Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 3
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 3
بیس منٹ تک انتظار کرتے یہاں وہاں دیکھتے بھوک اور نیند سے بے حال ارحام نے آخر کار اسے پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہوتے دیکھا۔ حدیل فرانسیسکو۔
حدیل نے ایک سرد نگاہ ارحام پر ڈالی۔ وہ ایک پل کو مبہوت سا ہوگیا۔ اسے نظر انداز کرتے حدیل آگے بڑھ کر اس پولیس آفسر سے بات کرنے لگی اور پھر اپنے پاوچ سے کریڈٹ کارڈ نکال کر اس نے آفسر کو پیش کیا۔
You can go… and next time be carefull
حدیل کے کریڈٹ کارڈ سے ارحام کا جرمانہ وصول کر کے اور حدیل سے کچھ کاغذات پر دستخط لیں کر اس آفسر نے کرہٹ بھرے لہجے میں اسے وارن کر کے جانے کی اجازت دے دی۔
“تھینکیو سو مچ آفسر۔۔۔۔۔۔ “ارحام نے خوش ہوتے انگلش اور فرینچ دونوں زبانوں میں شکریہ ادا کیا۔
شکریہ ایکسیوز می سوری ہیلو بائے آج کل صبح شام وغیرہ جیسے الفاظ پر اسے اچھے سے فوقیت حاصل تھی۔ اور وہ اسی کو غنیمت جان کر مزید فرینچ سیکھنے کا قطعی شوقین نہیں تھا۔
“تمہاری کار 24 گھنٹے یہی رہے گی۔۔۔۔۔ پرسوں آکر لے جانا۔۔۔۔” حدیل نے پولیسں اسٹیشن سے نکل کر سنجیدہ انداز میں اسے آگاہ کیا۔
“اور۔۔۔۔۔” وہ مزید ہدایت دیتی اس کے پہلے اس کی بات حلق میں ہی رہ گئی۔ اسے اپنے ہاتھ پر ارحام کی گرفت محسوس ہوئی۔
“آئی ایم سوری حدیل۔۔۔۔۔” ارحام کا سفید رنگ شرم سے سرخ پڑنے لگا تھا۔
“میں اپنے کل کے بیہویر (behavior) کے لیے معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔۔” اس نے معصومیت سے اپنی سیاہ گہری آنکھیں حدیل کے سبز آنکھوں میں پیوست کر دی اور اس کے سرخ و سفید گول چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔
حدیل کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ بے تاثر اس کے آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
“تم جانتی ہو نا۔۔۔۔۔ میں غصے میں بے قابو ہوجاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ پر اب میں تم پر نہیں چِلاوں گا۔۔۔۔۔” ارحام نے انجان سا وعدہ کیا۔ اپنی مما کے بعد حدیل ہی وہ تھی جس کے سامنے وہ پہاڑ کی طاقت رکھنے والا موم ہو کر پگھل جاتا تھا۔
“پرامس۔۔۔۔۔” حدیل کی پیاری آواز اس کے سماعتوں میں پڑی گویا وہ اس کے وعدے کی تصدیق چاہتی ہو۔
“آئی پرامس۔۔۔۔” ارحام نے تسکین سے مسکراتے ہوئے تصدیق دی۔
حدیل کا دل للچانے لگا۔ اس کا نفس اسے ارحام کو بانہوں میں بھرنے کو جھنجھوڑنے لگا لیکن بہ دقت اپنے جذبات قابو کرتے وہ مسکرائی اور ارحام کے ہاتھ ہٹاتے اس سے الگ ہوگئی۔
“کھانا کھایا۔۔۔۔” ساتھ ساتھ چلتے جب وہ دونوں پارکنگ میں حدیل کی کار تک پہنچے تب ایک خیال آتے حدیل نے ارحام کے جانب دیکھتے سوال کیا۔
ارحام کو واقعی بہت بھوک لگ رہی تھی اس نے فوراً مظلوم بنتے آبرو اٹھا کر نفی میں سر ہلایا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رات کے قریب ڈھائی بجے ایک گھنٹے سڑکوں پر گردش کرتے حدیل کو ایک 24 ہاور سروس میکڈونلڈ کھلا ملا وہ دونوں اس وقت میکڈونلڈ کے شاپ کے آگے راہ داری پر لگے میز اور کرسیوں پر آمنے سامنے تشریف فرما تھے اور حدیل اس ویٹر لڑکے کو فرینچ میں ارحام کا آرڈر نوٹ کروا رہی تھی۔
بیس منٹ بعد ان کا آرڈر بن کر آیا۔ حدیل نے اپنے لیے صرف ملک شیک آرڈر دیا تھا جبکہ ارحام کے آگے ملک شیک سمیت دو سے تین اقسام کے برگرز کی قطار لگا دی گئی تھی۔ وہ جو دو دن سے بھوکا تھا فورا سے برگر اٹھا کر کھانے لگا۔
ایک وہ دن تھا جب کرن دو منٹ کے لیے اپنے نور چشم کو بھوکا رہنے نہیں دیتی تھی اور ایک آج کا دن تھا کسی نے مہربانی کر کے کچھ کھلا دیا تو ٹھیک ورنہ اس 19 سالا نوجوان کو بھوکا سونا پڑتا تھا۔
حدیل کہنیاں میز پر ٹکائے ایک ہاتھ رخسار کے نیچے رکھے دوسرے سے ملک شیک کی اسٹرا منہ میں لیئے گھونٹ گھونٹ شیک پیتی ارحام کو تک رہی تھی۔
کیا تھا اس خڑوس ضدی مغرور جنونی لڑکے میں جو وہ اس کے ایک کال پر بھاگی بھاگی اس کے پاس آگئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حدیل فرانسیسکو 18 سالا اسمارٹ لمبی سی لڑکی۔ سبز چھوٹی آنکھیں جو دنیا بھر کی معصومیت اپنے اندر سموئے ہوئے تھیں۔ سرخ و سفید فرانسیسی رنگت جو باپ کے اثاثے سے لی گئی تھی اور لمبی ناک ماں کے اثاثے سے۔ سنہرے لمبے بال اس کی پر کشش نقوش کو مزید نکھارتے تھے۔ گلابی ہونٹوں میں پوشیدہ سفید دانت جس پر سجی مسکراہٹ اپنے آپ میں کمال تھی۔ وہ پریوں جیسے حسین تھی۔
حدیل کے فادر فرینچ کیتھولک فرقے سے تھے اور ماں پاکستانی مسلمان۔ 8 سال پہلے ماں باپ کے مابین طلاق کے بعد وہ ماں کے تحویل میں دے دی گئی اور اس نے اپنی مام کا مذہب اسلام اپنا لیا۔ 5 سال تک وہ پیرس میں موجود مسلم کمیونٹی کی پریکٹسنگ مسلم رہی تھی اور پھچلے تین سالوں سے وہ باقاعدگی سے اسلام کے ہر رکن کو دل سے نبھا رہی تھی۔ فرینچ اس کے ملک فرانس کی زبان تھی اور اردو اس نے اپنی مام سے سیکھی تھی۔ وہ مغربی طرز انداز میں لفظ دبا دبا کر اچھی خاصی اردو بول لیا کرتی تھی۔ یہی وہ اہم وجہ تھی جس سے ارحام اور حدیل کی دوستی کا آغاز ہوا تھا۔
ارحام سے اس کی ملاقات تقریبا دو سال پہلے ہوئی۔
(ماضی)
ارحام ابھی ابھی فرانس کے شہر سینٹ اویئن (saint ouen) میں لینڈ ہوا تھا۔ ائیر پورٹ پر چلتے اسے ایک سرخ پی کیپ پہنا آدمی دکھائی دیا جس کا ہولیہ اسے پاکستان میں سمجھایا گیا تھا۔
وہ سر جھکائے اس آدمی کے پاس آیا اور جیپ سے ایک پرچی نکال کر دکھائی۔ اس آدمی نے سر تا پیر 17 سالا تھیکے نین نقش والے اس لڑکے کو مشاہدہ کیا اور آبرو اچکا کر اسے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔
ارحام آس پاس دیکھتا اس کی ساتھ چل پڑا۔ وہ آدمی اسے کن گلی کوچوں سے گزار کر ایک تنگ گلی کے اندر خفیہ تہہ خانے میں لایا وہ سمجھ نہیں سکا۔ اس سے پہلے وہ کبھی فیملی کے بغیر گھر سے نہیں نکلا تھا اور آج وہ اکیلا اتنا دور آگیا تھا۔
تہہ خانے میں اس کا سامنا ایک اور لمبے جوڑے ہٹے کٹے پھرتیلے جاسمت کے آدمی سے ہوا۔ اس کی کالی رنگت سرخ آنکھیں موٹے ہونٹ اور پیلے دانتوں سے ارحام کو خوف آنے لگا۔ اس کا دل لرز رہا تھا لیکن بہ ظاہر وہ اپنے تاثرات کمپوز رکھے رہا۔
“پیکٹ۔۔۔۔۔” اس آدمی نے اپنا موٹا ہاتھ ارحام کے آگے کیا۔
“منی۔۔۔۔۔” ارحام نے اپنی ساری طاقت جمع کرتے اسی انداز میں اپنا ہاتھ بڑھایا۔
وہ آدمی اپنے 6 سے 7 ساتھیوں کو معنی خیز نظروں سے دیکھتا استحزیہ ہنسا اور اپنے جیب سے کچھ انٹرنیشنل پیسوں کی گڈی نکال کر ارحام کے ہاتھ پر رکھی۔
ارحام نے وہ مٹھی سختی سے مینچھ لی اور دوسرے ہاتھ سے اپنے کوٹ کے اندرونی جیب میں چھپایا پیکٹ نکال کر اس آدمی کو تھمایا۔
وہ آدمی پیکٹ کو اپنے ناک کے قریب کر کے سونگھنے لگا۔ جب اسے یہ تصدیق ہوگئی کہ پیکٹ میں موجود ڈرگس اصلی ہے تو ترچھا مسکراتا ارحام کو کندھے سے تھام کر دوسرے کمرے کے جانب لے گیا۔
اس کمرے کے دہلیز پر قدم رکھتے ہی ارحام ٹھٹک گیا۔ وہاں چاروں طرف بچے جوان بوڑھے ہر عمر کے کئی سارے مزدور اسی کے لائے جیسے پیکٹس بنانے میں مشغول تھے۔ کوئی پیسوں کی گڈی گن رہا تھا کوئی فون پر گالی بک رہا تھا۔
اس اثناء ارحام کو احساس ہو وہ گمراہی کے راہ پر گامزن ہوا ہے۔ لیکن وہ یہ نہ جان سکا کہ اس کے تباہی کا آغاز تو اسی پل ہوگیا تھا جب اس نے باپ کا سایہ رد کیا تھا۔ جب اس نے ماں کا انچل چھوڑا تھا۔
وہ تھوک نگل کر گلا تر کرتا اندر داخل ہوا۔ اس پھرتیلے آدمی نے اسے کونے میں موجود ایک کرسی پر بیٹھا دیا۔ وہ اپنے ضطراب کو قابو رکھنے کی کوشش کرتا پیر جھلانے لگے۔
پاس ہی بیٹھے ایک جھریوں سے بھرے چہرے والے کمزور جان برزگ نے کاغذ پر چٹکی بھر پاوڈر نما سفید کوکین اس کے آگے کیا۔
ارحام کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ اسی سب کے لیے تو یہاں آیا تھا اور اب جب وہ سب اس کے دسترس میں تھے تو کیوں اس کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا۔ کیوں وہ گھبرا رہا تھا۔ کیوں وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ اس نے بے دلی سے ہاتھ اٹھا کر برزگ کو منع کیا۔
ابھی وہ اپنے دل اور دماغ کے اسی کشمکش میں تھا جب اس نے اپنے کندھے پر بھاری پن محسوس کیا۔ وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا اور پلٹ کر دیکھا۔ وہی پھرتیلا خوفناک مرد اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔
ارحام کے متوجہ ہوتے اس نے ایک نیلی ڈبی اس کے جانب بڑھائی۔ وہ ارحام کی من پسند فلیورڈ سیگریٹ تھی۔ اس نے سر کے خم سے مشکور ہوتے وہ ڈبہ اور لائٹر تھاما۔
دو دن کے کھٹن سفر کے بعد ارحام کو واقعی اس کی ضرورت تھی اس نے تیزی سے ڈبی سے ایک عدد سیگریٹ نکال ہر ہونٹوں میں دبائی پھر اس کے آگے ہاتھوں کا پیالہ بنائے لائٹر جلا کر لمبا سانس اندر کھینچا۔
کچھ لمحے دھویں کو اندر روکے اس نے سر بلند کر کے ہوا میں دھواں خارج کیا۔ ایک پل کو وہ ساری تھکان سارے پچھتاوے بھول کر اس دھویں میں کھو گیا۔
اس نے دو انگلیوں کے بیچ دبائے سیگریٹ کا ایک اور کش بھرا اور دوسرے کش کے ساتھ اس کا دماغ سُن ہونا شروع ہوگیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
تین ہفتے اس نے اُس اسمگلنگ گروہ کے بیچ بڑے آرام سے گزارے۔ وہ لوگ اسے پہنے کو کپڑے اور کھانے پینے کو دیتے رات انہیں لوگوں کے بیچ فرش پر سوتے گزار دیتا اور دن ان سب مزدوروں کے ہمراہ ڈرگس کے پیکٹ بنانے میں اور بدلے میں اس کی سیگریٹ نوشی کی خواہش بھی پوری ہوجایا کرتی۔
ایک دن ارحام نے ان گروہ کے مابین کسی موضوع پر مباحثہ سنا۔ وہ لوگ اسے وکٹم بنا کر اس کے ذریعے اسمگلنگ کر کے کوکین کے پیکٹس یوروپ کے دوسرے ملک جرمنی بھیجنا چاہتے تھے۔ لیکن ارحام مزید ان کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہتا تھا۔
“میں یہی ٹھیک ہوں۔۔۔۔ مجھے دوسرے ملک نہیں جانا۔۔۔۔” اس نے پھرتیلے آدمی کو ٹوکا
“تُو ہمارا نوکر ہے۔۔۔۔۔ تجھے کیا کام دینا ہے۔۔۔۔ یہ ہم طے کرے گے۔۔۔۔۔ جہاں ہم تجھے بھیجے۔۔۔۔ تجھے وہی جانا ہوگا۔۔۔۔” ارحام کی تھیوڑی اپنے موٹے ہاتھ میں دبوچے اس نے اپنا حکم سنایا۔
ارحام کے آبرو تن گئے۔ وہ اس پھرتیلے آدمی کو دھکا دے کر وہاں سے بھاگنے لگا۔
“اےےےے۔۔۔۔۔ کہاں جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔ رک۔۔۔۔۔۔۔ تو ہم سے نہیں بچ سکتا۔۔۔۔۔ پکڑو اسے۔۔۔۔۔” اس آدمی نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی۔
ارحام پورے تیز رفتار سے بھاگتا ہوا تہہ خانے سے باہر آیا اور گلی سے نکل کر سڑک پار دوسرے تہہ خانے میں لوگوں کے ہجوم میں چھپ گیا۔ اس اسمگلنگ گروہ کے ورکرز اسے ڈھونڈتے سڑک پر ادھر اُدھر ملاتشی نظروں سے دیکھتے ارحام کو تلاش کر رہے تھے۔
ارحام ان کی نظروں سے بچتا اپنے فرار کا طریقہ سوچنے لگا۔ سامنے اسے دو پولیس اہلکار بھی کھڑے ملے لیکن وہ ان کے پاس جا کر مدد مانگنے سے قاصر تھا۔ وہ غیر قانونی طریقے سے فرانس میں داخل ہوا تھا اور اگر وہ پکڑا جاتا تو یقینا واپس پاکستان بھیج دیا جاتا مگر وہ کسی قیمت واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔
وہ لوگوں کے جمکٹے کے ساتھ ساتھ چلتا نیچے آیا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ ایک میٹرو ٹرین اسٹیشن ہے۔ اسے نا انانسمینٹ سمجھ آرہی تھی نا بورڈ پر لکھے الفاظ۔
“وہ رہا۔۔۔۔ پکڑو اسے۔۔۔۔” اسے اس گروہ کے ایک آدمی کی آواز سنائی دی۔
بغیر مڑے وہ سامنے کو بھاگا اور رش کو چھیرتا پہلے ٹرین میں سوار ہوگیا۔ اس کے سوار ہوتے ہی ٹرین کا شیشے کا دروازہ بند ہوگیا۔
وہ تیز تیز سانس لیتا خود کو نارمل کرنے لگا۔ نا جانے یہ ٹرین کہاں لیں جا رہی تھی بس اسے خوشی اس اسمگلنگ گروہ سے چھٹکارا پانے کی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دو سے تین گھنٹے مسافت کر کے وہ میٹرو ٹرین اپنے منزل مقصود پر پہنچ کر رک گئی۔ پیرس کے اس پر رونق اور سحر انگیز شہر نے کھلے دل سے اسے خوش آمدید کہا۔
سب مسافروں کے اتر جانے کے بعد وہ بھاری قدموں سے چلتا ہوا نکلنے لگا تھا کہ ٹرین ڈرائیور نے اسے ٹوکا اور فرینچ میں گویا ہوا۔ لیکن جلد ہی وہ سمجھ گیا کہ خستہ حال میں موجود وہ شہزادہ اس کی زبان سے انجان ہے۔
کچھ ہاتھوں کے اشارے سے اور کچھ ٹوٹی پھوٹی انگلش میں بلا آخر وہ ارحام کو اپنا مدعا سمجھانے میں کامیاب ہوگیا۔ وہ اس سے ٹکٹ دکھانے کو کہہ رہا تھا اور ارحام نے لاچاری دکھاتے خالی ہاتھ ہوا میں لہرا دیئے۔ اس سرخ و سفید آدمی کے تاثرات سپاٹ ہوگئے۔ اس نے ارحام کو قریب بلا کر پولیس کے حوالے کر دینے کی دھمکی دی۔
ارحام مزید مصیبت میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا تھا اس نے رائے حل نکالتے 30 یورو کی ٹکٹ کے بدلے 100 یورو ڈرائیور کو تھمائے اور ٹرین سے اتر گیا۔
میٹرو اسٹیشن لوگوں کے ہجوم سے بھرا پڑا تھا لیکن اس کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ اس نے اپنے پاس بچے 50 یورو میں سے 30 کھانے پینے کی اشیاء اور سیگریٹ کا پیکٹ لینے میں خرچ کر دیئے اور وہی اسٹیشن کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔
تین دن اس نے اسی طرز نکالے۔ آخری دن اس کے پاس آخری 5 یورو بچے تھے۔ ایک طرف اس کی سیگریٹ نوشی کی لت تھی اور دوسری جانب زندہ رہنے کے لیے کھانے کی ضرورت۔
وہ پانچ دنوں سے انہی کپڑوں میں گندا میلا کچیلا ہاتھ میں 5 یورو پکڑے میٹرو اسٹینش کے سامنے کھڑا کبھی سیگریٹ کی دکان کو دیکھتا کبھی کچھ فاصلے پر موجود تازہ میوے کے ٹھیلے کو۔
وہ خواہش اور ضرورت کے مابین پھنس کر رہ گیا تھا۔ اپنے گھر میں جب تک ضرورت پوری ہورہی تھی ہر نوع قسم کے پکوان اس کے دسترس میں ہوتے اس پر خواہش کا جنون چڑھا تھا اور آج بےبسی سے وہ ایک لقمہ نان کو ترس رہا تھا۔
وہ بھیگی آنکھوں سے سر جھکائے سیگریٹ کی دکان سے گزر کے ٹھیلے والے کے پاس گیا۔ 5 یورو کے دو عدد سیب اور تین عدد کیلے لے کر وہی کھڑے کھڑے کھانے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ایک ہفتہ تو جیسے تیسے کر کے گزارا ہوگیا تھا۔ آج صبح کچھ پیسوں کا بندوبست کرنے وہ میٹرو اسٹیشن سے نکلا اور محتاط انداز میں سڑک پر چلنے لگا۔ ابھی وہ کچھ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اسے چند پولیس اہلکار دکھائی دیئے۔ وہ ٹھٹک گیا اور واپس الٹے قدم زیر زمین میٹرو اسٹیشن آگیا۔
دو دن وہاں بھوکا پڑے رہتے اس کی حالت خراب ہونے لگی۔ لیکن اس دن کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دن کی روشنی میں چھپا رہے گا اور رات کی تاریکی میں نکلا کریں گا۔
ارحام مبشر۔ دنیا کو اپنے اشاروں پر نچانے والا۔ باپ کی شان۔ ماں کی آن۔ بہن کا مان۔ آج پیرس کی گلیوں میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔
شام ڈھلتے وہ اپنا تیز دماغ چلاتے سڑک پر آیا اور کھانا ڈھونڈنے نکل پڑا۔ وہ اپنا ہر قدم گن گن کر اٹھا رہا تھا تا کہ وہ واپسی اسٹیشن کا راستہ نہ بھول سکے۔ ایک ہفتے سے سیگریٹ کی حاجت پوری نا کرنے سے اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔ اسی طرح سیدھے سیدھے چلتے ایک جگہ اسے ایک داڑھی والے صاحب کھجور بانٹتے ملے۔ وہ غیر ارادی طور پر ان کے پاس گیا تو انہوں نے مسکرا کر اس کے ہاتھ میں کھجور تھما دیا۔
اس آدمی کے پیچھے بڑی سی عمارت تھی جس میں کئی قطار کی صورت لوگ بیٹھے تھے۔
“یہاں کیا چل رہا ہے۔۔۔۔۔” ارحام نے کھجور کھاتے ہوئے اس صاحب کو مخاطب کیا۔ ان کے نین نقش اور سانولی رنگت دیکھ کر وہ جان گیا تھا کہ وہ فرینچ نہیں ہے۔
“افطاری دے رہیں ہیں۔۔۔۔۔ تم بھی جا کر لیں سکتے ہو۔۔۔۔۔” اس خوش اخلاق صاحب نے دوسرے راہ گزرنے والے کو کھجور تھماتے ہوئے کہا۔ اس کی انگلش نے ارحام کو اس کے ایشین ہونے کی پوری تصدیق کر دی تھی
ارحام نے سوچتے ہوئے اس عمارت کا دوبارہ جائزہ لیا۔ عمارت کی بناوٹ سے وہ سمجھ گیا کہ وہ بڑی سی عمارت مسجد ہے۔ اس وقت مسلم دنیا میں رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ وہ جوتے اتارتا اندر داخل ہوا اور قطار میں لگ کر بیٹھ گیا۔
گرینڈ ماسک اف پیرس (grand mosque of paris) پیرس کا پانچواں سب سے بڑا مسجد تھا۔ جو کہ 1926 سن ہجری میں ورلڈ وار ٹو کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مسجد بڑے بڑے کمیونٹی ہال، نماز کے ہال، سینٹرل لائبریری، ریسٹورنٹ اور دیگر سہولیاتی کمروں پر مشتمل تھا۔
“کبھی اگر میں آپ کے ساتھ نا بھی ہوں نا۔۔۔۔۔ تو خود کو تہنا مت سمجھنا۔۔۔۔۔۔ ایک سایہ ہمیشہ آپ کے سر پر موجود رہتا ہے۔۔۔۔۔ جو سب کا مالک ہے۔۔۔۔ اللہ۔۔۔۔” اس کے سماعتوں میں ڈیڈ کی نصیحت گردش کرنے لگی۔
ایک مرتبہ پھر اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگا۔ کیوں اس نے کبھی اپنے باپ کی نصیحت پر دھیان نہیں دیا۔ کیوں اس نے ماں کی ڈانٹ پر عمل نہیں کیا۔ غفلت کا یہ عالم تھا کہ کبھی رانا صاحب اسے اپنے ساتھ جمعہ کے نماز کے لیے مسجد لیں جاتے تو وہ نماز کی قطار میں بے زاری سے کھڑے کھڑے سو جاتا اور آج اسی در پر بیٹھا کھانے کا منتظر ہے۔
ایک نیک بندے نے لوازمات سے بھری پلیٹ اور شربت سے بھری بوتل اس کے سامنے رکھی۔ وہ جو دو دن کا بھوکا تھا۔ جھٹ سے پلیٹ پر جھکا اور دونوں ہاتھ چلاتے کھانے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آج 17 سالہ ارحام جو اپنے قد کاٹ سے اپنی عمر سے بڑا لگتا۔ ہلکی ہلکی اُگی مونچھے اور نئی نئی آتی شیو چہرے کی زینت بنی ہوئی تھی، کو پیرس آئے دو ماہ ہوگئے تھے۔ نا جیب میں کھانے کو پیسے تھے نا سونے کے لیے چھت۔
وہ حسب معمول منہ اندھیر پیرس کی تاریک گلیوں میں سر جھکائے جیبوں میں ہاتھ ڈالے مٹر گشتی کرتے رات کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا جب ایک تنگ گلی سے گزرتے اس کا سامنے چار لمبے چوڑے سرخ و سفید فرانسیسی لٹیروں سے ہوا۔ ان میں سے ایک تیزی سے ارحام کے پیچھے آیا اور اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے جکڑ لیا۔ وہ جھلملاتا خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کے جتن کرنے لگا۔ سامنے سے آنے والے مرد کو ارحام نے لات ماری تو تیسرے ساتھی نے اس کے جبڑے پر زور دار ضرب رسید کیا۔ ضرب اتنا زوردار تھا کہ ارحام کے کان میں سی سی ہونے لگا اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ کچھ ہی پل میں ارحام کو محسوس ہوا اس کا نچھلا ہونٹ پھٹ چکا تھا اور خون کی دار اس کی تھیوڑی کو بھگوتی اس کی ٹی شرٹ کو تر کر رہی تھی۔
وہ چارو آپس میں فرینچ میں مکالمہ کرنے لگے جو ارحام کے سر کے اوپر سے گزر گئی۔ لیکن ان کے حرکات و سکنات مشاہدہ کرتے ارحام سمجھ گیا وہ اسے لوٹنے آئے ہیں۔ اس کے سامنے کھڑے ایک سرخ و سفید فرانسیسی مرد نے اس کی پینٹ کی جیبوں کو ٹٹولنا شروع کیا تو دوسرے نے اس کے ہاتھ میں گھڑی، گلے میں چین یا انگلیوں میں انگھوٹی تلاش کرنا چاہی۔ لیکن جب اس قسمت کے مارے کے پاس سانسوں کے علاوہ کچھ نا ملا تو ان لٹیروں کے چہرے پر مایوسی در آئی جو اگلے ہی لمحے شیطانی مسکان میں تبدیل ہوگئی۔
ارحام نے فضا میں خطرے کی بو محسوس کی وہ پھٹی نظروں سے ان درندوں کو دیکھنے لگا۔ ان کے چہروں سے انکے گندے ارادے جانچتے اسے ایک سیکنڈ بھی نا لگا تھا۔
وہ اپنے پورے قوت سے ہلتے جلتے چیختے خود کو آزاد کرنے لگا۔ وہ اکیلا اور وہ چار۔ کسی بھی طرح وہ خود کو ان کی گرفت سے چھڑا نہیں پا رہا تھا۔ جب ایک آدمی سے اسے سنبھالنا مشکل ہوا تو دوسرے نے بھی اسے بازووں میں جکڑ لیا اور اسے گھما پیچے ٹریش بن (trash bin) پر اسے جھکا دیا۔ ایک آدمی نے اس کے ہاتھ جکڑ رکھے تھے اور دوسرے نے اپنی ساری طاقت سے اس کا سر ٹریش بن سے ٹکایا ہوا تھا۔ تیسرے نے قریب آ کر اس کے پینٹ سے بیلٹ کھولنی شروع کی۔
ارحام کا سر چکرا گیا۔ اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ وہ زور زور سے دھاڑے مارنے لگا۔
“No….. please….. leave me….. stop…… leave meeeeeee….. noooooooo…..”
“مماااااااا۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڈڈڈد۔۔۔۔۔۔۔ پلیزززززز بچاوووووو۔۔۔۔۔۔۔” وہ اپنے وجود کے مالکان کو آواز دینے لگا پر وہاں کوئی نا تھا۔ اس کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔
“آ۔آ۔آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔ میرے اللہ۔۔۔۔۔” جہاں کوئی بھی نہیں ہوتا وہاں پھر بھی ایک سایہ ہمیشہ ہوتا ہے۔ وہ احد وہ صمد وہ حیی و قیوم۔ پورے کائنات کا خالق۔ اس کی ہمت جواب دے گئی تو اس نے اللہ کو پکارا۔
انسان بھی کتنا عجیب ہیں۔ جب اس کے پاس سب کچھ پوتا ہے وہ اللہ کو بھول جاتا ہے اور جب مشکل ان پڑے تو اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ لیکن اللہ بھی عظیم اور رحیم ہے کبھی بھی اپنے بندوں سے منہ نہیں پھیرتا۔
روتے بلکتے چیختے ارحام کے دماغ میں اچانک ایک دھماکہ سا ہوا۔ اس کے سماعتوں میں ایک نسوانی آواز گونجی۔
“پلیز ارحام۔۔۔۔۔ ایسا مت کرو۔۔۔۔۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں تمہارے۔۔۔۔۔۔ خدا کا واسطہ مجھے جانے دو۔۔۔۔۔ پلیزززززز۔۔۔۔۔۔ میں مر جاوں گی۔۔۔۔۔۔ میری عزت پامال مت کرو۔۔۔۔۔ میرے بوڑھے ماں باپ زندہ در گور ہوجائے گے۔۔۔۔۔۔ پلیزززز ارحام۔۔۔۔۔ نہیں پلیززززز۔۔۔۔۔ میں کسی کو منہ دکھانے قابل نہیں رہوں گی۔۔۔۔۔۔۔ مجھے چھوڑ دو جانے دو۔۔۔۔۔ میں مر جاوں گی۔۔۔۔۔ آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ میرے اللہ۔۔۔۔۔۔۔”
تین ماہ پہلے یوں ہی روتے بلکتے وہ اپنے عزت بچانے کی کوشش کرتی رہی اسے خدا کا واسطہ دیتی رہی اس سے ہاتھ جوڑے فریاد کرتی رہی لیکن ارحام پر جنون سوار تھا اس نے اس معصوم کی کوئی آہ و بکا نہیں سنی۔
اس وقت ان درندوں کے مابین ارحام کو لگا کوئی اس کی روح کو کھینچ کر کانٹوں پر گھسیٹ رہا ہے۔ اس کا مردانہ وقار چھین جانے کو تھا۔ اس کا مان ٹوٹنے کے چوراہے پر تھا۔ آن بان شان سے رہنے والے رانا مبشر اور کرن کی دنیا اجڑ جانے کو تھی۔ ان کے بیٹے کی زندگی ختم ہونے کو تھی۔
کیا اسے کہتے ہیں مکافات عمل۔ عزت کا بدلہ عزت۔ قسمت نے اس کی کرنی اس پر پلٹ دی تھی۔ قدرت نے اس کے انا پر رکھ کر طمانچہ دے مارا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
