60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 10

(حال)
البرٹ کو آج ہسپتال میں تیسرا دن ہوگیا تھا۔ اس کا زخم محلول ہونے لگا تھا اور صحت بھی بحال ہوگئی تھی۔ اس کے علاج، کھانے پینے حتہ کہ البرٹ کے فیملی کا خرچہ بھی وہ نوجوان اٹھا رہا تھا۔
تیسری شام وہ باقی دنوں کے بر عکس خاکی ٹی شرٹ اور بلیو جینز میں ملبوس تھا۔ مہنگے سنیکرز اور گھڑی پہنے وہ ہسپتال کے کمرے میں البرٹ کے سامنے بیٹھا سپاٹ تاثرات بنائے اسے دیکھ رہا تھا۔
“اگر باس کو معلوم پڑا۔۔۔۔ وہ مجھ کو جان سے مار دے گا۔۔۔۔” جب سامنے بیٹھے اس شخص نے اپنا مطالبہ دوہرایا تو البرٹ مستقبل کے لیے پریشان ہوگیا۔
“اور اگر نہیں بتاو گے تو میں جان سے مار دوں گا۔۔۔۔ اس دفعہ گولی پیر پر نہیں سیدھے سر پر لگے گی البرٹ۔۔۔۔۔ تم سوچ لو۔۔۔۔۔ تمہیں ابھی میرے ہاتھوں مرنا ہے یا کچھ سال بعد باس کے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔” اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
البرٹ ساکن سا اسے دیکھنے لگا۔ اس کے بوڑھے ماں باپ جو وہی موجود تھے، وہ بھی اس نوجوان کی دلیری پر اسے غور سے دیکھنے لگے۔
وہ لمبی سانس خارج کرتا اٹھا اور بیڈ کے کنارے البرٹ کے پہلو میں بیٹھا اور اس کا ہاتھ تھامے تھپتھپانے لگا۔
“البرٹ۔۔۔۔ تم یہ کام چھوڑ دو۔۔۔۔۔ حرام کام تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیتا۔۔۔۔۔ دیکھو اپنے بوڑھے ماں باپ کو۔۔۔۔۔ اگر تم آج زندہ نہ ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا۔۔۔۔” وہ بہت نرمی سے سمجھا رہا تھا۔
البرٹ نے شرمسار ہوتے اداس آنکھوں سے غریب اور بوڑھے ماں باپ کو دیکھا۔
“اگر تم مجھے اپنے باس کی انفارمیشن دے دو۔۔۔۔۔ اور مجھ سے وعدہ کرو کہ تم یہ کام چھوڑ دو گے۔۔۔۔۔ تو میں بھی وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاوں گا۔۔۔۔ بلکہ سرکار سے تمہیں معافی نامہ دلوا کر کسی مناسب جگہ کام بھی دلا دوں گا۔۔۔۔۔ حلال کی روزی کماو۔۔۔۔۔ ماں باپ کا سہارا بنو۔۔۔۔۔ خوشحال زندگی جیو۔۔۔۔۔” اس نے ایک نئی امید دلائی۔
البرٹ کی ماں نے اشک بار آنکھوں سے البرٹ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سر اثابت میں ہلایا۔ باپ نے بھی اس سے اس مانوس شخص کا مشورہ ماننے کی درخواست کی۔
البرٹ انگلیاں مڑوڑتا کنکارا اور اسے اپنے باس کے متعلق ساری تفصیلات بتانے لگا۔
معلومات لیں لینے کے بعد اس نے ہسپتال کی روش پر چلتے ٹریول ایجنٹ کو کال ملائی۔
“میری فرانس کے لیے سیٹ بُک کرواو۔۔۔۔۔” کال پر ہدایت دیتے اس نے فرانس جانے کا فیصلہ کیا۔
ارحام کی قسمت بدلنے اس نے خود فرانس جا کر اسے ڈھونڈنا مناسب سمجھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(ماضی)
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رانا ہاوس کے سب مکین بہت جلد کلب کے اس واقعے کو فراموش کر گئے۔ لیکن رانا مبشر محتاط ہوگئے تھے۔ ان دنوں ارحام کچھ سنبھل کر رہنے لگا تھا اس لیے کچھ ہاتھ نا لگا تو انہوں نے بھی اس کی ایک بھول سمجھ کر درگزر کر دیا۔ مگر ابھی ایک اہم انکشاف ہونا باقی تھا۔
ارحام کی 16 برتھ ڈے پر رانا صاحب نے اسے اسمارٹ واچ گفٹ کیا۔ ارحام نے خوشی سے ڈیڈ کو آغوش گھیر کرتے شکریہ ادا کیا۔ رانا صاحب نے خوشی سے بیٹے کو سینے میں بھینچ لیا۔ ان کے ارادوں سے انجان وہ عائرہ اور باقی کزنز کو اپنا گفٹ دکھاتے گھر میں ہلچل مچائے ہوئے تھا۔
رانا صاحب نے اس کے اسمارٹ واچ میں ایک GPS ٹریکنگ کوڈ دائر کروایا ہوا تھا جس سے وہ ارحام پر نظر رکھنے لگے۔
ایک شام ارحام اپنے کمرے کے بالکونی میں سموکنگ کر کے اندر آیا اور سیگریٹ کا پیکٹ بیڈ پر پھینک کر نہانے چلا گیا۔
نہانے کے دوران اسے اپنے کمرے میں کسی کی آہٹ محسوس ہوئی۔ آدھا نہایا ہوا آدھا صابن لگے ہی وہ شاور گاون پہنتے ہڑبڑا کر باہر آیا کہ ٹھٹک گیا۔ سامنے ہی رانا صاحب تند تاثرات لیئے کھڑے تھے اور ان کے ہاتھ میں وہی سیگریٹ کا پیکٹ تھا۔
“یہ کیا ہے۔۔۔۔۔” سرد مہری سے ارحام کو گھورنے لگے۔
“م۔۔م۔۔۔میرے دوست کا ہے۔۔۔۔۔” ارحام نے اپنے کپکپاہٹ کو قابو رکھنے کی ناکام کوشش کی۔
“دوست کا ہے تو تمہارے پاس کیا کر رہا ہے۔۔۔۔۔” رانا صاحب اس کے بہانے سے قائل نہ ہوئے۔
“وہ میرے پاس بھول گیا تھا۔۔۔۔۔” اس نے ایک جھوٹ چھپانے دوسرا جھوٹ گڑھا۔
رانا صاحب ارحام کے بدلتے رنگ دیکھتے فضا میں سیگریٹ کی بو سونگھنے لگے۔ ان کی آواز سنتے کرن بھی فکرمند ہوتی ارحام کے کمرے میں آئی اور رانا صاحب کے ہاتھ میں سیگریٹ کا پیکٹ دیکھ کر اس کے آبرو پھیل گئے اور آنکھیں بڑی ہوگئی۔ وہ بے یقینی سے ارحام کو دیکھنے لگی۔
“تم سموکنگ کرتے ہو۔۔۔۔۔ اس گھر میں تم نے کس کو سموکنگ کرتے دیکھا ہے ہااااں۔۔۔۔۔ ” رانا صاحب کی آواز بلند ہوگئی تھی۔
ارحام نے مایوسی سے مما کو دیکھا لیکن وہ تنے ہوئے اعصاب سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ سمجھ گیا آج مما اس کی دفاع نہیں کریں گی۔ اسے غصہ آنے لگا۔ اپنا جنون قابو کرنے وہ مٹھیاں سختی سے مینچھے کھڑا رہا۔
“جواب دو۔۔۔۔۔ کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔۔ کب سے کر رہے ہو یہ سب۔۔۔۔۔ کیا میں نے ہزار دفعہ صحیح غلط حرام حلال میں تفریق کرنا نہیں سیکھایا۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے درشتی سے پوچھا۔
“اووو پلیز ڈیڈ۔۔۔۔۔ خود تو ساری عمر عیاشی کرتے گزاری ہے۔۔۔۔ اب میرے ٹائم آپ کو حرام حلال کا ڈفریسن یاد آرہا ہے۔۔۔۔۔۔ اپنا یہ نیک بننا کم عقلوں کو دکھاو۔۔۔۔۔ میں آپ کے پاسٹ کے بارے میں سب جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔ سو پلیز۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے نیک پارسا مت بنے۔۔۔۔۔ اینڈ ڈونٹ انٹرفئیر ان مائی لائف۔۔۔۔۔” ارحام نے سخت لہجے میں جنون کی حد پار کر دی تھی۔
رانا صاحب کے آبرو پھیل گئے۔ وہ سانس لینا ہی بھول گئے تھے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کا اپنا بیٹا ان کا ماضی ان کے منہ پر دے مارے گا۔
“ارحام۔۔۔۔ یہ کیسے بات کر رہے ہو اپنے ڈیڈ سے۔۔۔۔۔ سوری کرو۔۔۔۔۔ چلو سوری کرو۔۔۔۔” کرن نے اس کا بازو جھڑپ کر اسے جھنجوڑ دیا لیکن ارحام پر آج نا باپ کی نصیحت کی کا اثر ہونے والا تھا نا ماں کی ڈانٹ کا۔
وہ معذرت کیے بغیر مما سے اپنا بازو چھڑا کر واپس واشروم میں چلا گیا۔
رانا صاحب لب مینچھے اس کے کمرے سے نکل گئے۔ کرن افسردہ ہوگئی وہ ان کو سمجھانے ان کے پیچھے ہو لی۔
“رانا صاحب۔۔۔۔ میں اس سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔۔ آپ اس کی باتیں دل پہ نا لیں۔۔۔۔۔” اپنے بیڈروم میں آکر کرن نے رانا صاحب کو دلاسہ دینے کی کوشش کی۔
“مجھے لگا تھا۔۔۔۔ میری آزمائش تمام ہوچکی ہے۔۔۔۔ پر قدرت نے ارحام کو دوسرا رانا مبشر بنا کر بھیجا ہے میری زندگی میں۔۔۔۔۔” وہ گہری سوچ میں ڈوبے گویا تھے۔
“میں نے اس کی آنکھوں میں وہی جنون وہی پاگل پن دیکھا ہے۔۔۔۔۔ ” رانا صاحب کی آواز بھر آنے لگی۔
“ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔ نادان ہے۔۔۔۔ سمجھ جائے گا۔۔۔۔۔” کرن نے ان کا بازو تھام کر امید دلانی چاہی۔
“چُھوک کہاں ہوگئی مجھ سے۔۔۔۔۔۔ میں اپنے بیٹے کی صحیح تربیت نہیں کر پایا۔۔۔۔ میں اچھا باپ نہیں بن پایا۔۔۔۔۔” وہ اپنی سوچوں گم افسردہ ہوگئے تھے۔ وہ کرن کی باتیں سن کر بھی ان سنی کر رہے تھے۔ کرن کا دل بھر آگیا تھا۔ وہ لب کانٹے لگی۔
“وہ میرے حدود سے نکل گیا ہے کرن۔۔۔۔ وہ برائی پر گامزن ہوچکا ہے۔۔۔۔” ارحام کے مستقبل کے اندیشوں سے گھرے رانا صاحب کا دل دھڑک گیا۔ کرن محض سر ہلاتی رہ گئی۔
“ہر کسی میں برائی سے لوٹنے کی طاقت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ میں تو آگیا تھا واپس۔۔۔۔۔ پر مجھے ڈر ہے ارحام واپس نہیں آسکے گا۔۔۔۔۔ ہم نے اسے کھو دیا ہے کرن۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے بیٹے کھو دیا ہے۔۔۔۔۔۔” ان کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔
اپنے مضبوط شوہر کو یوں روتا دیکھ کر کرن کا دل دہل گیا۔ اس نے رانا صاحب کو اپنے بانہوں میں لے لیا اور حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
اس لمحے ایک باپ کے آنسو پر قدرت بھی روئی تھی اور جلد یا بدیر ارحام کو ان آنسووں کا قرض چکانا ہی تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“السلام علیکم روحان سر۔۔۔۔۔۔۔” ایک نوجوان آواز نے روحان پر سلامتی بھیجتے اسے مخاطب کیا۔
“وعلیکم السلام ابتہاج۔۔۔۔۔ کیسے ہو۔۔۔۔” روحان نے خوش دلی سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے خوش آمدید کہا۔
27 سالہ ابتہاج حسین۔ روحان کے بہت اچھے دوست اور اس کے ہم منصب کا بڑا بیٹا۔ وجیہہ شخصیت کا حامل۔ لمبا مضبوط خوب رو مرد۔
ایک ہفتے پہلے وہ روحان کے پاس فائنانس کے متعلق چند سوال لے کر آیا تھا۔ روحان نے اسے کچھ کورس کروانے آفس آنے کی تجویز دی تھی اور پچھلے تین دنوں سے وہ باقاعدہ روحان سے کلاسس لینے آرہا تھا۔
آج بھی وہ اپنے کورس کا پڑھنے بلیک کلر قمیض شلوار پہنے آستین کہنیوں تک موڑے ہشاش بشاش تیار روحان کے آفس آیا تھا۔ وہ اپنے مقرر وقت سے کافی پہلے آگیا تھا اور روحان کو ضروری میٹینگ میں شامل ہونے جانا تھا اس لیے وہ ابتہاج کو اپنے کیبن میں بیٹھا کر کانفرنس روم میں چلا گیا۔
ابتہاج روحان کے کیبن میں بیٹھے اپنی نوٹ بک پر نوٹس بنا رہا تھا جب اس نے کسی کو کیبن میں اندر داخل ہوتے دیکھا۔
“پاپا۔۔۔۔۔” 21 سالہ زینب لاشعوری میں روحان کو ڈھونڈتی کیبن میں داخل ہوئی کہ ٹھٹک گئی۔ اسے روحان تو نہیں ملا پر سامنے ایک خوب رو وجہیہ مرد پر نظر پڑی۔
“روحان سر ایک ضروری میٹینگ میں ہے۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے زینب کو متذبذب انداز میں خود کو دیکھتے پا کر وضاحت دی۔
“کب تک آئیں گے۔۔۔۔۔” زینب نے آداب مجلس بجا لاتے آگے آکر پوچھا۔ وہ فورا سے واپس جا کر بے مروتی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“بتا کر نہیں گئے۔۔۔۔۔” ابتہاج نے شانے اچکاتے جواب دیا۔
زینب کچھ دیر خاموشی سے روحان کی سیٹ پر بیٹھی رہی۔ ابتہاج واپس اپنے کام میں جٹ گیا تھا۔ زینب کی یہاں وہاں دیکھتے ابتہاج کی نوٹ بک پر نظر پڑی۔ وہ کوئی میتھ کا فارمولہ حل کر رہا تھا لیکن دو سے تین کوشش کر کے بھی وہ سوال کا صحیح جواب نہیں نکال سکا۔
“ایکسیوز می۔۔۔۔۔ آپ نے فارمولے کی ترتیب الٹ لکھی ہے۔۔۔۔” زینب سے مزید اسے کشمکش میں مبتلا دیکھا نہیں گیا اس نے اٹھتے ہوئے معصومیت سے ابتہاج کو ٹوکا اور پھر سامنے پڑے قلم دان سے ایک قلم اٹھا کر نوٹ پیڈ پر درست فارمولہ لکھ کر ابتہاج کو پیش کیا۔
ابتہاج نے پہلے غور سے اس نوٹ پیڈ پر درج فارمولہ دیکھا پھر اپنے نوٹ بک سے تشبیہ دیا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھی ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ مگر اس سے پہلے وہ زینب کا شکریہ ادا کرتا وہ کیبن سے باہر نکل گئی تھی۔
“سو سوری زیادہ ویٹ تو نہیں کیا۔۔۔۔۔” کچھ دیر بعد روحان کیبن میں داخل ہوتے معذرت خواہ ہوا۔
ابتہاج نے خوش ہوتے درست فارمولے کے ساتھ وہ سوال فورا سے حل کر لیا تھا اور اب اپنی نوٹ بک روحان کو دکھا رہا تھا۔
“دیٹس گریٹ۔۔۔۔۔ “روحان نے محظوظ ہوتے اسے سراہا اور پھر اسے آگے کے مراحل سمجھانے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح صبح سفیان جوگنگ کر کے واپس آیا۔ نور کے علاوہ کوئی اٹھا ہوا نہیں تھا۔ ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی چہچہاہٹ سماء کو سکون بخش رہی تھی۔
“ممی ناشتہ۔۔۔۔۔۔” وہ ٹریک سوٹ میں ہی آکر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گیا۔
“بیٹھو لا رہی ہوں۔۔۔۔” نور نے مصروف انداز میں جواب دیا۔
“یہ ناشتہ لاہور سے آرہا ہے یا کچن سے۔۔۔۔۔” پانج سے سات منٹ تک انتظار کر کے وہ خود کو بولنے سے روک نہیں پایا۔
“مجھے پتا ہے یہ جلدی کس بات کی ہے۔۔۔۔۔۔ تا کہ تم ناشتہ آدھا ادھورا چھوڑ کر بھاگ جاو۔۔۔۔۔” نور نے اس کے آگے ناشتہ رکھتے جتاتے ہوئے کہا۔
“پورا ناشتہ کر کے اٹھنا ورنہ آج سے مجھے ممی مت کہنا۔۔۔۔۔ تنگ آگئی ہوں تمہارے اس کھانے کے طریقے سے۔۔۔۔” ملازم کے ہاتھوں بقیہ لوازمات لیتے نور نے سختی سے ڈانٹا۔
“اوکے چھوٹی بیگم جی۔۔۔۔۔۔ شام کو ملتے ہیں۔۔۔۔” ممی کے غصے کو سیریس لیتے سفیان نے ٹوسٹ کے دو پیس لے کر کھاتے ہوئے کہا اور اٹھ کر اپنے کمرے کے جانب بڑھ گیا۔ اس نے نور کو اس لقب سے مخاطب کیا جس سے مازمین بلایا کرتے تھے۔
نور اسے حیران زدہ ہو کر دیکھنے لگی۔ اسے یہ فیصلہ کرنے میں دشواری پیش ہورہی تھی کہ وہ پچپن میں زیادہ ضدی تھا یا اب۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس دن ارحام کو اپنے اسکول فرینڈز کے ساتھ پکنک پر مری جانا تھا۔ وہ بلیک پینٹ اور برانڈڈ شرٹ پہنے۔ آنکھوں پر گلاسس لگائے۔ گلے میں سلور چین ڈالے ہشاش بشاش تیار اپنے اور عائرہ کے مشترکہ اکاونٹ سے پیسے نکالنے بینک ATM میں در آیا۔ کارڈ درز کے اندر کیا اور کوڈ دبایا۔ لیکن کمپیوٹر اسکرین کچھ غلطی (error) دکھاتے اس کا کارڈ واپس نکال دیتا۔
اس کے آبرو تن گئے اسی طرح اس نے دو سے تین مرتبہ کوشش کی لیکن ہر بار ناکام رہا۔ بالآخر وہ بینک کے اندر گیا اور مینیجر کو مسئلے سے آگاہ کیا۔
“سوری سر یہ اکاؤنٹ فریز کر دیا گیا ہے۔۔۔۔ ان فریز ہونے تک یوز نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔” بینک مینیجر نے یکسانیت سے کہا۔
“کس نے فریز کروایا ہے۔۔۔۔” اس کے عصاب مزید تن گئے تھے۔
“سوری یہ کانفیڈینشل ہے۔۔۔۔ ہم آپ کو نہیں بتا سکتے۔۔۔۔” اس نے قدرے سرد مہری سے کہا اور اس کا کارڈ واپس کر دیا گویا اسے جانے کا کہہ دیا ہو۔
ارحام منہ لٹکائے بینک سے واپس باہر آگیا۔ اس کے موبائل میں کب سے تھڑتھڑاہٹ ہورہی تھی۔ اس نے کال اٹھاتے پژمردہ انداز میں ہیلو کیا۔
“ارحام کہاں ہے یار۔۔۔۔۔ بس نکل رہی ہے۔۔۔۔۔ کب سے تیرا ویٹ کر رہے ہیں۔۔۔۔” دوست نے تیز آواز میں اسے جھڑکا۔
“آرہا ہوں۔۔۔۔۔” صرف یہ دو لفظ کہتے اس نے کال کاٹ دی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“دیر کیوں کر دی آنے میں۔۔۔۔۔۔ ” ڈینی نے اس کے آتے ہی پوچھا۔
“بینک گیا تھا۔۔۔ پر اکاونٹ فریز کر دیا ہے ڈیڈ نے۔۔۔۔۔ پتا نہیں کونسی دشمنی نکال رہے ہیں وہ مجھ سے۔۔۔۔ سکون سے جینے نہیں دے رہے۔۔۔۔” ارحام کو شدید غصہ آرہا تھا۔
“اب سیگریٹ پیتے پکڑیں گے تو غصہ تو کریں گے۔۔۔۔۔” ڈینی نے رانا صاحب کی حمایت میں کہا۔
“پلیز۔۔۔۔۔ اب تُو تو ان کی طرفداری نا کر۔۔۔۔۔ پہلے ہی جیب خالی ہونے سے تپ چڑھی ہوئی ہے مجھے۔۔۔۔” ارحام نے ہاتھ اٹھا کر اسے ڈپٹا۔
ان کے قریب ان سے ایک سال سینئیر سٹوڈنٹ تالم شاہ بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ ہمدردی سے ارحام کے قریب آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“پیسوں کا جگاڑ ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ ” اس نے ارحام کے اسمارٹ واچ کے جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“میں ایک موبائل شاپ کو جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔ وہ اس کی اچھی قیمت دے دے گا۔۔۔۔۔” اس نے واچ پھیجنے کی تجویز دی۔
“یہ ڈیڈ نے گفٹ کیا تھا مجھے۔۔۔۔۔” ارحام بدمزا ہوگیا۔
“جب ڈیڈ کو تجھ سے محبت ہی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ تیری پاکٹ منی بند کرا سکتا ہے۔۔۔۔۔ تو تجھے ان کا گفٹ رکھ کر کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔ 40 سے 50 ہزار مل جائے گے۔۔۔۔۔ آسانی سے ہفتہ گزار سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ تب تک وہ اکاونٹ ان فریز بھی کر دینگے۔۔۔۔” ایک اور شیطانی آئیڈیا دیا گیا۔
ارحام کے تاثرات سپاٹ ہوگئے۔ اگلے سٹاپ پر وہ دونوں بس سے اترے اور ایک موبائل شاپ پر جا کر ارحام نے وہ واچ بھیج دی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رانا مبشر آفس کے کیبن میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر ارحام کے جی پی ایس کا لوکیشن بھی دیکھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنا کوئی کام بھی کر رہے تھے۔
آدھ گھنٹے بعد انہیں محسوس ہوا جی پی ایس ایک ہی جگہ رکا ہوا ہے۔ انہوں نے تعجب سے آنکھیں سکھیڑ کر لیپ ٹاپ میں اس جگہ کو معلوم کیا تو وہ ایک چھوٹا سا بازار نما علاقہ تھا۔
“اسجد۔۔۔۔۔۔ ایک لوکیشن بھیج رہا ہوں۔۔۔۔۔ فورا سے وہاں جا کر پتا لگاو جی پی ایس سٹاپ کیوں ہے۔۔۔۔۔” انہوں نے اپنے مینیجر کو کال کر کے ہدایت دی۔
ان کے ہدایت کی تکمیل دیتے اسجد فورا سے روانہ ہوگیا۔
“سر۔۔۔۔۔ یہ ایک موبائل ریپیرنگ شاپ ہے۔۔۔۔۔ اور ارحام نے ایک گھنٹے پہلے وہ واچ اس دکان پر سیل (sale) کر دی ہے۔۔۔۔” اسجد نے جائے وقوع پر پہنچ کر من و عن رانا صاحب کو رو داد سنائی۔
رانا صاحب کے آبرو پھیل گئے۔
“تو پیسے کی خاطر اس حد تک جا سکتا ہے یہ لڑکا۔۔۔۔” انہوں نے دل میں سوچا۔
“تم وہ واچ اس شاپ سے واپس خرید کر میرے پاس لاو۔۔۔۔” رانا صاحب نے درشتی سے حکم دیا اور کال کاٹ کر موبائل میز پر پٹخ دیا۔ انہیں ارحام پر شدید غصہ آرہا تھا
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شام کو جب ارحام پکنک سے لوٹا تو رانا صاحب کو اپنا منتظر پایا۔ وہ بے تاثر انداز میں چلتے آگے بڑھا پر رانا صاحب نے اسے مخاطب کیا۔
“تمہاری واچ کہاں ہے۔۔۔۔” رانا صاحب نے آرام سے پوچھا۔ وہ فورا ہی غصہ نہیں کرنا چاہتے تھے اور ویسے بھی پچھلی مرتبہ کے ہوئے جھڑک سے ان دونوں باپ بیٹے کے بیچ بول چال کم تھی۔
“اووو لگتا ہے پکنک میں مجھ سے کھو گئی۔۔۔۔ ویسے آپ نے اکاونٹ کیوں فریز کروایا ہے۔۔۔۔” ان کے سوال کے جواب میں لاپرواہی سے اپنی کلائی دیکھ کر ارحام نے خفگی سے اپنا سوال پوچھا۔
“تو اگر میں آپ کا اکاونٹ فریز کروا دوں۔۔۔۔ آپ الٹے کام شروع کر دو گے۔۔۔۔ اپنی واچ بھیج دو گے۔۔۔۔۔ مجھ سے جھوٹ بولو گے۔۔۔۔” رانا صاحب نے بھی اپنی خفگی ظاہر کی۔ ارحام شاک سا ہوگیا۔
“کیا لگا تھا مجھے پتا نہیں چلے گا۔۔۔۔۔ جہاں سے یہ چلاکیاں آپ سیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔ اس در سے میں اچھے سے واقف ہوں۔۔۔۔” انہوں نے جیب سے وہی واچ نکال کر سینٹرل ٹیبل پر رکھا۔ اب کی بار آواز مزید مدھم ہوگئی تھی۔
“بیٹا۔۔۔۔ میں آپ پر سختی کر رہا ہوں۔۔۔۔ آپ کو برائی سے روک رہا ہوں۔۔۔۔ تو یہ آپ ہی کے بھلائی کے لیے ہیں۔۔۔۔ ماں باپ جو بھی پابندی لگاتے ہیں اس میں اولاد کی ہی بہتری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ وہ خود کبھی نا کبھی اس دور سے گزر چکے ہوتے ہیں انہیں ان سب کا تجربہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ میں گزر چکا ہوں اس دور سے اور میں نے اس میں کوئی خیر نہیں دیکھی۔۔۔۔۔۔ ” نرمی سے کہتے وہ اٹھے اور ارحام کے گرد بازو مائل کیا۔
“یہ ٹیکنالوجی کا دور بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔۔۔۔۔ دو ماہ کے بچے سے لے کر 90 سالا بزرگ تک سب اس کی زد میں آچکے ہیں۔۔۔۔۔ فحاشی۔۔۔۔۔ بے حیائی۔۔۔۔۔ نشہ۔۔۔۔۔ بہت عام ہوتا چلا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ اگر ابھی سے ہم نے اپنے آنے والے نسل کی لگام نہیں تھامی تو وہ گمراہی کے جانب نکل پڑے گے۔۔۔۔۔ پر کامیابی صرف اللہ سبحان و تعالی کے راستے میں ہے۔۔۔۔” اپنے سینے سے ارحام کا سر لگائے انہوں نے محبت سے سمجھایا۔
“دکھ اس بات کا نہیں ہے کہ آپ نے واچ بھیج دی۔۔۔۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اکاونٹ فریز ہونے کا جان کر آپ غلط راہ پر چل پڑے۔۔۔۔ آج واچ بھیجی ہے کل کو گھر کا کچھ اور سامان بھیج دینگے پرسوں چوری ڈکیتی پر اتر آئیں گے۔۔۔۔۔” ان کی آواز میں افسردگی در آئی تھی۔
“سوری ڈیڈ میں دوبارہ ایسا نہیں کرو گا۔۔۔۔۔” ارحام نے اپنے کیئے پر پچھتاتے ہوئے معذرت خواہاں انداز میں سر جھکا دیا۔
رانا صاحب مسکرائے اور اس کے گرد گرفت مضبوط کر لی۔ جہاں ڈانٹ سے بات نہ بنے وہاں پیار سے آزمانہ چاہیئے۔
رانا صاحب نے دونوں طریقہ کار آزمایا اور ارحام پگل بھی گیا لیکن یہ بدلاو محض کچھ وقت کے لیے تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زینب یونیورسٹی کے آڈیٹوریم کے اسٹیج پر بڑے سے ملٹی میڈیا اسکرین پر ہال میں موجود اسٹوڈنٹس اور چند اساتذہ کرام کو اپنے مخصوص انداز میں لیکچر دیں رہی تھی۔
وہ دائیں سے بائیں جاتی شرٹ پر لگے چھوٹے سے مائک میں گویا تھی۔ سب خاموشی سے اسے سن رہے تھے۔ بہت سی آنکھیں اس کی پیروی کر رہیں تھی۔ وہ ہاتھ ہوا میں لہراتی اسکرین پر نمودار ہوتے ریاضی کے سوالات سمجھا رہی تھی۔ انہی ڈھیر ساری آنکھوں میں دو ہلکی براون آنکھیں بھی اس لمبی خوبصورت اور قابل رشک لڑکی پر مرکوز تھی۔ ابتہاج حسین کی دلکش آنکھیں۔
لیکچر اختتام پذیر ہوا سب اپنی اپنی کلاسس کو جانے لگے۔ زینب نے سارا سامان اپنے بیگ میں ڈالا اور وہاں سے نکلی تھی کہ آڈیٹوریم کے باہر اسے ابتہاج مل گیا۔
“کمال ہے ایک فرسٹ سمسٹر کی سٹوڈنٹ۔۔۔۔۔ فورتھ اور ففتھ سمسٹر کے اسٹوڈنٹس اور پروفیسرز کو لیکچر دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔ یقین نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔۔ ویسے اس دن کے لیے تھینکس۔۔۔۔۔۔” اس کے ساتھ ساتھ ابتہاج نے ستائشی انداز میں تعریف کر دی اور اس دن مدد کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
“اتنا بھی کوئی کمال نہیں ہے۔۔۔۔ کسی کو میتھ بہت جلد سمجھ آجاتی ہے۔۔۔۔ کسی کو نہیں۔۔۔۔۔۔ اور میرا تو سب سے من پسند سبجیکٹ ہے۔۔۔۔۔ ایک کشش ہوتی ہے ہر سوال میں۔۔۔۔۔ ویسے آپ بھی سٹوڈنٹ ہے۔۔۔۔” زینب اس کے جانب رخ کر کے کھڑی ہوگئی۔
“ویل۔۔۔۔۔۔ پیشے سے تو میں نیاء برحال وظیفہ ینگ لیکچرر ہوں۔۔۔۔۔ پر جہاں سے علم بنٹ رہا ہو۔۔۔۔۔ میں وہاں سٹوڈنٹ بن جاتا ہوں۔۔۔۔۔” ابتہاج نے معصومیت سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا۔
زینب کچھ لمحے متذبذب سی ہوگئی۔ اس نے اس سے پہلے کبھی کسی لیکچرر سے فرینک ہو کر گفتگو نہیں کی تھی اس لیے اب مزید گفتگو کرنے میں اسے جھجک محسوس ہورہی تھی۔ مزید وقت ضائع کئے بغیر ابتہاج اس سے رخصت لیتا وہاں سے روانہ ہوگیا اور زینب اسے آنکھوں سے اوجھل ہونے تک دیکھتی رہی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ملاقاتوں کا سلسلہ یہی سے پروان چڑھنے لگا۔ ایک ماہ تک ٹرائل میں لیکچر دے کر ابتہاج کو مستقل کانٹریکٹ مل گیا۔ وہ باقاعدہ فل ٹائم لیکچرر مقرر ہوگیا۔
“یار۔۔۔۔۔ تم لوگوں نے نئے سر کو دیکھا ہے۔۔۔۔۔ کتنے cool ہے نا۔۔۔۔۔ اور سنا ہے ہماری تھیوری کلاس بھی اسے دی جائے گی۔۔۔۔” بریک ٹائم وہ گرلز گروپ ابتہاج پر مباحثہ کر رہے تھے۔
“ہاں۔۔۔۔ کاش انہیں ہماری کلاس مل جائے۔۔۔۔۔ اتنا پیچیدہ سبجیکٹ پڑھنے میں مزا آجائے گا۔۔۔۔” دوسری فرینڈ نے اپنی دلی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
زینب نے اپنی فرینڈز کو ابتہاج سے فیملی جان پہچان سے آشنا نہیں کیا تھا اس لیے وہ ان کے مباحثے میں مداخلت کئے بغیر ان کی گفتگو سے محظوظ ہورہی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔