Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 11
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 11
وہ کوئی قبولیت کا وقت ہی ثابت ہوا۔ ابتہاج کو فرسٹ سمسٹر کی کلاس دے دی گئی۔
زینب کی ساری کلاس میٹس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ ابتہاج کو زیادہ دیر کلاس میں روکنے الٹ پلٹ سوال کرتی کبھی ایکسٹرا کلاس کی خواہش ظاہر کرتی۔ وہ جب بولتا تو سب ہی اس کے لہجے میں کھو جاتے۔ وہ بہت نرم گو اور با وقار مرد تھا۔ جنس مخالف اس پر فریفتہ ہوئے بغیر نہ رہ سکتیں۔
وہی دوسری جانب ابتہاج کی زینب کی طرف دلچسپی بڑھنے لگی۔ وہ کلاس میں ہوتا یا کلاس روم کے باہر ہر وقت صرف زینب کے بارے میں سوچنے لگا۔ اکثر کلاس کے دوران پڑھاتے ہوئے بھی اس کی نظریں زینب پر آکر رک جاتی لیکن اپنے پروفیشن کا خیال کرتے وہ جلد اپنے آپ کو کمپوز کر لیتا۔
“مبارک ہو ٹاپر۔۔۔۔۔ آپ کو تو صرف میتھ میں ہی نہیں۔۔۔۔ ہر سبجیکٹ پر فوقیت حاصل ہے۔۔۔۔۔” مڈ ٹرم امتحانات کے رزلٹ کے دن زینب کے ٹاپ کرنے پر ابتہاج نے اسے مبارکباد پیش کی۔
“تھینکیو سر۔۔۔۔۔ یہ سب میرے پاپا کی محبت اور ممی کی دعاوں کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ میرے سب پروفیسرز کی محنت کا پھل ہے۔۔۔۔” زینب نے اپنی کامیابی والدین اور اساتذہ کرام کے نام کی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ابتہاج اس دن گھر آیا تو اس کی خالہ بھی آئی ہوئی تھی اور دونوں بہنیں موبائل میں کچھ دیکھتی مہو گفتگو تھیں۔
“کیا دیکھ رہی ہو امی جان۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے خالہ کو سلام کرتے امی سے پوچھا۔
حسین صاحب روحان کے ہم منصب ہوتے ہوئے سادہ زندگی کے قائل تھے۔ گیٹ سے داخل ہوتے راہ داری کے دونوں سمت لان تھا۔ ایک لان میں جھولا رکھا ہوا تھا اور دوسرے سمت ٹیبل اور دو کرسیاں۔ گھر میں داخل ہوتے سامنے درائنگ روم تھا۔ دائیں جانب دائننگ روم اور مہمان خانہ تھا اور بائیں جانب اوپر کو سیڑھیاں جاتی تھی۔
دو عدد صوفہ سیٹ اور میزوں سے ڈرائنگ روم کو سجایا گیا تھا۔ اس نفیس سے گھر کے میاں بیوی اور دو بچے مکین تھے۔ بڑا بیٹا ابتہاج اور چھوٹا بیٹا ابتسام۔
“لڑکی دیکھ رہیں ہیں۔۔۔۔۔ تیری خالہ تین اچھی لڑکیوں کے رشتے لائی ہے۔۔۔۔” حورین خانم نے قدرے جتانے والے لہجے میں جواب دیا۔
پچھلے تین سال سے وہ ابتہاج کی شادی کروانے کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی تھی لیکن ابتہاج نوکری مل جانے تک شادی نہ کرنے کی ضد پر اڑا ہوا تھا۔ فل وقت اس کا ابو جان کے ساتھ بزنس جوائن کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ اپنی پسند کا پیشہ اپنانا چاہتا تھا۔
“27 کا ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ اور اب تو سرکاری جاب بھی مل گئی ہے۔۔۔۔۔ یونیورسٹی لیکچرر بن گئے ہو۔۔۔۔۔ اب تو تیری نوکری کی ضد بھی پوری ہوگئی۔۔۔۔۔۔ ” امی جان نے خفگی سے ہونہہ کیا۔
“امی جان ابھی تین ماہ بھی مشکل سے ہوئے لیکچرر لگے۔۔۔۔۔ تھوڑا وقت تو دیں سیٹل ہونے کا۔۔۔۔۔” ابتہاج نے خفہ امی جان کے گرد بازو مائل کر کے انہیں منانے کی کوشش کی۔
“وہ فرح کے دوسرے بیٹے کی بھی شادی ہوگئی۔۔۔۔۔ تجھ سے پانچ سال چھوٹا ہے۔۔۔۔۔” خالہ نے بھی اسی انداز گفتگو میں مداخلت کی۔
“کون فرح۔۔۔۔۔” ابتہاج نے اس نامی خاتون کو یاد کرنے کی کوشش کی۔
“ارے وہ ہے نا۔۔۔۔۔ سعیدہ کے جیٹھانی کے چھوٹی بہن کی نند۔۔۔۔۔ ” خالہ نے دور کے رشتے گنوائے۔ ابتہاج کا منہ کھل گیا اور ان سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھے ابتسام نے اپنی ہنسی روکنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
ابتہاج جانتا تھا وہ بھلے ہی میتھ کا ٹاپ لیکچرر کیوں نہ بن جائے لیکن امی جان اور خالہ جان کے مباحثے کو حل نہیں کروا سکتا اس لیے ہوا میں ہاتھ اٹھائے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
امی جان نے رات کھانے پر ابو جان کے سامنے پھر سے خالہ کے لائے رشتوں کی بات چھیڑ دی۔
حسین صاحب نے بے چارگی سے ابتہاج کو دیکھا وہ منہ بھسورتے رہ گیا۔
“اچھا اوکے امی جان۔۔۔۔ کر لوں گا شادی۔۔۔۔۔ پر اتنا دور کیوں جانا جب پاس میں ہی اتنا اچھا رشتہ ہے۔۔۔۔۔” اس نے امی جان کی خواہش پوری کرنے کا فیصلہ کیا۔
“کون۔۔۔۔۔” ابو جان کی پوری توجہ ابتہاج پر مرکوز تھی۔
“وہ۔۔۔۔۔ یہ رانا ہاوس۔۔۔۔۔ روحان انکل کی بیٹی۔۔۔۔ بہت اچھی لڑکی ہے بلکل جیسی امی جان کو چاہیئے۔۔۔۔۔۔ سوگھڑ۔۔۔۔۔ پڑھی لکھی۔۔۔۔۔ خوبصورت۔۔۔۔۔ با اخلاق۔۔۔۔۔” ابتہاج نے جھجکتے ہوئے زینب کے بارے میں مشورہ دیا۔
“ویسے بات تو ٹھیک کی ہے۔۔۔۔۔۔ زینب سے میں بھی ایک آدھ دفعہ ملا ہوں۔۔۔۔ بہت کمال پچی ہے۔۔۔۔۔” حسین صاحب نے اپنے جذبات کا اضافہ کیا۔
“تو پھر سوچ کیوں رہے ہیں۔۔۔۔ کل ان کے گھر چلتے ہیں۔۔۔۔ میں بھی زرا دیکھ لوں۔۔۔۔۔ کیسی ہے یہ۔۔۔۔ جس کی تعریفیں کرتے میرے میاں اور بیٹا تھک نہیں رہے۔۔۔۔” امی جان کو زینب سے ملنے کا تجسس ہوا۔
اور امی جان کے تجویز پر ان سب نے باہمی رضامندی سے اتوار کے دن روحان کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارحام نے ڈیڈ سے کیے وعدے کے مطابق خود کو سدھارنے کی کوشش کی لیکن دو دن بھی سموکنگ ترک کر کے نہیں رہ سکا۔
اس کا اکاونٹ ابھی بھی فریز تھا۔ اور اسے سیگریٹ لینے پیسوں کی اشد ضرورت تھی۔ اس نے ڈینی اور کچھ قریبی دوستوں سے قرض مانگا لیکن کسی نے اسے قرض تک نا دیا۔
اس شام عائرہ فرسٹ ائیر کے ایڈمیشن فارم جمع کروا کر گھر لوٹی اور فریش ہونے واشروم چلی گئی۔ ارحام اس کے پیٹھ پیچھے کمرے میں داخل ہوا اور اس کے بیگ میں پیسوں کی تلاش کرنے لگا۔
“ارحام۔۔۔۔۔ کچھ چاہیئے۔۔۔۔۔۔” عائرہ نے اسے پکارا
“سس۔۔۔۔ ڈیڈ نے اکاونٹ فریز کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔ مما بھی مجھے پاکٹ منی نہیں دے رہی۔۔۔۔۔ کچھ پیسے چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے پاس ہے کیا۔۔۔۔۔۔” ارحام نے معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا۔
“دیکھو۔۔۔۔ تم اس سے سموکنگ تو نہیں کرو گے۔۔۔” عائرہ نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے پوچھا۔
“نو نو آئی پرامس نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔” بڑی مہارت سے وہ جھوٹ بول گیا۔
“ارحام ہم سب چاہتے ہیں تم اس گندگی سے باہر آجاو۔۔۔۔۔ اس لیے ڈیڈ مما اور میں تمہارے لیے بہت پریشان رہتے ہیں۔۔۔۔ ورنہ تم پر سختی کرنا ہمیں بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔” عائرہ نے مسکراتے ارحام کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے سمجھایا اور بیڈ کے سائیڈ ٹیبل کے بڑے والے خانے میں ایک چھوٹا سا سیف باکس کھولا۔
ارحام بغور اس کی کاروائی دیکھ رہا تھا۔ جیسے جیسے عائرہ کی انگلیاں سیف کا کوڈ دبا رہی تھی ویسے ویسے ارحام کوڈ زہن نشین کر رہا تھا۔
“سنبھل کر استعمال کرنا۔۔۔۔۔” اس نے بیس ہزار نکل ارحام کو تھمائے۔
“تھینکیو سس۔۔۔۔۔۔۔ میری پیاری سس۔۔۔” اس نے تیزی سے پیسے لیتے عائرہ کو آغوش گھیر کرتے پیار جتایا۔
جاتے جاتے اس نے ہاتھ اٹھا کر دو انگلیاں باہم ملائے اس نے دوستی کا اشارہ کیا۔ عائرہ نے بھی اسی انداز ہاتھ اٹھا کر دو انگلیاں باہم ملائے سر کو خم دیا۔ یہ ان کے پیار اور دوستی کا نشان تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سنڈے کو دن سے ہی رانا ہاوس میں مہمانوں کی خاطر داری کرنے کے انتظامات شروع کئے گئے۔ کرن اپنی نگرانی میں لوازمات بنوا رہی تھی اور نور صاف صفائی کروانے لگی تھی۔
“پتا نہیں ایسی کیا بات کرنی ہے حسین کو۔۔۔۔ خاص کہلوایا ہے کہ سارے بچے بھی گھر پر ہو۔۔۔۔۔ اتنا ضروری کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔” روحان پر سوچ انداز میں کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔
“تو پریشانی کی کیا بات ہے۔۔۔۔ شام کو پتہ چل ہی جائے گا۔۔۔۔ اللہ خیر کریں گا۔۔۔۔” رانا صاحب نے لان میں پودوں کو پانی دیتے اسے تسلی دی۔ چھٹی کے دن گارڈینگ کرنا رانا مبشر کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شام کو حسین صاحب اور حورین خانم رانا فیملی کے ہمراہ ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ ذیشان کمپیوٹر کی ایکسٹرا کلاس لینے گیا ہوا تھا اور ارحام بھی منظر عام سے غائب تھا جبکہ سفیان پاپا کے ساتھ میزبان بنا رہا۔
زینب اور عائرہ سلام کرتی ملازمہ کے ساتھ چائے کے لوازمات اٹھائے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔
“کیسی ہے آپ زینب۔۔۔۔۔ ” حسین صاحب نے کھڑے ہوکر زینب کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے لاڈ کیا۔
“ٹھیک ہوں انکل۔۔۔۔۔” اس نے خوش دلی سے جواب دیا۔
حورین خانم کی تو زینب پر سے نظریں نہیں ہٹ پا رہی تھی۔ انہیں اپنے بیٹے کی پسند واقعی بہت پسند آئی۔ انہوں نے پلکیں جھپکا کر اپنے میاں کو رضامندی دی تو وہ کنکارتے ہوئے روحان سے مخاطب ہوئے۔
“روحان۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں۔۔۔۔ ہماری دوستی رشتہ داری میں بدل جائے۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے ابتہاج کے لیے آپ کی زینب بہت پسند ہے۔۔۔۔۔۔” انہوں نے امید بھری نگاہ سے روحان کو دیکھا۔
کچھ پل ڈرائنگ روم میں خاموشی چھا گئی۔ روحان اور نور میں حیرت انگیز نظروں کا تبادلہ ہوا۔ رانا صاحب کے چہرے پر خوشی سے مسکراہٹ پھیل گئی۔ کرن نے خوش ہوتے زینب کے جانب دیکھا وہ بلش کرتی نظریں جھکاتی ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔
“زی آپی۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے ہممممم۔۔۔۔۔ کیا جادو کر دیا آپ نے پروفیسر بھائی پر۔۔۔۔۔ ڈائریکٹ رشتہ بھیج دیا انہوں نے۔۔۔۔۔” عائرہ زینب کو چھیڑتی اس کے پیچھے بھاگ آئی۔
“شششش۔۔۔۔۔ آہستہ بولو۔۔۔۔۔۔” زینب کسمساتی اسے خاموش کروانے لگی۔
“کیا کہا روحان پاپا نے۔۔۔۔۔” سفیان کو ڈرائنگ روم سے باہر آتے دیکھ عائرہ نے اس سے پوچھا۔
“ابھی بات چل رہی ہے۔۔۔۔۔۔ ویسے زی۔۔۔۔۔ دکھنے میں کیسا ہے یہ ماسٹر جی۔۔۔۔ ” سفیان نے زینب کے کندھے پر کہنی رکھتے پوچھا۔
زینب شرماتے ہوئے اس کا ہاتھ جھٹک کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“آپ کے ساتھ رشتہ جوڑنا میری خوش قسمتی ہوگی۔۔۔۔۔ اور ابتہاج تو اپنا بچہ ہے۔۔۔۔۔ میرے سامنے پلا بڑا ہے۔۔۔۔۔ ایسا داماد تو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا مجھے۔۔۔۔۔” روحان نے حسین صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا۔
“پر حسین صاحب۔۔۔۔۔۔ میری زینب مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔۔ اس کے اقرار کے بغیر میرے لیے کوئی بھی فیصلہ کرنا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں اس سے مشورہ کر کے آپ کو کال کروں گا۔۔۔۔” روحان نے رانا بھائی کو دیکھا تو انہوں نے بھی اس کی حمایت کرتے سر اثابت میں ہلایا۔
“جی بہتر۔۔۔۔۔ بلکل درست فیصلہ ہے آپ کا۔۔۔۔۔ زینب کی رضامندی لازمی ہونی چاہیئے۔۔۔۔۔ مجھے آپ کے کال کا اتنظار رہے گا۔۔۔۔” حسین صاحب نے روحان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسکین دلائی۔
جاتے ہوئے حورین خانم کے خاص بلاوے پر زینب دوبارہ ان سے ملنے آئی۔ اس دفعہ حسین صاحب کے ساتھ ساتھ حورین خانم نے بھی اس کی تعریف کرتے اسے لاڈ کیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اگلے دن زینب، ابتہاج کی کلاس لینے سے جھجک رہی تھی۔ جس سے رشتے کی بات چل رہی ہو لڑکی غیر ارادی طور پر اس سے شرماتی ہے سامنے جانے سے جھجکتی ہے۔ یہ قدرتی فعل ہوتا ہے۔ زینب بھی آج اسی کشمکش سے دو چار تھی۔
“تم لوگ جاو۔۔۔۔ میں بعد میں آتی ہوں۔۔۔۔” کلاس تک آکر زینب رک گئی۔ اس کی فرینڈز گروپ نے حیرت انگیز نظروں کا تبادلہ کیا۔
“تم کلاس بنک کر رہی ہو۔۔۔۔۔ وہ بھی ابتہاج سر کی۔۔۔۔۔” ایک فرینڈ نے چونک کر استفسار کیا۔ زینب ان کے گروپ کی واحد لڑکی تھی جو پڑھائی کے معاملے میں ہمیشہ سیریس رہتی اور آج یہ انکشاف سن کر ساری فرینڈز دنگ رہ گئی تھی۔
“بنک نہیں کر رہی۔۔۔۔۔ بس لائبریری میں کچھ کام ہے۔۔۔۔۔ نوٹس نہیں بنائے نا۔۔۔۔ بنا کر آتی ہوں۔۔۔۔” زینب نے ہچکچاتے ہوئے نظریں چرائی اور مزید بحث کئے بغیر تیز تیز روانہ ہوگئی۔
وہی دوسری جانب زینب کو غیر حاضر پا کر ابتہاج کو کھٹک محسوس ہوئی۔ کلاس ختم ہونے کے بعد اس کی فرینڈز سے پوچھ کر وہ خود زینب سے بات کرنے لائبریری آگیا۔
“میں نے آپ سے بنا پوچھے پروپوزل بھیج دیا۔۔۔۔۔ آپ کو برا تو نہیں لگا۔۔۔۔۔” ابتہاج نے ایک بک ریک کے پاس زینب کو روکا۔
“نہیں برا کیوں لگے گا۔۔۔۔۔ یہ سب فیصلے تو گھر کے بڑے ہی کرتے ہیں۔۔۔۔۔” زینب، ابتہاج سے نظریں ملانے سے کترا رہی تھی۔
“پر میرے لیے آپ کی پسند جاننا بہت اہم ہے۔۔۔۔ آپ کو فیملی کے دباو میں آکر کمپرومائز کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کو میں پسند نہیں ہوں تو آپ مجھے بتا دیں۔۔۔۔ میں خود ہی اس رشتے سے دستبردار ہو جاوں گا۔۔۔۔۔” آسان رائے حل نکالتے ابتہاج نے نا چاہتے ہوئے بھی اسے تجویز دی۔
“میری پسند نا پسند کا فیصلہ میرا جڑواں بھائی کرے گا۔۔۔۔۔ اگر آپ ایک دفعہ اس سے مل لیں۔۔۔۔۔۔ میرے لیے بہت آسانی ہوجائے گی۔۔۔۔۔ ذیشان کو آپ پسند آگئے تو سمجھے مجھے بھی پسند ہیں۔۔۔۔۔” زینب نے امید بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔
“شیور۔۔۔۔۔ آپ میرا کانٹیکٹ نمبر اسے دیں دے۔۔۔۔۔۔ میں اس سے جلد مل لوں گا۔۔۔۔” ابتہاج نے خوشی خوشی اس کی آفر قبول کی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(حال)
عائرہ اپنا پنک کلر نائٹ ڈریس پہن کر بالوں کی ڈھیلی چٹیاں باندھے ہاتھوں پر کوئی کریم لگاتی ڈریسنگ روم سے باہر آئی تھی کہ اس کے کمرے کی لائٹس آف ہوگئی۔ ابھی وہ شاکی انداز میں سویچ بورڈ کے جانب ایک قدم بڑھی کہ کسی نے پیچھے سے آکر اسے کمر سے اٹھا لیا اور دیوار سے لگا کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
ایک پل کو وہ واقعی ڈر گئی تھی اور چیخ مارنے لگی تھی لیکن اگلے پل سنبھل گئی اس لمس سے اس مہک سے ان سانسوں سے وہ خوب واقف تھی۔
“تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔ ” عائرہ نے سہمے انداز میں اپنے منہ پر سے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے سرگوشی کی۔ رات کے اس پہر بھی وہ چیک شرٹ اور بلیو جینز میں ملبوس ساتھ میں بلیک جیکٹ پہنے چارمنگ سا تیار تھا عائرہ کو اس کے ہولیہ پر شک سا ہوا۔
“تمہاری بہت یاد آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچ رہا تھا جانے سے پہلے مل لوں۔۔۔۔۔” اس نے عائرہ کے چہرے پر آتی لٹوں کو پیچے کرتے ہوئے کہا۔
اندھیر کمرے صرف چاندنی کی ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
“کہی جا رہے ہو۔۔۔۔” عائرہ کا دل دھڑک گیا۔
“ہمممم ایک ضروری کام سے یورپ جا رہا ہوں۔۔۔۔۔ ایک ماہ کے لیے۔۔۔۔۔ دو گھنٹے بعد فلائٹ ہے۔۔۔۔” اس نے خجالتی انداز میں شانے اچکائے۔
فرانس کو مخصوص کرنے کے بجائے اس نے یورپ کہا۔
“دو گھنٹے بعد فلائٹ ہے اور اب بتا رہے ہو۔۔۔۔
اتنی زحمت بھی کیوں کی۔۔۔۔۔ وہاں پہنچ کر ہی کال کر لیتے۔۔۔۔”عائرہ کو ناراض ہونے میں ایک سیکنڈ نہیں لگا۔ وہ اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔
“کام میں بزی ہوگیا تھا بتانے کا موقع نہیں ملا۔۔۔۔” اس نے چھوڑنے کے بجائے اسے مزید بانہوں میں بھینج لیا۔
“چلو اب ناراض مت ہو اچھے سے خوشی خوشی رخصت کرو۔۔۔۔” اس نے معصومیت سے التجا کی۔
“اوکے۔۔۔۔ خیریت سے جانا اور اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔ اللہ کریں تم جس کام کے لیے جا رہے ہو وہ پورا ہوجائے۔۔۔۔ مجھے کال کرتے رہنا۔۔۔۔۔۔” عائرہ کا دل تو نہیں چاہا پر اس کا دل رکھنے مسکرا دی۔
“اپنے ہی زبانی اپنے بھائی کو پکڑ لینے کی دعا دے دی تم نے عائرہ۔۔۔۔۔۔ اب تو ارحام کو مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔۔۔ چچ چچ سو سیڈ۔۔۔۔۔” اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ ارحام کو سوچتے استحزیہ مسکراتے اس عائرہ کے چہرے کے گرد ہاتھوں کا پیالہ بنایا۔
“ایسا خالی خالی گڈ بائے۔۔۔۔۔۔” عائرہ اس کی بانہوں میں ہو اور اس کا دل نا مچلیں ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔
“مطلب۔۔۔۔۔” عائرہ نے اس کی شریر مسکراہٹ سے گھبراتے سوال کیا۔
لفظوں سے مطلب سمجھانے کے بجائے اس نے عائرہ کے گردن پر اپنے ہونٹوں کا قبضہ جما لیا۔ عائرہ اس کی قربت سے کسمسا گئی پر وہ خود کو اس کی حصار سے الگ نا کر سکی۔
اس پر جھکے اپنا پیار لٹاتے جب اس نے شدت عشق میں ڈوبے عائرہ کی ہونٹوں کا رخ کیا تو اس نے بیچ میں اپنا ہاتھ مائل کر کے اسے روک دیا۔
عائرہ کی اس رکاوٹ پر اس نے تیز تیز سانس لیتے چاندنی کی روشنی میں چمکتے عائرہ کے شفاف چہرے کو دیکھا تو وہ نفی میں سر ہلاتے اس مزید بہکنے سے منع کر رہی تھی۔
“جان۔۔۔۔۔ ہماری محبت اپنے تکمیل کو ضرور پہنچے گی۔۔۔۔۔ بھروسہ رکھو۔۔۔۔۔۔ بس۔۔۔۔ تھوڑا اور صبر کر لو۔۔۔۔۔” عائرہ نے اس کے گرد بازو مائل کئے ہوئے مدھم آواز میں سرگوشی کی۔
اس کے تاثرات بدل گئے وہ لبما سانس خارج کرتا اس کے حصار سے دور ہوا اور اپنے شرٹ کی شکن درست کرنے لگا۔ عائرہ کے چہرے پر مایوسی چھا گئی تھی۔ اس نے اپنے محبوب کو ناراض کر دیا تھا۔
“مجھے چلنا چاہیے۔۔۔۔۔۔ ائیر پورٹ کے لیے دیر ہوجائے گی۔۔۔۔” آواز کا شکستہ لہجہ عائرہ کے خدشات حقیقت میں بدل دینے کو کافی تھا۔
اس نے عائرہ کے جانب دیکھے بغیر ہی قدم دروازے کے جانب بڑھائے اور دروازہ کھول کر تیز نظروں سے لاؤنج میں جھانکا۔
رانا ہاوس میں دن کو بھی کسی کا نام و نشان نہیں ملتا تھا رات کو کہاں ملنا تھا۔ وہ بنا آواز کئے دبے پاوں سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔ اور ہلکے ہاتھ سے لاونج کے دروازے کا ناب گھمایا۔
“جان۔۔۔۔ ” عائرہ کی مایوس کن آواز اس کے سماعتوں میں پڑی۔ وہ اس کے پیچھے لاونج تک آگئی تھی۔
“پہنچ کر کال کروں گا۔۔۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔۔ بائے جان کی جان۔۔۔۔۔” اس نے وقت رہتے اپنے آپ کو کمپوز کرتے ہوئے کہا۔
عائرہ بھیگی آنکھوں سے مسکرائی اور اس کے سینے سے جا لگی۔ اس نے اس کے گرد بازو مائل کر کے اس کی سر پر بوسہ دیا اور چھپ کے سے باہر کو نکل گیا۔
اس کے جاتے عائرہ بے دلی سے اپنے کمرے میں آئی اور اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گئی۔ نا جانے یہ دوریاں کب ختم ہونے کو تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پیرس کی اس شام کا موسم بہت ہی دلکش تھا۔ ٹھنڈی ہواؤں نے شہر کا رخ کیا ہوا تھا اور ہلکے ہلکے بادل آسمان پر چھانے لگے تھے۔
حدیل قریب ہی کے ایک کافی شاپ سے دو عدد کولڈ کافی کے گلاسس اٹھائے فٹ پاتھ پر چل رہی تھی کہ ٹھٹک کر رک گئی۔ سامنے ارحام وائٹ شرٹ اور جینز پہنے، بال اور شیو اسٹائل سے تراشے، پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ایک خوبصورت ٹین ایج لڑکی سے مہو گفتگو تھا۔
وہ لڑکی بات بات پر ہنستی ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتی اور ارحام بغیر کسی ردعمل کے اسے ہنستا ہوا دیکھ رہا تھا۔
حدیل کے عصاب تن گئے۔ وہ تیز تیز چلتی ان کے قریب آئی اور ارحام کو پیچھے کرتے خود اس لڑکی کے سامنے آگئی۔
حدیل نے سر تا پیر اسے گھوری سے نوازا۔ ان سبز آنکھوں کی پتھر نگاہ دیکھ کر وہ لڑکی قدرے گھبرا گئی اور وہاں سے روانہ ہوگئی۔
“کون تھی۔۔۔۔” اب اس کا رخ ارحام کے جانب تھا۔ وہ اپنی مسکراہٹ دبائے بینچ پر آکر بیٹھ گیا۔
وہ دونوں اس وقت آئفل ٹاور کے سامنے pont d’léna bridge پر موجود تھے۔ Eiffel Tower دنیا کے خوبصورت عجوبوں میں سے ایک ہے۔ اسے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ شروعات میں فرانس کے کئی آرٹسٹ کے جانب سے اس پر تنقید ہوئی پھر یہ گلوبل سطح پر ثقافتی کنبہ بن گیا جسے آج پوری دنیا جانتی ہے۔ پیرس کا یہ سب سے خوبصورت شاہکار زور ہزاروں سیاحون کے توجہ کا مرکز ہوا ہوتا ہے۔
“پتا نہیں ٹورسٹ تھی۔۔۔۔ صرف ایڈرس پوچھ رہی تھی مجھ سے۔۔۔۔” ارحام نے پیر جھلاتے ہوئے لا پرواہی سے جواب دیا۔
“اتنا ہنس ہنس کر۔۔۔۔۔ اور ٹچ کیوں کر رہی تھی۔۔۔۔۔” حدیل کے غصے میں زرا برابر کمی نہیں آئی۔
“ہمممم اچھی لڑکی تھی۔۔۔۔۔ میں پہلی ہی ملاقات میں بے مروتی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔” جواب اب بھی لاپروا انداز میں دیا۔
“سنو مسٹر۔۔۔۔۔۔۔ تم صرف میرے ہو۔۔۔۔۔۔ مجھے دوبارہ کوئی لڑکی تمہیں ٹچ کرتے ہوئے نا ملے۔۔۔۔۔۔۔” حدیل نے کافی کے گلاسس بینچ پر رکھے اور جھک کر اس کا کالر دبوچ کر اسے اپنے چہرے کے قریب گیا۔
چند لمحے سیاہ آنکھوں پر سبز آنکھوں کا سحر سر چڑھنے لگا لیکن اگلے ہی پل کو ارحام نے حدیل کے ہاتھ جھڑکے اور اپنے کافی کا گلاس اٹھا کر وہاں سے جانے لگا۔ حدیل شاک ہوگئی۔ اسے احساس ندامت نے گھیر لیا تھا۔ ارحام نے اس کا پروپوزل منظور نہیں کیا تھا وہ یوں اس پر حق نہیں جتا سکتی تھی۔
“ارحام۔۔۔۔۔۔ سٹاپ۔۔۔۔۔ ایسا کیوں بہیو کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔” حدیل بھاگتے ہوئے اس کے سامنے آگئی۔
“اچھا آئی ایم سوری۔۔۔۔۔” معاملہ رفع دفع کرنے اس نے بحث سے پہلے ہی معذرت کر لی۔
“تم پیار میں پوزیسیو ہوتی جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔ اور مجھے ڈر ہے اس سے ہماری دوستی بہت متاثر ہوجائے گی۔۔۔۔۔ تم ایسی تو نا تھی۔۔۔۔۔ تم بہت بہادر اور نڈر تھی۔۔۔۔۔ ایک ساتھ چار غنڈو سے لڑنے کی ہمت رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ پر اب یہ پیار محبت عشق۔۔۔۔۔۔ یہ سب تمہیں کمزور بنا رہیں ہیں۔۔۔۔۔ خود کو سنبھالو حدیل۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو پہچانو۔۔۔۔۔۔” نا چاہتے ہوئے بھی اس کی آواز سرد اور بے لچک ہوگئی۔
حدیل کے گلے میں آنسووں کا پھندا لگنے لگا۔ وہ لب کاٹتی رونے سے گریز کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
“اوکے میں آج کے بعد ایسا بہیو نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔ پلیز موڈ مت خراب کرو۔۔۔۔۔” اس نے ارحام کا بازو تھام کر التجا کی۔ ارحام کی محبت اس کے نصیب میں نہیں تھی مگر وہ اس کی دوستی کھونے کی بلکل خواہشمند نہیں تھی۔
ارحام ایک غصیلی نظر اس پر ڈال کر سنجیدہ سا دوسرے بینچ پر بیٹھ گیا اور کافی پینے لگا۔ حدیل کا دل بد مزہ ہوگیا تھا وہ بھی اداس سی اس کے پہلو میں بیٹھ کر سامنے پانی میں اٹھتی لہروں کو دیکھنے لگی۔
“کیا واقعی پیار اسے کمزور بنا رہا ہے۔۔۔۔۔ کیا واقعی وہ بدل گئی ہے۔۔۔۔۔۔ کیا اب وہ کسی خوف کا شکار ہے۔۔۔۔۔” بہت سے سوال دل میں امڑ رہے تھے اور جواب صرف ایک تھا۔
“ہاں وہ ارحام کو کھو دینے سے ڈرتی ہے۔۔۔۔۔ اس کے دور چلے جانے کا خوف اسے کمزور دیتا ہے۔۔۔۔۔ ” حدیل کے چند آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر بہنے لگے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(ماضی)
رانا ہاوس کے بڑے لان میں گھاس پر بیٹھے وہ چاروں لڈو کھیل رہے تھے۔ ارحام تو سب سے پہلے ہی جانتے بوجھتے آوٹ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔ زینب کا دھیان ذیشان کے جانب لگا ہوا تھا جو تھوڑی دیر پہلے ابتہاج سے ملنے کے لیے نکلا تھا۔
پیچھے بچے سفیان اور عائرہ جو ڈٹے رہے اور جم کر مقابلہ کرتے رہے۔
“یاررررر۔۔۔۔۔۔ میں نہیں کھیل رہی۔۔۔۔۔ تم چیٹنگ کر رہے ہو۔۔۔۔۔” عائرہ نے منہ بنائے سفیان کو ڈپٹا۔
“اچھا اچھا۔۔۔۔ یہ لو بس۔۔۔۔۔” اس نے گٹی واپس ایک اسٹیپ پیچھے کر دی۔ اسے عائرہ کو تنگ کرنے میں بہت مزا آرہا تھا۔
ارحام موقع کا فائدہ اٹھاتا ان کی نظروں سے بچتے اوپر عائرہ کے کمرے میں گیا اور دروازے کو لاک لگا کر اس کے سائیڈ ٹیبل کا سیف کھولنے لگا۔
پورے گیم میں اچھا خاصا تنگ کر کے آخر میں سفیان جان بوجھ کر ہار گیا۔
“ییییییی۔۔۔۔۔۔۔ میں جیت گئی۔۔۔۔۔ ” عائرہ خوشی سے چہک گئی۔
“وہ تو تم بہت پہلے سے جیتی ہوئی ہو۔۔۔۔۔۔ میرا دل۔۔۔۔۔۔۔” سفیان عائرہ کے ہنسی پر دل ہارتا مخمور انداز میں بولا۔
19 سالا عائرہ اس کی نظروں سے جھجکتے ہوئے اٹھی اور شرماتی گھر کے اندر بھاگ گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائرہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی کہ ٹھٹک گئی۔ سامنے ہی ارحام جیب میں کچھ چھپاتا بوکھلا گیا تھا۔
“ارحام۔۔۔۔ کچھ چاہیئے۔۔۔۔۔؟” عائرہ نے نرمی سے پوچھا۔
“نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ “خود کو کمپوز کرتا وہ جانے لگا لیکن عائرہ دروازے کے سامنے سپاٹ تاثرات بنائے کھڑی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ارحام کے جیب ٹٹولنا شروع کیئے۔
ارحام مزاحمت کرتا اس کا ہاتھ جھڑکنے لگا۔
“کیا چھپا رہے ہو۔۔۔۔۔ ادھر دکھاو۔۔۔۔۔” عائرہ زبردستی اس کے جیکٹ کی جیب مضبوطی سے پکڑے اسے فرار ہونے سے روک رہی تھی۔
“ہٹو۔۔۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔۔ لگ جائے گی تمہیں۔۔۔۔۔” وہ عائرہ کو خود سے دور کرتا ہاتھ چلانے لگا۔
“تم نے میرے سیف سے پیسے نکالے ہیں۔۔۔۔۔۔ اب تم گھر کے اندر ہی چوری کرنے لگ گئے۔۔۔۔۔ ادھر دو۔۔۔۔” عائرہ کی اس کے جیب میں پیسوں کی گٹی پر نظر پڑی تو ڈانٹنے لگی۔
“ہاں تو اپنے باپ سے جا کر کہو اکاونٹ ان فریز کر دیں۔۔۔۔۔” ارحام طیش میں سارے لحاظ کو بالائے طاق رکھتا غرایا۔
“تمیز سے بات کرو۔۔۔۔۔ تمہارے بھی ڈیڈ ہے وہ۔۔۔۔ اور میں ان کے خلاف کوئی غلط لفظ نہیں سنوں گی۔۔۔۔۔” عائرہ کی آواز اونچی ہونے لگی وہ غصے سے ارحام کو گھور رہی تھی۔
“پتا ہے کتنی بڑی چمچی ہو ان کی۔۔۔۔۔ ڈیڈ ایسے ہوتے ہیں ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔ سارے دوست ہنستے ہیں مجھ پر۔۔۔۔۔۔ کس لیے بنا رہے ہیں اتنی بڑی ایمپائر جب مجھے ایک ایک روپیہ کے لیے جواب دینا پڑے۔۔۔۔۔۔” ارحام کا غصہ زرا برابر بھی کم نا ہوا۔
“وہ تمہاری بھلائی کے لیے ہی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتے تم مزید گندگی میں چلے جاو۔۔۔۔” اب کی بار عائرہ کی آواز میں افسردگی در آئی تھی۔
“نہیں چاہیئے ایسی بھلائی۔۔۔۔۔ مجھے اپنی مرضی سے لائف جینی ہے۔۔۔۔۔ ڈیڈ کے اشاروں پر نہیں۔۔۔۔۔” وہ بے زاری سے کہتے وہاں سے نکل گیا اور عائرہ مایوسی سے اسے جاتے دیکھنے لگی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔
