٹ نور سے اغذ شدہ تھے اور گھنے سیاہ بال روحان سے۔ زینب بہت ہی با تہذیب و سلیقہ مند لڑکی تھی۔ اس کا خاموش اور ہمدرد مزاج اسے اپنی عمر کی لڑکیوں سے نمایاں بلندی پر رکھتی تھی۔
زینب آنکھوں میں چمک لیئے ہمیشہ کی طرح بھاگتی اپنے پاپا کے گلے آ لگی۔
“تو کیسا رہا۔۔۔۔۔۔” روحان نے آبرو اچکا کر سوال کیا۔
“99 پرسنٹ۔۔۔۔ ” زینب نے اپنی سند پاپا کو تھمائی۔
“یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔۔” فخریہ انداز میں اسے سینے سے لگا کر اس کا شانہ تھپتھپایا۔
“اور تمہارا۔۔۔۔۔” اب باری ذیشان کی تھی جو زینب کے مقابلے قدرے کم خوش لگ رہا تھا۔
“98.5۔۔۔۔ ” اس نے بے زاری سے بتایا۔
“کوئی بات نہیں آدھا نمبر ہی کم ہے۔۔۔۔۔ نیکسٹ ٹائم ڈبل محبت کرنا۔۔۔۔۔” روحان نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے بھی گلے لگا لیا تھا۔
زینب پڑھائی کا میدان ہوتا یا کھیل کا۔ ہمیشہ ذیشان سے ایک قدم آگے رہتی۔ اور ان دونوں کے مقابلے ایسے ہی چلتے رہتے۔ سفیان ان سب سے بے غم تھا اس کا 70 پرسنٹ بھی رزلٹ ہوتا تو وہ خوشی سے اچھلتے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیا کرتا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شام کے وقت ارحام پارٹی کی رات چھپائے اس سیگریٹ کے کچلے حصے کو ایک دکان کے پاس لے کر گیا۔ وہ دکان حیرت سے کبھی 13 سالا بچے کو دیکھتا کبھی اس سیگریٹ کے کچلے حصے کو۔
“یہ یہاں نہیں ملتی۔۔۔۔ یہ باہر ممالک سے آتی ہے۔۔۔۔۔ صرف اپنے مخصوص ٹھکانے پر ملتی ہے۔۔۔۔” اس دکان دار نے کرہٹ بھرے لہجے میں کہا۔
ارحام کا منہ بن گیا تھا۔ اسی شام جب وہ اپنے ایک دوست کے پاس کرکٹ کھیلنے گیا تو اسے وہی موٹے آدمی دوبارہ ملے۔ وہ اس کے دوست کے تایا ابو تھے جو کچھ دنوں کے لیے ان کے پاس رہنے آئے ہوئے تھے۔
How are you irhaam
انہوں نے ارحام سے مصافحہ کرتے ہوئے حال احوال پوچھا۔
“یار ڈینی۔۔۔۔۔ تیرے تایا ابو۔۔۔۔۔۔ جو سیگریٹ سموک کرتے ہے۔۔۔۔۔ وہ کہاں سے ملتی ہے۔۔۔۔۔” کھیل کھیل میں ارحام نے اپنے اکلوتے بیسٹ فرینڈ سے پوچھا۔
“وہ ہائی وے کے قریب پیٹرول پمپ کے پاس ایک اسٹال ہے۔۔۔۔ میں نے ایک دفعہ انہیں وہاں سے لیتے دیکھا تھا۔۔۔۔” ڈینی نے بال کو ہوا میں اچھالتے ارحام کے ارادوں سے بے خبر عام انداز میں جواب دیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس نے ڈینی کے بتائے ایڈرس سے سیگریٹ کی پیکٹ تو خرید لی تھی لیکن ڈیڈ اور روحان پاپا کے خوف سے کئی دنوں تک وہ اس کو ہاتھ نہیں لگا سکا۔
چونکہ ان کے گھر کوئی بھی کسی قسم کے نشے کا عادی نہیں تھا اس لیے پکڑے جانے کے خوف سے وہ سیگریٹ نوشی کا ارادہ ترک کر دیتا۔
پر نفس پر کہاں زور چلتا ہے۔ وہ ایک دن چھپ کر ٹیرس پر گیا اور جیب میں چھپائی سیگریٹ نکال کر پینے لگا۔
چھ ماہ میں اسے اچھی خاصی سیگریٹ کی لت لگ چکی تھی۔ وہ کبھی بھی گھر کے اندر اور فیملی کے بیچ سموکنگ نہیں کرتا اس لیے اس کے اس مشغلے کا کسی کو پتا نہیں چل سکا۔ البتہ گھر کے باہر وہ کھلے عام سیگریٹ نوشی کرنے لگا تھا۔ اس عادت کے رہتے اس کے کئی اسکول فرینڈز اس سے دور ہوگئے اور وہ گلی کے آوارہ لڑکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگا۔
کہی نا کہی ارحام کے برائی کی طرف گامزن ہونے میں رانا مبشر اور کرن کے غلفت کی وجہ بھی تھی۔ ماں باپ کا فرض صرف اولاد کو اچھا کھلانے اچھا پہنانے اچھا پڑھانے تک ہی نہیں ہوتا۔ ان کے بچے بند دروازے کے پیچھے کیا کر رہے ہیں۔ وہ اسکول کالج میں کس کردار کے حامل دوستوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں، ان سب کی نگرانی کرنا اور ہر وقت اچھے برے صحیح غلط کا درس دینا بھی والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
رانا مبشر ارحام اور عائرہ کو نیکی اور اللہ کے راستے کی تلقین کرتے رہتے۔ 10 سال کا ہوتے ہی وہ ارحام کو اپنے ساتھ مسجد لے جایا کرتے اور کرن عائرہ کو گھر میں نماز اور عبادات سیکھایا کرتی۔ لیکن قسمت میں جو آزمائش لکھی ہوتی ہے وہ آ کر ہی رہتی ہے۔ ایسے ہی رانا مبشر اور کرن پر ارحام کے گمراہی کے روپ میں ایک بڑی آزمائش آچکی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(حال)
وہ نوجوان اپنی سفید چمکتی Mercedes کار کے ساتھ ٹیک لگائے۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سامنے کا منظر دیکھ رہا تھا۔ بالوں کو سائیڈ پر جمائے اور آنکھوں پر برانڈڈ مہنگی گلاسس لگائے وہ ہمیشہ کی طرح حسین و جمیل لگ رہا تھا۔
Sir…. we are at the right place….
ان میں سے ایک گارڈ بھاگتا ہوا واپس اس کے پاس آیا اور ڈینی کے دیئے گئے ایڈریس کی تصدیق دی۔
وہ مغرور انداز میں چلتا اس چھوٹے سے اسٹال پر آگیا۔ یہ اسٹال ہائے وے کے پاس موجود تھا اور مشروبات کے آڑ میں چھپ چھپ کر غیر قانونی طریقے سے اسمگل شدہ منشیات بھیجا کرتا تھا۔
اس نے جیب سے اس نوع سیگریٹ کا نام درج ہوئی ایک پرچی نکال فرانسیسی زبان میں لکھا وہ نام پڑھ کر بتایا۔ چند ثانیے بعد دکاندار نے ایک نیلے رنگ کا پیکٹ اس کے سامنے پیش کیا۔ وہ پیکٹ اس قدر خوبصورت نکاشی سے سجایا گیا تھا کہ اینٹیک کے شوقین اس نوجوان کا اس پر دل آنے لگا۔
پیکٹ سے ایک عدد سیگریٹ نکال کر وہ ناک کے قریب کر کے سونگھنے لگا۔ اس سیگریٹ کی بو عام لوکل سیگریٹ سے بہت مختلف تھی۔ اس سیگریٹ سے mint کی خوشبو آتی تھی اور ذائقہ بھی تقریبا ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔
سیگریٹ کو ہاتھ میں گھماتے اس نے گلاسس اتار کر اس 40 سے 45 سال کے قریب کمزور جان دکان دار کو غور سے دیکھا۔
“ارحام کہاں ہے۔۔۔۔۔” سپاٹ انداز میں پوچھتے اس نے وہ سیگریٹ واپس پیکٹ میں ڈالی اور پیکٹ پینٹ کہ جیب میں رکھ دیا۔
“کون ارحام۔۔۔۔۔ صاحب جی یہاں تو دن کے ہزار کسٹمر آتے ہیں۔۔۔۔۔ اب مجھے سب کے نام تھوڑی معلوم ہونگے۔۔۔۔” اس آدمی کے آبرو پھیل گئے۔ اس نے پریشانی سے ماتھے پر نمودار ہوتا پسینہ صاف کیا۔
“نام نہیں معلوم۔۔۔۔۔ پر شکل تو یاد ہوگی۔۔۔۔۔” اس نے اپنے آئی فون میں ارحام مبشر کی دو سال پہلے کی ایک تصویر دکھائی۔
“ارےےے صاحب عجب بات کرتے ہو۔۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔۔۔ میرے ہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے جاتے ہیں۔۔۔۔ مجھےسب کی شکلیں تھوڑی یاد رہیں گی۔۔۔۔” اسٹال والے نے اپنا وہی فقرہ دہرایا۔
اس نوجوان کے آنکھوں میں سختی در آئی تھی اور چہرے پر غصہ۔ اپنی گلاسس واپس پہنتا اس نے چٹکی بجا کر اپنے گارڈز کو اشارہ کیا۔ وہ دونوں بھاگتے اسٹال کے اندر گئے اور سب اتھل پھتل کرتے دکان دار کو پیٹنے لگے۔
“سوچ لو کمال خان۔۔۔۔۔۔ جب تک حقیقت نہیں بتاوں گے۔۔۔۔۔ میرے آدمی تمہیں مارتے رہیں گے۔۔۔۔۔” وہ اپنی وجیہہ انداز لیئے کار سے آکر ٹِک گیا۔
“صاحب میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا اس لڑکے کا۔۔۔۔۔” کراہتے ہوئے ان دونوں بدمعاشوں کو روکتے اس کے التجائی انداز میں صدا لگائی۔
“کچھ تو پتا ہوگا کمال خان۔۔۔۔۔ تمہارا اتنا پرانا اور اتنا امیر کسٹمر رہا ہے۔۔۔۔۔ کچھ تو جانتے ہوگے۔۔۔۔۔۔ یاد کرو۔۔۔۔۔” اس نے بھی جوابی صدا لگائی اور جیب سے وہ مِنٹ فلیور سیگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبائے عقاب کے پروں والے لائٹر کی مدد سے سلگائی۔
“صاحب میں غریب آدمی ہوں۔۔۔۔۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔۔۔۔۔ کچھ رحم کرو۔۔۔۔۔” کمال خان اس نوجوان کے آگے رو پڑا تھا لیکن وہ بے حس کھڑا سیگریٹ نوشی کرتا ہوا میں دھواں بلند کر رہا تھا۔
“اسے میں نہیںںںںں۔۔۔۔۔۔ البرٹ جانتا تھا صاحبببببب۔۔۔۔۔۔” کمال خان روتے روتے ایک اہم انکشاف کر گیا۔
“سٹاپ۔۔۔۔۔” اس نے بقیہ سیگریٹ پھینکتے تند آواز میں اپنے گارڈز کو روکا۔
“یہ البرٹ کون ہے۔۔۔۔۔” وہ تیزی سے زمین بوس ہوئے کمال خان کے سر پر پہنچا اور جھک کر اس کی تھیوڑی دبوچے اس کا سر اوپر کو اٹھایا۔
“جلدی بتاوں ورنہ یہی تیری قبر کھود دوں گا۔۔۔۔۔” اس نے کمر میں پھنسائی گن نکال کر کمال خان کے پیشانی پر تھان لی۔ اس کے دہشت سے دمکتا چہرہ دیکھ کر کمال خان خوف سے لرزنے لگا۔
“البرٹ۔۔۔۔۔ ڈلیوری بوائے ہیں۔۔۔۔۔۔ مجھے مال لا کر دیتا ہے۔۔۔۔۔” کمال خان نے ہاتھ جوڑے اکھڑے تنفس میں جواب دیا۔
“کیسا مال۔۔۔۔۔” سوال پہلے سے بھی درشتی سے کیا گیا۔
“ڈرگز کے پیکٹ۔۔۔۔۔۔ ہیروئین۔۔۔ کوکین۔۔۔۔ چرس۔۔۔ وغیرہ۔۔۔۔۔۔” اس پر وحشت طاری ہوگئی تھی۔
“تو کیا ارحام۔۔۔۔۔ ڈرگز بھی کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔” اس نوجوان کی آنکھیں پھیل گئی۔
“وہ مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔۔ یہ تو البرٹ ہی بتائے گا۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ اچھی دوستی تھی اس کی۔۔۔۔۔ مجھے چھوڑ دو صاحب پلیز۔۔۔۔۔” اس نے اپنی زندگی کی درخواست کی۔
“البرٹ کہاں ملے گا۔۔۔۔۔” اس نے کمال خان کو کالر سے پکڑے اپنے ساتھ کھڑا کر دیا۔
“اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ کبھی ایک جگہ پر نہیں رہتا۔۔۔۔۔ اسے جب آگے سے مال ملتا ہے وہ ادھر آکر بھیج دیتا ہے۔۔۔۔۔ اب تو میں نے آپ کو ساری بات بتا دی صاحب۔۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔۔۔” معصومیت سے التجا کرتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ لیکن تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔ جب بھی البرٹ یہاں آیا۔۔۔۔۔ تم فورا سے پہلے مجھے خبر دو گے سمجھے۔۔۔۔۔” اس نوجوان نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے ہوئے دھمکایا۔
“یہ میرا کارڈ ہے۔۔۔۔۔ اور ہاں کوئی ہوشیاری نہیں کرنا۔۔۔۔۔ میرے آدمی تم پر نظر رکھے گے۔۔۔۔۔ تم مجھ سے بچ نہیں سکتے۔۔۔۔” اپنے کوٹ کے سائیڈ جیب سے اس نے ایک کاروباری کارڈ نکال کر پیش کیا اور اسے دھمکا کر اس کے ہوئے نقصان کی بھرپائی کے خاطر وہ کمال خان کو ایک بڑی رقم تھما کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(ماضی)
اسلام آباد گروپ آف اسکول اینڈ کالج کیمپس شہر کے سب سے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک تھا۔ اس بڑے سے کیمپس میں ایک طرف اسکول کی بلڈنگ تھی اور دوسرے جانب کالج کی۔
9 کلاس کی طالبہ عائرہ بریک ٹائم میں اپنی فرینڈز کے ساتھ بیٹھی ہنس رہی تھی۔ آج دونوں کیمپس کی بریک طویل تھی۔ مین آفس میں دونوں حصوں کے اساتذہ کی میٹنگ چل رہی تھی۔ سیکنڈ ائیر کی فیرویل پارٹی کے مدعہ پر تبصرہ کیا جا رہا تھا۔
“ابھی ابھی سن کر آرہی ہوں۔۔۔۔۔۔ 9 اور 10 کلاسس کو بھی پارٹی میں مدعو کیا جائے گا۔۔۔۔ تا کہ ہم بھی دیکھ سکے فیرول پارٹی کیسے ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ ہمیں بھی تو 10 کلاس کو دینی ہے نا۔۔۔۔۔” ان چار سہیلیوں کی ایک اور سہیلی ان کو میٹینگ ہال کی روداد سنانے لگی۔
“پھر تو بہت مزا آئے گا۔۔۔۔۔ سب آئے گے۔۔۔۔۔ انجوائے کریں گے۔۔۔۔۔” دوسری دوست چہکتی تالی مارنے لگی۔ جب اس نے عائرہ کے جانب ہاتھ بڑھایا تو وہ گم سم سی بیٹھی تھی۔
“پارٹی شام کے ٹائم ہے۔۔۔۔۔ ڈیڈ اجازت نہیں دینگے۔۔۔۔۔” عائرہ کو افسوس ہونے لگا۔
“یار عائرہ تم نہیں ہوگی تو مزا نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔ تم اپنے ڈیڈ کو منانے کی کوشش کرنا نا۔۔۔۔۔” ان سہیلیوں میں خفگی کا سماء چھا گیا۔
“ہاں اور پھر تیرا کزن بھی تو اسی کیمپس کا ہے۔۔۔۔۔ سیکنڈ ائیر کا ہے۔۔۔۔۔ وہ بھی تو ہوگا پارٹی میں۔۔۔۔۔۔ ” تیسری سہیلی نے سفیان کا ذکر کرتے تجویز دی۔
اور فیصلہ یہ کیا گیا کہ عائرہ سفیان کی مدد لے کر اپنے ڈیڈ کو پارٹی کے لیے منانے کی کوشش کریں گی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شام کے وقت 18 سالہ مست نوجوان سفیان اپنے فٹبال میچ کی ڈریسنگ کیئے کمرے سے باہر نکل رہا تھا کہ اس کی ملاقات عائرہ سے ہوگئی۔
“سفیان آپ سے ایک کام ہے۔۔۔۔” عائرہ نے جھجکتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔
سفیان کے آبرو اٹھ گئے کیونکہ عائرہ کو پڑھائی کے متعلق جو بھی کام ہوتا وہ زینب یا ذیشان کے پاس جاتی تھی اور آج پہلی دفعہ سفیان سے کوئی کام کہنے آئی تھی۔
کیمپس میں ہوئی ساری گفتگو اس کے گوش گزار کر کے وہ پر امید نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“ہممممم۔۔۔۔۔۔ تم کس مضمون میں سب سے اچھی ہو۔۔۔۔” سفیان نے آنکھوں کی پتلیاں سکیھڑے اس سے سوال کیا۔
“انگلش میں۔۔۔” عائرہ حیرت زدہ ہوگئی۔ یہ اس کے مسئلے کا حل نہیں تھا۔
اس کا جواب سن کر وہ واپس اپنے کمرے میں گیا اور اپنے کالج بیگ سے ایک فائل نکال کر عائرہ کے ہاتھ میں تھمائی۔
“اس میں موجود ٹاپک پر ایک مضمون (Essay) لکھ کر دو۔۔۔۔ اور ہاں۔۔۔۔۔ دو پیجز سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔” اپنا اسائنمنٹ اس نے عائرہ سے کروانے کا فیصلہ کیا۔
“اگر تم نے میرے لوٹنے سے پہلے میرا کام کر دیا۔۔۔۔۔ تو میں بھی رات کو بڑے پاپا سے بات کر کے تمہارا کام کر دوں گا۔۔۔۔” کام کے بدلے کام پر عائرہ نے مجبوری سے سر اثابت میں ہلایا اور سفیان وہاں سے روانہ ہوگیا۔ جاتے جاتے بھی وہ عائرہ کے بال کھیچنا نہ بھولا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ویری گڈ۔۔۔۔” سفیان رات ڈنر کے بعد عائرہ سے اپنی اسائنمنٹ لے کر ستائشی انداز میں تعریف کرنے لگا۔
عائرہ نے اس کا کام کر دیا تھا اب اس کی باری تھی۔ وہ اسے ساتھ لیئے بڑے پاپا کے کمرے میں گیا۔ خوش قسمتی سے کرن بھی وہی تھی۔
سفیان تو پہلے ہی سے رانا صاحب کا چہیتا بھتیجا تھا۔ ایک گھنٹے تک انہیں منانے اور کچھ کرن کے رانا صاحب کو قائل کرنے کے بعد اسے اپنی زمہ داری پر عائرہ کو پارٹی میں لیں جانے کی اجازت مل گئی۔
عائرہ کی خوشی دیدنی تھی وہ پہلی دفعہ اپنی فرینڈز کے ساتھ کسی نائٹ ٹائم پارٹی میں جا رہی تھی یہ خیال ہی اسے محظوظ کر رہا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پارٹی کی رات اس نے جینز کے ساتھ پنک کلر جارجٹ کی گھٹنوں تک آتی کرتی پہنی۔ کمر تک آتے لمبے بال ہالف کیچر میں باندھے ہوئے تھے۔ میک اپ کے نام پر آنکھوں میں لائنر لگایا تھا اور ہونٹوں پر گلابی لپ گلوس لگایا ہوا تھا۔
سفیان جینز اور وائٹ شرٹ کے ساتھ ڈینم کی جیکٹ میں ملبوس تھا۔ ذیشان کی نت نئی BMW کار میں وہ دونوں پارٹی میں پہنچے۔
دونوں کیمپس کے بیچ کے گیٹ کو کھول کر اس بڑے سے پلے ایریا میں پارٹی منعقد کی گئی تھی۔ سامنے ایک بڑا سا اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں پرفارمنس دکھائے جانے والے تھے۔ ایک سینٹرل پول جو کہ 4 سے 5 فٹ تک پانی سے بھرا گیا تھا۔ کھانے پینے کے اسٹال اور بڑے بڑے اسپیکرز سے ماحول کو پر کشش بنایا گیا تھا۔
پارٹی میں داخلہ ملتے ہی عائرہ خوشی سے چہکتی اپنی سہیلیوں کے پاس چلی گئی اور سفیان اپنے گروپ کے پاس۔
کچھ ہی دیر میں پارٹی کا آغاز ہوا۔ یہاں وہاں ٹہلتے سب ہی اسٹوڈنٹس میوزک سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ کچھ آرٹسٹس اسٹیج پر پرفارمنس دیتے انٹرٹین کرنے لگے۔
“یہ ہمارا اس کالج میں لاسٹ ایئر ہے۔۔۔۔۔ خوب مستی کریں گے۔۔۔۔۔ اتنی ساری اسکول گرلز بھی آئی ہے۔۔۔۔ انہیں تنگ کریں گے۔۔۔۔۔۔ اس پارٹی کو یادگار بنائے گے اوکے۔۔۔۔۔” سفیان کے گرد جمع لڑکوں میں سے ایک نے شیطانی منصوبہ بنایا۔
باقی دوستوں کی رضامندی ملتے ہی وہ پارٹی میں پھیل گئے اور الگ الگ پرینک کر کے اسکول گرلز کو تنگ کرنے لگے۔
سفیان کچھ گرلز کو ہلکا پھلکا تنگ کر کے واپس میز پر آکر بیٹھ گیا اور اپنے باقی دوستوں کے پرینک پر ہنستا شام سے لطف اندوز ہورہا تھا۔
عائرہ پول کے پاس اپنی سہیلیوں کے ساتھ تصویریں لینے میں مصروف تھی جب دو لڑکے اس سامنے آئے۔ ایک نے اس پر پلاسٹک کا سانپ پھینکا اور دوسرا جو اس کے پیچھے کھڑا تھا، اس نے اپنا پیر دراز کیا۔ سانپ کے ڈر سے عائرہ پیچھے ہوئی اور اس لڑکے کے پیر سے ٹکرا گئی۔ اس کا توازن بگڑ گیا اور وہ چیخ مارتی پول میں جا گری۔
چونکہ عائرہ کو سومنگ پول تالاب ندی سمندر جیسے گہرے پانی سے فوبیا تھا وہ پورا سہم گئی اور ہاتھ پاوں مارنے لگی۔ ماحول میں سب کا قہقہہ بلند ہوا۔ اس کی سہیلیوں نے ان لڑکوں کے مزاق پر منہ بھسورتے ہوئے تیزی سے آگے آکر اسے پول سے نکلنے میں مدد کی۔
وہ سر تا پیر بھیگی ہوئی لرزتے کانپتے پول سے باہر آئی۔ سب اسی کو دیکھ رہے تھے حتہ کہ اسٹیج پر پرفارمنس دیتا گروپ بھی اسی جانب متوجہ تھا۔
عائرہ سب کے مابین تماشے کا مرکز بننے پر شرمندہ سی ہو گئی۔ وہ مایوسی سے آس پاس دیکھتی اپنی جارجٹ کی کُرتی جو بھیگنے کے باعث اس کے جسم پر چپک رہی تھی، اسے سیدھی کرتی اپنے اس تذلیل پر شرم ساری سے رونے لگی۔
سفیان جو کہ ان سب سے کچھ فاصلے پر بیٹھا کولڈرنک پیتے پارٹی انجوائے کر رہا تھا۔ اچانک اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ وہ بے اختیار اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ عائرہ کی آنسووں سے بھری سیاہ آنکھیں سفیان کی براون آنکھوں سے ٹکرائی تو وہ اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔ مانو کچھ لمحوں کے لیے وہ سانس لینا ہی بھول گیا ہو۔ عائرہ کی اشک بار آنکھیں گلہ آمیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اور سفیان کو لگا وہ اب کبھی جی نہیں سکے گا۔ اس کا دل کئی سارے بیٹ مس کر گیا۔ اپنی کیفیت پر قابو پاتے وہ تیزی سے ان کے بیچ آیا۔
“سٹاپ اٹ guys۔۔۔۔۔ بہت ہوگیا مزاق۔۔۔۔۔” وہ اونچی آواز میں اپنے دوستوں کو ہنسنے سے روکنے لگا لیکن کسی نے اس پر دھیان نہیں دیا۔
اس کے آبرو تن گئے۔ اپنی جیکٹ اتار کر اس نے عائرہ کے کندھوں پر ڈال دی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کیمپس سے باہر لے آیا۔
“لیو می۔۔۔۔۔” کیمپس گیٹ سے باہر نکل کر عائرہ نے اپنا ہاتھ جھٹکا۔
“تم بہت برے ہو۔۔۔۔۔۔ تمہیں زرا بھی احساس نہیں ہے۔۔۔۔۔ تم بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے نا۔۔۔۔۔۔” عائرہ اس پر چلاتی مزید بلند آواز رونے لگی۔
“آئی سوئیر۔۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا وہ تمہیں بھی تنگ کریں گے۔۔۔۔” سفیان نے ہمدردی سے کہا۔
“جھوٹ۔۔۔۔۔ تم دھوکے باز ہو۔۔۔۔۔ ڈیڈ نے تمہارے بھروسے مجھے آنے کی اجازت دی تھی۔۔۔۔۔ لیکن تم نے ہی میری ایسی انسلٹ(بے عزتی) کرائی۔۔۔۔” وہ کسی قیمت سفیان کے دلائل سننے کو تیار نہ تھی۔
“عائرہ پلیز بلیو می۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا۔۔۔۔۔ پلیز رونا بند کرو۔۔۔۔۔ its hurting me۔۔۔۔ ” سفیان نے التجائی انداز میں کہا اسے عائرہ کے آنسوؤں سے تکلیف ہورہی تھی۔ اور اس تکلیف کی وجہ زرار تھا۔
وہ عائرہ کو وہی کھڑے چھوڑ کر بھاگتا ہوا واپس پارٹی کے اندر آیا اور زرار کا کالر دبوچ لیا۔
“عائرہ کے ساتھ ایسا مزاق کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ اتنی ساری گرلز کم پڑ رہی تھی تجھے جو اسے بھی انوالو(invovle) کیا۔۔۔۔۔” سفیان طیش سے اس پر دھاڑا۔
“یار c’mon۔۔۔۔۔ صرف پرینک تھا۔۔۔۔۔ جانتا ہوں تیری کزن ہے۔۔۔۔ پر یہ مزاق تھا۔۔۔۔ پرسنلی مت لو۔۔۔۔۔” زرار نے لا پرواہی سے اپنا کالر اس کے گرفت سے جھٹکا۔
“پرسنلی لوں گا۔۔۔۔۔۔ آئیندہ اس کے ساتھ مس بہیو مت کرنا۔۔۔۔” غصے سے تنبیہہ کرتے ہوئے وہ لمبے ڈگ بھرتا باہر کے جانب روانہ ہوگیا۔
گیٹ سے باہر آتے ہی سفیان کے اوسان خطا ہو گئے تھے عائرہ وہاں نہیں تھی۔ وہ دیوانہ وار اسے پکارتے تیز نظروں سے آس پاس دیکھنے لگا۔ اسے لگا اگر آج اس نے عائرہ کو کھو دیا تو خود کو بھی کھو دیگا۔ اس کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی تھی۔
“کار میں ہو۔۔۔۔۔ ڈفر۔۔۔۔۔” عائرہ نے سفیان کو ذہنی توازن کھوتے دیکھا تو ونڈو سے سر نکال کر بلند آواز میں صدا دی اور ساتھ میں زور سے کار کا ہارن بجایا۔
“تم یہاں کیسے آئی۔۔۔۔۔ کار کی چابی کیسے ملی۔۔۔۔۔” وہ ہانپتے ہوئے کار تک آیا اور مشکوک انداز میں پوچھنے لگا۔
عائرہ کو اس کی کم عقلی پر افسوس ہونے لگا اس نے سفیان کے پہنائے جیکٹ کی جیب سے چابی نکال کر اس کے سامنے ڈش بورڈ پر پٹخی اور ہاتھ سینے پر باندھ کر سامنے دیکھنے لگی۔
“مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔ابھی اسی وقت۔۔۔۔” سفیان کے سنبھلنے سے پہلے اس نے حکم صادر کرتے ٹھوس لہجے میں کہا۔
سفیان نے ایک نظر عائرہ کے غصے سے آگ بگولا ہوتے چہرے کو دیکھا پھر خاموشی سے کار اسٹارٹ کر دی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔
