60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 22

“زی۔۔۔۔۔ابتہاج آپ کے ساتھ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔۔” سفیان نے ڈرائیو کرتے ہوئے رخ موڑ کر ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی زینب کو دیکھا۔
دو ماہ پہلے ابتہاج نے میڈیا کے ٹارچر اور امی جان کے خفگی سے تنگ آکر اپنا ٹرانسفر کراچی کروا دیا تھا۔ چونکہ اسے وہاں سیٹل ہونے میں کچھ وقت درکار تھا اس لیے وہ زینب کو ساتھ نہیں لے کر جا سکا۔ زینب ایک ہفتہ میکے رہنے آئی تھی اور آج واپسی گھر جارہی تھی جب سفیان نے اسے گھر چھوڑتے ہوئے راستے میں سوال کیا۔
“ہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔” اس نے ونڈ اسکرین کے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے تو لیں کر کیوں نہیں جا رہا۔۔۔۔۔ یہاں اپنی ماں کے تانے سننے اکیلے کیوں چھوڑ دیا ہے آپ کو۔۔۔” اس نے سنجیدگی سے دوسرا سوال کیا۔
زینب ابھی دل میں کوئی جواب گڑھ ہی رہی تھی کہ ایک دھماکے سے اس کے سائیڈ کی ونڈ اسکرین ٹوٹی۔
وہ چیختی رخ سفیان کے جانب کر گئی کچھ کرچیاں اس کے بازو اور پر لگ گئی تھی۔ صد شکر چہرہ اور آنکھیں محفوظ رہی۔
“زی۔۔۔۔۔ ” سفیان نے اسے پکارتے خوف زدہ ہو کر اس کے آگے اپنا بازو پھیلا دیا۔ زینب نے آنکھیں مینچھے سفیان کا کندھا پکڑ لیا۔
چند نا معلوم افراد کے جانب سے سفیان کی گاڑی پر پتھراؤ شروع ہوگیا تھا۔ سفیان کو اپنی کوئی فکر نہیں تھی لیکن زینب کے زخمی ہونے کے اندیشے نے اس کی سانسیں تاو و بالا کر دی تھی۔ اس کے عصاب تن گئے۔ پوری قوت سے اس نے ایکسلیٹر پر دباو بڑھا دیا۔ اسے گاڑی کے سامنے آنے والے نا کسی احتجاجی کی پروا تھی نا میڈیا اہلکار کی فکر۔ راستے میں آنے والے بائکس کو ٹکر مارتا، ان کے وار سے بچتا وہ فل اسپیڈ سے گاڑی بھگا رہا تھا۔
ایک رش کی جگہ آکر اس نے سپیڈ ہلکی کردی اور اپنا بلیک کوٹ اتار کر اپنے کندھے سے لگی، سر چھپائے زینب پر ڈال دیا تاکہ وہ پتھروں کی وار سے قدرے محفوظ ہوسکے۔
“یقین نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔ معاملہ اتنا سیریس کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ یہ کام دانین کی فیملی کا تو نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ شریف لوگ تھے۔۔۔۔۔۔ اور میڈیا رپورٹرز۔۔۔۔۔ ان کی ایسی کیا دشمنی ہم سے۔۔۔۔۔ ضرور اس سکینڈل کو یوز کر کے کوئی اور دشمنی نکال رہا ہے۔۔۔۔” زینب کے گھر پہنچ کر وہ کمر پر ہاتھ رکھے پر سوچ انداز میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔
“سفیان۔۔۔۔ کچھ کرو۔۔۔۔۔ اس میٹر کو حل کرو۔۔۔۔۔۔ اب تک تو صرف زبانی وار ہوتا رہا۔۔۔۔ اب جانی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔” زینب صوفے پر بیٹھی اس کیفیت سے نکلنے کی کوشش کرتی مسلسل لرز رہی تھی۔
“کسی کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔۔” اس نے زینب کے قدموں میں بیٹھ کر اس کے ہاتھ تھام لیئے۔ اس کے بازووں کے خراشوں اور زخموں کو دیکھ کر سفیان کو ارحام پر شدید غصہ آنے لگا تھا۔
“سنبھل کر جانا۔۔۔۔۔۔ پہنچ کر کال کرنا۔۔۔۔” اس کے گھر سے واپسی آتے زینب کو اس کی بہت فکر ہونے لگی۔ وہ اسے ہدایت دیتی اس کے لیے دعائیں کرنے لگی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
گھر پہنچ کر سب سے پہلا کام اس نے ابتہاج کو کال ملائی اور اسے جلد از جلد زینب کو اپنے پاس کراچی بلانے کی ریکویسٹ کی جو ابتہاج زینب کے زخمی ہونے کا سن کر فورا سے مان گیا اور دو دن کے اندر اسے اپنے پاس کراچی بلوانے کا وعدہ کیا۔
“کبھی کبھی سوچتی ہوں۔۔۔۔۔۔ کاش میرا کوئی بھائی نا ہوتا۔۔۔۔۔ کم سے کم ارحام جیسا تو نا ہوتا۔۔۔۔” عائرہ اس کے بازو پر گردن پر لگے خراشوں کو دیکھ کر غمگین ہوگئی تھی۔
سفیان شام کو ٹیرس کے بینچ پر سر اس کی پشت سے ٹکائے۔ آنکھیں موندھے سینے پر ہاتھ باندھے بیٹھا تھا۔ عائر اس کے جانب رخ کر کے بیٹھی ہلکے ہاتھوں سے اس کے گردن پر لگے زخموں پر مرہم لگا رہی تھی۔
اس کی اس بات پر سفیان نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ عائرہ کی خوبصورت سیاہ آنکھیں گلابی ہونٹ چہرے پر آتے بال دیکھ کر اس کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔
سامنے محبوب ہو اور وہ محرم بھی ہو تو دل میں اس کی قربت پانے کی خواہش جنم لیتی ہے۔
وہ سیدھا ہوا اور عائرہ ہاتھ سے دوائی لے کر سائیڈ پر رکھی۔ عائرہ تعجب سے اسے دیکھنی لگی۔ اس کی نظروں میں خمار آتے دیکھ عائرہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ سفیان نے اس کے گرد بازووں کا حصار بنا لیا۔ اس کی نظریں عائرہ کے چہرے کا طواف کرنے میں مصروف تھی۔ اس نے کچھ کہنے لب کھولے پر سفیان اپنے آپ میں مگن اس کے گردن پر اپنے لب نسب کر چکا تھا۔ اس کی شدت محبت برداشت کرنے عائرہ نے سانس روکے آنکھیں سختی سے مینچھ لی تھی۔
ان کی ملاقاتیں گھر تک ہی محدود نا رہی تھی سفیان باقاعدہ ہر ویک اینڈ عائرہ کو گھمانے لیں جایا کرتا۔ اپنے الگ الگ شوق سے واقف کرواتا۔
اس دن سفیان عائرہ کے ساتھ باہر ڈنر کرنے گیا تھا جب اس نے ارحام کے ملنے کے بعد شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ سفیان کے آبرو تن گئے۔ اسے ارحام پر مزید غصہ آنے لگا۔
“سفیان۔۔۔۔ آج بڑے پاپا آئے تھے۔۔۔۔ شادی کی تاریخ رکھنے۔۔۔۔ ہم نے ہاں کر دی ہے۔۔۔۔۔ تم بتاو۔۔۔۔۔ تمہاری کیا رائے ہے۔۔۔” رات کو وہ گھر پہنچا تو ذیشان نے دن کی رو داد اس کے گوش گزار کی۔
“میں۔۔۔۔۔۔ ارحام کے ملنے کے بعد شادی کروں گا۔۔۔۔ ابھی نہیں۔۔۔۔”اس نے کچھ سوچتے ہوئے عائرہ کی خواہش کو اپنی خواہش بنا کر بتایا۔
“پر کیا پتا ارحام کہاں ہے۔۔۔۔۔ واپس آئے گا بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔ اس کے لوٹنے میں جانے کتنے سال لگ جائے۔۔۔۔۔” نور کو سفیان کی بات بے منطق لگی۔
“وہ جہاں بھی ہے۔۔۔۔۔ اب میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا۔۔۔۔۔ عائرہ بھی یہی چاہتی ہے کہ ارحام کے ملنے کے بعد شادی ہو۔۔۔۔۔” سفیان نے سنجیدگی سے کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“تم کیوں خوش ہورہے ہو۔۔۔۔” ذیشان کو مسرور ہوتے دیکھ کر نور کو حیرانگی ہوئی۔
“ارحام کا انجام سوچ کر۔۔۔۔۔۔ سفیان بہت ضدی ہے اور اب پروفیشنل وکیل بھی۔۔۔۔۔ ایک تو وہ پہلے ہی ارحام پر شدید غصہ ہے اور اوپر سے یہ خواہش عائرہ کی ہے۔۔۔۔۔ اب تو وہ ارحام کو ہر حال میں ڈھونڈ کر دم لے گا۔۔۔۔۔ بس فکر اس بات کی ہے۔۔۔۔ سفیان اس کی ہڈی پسلی نہ توڑ دے۔۔۔۔۔” اس نے آبرو اچکا کر ارحام کے مستقبل کو سوچتے سر جھٹکا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس وقت تو سفیان نے ارحام کو ڈھونڈنے کا فقط سوچا تھا ارادہ پختہ تب ہوا جب وہ اگلی شام بڑے پاپا کو اپنے فیصلے سے با خبر کرنے پہنچا اور انہیں تلاوت کرتے روتا پایا۔
وہ لمحہ اس کے دل پر بہت گراں گزار تھا۔ اس سے بڑے پاپا کے آنسو دیکھیں نہیں گئے۔ اسے ہمیشہ لگتا تھا عائرہ کے آنسو اس کی کمزوری ہے پر اس وقت بڑے پاپا کے قدموں میں بیٹھے وہ یہ جان گیا تھا ان کے آنسووں سے زیادہ تکلیف دہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہ لب کاٹتے خود کو کمپوز کر کے واپس پلٹ گیا۔ اب اس کے لیے ارحام کو واپس لانا نا عائرہ کی خواہش تھی نا خود کی ضد بلکہ بڑے پاپا کی ضرورت تھی جو اس نے پورا کرنے کی ٹھان لی تھی۔
اس رات اس نے اپنے آدمی ارحام کو ڈھونڈنے لگا دیئے۔ ہر گزرتے پل کے ساتھ اس کے دل میں ارحام کے لیے غصہ بڑھنے لگتا تھا۔ لیکن ارحام کو سامنے دیکھ کر اس کا دل موم بن گیا۔
(حال)
سفیان کی زبانی اپنے والدین کی، ان پر گزرے تکالیف کی آپ بیتی سن کر، رانا ہاوس کی بٹوارے کا جان کر ارحام آبدیدہ ہوگیا تھا۔ اس نے سر جھکا کر آنکھیں بند کی اور بہت سارے آنسو اپنے اندر اتارے۔
انسان بڑا ہی سخت جان ہے۔ جس بات کا تصور بھی برداشت نہیں کر سکتا جب وہ حقیقت بن کر ٹوٹ پڑتی ہے تو چپ چاپ برداشت کر لیتا ہے۔
“کتنا کچھ ہوگیا ہے میری وجہ ہے۔۔۔۔۔ میں تو معافی کے بھی قابل نہیں ہوں۔۔۔۔۔” اس نے لرزتی آواز میں اپنے بے بسی ظاہر کی۔
“میں پھر وہی کہوں گا۔۔۔۔۔۔ خونی رشتے جتنا بھی ناراض ہوجائے۔۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے ناتہ نہیں توڑ سکتے۔۔۔۔۔ تمہارے ایک مرتبہ سچے دل سے معافی مانگنے پر ساری تلخیاں مٹ جائیں گی۔۔۔۔۔ گھر چلو۔۔۔۔۔” سفیان نے نرمی سے اس کے کندھے کے گرد بازو مائل کر دیا۔
“میں تمہیں واپس لیں جانے آیا ہوں۔۔۔۔۔ بڑے پاپا کے لیے۔۔۔۔۔۔ اس عمر میں انہیں مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔۔ میں اور ذیش ہر وقت بھلے ان کے ساتھ ہو۔۔۔۔۔ لیکن جو تسکین انہیں اپنے بیٹے کی موجودگی سے ملے گی۔۔۔۔ وہ میں اور ذیش نہیں دیں سکتے۔۔۔۔۔” وہ ہمدردی سے اسے سمجھانے لگا۔
ارحام نے سر آسمان کے جانب اٹھا کر لمبی سانس لی اور بہ مشکل ایک فیصلے پر آنپہنچا۔ اس نے پر سکون ہوتے سفیان کی آنکھوں میں دیکھا اور پلکیں جھپکا کر سر اثابت میں ہلایا۔ سفیان چہک اٹھا اور اسے مضبوطی سے اپنے حصار میں لے لیا۔
اپنے آنکھوں میں ٹھہرے نمی کو صاف کرتے وہ روانہ ہونے لگا تھا جب ایک احساس کے تحت چند قدم آگے جا کر وہ رک گیا اور رخ موڑ کر اتنی دیر سے گم سم کھڑی حدیل کو دیکھا۔
“چلو گی میرے ساتھ۔۔۔۔” ارحام نے اپنا ہاتھ اس کے جانب بڑھایا۔ حدیل کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی وہ سر اثابت میں ہلاتے تیزی سے آگے آئی اور ارحام کا ہاتھ تھام لیا۔
“اسے اردو آتی ہے۔۔۔۔۔” ارحام کو حدیل کے ساتھ اردو میں مخاطب ہوتے دیکھ کر سفیان شاک ہوگیا۔ ارحام نے اپنی مسکراہت دبائے سر اثابت میں ہلایا۔
“مطلب یہ ہماری ساری باتیں سمجھ گئی۔۔۔۔۔ چلو اچھا ہوا میں نے کچھ غلط نہیں بولا۔۔۔۔۔ اور تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔” وہ اپنا کوٹ درست کرتے حدیل پر خفا ہونے لگا۔
“آپ نے پوچھا ہی کب۔۔۔۔۔” حدیل نے لا پرواہی سے شانے اچکائے۔
“یہ تو بڑی تیز ہے۔۔۔۔” اس کی اتنی اچھی اردو سن کر سفیان نے ارحام کو دیکھتے بے یقینی سے کہا۔
وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
“ویسے۔۔۔۔ میرا پتا کیسے لگایا۔۔۔۔۔۔ ” حدیل کے گھر کے راستے میں ارحام کو تجسس ہوا۔
“بہت ڈھونڈنا پڑا۔۔۔۔۔۔ کسی کو ڈرایا دھمکایا۔۔۔۔۔ کسی کو مارا پیٹا۔۔۔۔۔ ایک کو تو شوٹ بھی کر دیا تھا۔۔۔۔” سفیان نے جعلی خفگی ظاہر کی۔
“کس کو۔۔۔۔۔” وہ سانس روکے اسے دیکھنے لگا۔ حدیل بھی بے یقینی سے رک گئی۔
“البرٹ کو۔۔۔۔ ” سفیان کو مانو کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔
“مر گیا۔۔۔۔۔” ارحام کو عائرہ پر افسوس ہونے لگا۔ اس کا شوہر وکیل کم گینگسٹر زیادہ لگ رہا تھا۔
“نہیں بچ گیا تھا۔۔۔ لیکن واپسی جا کر ضرور مار دوں گا۔۔۔۔ کیونکہ تمہیں بگاڑنے میں سب سے زیادہ ہاتھ اسی کا ہے۔۔۔۔۔” اس نے دانت پر دانت جمائے ہوئے اس کی گردن اپنے بازو میں دبوچ لی۔
“ااااہ۔ہ۔ہ۔ جیجو۔۔۔۔۔” ارحام نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر شرمندہ ہوتے ہار مان لی۔
حدیل کے گھر جا کر میمونہ آنٹی کو دیکھ سفیان کے حیرت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ چند ریکویسٹ کر کے ارحام نے حدیل کو اپنے ساتھ پاکستان لیں جانے پر آنٹی کو منا لیا اور پھر اپنے اپارٹمنٹ جا کر پیکنگ کرنے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“کہاں ہو۔۔۔۔” اسلام آباد کے ائیر پورٹ پر لینڈ کرتے سفیان نے عائرہ کو کال ملائی۔
“گھر پر۔۔۔۔۔” اس کا جواب سنتے ہوئے وہ ارحام اور حدیل کو چیک آوٹ ہوتے دیکھ رہا تھا۔
“گھر پر ہی رہنا۔۔۔۔ بڑے پاپا اور مما کو بھی میرے آنے تک گھر پر روکے رکھنا۔۔۔۔۔” اس نے ہدایت دی۔
“وہ کیوں۔۔۔۔” عائرہ کو اس کی باتوں سے حیرانگی ہونے لگی۔
“سرپرائز دکھانا ہے نا۔۔۔۔۔ افففف کیا لگتی ہے۔۔۔۔۔ سنہرے لمبے بال۔۔۔۔۔ سبز نشیلی آنکھیں۔۔۔۔۔ دودھ سی سفید رنگت۔۔۔۔ لمبا قد۔۔۔۔ سمارٹ۔۔۔۔۔ اور قاتلانہ مسکان۔۔۔۔۔” وہ حدیل کو دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔
عائرہ کے آبرو تن گئے تھے۔ محبت میں جیلسی لازم ہے۔ جو جتنا ٹوٹ کر محبت کرتا ہے اتنا ہے حسد کرتا ہے، وہ اپنے محبوب کے پاس اس خوشبو کو بھی بھٹکنے نہیں دیتا جو کسی اور کے وجود سے آرہی ہو۔
عائرہ سے سفیان کے زبانی کسی اور لڑکی کی تعریف برداشت نہیں ہوئی اس نے بنا کچھ کہے کال کاٹ دی اور سفیان موبائل جیب میں رکھتے ہنس دیا۔
اپنا چیک آوٹ کروا کر وہ دونوں سفیان کے پاس آئے۔ ائیر پورٹ سے باہر نکل کر سامنے ہی سفیان کے دونوں باڈی گارڈز اس کے منتظر تھے۔ اسے آتے دیکھ کر وہ آگے آئے اور ملنے لگے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے اسے ارحام کو دریافت کر لینے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
حدیل ان دو لمبے چوڑے پھرتیلے مردوں کو دیکھ کر قدرے مضطرب ہو گئی اور ارحام کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“ارحام۔۔۔۔ یہ تمہارا کزن ایکچیولی کرتا کیا ہے۔۔۔۔” حدیل کو گارڈز کے گھیرے میں تیز تیز چلتے سفیان کا کردار مشکوک لگا۔ اس نے منہ کے آگے ہاتھ کر کے سرگوشی کی۔
“وہ criminal lawyer ہے۔۔۔۔۔ ” ارحام نے بھی اسی انداز سرگوشی کرتے ہوئے بتایا۔
“کیا ہوا۔۔۔۔ تم کیوں ڈر گئی۔۔۔۔۔ تم نے کوئی کرائم کیا ہے کیا۔۔۔۔” حدیل کے تاثرات بدلنے لگے تو ارحام نے استفسار کیا۔
“نہیں میں کیوں ڈروں گی۔۔۔۔” فورا سے بیشتر خود کو کمپوز کرتے ہوئے وہ سیدھے چلنے لگی۔ ارحام سر جھٹک کر مسکرا دیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رانا ہاوس کے گیٹ پر کار سے اترتے ارحام کا دل ڈگمگانے لگا۔ ماضی کی بہت سی سیاہ راتیں آنکھوں میں گردش کرنے لگی تھی۔ باپ کا مرجھایا چہرہ۔ ماں کے آنسو۔ بہن کا ٹوٹا دل۔ ایک ایک تکلیف اجاگر ہوتے اس کے قدم بھاری ہونے لگے۔
سفیان اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے رانا ہاوس کے اندر لیں آیا۔
لاونج میں رانا صاحب سفید قمیض شلوار میں ملبوس کندھوں پر سیاہ شال ڈالے۔ آنکھوں پر چشمہ لگائے کوئی پرانی ڈائری پڑھ رہے تھے۔ قدموں کی چاپ سن کر انہوں نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو سفیان کو آتے دیکھ کر مسکرائے لیکن اگلے ہی پل اس کے ساتھ کھڑے وجود کو دیکھ کر ان کی مسکان سمٹ گئی اور آنکھوں میں حیرت در آئی تھی۔ وہ بے اختیار صوفے پر سے کھڑے ہوگئے۔ آنکھوں کی دید خیرہ ہونے لگی تو چشمہ ہٹا کر اس منظر کی تصدیق کرنا چاہی۔
ارحام کا دل کیا وہ کہی ڈوب جائے۔ اس نے شان سے رہنے والے ڈیڈ کو کتنا کمزور بنا دیا تھا۔ اس کے اندر کا گلٹ اسے اپنے سینے پر خنجر کی مانند لگ رہا تھا۔
“ارحام۔۔۔۔” رانا صاحب کے لبوں سے اس کا نام پکارنے کی دیر تھی کہ ارحام بھاگتا ہوا ان کے سینے سے جا لگا اور رونے لگا۔
“مجھے معاف کر دے ڈیڈ۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔۔۔ میں نے بہت بہت تکلیف دی ہے آپ کو۔۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔” روتے بلکتے وہ ان کے سینے سے لگے معافی مانگنے لگا۔
رانا صاحب نے اس کے گرد بازو مائل کر کے اس وجود کو محسوس کیا۔ وہ ان کا لخت جگر تھا۔ انہوں نے اسے مضبوطی سے خود سے لگا لیا تھا۔ جیسے اب یہ گرفت چھوٹی تو وہ سنبھل نہیں پائیں گے۔
کوئی پلٹ آئے تو اس کا ہاتھ تھام لینا چاہیئے۔ اس کی امید نہیں توڑنی چاہیئے۔ کسی کی امید قائم رکھنا اللہ کی صفت ہے اور رانا مبشر اس صفت کے پیروکار تھے۔
“مجھے معلوم ہوتا میرے مارنے پر تم چھوڑ کر چلے جاو گے تو کبھی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔۔۔۔۔ ایسی سزا دی تم نے اپنے بوڑھے باپ کو ہاااا۔۔۔۔” رانا صاحب کے آنسو جاری ہوچکے تھے۔
“نہیں ڈیڈ۔۔۔۔۔ آپ ماریں مجھے۔۔۔۔۔ چاہے میرا گلا گھونٹ دیں۔۔۔۔۔ آپ کو پورا حق ہے مجھ پر۔۔۔۔۔ بس آئیندہ کبھی خود سے دور مت کرنا۔۔۔۔۔ غلطی سے بھی چھوڑ جانے کا کہہ دوں تو دو اور تھپڑ لگا دینا۔۔۔۔ لیکن خود سے الگ مت ہونے دینا۔۔۔۔۔ پلیزززز۔۔۔۔۔۔” وہ ان کی سفید داڑھی پر لڑکھتے آنسو صاف کرتے ان کے رخسار چومنے لگا۔ اور پھر باری باری ان کے ہاتھ چھوم کر ان کے قدموں میں بیٹھ کر ہاتھ جوڑ دیئے۔
رانا صاحب نے اسے اٹھا کر پھر سے سینے میں بھینج لیا۔ یہ منظر دیکھتے سفیان اور حدیل بھی جذباتی ہوگئے تھے۔ عائرہ نے لاونج میں سے آوازیں آتی سنی تو سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی اور سامنے ہی سفیان کے ساتھ کھڑی حدیل پر نظر پڑی۔ سر تا پیر اسے دیکھتے اس کے سماعتوں میں سفیان کے الفاظ گردش کرنے لگے۔
“یووووو چِیٹ۔۔۔۔۔ یووووو ڈفررر۔۔۔۔۔۔ تو سچ میں یہی تمہارا سرپرائز تھا۔۔۔۔۔” عائرہ غراتے ہوئے آگے آئی اور سفیان پر وار کرنے لگی۔ سفیان ہاتھ آگے اٹھائے اس سے دور جانے لگا۔
“اررےےے میری ماں۔۔۔۔۔ سرپرائز یہ نہیں وہ ہے۔۔۔۔۔ ” اس نے ہاتھ ہوا میں لہرا کر رانا صاحب کے سینے سے لگے ارحام کے جانب اشارہ کیا۔
وہ دونوں اپنے آپ میں اتنا مگن تھے۔ ڈیڈ سر تا پیر اپنے جوان بیٹے کو نظروں میں اتار رہے تھے اور ارحام بھیگی آنکھوں سے ان کے رخسار اور ہاتھوں کو چومتا اظہار ندامت کر رہا تھا۔ عائرہ کی آنکھیں پھیل گئی تھی۔ وہ ٹکٹکی باندھے ارحام کو دیکھ رہی تھی۔ سفیان نے دبے پاؤں قریب آکر اس کے گرد بازو مائل کرنا چاہا لیکن اس نے غصے سے اس کے ہاتھ جھڑک دیا۔
“یہ ارحام کے ساتھ ہے۔۔۔۔ آئی سویر۔۔۔۔۔ حدیل بولو نا تم۔۔۔۔” سفیان عائرہ کے طیش کے سامنے بے بس ہوگیا اس نے اداسی سے حدیل کو دیکھ کر التجا کی۔
“یہ سچ کہہ رہے ہے۔۔۔۔ میں ارحام کے ساتھ آئی ہوں۔۔۔۔۔” حدیل نے معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے عائرہ کا غضب سے سرخ چہرہ دیکھ کر وضاحت دی۔
عائرہ کے طیش پر گڑھوں پانی پڑ گیا وہ یک دم سے پُر سکون ہوگئی۔ وہ ڈیڈ اور ارحام کے پاس گئی اور ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
وہ آنسو پونچھتا مسکرایا اور اسے خود سے لگا کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ رانا صاحب نے اپنے دونوں بچوں کو دیکھ کر آنکھیں ڑگڑتے اللہ کا شکر ادا کیا۔ عائرہ سے مل کر ارحام کو مما کا خیال آیا وہ ڈیڈ سے ان کا پوچھنے لگا۔ رانا صاحب اسے اپنے ساتھ کمرے کے جانب لیں گئے۔
کرن راکنگ چئیر پر آنکھیں موندھے۔ ہاتھوں میں فیملی کی فوٹو البم لیئے بیٹھی تھی۔ رانا صاحب نے مخاطب کرنا چاہا لیکن ارحام نے روک لیا۔ وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا اور مما کے قدموں میں دو زانو بیٹھ کر ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا۔
کرن نے شناسا سا لمس محسوس کیا تو آنکھیں کھولی اور چند لمحے وہ بے یقینی سے اپنے سامنے بیٹھے اس سراپے کو دیکھنے لگی۔ اس آنکھیں بھیگنے لگی تھی اس نے ارحام کو تھام کر خود سے لگا لیا۔
“ارحام۔۔۔۔ تم واپس آگئے۔۔۔۔ مجھے پتا تھا۔۔۔۔۔ ایک دن تمہیں اپنی ماں کی فریاد ضرور سنائی دے گی۔۔۔۔۔ میرا بیٹا واپس آگیا۔۔۔۔ ” وہ روتے روتے دیوانہ وار ارحام کے رخسار چومنے لگی۔ اسے سر تا پیر دیکھ کر پھر سے اپنے نور چشم کو سینے سے لگایا۔ ارحام نے آنکھیں بند کر کے مما کے گرد مضبوط حصار بنا لیا تھا۔ وہ اس لمحے کو دل میں محفوظ کر رہا تھا۔ کتنی ہی دفعہ وہ اس لمس کو اس احساس کو ترسا تھا یہ کیفیت بیان کرنے کو اس کے پاس الفاظ نہیں تھے۔
“آئی ایم سوری مما۔۔۔۔۔۔” اس نے مما کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے ان پر عقیدت سے بوسہ دیا۔
“اب میں تمہیں کہی جانے نہیں دوں گی۔۔۔۔۔ تم دوبارہ کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاو گے۔۔۔۔۔” کرن نے انگلی اٹھا کر سختی سے تنبیہہ کیا۔
“کبھی نہیں جاوں گا۔۔۔۔” ارحام نے پھر سے انہیں خود سے لگایا۔
“کتنا کمزور ہوگیا ہے۔۔۔۔” کرن نے اس کے بازو کو چھو کر دیکھا۔
“آپ کے ہاتھ کے بنے دیسی گھی کے پراٹھے نہیں ملے نا۔۔۔۔” ارحام زخمی ہنس دیا تو مما بھی روتے ہوئے مسکرا دی۔
“پر مما۔۔۔ مجھے آپ سے ایک شکایت ہے۔۔۔۔۔ میرے کئے کی سزا آپ نے ڈیڈ کو کیوں دی۔۔۔۔۔ ان سے کیوں دور ہوگئی۔۔۔۔” ارحام شکوہ کن انداز میں کہتا اسے تھامے ڈیڈ کے پاس آیا۔
“سوری رانا صاحب۔۔۔۔” کرن کو احساس ندامت نے گھیر لیا تھا وہ سر جھکائے ان کے قدموں میں جانے لگی پر رانا صاحب نے اسے بازووں سے تھام لیا۔
“کیا کر رہی ہو کرن۔۔۔۔۔ تمہاری جگہ میرے قدموں میں نہیں۔۔۔۔ میرے دل میں ہے۔۔۔۔۔” انہوں نے اسے سینے سے لگا لیا تھا۔ ارحام ماں باپ کو پھر سے ایک ہوتا دیکھ تسکین سے مسکرایا۔
وہ منظر دیکھتی عائرہ کے رخسار بھیگ چکے تھے۔ سفیان نے اس کا سر اپنے کندھے پر ٹکا کر اسے رونے دیا۔ وہ جانتا تھا یہ آنسو خوشی کے آنسو ہے۔
“تو اس کام سے تم یورپ گئے تھے۔۔۔۔۔۔” عائرہ کی رندھی ہوئی آواز اس کے سماعتوں میں پڑی۔ اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کر سفیان کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو اس نے سر اثابت میں ہلایا۔
“اتنا پیار کرتے ہو مجھ سے۔۔۔۔۔ اپنے سارے کام چھوڑ کر میرے لیے۔۔۔ میرے ڈیڈ کے لیے ارحام کو ڈھونڈنے چلے گئے۔۔۔۔” عائرہ کو اپنی قسمت پر رشک محسوس ہوا۔ وہ سفیان کو اپنا ہمسفر بنا کر خوش قسمت محسوس کر رہی تھی۔
“مجھے عشق ہے تجھ سے۔۔۔۔۔ پگلی۔۔۔۔” سفیان ہلکا جھکا اور عائرہ کے رخسار پر بہے آنسو صاف کئے۔
عائرہ نے مسکرا کر مشکور ہوتے ہوئے سر کو خم دیا اور پھر سے مما ڈیڈ اور ارحام کے جانب دیکھنے لگی۔ رانا صاحب نے سر کو جنبش دیتے اسے پاس بلایا تو وہ قریب گئی اور مما کے حصار سے لگ گئی۔ وہ سب پھر سے ایک فیملی بن گئے تھے۔
ارحام نے ایک تھپکی اس کے ہاتھ پر دے ماری۔ عائرہ نے خفہ ہوتے اس کے بازو کو تھپکی سے نوازہ۔
“آتے ہی لڑنا شروع ہوگئے۔۔۔۔۔” مما ارحام سے خفہ ہونے لگی
“آپ کو پتہ ہے ڈیڈ ۔۔۔۔۔ آپ کی بیٹی نے اپنے میاں کو میرے پیچھے لگایا تھا۔۔۔۔ کتنی مشکلوں سے وہ مجھے ڈھونڈ کر واپس لائے ہیں۔۔۔۔۔ سفیان نے ہی حوصلہ دلایا ورنہ میں تو آپ سے معافی مانگنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔ ۔” ارحام نے عائرہ کے گرد بازو مائل کر کے مما اور ڈیڈ کو سفیان کی ساری کاروائی من و عن سنائی۔
وہ دونوں حیرت زدہ ہو کر سفیان کے جانب متوجہ ہوئے۔ رانا صاحب کو سفیان بھی اتنا ہی عزیز تھا جتنا ذیشان لیکن اس مہربانی پر وہ ان کے لیے مزید معتبر ہوگیا۔ وہ سفیان کے پاس آئے اور اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ شکریہ ادا کرتے ہوئے سفیان کا شانہ تھپتھپا رہے تھے جب ان کی نظر دروازے کے پاس کھڑی ایک انجان لڑکی پر پڑی۔
“اووو۔۔۔۔۔ یہ حدیل ہے۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔۔ بہت اچھی فرینڈ۔۔۔۔۔ میرے ساتھ پیرس سے آئی ہے۔۔۔۔” ارحام آگے آیا اور ان سب سے حدیل کو متعارف کروایا۔ ایک پل کو وہ اس کا تعارف کرواتے مبہوت سا ہوگیا تھا۔
حدیل نے جھجکتے ہوئے سلام کیا۔ اسے سلام کرتے اور اردو بولتے دیکھ کر رانا صاحب اور کرن شاک ہوگئے۔ کرن مسکرا کر آگے آئی اور حدیل کو خود سے لگا کر حال احوال دریافت کرنے لگی۔
ارحام کا رخ اب گھر کے دوسرے حصے کے جانب تھا۔ ابھی وہ کمرے سے باہر آیا ہی تھا کہ نور اور ذیشان لاؤنج میں داخل ہوتے نظر آئے۔ وہ بھاگتا ہوا ان کے پاس گیا اور نور کے گلے لگا۔ ذیشان سے مل کر اس نے روحان پاپا کا پوچھا تو ذیشان نے آبرو اچکا کر گیٹ کے باہر اشارہ کیا۔
“پاپا۔۔۔۔۔ ” ارحام ان کے پاس آیا اور اپنی جانب متوجہ کیا۔
روحان نے خوش دلی سے اسے گلے لگایا اس کا حال احوال دریافت کیا۔
“نہیں میں اندر نہیں آوں گا۔۔۔۔” ارحام جب اسے رانا ہاوس کے اندر لیں جانے لگا تو اس نے اپنے قدم جما لیئے تھے۔
“میرے کہنے پر بھی نہیں۔۔۔۔۔” روحان کو اپنے عقب میں رانا صاحب کی آواز سنائی دی۔
“آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے رانا بھائی۔۔۔۔۔” روحان آبدیدہ ہوتا رانا صاحب کے سینے سے جا لگا۔
ارحام کے لوٹنے سے رانا ہاوس کی کھوئی خوشیاں بھی لوٹ آئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس صبح وہ پوری فیملی پہلے کے جیسے ایک ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہیں تھیں۔ کرن ارحام کو اپنے ہاتھوں سے دیسی گھی کے بنے پراٹھے پر اضافی مکھن لگا لگا کر کھلا رہی تھی۔ ارحام تو مما کی خوشی کی خاطر خاموشی سے کھائے جا رہا تھا پر حدیل شاکی انداز میں انہیں گھور رہی تھی۔ وہ کبھی ڈائٹ کانشیئس نہیں رہی تھی لیکن اتنا ہیوی کھانے کی عادی بھی نہیں تھی۔
“تم بھی لو نا۔۔۔۔” مما نے اسے خود کو گھورتے پایا تو ایک مکھن لگا پراٹھا اس کے آگے کرنے لگی۔
“اووو نووو۔۔۔۔ کارن فلیکس ہی ٹھیک ہے۔۔۔۔” اس نے ہڑبڑا کر اپنے سامنے رکھی پلیٹ پرے کر دی اور سر جھکا کر کارن فلیکس کھانے لگی۔
ارحام کنکھیوں سے اسے دیکھتا مسکرانے لگا۔ گرین کلر کے قمیض شلوار میں ملبوس دیسی حدیل اسے مزید اپنے جانب فریفتہ کرنے لگی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔