60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 18

عائرہ کرن کے گود میں سر رکھے ڈیڈ کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
“ڈیڈ مجھ سے ناراض تو نہیں ہے مما۔۔۔۔۔ آپ تو انہیں بہت اچھے سے سمجھتی ہے۔۔۔۔۔ وہ مجھ سے خفہ تو نہیں ہے۔۔۔ بتائیں نا۔۔۔۔۔۔” اس نے کرن کا ہاتھ تھامے پوچھا۔ کرن نے پھیکا مسکرا کر سر نفی میں ہلایا۔
“سفیان نے جو کہا۔۔۔۔۔ کیا وہ سچ ہے۔۔۔۔” کرن نے عائرہ سے گویا تائید چاہی۔
عائرہ نے مایوسی سے سر اثابت میں ہلا دیا۔ اب اور اس بات کو چھپانے کی گنجائش نہیں رہی تھی۔
رات کے وقت شہر کو کالے بالوں نے گھیر لیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گرج چمک کے ساتھ موسلادار بارش برسنے لگی۔ نا سفیان اب تک گھر لوٹا تھا اور نا ہی ذیشان۔
“روحان۔۔۔۔ میرے بیٹے کہاں ہے۔۔۔۔۔ ڈھونڈو انہیں۔۔۔۔۔ تم جانتے ہو نا سفیان کتنا حساس مزاج ہے۔۔۔۔۔ وہ جذبات میں آکر خود کو کچھ کر نا لیں۔۔۔۔۔” نور روہانسی ہو کر رونے لگی۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ وہ میرا بھی بیٹا ہے۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں اسے۔۔۔۔ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا۔۔۔۔” روحان نے سفیان کا موبائل ٹرائی کرتے نور کو دلاسہ دیا۔
رانا صاحب بھی ان کے پاس بیٹھے حوصلہ دلانے کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔
ذیش سے روحان کا رابطہ ہوچکا تھا۔ وہ زینب کے گھر تھا لیکن سفیان کا نمبر بند آرہا تھا جس کی وجہ سے نور کی پریشانی میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔
رات بھر اسلام آباد شہر میں بادل اپنے پورے تاب سے برسے۔ صبح سویرے بھی ہلکی بوندا باندی جاری و ساری تھی۔
سفیان بھیگا ہوا گھر میں داخل ہوا تو نور اس سے لپٹ گئی۔
“شرم نہیں آتی۔۔۔۔۔ ایک دفعہ بھی ماں کا خیال نہیں آیا۔۔۔۔۔ ایسا کوئی کرتا ہے بھلا۔۔۔۔۔ کتنی پریشان تھی میں۔۔۔۔” وہ افسردگی سے اسے مخاطب ہوئی۔ اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے نور کے گرد بازو مائل کر لیئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شام کو ذیشان خوشی سے سرشار گھر آیا تو سب ہی اس وقت لاؤنج میں موجود تھے۔ زینب اور ابتہاج بھی کل کے مسئلے پر بات کرنے آئے ہوئے تھے۔
“سب سے پہلے۔۔۔۔ دولہن کارڈ دیکھے گی۔۔۔۔” اس نے ہاتھوں میں پکڑا کارڈ عائرہ کے جانب بڑھایا۔
عائرہ نے ایک نظر ذیشان کو دیکھا پھر کارڈ کھول کر پرھنے لگی۔ اندر لکھی عبارت پڑھ کر اس کے تعجب سے آبرو پھیل گئے۔
اس کے چہرے کے رنگ بدلتے دیکھ کر رانا صاحب سپاٹ انداز میں آگے آئے اور کارڈ لے کر دیکھا۔ عائرہ کے نام کے ساتھ لکھا وہ نام دیکھ کر انہیں بھی شاک لگا۔
ذیشان نے ہنستے ہوئے کارڈ واپس لیا اور سفیان کے آگے کیا۔
سفیان نے ایک نظر کارڈ کو دیکھا پھر رخ پھیر لیا پر اسے کچھ کھٹکا۔ اس نے واپس رخ سیدھا کر کے ذیشان کے ہاتھ سے کارڈ لیا اور غور سے لکھے عبارت پڑھنے لگا۔
“تمہیں کیا لگا تھا۔۔۔۔۔ میں اتنا خود غرض ہوں۔۔۔۔۔ اپنے بھائی کی محبت چھین لوں گا۔۔۔۔” ذیشان نے آبرو اچکا کر خفگی ظاہر کی۔
سفیان کارڈ پر اپنا نام دیکھ کر شاکی عالم میں ذیش کے گلے لگا۔
“سوری ذیش۔۔۔۔۔ آئی ایم سو سوری۔۔۔۔ میں نے کل آپ سے بہت مس بہیو کیا۔۔۔۔۔” سفیان نے جذباتی ہو کر اس کے گرد اپنی گرفت مضبوط کر دی۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔ میں بھی صرف تمہیں آزما رہا تھا۔۔۔۔۔ کہ تم عائرہ کے لیے کس حد تک جا سکتے ہو۔۔۔۔۔” ذیشان نے اس کا شانہ تھپتھپا کر دلاسہ دیا۔
“پاپا۔۔۔۔۔ آپ تو عائرہ کو بہو بنانا چاہتے ہیں۔۔۔۔ پھر وہ بڑی بہو بنے یا چھوٹی بہو کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔” اس نے روحان کا ہاتھ تھامے سمجھایا تو روحان نے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ سر کو خم دیا۔
“اور بڑے پاپا۔۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔ سفیان تھوڑا سر پھرا ہے۔۔۔۔۔ کبھی کبھی ام میچیور جیسی حرکتیں کرتا ہے لیکن وہ عائرہ سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور اسے بہت خوش رکھے گا۔۔۔۔۔ میں گارنٹی دیتا ہوں۔۔۔۔” رانا صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کرتے اس نے پلکیں جھپکا کر یقین دہانی کروائی۔
“سفیان کے مرض عشق کا علاج صرف ہماری ڈاکٹر عائرہ ہی کر سکتی ہے۔۔۔۔۔ اس رشتے کو اپنا لیجئے۔۔۔۔” اس نے پر امید انداز میں رانا صاحب کو دیکھا۔
“میرے لیے تم دونوں ایک برابر ہو۔۔۔۔۔ اور پھر مجھے میری بیٹی کی خوشیاں بہت عزیز ہے۔۔۔۔۔ اس کی خوشی سفیان سے جڑی ہے۔۔۔۔” رانا صاحب نے ذیشان کو یقین دلاتے کہا۔ دونوں ایک دوسرے کے جذبات سے خوب واقف تھے۔
“ہیپی۔۔۔۔۔” وہ عائرہ کے سامنے جھکا اور ہاتھ پیچھے باندھے گھور کر اسے دیکھا۔
“تھینکیو ذیش۔۔۔۔۔” عائرہ نے خوش دلی سے ذیشان کا شکریہ ادا کیا۔
“صرف ذیش۔۔۔۔۔۔ آگے کا بھائی کھا گئی۔۔۔۔۔” وہ جعلی خفہ ہوا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔ تھینکیو ذیش بھائی۔۔۔۔” وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
“خوش رہو۔۔۔۔۔”ذیش نے عائرہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعا دی۔
رانا صاحب نے عائرہ اور سفیان کو ایک ساتھ سینے سے لگایا۔ ان دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے جا ملی۔ ان کی محبت کو رشتے کا نام ملنے والا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شہر کے عالی شان ہال میں اس وقت مہمانوں کی آمد جاری و ساری تھی۔ روحان اور نور۔ کرن اور رانا صاحب مہمانوں کے استقبال کے لیے آمادہ کھڑے تھے۔ ذیشان اور ارحام بھی تقریب کی دیکھ ریکھ میں لگے نظر آرہے تھے۔
سفیان بلیک کلر برانڈڈ تھری پیس سوٹ میں ملبوس۔ بال سائید پر جمائے ہوئے۔ اور اس پر ہلکی شیو اس کی زینت بڑھا رہی تھی۔ وہ برائڈل روم میں آئینہ کے سامنے کھڑا آخری نظر اپنی تیاری کو دیکھ رہا تھا جب عائرہ لائٹ پنک کلر کے لہنگے میں دلہن بنی برائڈل روم میں داخل ہوئی۔ نفیس میک اپ، بال رول کئے ہوئے دائمنڈ جیولری اور ہاتھوں میں لگی مہندی اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔
پیار تو وہ اس سے بے تحاشہ کرتا تھا۔ اور آج اسے اپنی دولہن کے روپ میں دیکھ کر سفیان خود پر قابو نہیں رکھ سکا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا۔
زینب عائرہ کو برائڈل روم میں لا کر خود کسی کام سے باہر چلی گئی تھی۔ اس وقت وہاں سفیان اور عائرہ اکیلے تھے۔ سفیان قدم قدم چلتا آگے آیا۔
“افففف یہ قاتل ادائیں۔۔۔۔۔ یہ خوبصورتی۔۔۔۔۔۔ کہی میری ہی نظر نہ لگ جائے۔۔۔۔۔” وہ اس کے گرد گول گول گھومنے لگا۔
اس کی خمار آلود آواز میں اپنی تعریف سن کر عائرہ بلش کرنے لگی۔ سفیان اس کے آگے آرکا۔ عائرہ کی مسکان سمٹ گئی۔ وہ ہلکے ہاتھوں سے شریر انداز مسکراتے ہوئے اس کی لٹوں کو سنوارنے لگا۔
“مسٹر رانا سفیان۔۔۔۔ اگر آج میرے بال چھیڑے۔۔۔۔۔ تو میں نے نکاح کے وقت قاری صاحب کو منع کر دینا ہے۔۔۔۔” عائرہ نے فورا سفیان کا ہاتھ جھڑک دیا۔ وہ اس کے رگ رگ سے واقف تھی۔ اس لیے اس کے کچھ کرنے سے پہلے ہی اسے وارن کیا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔ باپ رے۔۔۔۔ تم تو وکیل کی طرح دھمکا رہی ہو۔۔۔۔” سفیان اس کی سمجھداری پر محظوظ ہو کر کھلکھلا اٹھا۔ اس نے سرینڈر کرتے ہوئے ہاتھ ہوا میں بلند کر دیئے۔
“وکیل کی ہونے والی بیوی جو ہوں۔۔۔۔ کچھ اثر تو ہوگا ہی۔۔۔۔” عائرہ نے اسی انداز کھلکھلا کر جواب دیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“عائرہ مبشر ولد مبشر عزیز آپ کو سفیان ولد روحان کے نکاح میں بعوض 10 کڑوڑ روپے سکہ رائج الوقت دیا جاتا ہے۔۔۔ کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔؟” قاری صاحب نے رضایت چاہی
عائرہ نے اسٹیج پر بیٹھی ساتھ کھڑے ڈیڈ کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں لیئے ہوئے مسکرا کر پردے کے پار بیٹھے سفیان کو دیکھا۔
اس لمحے کو ناجانے اس نے کتنی مرتبہ خواب میں دیکھا تھا دل میں سجایا تھا زیر لب قبول ہے قبول ہے کی پریکٹس کی تھی۔
کیا ہوتا اگر ذیشان میں اتنا احساس نا ہوتا۔ کیا اس وقت یہاں بیٹھے وہ پورے دل سے رضامندی دے پاتی۔ اس نے سفیان کے پیچھے کھڑے ذیشان کو دیکھا اور صد شکر ادا کئے۔
آج اس کا خواب سچ ہونے جا رہا تھا۔ وہ اپنی محبت پا لینے کو تھی۔ اس کا نکاح اس کے من پنسد مرد سے ہورہا تھا۔ اس کے دل کا مالک اس کے خوابوں کا شہزادہ۔ اس کا دیوانہ سفیان
“قبول ہے۔۔۔۔” اس نے اعتماد سے کہتے اپنی رضامندی سنائی۔
ماحول خوشی سے چہک اٹھا۔ نور اور کرن نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔
“سفیان ولد روحان عزیز۔۔۔۔ آپ کا نکاح۔۔۔۔ عائرہ مبشر ولد مبشر عزیز سے بعوض 10 کڑوڑ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے آپ کو قبول ہے۔۔۔۔” قاری صاحب نے رخ سفیان کے جانب کیا۔
“قبول ہے۔۔۔۔ قبول ہے۔۔۔۔۔۔ اب کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ چلو قبول ہے۔۔۔۔۔” اس نے شرارتی انداز کہتے شانے اچکائے۔
سب کھلکھلا اٹھے۔
دونوں جانب سے ہامی لیں کر قاری صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ ان کی پیروی کرتے ہال میں موجود ہر بشر نے اس جوڑی کے لیے دعا کرنے ہاتھ بلند کئے۔
“میں وعدہ کرتی ہوں۔۔۔۔۔ آخری سانس تک تمہاری وفادار رہوں گی۔۔۔۔۔” دعا کرتے ہوئے عائرہ نے دل میں سوچا۔ اس کی آنکھیں سفیان پر مرکوز تھی۔
“میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا۔۔۔۔۔ دنیا کی ساری خوشیاں تمہارے قدموں میں رکھ دوں گا۔۔۔۔۔ ” اسی انداز عائرہ کو دیکھتے سفیان نے بھی دل ہی دل وعدہ کیا۔
دعا کے اختتام پر رانا صاحب عائرہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے اپنے جانب متوجہ کیا۔ عائرہ سیٹ سے اٹھ کر ان کے سینے سے جا لگی۔ رانا صاحب نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس کے پیشانی پر بوسہ دیا۔ کرن سے ملتے دونوں ماں بیٹھی قدرے آبدیدہ ہوگئی تھی۔
ارحام سے مبارکباد وصول کرنے کا عائرہ کا اپنا مخصوص انداز تھا۔ اس نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر دو انگلیاں باہم ملائے دوستی کا اشارہ دیا۔ ارحام نے مسکرا کر اسی انداز ہاتھ اٹھا کر دو انگلیاں باہم ملائے سر کو خم دیا اور پھر اسے خود سے لگا کر نکاح کی مبارکباد دی۔
دوسری جانب سفیان، اپنے والدین سے مل کر ذیشان کے گلے لگا اور کافی دیر عقیدت اور احترام سے اسے اپنے حصار میں لیئے ہوئے تھا۔ ذیشان نے پیار کرتے اس کر سر پر بوسہ دیا۔ کچھ دن قبل تک ایک دوسرے کے دشمن جاں بنے بھائی آج ایک دوسرے پر جان وار دینے کو تھے۔
یوں ہی محبت اور اپنائیت سے خوشی خوشی عائرہ اور سفیان کے نکاح کا فنکشن اختتام پذیر ہوا۔
واپسی عائرہ اور سفیان سب سے پہلے نکل گئے تھے اس لیے گھر بھی پہلے پہنچے۔
“مسز سفیان۔۔۔۔۔۔” عائرہ لاؤنج میں داخل ہوتے اپنے کمرے کے جانب بڑھ گئی۔ لہنگے کا دامن پہلووں سے اٹھائے وہ سیڑھیوں کے سرے پر پہنچی تھی کہ سفیان نے اسے پکارا۔
وہ وہی رک گئی اس کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔
سفیان قدم قدم اس کے قریب آیا۔ عائرہ بلش کرتے نظریں نیچی کیے ہوئی تھی۔ سفیان نے اس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں تھاما اور اس کے پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیا۔
عائرہ نے آنکھیں موندھے اس کے لمس کو دل میں اتارا۔ وہ اس کا محرم تھا۔ اس کا شریک حیات۔ زندگی کا ہمسفر۔ اب سفیان کا عائرہ کی زندگی پر اس کے وجود پر پورا حق تھا
اور سفیان اپنی منکوحہ پر محبت نچھاور کرنے کو بے تاب تھا۔
اس نے باری باری عائرہ نے دونوں رخسار پر لمس چھوڑتے اسے بانہوں میں لے لیا۔ عائرہ نے بھی اس کے گرد بازو مائل کر دیئے۔
کتنی دیر وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں سمائے اس وقت کو یادگار بنا رہے تھے۔ گیٹ کے باہر ذیشان کی اور ساتھ ہی رانا صاحب کی گاڑیوں کی آواز پر وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور عائرہ چہکتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
سفیان کئی سارے ارمان دل میں دبائے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنے کمرے کے جانب بڑھ گیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“جان۔۔۔۔ مجھے بھول تو نہیں جاو گے۔۔۔۔” عائرہ نے سفیان کے کندھے پر سر رکھے ہوئے پوچھا۔
وہ دونوں ٹیرس پر جھولے میں بیٹھے تھے۔ سفیان ہلکا ہلکا جھولا جھلا رہا تھا اور عائرہ اس کے کندھے پر سر رکھے تاریک آسمان میں چاند اور تاروں کو دیکھ رہی تھی۔ سفیان کو کل لندن کے لیے روانہ ہونا تھا اس لیے آج کی رات وہ عائرہ کے ساتھ بتانا چاہتا تھا۔
“جان کی جان۔۔۔۔ بھولنے کے لیے نکاح تھوڑی کیا ہے۔۔۔۔۔ ” سفیان اس کے سوال پر شاک ہوگیا۔
“اور وہ جو تم انگلش گرل فرینڈ بنانے کا بول رہے تھے۔۔۔۔” شاید یہ سفیان کے دور جانے کا خوف تھا جو عائرہ کے دل میں ایسے وسوسوں کو پناہ دے رہا تھا۔
“وہ تو صرف مزاق کیا تھا میری جان۔۔۔۔۔ تمہاری جگہ میری لائف میں کوئی لڑکی نہیں لیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔ ہاں کافی بنا کر دینے کے لیے کوئی ہاٹ سی میڈ رکھ لوں گا۔۔۔۔۔” اس نے ونک کرتے ہوئے شریر انداز میں کہا۔
“ڈفر۔۔۔۔۔ جاو میں نہیں بولتی تم سے۔۔۔۔۔” عائرہ چڑ گئی اور اٹھ کر جانے لگی۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ مزاق کر رہا ہوں یار۔۔۔۔۔۔” سفیان نے ہنستے ہوئے اس کے گرد بازو مائل کر کے اسے مضبوطی سے اپنے حصار میں لے لیا اور اس کے گردن پر عقیدت سے بوسہ دیا۔
عائرہ کسمساتے ہوئے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دی۔
ان دونوں کی نوک جوک یوں ہی جاری رہی۔ فرق یہ تھا کہ اب وہ جائز رشتے میں جڑ چکے تھے اور ایک دوسرے پر پورا حق جتا سکتے تھے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دانین کی شادی کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا تھا۔ وہ بے دلی سے ہر تیاری میں گم سم رہتی۔ ہر عام و خاص لڑکی کی طرح اس کے بھی اپنی شادی کو لیں کر کئی ارمان ہوا کرتے تھے۔ پر اب وہ صرف رسموں میں، تیاریوں میں شریک ہوتی محسوس نہیں کر پاتی تھی۔
“کل دوپہر کی ٹرین سے اس کی فیملی اپنے آبائی گاؤں، پیشاور کے لیے نکل رہی ہے۔۔۔۔۔ پرسوں وہاں اس کی شادی کے تقاریب شروع ہوگی ہے۔۔۔۔۔” البرٹ ارحام کو اس کے پل پل کی خبر دیا کرتا۔
ارحام کے آبرو تن گئے تھے۔ اس کی انا اپنے تذلیل کا بدلہ لینے اسے پل پل جھنجوڑ رہی تھی۔
“البرٹ۔۔۔۔ ایک گاڑی۔۔۔۔۔ ایک ڈنڈا اور بے ہوشی کی دوا لے کر میرے کالج پہنچو۔۔۔۔۔” اگلی صبح اس نے کالج سے البرٹ کو کال ملائی۔
“اسے قتل کرنے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔۔ ” البرٹ کو اس کی فرمائشیں سن کر حیرت ہوئی۔
“قتل نہیں کرنا۔۔۔۔۔ کڈنیپ کرنا ہے۔۔۔۔۔” ارحام دانت پیستے ہوئے غرایا۔
اسجد ایک گھنٹے سے اس کے انتظار میں کھڑا تپ گیا۔ اسے ارحام کے بار بار واشروم جانے پر غصہ آنے لگا۔ وہ طیش میں ریسٹ روم کے اندر گیا اور زور سے واشروم کا دروازہ پیٹنے لگا۔
ارحام ہاتھ میں سیگریٹ لیئے گردن اکھڑا کر باہر نکلا۔ اس سے پہلے اسجد کچھ پوچھتا اس کے سر پر زوردار ضرب لگی۔ البرٹ نے اپنی پوری طاقت سے اسجد کے سر پر ڈنڈا دے مارا تھا۔ وہ کراہتا ہوا لڑکھڑا گیا۔
ارحام نے سرد نظروں سے گھورتے اسے دھکہ دے کر گرا دیا اور البرٹ کے ہمراہ بھاگتا ہوا کیمپس سے باہر نکل گیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ٹرین اسٹیشن پر حیدار صاحب ازان اماں اور دانین رش کو چیرتے تیز تیز اپنے مطلوبہ ٹرین کے جانب بڑھ رہے تھے۔ ان کی بقیہ فیملی اور دانین کی چھوٹی بہن چند دن پہلے ہی جا چکی تھی اور آج صرف اس چاروں کو جانا تھا۔
دانین سر پر سفید چادر لیئے۔ اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی پر نظریں جمائے اماں کے پیچے پیچے چل رہی تھی۔
“آپ لوگ یہی رکو۔۔۔۔ میں ٹکٹ کنفرم کرا کر آتا ہوں۔۔۔۔” ازان انہیں ایک جگہ رکنے کا کہہ کر خود انتظامیہ کے جانب بڑھ گیا۔
“خان صاحب یہ 12 نمبر پلیٹ فارم کس جانب ہوگا۔۔۔۔۔” البرٹ معصوم تاثرات بنائے حیدر خان کے پاس آیا اور انہیں باتوں میں مصروف کرنے لگا۔
دانین آخری مرتبہ آس پاس نظر دوڑاتی اس شہر کو دیکھ رہی تھی۔ جہاں وہ بڑے بڑے خواب لے کر آئی تھی۔ میڈیکل کی ڈگری لینے آئی تھی لیکن بدنامی لیں کر جا رہی تھی۔
ارحام دبے پاؤں اس کے عقب میں آیا اور بے ہوشی کے دوا سے تر رومال دانین کے منہ اور ناک پر رکھ دیا۔ دانین گڑبڑا گئی۔ اس سے پہلے وہ چند قدم آگے کھڑی اماں کو خبر کر پاتی یا کوئی مذمت کر پاتی اس کا دماغ مفلوج ہوگیا اور اس کے حواس سو گئے۔
البرٹ جو الٹ پلٹ ایڈریس پوچھتا حیدر خان کو باتوں میں مشغول رکھے ہوئے تھا کنکھیوں سے ارحام کو دانین کو تھامے ہوئے اسٹیشن کے باہری گیٹ کے جانب لے جاتے دیکھ کر الٹے قدم وہاں سے روانہ ہوگیا۔
“ہوگئی ہے بکنگ۔۔۔۔۔ ” ازان ہاتھوں میں ٹکٹ لیئے وہاں آیا اور دنگ رہ گیا۔
“دانین کہاں ہے۔۔۔۔۔” اس نے حواس باختہ چاروں سمت دیکھا۔
“ابھی تو یہی تھی۔۔۔۔۔” حیدر خان اور اماں بھی روہانسی ہوگئے۔
“یہی تھی تو کہاں گئی۔۔۔۔۔بابا دھیان کہاں تھا آپ کا۔۔۔۔۔” ازان کی آواز بلند ہونے لگی۔
“یہ اسی کا کیا دھرا ہے۔۔۔۔۔ میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔” ازان نے غصے میں ہاتھ میں پکڑے ٹکٹ مڑوڑ دیئے۔
“نہیں ارحام نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ رانا صاحب نے مجھے حلف دیا تھا۔۔۔۔۔ ” حیدر خان شاکی علم میں گویا ہوئے۔
“مجھے اس خاندان کے کسی بھی فرد پر بھروسہ نہیں ہے۔۔۔۔۔” وہ الٹے قدم اسٹیشن سے باہر نکلنے لگا۔
“ازان میری بات سنو۔۔۔۔۔” حیدر صاحب اس کے پیچھے ہو لیئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رانا صاحب اور فیملی لنچ کر کے ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ رہی تھی جب لاؤنج میں سے شور کی آواز سنی۔
وہ سنجیدہ تاثرات بنائے ازان اور حیدر خان کے سامنے آگئے۔
“میری بہن کہاں ہے۔۔۔۔۔ ” ازان سارے لحاظ کو بالائے طاق رکھے رانا صاحب پر جھڑپ پڑا۔
“مجھے کیا پتا۔۔۔۔۔ اپنی بہن کو خود سنبھال نہیں سکتے آپ۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“آپ کے بیٹے نے کہی غائب کیا ہے اسے۔۔۔۔ کہاں ہے آپ کا بیٹا۔۔۔۔۔” ازان نے انگلی اٹھا کر سختی سے کہا۔
رانا صاحب کا ضبط ٹوٹنے لگا انہوں نے ارحام کا نمبر ٹرائی کیا پر موبائل بند آرہا تھا۔ ان کی آنکھوں میں سختی در آئی۔ انہوں نے اسجد کا نمبر ٹرائی کیا۔ وہاں سے بھی جواب موصول نہیں ہوا۔
“دیکھا۔۔۔۔ نہیں دے رہا جواب۔۔۔۔۔ یہ کیسے سنبھالا ہے آپ نے اپنے بیٹے کو۔۔۔۔۔” ازان نے طنزیہ انداز میں کہا۔ حیدر صاحب نے اسے پکارا پر وہ ان کے جانب متوجہ نہیں تھا۔
“تماشا مت بناو۔۔۔۔۔۔ میں خاموش ہوں تو یہ مطلب نہیں تم کچھ بھی بولتے رہو۔۔۔۔۔” ذیشان طیش میں ازان نے آگے آگیا۔
“یاد رکھنا مسٹر رانا۔۔۔۔۔۔ اگر ارحام نے میری بہن کے ساتھ کچھ بھی کیا تو مجھے بہن کے بدلے۔۔۔۔۔۔ اس کی بہن چاہیئے۔۔۔۔۔۔” ازان نے ذیشان کو نظر انداز کر کے حقارت بھری نظروں سے عائرہ کو دیکھا۔
عائرہ سہم گئی وہ الٹے قدم پیچھے ہو کر کرن کے اوٹ میں چھپ گئی اور مما کا بازو تھام لیا۔ اس کی دھڑکن تیز ہوگئی اور آنکھیں بھیگنے لگی۔
رانا صاحب نے مٹھیاں سختی سے مینچھ لی۔ وہی ذیشان کی آنکھوں میں دہشت اتر آئی۔
“سوچنا بھی مت۔۔۔۔۔ میری بہو ہے وہ۔۔۔۔۔ ” روحان نے ازان کو کالر سے دبوچ لیا۔ سفیان وہاں نہیں تھا تو کیا عائرہ اس کی امانت تھی۔ اس کی منکوحہ۔ روحان اپنے بیٹے کی امانت پر کسی کی بری نظر برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
“میری بہن بھی کسی کی ہونے والی بہو ہے۔۔۔۔۔ دو دن میں اس کی بارات ہے۔۔۔۔۔ کیا جواب دینگے ہم لڑکے والوں کو۔۔۔۔” ازان کرہٹ بھرے لہجے میں دھاڑا۔
“یہ ایسے نہیں مانے گا پاپا۔۔۔۔ اسے میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔” ذیشان نے گھر کی عورتوں پر معاملہ آتے دیکھ ازان کا جبڑا جکڑ لیا۔ ازان نے جوابی کارروائی کرتے ذیشان کی گردن دوبچ لی۔ دونوں ہی ہاتھاپائی پر اتر آئے۔
“ذیش۔۔۔۔۔۔ چھوڑو اسے۔۔۔۔۔۔ آئی سیڈ لیو ہم۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے آزاد کرایا۔
“حیدر صاحب سنبھالے اپنے بیٹے کو۔۔۔۔۔ ورنہ معاملہ دشمنی تک پہنچ جائے گا۔۔۔۔۔ اور میری دشمنی آپ سب کو بہت مہنگی پڑے گی۔۔۔۔۔” ذیشان نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے ہوئے حیدر خان کو دھمکایا۔
“رانا صاحب ہمیں بس ہماری لڑکی چاہیئے۔۔۔۔۔۔ دشمنی مول لینے نہیں آئے ہم۔۔۔۔۔” حیدر خان نے سنجیدگی سے رانا صاحب کو مخاطب کیا۔
رانا صاحب شش و پنج میں مبتلا ہوگئے تھے انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اس معاملے کو کیسے سلجھائے۔ تب ہی ان کا موبائل بجنے لگا۔ انہوں نے پہلی بیل پر کال اٹھا لی تھی۔
“اسجد کہاں ہو تم۔۔۔۔۔ ارحام کہاں ہے۔۔۔۔۔” رانا صاحب کا دل دہل گیا تھا۔
“سر۔۔۔۔ سوری سر۔۔۔۔۔ ارحام میرے قبضے سے فرار ہوگیا۔۔۔” اسجد نے من و عن ریسٹ روم کی رو داد سنائی۔
“واٹ۔۔۔۔ کہاں گیا ہے وہ۔۔۔۔۔ ” رانا صاحب کے اضطراب میں اضافہ ہورہا تھا۔ جواب میں اسجد نے اپنے زخمی ہونے کا بتایا۔
کال کاٹ کر رانا صاحب نے پہلے حیدر خان اور ازان کے جانب دیکھا پھر کرن کے طرف بڑھ گئے۔
“کرن۔۔۔۔۔ کیا ارحام کچھ بتا کر گیا ہے۔۔۔۔۔ یا۔۔۔۔۔ تمہیں وہ آج مشکوک لگا ہو۔۔۔۔۔” وہ کرن کو کندھوں سے تھامے پوچھنے لگے۔
کرن نے پتلیاں سکیھڑے سوچنے کی کوشش کی اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ عائرہ سارا منظر دیکھتے ٹھٹک گئی۔
ایک جھماکے سے اسے یاد آیا صبح جب وہ اپنے سیف میں پیسے رکھ رہی تھی تو وہاں سے فارم ہاوس کی اضافی چابی غائب تھی۔ اور اس کے سیف کا کوڈ صرف ارحام کو آتا تھا۔
“فارم ہاوس۔۔۔۔۔۔” گلا تر کرتے اس نے ڈیڈ کے کندھے کو تھامے جنبش دیا۔ رانا صاحب کے تاثرات سپاٹ ہوگئے۔
“رانا صاحب میری بات سنیں۔۔۔۔” کرن نے ہیبت زدہ ہو کر رانا صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“نہیں کرن۔۔۔۔۔ ہر بار تمہاری ممتا اسے مجھ سے بچا لیتی ہے۔۔۔۔۔ پر اس مرتبہ وہ انسانیت کے بھی حدود پار کر چکا ہے۔۔۔۔۔ اب اور نہیں۔۔۔۔۔ ” دہشت سے ان کا چہرہ دہکنے لگا۔ تیز تیز بولنے سے سانس چڑھ گئی تھی۔
وہ لمبے ڈگ بھرتے باہر کے جانب روانہ ہوگئے۔ انہوں نے حیدر صاحب اور ازان کو بھی ساتھ چلنے کی تلقین کی۔
“مما ڈونٹ وری۔۔۔۔ میں ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔۔۔۔ میں بڑے پاپا کو سنبھال لوں گا۔۔۔۔۔” ذیشان نے کرن کو تسلی دی اور رانا صاحب کے پیچھے بھاگا۔ کرن روتے ہوئے وہی بیٹھ گئی۔
روحان نے بے بسی سے لب کاٹتے ہوئے عائرہ کو دیکھا۔ دل ہی دل وہ مسلسل دعائیں پڑھ پھونک رہا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دانین کو ہوش آیا تو وہ ایک بڑے سے کمرے میں موجود بیڈ پر پڑی تھی۔ عنودگی سے باہر نکلتے وہ فورا سے اٹھ بیٹھی اور روہانسی ہو کر آس پاس دیکھا۔ سامنے کرسی پر وہ مغرور بادشاہ بیٹھا ہوا میں سیگریٹ کا دھواں اڑا رہا تھا۔
“ارحام تم۔۔۔۔۔ اب کیا چاہتے ہو۔۔۔۔۔ کیوں لائے ہو مجھے یہاں۔۔۔۔۔” دانین کی آواز لرز رہی تھی۔ وہ اپنی چادر درست کرنے لگی۔
“بتا دوں گا۔۔۔۔۔ جلدی کیا ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔” ارحام بے باقی سے مسکرایا۔
“مجھے اپنے بابا کے پاس جانا ہے۔۔۔۔” وہ اپنے اضطراب کو قابو کرتی اٹھی اور دروازے کے جانب بڑھ گئی پر ارحام نے اس کا بازو دبوچ لیا اور تندی سے دیکھتے اسے واپس بیڈ پر پٹخ دیا۔
“اتنی آسانی سے تم کہی نہیں جا سکتی۔۔۔۔۔ بہت بہادر بنتی ہو۔۔۔۔۔۔ مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا نا۔۔۔۔۔” ارحام لفظ چبا کر ادا کرتے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔
“اب میں بتاتا ہوں۔۔۔۔۔ ارحام کی ڈکشنری میں اس پر ہاتھ اٹھانے کی کیا سزا ہوتی ہے۔۔۔۔۔” اس نے شرٹ اتار کر پرے پھینک دیا۔
دانین کی سانس رکنے لگی۔ وہ فرار کا راستہ تلاش کرنے لگی۔ دروازے کے پاس آکر اس نے ہینڈل گھمایا لیکن دروازہ لاک تھا۔ وہ دیوانہ وار دروازہ بجانے لگی۔
“کھولو۔۔۔۔۔ پلیزززززز۔۔۔۔۔ کوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے بلند آواز مدد کے لیے صدائیں دینے لگی۔
ارحام نے قدم اس کے جانب بڑھائے تو وہ سہم گئی۔
“ایسا مت کرو پلیزززز میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔۔ میں نے مارا تھا نا۔۔۔۔۔ تم بیشک مجھے مارو۔۔۔۔ لیکن میری عزت پامال مت کرو۔۔۔۔۔ ” وہ ارحام کی نیت جانچتی اس سے منت کرنے لگی۔
“تم پہلے ہی میری بہت بدنامی کر چکے ہو۔۔۔۔۔ میں مر جاوں گی۔۔۔۔۔ ارحام پلیزززز آگے مت آو۔۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔۔۔ خدا کے لیے ایسا مت کرو۔۔۔۔” وہ کھڑکی کے جانب بھاگی پر وہاں بھی راہ نجات نہ ملا۔
ارحام کمینگی سے اسے دیکھتا اس کے قریب ہوا اور اس کی چادر کا پلوو جکڑ لیا۔
“آاا۔۔۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔ نہیں پلیز۔۔۔۔۔ میرے ہاتھ دیکھو۔۔۔۔۔ میری شادی ہے۔۔۔۔۔ ایسا ظلم مت کرو۔۔۔۔۔ میرے بابا قبیلے میں منہ دکھانے قابل نہیں رہے گے۔۔۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔” وہ ہر طرح کا واسطہ دیتے ارحام کو روکنے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ انا پرست ایک قدم پیچھے نہ ہٹا۔
دانین خود کو بچاتی مضبوطی سے چادر اپنے اوپر پھیلاتی اس سے دور ہونے لگی پر ارحام نے اسے بازو سے جکڑ کر بیڈ پر گرا دیا۔
وہ چیختی روتی پیچھے ہونے لگی۔ اس کے جسم پر کپکاہٹ طاری ہوگئی تھی۔ ارحام نے اسے گھورتے پیروں سے کھینچا تو دانین پیچھے گر پڑی اور سر تکیے سے جا لگا۔
اس کی کلائیاں پکڑے بیڈ کراون سے لگا کر اور اس پر جھک کر ارحام نے ساری راہ فرار مسدود کر دی۔
“ااااہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ بچاووو۔۔۔۔۔۔” وہ آنکھیں سختی سے مینچھے سر دائیں سے بائیں کرتی اللہ کو پکارنے لگی۔ پر انا اور غرور کے جوش میں ڈوبے ارحام پر اس کی کسی آہ و بکا کا اثر نہیں ہورہا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔۔