Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 17
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 17
ارحام ایک گھنٹے سے کمرے میں بند سموکنگ کرنے میں مگن تھا جب کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی ساتھ ہی کرن اسے پکارنے لگی۔
“اااففففف۔۔۔۔۔ مما کو بھی ابھی آنا تھا۔۔۔۔” وہ چڑ گیا۔
“دو منٹ مما۔۔۔۔۔” اس نے جوابی صدا لگائی اور تیز تیز خود کو سیٹ کرنے لگا۔
سیگریٹ کا آخری کش بھر کر اس نے بقیہ ایش ٹرے میں کچل دیا اور واش بیسن کے نیچے اپنے سیف خانے میں چھپا دیا۔ اپنے آپ پر باڈی سپرے کرکے اس نے منہ میں ریفریشنگ ببل گم ڈال دی اور کمرے میں ائیر سپرے کر دیا تا کہ کسی صورت کرن کو اس کی سموکنگ کی بھنک نا لگے۔
“کتنی دیر سے بلا رہی ہوں۔۔۔۔۔ چلو نیچے۔۔۔۔۔ عائرہ کی رشتے کی بات چل رہی ہے۔۔۔۔۔” کرن نے چہکتے ہوئے اسے خبر سنائی۔
“کس سے۔۔۔۔۔” ارحام کو شاک سا لگا۔
“ذیشان سے۔۔۔۔۔” کرن اس کا ہاتھ تھامے اسے ساتھ نیچے لے آئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائرہ سے مزید وہاں رکا نہیں گیا وہ خود کو کمپوز کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
سفیان کے پیروں میں حرکت شروع ہوئی وہ اس کے پیچھے اس کے کمرے میں در آیا اور تندی سے دیکھتے اس کا بازو جھڑپ کر اپنے جانب متوجہ کیا۔
“یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔۔۔ ہاں کیوں کر دی۔۔۔۔۔” وہ سارے لحاظ کو بالائے طاق رکھ کر اس پر برس پڑا۔
“مما اور ڈیڈ بہت خوش ہیں اس رشتے سے۔۔۔۔ میں انہیں مایوس نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔” عائرہ نے افسردہ انداز میں جواب دیا۔
“اور میرا کیا۔۔۔۔۔” سوال اب بھی درشتی سے ہوا۔
“شاید میرا اور تمہارا ساتھ یہی تک تھا۔۔۔۔۔۔” اس نے معذرت خواہاں انداز میں وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی۔
“میں بڑے پاپا سے بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔” سفیان کسی قیمت عائرہ کو کھونے کے فیور میں نہیں تھا۔
“تم ان سے کچھ نہیں کہو گے۔۔۔۔ وہ پہلے ہی ارحام کی وجہ سے بہت پریشان رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ میں انہیں اپنی وجہ سے کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی۔۔۔۔۔” عائرہ سہم گئی اس نے فورا سے سفیان کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا۔
“میں اپنے ڈیڈ سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔ ان کے لیے جان بھی دے سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔ محبت قربان کرنا کونسا مشکل ہے۔۔۔۔۔” اس نے سفیان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ وہ اس وقت سفیان کی محبوبہ نہیں بلکہ رانا مبشر کی بیٹی تھی۔
“ایسا مت کرو۔۔۔۔۔ بہت پرابلمس بن جائیں گی۔۔۔۔” سفیان نے مستقبل کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا۔ اس کی آواز شکستہ ہوگئی تھی۔
“میں فیصلہ سنا چکی ہوں۔۔۔۔۔۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔۔۔” عائرہ کا ضبط ٹوٹنے لگا۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔ وہ سفیان کا دل توڑنے پر اس سے معذرت کرنے لگی۔
“اوکے میں اپنے پاپا سے بات کرتا ہوں۔۔۔۔ وہ ضرور مان جائے گے۔۔۔۔۔” سفیان نے اسے قائل کرنے کی ایک اور کوشش کی۔
“پلیززز سفیان۔۔۔۔۔ ارحام کیا کم مصیبتیں لا رہا ہے اس گھر میں۔۔۔۔۔ جو تم اب ایک اور بنانے چلے ہو۔۔۔۔۔ تم کسی سے کچھ نہیں کہو گے تمہیں میری قسم ہے۔۔۔۔۔ اور اگر تم نے کوئی بھی سین بنایا تو یاد رکھنا میں تمہاری بھی نہیں ہوسکوں گی۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے میں اپنی جان دے دوں گی۔۔۔۔۔” عائرہ نے اسے اپنی قسم دے کر پابند کر دیا اور ساتھ ساتھ جان دینے کی دھمکی دی۔
“عائرہ۔۔۔۔۔۔” سفیان کی آواز بلند ہوگئی۔ وہ بے بسی سے اسے دیکھنے لگا۔ اپنے جنون کو قابو رکھنے کی کوشش کرتا وہ تیز تیز سانس لینے لگا اور عائرہ کے آنسو جاری ہوچکے تھے۔ وہ سر پکڑے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“ایسا مت کرو۔۔۔۔۔ میں مر جاوں گا۔۔۔۔۔ پلیزز عائرہ۔۔۔۔۔۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہی۔۔۔۔ میں ایک ہی گھر میں تمہیں اپنے بھائی کا ہوتے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔ ” سفیان کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔
“تمہیں کسی اور کے ساتھ سوچ کر بھی میرا دل دھڑک جاتا ہے۔۔۔۔۔ پھر تمہیں ذیش کا ہوتے دیکھنا۔۔۔۔۔ نہیں عائرہ۔۔۔۔۔ میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔ میں پاگل ہوجاوں گا۔۔۔۔ مجھ سے نہیں برداشت ہوگا۔۔۔۔۔ ” وہ 23 سالہ نوجوان اپنی ظالم محبوبہ کے قدموں میں بیٹھ کر رونے لگا یا یوں کہے اپنی محبت کی بھیک مانگنے لگا۔
عائرہ منہ پر ہاتھ رکھ دائیں سے بائیں سر ہلانے لگی۔ اس کے حلق سے کوئی آواز بھی نہ نکل سکی۔ اندر ہی اندر اس کی بھی کیفیت سفیان سے کم نہ تھی۔
“کتنا لاچار ہوگیا ہوں۔۔۔۔۔ تمہیں رلانے والے کی میں چمڑی ادھیڑ دیتا ہوں۔۔۔۔۔ اور آج دیکھو۔۔۔۔۔ تمہارے آنسوؤں کی وجہ میرے اپنے پاپا اور بڑے پاپا ہے۔۔۔۔” اس نے عائرہ کا آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھ کر بے بسی سے اس کے بیڈ پر ضرب ماری۔
“سفیان جاو یہاں سے۔۔۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔۔۔ پلیززز جاو۔۔۔۔۔” عائرہ اپنے رخسار صاف کرتی اٹھی اور سفیان کو کمرے سے نکالنے لگی۔
“عائرہ۔۔۔۔۔ مان جاو۔۔۔۔۔ ہم سب کو اپنے بارے میں بتا دیتے ہیں۔۔۔۔۔ اپنی قسم واپس لے لو۔۔۔۔۔ ” جاتے جاتے بھی سفیان اس سے منت کرتا رہا لیکن عائرہ نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے کمرے سے باہر کر کے دروازہ بند کر دیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اپنے کمرے میں آکر وہ زور زور سے چلانے لگا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دنیا کو آگ لگا دیں۔
روتے ہوئے اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ساری چیروں کو دھکیل کر فرش پر گرا دیا۔ اس کی ساری من پسند اور مہنگی ہرفیومز ٹوٹ کر چور چور ہوگئی۔
ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی ساری چیزوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنا کر وہ بیڈ کے جانب بڑھا۔ تکتے اور بیڈ شٹ سب اتھل پھتل کر دیے۔ سائیڈ ٹیبل پر اپنی فریم شدہ تصویر اٹھا کر اس نے پورے تاب سے دیوار پر دے ماری۔ فریم کا شیشہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔
کمرے میں موجود ہر چیز کو وہ ملیامیٹ کرنے پر تلا ہوا تھا صرف وہ ہی اسے متاع عزیز تھی۔ اس کی محبت۔ اس کی عائرہ مبشر۔
رو رو کر ہلکان ہو کر وہ وہی بکھرے حال میں لیٹا ویران آنکھوں سے چھت کو گھور رہا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس رات اور اگلی صبح سفیان کمرے سے باہر نہیں گیا۔ شام کے وقت نور اس کا پوچھنے کمرے میں داخل ہوئی کہ ٹھٹک گئی۔ سب چیریں ٹوٹی ہوئی بیڈ بکھرا ہوا اور سفیان خستہ حال چت لیٹا۔
“یہ کیا حال کر دیا ہے سفیان۔۔۔۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔۔ اور آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہورہی ہے۔۔۔۔۔ یہ سب اس منہوس مارے موبائل کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔۔بار ہا کہا ہے تمہیں رات کو اندھیرے میں موبائل مت یوز کیا کرو۔۔۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔۔ تم سنتے کہاں ہو میری۔۔۔۔۔” نور اپنے آپ سے اندازہ لگاتی گویا تھی۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔ میرے شیر کا منہ کیوں اترا ہے۔۔۔۔۔” نور جتنا اسے ڈانٹتی تھی اتنا اس سے لاڈ بھی کرتی تھی۔ اس سے اپنے چھوٹے بیٹے کو اداس دیکھا نہیں گیا۔
“کچھ نہیں ممی۔۔۔۔۔” سفیان نے رندھی ہوئی آواز میں کہہ کر آنکھیں بند کر لی۔ اس کے سر میں شدید درد ہورہا تھا۔
“یہ کمرے کا کیا حال کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔۔” نور کو اب واقعی اس کی فکر ہونے لگی۔
“ممی کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔ بس تھوڑا کام کو لیں کر پریشان تھا۔۔۔۔ ” سفیان کو ممی کی موجودگی کھٹکنے لگی۔ اس نے رخ دوسری جانب پھیر لیا۔
نور سر جھٹکتے ہوئے اٹھی اور فرش پر پڑا آدھا ٹوٹا ہوا فریم اٹھا کر واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔ سفیان کو شیشوں کی کرچیوں کی آواز آئی تو اٹھ بیٹھا۔
“ممی آپ چھوڑ دو میں ملازم سے صفائی کروا لوں گا۔۔۔۔۔” سفیان نے ممی کو کندھوں سے تھام کر سیدھا کیا اور انہیں کمرے سے باہر لیں جانے لگا۔ اسے ڈر تھا کہ ممی کو چھوٹ نہ لگ جائے۔
“آرام سے تمہیں لگ جائے گی۔۔۔۔” نور اس کے بے ترتیب چال پر پریشان ہونے لگی۔ لیکن سفیان نے اس کی سنے بغیر اسے اپنے کمرے سے نکال لیا اور ساتھ ملازم کو آواز لگا کر اپنے کمرے کی صفائی کرنے کی ہدایت دی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس دن کے بعد دانین دوبارہ کالج نہیں گئی۔ ارحام کا بھی جانا کم ہی ہوا کرتا تھا۔ تالم شاہ کو جب ارحام کی بیل کا معلوم ہوا تو وہ غصے سے آگ بگولا ہوگیا۔
“تو نہیں جانتا۔۔۔۔۔ تو نے کس سے پنگا لیں لیا ہے ارحام۔۔۔۔۔۔ اس بار تو بچ گیا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اگلی دفعہ میرے ہاتھوں نہیں بچے گا۔۔۔۔۔” تالم شاہ نے دانت پیستے ہوئے حقارت سے سوچا۔
اس شام ارحام ٹی شرٹ اور جینز پہنے تیار ہو کر کہی باہر جا رہا تھا جب رانا صاحب نے اسے ٹوکا۔
“یہ اسجد ہے۔۔۔۔۔ آج سے تمہارے ساتھ ساتھ رہے گا۔۔۔۔ ” رانا صاحب نے اپنے خاص آدمی کو ارحام کا باڈی گارڈ مقرر کیا۔
“ڈیڈ۔۔۔۔ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں اپنی حفاظت خود کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔ آئی ڈونٹ نیڈ باڈی گارڈ۔۔۔۔۔” ارحام کسی صورت ایسی پابندی نہیں چاہتا تھا۔
“تمہیں ضرورت نہیں ہے لیکن مجھے ہے۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا تم کسی بڑی دشمنی میں پھنس جاو۔۔۔۔ آج سے اسجد 24/7 تمہارے ساتھ رہے گا۔۔۔۔۔ اور یہ میرا آرڈر ہے۔۔۔۔” رانا صاحب نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کیا۔
ارحام کو مجبورا ڈیڈ کا حکم ماننا پڑا اور نا چاہتے ہوئے بھی اسجد اس کے ساتھ جڑ گیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زینب ایک ہفتہ بہاولپور میں گزار کر کل رات واپس اسلام آباد لوٹی تھی اور ذیشان کے رشتے کا سن کر اپنے گھر آگئی تھی۔
سب عائرہ اور ذیشان کے رشتے پر بہت خوش تھے سوائے سفیان کے لیکن اس نے کبھی فیملی کے سامنے اس بات کا اندیشہ نہیں ہونے دیا جب کہ عائرہ بے تاثر تھی۔ اس نے ماں باپ کی خوشیوں کی خاطر اپنے دل کو مار دیا تھا۔
اس صبح وہ میڈیکل کالج میں اپنی اکلوتی بیسٹ فرینڈ کے ساتھ گم سم بیٹھی تھی۔ اسے عائرہ اور سفیان کے بارے میں پتا تھا۔
“میں نے اسے بہت رلا دیا۔۔۔۔۔ وہ آسانی سے رونے والوں میں سے نہیں تھا۔۔۔۔۔ لیکن کل میں نے اسے رلا دیا۔۔۔۔۔ اس سے میرے آنسو برداشت نہیں ہوتے۔۔۔۔ میں اس سے کیسے کہوں۔۔۔۔۔ اس کے آنسو دیکھ کر مجھے کتنی تکلیف ہورہی ہے۔۔۔۔۔” عائرہ کل سفیان کا رونا یاد کر کے دل گرفتہ ہوگئی تھی۔
“پیار دوبارہ ہوجاتا ہے عائرہ۔۔۔۔۔ پر ماں باپ زندگی میں ایک ہی دفعہ ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جتنا ہم اپنے ماں باپ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔ انہیں بھی ہماری فکر ہوتی ہے۔۔۔۔۔ وہ ہماری بھلائی ہی سوچتے ہیں۔۔۔۔۔” زویا نے مایوس سی عائرہ کو سمجھایا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شام میں عائرہ بے مقصد بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ وائٹ فیری (وہ بلی کا بچہ جو سفیان نے دیا تھا اور پچھلے پانچ سالوں سے عائرہ اسے پال رہی تھی جو کہ اب اچھی خاصی موٹی اور بڑی بلی بن چکی تھی) اس کے پاس آئی، اسے اداس دیکھ کر وہ اس بازووں سے کھیلتی اپنے جانب متوجہ کرنے لگی۔
“وائٹ فیری۔۔۔۔۔ شاید میرا اور تمہارا ساتھ بھی یہی تک تھا۔۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔۔ میں تمہیں سفیان کو واپس کر رہی ہوں۔۔۔۔۔” عائرہ نے آبدیدہ ہوتے آخری مرتبہ اسے خود سے لگایا اور اسے سفیان کے کمرے میں رکھ آئی۔
رات کو سفیان گھر لوٹا تو اپنے بیڈ پر وائٹ فیری کو سویا ہوا پایا۔ وہ عائرہ کا اشارہ سمجھ گیا۔ زخمی ہنستے سر جھٹک کر وہ اس کے پاس آیا اور اس کی پیٹھ کو سہلانے لگا۔ پر وائٹ فیری یوں ہی اداس لیٹی رہی۔ اسے عائرہ کے علاوہ کسی اور کا پیار کرنا کبھی پسند نہیں آیا تھا۔
“سفیان۔۔۔۔۔ مچھلیوں کا دانہ ختم ہوگیا ہے۔۔۔۔ اور وہ گرگت کا بچہ مجھے مل نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔ میں نے اس کے دبے کے آگے خوارک ڈال دی تھی تم دیکھ لو اس نے کھائی ہے کہ نہیں۔۔۔۔” دو تین دنوں سے سفیان کو اپنا ہوش نہ تھا جانوروں کا دھیان کہاں رکھتا اس لیے ان کا کھانا پینا نور ہی دیکھ رہی تھی۔
سفیان نے ہمممم کرتے سر اثابت میں ہلایا۔ اس کا سب چیزوں سے دل اچاٹ ہوگیا تھا۔ اس رات وہ وائٹ فیری کو اپنے پاس رکھے رہا۔ اگلی صبح سب سے پہلے اس نے اپنے ایک دوست کو کال کر کے وہ سارے چھوٹے بڑے جانور جو اس نے جمع کئے ہوتے تھے zoo میں بھجوا دیئے۔
آخری مرتبہ وائٹ فیری کو خود سے لگا کر اس نے اسے بھی دوست کے ہاتھوں دے دیا۔ اس کی محبت کی پہلی نشانی دور ہوگئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سفیان کا ویزا اپروو ہوچکا تھا اور اگلے ماہ اسے لاء پریکٹس کرنے ایک سال کے لیے لندن جانا تھا اس لیے سب کے باہمی فیصلے سے اسی ماہ کے آخر میں ذیشان اور عائرہ کی منگنی ہونا طے پایا گیا۔ ذیشان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا اس کی پسند اس کے نام ہونے جا رہی تھی۔
رانا ہاوس میں پھر سے خوشیوں کا سماء بندھ گیا تھا۔ نور اور کرن منگنی کی تیاریوں میں جٹ گئی تھی۔
“سفیان چلو نا یار۔۔۔۔۔ مجھ سے زیادہ عائرہ کی تم سے دوستی ہے۔۔۔۔۔ تمہیں اس کی پسند کا بھی پتا ہوگا۔۔۔۔” ذیشان اسے ساتھ شاپنگ چلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انگیجمنٹ رنگ پسند کرنے ذیشان اور عائرہ کو خود جانا تھا اور اس وقت ذیشان سفیان کو ساتھ چلنے کی پیشکش کر رہا تھا۔
سفیان نے انکار کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ذیشان کے اصرار پر آخر کار وہ چلنے پر آمادہ ہوگیا۔
یہی حالت عائرہ کی بھی تھی وہ ذیشان کے ساتھ شاپنگ پر نہیں جانا چاہتی تھی۔ لیکن مما کے اصرار پر اسے راضی ہونا پڑا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جیولری شاپ میں بیٹھے عائرہ کی حالت غیر ہونے لگی۔ اس کے ایک جانب سوٹ بوٹ میں تیار شاندار شخصیت لیئے ذیشان تشریف فرما تھا اور دوسری جانب دانت پر دانت جمائے ہوئے اپنے آپ کو قابو کرتا سفیان۔
ذیشان کبھی ایک رنگ اٹھا کر عائرہ کا ہاتھ تھامے اسے پہناتا تو کبھی دوسری رنگ ٹرائے کرواتا۔ عائرہ کنکھیوں سے بار بار سفیان کے سپاٹ تاثرات دیکھ کر پریشان ہوجاتی۔
جلدی جلدی شاپنگ ختم کر کے وہاں سے جانے کے ارادے سے عائرہ نے از خود سامنے پڑے باکس سے ایک رنگ اٹھائی اور پہن لی۔
“ہممم نہیں۔۔۔۔ اس کا ڈائمنڈ بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔ ذیشان کی وائف کے ہاتھ میں سب سے قیمتی اور نایاب جوہر کی رنگ ہونی چاہیئے۔۔۔۔۔ یہ دوسری ٹرائی کرو۔۔۔۔” ذیشان کو وہ رنگ پسند نہیں آئی اور دوسری قدرے بڑے جواہرات سے بنی رنگ پیش کی۔
عائرہ کے اضطراب میں اضافہ ہورہا تھا۔ اس کے لیے وہاں بیٹھنا دشوار گزار تھا۔ وہ رنگ واپس اتارنے کی کوشش کرتی ٹھٹک گئی۔ رنگ پھنس چکی تھی اور ساتھ عائرہ کا سانس بھی اٹک گیا تھا۔
“ووووہ۔۔۔۔۔ ذیش بھائی۔۔۔۔۔رنگ پھنس گئی ہے۔۔۔۔” عائرہ نے ہچکچاتے ہوئے وضاحت دی۔
“فار گاڈ سیک عائرہ۔۔۔۔ ہمارا رشتہ ہوچکا ہے۔۔۔۔ چند دنوں میں انگیجمنٹ ہے۔۔۔۔۔ کم سے کم اب تو مجھے بھائی مت بلاو۔۔۔۔۔ کچھ میری پرسنیلٹی کا ہی لحاظ کر لو۔۔۔۔” ذیشان نے دبے لفظوں میں اسے ڈپٹ دیا۔ سفیان ان کی گفتگو سن کر پیج و تاب کھاتا رہا۔
“سوری۔۔۔۔۔ ذیش۔۔۔۔۔۔ یہ رنگ۔۔۔۔ نہیں نکل رہی۔۔۔۔۔” عائرہ نے الفاظ ٹوٹے ہوئے ادا کیے۔
“تم بھی نا۔۔۔۔۔” ذیش افسوس کرتا خود اس کی انگلی سے رنگ نکالنے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ اپنا پورا زور لگا کر اس کا ہاتھ پکڑے رنگ کھینچ رہا تھا۔
عائرہ کی انگلی سرخ ہوگئی تھی اسے درد بھی ہونے لگا تھا۔ اسی کے ساتھ سفیان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا وہ سیٹ پر سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“جب نہیں نکل رہی تو یہی لیں لیتے ہیں۔۔۔۔۔” سفیان نے مداخلت کی۔
“ایسے کیسے لیں لے۔۔۔۔۔چلو لیں بھی لے۔۔۔۔۔ پر انگیجمنٹ میں پہنانی تو مجھے ہے۔۔۔۔۔ ابھی اسے نکالنا تو ہے ہی۔۔۔۔” وہ ہر زاویے سے رنگ پر اپنا زور آزماتا رہا۔
“سر۔۔۔۔۔ ہمارے پاس رنگ کٹ کرنے کی آری ہے۔۔۔۔ لیکن پھر اس رنگ کا نقصان بھی بھرنا پڑے گا۔۔۔۔” دکان دار نے عائرہ کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر آسان راہ حل نکالتے ہوئے تجویز دی۔
“ہاں ٹھیک ہے آپ آری لیں آئے۔۔۔۔۔” سفیان فورا سے بیشتر مان گیا۔
“اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔۔۔ بس تھوڑا سا رہتا ہے۔۔۔۔” ذیشان نے انکار کیا۔
عائرہ کی انگلی کا جُلد تک چھل گیا تھا۔ وہ اسسس کرنے لگی۔ آنکھوں میں مارے درد کے آنسو چمکنے لگے۔
“نقصان میں بھر دوں گا۔۔۔۔۔ آپ رنگ کٹ کریں ابھی۔۔۔۔ ” سفیان طیش میں آگیا۔ اس نے ذیشان کے گرفت سے عائرہ کا ہاتھ جھپٹ لیا اور غراتے ہوئے دکان دار کو آنکھیں دکھائی تو وہ تیزی سے اندر کو بھاگ گیا۔
ذیشان آنکھوں کی پتلیاں سکیھڑے ہکا بکا سا سفیان کو دیکھنے لگا۔
“میڈم ہاتھ مت ہٹانا۔۔۔۔۔” دکان دار نے آری چلاتے ہوئے عائرہ کو متوجہ کیا۔
آری کی آواز سن کر عائرہ مزید سہم گئی اس کا ہاتھ بے اختیار لرزنے لگا۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ میں ہو نا۔۔۔۔۔ بس ایک کلک سے رنگ کٹ جائے گی۔۔۔۔” سفیان نے نرمی سے سمجھاتے عائرہ کے ہاتھ کو تھام لیا۔ اس کا لمس محسوس کرتے عائرہ کی کپکپاہٹ میں واضح کمی آگئی۔
ذیشان ان دونوں کو دیکھتے گہری سوچ میں پڑ گیا۔ سفیان کے لہجے اور عائرہ کے نارمل ہونے نے اس کی توجہ ان کے راز کے جانب مبذول کرائی تھی۔
دکاندار نے احتیاط سے آری چلاتے رنگ کاٹ کر عائرہ کی انگلی آزاد کرائی۔
“بہت درد ہورہا ہے۔۔۔۔۔” سفیان نے ترحم آمیز انداز میں پوچھا۔ عائرہ نے زخمی مسکرا کر سر نفی میں ہلا دیا۔ اپنی جیب سے رومال نکال کر اس نے عائرہ کے ہاتھ پر لپیٹ لیا اور پھر اپنے کریڈٹ کارڈ سے اس رنگ کا ہرجانہ بھرنے لگا۔
ذیشان مشکوک نظروں سے ان دونوں کو دیکھتا جیولری شاپ سے باہر نکل گیا۔ واپسی کا سفر یوں ہی خاموشی سے طے ہوا۔ ذیشان بہ ظاہر تو خاموش تھا لیکن اس کے اندر ایک نیا طوفان امڑ رہا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارحام کا دن بہ دن ضبط جواب دیتا جا رہا تھا۔ اسجد ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ ہوتا۔ وہ نہ ٹھیک سے دوستوں سے مل پاتا اور نا سموکنگ کر پاتا۔
“البرٹ یار۔۔۔۔۔ اس کا کچھ کرو۔۔۔۔۔ جینا حرام کر دیا ہے۔۔۔۔” اس دن وہ کیمپس کے واشروم میں کھڑے سموکنگ کرتے البرت سے کال پر التجا کرنے لگا۔
رانا صاحب کے درخواست پر کالج انتظامیہ نے اسجد کو کالج کے اندر بھی ارحام کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی تھی۔
“اور وہ دانین کی کیا خبر ہے۔۔۔۔۔” ارحام نے دوسرا کش بھرتے تندی سے پوچھا۔ اس نے البرٹ کو دانین کے گھر پر نظر رکھنے کی ڈیوٹی دے رکھی تھی۔
“دو ماہ بعد کی تاریخ پکی ہوئی ہے اس کی شادی کی۔۔۔۔۔” البرٹ کی سرگوشی نما آواز اس کے سماعتوں میں پڑی۔
“چلو ابھی کچھ وقت ہے۔۔۔۔۔ پر اس سے پہلے ڈیڈ کے اس چمچے سے جان چڑانی پڑے گی۔۔۔۔۔ دل کر رہا murder کر دوں اس کا۔۔۔۔۔” ارحام نے غصے سے واشروم کے دیوار پر لات ماری۔
“ابھی نہیں۔۔۔۔۔ پہلے تیری بہن کی انگیجمنٹ ہوجائے۔۔۔۔۔ پھر ہی کچھ کرنا۔۔۔۔ ورنہ اب کی بار تیرا باپ تجھے خود اپنے ہاتھوں سے جیل ڈال کر آئے گا۔۔۔۔” البرٹ نے سمجھانے کی کوشش کی۔
“ایک تو سبھی کو ابھی شادی منگنی کرنی تھی۔۔۔۔۔” اس کا طیش قابو ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ تب ہی اسجد نے واشروم کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
“آرہا ہوں۔۔۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔۔۔” ارحام نے ہڑبڑا کر سیگریٹ فلش کر دی اور موبائل جیب میں ڈالتا واشروم سے باہر آگیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“چوٹ کیسی ہے اب۔۔۔۔” اس نے کال پر سفیان کی متفکر آواز سنی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔” عائرہ نے بے پرواہی سے جواب دیا۔
“سوچ رہا ہوں جانا کینسل کر دوں۔۔۔۔ دل نہیں کر رہا جانے کو۔۔۔۔” وہ موبائل فون کان اور کندھے کے بیچ دبائے اپنے کاغذات دیکھ رہا تھا۔
“لندن میں پریکٹس کرنا تمہارا خواب ہے سفیان۔۔۔۔۔ تم ایسے کیسے یہ موقع گنوا سکتے ہو۔۔۔۔۔” عائرہ کو اس کی بات بے منطق لگی۔
“یہاں زندگی چھوٹ رہی ہے۔۔۔۔۔ خواب سجا کر کیا کر لوں گا۔۔۔۔۔” وہ اپنے آپ پر استحزیہ ہنسا۔
عائرہ خاموش ہوگئی اس کے پاس کوئی جواب باقی نہ رہا تھا۔ وہ اسی کشمکش سے دو چار تھی جب ذیشان کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
“ممی بلا رہی ہے۔۔۔۔۔ تمہارا ڈریس بن کر آگیا ہے۔۔۔۔ جا کر دیکھ لو۔۔۔۔” ذیشان نے قدرے سرد مہری سے کہا۔
عائرہ اس سے نظر ملانے سے کتراتی کال بند کر کے موبائل بیڈ پر رکھتی اس کے پہلو سے گزر کر باہر نکل گئی۔ ذیشان نے تیز نگاہوں سے اس کے موبائل کو دیکھا اسکرین ابھی بھی روشن تھا۔ اس نے لاک لگ جانے سے پہلے ہاتھ بڑھا کر عائرہ کا موبائل اٹھا اور چیک کرنے لگا۔
مما ڈیڈ ارحام کے علاوہ سب سے زیادہ کال کئے جانے والے کا نمبر جان کے نام سے سیف کیا ہوا تھا۔ ذیشان کی آنکھوں میں سختی در آئی۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔ بڑے پاپا اور پاپا صوفے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ نور ملازم کو شاپنگ اس کے کمرے میں رکھنے کی ہدایت دے رہی تھی اور عائرہ کچن میں کرن کے پاس کھڑی تھی۔ وہ لمبے ڈگ بھرتا کچن میں داخل ہوا اور عائرہ کو بازو سے دبوچ کر اسے گھسیٹتا ہوا لاؤنج میں لے آیا۔
“یہ کیا حرکت ہے ذیشان۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے تند و تیز آواز میں اسے ڈپٹا۔ انہیں ذیشان کا عائرہ کے ساتھ ایسا بیہویر ناگوار گزرا۔
روحان اور نور بھی تعجب سے اسے دیکھنے لگے۔ شور کی آواز سنتے سفیان بھی کمرے سے باہر آگیا تھا۔
“یہ اپنی لاڈلی سے پوچھے بڑے پاپا۔۔۔۔۔ میرے پیٹھ پیچھے یہ کیا حرکت کر رہی ہے۔۔۔۔” ذیشان نے عائرہ کو ان کے جانب دھکیلا۔
رانا صاحب کے آبرو پھیل گئے۔ پہلے ارحام اب عائرہ۔ کیا ان کے دونوں بچے گمراہی پر چل رہے تھے۔ انہیں اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔ عائرہ کو تو سانپ سونگھ گیا تھا وہ کوئی ردعمل نہ دے سکی۔
“پوچھے اس سے۔۔۔۔۔ کس سے چکر چل رہا ہے اس کا۔۔۔۔۔ کس کا نمبر اس کے موبائل میں جان کے نام سے سیف ہے جس سے یہ گھنٹوں باتیں کرتی ہے۔۔۔۔۔” ذیشان نے اس کا موبائل صرفے پر پٹخا۔
عائرہ مضطرب ہو کر کبھی ڈیڈ کو دیکھتی تو کبھی مما کو جو اسے بے یقینی سے دیکھ رہے تھے۔ اس نے نفی میں سر ہلاتے کچھ کہنا چاہا لیکن منہ سے آواز نہ نکل سکی۔
“شادی مجھ سے کر رہی ہے۔۔۔۔۔ اور افیر کسی اور سے رکھا ہوا ہے۔۔۔۔۔ میں ایسا دوغلا پن برداشت نہیں کروں گا بڑے پاپا۔۔۔۔” ذیشان نے رانا صاحب کو وارن کیا۔
اسے رانا بھائی سے اونچی آواز بولتے دیکھ روحان کے اعصاب تن گئے وہ اسے مخاطب کرتا آگے آیا پر ذیشان پیچھے ہوگیا۔
“نہیں پاپا۔۔۔۔۔ بہت دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں اسے۔۔۔۔۔ آج اسے جواب دینا ہی ہوگا۔۔۔۔ ورنہ سچائی ثابت کرنے کے مجھے بہت سے اور طریقے بھی آتے ہیں۔۔۔۔” ذیشان سارے تہذیب و تمدن بھلائے گویا تھا۔
رانا صاحب کا دماغ ماوف ہونے لگا۔ ارحام تو انہیں کمزور کر چکا تھا لیکن عائرہ کے متعلق ایسا انکشاف انہیں اندر ہی اندر توڑ رہا تھا۔
“ڈیڈ۔۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔ بلیو می۔۔۔۔ میں آپ کو سب سمجھاتی ہوں۔۔۔۔۔” عائرہ آبدیدہ ہوگئی تھی اس نے ڈیڈ کا بازو تھام لیا تھا۔
“یہ کیا سمجھائے گی۔۔۔۔ میں خود پروف دکھاتا ہوں۔۔۔۔” ذیشان نے عائرہ کا موبائل اٹھایا اور لاک کھولنے لگا تھا جب سفیان نے آگے آکر اس سے عائرہ کا موبائل جھپٹ لیا۔
ذیشان کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔
ہمارے من پسند شخص میں اتنی اہلیت تو ہونی چاہیئے کہ خود سے منسلک ہر شخص کے سامنے ہمارا مان رکھ سکے اور سفیان کبھی عائرہ کو رسوا نہیں ہونے دیتا۔
“سفیان واپس کرو۔۔۔۔۔ میں ابھی اس نمبر والے کو ڈھونڈتا ہوں۔۔۔۔۔” ذیشان اس سے موبائل واپس لینے لگا۔
“وہ میرا پرائویٹ نمبر ہے ذیشان۔۔۔۔۔ عائرہ مجھ سے بات کرتی ہے۔۔۔۔۔” سفیان بپھرے شیر کے مانند غرایا۔ اس نے طیش میں آکر ذیشان کا کالر دبوچ حقیقت سے آشنا کیا۔
ذیشان سمت سب دنگ رہ گئے۔ عائرہ نے روتے ہوئے اپنا سر پکڑ لیا۔ جو وہ نہیں چاہتی تھی وہی ہو رہا تھا۔ دو بھائیوں کے مابین درار مائل ہوگئی تھی۔
“مجھے تو اس دن جیولری شاپ میں ہی شک ہوگیا تھا۔۔۔۔ تو وہ تم ہو جو میرے اور عائرہ کے بیچ آرہا ہے۔۔۔۔” ذیشان بھی رانا تھا اس کا جنون کہاں کم ہوسکتا تھا اس نے بھی سفیان کا گریبان جکڑ لیا۔
وہ دونوں بھائی دشمن جاں بنے ایک دوسرے کا گریبان پکڑے تند و تیز نظروں سے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔
“ذیش۔۔۔۔۔ سفیان۔۔۔۔ یہ کیا بچپنہ ہے۔۔۔۔۔ چھوڑو ایک دوسرے کو۔۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔۔” روحان نے ان کے ہاتھوں کو جکڑ کر ایک دوسرے کا گریبان آزاد کرایا۔
“بیچ میں، میں نہیں تم آگئے ہو رانا ذیشان۔۔۔۔۔ میں عائرہ سے پچھلے پانچ سالوں میں سے پیار کرتا ہوں۔۔۔۔۔ اور وہ بھی مجھے چاہتی ہے۔۔۔۔۔” سفیان نے ہاتھ ہوا میں بلند کر کے اعلانیہ صورت کہا۔
“دوبارہ عائرہ کو رلایا۔۔۔۔۔۔ تو میں سارے رشتے ناطے بھول جاوں گا۔۔۔۔۔۔ آگ لگا دوں گا اس گھر کو۔۔۔۔۔۔” سفیان نے پھر سے ذیشان کا کالر دبوچ کر اسے دھمکایا۔
“سفیان سٹاپ اٹ۔۔۔۔۔” روحان نے ذیشان کا کالر آزاد کرایا اور اسے زناٹے دار تھپڑ دے مارا۔
عائرہ کا سانس رک گیا۔ نور چاہے سفیان کو جتنا ڈانٹ ڈپٹنی لیکن روحان نے کبھی اسے نہیں جھڑکا تھا۔ آج پہلی دفعہ روحان نے سفیان پر ہاتھ اٹھایا تھا۔
تین چیزیں خونی رشتوں کو بھی ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتی ہے۔ زن زمین زیور۔
ذیشان اور سفیان کے مابین زن آگئی تھی۔ 19سالہ عائرہ مبشر۔
“پلیز مت لڑیں۔۔۔۔۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔۔ مت لڑیں آپس میں۔۔۔۔۔ پلیززززز۔۔۔۔۔ خدا کے لیے مت لڑیں۔۔۔۔۔۔” عائرہ ہاتھ جوڑتی گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گئی اور زار و قطار بلند آواز رونے لگی۔
“عائرہ۔۔۔۔۔ ” رانا صاحب نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
“ڈیڈ میں صرف آپ سے پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔ میرے لیے آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں وہی کروں گی جو آپ کہے گے۔۔۔۔۔ پلیز ڈیڈ۔۔۔۔ انہیں روک لیں۔۔۔۔ مما پلیززز۔۔۔۔ آپ کچھ کہیے نا۔۔۔۔۔” وہ رانا صاحب سے درخواست کرنے لگی۔ اس نے کرن کے ہاتھ تھام کر جھجوڑے۔
“بس۔۔۔۔ ششش۔۔۔۔۔ میں دیکھ لو گا۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ اس بات کا تسلی سے فیصلہ کریں گے۔۔۔۔۔ میں ہوں نا آپ کے پاس۔۔۔۔ بسسسسس روتے نہیں۔۔۔۔۔” رانا صاحب اس کا سر اپنے سینے سے لگائے اسے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگے۔ کرن بھی اپنی بیٹی کو سنبھالنے لگی۔
“فیصلہ تو ہوچکا ہے بڑے پاپا۔۔۔۔۔ ہال بک ہوچکا ہے۔۔۔۔ کیٹرنگ بلائی جا چکی ہے۔۔۔۔۔ ڈیکوریشن میوزیشن۔۔۔۔۔۔ سب تیار ہے۔۔۔۔۔۔ انوائیٹیشن کارڈ چھپنے دے دیئے ہیں۔۔۔۔۔ انگیجمنٹ تو اسی تاریخ اس وقت ہوگی۔۔۔۔۔” ذیشان نے سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ اس پر مانو نا عائرہ کے رونے کا اثر ہورہا تھا نا سفیان کے جنون کا۔
“بلکہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تو نکاح ہوگا۔۔۔۔۔” جاتے جاتے اس نے رخ موڑ کر باری باری سب کو دیکھا۔ نکاح کا سن کر عائرہ کا مزید دل ڈوب گیا تھا۔
ذیشان اپنا فیصلہ سنا کر گھر سے باہر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد سفیان نے بھی اپنا طیش قابو کرتے اپنی کار میں سوار ہو کر باہر چلا گیا۔
روحان اور نور اپنے دونوں بیٹوں کا یہ روپ دیکھ شش و پنج میں مبتلا ہوگئے تھے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔
