60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 14

کتاب آگے کھولے دانین دس منٹ سے دائیں سے بائیں چکر کاٹتی ارحام سے کال پر بات کر رہی تھی۔ کمرے کا دروازہ کھلنے پر وہ ہڑبڑا گئی اور موبائل فون سے ڈوپٹے کے نیچے کر دیا۔
“کس سے بات کر رہی ہو۔۔۔۔” لالا کمرے میں داخل ہوئے۔
دانین لمبے چوڑے مضبوط جسامت پٹھانی نین نقش کے حامل اپنے 25 سالہ بھائی کو دیکھ کر دل ہی دل کلمہ پڑھنے لگی۔
“کسی سے تو نہیں۔۔۔۔ میں تو سبق یاد کر رہی تھی۔۔۔۔ اونچا پڑھنے سے جلدی یاد ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ” اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب دکھا کر ہڑبڑی میں دانین نے پہلی دفعہ اپنے لالا سے جھوٹ بولا۔
اذان حیدر خان آس پاس کمرے میں دیکھ کر ایک سرد نظر اس پر ڈال کر واپس باہر نکل گیا۔ دانین نے شکر بجا لاتے سکون کا سانس لیا لیکن اپنے لالا سے جھوٹ بولنے پر اسے شدید احساس ندامت نے گھیر لیا تھا۔ اس نے غصے سے موبائل آف کر کے اپنے کالج بیگ میں کتابوں کے نیچے چپا دیا۔ دل ہی دل وہ موبائل ارحام کو واپس کرنے کا ارادہ بنا چکی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اگلے دن وہ اسپورٹس سینٹر میں ارحام کے سامنے کھڑی اسے موبائل واپس کر رہی تھی۔ ارحام نے شرٹ کے پہلے تین بٹن کھلے رکھے تھے اور گلے میں پہنی سلور چین اس کے مضبوط لمبی گردن کی رعنائی مزید بڑھا رہا تھا۔ کہنیوں تک مڑے آستیوں سے چھلکتے اس کے بازو صنف نازک کو اپنے جانب راغب کرنے کا پورا حق ادا کر رہے تھے۔
نئی نئی جوانی کے دہلیز پر قدم رکھتی دانین کی نظریں بار بار بہک جاتی پر وہ اپنے دلی جذبات قابو کرنے کی پابند تھی۔
“میں یہ نہیں رکھ سکتی۔۔۔۔ کل بال بال بچی ہوں۔۔۔۔۔ ورنہ لالا کے ہاتھ موبائل لگ جاتا تو بہت گڑبڑ ہوجاتی۔۔۔۔” اس نے موبائل فون ارحام کے جانب بڑھایا۔
“دانین۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ اچھا کچھ دن اور رکھ لو۔۔۔۔۔ اور میں وعدہ کرتا ہوں اب سے دن کے وقت کال نہیں کروں گا۔۔۔۔” ارحام نے اپنی معصومیت سے دانین کی آنکھوں میں دیکھتے اس کے ہاتھوں کو تھام کر استفسار کیا۔
ارحام کے لمس سے دانین کے دل میں ہلچل مچ گئی۔ وہ متواتر موبائل فون رکھنے سے انکار کر رہی تھی لیکن ارحام کی نشیلی اداوں کے آگے وہ زیادہ دیر ٹک نہ سکی اور ہار مانتے واپس موبائل رکھ لیا۔
“ارحام۔۔۔۔۔ بیٹا اب تجھے جلد اپنے مشن کو پورا کرنا چاہیئے۔۔۔۔۔ ” دانین کے جانے کے بعد اس نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آنکھیں چھوٹی کر کے سوچا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“نہیں میں نہیں آسکتی۔۔۔۔۔ پلیز ارحام ضد مت کرو۔۔۔۔۔۔ میں تم سے کالج ٹائم کے علاوہ قطعی نہیں مل سکتی۔۔۔۔” دانین سرگوشی کے انداز میں کال پر ارحام کو منع کر رہی تھی۔
“صرف تھوڑی دیر۔۔۔۔۔۔ ہم بس آئس کریم کھا کر آجائے گے۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔” ارحام کی ضد میں اضافہ ہونے لگا۔
“میں گھر سے اکیلی کہی نہیں جاتی۔۔۔۔۔ اور میرے فیملی کے کسی بھی مرد نے مجھے کسی لڑکے کے ساتھ دیکھ لیا تو موت کی گھاٹ اتار دینگے۔۔۔۔ میں نہیں آسکتی تمہارے ساتھ۔۔۔۔” دانین اپنے فیصلے پر اٹل تھی۔
“میرے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔” ارحام کی مایوس کن آواز اس کے سماعتوں میں پڑی۔
“تم میرے لیے اپنی ضد نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔۔۔۔” دانین کا دل بھر آگیا۔
“ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔۔ بعد میں بات ہوگی۔۔۔۔۔۔ بائے۔۔۔۔۔۔” ارحام نے سرد مہری سے کہتے کال کاٹ دی اور دانین اداسی سے بیڈ پر لیٹ گئی۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
محبت یہ نہیں کہ ایک دوسرے کو ذہنی مریض بنا دیا جائے بلکہ محبت تو ایک دوسرے کی تھکاوٹیں سمیٹ لینے کا نام ہے۔ ایک دوسرے کو سکون دینے کا نام ہے لیکن نا محرم سے محبت صرف ذہنی مریض ہی بنا کر نہیں چھوڑتی بلکہ یہ دلی سکون اور نفسیاتی چین کو بھی برباد کر دیتی ہے۔
“یہ بہت تھکا رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اب مجھ سے مزید یہ ڈرامہ نہیں ہوگا۔۔۔۔ ڈائریکٹ پوائنٹ پر آنا ہوگا۔۔۔۔” ارحام نے دوستوں کے بیچ بیٹھے تپ کر اپنا موبائل میز پر پٹخ دیا۔
“ارحام تُو بہت غلط کر رہا ہے۔۔۔۔۔ اس معصوم کے ساتھ۔۔۔۔” ڈینی اس کے ایسی حرکات پر راضی نہیں تھا وہ اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“تجھے بڑی ہمدردی ہورہی ہے۔۔۔۔۔ تیری بہن لگتی ہے کیا۔۔۔۔۔” تالم شاہ کرسی پر آگے ہو کر بیٹھا تھا اور سیگریٹ ہونٹوں میں دبائے ہوئے لائٹر سے سلگا رہا تھا۔
“کسی کی تو بہن ہے۔۔۔۔۔ جب اسے پتا چلے گا ارحام اس کے ساتھ کھیل رہا ہے۔۔۔۔۔ اور آگے جو کرنے والا ہے۔۔۔۔۔ تو کیا عزت رہ جائے گی اس کی۔۔۔۔۔” ڈینی نے ارحام کو برائی کی طرف جانے سے روکنے کی ایک اور کوشش کی۔
“میری عزت ہے میری مرضی۔۔۔۔۔ تجھے کیوں فرق پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔” ارحام نے تالم کے ہاتھ سے سیگریٹ اچک کر خود کش بھرا اور دونوں استحزیہ ہنسنے لگے۔
دانیال (ڈینی) کے ماتھے پہ بل نمودار ہوئے وہ نفرت بھری نگاہوں سے ارحام کو دیکھتے اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں سے روانہ ہوگیا۔
یہ دانیال اور ارحام کی آخری ملاقات ثابت ہونے والی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جب دانین نے باہر کہی ملنے سے منع کیا تو ارحام نے خود اس کے گھر جانے کا پلان بنایا۔
وہ بلیو جینز اور اپنی فیوریٹ وائٹ شرٹ میں ملبوس۔ بال ایک طرف جمائے ہوئے۔ برانڈڈ مہنگی پرفیوم لگائے ہشاش بشاش تیار ہوا۔ شرٹ کے پہلے تین بٹن ہمیشہ کے جیسے کھلے رکھے تھے اور چاندنی رات میں گلے میں پہنی سلور چین چمک رہی تھی۔ سمارٹ واچ اور مہنگے سپورٹس شوز پہنے وہ دانین کے گھر کے جانب روانہ ہوا۔
رات کے قریب دو بجے سائیڈ ٹیبل کے دراز میں تھڑتھڑاہٹ ہوئی دانین نے پریشانی سے دراز کھول کر اندر چھاپا موبائل اٹھایا۔
“مجھے تم سے ملنا ہے ابھی۔۔۔۔۔ ” اس نے ارحام کی سرگوشی سنی۔
“ابھی کیسے مل سکتے ہیں۔۔۔۔۔ ” دانین کو شاک لگا۔
“میں تمہارے گھر کے باہر ہوں۔۔۔۔۔” اسپیکر پر ارحام کی یہ بات سن کر دانین گھبرا گئی۔
“میرے گھر کے باہر۔۔۔۔۔ اس وقت۔۔۔۔۔ ارحام خدا را کوئی دیکھ لیں گا واپس چلے جاو۔۔۔۔۔” وہ روہانسی ہوکر رہ گئی۔
“تم جتنی دیر لگاو گی۔۔۔۔۔ اتنا رسک بڑھے گا۔۔۔۔۔۔ بس پانچ منٹ پلیز۔۔۔۔ ” وہ اسے قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
“آہ۔ہ۔ہ۔ہ میرے اللہ۔۔۔۔۔۔ ارحام۔۔۔۔ تمہیں نہیں آنا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔۔ ” وہ پریشان ہوگئی تھی۔
“یار تم جلدی سے باہر آکر مل لو۔۔۔۔۔ بس پانچ منٹ پھر میں چلا جاوں گا۔۔۔۔۔” اس دفعہ آواز میں قدرے سختی در آئی تھی۔
“واپس چلے جاو۔۔۔۔ میں کل کالج میں ملتی ہوں نا۔۔۔۔۔” دانین کا دل برق رفتاری سے دھڑک رہا تھا۔
“جب تک نہیں ملو گی نہیں جاو گا۔۔۔۔۔” وہ ناراض ہونے لگا۔
“اچھا آرہی ہوں۔۔۔۔۔” دل اور دماغ کی جنگ میں جیت دل کی ہوئی اور وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ملنے کے لیے مان گئی۔
اس نے نائٹ ڈریس کے کھلے قمیص اور ٹراؤزر پر تکیے کے پاس پڑے ڈوپٹے کو کھلے کالے بالوں کے اوپر ہی اوڑھ لیا۔ ملاتشی نظروں سے لاؤنج میں جھانکا۔ اس پہر گھر پوری تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ دبے قدموں وہ تیز تیز لاؤنج عبور کر کے گیٹ کے پاس آئی۔ گیٹ کا لاک کھلوتے ہوئے اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔
اور محبت کی آڑ میں اندھی ہو کر دانین حیدر خان نے دہلیز کے باہر قدم رکھا۔ اس نے باپ بھائی کے بنائے حفاظتی ڈھال کو کچلتے ہوئے گمراہی کے جانب قدم بڑھا دیا۔
گیٹ سے نکلتے ہی اسے سامنے ارحام کھڑا ملا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ دانین اس کا ہاتھ پکڑ کر درخت کے پیچھے لیں آئی۔
“ایسی کیا قیامت آگئی تھی جو اس وقت ملنا تھا۔۔۔۔۔” اس نے دانت پر دانت جمائے ہوئے کہا۔ وہ مضطرب سی بار بار تاریکی میں آس پاس دیکھ رہی تھی۔
“تمہیں بہت مس کر رہا تھا۔۔۔۔۔” ارحام نے آگے ہو کر دانین کو بانہوں میں لے لیا۔
دانین کی سانس رکنے لگی دھڑکن تیز ہوگئی وہ اپنی جگہ منجمد ہوگئی۔ اسے ارحام سے اس حرکت کی توقع نہیں تھی۔ ارحام کا لمس اور اس سے آتی خوشبو دانین کو اپنے حصار میں لینے لگی۔ اس نے ہمت کر کے ارحام کو خود سے دور کیا۔
وہ اس سے نظریں ملانے سے کترانے لگی۔ ارحام کی آنکھیں چمک اٹھی۔ اس کا تیر نشانے پر لگا تھا۔ دانین اس کے سحر کے گرفت میں پھنس چکی تھی۔
“اب تو تمہارے بغیر ایک لمحہ بھی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے دانین۔۔۔۔۔ ہم بڑے کب ہونگے۔۔۔۔ مجھے جلد سے جلد تمہیں اپنانا ہے۔۔۔۔۔۔ ” 17 سالہ نوجوان ارحام نے مخمور آواز میں کہتے دانین کے چہرے پر آتی لٹوں کو پیچھے کیا۔ اپنے چہرے پر اس کی انگلیاں محسوس کرتی نادان دانین کسمکسا گئی۔
“اوکے میں اب چلتی ہوں۔۔۔۔ مل لیا نا۔۔۔۔۔” وہ اپنے ہوش سنبھالتی وہاں سے جانے لگی لیکن ارحام نے اسے باززوں سے تھام لیا۔
“پلیز تھوڑی دیر رک جاو۔۔۔۔۔” اس نے دانین کو پھر سے خود سے لگا لیا۔ دانین کی تیز دھڑکنیں ارحام کو محسوس ہونے لگی۔ وہ سٹپٹا گئی۔
“ارحام جانے دو۔۔۔۔” دانین کے لیے وہاں رکنے مشکل ہورہا تھا۔ مگر ارحام پر ہر گزرتے پل کے ساتھ شیطان حاوی ہورہا تھا۔
ارحام، دانین کے باہر آنے سے پہلے ہی اپنا موبائل ایک جگہ رکھ چکا تھا۔
” پانچ منٹ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔ اب جانا چاہیئے۔۔۔۔۔” دانین پھر سے جانے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کے کمر کے گرد ارحام نے گرفت مضبوط کر لی تھی۔ دانین کے ہاتھ ارحام کے سینے پر جا ٹھہرے تھے۔
“بس دو منٹ اور۔۔۔۔۔” ارحام نے اس کے سر پر سے ڈوپٹہ سرکا دیا۔ اس کے کھلے بال اور سفید گردن عیاں ہونے لگی۔ پھر اس نے اس کے رخسار کے نیچے ہاتھ کا پیالہ بنائے اس کا چہرا قدرے اوپر کو کیا۔
“یہ سب غلط ہے۔۔۔۔۔۔ گناہ ہے۔۔۔۔۔۔ ” دانین کی آواز لرزنے لگی۔
“کچھ غلط نہیں ہے۔۔۔۔۔ پیار کرتی ہو نا تم مجھ سے۔۔۔۔۔” ارحام کی خمار آلود نگاہوں نے اس کے لبوں کا نشانہ بنایا اور اس پر جھک گیا۔
ارحام کے ہونٹ دانین کے ہونٹوں سے ٹکرائے تو اس کے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا اس نے آنکھیں مینچھ لی۔ لیکن اگلے ہی پل دانین نے اپنی ساری ہمت جمع کر کے ارحام کو خود سے دور کیا۔
“بس ہوگیا۔۔۔۔۔ اب جاو۔۔۔۔۔” وہ اپنا ڈوپٹہ سر پر لیتی ارحام کے جانب دیکھے بغیر گھر کی طرف بھاگی۔
ارحام شرارت بھری نظروں سے اسے جاتے دیکھنے لگا۔ اس کی مسکراہٹ دیدنی تھی وہ تالم شاہ کی شرط جیت چکا تھا۔ اپنی جیت کی خوشی مناتے وہ اپنا موبائل اٹھا کر واپسی وہاں سے روانہ ہوگیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بھاگتے ہوئے کمرے میں آتے دانین کی سانس چڑھ گئی تھی۔ وہ بیڈ پر بیٹھتے بلش کرنے لگی۔ اسے ابھی تک اپنے جسم پر ارحام کا لمس محسوس ہورہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ لمحہ چھپ گیا تھا۔ وہ ارحام کے شدتِ محبت کو یاد کرتے شرمانے لگی۔
وہی دوسری جانب ارحام تالم شاہ کے پاس جا پہنچا اور وہ ویڈیو باری باری سب کو دکھا کر مغرور انداز میں گردن اکھڑا کر کھڑا تھا۔
“یقین نہیں آرہا۔۔۔۔۔” زارون نے ویڈیو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے کہا۔
“ماننا پڑے گا۔۔۔ کمال کر دیا جونئیر رانا۔۔۔۔۔” تالم شاہ تیز نظروں سے اسے دیکھ کر سراہنے لگا۔
“چلو لاو میرے انعام کے پیسے۔۔۔۔۔۔” اس نے آبرو اچکا کر ہاتھ آگے گیا۔
تالم شاہ نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے کو تھپکا پھر جیب سے پیسوں کی گھٹی نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ ارحام سب کو پیسے دکھاتے اپنی جیت کا جشن منا رہا تھا۔ اس کا موبائل ابھی بھی تالم شاہ کے ہاتھوں میں تھا۔
“ویسے سچ بتا۔۔۔۔ مزا تو بہت آیا ہوگا۔۔۔۔۔ ہے نا۔۔۔ ہے ناا۔۔۔۔” زارون اسے چھیڑتے ہوئے قریب ہوا۔
ارحام نے شریر انداز میں ہنستے ہوئے آنکھ مارتے سر اثابت میں ہلایا اور ان سب کا قہقہہ فضاء میں بلند ہوا۔
وہ زارون اور باقی دوستوں کو زبانی ساری کہانی سنا رہا تھا اور وہ سب تصور کرتے مزے لیں رہے تھے۔ تالم شاہ نے ارحام کو مصروف پایا تو تیزی سے انگلیاں چلاتے اس کے موبائل سے ویڈیو اپنے نمبر پر وٹس اپ کر دی اور ارحام کے موبائل سے پوری چیٹ ڈیلیٹ کر دی۔ تاکہ اسے پتا نہ چلے۔
اس کے حرکت سے انجان ارحام نے تالم شاہ کے جانب دیکھا تو اس نے ہنستے ہوئے موبائل واپس کیا اور اطمینان سے ان کے گفتگو کے مزے لینے لگا۔
آپ کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے والا شخص کبھی آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا۔ اس پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے ورنہ نا قابل تلافی نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہونگے۔
ارحام نے تالم شاہ پر بھروسہ کیا اور اس نے ارحام کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ اب در پیش نقصان کا ذمےدار ارحام خود تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اگلے دن دانین کالج پہنچی تو سب اسے تعجب اور حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اسے سب کی نظروں سے الجھن ہونے لگی۔ وہ سر جھکائے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں گئی تو وہاں بھی یہی صورتحال تھی۔ حتہ کہ رومیسہ بھی اسے گھوری سے نواز رہی تھی۔
“سب ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے۔۔۔۔۔” اس نے رومیسہ کو ایک کونے میں لے جا کر پوچھا۔
“تم سے ایسی حرکت کی امید نہیں تھی۔۔۔۔۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تم ایسا کرو گی۔۔۔۔۔” رومیسہ نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے تردید کی۔
“ایسا کیا کیا ہے میں نے۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تم کس بارے میں بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔” دانین کا دل دھڑکنے لگا۔
“تو تمہیں سچ میں نہیں پتا۔۔۔۔۔” رومیسہ نے افسوس کن نظروں سے اسے دیکھا۔ دانین نے نفی میں سر ہلایا۔
“یہ دیکھو۔۔۔۔ غور سے دیکھ لو۔۔۔۔۔ پورے انٹرنیٹ میں یہ ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔ اب تک دو ہزاز ویوز آچکے ہیں اس پر۔۔۔۔” رومیسہ نے درشتی سے کہتے اپنے موبائل میں اسے وہ ویڈیو لگا کر دکھائی۔
دانین پلک تک نہ جھپکا سکی۔ وہ سانس لینا ہی بھول گئی۔ ویڈیو دیکھ کر اس کا دماغ سُن ہوتا جا رہا تھا۔
“یہ۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ ویڈیو۔۔۔۔۔۔ میں ارحام سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔۔” وہ روہانسی ہو کر ارحام کے ڈیپارٹمنٹ جانے لگی۔
“اب بھی عقل نہیں آئی۔۔۔۔۔ یہ ویڈیو اسی نے بنا کر وائرل کی ہے۔۔۔۔۔ تم اتنی اندھی کیسے ہوسکتی ہو دانین۔۔۔۔۔ پورا کالج ارحام کے کرتوتوں سے واقف ہے۔۔۔۔۔ ایک تجھے ہی اس کا کمینہ پن نظر کیوں نہیں آتا۔۔۔۔” رومیسہ نے اسے حقیقت کا آئینہ دکھایا۔
“ننن۔۔۔۔ نہیں ارحام ایسا نہیں کررررر سکتا۔۔۔۔۔ میں پپپ پوچھتی ہوں اس سے۔۔۔۔۔” دانین کی آواز کانپ رہی تھی۔ چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا تھا۔
اس کے اعتماد کی دھجیاں بکھر گئی تھی۔ دل خون کے آنسو رونے لگا۔
وہ تیز رفتار سے بھاگنے لگی۔ اسے سنبھالنے رومیسہ اس کے پیچھے ہو لی۔ سب کی نظروں کے تیر اپنے آپ پر برداشت کرتی جب وہ ارحام کے ڈیپارٹمنٹ پہنچی تو اسے اپنے دوستوں کے گروپ میں کھڑے سموکنگ کرتے اور ہنستے پایا۔
“یہ تھرڈ کلاس لڑکیاں بہت پکاوں ہوتی ہے۔۔۔۔۔ ہر وقت بے فضول بولتی رہتی ہے۔۔۔۔۔ عجیب سی فرمائشیں ہوتی ہے۔۔۔۔۔ کتنا کچھ کرنا پڑا مجھے۔۔۔۔۔۔صرف ایک کِس لینے میں مجھے ایک سال لگا۔۔۔۔۔ مائی گاڈ۔۔۔۔۔ پتا نہیں ان کی فیملی زندگی بھر انہیں برداشت کیسے کر لیتی ہے۔۔۔۔” ارحام استحزیہ ہنستے ہوئے دانین پر تبصرہ کر رہا تھا۔
“بٹ تالم یار۔۔۔۔۔ دس از ناٹ فئیر۔۔۔۔۔ میں نے ایک سال محنت کی اور پرائز صرف ایک لاکھ۔۔۔۔۔ کم سے کم دو لاکھ تو بنتے ہیں۔۔۔۔۔” سب دوستوں نے مل کر زوردار قہقہہ لگایا۔
ان سب کی گفتگو سنتی دانین کا دل کیا زمین چاک ہوجائے اور وہ وہی دفن ہوجائے۔ جس پر اس نے سب سے زیادہ اعتبار کیا وہ ہی آج دوستوں میں اس کی عزت کی قیمت لگا رہا تھا۔
“تُو اس کے ساتھ ایک رات گزار۔۔۔۔۔ میں تجھے پانچ لاکھ دوں گا۔۔۔۔۔” تالم شاہ کمینگی کی ساری حدود پار کرنے لگا۔
“لیکن اس مرتبہ ویڈیو نہیں لائیو شو چاہیئے۔۔۔۔۔ کیوں تالم۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔۔۔” زارون نے بھی اسی انداز میں اپنی فرمائش ظاہر کی۔
دروازے کے پار کھڑی دانین نے کرب سے آنکھیں میچھ لی اور اپنی سسکیاں روکنے منہ پر ہاتھ رکھ دیئے۔
” نا بابا۔۔۔۔۔ میری بس ہے۔۔۔۔۔۔ رات کا تم ٹرائی کر لو۔۔۔۔۔” ارحام نے ہاتھ ہوا میں اٹھا لیئے۔
رومیسہ سے ان کی گفتگو مزید سنی نہیں گئی وہ دانین کا ہاتھ پکڑ کر اسے جھنجوڑنے لگی۔
“اب تو ہوگیا یقین۔۔۔۔۔ پتا لگ گئی نا اس کی اصلیت۔۔۔۔۔ اب چلو یہاں سے۔۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔۔” وہ اسے کھینچتی وہاں سے لیں جانے لگی۔ لیکن دانین کی سوئی غیرت جاگ گئی تھی وہ اس کے اپنا ہاتھ چھڑا کر ارحام کے کلاس میں در آئی۔
“کیوں کیا ایسا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔ کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا۔۔۔۔۔۔ کس مٹی کے بنے ہو۔۔۔۔۔۔ زرا بھی ہاتھ نہیں کانپا ویڈیو وائرل کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ کتنے ظالم ہو تم۔۔۔۔۔۔” دانین ارحام پر برس پڑی اور ویڈیو وائرل ہونے کا سن کر ارحام کے آبرو پھیل گئے۔
“تمہارے نزدیک ایک لڑکی کی عزت کی قمیت صرف چند روپے ہیں۔۔۔۔۔ تم اتنا گر جاو گے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔۔ ایسا ظلم کرتے تمہیں زرا برابر بھی شرمندگی محسوس نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔” رندھی ہوئی آواز میں وہ شکوہ کر رہی تھی۔ آنسو پھر سے جاری ہوگئے تھے۔
“اس کے سامنے رونے سے کچھ نہیں ہوگا دانین۔۔۔۔۔ ان امیر زادوں میں احساس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔۔۔۔ چلو یہاں سے۔۔۔۔” رومیسہ نے دانین کو کندھوں سے تھام لیا اور وہاں سے لیں جانے لگی۔
“دانین۔۔۔ سنو۔۔۔۔” ارحام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر وضاحت دینا چاہی پر دانین نے مڑ کر اپنے پورے قوت سے ارحام کو زناٹے دار تھپڑ لگا دیا۔
تھپڑ کی گونج کلاس کے فضاء میں محلول ہوتی دیواروں سے ٹکراتی واپس ان تک آئی۔ تالم شاہ اور زارون سمیت سب ساکن رہ گئے۔
ارحام گال پر ہاتھ رکھے سیدھا ہوا۔ اس کی آنکھیں وحشت سے سرخ پڑنے لگی۔
“ہاتھ مت لگانا مجھے۔۔۔۔۔۔ گھن آرہی ہے مجھے تم سے۔۔۔۔۔۔ نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔۔۔” انگلی اٹھا کر اسے سختی سے تنبیہہ کیا گیا۔
اس کے جاتے ارحام اپنی تذلیل لیئے بے دم سا پیچھے مڑا تو سب دوستوں کے چہرے اترے ہوئے تھے صرف ایک چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ تالم شاہ کا بے تاثر چہرا۔
“یو باسٹرڈ۔۔۔۔۔۔ ویڈیو تم نے وائرل کروائی ہے نا۔۔۔۔۔۔ شرط تو صرف اپنے گروپ کو دکھانے کی لگی تھی پھر وائرل کیوں کی۔۔۔۔۔۔” ارحام اپنے جنون میں آگیا۔ وہ تالم شاہ پر جھڑپ پڑا اور اسے مارنے لگا۔
تالم شاہ بھی غصے سے آگ بگولا ہوتا ارحام پر جوابی وار کرنے لگا۔ دونوں پر ایک دوسرے کو مار دینے کا جنون سوار ہوگیا تھا۔ زارون نے تالم کو بازووں میں جھکڑ لیا اور باقی دوستوں نے ارحام کو۔
“لیو می۔۔۔۔۔ میں اسے جان سے مار دوں گا دھوکے باز۔۔۔۔۔” ارحام دوستوں کے گھیرے سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
“جااا جااا۔۔۔۔۔ بہت دیکھے تجھ جیسے۔۔۔۔۔۔ میرے آگے ابھی بچہ ہے تو۔۔۔۔۔” تالم شاہ بھی دوبارہ اس پر حملہ کرنے کو بے صبر تھا۔
“لیو میییییی۔۔۔۔۔” ارحام پورے جوش سے چلاتا ان کے گرفت سے خود کو آزاد کروانے دوستوں کو مارنے لگا۔
“تالم چھوڑ۔۔۔۔۔ دماغ خراب ہے اس کا کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ چل یہاں سے۔۔۔۔۔” زارون اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ کچھ سمجھنے کی حالت میں نہیں تھا۔
اس نے زارون کو دھکہ مار کر پیچھے گرا دیا اور وہی سامنے سے ارحام بھی خود کو آزاد کروا چکا تھا۔ دونوں جانی دشمن بنے ایک دوسرے پر پھر سے ضرب لگاتے رہے۔ کون کتنا زخمی ہوگیا ہے۔ کہاں کہاں سے خون رسنے لگا ہے کسی کو ہوش نا تھا۔
کلاس روم سے مار دھاڑ کی آوازیں سنتے بہت سے پروفیسرز بھاگ کر وہاں آئے اور ان دونوں بپھرے شیروں کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔