77.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 21

(ماضی)
رانا ہاوس پر بھی اسی طرح کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ لیکن سیکیورٹی گارڈز نے بر وقت گیٹ بند کر دیا تھا جس سے وہ لوگ گھر کے اندر داخل ہونے سے بچ گئے۔
“کہاں منہ چھپائے بیٹھی ہے وہ مسز کرن۔۔۔۔۔۔ جو عورتوں کی مسیحا بنی پھرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ بہت بڑے بڑے الفاظ لکھ کر مردوں کے ظلموں کے خلاف آواز اٹھایا کرتی تھی۔۔۔۔ اب اپنے بیٹے کے کرتوت کن الفاظ میں بیان کریں گی۔۔۔۔۔ کیا اس لڑکی کے لیے آواز نہیں اٹھائے گی جس کی عزت ان کے اپنے بیٹے نے پامال کی ہے۔۔۔۔۔اب کیوں خاموش ہے وہ۔۔۔ ” رپورٹرز لائیو شو کرتے زور زور سے چلانے لگے۔
لاؤنج میں بیٹھی کرن سر پکڑے رونے لگی۔ ایک آدھ مرتبہ اس نے باہر جانا چاہا لیکن نور اسے روک لیا کرتی۔
“نہیں کرن۔۔۔۔۔ یہ وقت ان کے منہ لگنے کا نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس وقت ان کو ہماری عزت اچھالنے کا نیاء موقع مل گیا ہے۔۔۔۔۔ ابھی ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔۔۔۔۔” نور اس کے آنسو پونچھتی سمجھانے لگی۔
“پر ایسے چپ بھی تو نہیں رہ سکتے۔۔۔۔۔” کرن قائل نہ ہوئی۔
“رانا بھائی اور روحان آئیں گے تب مل کر کوئی راستہ نکالے گے۔۔۔۔۔۔۔پر تم ابھی باہر مت جاو۔۔۔۔” اس نے مضبوطی سے کرن کو اپنے حصار میں لیں لیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ہارٹ اٹیک ہوا تھا انہیں۔۔۔۔۔۔ اچھا کیا وقت رہتے لیں آئے۔۔۔۔” ڈاکٹر انہیں آگاہ کرتے ہوئے تیز تیز علاج کی پیش ضرورت ادویات لانے کی ہدایت دینے لگا۔
روحان اور ذیشان سے جب رانا صاحب کی طبیعت سنبھلی نہیں گئی تو انہیں فورا سے ہسپتال لیں آئیں تھے اور ڈاکٹر کے الفاظ سن کر وہ اپنے آپ کو سنبھالے رکھنے کی سکت نہیں کر پا رہے تھے۔
رانا صاحب I C U میں الگ الگ مشینوں سے جڑے آنکھیں موندھے لیٹے ہوئے تھے۔ وہ دنیا کو فتح کرنے کی طاقت رکھنے والا شخص آج باپ بن کر ٹوٹ گیا تھا۔ ان میں زندگی کی چاہ باقی نہ رہی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“نا رانا مبشر ہم سے بات کرنے کو آمادہ ہے اور نا مسز کرن۔۔۔۔۔ پورا رانا ہاوس چپی اختیار کر کے بیٹھا ہے۔۔۔۔۔ جو ارحام مبشر کے جرم کو سچ قرار دینے کو کافی ہے۔۔۔۔۔ کیمرہ مین کے ساتھ محمد رضوان abc نیوز اسلام آباد۔۔۔۔۔” ٹی وی پر چلتی نیوز دیکھ کر اس نوجوان کے لبوں پر فخریہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
“کام ہوگیا سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔” اس نے کال پر سرگوشی کی۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔۔ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔۔۔۔۔ بہت اڑ رہے تھے یہ سارے رانا۔۔۔۔۔۔۔ اب انہیں دکھاتی ہوں۔۔۔۔۔۔ زاویہ شاہ کا پروپوزل ریجیکٹ کر کے کتنا بڑا خطرہ مول لے لیا ہے ان لوگوں نے۔۔۔۔۔۔۔” دوسری جانب کال پر موجود زاویہ شاہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
“میں نے کہا تھا نا پاپا۔۔۔۔۔ یہ میٹر آپ مجھے سونپ دیں۔۔۔۔۔ اسے میں اپنے طریقے سے ہینڈل کرتی ہوں۔۔۔۔ بہت جلد آپ کے دشمن خاک میں مل جائے گے۔۔۔۔۔” زاویہ شاہ نے فخریہ انداز میں تیمور شاہ کو مخاطب کیا۔
“یہ آپ نے تیمور شاہ کی بیٹی جیسی بات کر دی۔۔۔۔۔ ہمیں آپ پر ناز ہے۔۔۔۔۔۔” پاپا نے زاویہ کا کندھا تھپتھپایا اور گال سے گال ملاتے اسے سراہا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
روحان اور ذیش نے رانا صاحب کے ہارٹ اٹیک کے متعلق گھر پر کسی کو نہیں بتایا۔ شام گئے تک جب وہ تینوں گھر نا پہنچنے تو نور نے فکرمند ہوتے روحان کو کال ملائی۔
“رانا بھائی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔۔۔۔ ابھی وہ خطرے سے باہر ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن انڈر آبزرویشن رہیں گے۔۔۔۔۔ تم کرن اور عائرہ کو فلحال کچھ مت بتانا۔۔۔۔ وہ بہت پریشان ہوجائیں گی۔۔۔۔۔ ذیش تھوڑی دیر تک گھر آجائے گا۔۔۔۔۔ میں رانا بھائی کے پاس ہی رکوں گا۔۔۔۔” روحان نے ہدایت دی۔
رانا صاحب کے بابت جان کر نور آبدیدہ ہوگئی تھی لیکن دروازے پر عائرہ کو نمودار ہوتے دیکھا تو اپنے آنسو چھپا لیئے۔
“تھوڑی دیر تک آجائے گے۔۔۔۔ تم فکر مت کرو۔۔۔۔۔۔ وہ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔” نور نے عائرہ کو گلے لگا کر تسلی دی۔
یہ معاملہ صرف رانا ہاوس تک ہی محدود نا رہا تھا۔ زینب اور اس کا سسرال بھی اس کے ضد میں آگئے تھے۔
“کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔۔۔ آج دیر ہوگئی آنے میں۔۔۔۔” امی جان نے تھکے ماندے ابتہاج اور زینب کو گھر کے اندر داخل ہوتے دیکھ کر استفسار کیا۔
زینب شادی کے بعد بھی ماسٹرز مکمل کرنے ابتہاج کے ہمراہ یونیورسٹی جایا کرتی تھی۔
“کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ کچھ میڈیا والوں نے روک لیا تھا۔۔۔۔۔ ارحام کے متعلق سوال کرنے لگے تھے۔۔۔۔” ابتہاج ابو جان کے ساتھ صوفے پر بیٹھا۔
زینب کو نا چاہتے ہوئے بھی اپنا آپ قصوروار لگنے لگا۔ وہ خاموشی سے کمرے میں چلی گئی۔
“تم اب یونیورسٹی نہیں جاو گی۔۔۔۔۔” اگلے دن زینب یونیورسٹی کے لیے تیار ہورہی تھی جب ابتہاج نے قدرے سختی سے تنبیہہ کیا۔
“پر آخری سمسٹر ہے۔۔۔۔ مس کر دیا تو پورے دو سالوں کی محنت ضائع ہوجائے گی۔۔۔۔۔ ” زینب کو دکھ ہونے لگا۔
“میں کلاس سٹوڈنٹس سے نوٹس لیں آیا کروں گا۔۔۔۔۔۔ گھر بیٹھ کر ہی پڑھ لینا۔۔۔۔۔” یہ کہتے وہ اپنا والٹ اور موبائل اٹھائے کمرے سے باہر نکل گیا اور زینب اداس سی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بات یہی نہیں تھمی تھی۔ گھر میں امی جان کا اور ابتسام کا رویہ بھی اس کے ساتھ بدلنے لگا تھا۔ ابستام تو غصہ ظاہر کرنے ہوسٹل شفٹ ہوگیا اور امی جان اسے کھری کوٹی سنا کر اپنی دلی کیفیت کا اظہار کرتی۔
“توبہ توبہ اب تو گھر سے نکلنا بھی محال ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔” امی جان گھر لوٹتے بلند آواز گویا ہوگئی۔
“کیا ہوگیا بیگم۔۔۔۔۔” حسین صاحب نے آنکھوں پر سے گلاسس ہٹا کر انہیں دیکھا۔
زینب کچن میں رات کے کھانے کا اہتمام کرنے لگی تھی۔ وہ لب مینچھے ان کی گفتگو سن کر بھی ان سنی کر رہی تھی۔
“اب تو محلے میں بھی نکلنا عذاب ہے۔۔۔۔۔۔ کبھی میڈیا رپورٹرز گھیر لیتے ہیں تو کبھی محلے کی عورتیں۔۔۔” انہوں نے منہ بھسورتے ہوئے کہا۔
“جلد بازی کر دی آپ نے ابتہاج کے لیے لڑکی پسند کرنے میں۔۔۔۔ ایک مرتبہ اچھے سے پوچھ لیتے خاندان کے بارے میں۔۔۔۔۔” وہ سینے پر ہاتھ باندھے ہونہہ کر گئی۔
“آہستہ بولو کچن میں ہے۔۔۔۔۔ سن لیں گی۔۔۔۔ اور اس سب میں زینب کا کیا قصور۔۔۔۔۔ نقصان تو اسے بھی ہورہا ہے۔۔۔۔ ابتہاج نے اس کے یونیورسٹی جانے پر پابندی تک لگا دی ہے۔۔۔۔ ہر دوسرے دن تم کوئی نا کوئی خبر لا رہی ہوتی ہو۔۔۔۔ اسکا تو گھر سے نکلنا بند ہوگیا ہے۔۔۔۔ اور گھر میں جینا عذاب۔۔۔۔” حسین صاحب نے دھیمی آواز میں کہا۔
امی جان خاموش ہوگئی تھی۔ زینب اپنے آپ کو کمپوز کرتی کمرے میں آگئی۔ لیکن کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کا ضبط جواب دے گیا اور وہ دروازے کے پر سر ٹکا کر رونے لگی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کئی دنوں تک عائرہ کو اپنے میڈیکل کالج جاتے آتے ازان حیدر خان کا ڈر لگا رہتا تھا۔
اس کا کئی دفعہ سفیان کو گھر کے حالات سے با خبر کے کا دل کرتا مگر پھر اس کی مصروفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے خاموش ہوجاتی۔
“آج میرا انداز بہت پسند آیا جج صاحبان کو۔۔۔۔۔ میں نے انگلش لاءیر کی بولتی بند کر دی تھی۔۔۔۔۔ اور پتہ ہے۔۔۔۔” اس کی دس دن بعد اس سے کال پر بات ہورہی تھی اور سفیان دن بھر کی رو داد سناتے سناتے چپ ہوگیا۔
“کیا بات ہے جان۔۔۔۔۔ تم اتنی چپ چپ کیوں ہو۔۔۔۔۔ گھر پر سب خیریت ہے نا۔۔۔۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔۔” سفیان نے عائرہ کے مسلسل خاموشی پر استفسار کیا۔
“ہاں۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ اور مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔۔۔ وہ بس۔۔۔۔ پڑھائی کی ٹینشن زیادہ ہے۔۔۔۔۔ تم تو جانتے ہو ڈاکٹر بننا اتنا آسان تھوڑی ہے۔۔۔۔” عائرہ نے ہنستے ہوئے بات کا پہلو بدل دیا۔
“آسان تو کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ لیکن اس اسٹیج کی محنت آگے بہت کام آتی ہے۔۔۔۔” کچھ دیر پڑھائی کے متعلق بات کر کے عائرہ نے کال کاٹ دی۔
چونکہ گھر میں سے کسی نے سفیان کو حالات سے آشنا نہیں کیا تھا اس لیے عائرہ بھی اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
سفیان دن میں لاء کالج ہوتا شام کو عدالت چلا جاتا اور رات کو آکر سوجاتا اس لیے بذات خود اسے نیوز دیکھنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“میری مانو تو اس لڑکی کو رخصت کرو۔۔۔۔۔ ارےےے ابتہاج ابھی جوان ہے۔۔۔۔۔ دوسری شادی کروا دینگے۔۔۔۔۔” ایک ہمسایہ نے حورین خانم کو تجویز دی۔
“اور نہیں تو کیا۔۔۔۔ ابھی آپ نے ابستام کی بھی کروانی ہے۔۔۔۔۔ جب تک یہ مسئلہ بنا رہے گا کون دے گا اسے اپنی لڑکی۔۔۔۔” دوسری نے اپنے حصے کا اضافہ کیا۔ حورین خانم محض سر ہلاتی رہ گئی تھی۔
“امی جان پلیزز۔۔۔۔۔۔ آپ کیوں ان عورتوں کی باتوں میں آرہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ” شام کو جب امی جان نے ابتہاج سے اس معاملے میں بات کی تو وہ چڑ گیا۔
“ایک دفعہ سوچ لو۔۔۔۔ کتنی بدنامی ہورہی ہے۔۔۔۔۔ میں تمہارے لیے اس سے بھی زیادہ خوبصورت اور قابل لڑکی ڈھونڈوں گی۔۔۔۔۔” انہوں نے جذباتی ہوتے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔ وہ جانتی تھی ابتہاج ان کا بہت فرمانبردار ہے۔
“بیگم یہ آپ۔۔۔۔۔” حسین صاحب نے مداخلت کی لیکن حورین خانم نے انہیں خاموش کرا دیا۔
” میں حالات سے گھبرانے والوں میں سے نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ میں ایسے مسائل سے ڈر کر زینب کو نہیں چھوڑنے والا۔۔۔۔۔ آپ اپنی خوبصورت اور قابل لڑکی ڈھونڈنے کی خواہش شوق سے پورا کریں لیکن میرے لیے نہیں۔۔۔۔۔ ابتسام کے لیے۔۔۔۔۔” ابتہاج ہاتھ اٹھا کر اپنا فیصلہ سنا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
زینب گھر میں چل رہے بحث سے بخوبی واقف تھی۔ وہ جانتی تھی امی جان اگر اسے گھر سے نکالنے میں کامیاب نہ ہوسکی تو کم سے کم ابتہاج کی دوسری شادی تو لازمی کروا کر دم لیں گی۔
وہ کمرے میں آئی تو ابتہاج آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا سونے کی اداکاری کر رہا تھا۔ وہ زینب کے شکوہ کن نظروں کو نظر انداز کئے ہوئے تھا۔
“مجھے پتہ ہے آپ اٹھے ہوئے ہو۔۔۔۔۔”زینب نے دل گرفتہ ہوتے اس کا بازو ہٹایا۔
“آپ امی جان کی بات مان لیں۔۔۔۔ کر لیں دوسری شادی۔۔۔۔۔ ” اس نے دل پر پتھر رک کر تجویز دی۔ ابتہاج مسکراتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
“تم دنیا کی پہلی عورت ہو جو شوہر کے انکار کے باوجود اسے دوسری شادی کی اجازت دے رہی ہو۔۔۔” اس نے زینب کا مرجھایا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔
“تم فکر مت کرو۔۔۔۔ میں سوسائٹی کی باتوں میں آکر یا امی جان کے بہکاوے میں آکر تمہیں نہیں چھوڑنے والا۔۔۔۔۔ ہمارا رشتہ اتنا کمزور نہیں ہے جو ایسے چھوٹے مشکلات سے ٹوٹ جائے۔۔۔۔۔” اس نے زینب کے پیشانی پر بوسہ دیتے یقین دہانی کروائی۔
زینب نے آنکھیں بند کر کے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ اسے نیک مردوں میں سے ایک دیا گیا تھا اور وہ اس نعمت کی تہہ دل سے شکر گزار تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دانین کو سسرال میں ایک ہفتہ ہوگیا تھا۔ وہ ارحام نام کی تلخ یادیں اپنے من سے مٹا کر سلمان کے ساتھ ازدواجی زندگی میں بس چکی تھی۔ اب وہی اس کی دنیا تھا۔
سلمان اس کے توقعات کے بر عکس بہت اچھا تھا۔ اس کا بہت خیال بھی رکھتا تھا۔
کسی بھی انسان کے لیے سب سے اہم ہوتی ہے عزت اور قدر۔ جو سلمان، دانین کو دے رہا تھا اس لیے اس کے دل میں بھی سلمان کے لیے احساسات بننے لگے۔
“کیسے کیسے لوگ ہے اس دنیا میں۔۔۔۔۔” اس شام سلمان موبائل میں نیوز دیکھ رہا تھا جب اس نے افسوس کرتے تبصرہ کیا۔
“کس کی نیوز ہے۔۔۔۔” دانین نے اس کے آگے چائے کے لوازمات سجاتے ہوئے پوچھا۔
“کوئی ٹین ایج لڑکا ہے۔۔۔۔ ارحام مبشر۔۔۔۔۔ کسی لڑکی کا ریپ کر کے فرار ہوا ہے۔۔۔۔۔ کافی دنوں سے یہ نیوز ہیڈ لائین بنی ہے۔۔۔۔۔” سلمان نے نفرت ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
وہی دانین کا رنگ فق سے اڑ گیا تھا۔ وہ بے حس ہونے لگی۔ اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ فرش پر گر کر بکھر گیا۔
“سوری۔۔۔۔۔ میں دوسری بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔۔” وہ کانپتے ہوئے پلٹ کر کچن میں بھاگ گئی اور سلمان حیران پریشان اسے دیکھتا رہ گیا۔
حیدر خان کے گھر پھر سے طوفان برپا ہوچکا تھا۔ سب ہی اس نیوز پر شاک تھے۔ اس دن ازان حیدر خان بابا کے علم میں لائے بغیر رانا ایمپائر پہنچا۔ چند دنوں سے ذیشان پر گھر کی اور آفس کی ذمہ داریاں بڑھ گئی تھی ۔ بڑے پاپا کو ریسٹ پر رکھا گیا تھا اور روحان اکثر ان کے پاس رہا کرتا تھا۔
“میں تمہاری حالت اچھے سے سمجھ سکتا ہے۔۔۔۔۔ پر تم میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو ازان۔۔۔۔۔۔ ابھی بات صرف رانا فیملی پر ہے۔۔۔۔۔ انگلیاں ارحام کے کریکٹر پر اٹھائی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔ ہم تو اس پریشانی سے دو چار ہے ہی۔۔۔۔ اور یہ جھوٹی خبر پھیلانے والے نے ایک نیکی یہ کر دی ہے کہ لڑکی اور اس کی فیملی کو ایکسپوز نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔ مگر اب تم سامنے آئے تو میڈیا تمہارے گھر تک پہنچ جائیں گے اور ہوسکتا ہے دانین کو میڈیا کے سامنے لانے کے لیے آپ سب پر دباو ڈالیں۔۔۔۔۔۔ اس طرح یہ کیس مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔۔۔۔۔ ” ذیشان اور ازان آمنے سامنے آفس کیبن کے سیٹ پر تشریف فرما تھے اور ذیشان نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“پہلے ہی تمہاری کی بہن کی لائف اتنی تکالیف سے گھری ہے۔۔۔۔۔۔ کیا تم اب اس کی شادی شدہ زندگی بھی خراب کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ دانین اور آپ سب کا کہی بھی نام نہیں آئے گا۔۔۔۔۔ پر اس کے لیے مجھے تمہارے تعاون کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ اس وقت تم کوئی ایکشن مت لو۔۔۔۔۔ اور ہوسکے تو اپنی فیملی کو لیں کر کچھ عرصہ پیشاور چلے جاو۔۔۔۔۔” اس نے ازان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسکین دلائی۔
ازان کو اس وقت دانین کے مستقبل کی فکر ہونے لگی وہ اپنے غیرت کے نام پر اس کی کمری میں شادی کرا کر پہلے ہی اسے زندگی کو پیچیدگیوں میں مبتلا کر چکا تھا اس لیے وہ ذیشان کا مشورہ مان گیا۔
“بابا۔۔۔۔۔۔ وہ نیوز۔۔۔۔۔” اگلے شام حیدر خان اور فیملی اپنے پیشاور کے گھر آگئے تھے۔ دانین اور سلمان ان سے ملنے آئے تھے جب دانین نے سلمان کو ازان کے ساتھ مصروف پا کر پاپا کو مخاطب کیا۔
“رانا فیملی نے یقین دلایا ہے کہ تمہارا کہی بھی نام نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔۔” حیدر خان نے دانین کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ دانین پھیکا مسکرا دی۔
دانین گھر آکر بھی مضطرب رہی۔ دن بھر سوچ بچار کر کے اس نے سلمان کو سچائی بتانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جھوٹ کی بنیاد پر رشتہ قائم رکھنے کے بجائے سچائی کی سولی پر ہلاق ہونا بہتر سمجھا۔
رات کو سلمان کمرے میں آیا تو دانین کھڑکی کے پاس گم سم کھڑی تھی۔ وہ ڈریسنگ روم میں گیا اور چینج کر کے آیا تب بھی دانین کو وہی کھڑے پایا۔
“کیا بات ہے۔۔۔۔ یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔۔۔۔” اس نے اسے کندھوں سے تھام کر رخ اپنے جانب کیا۔
“مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔۔۔۔” اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہنا شروع کیا اور کالج کے پہلے دن سے لیں کر ارحام کے ہاتھوں اغوا ہونے تک کی ساری داستان سنا دی۔
سلمان کا حیرت سے منہ کھل گیا تھا۔ دانین کے کندھوں پر سے اس کے ہاتھ چھوٹ کر پہلو میں جا گرے تھے۔ مرد چاہے کسی بھی طبقے یا ذات سے تعلق رکھنے والا ہو اپنی بیوی کا نام کسی اور کے ساتھ اسے گوارا نہیں ہوتا۔ سلمان کی بھی یہی کیفیت تھی۔ وہ بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گیا اور دانین بے دم سی فرش پر بیٹھ گئی۔
صحن میں چارپائی پر لیٹے سلمان لمبا سانس لیتے خود کو کمپوز کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ دانین کے پاک دامنی کا اس سے بہتر کون جانتا تھا لیکن اس کا ماضی اپنانے میں اسے وقت درکار تھا اور اس دوران وہ دانین کا سامنا کرنے سے گریزاں تھا۔
ایک ہفتے تک ان دونوں کے بیچ اختلافات بنے رہے حتہ کہ وہ دانین کے ہاتھ سے پانی بھی نہ پیتا۔ صبح فجر کے ساتھ ہی وہ کام پر جاتا اور رات دیر گئے آکر صحن کی چارپائی پر سوجاتا۔ دانین اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے کافی دیر دیکھتی رہتی جب اسے یقین ہوجاتا کہ سلمان گہری نیند سوچکا ہے تو وہ باہر آکر اس پر کمفرٹر ڈالے اور چارپائی کے پاس مچھر مار کوئل جلا کر اس کے آرام کے انتظامات سے مطئمن ہو کر خالی کمرے میں آجاتی۔
اس رات پیشاور شہر کو کالے بادلوں نے اپنے لپیٹ میں لیں لیا تھا اور مغرب ہوتے ہی موسلادار بارش کی شروعات ہوگئی جو رات بھر برستی رہی۔
“مجھ سے بات کریں۔۔۔۔۔ چاہے مجھے ڈانٹ دیں مجھ سے شکایت کریں۔۔۔۔۔ پر آپ کی یوں بے رخی مجھے تکلیف دیتی ہے۔۔۔۔۔ خاموش مت رہے۔۔۔۔۔ اکیلے خود کو اذیت مت دیں۔۔۔۔۔ کچھ تو کہے۔۔۔۔ ” بارش کے باعث سلمان اس رات کمرے میں ٹھہرنے پر مجبور تھا۔ دانین کا ضبط ڈگمگا گیا تو اس نے سلمان کو بازو سے تھام کر جھنجوڑا۔
“مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے۔۔۔۔ بلکہ سچائی بتا کر تم نے مجھ سے وفاداری نبھائی ہے۔۔۔۔۔” اس نے ہموار لہجے میں جواب دیا۔ دانین ساکن ہوگئی تھی۔
“میں نے اس بارے میں بہت سوچا۔۔۔۔۔ تم نے اچھا کیا مجھے خود سب کچھ بتا کر۔۔۔ کیونکہ اگر مجھے یہ بات کل کو کسی تیسرے سے معلوم پڑتی تب میں برداشت نہیں کر پاتا۔۔۔۔۔” سپاٹ انداز میں کہتے وہ رخ پھیر گیا۔
“جانتی ہو۔۔۔۔ قبیلے میں مجھ سے اور میرے خاندان سے یہ بات راز رکھنے پر تمہیں اور تمہارے خاندان کو کیا سزا مل سکتی ہے۔۔۔۔” وہ ہاتھ پیچھے باندھے دو قدم آگے ہوا۔ دانین اپنی جگہ ساکت رہی۔
“لیکن غیرت صرف عورت کو قتل کرنے یا اس کے خاندان کو نا اہل کرنے میں نہیں ہے۔۔۔۔۔ غیرت اور مردانگی تو عورت کی غلطی معاف کر کے اسے اپنانے میں ہے۔۔۔۔۔ تم سے نادانی میں ایک بھول ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ اور اس کی سب سے بڑی سزا بھی تمہیں ملی۔۔۔۔” سلمان مڑا اور ترحم آمیز نگاہوں سے دانین کو دیکھنے لگا۔
“سچائی کو اولین ترجیح دے کر تم میرے نظروں میں مزید معتبر ہوگئی ہو مسز خان۔۔۔۔۔ اور میں چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ تمہارا یہ راز کبھی اس کمرے کی چار دیواری سے باہر نہ جائے۔۔۔۔” اس نے قدرے سختی سے تنبیہہ کرتے ہوئے دانین کو گھورا۔
“خان مجھے اپنے قدموں کی خاک بنا لو۔۔۔۔۔ آپ سے بڑھ کر مجھے کوئی نہیں جانا ہے۔۔۔۔۔ آپ کے علاوہ مجھے سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے کبھی مت چھوڑنا۔۔۔۔ میں صرف آپ کی ہوں خان۔۔۔۔ ” دانین گھنٹوں کے بل سلمان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ وہ اسے پیار سے خان بلایا کرتی تھی اور اس کے زبانی اپنے لیے یہ لقب سن کر سلمان کو اپنا آپ بہت خاص لگتا تھا۔
دانین اپنے قبیلے کے قوانین سے اچھے سے واقف تھی۔ نا جانے کتنی ہی ایسی لڑکیاں غیرت کے نام پر قتل ہوچکی تھی۔ اللہ نے اس دن اس کی عزت بچا لی تھی تو آج سلمان نے اسے نئی زندگی دی تھی۔ وہ غیرت اور مردانگی کی نئی مثال ثابت ہوا تھا۔ اس نے جھک کر روتی دانین کو اپنے قدموں سے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ اس کے سینے سے لگی دانین نے عقیدت سے اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ذیشان کو بزنس میں بہت نقصان ہوگیا تھا۔ جس انٹرنیشنل کمپنی کے ساتھ وہ ڈیل کر رہا تھا اس سکینڈل کے چلتے انہوں نے اپنا کانٹریکٹ منسوخ کر دیا تھا۔ وہ پریشان کن تاثرات بنائے گھر میں داخل ہوا کہ ٹھٹک گیا۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔” وہ تیزی سے آگے آیا اور نور کے ساتھ صوفے پر بیٹھی زاویہ شاہ کا بازو دبوچ لیا۔
“رانا بھائی کا پوچھنے آئی ہے۔۔۔۔” نور نے وضاحت دیتے ذیش کو آنکھیں دکھائی ۔
“پوچھنے آئی ہے یا زخموں پر نمک چھڑکنے آئی ہے۔۔۔۔۔” وہ تندی سے اسے گھور رہا تھا۔
“دیکھا ممی یہ ہر وقت مجھ سے ایسے پیش آتا ہے۔۔۔۔۔” زاویہ ادائیں دکھاتی معصومیت سے نور سے مخاطب ہوئی۔
“تم تو انہیں ممی مت ہی بلاوں۔۔۔۔”ذیش کو طیش آنے لگا۔
“ذیش چھوڑو اسے۔۔۔۔۔ گھر آئے مہمان رحمت ہوتے ہیں۔۔۔۔ یہ اس وقت ہماری مہمان ہے۔۔۔۔۔” نور نے زاویہ کا بازو چھڑایا۔
“یہ رحمت نہیں عذاب ہے جو مجھ پر نازل ہوئی ہے۔۔۔۔۔” وہ ہونہہ کرتے رہ گیا۔
“میری مام اس دنیا میں نہیں ہے۔۔۔۔ میں آپ کو ممی بلا لیا کروں پلیززز۔۔۔۔۔” اپنا بازو سہلاتی اس نے نور کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے پوچھا۔
“بلکل۔۔۔۔ تم بیٹھو۔۔۔۔ میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔” نور اس کا ہاتھ تھپتھپا کر کچن کے جانب بڑھ گئی۔
“اتنا غصہ۔۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔۔ انٹرنیشنل کلائنٹ نے منہ پھیر لیا۔۔۔۔ چچ چچ۔۔۔۔۔۔۔” نور کے جاتے ہی زاویہ اپنے اصل انداز میں آگئی وہ ذیشان کے قریب گئی اور اس کے گردن کے گرد بازو مائل کر کے سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔ ذیشان کی مہک اس کی سحر انگیز شخصیت زاویہ کے سر چڑھنے لگی وہ غور سے اسکے چہرے کا طواف کرتی اس کے مغرور نین نقش کو دل میں اتارنے لگی۔
“تم اس سکینڈل کو ٹارگٹ بنا کر جو میری فیملی کے ساتھ کھیل رہی ہو۔۔۔۔۔ میں تمہیں جیتنے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔” اس نے سرد مہری سے جواب دیا۔ زاویہ کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ ذیشان اب تک جان نہیں سکا تھا کہ یہ سکینڈل بنایا بھی خود زاویہ شاہ نے ہے۔
“تم چاہو۔۔۔۔۔ تو میں سب نارمل کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔ انٹرنیشنل ڈیل بھی تمہیں واپس مل جائے گی۔۔۔۔۔ بس تم میرے ہوجاو۔۔۔۔” وہ مخمور انداز میں سرگوشی کرتے اس کے چہرے کے قریب ہوگئی۔ اس کی سانسوں کی تپش ذیشان کو اپنے چہرے پر محسوس ہونے لگی تھی۔
“تھینکیو۔۔۔ پر مجھے تمہاری یہ جھوٹی ہمدردی نہیں چاہیئے۔۔۔۔۔۔” کہتے ساتھ ذیش نے زاویہ کو خود سے دور کیا اور لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
“ایک دن تمہیں ہار ماننی پڑے گی رانا ذیشان۔۔۔۔ کیونکہ زاویہ شاہ کو ریجیکشن پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔” اس کی پشت دیکھتی اس نے دل میں سوچا
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دس دن زیر اعلاج رہ کر رانا صاحب بہتر ہونے لگے۔ اس دن وہ سب اسی بابت اکھٹا ہوئے تھے۔ زینب بھی رانا ہاوس میں موجود تھی جب روحان نے بات چھیڑی۔
“مجھے کسی کو کوئی صفائی نہیں دینی۔۔۔۔۔۔ نا میڈیا کو نا پولیس کو۔۔۔۔۔۔۔ حتہ کہ گھر میں بھی کسی کو حق نہیں مجھ سے اس بارے میں سوال پوچھنے یا تبصرہ کرنے کا۔۔۔۔۔۔ جسے نقصان ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔ بے عزتی لگتی ہے وہ شوق سے چلا جائے۔۔۔۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ یہ میری آزمائش ہے میں اکیلے گزار لوں گا۔۔۔۔۔۔ جو نہیں رہ سکتا وہ گھر چھوڑ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پر مجھے دوبارہ کسی میڈیا یا پولیس سے بات کرنے کا نہ کہا جائے۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے رعب دار آواز میں سختی سے تنبیہہ کیا۔
روحان کے آبرو تن گئے۔ یہ اشارہ اس کے اور ذیشان کے جانب تھا۔ کرن نے بے یقینی سے رخ موڑے رانا صاحب کو دیکھا۔ وہ اتنے بے حس تو نا تھے کہ روحان سے ایسے پیش آئے۔
روحان اپنے باپ جیسے بڑے بھائی کو پلٹ کر جواب دینے سے گریزاں تھا اس لیے لب مینچھے لمبے ڈگ بھرتا رانا ہاوس سے باہر نکل گیا۔ نور اسے پکارتی اس کے پیچھے چلی گئی۔ ذیشان اور زینب میں پریشان کن نظروں کا تبادلہ ہوا۔ پھر ایک ایک کر کے وہ بھی گھر سے نکل گئے۔
کرن نے شکوہ کن انداز میں سر جھٹکا لیکن رانا صاحب اس کے سوالات سے بچنے پھرتی سے اپنے کمرے کے جانب بڑھ گئے تھے۔ عائرہ یونیورسٹی سے گھر لوٹی تو دیکھا اس کا ہنستا بستا گھرانہ ایک اور طوفان کے زد میں آچکا تھا۔
“پاپا۔۔۔۔۔۔ بڑے پاپا تو ٹینشن میں ہے۔۔۔۔۔ پھر ابھی ابھی اتنے سیریس کنڈیشن سے گزرے ہیں۔۔۔۔۔ غصے میں کہہ دیا۔۔۔۔۔ اور آپ سچ میں گھر سے نکل گئے۔۔۔۔۔۔ آپ انہیں اس حال میں اکیلے کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔۔۔” ذیشان نے شکوہ ظاہر کیا۔
وہ فیملی اس وقت روحان کے کمرے کے باہری بالکونی میں بیٹھے تھے۔ زینب پاپا کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔ ذیشان کمر پر ہاتھ رکھے دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔
“میں جانتا ہوں۔۔۔۔ رانا بھائی نے مجھے اور میرے بچوں کو ان سب سے دور کرنے یہ فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔ وہ بھی نہیں چاہتے۔۔۔۔ اور میں بھی نہیں چاہتا میرے بچوں کی زندگیاں متاثر ہو۔۔۔۔۔ تمہیں اتنا بڑا لاس ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ زینب کی شادی خطرے میں پڑ گئی تھی۔۔۔۔ کل کو سفیان واپس آئے گا۔۔۔۔ اس کا تو کیرئر سٹارٹ ہونے سے پہلے ہی برباد ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔” روحان مستقبل کے خدشات سوچ کر نفی میں سر ہلانے لگا۔
“زندگی کا ہر امتحان ذہانت اور محنت سے پاس نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔ بعض امتحانوں میں قسمت کے علاوہ کوئی چیز درکار نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ اور یہ امتحان ہمیں قسمت کے حوالے چھوڑنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔” روحان لمبی سانس لیتے کھڑا ہوگیا اور کسی کو کال ملانے لگا۔
زندگی ماں باپ کے لیے آسان نہیں ہوتی۔ وہ بہت سارے محاذوں پر ایک ساتھ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ روحان اپنے بچوں کے لیے رانا بھائی سے الگ ہونے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
اس نے آرکیٹکٹ کو بلا کر رانا ہاوس کا نیاء نقشہ تیار کروایا اور دیکھتے دیکھتے اس سنگ مر مر کے بنگلے میں دیوار بن گئی۔ روحان کا حصہ رانا صاحب کے حصے سے الگ ہوگیا۔ کچھ مزید تبدیلوں کے وجہ سے اس نے اپنے بالکونی کے خالی حصہ میں سفیان اور ذیشان کا نیاء کمرا تیار کروایا اور رانا صاحب کے حصے سے منتقل ہو گیا۔
ذیشان کو یہ بٹوارا کبھی منظور نہیں تھا۔ وہ باقی کے اوقات رانا صاحب کے پاس ہی رہتا صرف رات کو اپنے حصے میں چلا جایا کرتا۔ نور اور کرن ایک مرتبہ پھر قسمت کے ہاتھوں الگ ہوگئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کبھی کبھی ایسی حالت ہوجایا کرتی ہے کہ نا خوش ہونے کو دل کرتا ہے نا اداس ہونے کو۔ نا گلہ شکوہ کرنے کو اور نا ہی ناراضگی ظاہر کرنے اور محبت لینے کو۔ دل بس تنہائی اور سکون چاہتا ہے۔ کرن بھی اسی موڑ پر آگئی تھی۔ ارحام نے نا صرف کرن اور رانا صاحب کو دور کر دیا تھا بلکہ رانا ہاوس میں بھی درار ڈال دی تھی۔
ایک سال کی پریکٹس اپنے ذہانت سے آٹھ ماہ میں پورا کر کے سفیان سب کو سرپرائز دینے بنا بتائے اسلام آباد واپس آیا مگر در پیش حالات دیکھ کر خود ہی سرپرائز ہوگیا۔ رانا ہاوس کے گیٹ تک آکر اس کے قدم جم گئے۔ اسی اثنا ذیشان سوٹ بوٹ میں تیار آفس کے لیے نکل رہا تھا اور سفیان کو دیکھ کر شاک ہوگیا۔
“سفیان۔۔۔۔۔ کیسے ہو۔۔۔۔۔ کب آئے۔۔۔۔” ذیشان نے اسے آغوش گھیر کرتے حال احوال دریافت کیا۔
“یہ سب کیا ہوگیا ہے ذیش۔۔۔۔۔” وہ اس سنگ مر مر کے بنگلے کو دو حصوں میں تقسیم دیکھ کر جذباتی ہونے لگا۔ ذیشان اسے کندھوں سے تھامے اپنے ساتھ آفس لیں گیا اور من و عن چند ماہ میں ہوئے سارے واقعات سے اسے با خبر کیا۔ سفیان نے کرب سے آنکھیں میچھ لی تھی۔
“پاپا۔۔۔۔۔۔ اب عائرہ اور سفیان کے رشتے کا کیا بنے گا۔۔۔۔۔۔ ” زینب نے استفسار کیا۔
“ابھی کچھ وقت ہے سفیان کے لوٹنے میں۔۔۔۔۔ دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ آئے گا تب سوچے گے۔۔۔۔۔” روحان نے بے پرواہی سے جواب دیا۔
سفیان کے واپسی سے بے خبر جب نور زینب اور روحان نے دروازے کے جانب دیکھا تو ذیشان کے سفیان کو دیکھ کر ٹھٹک گئے۔ نور اٹھ کر اس کے پاس گئی اور اسے خود سے لگا لیا۔ زینب بھی اچھے سے ملی۔ پاپا سے مل کر اس نے چند منٹ پہلے کی گفتگو دہرائی۔
“سفیان ہم تو بس سوچ رہے تھے کہ۔۔۔۔۔” نور نے روحان کی حمایت کرنا چاہی پر سفیان نے اسے ٹوک دیا۔
“سوچنا کیا ہے ممی۔۔۔۔۔۔ عائرہ میری بیوی ہے۔۔۔۔۔ نکاح ہوا ہے ہمارا۔۔۔۔۔ اسے چھوڑنے کا یا یہ رشتہ ختم کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا۔۔۔۔۔ آپ سب اس گھر سے لا تعلق ہوسکتے ہو۔۔۔۔۔ پر میں نہیں۔۔۔۔۔ بہتر ہے آپ سب بھی یہ سوچ اپنے دماغ سے نکال دیں۔۔۔۔۔” وہ تندی سے باری باری سب کو گھورتا باہر چلا گیا۔
دوسرے پورشن کے لاؤنج میں اس کا سامنا بڑے پاپا سے ہوا۔ ان سے مل کر وہ اوپر جانا چاہا پر رانا صاحب اس کے راستے میں کھڑے ہوگئے۔
“تمہارے کمرا شفٹ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔ ” رانا صاحب کو لگا وہ حالات سے نا واقف ہے۔
“میں عائرہ سے ملنے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔” اس نے سپاٹ انداز میں جواب دیا۔
“منع کروں تو۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے کی تیز نظریں اس پر ٹکی ہوئی تھی۔
سفیان نے لمبا سانس خارج کر کے سر جھٹکا۔
“عائرہ میرے نکاح میں ہے۔۔۔۔ میری منکوحہ ہے۔۔۔۔۔۔ دنیا کی کوئی طاقت۔۔۔۔۔۔ کوئی قانون مجھے اپنی بیوی سے ملنے سے نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔” وہ دبے دبے غصے سے کہتا ان کے پہلو سے گزر کر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر عائرہ کے کمرے میں داخل ہوگیا۔
عائرہ کتاب پر نظریں جمائے خیالوں میں گم تھی۔ دروازہ کھلنے پر سفیان کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر وہ خوشی سے چہک گئی اور اس کے پاس آکر سینے سے لگ گئی۔
“کیسی ہے میری جان۔۔۔۔” سفیان نے اس کے گرد بازو مائل کر کے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
عائرہ آنکھیں موندھے اتنے عرصے بعد اس لمس کو اس مہک کو محسوس کرتی آبدیدہ ہوگئی تھی۔
“تمہیں پتا ہے۔۔۔۔ یہاں کتنا کچھ ہوگیا ہے۔۔۔۔ وہ ارحام۔۔۔۔۔” عائرہ اسے حالات سے واقف کرنے لگی تھی پر سفیان نے اسے خود سے الگ کیا اور اور رخسار پر بہے آنسو صاف کئے۔
“مجھے سب پتا ہے۔۔۔۔ ذیش نے سب بتا دیا ہے۔۔۔۔۔ میں آگیا ہوں نا۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔۔” سفیان نے اس کے چہرے کے گرد ہاتھوں کا پیالہ بناتے اس کے پیشانی پر بوسہ دیا۔ عائرہ نے مسکرا کر سر کو خم دیا۔ سفیان کے آجانے سے اس کی کھوئی امید واپس جاگ گئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔