60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 13

رانا ہاوس میں زینب کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھی۔ اسی کے چلتے عائرہ کے بھی روز اس کے ساتھ بازار کے چکر لگ رہے ہوتے تھے۔
اس وقت وہ زینب کے ساتھ ایک شاپ پر ڈریس دیکھ رہی تھی۔
“کہاں ہو۔۔۔” اس کے موبائل کا ٹیون بجا تو اس نے میسج دیکھا۔
“شاپنگ مال۔۔۔۔ ڈریس دیکھ رہی ہوں۔۔۔” ساتھ ہی ریپلائے دیا گیا۔
“بلیک اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔” جواب پڑھتے عائرہ شاک ہوگئی اس کے سامنے اس وقت پنک اور بلیک کلر کے دو کام دار ڈریس پڑے تھے۔
اس نے تیزی سے پلٹ کر پیچھے دیکھا سفیان دوسری قطار کے سوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا اسی کو دیکھ رہا تھا۔ عائرہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھی۔
“یہ بلیک میرے لیے پیک کر دیں۔۔۔۔” اس نے رخ پھیر کر دکان دار کو وہ بلیک ڈریس تھمائی۔
“عائرہ اس کا کام بہت بڑا ہے۔۔۔۔۔ دوسرا دیکھ لو۔۔۔۔” کرن نے تجویز دی۔
“نہیں مما مجھے یہی پسند ہے۔۔۔۔” اس نے کرن کو انکار کرتے پھر سے سفیان کو دیکھ کر گویا تائید چاہی تو اس نے پلکیں جھپکا کر سر کو اثابت میں خم دیا۔
“تم کب آئے۔۔۔۔۔” اس دکان سے نکلتے عائرہ کرن نور اور زینب سے قدرے پیچھے سفیان کے ساتھ آکر چلنے لگی۔
“بس تھوڑی دیر پہلے کلاسس سے فری ہوا۔۔۔۔۔ زی نے بتایا تم بھی ان کے ساتھ ہو تو میں بھی یہی آگیا۔۔۔” سفیان شان سے چلتا ہوا عائرہ کے جانب مڑا۔
“چلو کہی اور چلتے ہیں۔۔۔۔” اس کی آنکھوں میں شرارت ابھری۔
“ان کو چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں۔۔۔۔۔ کیا کہوں گی۔۔۔۔” عائرہ نے بے چارگی سے شانے اچکائے۔
“ممی۔۔۔۔۔ عائرہ کی طبیعت خراب ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔ میں اسے گھر لیں جاتا ہوں۔۔۔۔” سفیان نے نور کو مخاطب کیا۔ سفیان کے جھوٹ پر عائرہ کا سچ میں رنگ اڑ گیا۔
“عائرہ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔” کرن نے عائرہ کے پیشانی اور گردن پر بخار چیک کرنے ہاتھ رکھا۔
“مما زیادہ کچھ نہیں بس تھکن ہورہی ہے۔۔۔۔۔ آپ لوگ اپنی شاپنگ کرو۔۔۔۔۔ عائرہ نے تو ڈریس لے لیا ہے۔۔۔۔۔ میں اسے گھر لیں چلتا ہوں۔۔۔۔ کیوں عائرہ۔۔۔۔۔” سفیان نے کرن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی اور پھر آنکھیں بڑی کر کے عائرہ کے جانب دیکھا۔
اس نے پریشان کن تاثرات بنائے محض سر اثابت میں ہلایا۔ کرن واقعی پریشان ہوگئی تھی لیکن سفیان کی تسکین دلانے پر اس نے عائرہ کو اس کے ساتھ گھر جانے کی ہدایت دی۔
ان کے آگے بڑھتے ہی سفیان نے عائرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور شاپنگ مال سے باہر نلکنے لگا۔
“بہت بری بات ہے سفیان۔۔۔۔۔ تم نے کتنا پریشان کر دیا سب کو۔۔۔۔ وکالت میں کیا تمہیں جھوٹ بولنا سیکھا رہے ہیں۔۔۔۔” پارکنگ میں آکر وہ سفیان سے خفہ ہونے لگی۔
“کیس کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے تھوڑا بہت ہیر پھیر کرنا پڑھتا ہے میری جان۔۔۔۔۔۔ وکالت میں جھوٹ بے ایمانی دھوکہ بازی چلتی رہتی ہے۔۔۔۔۔ اس فیلڈ میں مکمل سچا انسان نہیں ٹِک سکتا۔۔۔۔۔” اس نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے سرسری وضاحت دی۔
عائرہ بے دلی سے اس کے ساتھ کار کی فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔
“یہ دیکھو۔۔۔۔۔” سفیان نے پچھلے سیٹ سے ایک گھونسلہ نما ٹوکری اٹھا کر عائرہ کو دکھائی۔ اس ٹوکری میں اللہ کے حسین تخلیق میں سے ایک بشر بیٹھا تھا۔ وہ بلبل کا بچہ تھا۔ اس کے پَر ابھی بہت چھوٹے تھے اس لیے اڑنے سے قاسر تھا۔
“ماشااللہ۔۔۔۔۔ کتنا خوبصورت ہے۔۔۔۔۔” اس ننھے رنگ برنگے پرندے کو دیکھ کر عائرہ کی خفگی فورا سے بیشتر ختم ہوگئی۔
اسے خوش ہوتا دیکھ کر سفیان نے مستحکم بھرے انداز میں مسکرا کار چلا دی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارحام اپنے ڈیپارٹمنٹ کے راہ داری میں دوستوں کے گروپ میں کھڑا سیگریٹ نوشی کر رہا تھا جب زارون نے اسے آبرو اچکا کر پیچھے دیکھنے کا اشارہ کیا۔ اس نے سیگریٹ کا دھواں ہوا میں پھونکتے رخ موڑا تو دانین کو پنک کلر کے قمیض شلوار میں ملبوس سر پر ڈوپٹہ لیے کچھ کاغذات ہاتھ میں پکڑے خود کو دیکھتے پایا۔ اس نے بقیہ سیگریٹ زارون کے ہاتھ میں پکڑائی اور خود سر جھکائے آبرو اٹھائے نخریلے انداز میں چلتا اس کے پاس آیا۔ تالم شاہ اور باقی دوست بھی اسی جانب متوجہ تھے۔
“وہ۔۔۔۔۔ آج رومیسہ غیر حاضر ہے۔۔۔۔۔ اور آج ہی ایگزامنیشن فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے۔۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیسے پُر کرنا ہے۔۔۔۔۔ اور تمہارے علاوہ میری کسی سے بات نہیں ہوتی تو تم میری مدد کر دو گے۔۔۔۔” اس نے قدرے جھجکتے ہوئے در پیش مسئلے کی رو داد سنائی۔
“شیور کیوں نہیں۔۔۔۔ لائبریری میں بیٹھ کر آرام سے فل کرتے ہیں۔۔۔۔۔” ارحام خوشی خوشی اس کی پیشکش پر راضی ہوا۔
دانین نے مشکور ہوتے ہوئے سر اثابت میں ہلایا اور لائبریری کا رخ کیا۔ ارحام اس کے پیچھے چلتے گلے میں پہنا چین گھماتا ہوا مڑا اور تالم شاہ کو دیکھتے ہوئے آنکھ کا کونا دبا کر شریر مسکراہٹ اچھالی۔
“بہت بڑا کمینہ ہے یہ۔۔۔۔۔” تالم شاہ اور اس کے دوستوں میں قہقہہ بلند ہوا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
لائبریری میں بیٹھے ارحام، دانین کو فارم فل کرنے کا طریقہ کار سمجھا رہا تھا اور وہ تیز تیز انگلیاں چلاتے لکھ رہی تھی۔ ایک جگہ کچھ بتاتے ارحام نے دانین کا ہاتھ پکڑ لیا۔ دانین کو شاک سا لگا اس نے پھرتی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکال کر پیچھے کر دیا۔ وہ اس حرکت پر کسمسا سی گئی۔
“سوری۔۔۔” ارحام نے معصوم بنتے معذرت کی۔ دانین پھیکا مسکرائی اور پھر سے لکھنے لگی۔
ارحام نے فارم فل کروانے کے ساتھ ساتھ جمع کروانے میں بھی مدد کی۔ دانین کے دل میں ارحام کے لیے نرم گوشہ بننے لگا۔
دو دن بعد ان کے کالج کا ایک اور کالج کے ساتھ سپورٹس مقابلوں کا آغاز ہوا۔
ارحام نے بڑھ چڑھ کر ہر مقابلے میں حصہ لیا۔ کچھ مقابلے وہ جیت گیا کچھ ہار گیا۔ ارحام کے با ہمت شخصیت کے لیے دانین کی دلچسپی بڑھنے لگی۔
آج سوئمنگ مقابلہ کیا جانا تھا۔ چونکہ مقابلے کالج کے اوقات میں ہی ہوتے تو دانین بھی گراونڈ میں ارحام کے مقابلے دیکھنے آجایا کرتی تھی۔
آج ان کے کالج اسٹوڈنٹس مطمئن تھے۔ سب جوش و خروش سے ارحام کے نام کے نعرے لگاتے اس کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔
“ارحام ہی جیتے گا۔۔۔۔۔۔” اس کی قطار میں بیٹھی ایک اور لڑکی نے تبصرہ کیا۔
“اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو۔۔۔۔۔” رومیسہ کو چونکہ ارحام پہلے ہی نا پسند تھا اس لیے اس کی تعریف ہضم نہیں کر سکی۔
“ہم ارحام کی اسکول میٹ رہیں ہیں۔۔۔۔۔ اسکول میں بھی 3 سال لگا تار وہ سوئمنگ چیمپئن رہ چکا ہے۔۔۔۔۔ تیراکی اس کا من پسند سپورٹس ہے۔۔۔۔” دوسری لڑکی نے جتاتے ہوئے جواب دیا۔
اسی کے ساتھ فضاء میں شور و غل کا اضافہ ہوا سارے حریف اپنے اپنے قطار میں آکر کھڑے ہوگئے۔
ارحام کو شرٹ لیس اور شارٹس میں دیکھ کر دانین غیر ارادی طور پر شرمانے لگی۔ ارحام کی اس سے نظریں ملی تو وہ بلش کرتی نظریں جھکا گئی۔
جعلی پستول کے شوٹ کے ساتھ مقابلے کا آغاز ہوا اور سب حریفوں نے سوئمنگ پول میں چھلانگ لگا دی۔
ارحام نا صرف سپیڈ سے تیر ریا تھا بلکہ بیچ بیچ میں کرتب بھی دکھا رہا تھا جس سے شائقین کی اسے داد دیتے فضا میں تالیاں گونج اٹھی۔
حسب توقع مقابلہ ارحام ہی جیتا۔ دانین اسے مبارکباد دینے ڈریسنگ روم میں آئی جہاں ارحام تولیے سے بال ڑگڑتے انہیں خشک کر رہا تھا۔
“بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔ بہت اچھا مقابلہ کیا۔۔۔۔۔” وہ دونوں دوسرے سٹوڈنٹس سے چند قدم فاصلے پر کھڑے تھے۔
“تھینکیوووووو۔۔۔۔۔۔” ارحام نے شکریہ ادا کرتے سر کو جھکا کر دائیں سے بائیں جنبش دیا تو پانی کی کئی چھنٹے دانین کے چہرے کو بھگو گئی۔ اس نے جھنجلا کر ہاتھ چہرے کے آگے کر دیا اور ارحام کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔ اسے ہنستا دیکھ دانین کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“آپ نے میرے ساتھ بہت ظلم کر دیا ہے۔۔۔۔۔” زینب روش پر چلتی خفا ہونے لگی۔
“ایسا کیا کر دیا میں نے۔۔۔۔۔” ابتہاج کو جھٹکا لگا۔
“اب میرا ہر وقت دھیان آپ پر رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ کلاس میں آپ کو دیکھتی رہتی ہوں۔۔۔۔ گھر میں آپ کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ پڑھائی پر فوکس نہیں کر پا رہی۔۔۔۔۔” اس نے بے بسی سے آسمان کو دیکھتے لمبی سانس لی۔
“کیفیت تو میری بھی کچھ ایسی ہی ہے۔۔۔۔۔ لیکن میرا ایک رول ہے۔۔۔۔۔ پرسنل اور پروفیشنل لائف کو الگ الگ رکھتا ہوں۔۔۔۔۔ یونیورسٹی میں آپ میری سٹوڈنٹ ہو۔۔۔۔۔ اور مجھے آپ سے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ٹاپ مارکس کی امید ہے۔۔۔۔۔ تو بہتر ہوگا آپ دل کو قابو کر کے پڑھائی پر توجہ دیں۔۔۔۔۔” ابتہاج نے زینب کی آنکھوں میں دیکھ کر مشورہ دیا۔ زینب بلش کرتے سر اثابت میں ہلا کر اپنے کلاس کے جانب بڑھ گئی۔
اکثر گرلز جن کا ابتہاج پر کرش تھا، انہیں زینب سے حسد محسوس ہوتی اور اسے بد گمان کرنے جان بوجھ کر اس کی موجودگی میں ابتہاج کا ذکر کیا کرتی۔
شک اور بدگمانیاں اچھے سے اچھے رشتے کی بنیاد ہلا دیا کرتی ہے۔ لیکن زینب کی ایک اچھائی یہ بھی تھی وہ کبھی سنی سنائی باتوں پر غور نہیں کیا کرتی۔
ایک شام ابتہاج اس کے ساتھ گھومنے امیوزمینٹ پارک گیا تھا۔ زینب اوپن ائیر ریسٹورنٹ کے سامنے میز پر بیٹھی شام سے لطف اندوز ہو رہی تھی اور ابتہاج اس ریسٹورنٹ کے اندر آرڈر دینے میں مصروف تھا جب اتفاق سے زینب کے کلاس کے لڑکوں کا ایک گروپ بھی وہاں آگیا۔
“اکیلے کیوں بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔ چلو ہم کمپنی دیتے ہیں۔۔۔۔” ان میں سے ایک لڑکے نے جملہ کستے زینب کے سامنے والی نشست سنبھالی۔
زینب نے ایک نظر اسے دیکھا پھر شیشے کے پار کاونٹر پر کھڑے آدمی سے بات کر ابتہاج کی پشت کو۔
“اس کا ہمارے ساتھ ٹائم تھوڑی پاس ہوگا۔۔۔۔۔ اسے تو پروفیسر لوگوں میں دلچسپی ہے کیوں۔۔۔۔۔” دوسرا کلاس میٹ جو کہ غالباً زینب کی اور ابتہاج کی منگنی سے انجان تھا، اس نے بھی اپنے طرف سے طنز کا اضافہ کیا۔
زینب خاموشی سے سپاٹ تاثرات لیئے ان لڑکوں کی گفتگو سن رہی تھی۔ اسی دوران ابتہاج سنجیدہ تاثرات بنائے وہاں آیا اور ان میں سے ایک لڑکے کے شانے کو تھپتھپایا۔
وہ تینوں جو ہنس رہے تھے ابتہاج کو دیکھ کر ایک دم ساکت ہوگئے اور ٹیبل پر سے کھڑے ہوگئے۔
“آپ کچھ فرما رہے تھے میری منگیتر کے بارے میں۔۔۔۔” اس نے دوسرے لڑکے کو مخاطب کیا۔ وہ سوری سر کہتے وہاں سے جانے لگا۔
زینب کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ کوئی لڑائی جھگڑا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے ابتہاج کو پکارا لیکن وہ اس کی پکار نظر انداز کئے ان لڑکوں کے جانب متوجہ تھا۔
“آئیے۔۔۔۔۔ بیٹھے۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ ڈنر کریں۔۔۔۔۔” ابتہاج نے زینب کے توقعات کے بر عکس ان تینوں کو نرمی سے ڈنر پیشکش کی۔ وہ شرمسار ہوتے ہوئے نفی میں ہلاتے بھاگ گئے۔
اس کے اس مردانگی پر زینب نے سکون کا سانس لیا۔ وہ جان گئی تھی کم از کم اس کا ہونے والا شوہر اس کے گھر کے مرد حضرات کے جیسے غصے کا تیز نہیں ہے وہ بات بات پر مار دھار کرنے کا حمایتی نہیں ہے اور ابتہاج کے اس خصوصیت نے اس کے دل میں اپنے لیے محبت مزید بڑھا دی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جیسے جیسے ارحام کو احساس ہونے لگا دانین کی اس میں دلچسپی بڑھنے لگی ہے وہ اپنے مقصد کو پانے کے ایک قدم قریب ہوگیا۔
اس دن وہ ٹیبل ٹینس کھیل رہا تھا۔ دانین اس کے بلانے پر سپورٹس سینٹر میں اس کے بیگ کے پاس بیٹھی اسے کھیلتی دیکھ رہی تھی۔ وائٹ قمیض شلوار کے ساتھ اس نے ریڈ کلر ڈوپٹہ سر پر اسکارف کی طرح لیا ہوا تھا۔
“اااہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔ بہت تھک گیا۔۔۔۔۔” فرسٹ ہاور بریک لے کر وہ بھاگتا ہوا بینچ تک آیا اور ڈھے کر بیٹھ گیا۔ سر بینچ کے پشت سے ٹکا کر وہ اپنا تنفس بحال کر رہا تھا۔
“پانی لا دوں۔۔۔۔۔” دانین نے تھکے ہارے پسینے سے شرابور ارحام کو نرمی سے مخاطب کیا۔
ارحام نے تولیہ سے پسینہ صاف کرتے اس کی آفر قبول کی تو وہ پانی کی بوتل بھرنے اٹھ گئی۔ اس کے جاتے ارحام کو موقع مل گیا اس نے اپنے بیگ سے ایک چھوٹا موبائل فون نکال کر چھپ کے سے دانین کی بیگ میں ڈال دیا۔
پانی پی کر وہ دوسرے ہاور کے لیے بڑھ گیا اور دانین اس کے گیم کے جانب متوجہ ہوگئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“آج کل دیر سے آنے لگی ہو۔۔۔۔۔ بھائی کب کا آیا ہوا ہے۔۔۔۔۔ تین دفعہ تمہارا پوچھا ہے۔۔۔۔” دوپہر کو دانین گھر لوٹی تو اماں گیٹ پر ہی اسے ڈانٹنے لگی اور اسے اس کے بھائی کی ممکنہ غصہ سے آگاہ کیا۔
“اماں سال کا آخر چل رہا ہے نا۔۔۔۔۔ ایکسٹرا کلاسس چل رہی ہے۔۔۔۔۔ سب کورس مکمل کروانے لگے ہیں۔۔۔۔۔ اتنی دیر تو ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔” دانین نے اپنے آپ سے بہانہ بنایا۔
“جو بھی ہو۔۔۔۔۔ آپ وقت پر گھر آجایا کرو۔۔۔۔۔۔ بقایہ پڑھائی میں بھائی سے مدد لیں لیا کرو۔۔۔۔۔” اسی اثنا حیدر خان سحن میں آگئے۔
“جی بابا۔۔۔۔۔۔” دانین سر جھکائے اندر چلی گئی۔ وہ ماں سے بہانہ کر سکتی تھی لیکن باپ اور بھائی سے نہیں۔ بھائی کے بہ نسبت باپ پھر بھی قدرے رحم دل تھا اس لیے صرف سختی سے تنبیہہ کر کے معاملہ نپٹا لیا۔
ابھی وہ کمرے کے اندر داخل ہوئی ہی تھی کہ اس کے بیگ میں موبائل بجنے لگا۔ دانین کی حیرت سے آبرو پھیل گئے اس نے تیز تیز دروازہ لاک کر کے بیگ ٹٹولہ تو اسے ایک عدد موبائل پڑا ملا۔
“یہ کس کا ہے۔۔۔۔” موبائل فون اٹھاتے ہوئے اس کے ہاتھ لرزنے لگے۔ اسکرین پر نمودار ہوتے ارحام کا نام پڑھ کر اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ کال اٹھائی۔
“ارحام یہ کیا حرکت ہے۔۔۔۔۔ کس کا موبائل ہے۔۔۔۔۔ کسی نے دیکھ لیا ہوتا تو۔۔۔۔۔” اسپیکر کے دوسرے جانب ارحام کی آواز سنتے وہ پریشانی سے بولی۔
“تم سے کانٹیکٹ میں رہنے کے لیے موبائل تو لازمی ہے نا۔۔۔۔ آج سے یہ موبائل تمہارا۔۔۔۔۔ جب بھی میری یاد آئے بس ایک میسج کر دینا میں کال کر لیا کروں گا۔۔۔۔۔” ارحام نے دوستوں کے بیچ بیٹھے سیگریٹ نوشی کرتے لاپرواہی سے تجویز دی۔
“میں یہ نہیں رکھ سکتی۔۔۔۔۔ میرے بابا اور لالا کو پتا لگا تو بہت مسئلہ بنے گا۔۔۔۔۔” وہ بہت ہلکے آواز میں گویا تھی تا کہ کمرے سے باہر کوئی اسے بات کرتے سن نا لیں۔
“کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔ تم اپنے باپ بھائی سے اتنا ڈرتی کیوں ہو۔۔۔۔ ” ارحام نے بے زاری سے جواب دیا۔
“ڈرتی نہیں ہوں۔۔۔۔۔ ان سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔ ان کی عزت کرتی ہوں۔۔۔۔۔ نہیں چاہتی میری وجہ سے ان کے اصول ٹوٹے۔۔۔۔” دانین نے نرمی سے اپنی زندگی میں اپنے بابا اور اپنے لالا کی اہمیت بیان کی۔
“پلیز دانین۔۔۔۔۔ میری خاطر۔۔۔۔۔۔ کیا تم میرے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں ہم کانٹیکٹ میں رہے۔۔۔۔۔ کیا تم میری اتنی سی چاہت پوری نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔” ارحام معصوم بنے استفسار کرنے لگا۔
دانین دوہری کیفیت کا شکار ہورہی تھی۔ وہ باپ بھائی کا مان بھی نہیں توڑنا چاہتی تھی اور ارحام کی خواہش بھی رد نہیں کر سکتی تھی۔ اور آخر کار نفس جیت گیا اس نے ارحام کی بات مان لی وہ موبائل رکھنے پر راضی ہوگئی۔ یہاں اس نے ہاں کی وہاں ارحام کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ آ ٹھہری۔
باتوں کا سلسلہ یہی سے شروع ہوا۔ اپنی سحر انگیز باتوں سے ارحام بہت جلد دانین کو اس کے لیے اپنے محبت کی ہقین دہانی کروا چکا تھا۔ دانین کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ ارحام بھی اسے اتنا ہی چاہتا ہے جتنا وہ اسے چاہتی ہے۔ لیکن یہ چاہت بہت جلد نفرت اور پھر بدلے کی آگ میں تبدیل ہونے والی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(حال)
وہ بلیک پینٹ اور شرٹ پر گرے کلر کا لانگ کوٹ پہنے سر پر cow boy کی ترچی ٹوپی رکھے شان سے چلتا فرانس کے دوسرے بڑے شہر clichy کے ائیر پورٹ سے باہر آیا۔
“ویلکم ٹو clichy سر۔۔۔۔۔۔ آپ نے جس ڈرگ مافیا لیڈر کا نام اور پتہ بتایا تھا ہم اس کے بارے میں مسلسل معلومات اکھٹا کر رہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ہمارے ذرائع سے پتا چلا ہے کہ اس کے کئی بڑے شہروں میں اڈے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن وہ زیادہ تر اپنے saint ouen کے اڈے پر چھپا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔” اس نوجوان کے ساتھ ساتھ چلتے فرانسیسی پولیس آفسر نے اسے پچھلے کچھ دنوں سے اس کے دیئے گئے معلومات کے بابت اپنی کاروائی سے آشنا کرایا۔
” یہ ہمارے ہاں پاکستانی کونسلر ہے مسٹر بہزاد۔۔۔۔۔۔ اس لڑکے کے بارے معلومات سے یہ آپ کو آگاہ کریں گے۔۔۔۔ میں آپ سے کل پولیس ہیڈ کوارٹر میں ملتا ہوں۔۔۔۔۔” فرانسیسی پولیس آفسر نے اسے پاکستانی کونسلر سے متعارف کروایا۔
“تھینکیو سو مچ فار یور کورپوریشن آفسر۔۔۔۔۔” اس نے پولیس آفسر سے مصافحہ کرتے ان کا شکریہ ادا کیا۔
“ہمارے ریکارڈز کے مطابق پچھلے دو سے تین سالوں میں ارحام نامی کوئی پاکستانی رجسٹرڈ نہیں ہوا ہے۔۔۔۔ اس کا مطلب اگر وہ اس وقت فرانس میں کہی موجود بھی ہے تو غیر قانونی طریقے سے رہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔” بہزاد کار میں بیٹھتے اسے تفصیلات سے آگاہ کرنے لگا۔
“دو سالوں سے وہ غیر قانونی طور پر یہاں مقیم ہے۔۔۔۔ اور اب تک فرینچ گورنمنٹ کے ہاتھ نہیں لگا۔۔۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔” اس نے ارحام کے چالاکی پر آبرو اچکائے۔
“یہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں مہاجر غیر قانونی طریقے سے بارڈر کراس کر کے آتے ہیں۔۔۔۔۔ بہت سے بچ کر آگے نکل جاتے ہیں۔۔۔۔ کچھ پکڑے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ اور اپنے ملک واپس بھیج دیئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔” بہزاد اسے وہاں کے مہاجرین کی فہرست بتانے لگا۔
“اب ارحام کا پتا کیسے لگے گا۔۔۔۔۔” اس نے ونڈ اسکرین کے باہر دیکھتے پر سوچ انداز میں پوچھا۔
“یہ تو جیکواس کے ملنے پر پتا چلے گا۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ ہم نے سارے ریلوے اسٹیشن بس سٹاپ ائیر پورٹس پر ارحام کی تصویر دے دی ہے۔۔۔۔۔ وہ اگر فرانس سے فرار ہونے کی کوشش کرے گا تو ہمیں فورا خبر مل جائے گی۔۔۔۔” بہزاد نے اسے ایک امید دلائی۔
“امید ہے جلد خبر مل جائے۔۔۔۔۔” دل ہی دل میں سوچتا وہ سر کو خم دیتا ہوٹل کے سامنے کار سے اتر گیا۔ اب سب سے پہلے اسے البرٹ کے باس جیکواس کو ڈھونڈنا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اگلی صبح وہ پولیس ہیڈ کوارٹر میں بیٹھا پچھلے دو سالوں میں اسمگلنگ گینگ کے لیے کام کرنے والے لوگوں کی فہرست دیکھ رہا تھا جو فرینج پولیس نے الگ الگ شہروں سے گرفتار کئے ہوئے تھے۔ وہ کوئی دو ہزار سے زائد کے اوراق پر مشتمل بڑی سی فائل تھی جن کی ایک ایک تفصیل وہ بہ ذات خود پڑھ رہا تھا۔ ارحام کے معاملے میں وہ کوئی لا پرواہی نہیں برتنا چاہتا تھا۔
پچھلے تین گھنٹے سے مسلسل ایک سیٹ پر بیٹھے بغیر کھائے پیئے اس فائل کو مشاہدہ کرتے اس کے سر میں درد ہونے لگا۔ اس نے گردن پر ہاتھ رکھ کر دائیں سے بائیں ہلا کر سہلایا اور پھر سے فائل پڑھنے لگا تھا جب اس کا موبائل بجا کال عائرہ کی آرہی تھی۔
اس وقت اس کی کسی سے بات کرنے کی کیفیت نہیں تھی اس نے بے دردی سے لب مینچھے کال کاٹ دی۔ ابھی اس نے دوبارہ فائل ہاتھ میں اٹھائی تھی کہ پھر سے کال آنے لگی۔ اس کے آبرو تن گئے۔
“عائرہ میں بہت بزی ہوں۔۔۔۔۔ کال کاٹ رہا ہوں تو سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔۔” کال اٹھاتے ہی وہ عائرہ پر برس پڑا۔
“تین دن ہوگئے ہے تمہیں گئے ہوئے۔۔۔۔۔ یورپ کے کس ملک میں ہو۔۔۔۔۔ کونسا ضروری کام ہے۔۔۔۔۔ یہ سب بتانا تو دور۔۔۔۔ تم نے مجھے پہنچ کر اطلاع تک نہیں دی۔۔۔۔۔ ایسا بھی کونسا کام ہے جس نے تمہیں مجھ سے اتنا غافل کر دیا ہے۔۔۔۔” عائرہ نے ایک کی سانس میں شکوہ ظاہر کیا۔
“ہاں وہ۔۔۔۔۔۔۔ جان۔۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔۔۔” اس کے وضاحت دینے سے پہلے عائرہ کال کاٹ چکی تھی اور اس کا طیش سے چہرہ دہکنے لگا۔
اس نے سیٹ پر سے کھڑے ہوکر زور سے کرسی کو لات دے ماری۔ ارحام کو ڈھونڈنے کے جتن اوپر سے سر درد اور اب عائرہ کی ناراضگی۔ اس کے طیش میں اضافہ ہونے لگا۔
“نو مسٹر ارحام۔۔۔۔۔ تمہاری قسمت اتنی بھی اچھی نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس بار یہ تمہیں مجھ سے نہیں بچا سکتی۔۔۔۔۔” خود کلامی کرتے اس نے غصیلی نظروں سے اس موٹی فائل کو دیکھا اور سر جھٹکتا کام کے جانب متوجہ ہوا۔
وہی دوسری جانب پاکستان میں عائرہ کا اپنے جان کی اس بے روخی پر دل ٹوٹ گیا۔ وہ خود کو کمرے میں لاک کر کے رونے لگی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(ماضی)
رانا ہاوس میں رونق لگی ہوئی تھی۔ آج رات کے ڈنر پر حسین صاحب اور ان کی فیملی بھی مدعو کی گئی تھی۔ زینب ممی اور کرن کے ہمراہ کچن میں لگی تھی۔ دونوں فیملیز نے ہنسی خوشی کھانا نوش فرمایا اور میٹھے کے بعد حسین صاحب نے ابتہاج اور زینب کی شادی کی تاریخ مانگ لی۔
“بھئی مجھ سے اب اور صبر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ میں جلدی سے اپنی بیٹی کو گھر لیں جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔” حسین صاحب نے ہاتھ ہوا میں بلند کئے۔
سب کے باہمی تعاون سے اسی ماہ کے آخری تاریخ رکھی گئی۔ ابتہاج کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔
“اپنی شادی میں ملتے ہیں مسز ابتہاج۔۔۔۔” رخصت لیتے ہوئے وہ زینب سے مخاطب ہوا۔
زینب موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے صرف پلکیں جھپکا کر مسکرا دی۔
“اتنی ساری تیاریاں باقی ہے۔۔۔۔۔ کیسے ہوگا اتنا سب۔۔۔۔۔” نور کی پریشانی میں اضافہ ہورہا تھا۔
“ڈونٹ وری ممی سب ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب ہیں نا۔۔۔۔۔” سفیان نے نور کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے تسلی دی۔
“ہاں ممی۔۔۔۔۔ سب ہوجائے گا۔۔۔۔۔ اس گھر کی پہلی شادی ہے۔۔۔۔۔ بہت ہی دھوم دھام سے کریں گے انشاءاللہ۔۔۔۔۔” عائرہ نے بھی نور کے گرد بازو مائل کئے۔
سفیان موقعے سے فائدہ اٹھاتے نور کے پیچھے عائرہ کا ہاتھ پکڑنے لگا لیکن عائرہ نے آنکھیں دکھاتے اپنے ہاتھ ہٹا دیئے۔
“اس کے بعد ہماری شادی۔۔۔۔۔۔” وہ سب لاؤنج کے صوفے پر بیٹھے آگے کی پلاننگ کرنے لگے تھے۔ عائرہ اور سفیان ان سے قدرے فاصلے پر کھڑے تھے جب سفیان نے سرگوشی کی۔
“لگتا ہے “آپ” ذیش بھائی کو بھول گئے ہے۔۔۔۔۔” عائرہ نے جتانے ہوئے کہا۔
“ارےےے یارررر۔۔۔۔۔ ذیش تو زی کا جڑوا ہے نا۔۔۔۔۔ اسی کے ساتھ ذیش کی بھی شادی کرا دیتے ہیں۔۔۔۔۔” سفیان نے بے بسی سے مہمانوں کی لسٹ بناتے ذیشان کو دیکھا۔
“ایسی تھوڑی شادی ہوتی ہے۔۔۔ لڑکی بھی تو چاہیئے ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اب دس دن میں لڑکی کہاں سے ڈھونڈے۔۔۔۔۔ ” عائرہ اسے مزید تپا رہی تھی۔
“میرا فائنل ائیر پورا ہونے کے بعد میں زیادہ عرصہ نہیں رکوں گا۔۔۔۔ تب تک اگر ذیش کی نہیں ہوئی تو میں تمہیں بھگا کر لیں جاوں گا ہاااں۔۔۔۔۔۔۔” سفیان نے منہ بنائے ہوئے حتمی فیصلہ سنایا۔ عائرہ اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے غور سے اس جنونی آدمی کی شکل دیکھتی رہ گئی۔
اور تب قسمت نے سفیان کے اس فیصلے پر ہنستے ہوئے سر جھٹکا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔