60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 7

ٹھیک 12 بجے ایک بڑا سا کیک حدیل کے سامنے پیش ہوا اور وہ چہکتے ہوئے کیک کٹ کرنے لگی۔
ارحام نے اس کے پہلو میں کھڑے تالیاں بجاتے اسے وش کیا۔ حدیل نے مشکور ہوتے کیک کا ٹکڑا سب سے پہلے ارحام کو ہی دیا۔ ابھی کیک کھانے اور کھلانے کی ہی تقریب چل رہی تھی جب ارحام کو اپنا سر بھاری ہوتا محسوس ہوا۔ اس نے تعجب سے آس پاس دیکھا۔ کلب کے لائٹس اور انسان سب گڈمڈ ہونے لگا۔
وہ بار بار پلکیں جھپکاتے اور سر جھٹکتے خود کو سنبھالے رکھنے کی کوشش کرتا رہا لیکن زیادہ دیر ٹِک نہیں پایا اور لڑکھڑانے لگا۔ حدیل اپنی فرینڈز کو کیک کھلانے میں مصروف تھی وہ ارحام کے جانب متوجہ نہیں تھی لیکن ریمو کی آنکھوں کی چمک اور شرارت بھری مسکراہٹ دیدنی تھی۔
ہر گزرتے پل کے ساتھ ارحام کی حالت غیر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ لڑکھڑاتے ایک ویٹر سے ٹکرا گیا اور اس ویٹر کے ہاتھوں سے جب گلاس کا ٹرے گرنے پر ماحول میں شور برپا ہوا تب حدیل نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور ارحام کا زرد رنگ دیکھ کر حواس باختہ ہو کر اس کے جانب لپکی۔
“ارحام۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک تو ہو۔۔۔۔۔ کیا ہوا تمہیں۔۔۔۔۔” اس نے ارحام کو گرنے سے بچانے کی کوشش کرتے صوفے پر بیٹھا دیا۔
نشے میں دھت ارحام کو حدیل کے ہونٹ حرکت کرتے تو نظر آئے لیکن وہ اس کے کسی بھی فقرے کو سمجھنے کی سکت نہیں کر پا رہا تھا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح ارحام کی نیند آنکھوں پر تیز روشنی پڑنے سے کھلی۔وہ اپنے کمرے میں اپنے بیڈ پر بائیں کروٹ پر لیٹا ہوا تھا۔ اور سامنے کھڑکی سے آتی آفتاب کی تیز شعاعوں نے اس کی نیند خراب کر دی تھی۔ کل رات بھر کے برسات کے بعد آج دن کا سورج کافی روشن تھا۔
اس نے بہ مشکل آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ اس کے پورے جسم میں شدید ٹیس اٹھ رہی تھی۔ وہ اپنا سر پکڑے اسسسس کرتا کروٹ بدل کر سیدھا ہوا۔ ہلکی ہلکی پیشانی دباتے ہوئے اس کا اپنے بازو پر دھیان گیا۔ بازو پر سے نظریں سینے پر جا ٹھہری تو وہ شرٹ لیس تھا۔
اس نے درد کی وجہ سے واپس آنکھیں بند کر دی اور رات کے واقعات یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
وہ واپس کیسے آیا۔ بغیر کھڑکی کا پردہ برابر کیے اور بنا نائٹ ڈریس پہنے وہ نیم برہنہ حالت کیسے سوگیا؛ اس نے ذہن پر زور دیا لیکن کچھ یاد نا آسکا۔ اسی کشمکش میں مبتلا وہ دائیں کروٹ پر ہوا ہی تھا کہ ٹھٹک کیا۔ ایک جھٹکے سے اس کی آنکھیں پوری کھل گئی۔ چند ثانیے وہ سانس لینا ہی بھول گیا۔ حدیل اس کے ساتھ بیڈ لیٹی پر گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔
ارحام کو دھچکا لگا وہ فورا سے اٹھ بیٹھا اور آنکھیں رگڑئیں کہ کہی وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا لیکن وہ خواب نہیں تھا شفاف حقیقت تھی۔ اسے سیچویشن سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ اس نے حیرانگی سے پھر سے سوئی ہوئی معصوم حدیل کے چہرے کو دیکھا۔ اس نے گردن تک بیڈ شیٹ لی ہوی تھی۔
ارحام کے دل میں وسوسے امڑ رہے تھے۔ دماغ میں الگ الگ خیالات کی جنگ سی چڑھ چکی تھی۔
وہ کچھ پل کو اپنا درد بھلائے پھر سے پارٹی کے بعد کا واقعہ یاد کرنے لگا لیکن ساری کوششیں بے سود تھی اسے کچھ یاد نا تھا۔ بے بسی سے آس پاس دیکھتے اس کی نظریں فرش پر بکھرے اپنی شرٹ سمیت حدیل کے کپڑوں پر پڑی۔ اس کے خدشات حقیقت میں تبدیل ہونے لگے۔ ارحام کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ وہ پلک تک نہ جھپکا سکا۔
“نو نو نو۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔ ارحام۔۔۔۔۔ یو کانٹ ڈو دس ٹو ہر۔۔۔۔۔۔ you can’t do this to her۔۔۔۔۔۔”وحشت کے حال میں وہ بیڈ پر سے اتر گیا اور سر پکڑ کر پھر سے سوچنے کی کوشش کی۔
“آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔ کچھ یاد کیوں نہیں آرہا۔۔۔۔۔” وہ کراہ اٹھا۔ سیاہ آنکھیں ڈبڈبا گئی تھی۔
“نہیں۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ تُو ایسا نہیں کر سکتا ارحام۔۔۔۔۔ ڈیم اٹ۔۔۔۔۔۔ یہ سب سچ نہیں ہے۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔تم حدیل کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ نو۔۔۔۔ نو۔۔۔۔” وہ 19 سالا نوجوان گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔
ذہن کے پردوں پر ایک بوسیدہ یاد لہرائی۔
“ایک بات یاد رکھنا ارحام۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے ماضی میں جتنے بھی برے کام کیئے ہو۔۔۔۔۔ لیکن میں نے کبھی کسی عورت کی عزت داغ دار نہیں کی۔۔۔۔۔ میں جیسا بھی تھا smoker drinker cruel rude strict man۔۔۔۔۔ مگر زانی نہیں تھا۔۔۔۔۔ اور اگر تم نے یہ حد پار کی۔۔۔۔۔ تو میرا جنازہ دیکھنا بھی تم پر حرام ہے۔۔۔۔۔ یہ بات کبھی مت بھولنا۔۔۔۔” رانا مبشر کی، اپنے دل عزیز ڈیڈ کی رعب دار آواز اس کے سماعتوں میں گونجنے لگی۔ اس کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔ اپنے ڈیڈ کی وارننگ یاد کرتے اور سامنے حدیل کے بکھرے کپڑے دیکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حدیل کی آنکھیں کسی کی بھاری سسکیوں سے کھلی۔ اس نے عنودگی کے حالت میں پلکیں جھپکاتے ہوئے سامنے دیکھا تو بیڈ کا وہ حصہ خالی تھا اور ارحام فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھے ہاتھ فرش پر ٹکائے بچوں کے جیسے رو رہا تھا۔
“او گاڈ۔۔۔۔۔ ارحام۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔۔ why are you crying” حدیل کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ جھٹ سے چادر پرے پھینکتی ارحام کے پاس گئی اور اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیئے پریشانی سے دیکھنے لگی۔
“مجھے کچھ یاد نہیں حدیل۔۔۔۔ i don’t know۔۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا میں نے کیا کر دیا ہے۔۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔۔ پلیزززز۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔۔” روتے ہوئے ارحام نے نظریں اٹھا کر حدیل کو دیکھا تو وہ اس کے نائٹ ڈریس کے ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں تھی۔ اس کا دل مزید ڈوب گیا۔ اس کا من کیا وہ خود کو شوٹ کر دے۔
“میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔ مجھے نہیں یاد کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔ حدیل میں تمہیں ہرٹ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔” وہ روہانسی ہوکر پھر سے وضاحت دینے لگا اس کی آواز کانپنے لگی تھی۔
“ارحام پلیزززز ریلکس۔۔۔۔۔ تم نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔ ٹرسٹ می۔۔۔۔۔ میں صرف تمہارے بغل میں سو رہی تھی۔۔۔۔۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے بیچ کچھ ہوا ہے۔۔۔۔۔” حدیل نے اسے چپ کرواتے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ دیا۔
وہ پورا پچھتاوے میں ڈوب گئی تھی۔ اسے رات یہاں رکنے کی اپنی حماقت پر شدید غصہ آنے لگا۔ نا جانے اس نے ارحام کے کونسے زخم تازہ کر دئیے تھے۔
“تم اچانک بے ہوش ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں سمینول کے کی مدد سے یہاں لے کر آئی۔۔۔۔ تب تک بارش بہت تیز ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ میں already بہت بھیگ گئی تھی۔۔۔۔۔ میرا گھر جانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔۔۔۔ رات بھی بہت ہورہی تھی اس لیے یہی سو گئی۔۔۔۔۔ بس اتنی سی بات ہے ارحام۔۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔” حدیل نے آزردگی سے اسے رات کی روداد سنائی۔
Iam pure like a crystal….. you haven’t done anything…..
حدیل نے ترحم آمیز نگاہوں سے ارحام کی بھیگی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے یقین دہانی کروائی۔
“تم بہت اچھے ہو۔۔۔۔۔ تم میری زندگی کے وہ واحد مرد ہو جو مجھے اپنی جان سے بھی قیمتی اور معتبر ہے۔۔۔۔۔۔ میں تم پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔” اس کی سبز آنکھوں میں نمی امڑنے لگی۔ وہ بہت مدھم اور نرم لہجے میں گویا تھی۔
“میں ایسا بلکل نہیں ہوں۔۔۔۔۔ مت کرو مجھ پر اتنا اعتبار۔۔۔۔۔۔ برباد ہوجاو گی۔۔۔۔ میری ایمیج بہت خراب ہے۔۔۔۔۔ میرا پاسٹ۔۔۔۔۔۔” ارحام کے آنسو تھم چکے تھے وہ ان سبز آنکھوں میں دیکھتے ماضی کے بارے میں بتانے لگا تھا لیکن حدیل نے ٹوک دیا۔
“مجھے نہیں جاننا۔۔۔۔ تمہارے پاسٹ میں جو بھی ہوا ہے مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔۔۔۔
The only thing i know is…. that I love you…
“میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے صرف تم ہی کو چاہا ہے۔۔۔۔۔ آئی ریلی لو یو۔۔۔۔۔۔” حدیل نے اس سے اپنے محبت کا اظہار کیا۔
اگر کوئی عورت آپ سے محبت کا اظہار کرتی ہے تو آپ خوش قسمت ہے کیونکہ عورت کے فطرت میں حیا ہے اس کا وقار اس کی نسوانیت اجازت نہیں دیتی کہ وہ کھل کر اظہار کر سکے مگر جب کوئی عورت خوبصورت لفظوں سے اظہار کرتی ہے تو یاد رکھیں آپ اس کو بے تحاشہ بے حد بے شمار عزیز ہیں۔
اس کا اظہار سن کر ارحام کے تاثرات بدل گئے وہ نظریں چرا گیا۔
“پاسٹ کو بھول جاو ارحام۔۔۔۔۔۔ ہم مل کر اپنا پریزنٹ اور فیوچر سنوارے گے۔۔۔۔۔۔ ایک سوکھی روٹی ہی سہی آدھی آدھی کر کے کھائیں گے۔۔۔۔ تمہاری بانہوں میں، میں فٹ پاتھ پر بھی سو جاو گی۔۔۔۔۔ کبھی تم سے شکایت نہیں کروں گی۔۔۔۔” وہ محبت کا اظہار کرتے ارحام کو نئے خواب دکھانے لگی۔
“یہ سب ممکن نہیں ہے۔۔۔۔۔ یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہوتی ہے۔۔۔۔” ارحام ایسے خواب نہیں دیکھنا چاہتا تھا جہاں اس کے ساتھ حدیل بھی تکالیف کا شکار ہوجائے۔
“تمہارا ساتھ ہو تو ممکن ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔” حدیل کا دل دھڑکنے لگا وہ اپنا پیار کھونا نہیں چاہتی تھی۔
“مت کرو مجھ سے اتنا پیار۔۔۔۔۔۔۔ میری قسمت میں محبت، رشتے، گھر، فیملی جیسے الفاظ نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں کسی کے پیار کے قابل نہیں ہوں۔۔۔۔۔ میں کبھی اپنے ماں باپ کا نہیں ہوسکا۔۔۔۔۔ تمہارا کیا خاک بنوں گا۔۔۔۔۔ ” اس نے اپنے آپ پر استحزیہ ہنستے ہوئے سر جھٹکا۔ اپنی بد قسمتی پر ایک مرتبہ پھر اس کی آنکھیں بھر آگئی تھی۔
“جانتے ہو ارحام۔۔۔۔۔۔ تم آج میرے سامنے دوسری دفعہ روئے ہو۔۔۔۔ پہلی مرتبہ اپنے وقار کے چھین جانے کے خوف سے۔۔۔۔ دوسری مرتبہ میری عزت خراب کر دینے کے ڈر سے۔۔۔۔۔۔” اس نے ہمدردی سے ہاتھ بڑھا کر ارحام کے رخسار صاف کئے۔
“میری مام کہتی ہے۔۔۔۔۔ ایک خود دار اور غیرت مند مرد صرف اس عورت کے سامنے روتا ہے جو اس کے لیے بہت اہم ہو۔۔۔۔۔ جو اس کے دل کے بہت قریب ہو۔۔۔۔۔ تم نے مجھے اتنی اہمیت دی ہے۔۔۔۔۔ تو آخر کیوں نا ہو مجھے ایسے انسان سے محبت۔۔۔۔۔ جو دنیا کے لیے سونامی کا طوفان ہے۔۔۔۔۔۔ اور صرف میری لیے سکون کا دریا۔۔۔۔” حدیل اس کے قریب کھسکی اور اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
ارحام نے اسے نہیں ہٹایا۔ اس کی باتیں ارحام کو سکون دے رہی تھی۔
تمہیں جتنا میں سمجھ سکی ہوں۔۔۔۔۔ اتنا شاید ہی کوئی اور جانتا ہوگا۔۔۔۔۔۔ تم روڈ ہو۔۔۔۔۔ بہت جنونی ہے۔۔۔۔۔۔ پاگل ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن تم بہت رحم دل ہو۔۔۔۔۔۔ تمہارا دل شیشے کی طرح صاف ہے۔۔۔۔۔۔ and that’s what matters for me۔”
حدیل اس کے کسی بھی دلائل کے زیر اثر آئے بغیر اس پر اپنی دنیا قربان کر دینے کو تیار تھی۔
وہ اسے پسند کرتی ہے یہ تو ارحام جانتا تھا پر وہ اس سے اس قدر محبت کرتی ہے یہ آج اندازہ ہورہا تھا۔ کیا تھی وہ لڑکی۔ اس کی ہمراز۔ اس کے درد کی ساتھی۔ اس کے خوشی کی وجہ یا ایک نئے طوفان کا اندیشہ۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ انڈسٹریلز پاکستان کے مانوس اور پاور فل بزنس میں شمار ہونے والا ایک بڑا نام۔
لیکن کہتے ہیں کامیابی دائمی نہیں ہوتی۔ اس کا ایک وقت ہوتا ہے اور وہ وقت گزر جاتا ہے۔
تیمور شاہ اور رانا فیملی کے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہیں تھے۔ دوستی کے آڑ میں شاہ انڈسٹریل نے کئی مرتبہ رانا فیملی کے بڑھتے کاروبار کو دبانے کی، پس پشت ڈالنے کی بہت کوشش کی لیکن جس نے اللہ کی رسی تھام رکھی ہو وہ کبھی نہیں گرتے۔
ایمانداری سے بزنس چلاتے ملک کے فلاح و بہبود میں جھٹے رانا مبشر اور روحان کے ایمپائر کا تو تیمور شاہ کچھ نا بگاڑ سکا لیکن خود کو منہ کی کھانی پڑ گئی۔
ان کے ایک گھوٹالے کے باعث شاہ انڈسٹریل کو کافی بڑا نقصان پہنچا۔ رانا ایمپائر نے مشکل وقت میں دوست کی مدد بھی کی پر شاہ انڈسٹریل کی مثال اس بچے جیسی ثابت ہوئی جسے ہاتھ پکڑاو تو وہ سر پر بیٹھنے کی ضد کرنے لگے۔ تیمور شاہ آستین میں چھپے سانپ کا کرداد ثابت ہوئے۔
اپنا اقتدار بچانے تیمور شاہ نے اپنی اکلوتی بیٹی زاویہ شاہ (zavia shah) کا پروپوزل ذیشان کے لیے بھیجا۔ زاویہ اور ذیشان MBA کے دوران کلاس میٹ رہے تھے اس لیے ذیشان اس کے کردار سے خوب واقف تھا۔ دولت اور شہرت کی نشے میں مست زاویہ شاہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا خودغرض باپ اس کا استعمال کر رہا ہے، یونیورسٹی کے سب سے قابل اور ہینڈسم لڑکے سے شادی کی آفر پر مانو اڑنے لگی۔ لیکن ذیشان کو وہ ایک آنکھ نا بھاتی تھی۔ وہ اپنے اصولوں کا پکا تھا وہ قطعی طور پر اس رشتے کے لیے راضی نا ہوا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ذیشان بلیک کلر کے برانڈڈ تھری پیس سوٹ میں ملبوس۔ہاتھ میں Rado کی ڈائمنڈ پلیٹڈ واچ پہنے رعب و دبدبہ بنائے شاہ انڈسٹریل کے بلڈنگ پہنچا۔ اس نے شرٹ کی آستین کہنیوں تک موڑ رکھی تھی اور کوٹ ایک بازو پر ڈالے شاہ انڈسٹریل کے بلڈنگ میں تیز تیز چل رہا تھا۔
Rana zeeshan is here….
ذیشان نے تیمور شاہ کے کیبن سامنے بیٹھی سیکرٹری کو اس نے اپنا تعارف بتایا تو وہ سر کو خم دیتی انٹرکام پر کسی سے مخاطب ہوئی۔
You can go inside sir…..
کال پر موجود شخص کی ہدایت سن کر اس نے فورا ذیشان کو اندر جانے کا کہا۔
وہ سر کو جنبش دیتے ہوئے بے تاثر انداز میں تہزیب سے کیبن کے دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا تو سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
“مس زاویہ شاہ۔۔۔ کیسی ہے آپ۔۔۔۔۔” آبرو اچکا کر کہتے ذیشان قدم قدم آگے آیا۔
زاویہ شاہ 23 سالہ جوان اور خوبصورت لڑکی۔ گول چہرہ لمبی آنکھیں چھوٹی ناک گلابی ہونٹ حسن کی مورت تھی وہ۔ کندھوں تک آتے اسٹیپ کٹ کئے براون بال کھلے چھوڑے۔ رائل بلیو کلر سلک کا ہالف سلیف ٹاپ پہنے جس کا گلا بہت ڈیپ تھا۔ ٹائٹ جینز اور لمبی ہیل پہنے ذیشان کو اپنی اداوں سے بہکانے کی پوری کوشش کرتی اس کے قریب آئی۔
“ذیش۔۔۔۔۔ کتنے عرصہ بعد ملے ہو۔۔۔۔۔ کتنا بدل گئے ہو۔۔۔۔۔” مخمور آواز میں کہتے اس نے ذیشان کے بازو سے کوٹ لے کر دائیں جانب صوفے کے پشت پر ڈال دیا۔ اس کی نشیلی آنکھیں ذیشان کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔
“مسٹر شاہ۔۔۔۔۔” ذیشان سپاٹ تاثرات بنائے اس کے کسی بھی ادا سے متاثر ہوئے بغیر تیمور شاہ کا پوچھنے لگا۔
“ڈیڈ تو آج آفس نہیں آئے۔۔۔۔۔۔
but…. iam available for you….
جو بھی بات کرنی ہو۔۔۔۔۔ مجھ سے کرو۔۔۔۔۔” زاویہ شاہ اپنی ہر حد پار کرتی ذیشان کے قریب گئی اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی ویسٹ‌ (waist) پر رکھ دیئے۔
ذیشان نے جبڑے سخت کر لیے۔ زاویہ کی گرم سانسیں اس کے چہرے پر گردش کرنے لگی۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ ذیشان کے کندھے کے گرد مائل کر دیا تھا اور دوسرے کو حرکت دیتی پہلے اس نے ذیشان کی ٹائی کھولی اور پھر اس کے شرٹ کے بٹن کھولنے لگے۔
“تم بات کرنے کے لیے نہیں۔۔۔۔۔ پیار کرنے کے لیے بنی ہو۔۔۔۔” ذیشان نے خمار آلود نگاہوں سے طنزیہ انداز میں اس کا سراپا دیکھتے اس کی ویسٹ پر گرفت مضبوط کر کے اسے خود سے لگا لیا۔
“یہی تو میں چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔” زاویہ تڑپ اٹھی۔ اس نے ذیش کے کان میں سرگوشی کرتے اس کے کان لوہ اپنے ہونٹوں میں دبا لی۔ شرٹ کے پہلے چند بٹن کھول کر وہ اپنا ہاتھ اس کے مضبوط سینے پر پھیرتی اسے للچانے کے ساری حدیں پار کر رہی تھی۔
“زاویہ۔۔۔۔۔۔ سٹاپ اٹ۔۔۔۔۔۔” ذیشان نے درشتی سے اسے روکنا چاہا لیکن وہ پوری مدہوش ہوچکی تھی۔
زاویہ کے لبوں نے اپنے منزل کے جانب رخ کر دیا۔ وہ ذیشان کے کان کے پیچھے پھر اس کی گردن پر ایک ایک کر اپنا لمس چھوڑتی گئی۔ اس کی شرٹ مٹھی میں دبوچے جب وہ اس کے مضبوط سینے کے جانب بڑھی تو ذیشان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے زاویہ کو کندھوں سے جکڑ کر خود سے دور کیا۔
وہ ایک جھٹکے سے ہوش کی دنیا میں لوٹ آئی اور بے یقینی سے اس کے ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ اس کی نظروں میں دنیا جہاں کی حقارت اور نفرت در آئی تھی۔
“مس زاویہ شاہ۔۔۔۔۔ میرا جسم۔۔۔۔۔ میرا پیار بہت انمول ذخیرہ ہے۔۔۔۔۔ اور اس پر صرف میری بیوی کا حق ہے۔۔۔۔۔ تم جیسی چیپ لڑکیاں اپنے حوس کا نشانہ بنا کر اسے بے مول نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ میرے معیار پر آنے کے لیے تم جیسی لڑکی کو اپنا کردار تیزاب سے دھونا پڑے گا۔۔۔۔” ایک ہی جھٹکے سے ذیشان نے اسے پرے دھکیلا۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
“اور کہہ دینا اپنے اس تھرڈ کلاس باپ سے۔۔۔۔۔۔ اپنی کیریکٹر لیس بیٹی کا استعمال کر کے مجھے بہکانے کے یہ ٹرکس (tricks) بند کریں۔۔۔۔۔۔” ذیشان کی آواز اونچی ہوگئی۔ طیش سے وہ دانت پر دانت جمائے زاویہ کو تردید کرنے لگا۔
“اپنی ڈوبتی کشتی بچانے کے لیے اس ڈیل کی ضرورت اسے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں۔۔۔۔۔ اگر اسے یہ ڈیل کرنی ہے تو ٹیکسٹ ٹائم وہ میرے آفس آنے کی زحمت کریں۔۔۔۔۔ اور ہاں۔۔۔۔۔ وہ بھی اپائنٹمینٹ (appointment) لیں کر۔۔۔۔۔ میرے پاس ہر فضول انسان سے ملنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔” طیش سے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے ہوئے وہ واپس مڑتے اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا۔
“ذیش۔۔۔۔۔ “زاویہ معصوم تاثرات بنائے پھر سے اس کے جانب بڑھی۔
“ذیش نہیں ذیشان۔۔۔۔۔ رانا ذیشان۔۔۔۔۔۔ رانا ایمپائر کا MD۔۔۔۔۔ مسٹر رانا ذیشان۔۔۔۔۔۔۔ سر۔۔۔۔۔۔ صاحب۔۔۔۔۔” اس نے زاویہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس کی تصحیح کی۔
“آئیندہ میرا نام۔۔۔ بہت ہی ادب اور احترام سے لینا۔۔۔۔ اور یہ جسمانی نمائش کا مجسمہ بن کر میرے سامنے پھر کبھی مت آنا مس زاویہ شاہ۔۔۔۔۔” اپنی ٹائی اور کوٹ اٹھا کر وہ نفرت بھری نگاہوں سے زاویہ کو دیکھتے کیبن سے نکل گیا۔ زاویہ اپنی تذلیل لیئے۔ اپنے ناپاک ارادوں سمیت خالی ہاتھ رہ گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارحام نے حدیل کے اظہار کا نا ہاں میں جواب دیا اور نا انکار کیا۔ اسے اس وقت واقعی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اس کے سر کا درد شدت اختیار کر گیا تھا۔ حدیل اسے مزید تکلیف دیئے بغیر اسے آرام کرنے کی تجویز دے کر اپنے گھر کے لیے روانہ ہوگئی۔
ارحام اس کے جانے کے بعد واپس آکر لیٹ گیا۔ اس کی اتنی ہمت نا ہو سکی کہ کوئی pain killer ہی لیں لے۔ بے مقصد بیڈ پر لیٹے وہ چھت کو گھورنے لگا۔ اسے وہ وقت یاد آیا جہاں سے اس سب کی شروعات ہوئی تھی۔
(ماضی)
شہر کے عالی شان ہال کو لائٹس اور پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک معزز شخصیت مدعو تھے اور سب نے اپنی آمد سے محفل کو مزید چار چاند لگا دیئے تھے۔ وہ شام رانا مبشر اور کرن کی شادی کی سالگرہ کی تقریب کے نام کی گئی تھی۔
15 سالہ عائرہ بے بی پنک فیری گاون پہنے بالوں میں فلورل کروان جمائے لمبے بال کندھوں پر پھیلائے بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔ اور 13 سالہ ارحام نے ڈیڈ کی میچنگ کرتے بلیک تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔
کرن نے معتبر شخصیت برقرار رکھتے زری کے کام والی بلیک ساڑھی پہنی تھی۔ بالوں کا نفیس کا جُوڑا بنائے دلکش میک اپ کے ساتھ۔ ڈائمنڈ جیولری اس کی زنیت میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔
“Looking gorgeous as always….”
رانا مبشر نے اپنی دل و جان سے عزیز بیوی کا ستائشی نظروں سے جائزہ لیتے تعریف کی۔
“Thank you your honour…..”
کرن نے تعریف وصول کرتے سر کو خم دیا اور ان کے بازو میں ہاتھ ڈالے ان کے ساتھ ساتھ چلتی ہال میں انٹر ہوئی۔ ان کی پذیرائی میں کھڑے روحان نور اور سب بچے خوشی سے چہک گئے۔ پس منظر میں چلتے میوزک اور مہمانوں کی تالیوں سے اس جوڑی کا استقبال ہوا۔
وہ سب کا شکریہ ادا کرتے مہمانوں سے ملتے آگے چلتے رہے۔ سب ہی میوزک اور شام کو انجوائے کرتے کھانے پینے اور باتوں میں مشغول ہوگئے۔
ارحام اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ بھاگتا کھیل کود میں مصروف تھا۔ اپنے دوستوں سے چھپتے وہ میز پر بیٹھے ایک موٹے صاحب کے آوٹ میں کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ صاحب اپنے مقابل شخص سے باتوں میں مگن ایک سفید کاغذ منہ سے لگائے دھویں کا غبار ہوا میں پھیلا رہا تھا۔ ارحام کو حیرت ہوئی۔ اسے وہ کوئی جادوگر لگا۔ کیسے کوئی کاغذ منہ میں لے کر دھواں خارج کر سکتا ہے، یہ سب اسے محسور کن لگا۔
ان کی کاپی کرتے ارحام نے میز پر سے ایک ٹشو پیپر اٹھا کر مڑوڑا اور ہونٹوں میں دبا کر ہوا میں پھونک ماری لیکن اس کے منہ سے کوئی دھواں نا نکل سکا۔ تب اس کی سمجھ میں آیا جو کاغذ اس موٹے انکل کے ہاتھ میں ہے وہ کوئی مخصوص قسم کا کاغذ ہے جس کے اندر کچھ ہے جو جل کر دھواں بناتی ہے۔ ارحام کا بہت دل کیا اسے بھی وہ چیز مل سکے۔
اسی دوران وہ صاحب سامنے پڑے ایش ٹرے میں سیگریٹ دباتے اٹھ کر روانہ ہوگئے۔ ارحام کو مانو موقع مل گیا وہ فورا سے آگے بڑھا اور اس سیگریٹ کو اٹھا کر بھاگتا ایک کونے میں چھپ گیا۔
پارٹی بہت ہی خوبصورتی رواں دواں تھی۔ ایک رومینٹک گانے پر سب نے رانا مبشر اور کرن کو ڈانس کرنے کی فرمائش ظاہر کی۔ وہ دونوں جھجکتے شرماتے انکار کر رہے تھے لیکن روحان ذیشان اور باقی بچوں کے اسرار پر رانا صاحب ہار مانتے کرن کا ہاتھ تھامے فلور کے جانب بڑھ گئے۔
ایونٹ مینیجر نے ہال کی روشنی دھیمی کر دی اور ایک سپاٹ لائٹ رانا مبشر اور کرن پر جمائے ان کے قدموں کی پیروی کرتے ساتھ ساتھ حرکت دینے لگا۔ کچھ پل ایک دوسرے کو تھامے انہوں نے ڈانس کیا اور پھر واپس بچوں کے ساتھ آکر کھڑے ہوگئے۔
پارٹی میں مگن ان میں سے کسی کا دھیان نہیں تھا کہ ارحام کہاں ہے۔ کس طرف گامزن ہے۔ اور وہ ہال کے آخری کونے میں میز کے نیچے چھپ کر بیٹھا اس آدھے سے زیادہ ختم ہوئی سیگریٹ کو ہونٹوں میں دبائے کش بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پہلا کش لیتے اسے شدید قسم کی کھانسی ہونے لگی۔ اسے لگا کسی نے اس کے گلے میں خنجر چھبا دیا ہو۔
دوسرے کش پر اس نے زرا سنبھل کر سانس اندر کو کھینچی اور ذائقہ منہ میں محسوس کرتے دھیرے سے ہوا میں دھواں خارج کیا۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھی اسی طرز اس نے تیسرا کش اندر کیا لیکن مزید دھواں نہیں ہوسکا۔ سیگریٹ ختم ہوچکی تھی۔ اس کا دل پژمردہ ہوگیا مگر اس نے وہ خالی حصہ پھیکنے کے بجائے جیب میں چھپا دیا۔
کھانے کے بعد تین منزلہ خوبصورت سا کیک ہال میں لایا گیا جسے رانا مبشر اور کرن نے عائرہ اور ارحام کا ہاتھ تھامے ایک فیملی ہو کر کٹ کیا۔
عائرہ کو اپنے مما اور ڈیڈ کی جوڑی دیکھ کر فخر ہوا۔ دل ہی دل اس نے یہ خواہش ضرور کی کہ بڑی ہو کر اسے بھی ایسا ہی پیار کرنے والا پارٹنر ملے۔ پر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اتنے مشکلات کا سامنا کر کے ایک ہوئے اس جوڑی میں پھر سے دوریاں مائل ہونے والی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔