60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 12

شام کے وقت خوشگوار ہواوں کے چلتے موسم گرما میں کافی کمی آگئی تھی۔ ابتہاج اس اوپن ائیر ریسٹورنٹ کے سامنے رکھے چھتری تلے ایک میز پر بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ معمول کے جیسے آج بھی وہ سفید قمیض شلوار پہنے بال نفاست سے بنائے ہشاش بشاش تیار تھا۔
ذیشان سڑک کے پار کار پارک کر کے بھاگتا ہوا اس جگہ آیا۔
“ہیلو ذیشان۔۔۔۔۔ ابتہاج حسین۔۔۔۔۔” ابتہاج نے کھڑے ہوکر ذیشان سے مصافحہ کرتے اپنا تعارف کروایا۔
“آپ کو کون نہیں جانتا سر۔۔۔۔۔ سوری میں تھوڑا لیٹ ہوگیا۔۔۔۔ آپ کو ویٹ کرنا پڑا۔۔۔۔ پلیز سر بیٹھے نا۔۔۔۔۔ تشریف رکھے۔۔۔۔۔” ذیشان دیر سے آنے پر قدرے مضطرب ہوگیا تھا۔
“جسٹ ریلکس ذیشان۔۔۔۔ میں یہاں لیکچرار اور سٹوڈنٹ کے حیثیت سے ملنے نہیں آیا۔۔۔۔۔ یہاں میں ایک پروپوزل ہوں اور آپ زینب کے بھائی۔۔۔۔۔ بی فری۔۔۔۔۔۔ ان سب فارمیلٹیز کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔” ابتہاج نے مسکراتے ہوئے ذیشان کی کشمکش کو محسوس کرتے اسے دلاسہ دیا۔ ذیشان کو ابتہاج کا یہ انداز واقعی بھا گیا وہ کافی حد تک ریلکس ہوگیا تھا۔
“میری بہن بہت پسند ہے آپ کو۔۔۔۔۔” ابتدائی حال احوال دریافت کر کے ذیشان وقت ضائع کئے بغیر مدعہ کی بات پر آیا۔
وہ غور سے ابتہاج کو دیکھتا اس کی ہر حرکات اور سکونات کو مشاہدہ کر رہا تھا۔ زینب نے اس رشتے کا دار و مدار اس کے کندھے پر دے دیا تھا اور وہ کسی قیمت اس زمہ داری میں لاپرواہی نہیں برت سکتا تھا۔ زینب اس کی جان سے بڑھ کر تھی وہ اس کے لیے بیسٹ انسان منتخب کرنا چاہتا تھا۔
“زینب کے لیے میرے دلی جزبات بیان کرنے کو پسند کا لفظ شاید بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔۔۔ no doubt وہ بہت قابل اور بہترین لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔ اور میرے لیے بہت خاص ہے۔۔۔۔۔۔ بہت اہم ہے۔۔۔۔۔” ابتہاج بنا جھجک ٹیبل پر کہنیاں رکھے ذیشان کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا۔
“فرض کریں۔۔۔۔۔ زینب کی آپ سے شادی ہوجائے۔۔۔۔۔۔ تو آپ اس کے لیے کیا کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔” دوسرا سوال بھی اس انداز میں ہوا۔ وہ ابتہاج کے مزاج کو آزما رہا تھا۔
“میرے ابو جان سادہ اور خوشحال زندگی جینے کے حمایتی ہیں۔۔۔۔۔ اور میں بھی ان ہی کے نقش و قدم پر چلنے والا بندہ ہوں۔۔۔۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں زینب کے لیے چاند تارے توڑ کر لاوں گا۔۔۔۔۔ تاج محل بنا دوں گا۔۔۔۔۔ یا کے ٹو کے پہاڑ پر چڑھ جاوں گا۔۔۔۔۔ اور میرا نہیں خیال زینب ایسے مادہ پرستی سے قائل ہونے والی لڑکی ہے۔۔۔۔۔ جہاں تک میں اسے جان سکا ہوں وہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں جینے والی ہے اور میں اتنا یقین ضرور دلا سکتا ہوں ہر حال میں اس کا ساتھ نبھاوں گا۔۔۔۔۔ اس کی ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھوں گا۔۔۔۔۔ بارش کے موسم میں لانگ ڈرائیو پر لیں جاوں گا۔۔۔۔ چاند رات کو مہندی لگوانے لیں جاوں گا۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے چوڑیاں پہناوں گا۔۔۔۔ کبھی ناراض ہوجائے تو جاب سے آتے اس کے لیے گجرے لیں کر آو گا۔۔۔۔۔ رات کو تین بجے بھوک لگے تو اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کے کھلاوں گا۔۔۔۔۔ اپنی آخری سانس تک زینب سے پیار کرتا رہوں گا۔۔۔۔ اسے خوش رکھوں گا۔۔۔۔۔” ابتہاج نے بہت ہی سادہ انداز میں اپنے اور زینب کی آنے والی زندگی کے لیے دیکھے خواب کے منظر سے ذیشان کو روشناس کرایا۔
ذیشان کی آنکھیں چمک اٹھی ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ اس کے پاس مزید پوچھنے کو کچھ بچا نہیں تھا۔ وہ یہی تو چاہتا تھا کہ زینب کو بہت پیار کرنے والا اور خیال رکھنے والا ملے اور اچھے شوہر کی وہ ساری خصوصیات اسے ابتہاج میں نظر آرہی تھی۔
دولت اور عہدے انسان کو عارضی طور پر بڑا کرتے ہیں لیکن انسانیت اور اخلاق انسان کو ہمیشہ بلند درجے پر رکھتا ہے
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زینب اپنے کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتی ذیشان کی منتظر تھی۔ اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا جب دروازہ کھلا اور ذیشان تند تاثرات بنائے اندر داخل ہوا۔
اس کے تاثرات دیکھ کر زینب کا دل ڈوبنے لگا لیکن اگلے ہی پل ذیشان دل کھول کر مسکرایا اور آگے ہو کر اس نے زینب کے گرد بازو مائل کر کے اس کا سر اپنے کندھے سے لگایا۔
“زی۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا ابتہاج سے زیادہ تجھے کوئی پیار دے سکے گا۔۔۔۔۔ تجھے اتنا خوش رکھ سکے گا۔۔۔۔۔ ہی از پرفیکٹ ان ایوری وے۔۔ he is perfect in every way۔۔” ذیشان نے اسے اپنے حصار میں لیئے تائید کی۔
زینب نے آنکھیں بند کر کے سکون کی سانس لی۔ اسے ذیشان کے کہے ایک ایک لفظ پر اعتبار تھا۔
اسی رات رانا صاحب نے زینب کو اپنے کمرے میں بلایا۔ روحان نور کرن اور باقی ساری فیملی ممبرز بھی وہی اکھٹا ہوئے تھے۔
“زینب۔۔۔۔۔ ہم آپ کی رضا مندی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ کوئی زبردستی نہیں ہے۔۔۔۔ اگر آپ ابھی شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو بے جھجک مجھے بتا دیں۔۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے گھر کے بزرگ کا کردار نبھاتے زینب سے اس کی خواہش پوچھی۔
“بڑے پاپا مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ آپ سب جو بھی فیصلہ کریں مجھے منظور ہے۔۔۔۔۔” زینب نے اپنی رضامندی سنائی تو سب خوش ہوگئے۔ رانا صاحب نے اس کے سر پر بوسہ دیتے اسے دعائیں دیں۔ کرن نے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ نور تو ابھی سے آبدیدہ ہوگئی تھی۔ روحان خوشی سے مسکراتا آنکھوں میں آتے آنسو صاف کرنے لگا۔
باری باری سب سے مل کر آخر میں زینب، ذیشان کے پاس آئی اور مدھم آواز میں اس کا شکریہ ادا کیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رات کو جب ابتہاج گھر آیا تو ہر سوں خوشیوں کا سماء تھا۔ اسے لاؤنج میں سے ابو جان اور امی جان کے چہکنے کی آوازیں بخوبی سنائی دے رہی تھی۔
“روحان کی کال آئی تھی۔۔۔۔۔ زینب نے ہاں کر دی ہے۔۔۔۔ انہیں رشتہ منظور ہے۔۔۔۔ مبارک ہو بیٹا۔۔۔۔۔” حسین صاحب نے ابتہاج کو سینے سے لگا دیا۔
امی جان نے اس کے پیشانی پر بوسہ دیتے اسے مبارکباد پیش کی۔ ابتسام نے بھی بڑے بھائی کو رشتہ کی مبارکباد پیش کرتے گلے لگا لیا تھا۔
دونوں گھروں میں خوشیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہوگیا تھا۔ اسی مہینے کے ستائس تاریخ کو ان کی منگنی ہونا طے پایا گیا۔ شہر کا سب سے اعلی اور شاندار ہال بک کیا گیا۔ ذیشان اور سفیان دونوں ہی اپنی اپنی زمہ داری بھر پور انداز میں نبھا رہے تھے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
منگنی کی شام عائرہ نے سلور کلر کا لانگ فراک پہنا اور لمبے بال کھلے رکھے۔ ہلکا سا میک اپ کیا۔ نفیس جیولری اور لمبی ہیل میں وہ محفل کو چار چاند لگا رہی تھی۔
وہ گلاب کی پتیوں سے بھرا تھال اٹھائے زینب کا استقبال کرنے انٹرینس کے جانب جا رہی تھی جب راستے میں اسے سفیان نے روک لیا۔
وہ گرے کلر کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس بال ایک طرف جمائے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
“کس نے کہا ہے تم سے اتنا خوبصورت لگنے کے لیے۔۔۔۔۔” سفیان سر تا پیر عائرہ کا جائزہ لیتے آگے آیا۔ عائرہ کی دھڑکن تیز ہوگئی وہ آس پاس دیکھتی اس سے قدرے پیچھے ہوگئی پر سفیان نے تیزی سے اس کے بازو تھام لیئے تھے۔ اب ان کے درمیان صرف عائرہ کے ہاتھوں میں پکڑے تھال کا فاصلہ تھا۔
“سفیان جانے دو۔۔۔۔۔۔ بہت کام کرنے ہے۔۔۔۔۔” سفیان کی محسور کن ادائیں عائرہ پر قابض ہونے لگی۔ وہ اس کی نظروں سے چھنپ سی گئی۔
“سب سے پہلا کام تو تمہیں۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔۔ ایک۔۔۔۔۔۔ کِس دینا ہے۔۔۔۔۔ ” سفیان مخمور انداز میں سرگوشی کرتے اس پر جھکنے لگا۔
“پاگل ہوگئے ہو۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ یہ سب شادی کے بعد۔۔۔۔۔” عائرہ اس کی قربت سے سہم گئی اور اس کے حصار سے الگ ہوتے باہر کو بھاگی۔
وہ سفیان کا معصومیت سے اترا چہرا دیکھ کر بلش کرتے گیٹ سے باہر قدم رکھتے ہی لڑکھڑا گئی اس کے فراک کا دامن اس کی ہیل کے نیچے آگیا تھا۔ وہ مہمانوں کے پذیرائی میں کھڑے ذیشان سے ٹکرا گئی لیکن وقت رہتے ذیشان نے اسے تھام لیا اور وہ گرتے گرتے بچ گئی۔ اس وقت اپنے بازووں میں عائرہ کو دیکھ کر ایک پل کو ذیشان کے دل میں کچھ ہونے لگا۔
“عائرہ دھیان سے۔۔۔۔۔ ابھی گر جاتی۔۔۔۔۔ ” ذیشان نے نرمی سے اس کی لا پرواہی پر ڈپٹا۔ وہ بلیک کلر کے تھری پیس سوٹ میں تیار ہمیشہ کی طرح دلکش لگ رہا تھا۔
“سوری۔۔۔۔” عائرہ نے متذبذب ہوتے دوسری قطار میں مہمانوں سے ملتے ڈیڈ اور روحان پاپا کے جانب دیکھا اور صد شکر ادا کیا کہ ان کا دھیان اس جانب نا تھا۔
تھوڑی دیر میں گیٹ کے سامنے برائیڈل کار رکی۔ زینب گولڈن کام دار برائیڈل ڈریس میں تیار روحان کا ہاتھ تھامے ہال میں داخل ہوئی۔ راہ داری میں چلتے ہوئے اس کے ایک جانب پاپا تھے اور دوسری جانب بڑے پاپا۔ نور اور کرن ڈیزائنر ڈریس میں تیار اپنے اپنے شوہر کے سائیڈ چلتے ان کا ساتھ دیں رہی تھیں۔
موقع کا پورا فائدہ اٹھاتے ارحام اپنے مزے میں گم تھا۔ دو دن پہلے رانا صاحب نے اکاونٹ ان فریز کر دیا تھا اور ارحام کو پھر سے آزادی مل گئی تھی۔ اس وقت بھی وہ تقریب کے مناسبت سے نت نئے جینز اور شرٹ میں تیار ہال میں اپنے بے باق دوستوں کے گروپ میں موجود شام کو انجوائے کر رہا تھا۔
اسٹیج پر ابتہاج، زینب سے میچنگ کرتے گولڈن شیروانی میں ملبوس اس کا منتظر تھا۔ زینب پہلے اسٹیپ تک آئی تو ابتہاج نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامے اسے اسٹیج پر چڑھنے میں مدد کی۔ سفیان ساتھ ساتھ ہر منظر کو اپنے مہنگے ترین کیمرے میں اتار رہا تھا۔
دونوں فیملیز گلے ملتے مبارکباد دینے لگے۔ ابتہاج اور زینب نے رنگ کا تبادلہ کر کے ایک دوسرے کو اپنے نام کر دیا۔
عائرہ اپنی سہیلیوں کے جھمکٹے میں میوزک سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ ایک آدھ مرتبہ سفیان سے اس کی نظروں کا تبادلہ بھی ہوجاتا۔ لیکن اس وقت دو اور لائٹ براون آنکھیں بھی اس ہال میں موجود تھی جو عائرہ پر مرکوز تھی۔ رانا ذیشان کی دلنشین اور مغرور آنکھیں۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زینب کی منگنی کے فورا بعد عائرہ اپنی انٹری ٹیسٹ کی تیاری میں جٹ گئی اور سفیان اپنے وکالت کی تعلیمات میں۔ ساتھ ساتھ اسے پالتو جانور اکٹھا کرنے کا بھی شوق لگ گیا تھا جس سے نور کو اعتراض ہوتا۔ ایک شام وہ گرگت کا بچہ ہاتھوں میں اٹھائے دبے قدموں اپنے کمرے میں میں جا رہا تھا کہ نور نے اسے ٹوک دیا۔
“سفیان۔۔۔۔۔ میری چپل اڑتی ہوئی کھانا پسند کرو گے۔۔۔۔۔۔ یا وہی آکر خود رسید کروں۔۔۔۔۔۔ کتنی دفعہ بولا ہے۔۔۔۔۔ مت لایا کرو ایسے کیڑے مکوڑے۔۔۔۔۔ گھر کو zoo بنانے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔۔ چلو واپس لے کر جاو اسے۔۔۔۔۔۔” نور نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے ہی آواز لگائی۔ وہ اپنے 22 سالا جوان بیٹے کو مارنے پر کوئی عار محسوس نا کرتی۔ پر وہ بھی سفیان تھا وہ نور کی تردید کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کرتا تھا۔ آج بھی وہ نور کی ڈپٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے اسی انداز چلتے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ایک تو یہ کبھی ٹائم پر نہیں آتا۔۔۔۔۔” عائرہ ایگزیمز سینٹر کے باہر کھڑی سفیان کا انتظار کرتے ہوئے بڑبڑائی۔
دس منٹ بعد اس کے سامنے ایک BMW کار آکر رکی۔ وہ جو تنے تاثرات بنائے سفیان کو ڈانٹنے کا ارادہ بنائے کار کے جانب بڑھی تھی کار سے نکلتے ذیشان کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔
“السلام علیکم ذیش بھائی۔۔۔۔ ” اس نے اپنے آپ کو کمپوز کرتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔۔ کیسا رہا پیپر۔۔۔۔۔ فیوچر ڈاکٹر۔۔۔۔۔” ذیشان نے اس کے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔
“اچھا رہا۔۔۔۔۔ اب ہوپ سو سلیکشن ہوجائے۔۔۔۔۔” اس نے امید ظاہر کی اور سیٹ پر جا بیٹھی۔
“انشاءاللہ سلیکشن بھی ہوجائے گی۔۔۔۔۔ تم نے بہت محنت کی ہے۔۔۔۔۔ اس کا پھل بھی اچھا ملے گا۔۔۔۔۔” ذیشان نے کار مین روڈ پر چلا دی۔
عائرہ کا واپسی سفیان کے ساتھ جانے کا دل تھا لیکن اب ذیشان کو دیکھ کر بد مزا ہوگئی تھی۔
وہ ذیشان کی نظروں سے چھپتے موبائل پر سفیان کو میسیج ٹائپ کرنے لگی۔
“تم کیوں نہیں آئے۔۔۔۔۔”
“With papa at his friend’s office…”
سفیان کا ریپلائے دیکھ کر اس نے سرد سانس خارج کی اور موبائل بیگ میں ڈالا۔
“تم تھک گئی ہوگی۔۔۔۔۔۔ چلو گنے کا جوس پلاتا ہوں۔۔۔۔ موڈ ایک دم فریش ہوجائے گا۔۔۔۔۔” ذیشان نے عائرہ کے چہرے پر اداسی دیکھ کر پیشکش کی۔
“نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔” عائرہ نے فورا انکار کیا لیکن اس کے باوجود ذیشان نے ایک جوس کارنر پر کار روک دی اور دو گلاس گنے کا جوس آرڈر دیا۔
عائرہ کا بلکل دل نہیں تھا پر ذیشان کے اصرار پر اس نے پھیکا مسکراتے ہوئے جوس کا گلاس تھاما اور زبردستی پینے لگی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(حال)
“ارحام۔۔۔۔۔ ایک بات پوچھوں۔۔۔۔۔ سچ بتاو گے۔۔۔۔۔” وہ دونوں ویک اینڈ کی سرد دن کو انجوائے کرتے ساحل کنارے ایک کیفے کے میز پر آمنے سامنے بیٹھے تھے جب حدیل نے جھجکتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
اس نے ہممم کر کے فرینچ سلاد کھاتے ہوئے حدیل کو بات پوچھنے کی اجازت دی۔
“کیا۔۔۔۔۔ مجھ سے پہلے۔۔۔۔۔۔ تمہاری لائف میں کوئی لڑکی تھی۔۔۔۔۔” حدیل نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر یہ الفاظ ادا کیئے۔ عورت ذات ہر چیز بانٹ سکتی ہے۔ نہیں بانٹ سکتی تو وہ ہے ایک پسندیدہ مرد۔
ارحام کا سلاد کھاتا منہ رک گیا۔ ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔ وہ بنا پلک جھپکائے یک ٹک اسے دیکھنے لگا۔ اسے حدیل سے ایسے سوال کی توقع نا تھی۔ ماضی کی کئی سارے اوراق اس کے زہن پر لہرائے۔ وہ فورا سے بیشتر نظریں جھکا گیا کہ کہی حدیل اس کی آنکھوں میں امڑتی تکلیف دیکھ نا سکیں۔ اس کا کھانے سے دل اچاٹ ہوگیا تھا اس نے پلیٹ پرے کھسکا دی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے رخ دوسری جانب کر کے سمندر کی تیز لہروں کو دیکھنے لگا۔
حدیل نئے زمانے کی آزاد خیال لڑکی تھی لیکن ارحام کے معاملے میں وہ بہت حساس تھی۔ ارحام کی زندگی میں کوئی اور بھی تھی یہ خیال اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔ اس سے اپنا سوال دوہرایا بھی نا گیا۔ ارحام کی مسلسل خاموشی نے اس کے اندیشے سچ ثابت کر دیئے تھے۔ اس کے گلے میں آنسووں کا پھندا لگنے لگا۔
کبھی کبھی الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے بھی انسان اپنی کیفیت کا اظہار نہیں کرتا خاموش ہوجاتا ہے اور دل چاہتا ہے کوئی ایسا ہو جو اس خاموشی کو سمجھ سکے۔ پر ارحام اپنے اندر کی خاموشی حدیل پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس نے جیب سے سیگریٹ کا پیکٹ نکالا اور ایک عدد سیگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبا کر سلگایا۔ اسے سیگریٹ کے دھویں میں اس معصوم چہرے کی عکاسی نقش ہوتی نظر آئی۔ دانین حیدر۔ وہ لڑکی اس کی محبت نہیں تھی۔ لیکن وہ اس کا گنہگار ضرور تھا۔
(ماضی)
کالج کا آغاز ہوچکا تھا۔ وہ پورا گروپ راونڈ دیتے ٹیچرز سے بچتے لان میں کلاس بنک کر کے بیٹھے تھے۔ 17 سالہ ارحام گھاس پر چت لیٹا دوستوں کی باتیں سنتا محظوظ ہورہا تھا۔ ان میں سے ایک پچھلی رات اپنی گرل فرینڈ سے ہوئی ملاقات کی جھلکیاں سنا رہا تھا۔
“گائز وہ دیکھ۔۔۔۔۔ نیو مال آیا ہے۔۔۔۔۔” ایک دوست نے سامنے سے آتی لڑکی پر جملہ کسا۔
ارحام سمیت سب نے اس سمت میں دیکھا۔ وہ معصوم سی لڑکی متذبذب ہوتی سر پر ڈوپٹہ درست کرتی کالج کے عمارت میں داخل ہوئی۔ اس کے تاثرات سے یہ صاف ظاہر تھا کہ وہ کو ایجوکیشن میں نئی آئی تھی۔
دانین حیدر 17 سالہ لمبی ٹین ایج لڑکی۔ بیضوی آنکھیں لمبی ناک۔ نازک گلابی ہونٹ اس کا ہر نقش مخالف جنس کو گرویدہ کرنے میں ماہر تھا۔ اور اس پر اس کا قمیض شلوار اور ڈوپٹہ سر پر پہننے کی حیا اس کی شخصیت کو مزید پر کشش بنا رہی تھی۔
“یہ نہیں پھنسے گی۔۔۔۔۔ ” ایک دوست نے رخ پھیر لیا۔
“ایسی لڑکیاں بہت بے وقوف ہوتی ہے۔۔۔۔۔ سب سے جلدی یہی پھنستی ہے۔۔۔۔۔” ارحام نے اپنے جانب سے گفتگو میں اضافہ کیا۔
“ٹھیک ہے پھر تُو پھنسا کے دیکھا۔۔۔۔” پہلے دوست نے چیلنج کرنے کے انداز میں ہاتھ آگے کیا۔
“شرط جیت گیا تو۔۔۔۔ ” اس نے چیلنج قبول کرتے آبرو اچکا کر کہا۔
“تو دس ہزار دوں گا۔۔۔۔” زارون نے ٹھوس لہجے میں جواب دیا۔
“بس صرف دس ہزار۔۔۔۔۔۔ اتنے تو میری بہن کی بلی ایک ہفتے میں کھاتی ہے۔۔۔۔۔۔ ” ارحام اس کے چیلنج سے دستبردار ہوتے ہوئے اپنا ہوا میں اٹھا ہاتھ پیچھے کر رہا تھا لیکن تب ہی تالم شاہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
” ایک لاکھ دوں گا۔۔۔۔ تمہیں اس لڑکی سے دوستی کرنی ہے اور اسے کِس کرتے ہوئے ویڈیو بنا کر ہمیں دکھانی ہے۔۔۔۔” تالم شاہ نے چیلنج کو قدرے سخت بنا کر واضح کیا۔ سب دوستوں کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ پر کچھ وقت لگے گا دوستی بنانے میں۔۔۔۔۔” وہ بھی ارحام تھا کبھی کسی چیز سے نا ہارنے والا۔ اس نے شرط منظور کر لی۔
Its okay. Take your time….
تالم شاہ نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے آنکھ کا کونا دبایا اور سب نے قہقہہ لگایا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ایکسیوز می۔۔۔۔۔۔ کین آئی ہیلپ یو۔۔۔۔۔” دانین نے اپنے عقب میں مردانہ آواز سنی۔
وہ ایک جھٹکے سے پیچے مڑی۔ ارحام معصومانہ تاثرات بنائے اس کے عین پیچھے کھڑا تھا۔ وہ نفی میں سر ہلاتے آگے بڑھ گئی۔ ایک ہاتھ میں بک تھامے دوسرے سے دوپٹہ اپنے اوپر پھیلاتی وہ سر جھکائے کوریڈور میں چلنے لگی۔
” ہیلو مس۔۔۔۔۔ غلط ڈائریکشن میں جا رہی ہو۔۔۔۔۔ biology ڈیپارٹمنٹ اس طرف ہے۔۔۔۔۔” ارحام نے پیچھے سے آواز لگائی۔
“اسے میرے ڈپارٹمنٹ کا کیسے پتہ چلا۔۔۔۔۔” دانین چلتے چلتے رک گئی۔ دماغ میں جھماکہ سا ہوا۔ وہ مضطرب ہو کر مڑی تو ارحام نے اشارے سے اسے دائیں جانب کوریڈور کے اوپر بڑے بڑے حروف میں پری میڈیکل لکھے بورڈ کے جانب متوجہ کیا۔
“آپ کو کیسے پتا میں کس ڈپارٹمنٹ کی ہوں۔۔۔۔۔” پہلی دفعہ اس نے کسی جوان لڑکے سے ایسے بات کی۔
“بک پر صاف صاف لکھا ہے۔۔۔۔۔” اس نے آبرو اچکا بک کے جانب دیکھا۔
“تھیکنیو۔۔۔۔۔” اس نے سنجیدہ انداز میں کہا اور مطلوبہ کلاس کے جانب بڑھ گئی۔
ارحام تیز نظریں اس پر جمائے اس کی پشت کو دیکھتا آنے والے مناظر سوچ کر مسرور ہونے لگا۔
دانین بہت ہی مذہبی پٹھان گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ چار بہنے اور ایک بھائی تھے۔ دانین کی بڑی دو بہنیں شادی شدہ تھی پھر بھائی تھا جس کا حال ہی میں سرکاری بینک میں ملازمت لگی تھی پھر دانین تھی اور اس کے بعد ایک اور چھوٹی بہن۔
دانین کے بابا بوائز اسکول میں اسلامیات کے استاد تھے۔ قاری حیدر صاحب اپنے دو بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے۔ متواست گھرانے سے تعلق رکھنے والی دانین نے جب میٹرک پاس کر کے آگے پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو اس کے بھائی سمیت سب نے انکار کیا خاص کر اس کے کو ایجوکیشن میں جانے پر کافی واویلا کیا گیا۔ لیکن اس کے بابا نے اسے آگے پڑھنے کی اجازت دے دی۔ وہ اتنی زہین تھی کہ اسے میرٹ کی بنیاد پر اسلام آباد کے سب سے بڑے کالج میں داخلہ مل گیا۔ چونکہ اس نے دسویں تک پڑھائی گرلز اسکول میں کی تھی اس لیے کو ایجوکیشن میں اڈجسٹ ہونے میں کافی دقت پیش آرہی تھی۔ اپنے مستقبل سے انجان دانین بڑے بڑے خواب دیکھتی کالج میں داخلہ ہونے پر بہت خوش تھی لیکن اس کی یہ خوشی ارحام مبشر خاک میں ملانے والا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ہائے۔۔۔۔۔ آئی ایم ارحام۔۔۔۔” اس نے لائبریری میں اس کے سامنے سیٹ پر بیٹھتے ہاتھ آگے کیا۔
“دانین۔۔۔۔” اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے ارحام کا ہاتھ تھام کر مصافحہ کیا۔
دانین کے بغل میں بیٹھی اس کی فرینڈ رومیسہ نے ارحام کو گھورا لیکن وہ اسے نظر انداز کیے صرف دانین کے جانب متوجہ تھا۔
“سب ٹھیک چل رہا ہے نا۔۔۔۔۔ اڈجسٹ ہوگئی یہاں۔۔۔۔۔۔ ویسے کوئی بھی مسئلہ ہو۔۔۔۔۔ تو بے فکر مجھ سے آکر کہہ سکتی ہو۔۔۔۔” ارحام نے معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے کہا۔ دانین نے مسکرا کر سر کو خم دیا۔
“دانین تم اس سے دور رہو۔۔۔۔” ارحام کے جانے کے بعد رومیسہ اس کے جانب مڑی۔
“کیوں۔۔۔۔۔” دانین حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“وہ بلکل اچھا لڑکا نہیں ہے۔۔۔۔۔ سب اسے کالج کا بگڑا نواب بلاتے ہے۔۔۔۔۔” رومیسہ کو ارحام ایک آنکھ نہیں بھایا۔
“ایسا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ ہم اچھے ہو۔۔۔۔ تو سامنے والا بھی اچھا بن جاتا ہے۔۔۔۔۔ دوسروں کے ساتھ جیسا بھی ہو۔۔۔۔۔ میرے ساتھ تو اچھے سے پیش آتا ہے۔۔۔۔۔” دانین کو رومیسہ کی بات بے منتق لگی۔ وہ شانے اچکاتے اس کی نصیحت نظر انداز کر گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔