77.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 4

جہاں یہ حادثہ واقع ہو رہا تھا وہ حدیل کی مام کے ہوٹل کا بیک یارڈ تھا۔ 16 سالہ حدیل ہوٹل کی آخری حصے میں بنے کچن سے کچھ لینے آئی تھی جب اس نے رونے پیٹنے کی آوازیں سنی۔ اس نے کچن کے ایمرجنسی ایگزٹ کے چھوٹے دروازے سے باہر گلی میں جھانکا تو اس نے چار لٹیروں کو ایک ٹین ایج لڑکے کے ساتھ زور زبردستی کرتے دیکھا۔ وہ ہڑبڑا کر کچن میں آئی اور ہولڈر سے بڑا چاقو اور بیلن اٹھا کر گلی کے جانب لپکی۔
Leave him you morons…..
“چھوڑ دو اسے کمینو۔۔۔۔۔” اس نے ان لٹیروں کے جانب بھاگتے ہوئے ان میں ایک لٹیرے کے سر پر بیلن دے مارا ارحام کی پینٹ کھولتے اس آدمی کی کراہ نکلی اور وہ لڑکھڑاتا ہوا اس سے دور ہوگیا۔
ہاتھ میں پکڑا تیز دھار چاقو دکھاتے حدیل نے ارحام کو ان کے شکنجے سے آزاد کیا اور اس کے آگے کھڑی ہو کر بپھری شیرنی مانند لٹیروں کو فرینچ میں ڈپٹنے لگی۔
ایک لٹیرے نے حقارت سے دیکھتے حدیل کو جھکڑنا چاہا پر حدیل نے اس آدمی کے اپنے جانب بڑھتے ہاتھ پر چاقو سے وار کر دیا۔ ایک جھٹکے سے وہ آدمی چیختا اپنے زخم سے بہتی خون کی ندی دیکھ کر وحشت زدہ ہوگیا اور الٹے قدم پیچھے ہوگیا۔ حدیل بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوا میں چاقو چلاتے لٹیروں کو بھاگنے پر مجبور کرنے لگی۔ اسی اثناء رات کے وقت شہر میں پہرا دیتے ایک پولیس موبائل کا سائرن سنائی دیا۔
حدیل اپنی خوش قسمتی پر مسکرائی اور بلند آواز فرینچ میں ہیلپ ہیلپ کے نعرے بلند کئے۔ کچھ حدیل کے چاقو سے خوف زدہ ہو کر اور کچھ پولیس کے ڈر سے وہ لٹیرے تیزی سے بھاگ نکلے۔
ارحام پر اس قدر وحشت طاری ہوگئی تھی کہ وہ وہی زمین پر سمٹ کر بیٹھ گیا۔ اس کا پورا وجود لرز اٹھا تھا۔ جون کے گرمی میں بھی اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ اسے نا ہونٹ پر لگے زخم کا ہوش تھا نا کلائی کے گرد اس آدمی کے مضبوطی سے جکڑے رکھنے کی وجہ سے آئے نشانات کی پروا۔ تکلیف دل پر لگے ٹھیس کا تھا۔
Are you okay…….
جب وہ لٹیرے آنکھوں سے پوری طرح اوجھل ہوگئے تو حدیل سمٹ کر بیٹھے کانپتے لرزتے روتے ارحام کے جانب مڑی۔ اس نے ترحم آمیز نگاہوں سے ارحام کو دیکھا۔
ارحام نے بھیگی آنکھوں سے حدیل کے شفاف چہرے کو دیکھا۔ اس سے کوئی حرکت نہیں کی گئی۔ وہ اسی انداز میں ساکت بیٹھا رہا۔
Come with me….. come…..
حدیل نے اسے بازو سے تھام کر اٹھانے کی کوشش کی۔
ارحام کو اس وقت اپنے آپ تک سے خوف لگ رہا تھا لیکن اتنی رات گئے وہ 16 سالہ کندھوں تک آتے سنہرے بالوں اور سرخ و سفید رنگت والی پیاری سی لڑکی اسے رحمت کا فرشتہ لگ رہی تھی جس نے وقت رہتے اس کے ناموس کو پامال ہونے بچا لیا تھا۔
وہ سسکتا ہوا اس کے ساتھ اٹھا اور ڈگمگاتے قدموں سے چلتا اس کے کچن میں آگیا۔ حدیل اسے سٹول پر بیٹھا کر پانی لینے فلٹر کے جانب چلی گئی۔
“یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔۔۔۔ کتنی تکلیف پہنچائی ہے اسے۔۔۔۔۔ کتنا رسوا کیا ہے اسے اور اس کی فیملی کو۔۔۔۔۔۔ کتنا ہرٹ کیا ہے اپنے مام ڈیڈ کو۔۔۔۔۔۔۔ میں خود کو کبھی معاف نہیں کرونگا۔۔۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔” وہ بلند آواز میں خود کلامی کرتا پچھتاوے میں ڈوب گیا تھا۔ جنگل کا وہ شیر آج بری کا طرح ٹوٹ گیا تھا۔
دوسروں کو دی ہوئی اذیت جب خود پر آتی ہے۔ تب اس انسان کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ ارحام بھی آج اسی موڑ پر کھڑا تھا۔ چند ماہ پہلے جو تکلیف اس نے اس لڑکی کو دی تھی آج خود اسی کیفیت سے دوچار تھا۔
“خدا کا شکر ادا کرو۔۔۔۔۔ تم سیف ہو۔۔۔۔۔۔ تمہیں کسی اپنے کی دعاوں نے بچا لیا۔۔۔۔۔” حدیل پانی کا گلاس لیئے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے ارحام کی خود کلامی سن لی تھی اور جواب اردو میں دیا۔
ارحام اس وقت اپنے آپ میں ہی مگن تھا اس نے حدیل کی اردو پر دھیان دیئے بغیر پانی کا گلاس تھاما اور ایک ہی گھونٹ میں پی لیا۔
“دعا۔۔۔۔۔۔۔ ہاں اس کی مما کی دعاوں نے بچایا ہے اسے۔۔۔۔۔ وہ آج بھی رو رو کر اس کی خیریت کی دعائیں مانگتی ہوگی۔۔۔۔۔ اس کے ڈیڈ کی نیکیوں نے بچایا اسے۔۔۔۔۔ وہ آج بھی رو رو کر اس کے راہ راست پر لوٹنے کی دعائیں کر رہے ہونگے۔۔۔۔۔” یہ خیال آتے ہی ارحام کا دل بھرا گیا اور وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
حدیل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ جب روتے روتے اسے اپنے کندھے پر ایک نرم لمس کا احساس ہوا تو وہ سسکتا ہوا اپنے آنسو صاف کرنے لگا۔
“کوئی گھر نہیں ہے تمہارا۔۔۔۔۔ کہاں رہتے ہو۔۔۔۔؟” اس کے چپ ہوتے حدیل نے اس کے کئی ہفتوں پرانے کپڑوں اور بکھرے حال کو مشاہدہ کرتے استفسار کیا۔
ارحام نے بھیگی آنکھوں سے اس کی چمکتی سبز آنکھوں میں دیکھا۔ چند ثانیے سبز آنکھوں اور سیاہ آنکھوں کا ملاپ ہوا۔ حدیل آنکھیں پڑھنے میں ماہر نہیں تھی لیکن ارحام کی گہری آنکھوں نے مانو چند ماہ سے اس پر گزرے سارے تکلیف دہ حالات بیان کر دیئے تھے جس سے حدیل کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔ وہ نظریں چراتی اٹھ گئی۔
“کہاں سے آئے ہو۔۔۔۔۔” فریج سے سینڈوچ نکال کر اوون میں رکھتے ہوئے پوچھا۔
“پاکستان سے۔۔۔۔۔۔ تمہیں اردو آتی ہے۔۔۔۔۔۔” پہلی دفعہ ارحام نے حدیل کی گفتگو نوٹ کی۔
آہستہ آہستہ اس کی لرزش کم ہوگئی تھی۔ اس کے سینسس واپس بحال ہورہے تھے۔
“یس۔۔۔۔۔ کیونکہ میری مام بھی پاکستانی ہے۔۔۔۔۔ واٹ اے کو انسیڈینس (what a coincidence)۔۔۔” حدیل نے دو عدد سینڈوچ پلیٹ میں نکال کر اس کے سامنے پیش کیئے
اتنے عرصے میں پہلی دفعہ اسے حلال حرام کی فکر محسوس ہوئی وہ غور سے سینڈوچ کو دیکھنے لگا۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔ تم یہ کھا سکتے ہو۔۔۔۔ میں نے بنایا ہے۔۔۔۔۔ میں بھی مسلم ہوں۔۔۔۔۔ یہ بلکل حلال مِیٹ سے بنا ہے۔۔۔۔۔” حدیل نے اس کی کیفیت سمجھ کر وضاحت دی۔
“تم یہاں جاب کرتی ہو۔۔۔۔۔” ارحام نے سینڈوچ کھاتے ہوئے سوال کیا۔ وہ چاہتا تھا اسے بھی اس ہوٹل میں کوئی جاب مل جائے۔
“یہ ہوٹل میری مام کا ہے۔۔۔۔۔ کبھی کبھی جب وہ بزی ہوتی ہے تو میں آکر سنبھالتی ہوں۔۔۔۔۔” حدیل نے سیب کاٹتے ہوئے مختصر جواب دیا۔
ارحام اپنے احمقانہ سوال پر شرمسار ہوگیا۔ اسے حدیل کی صاف ستھری اور مہنگی پوشاک سے ہی اس کا اس ہوٹل کی مالکن ہونے کو سمجھ لینا چاہیئے تھا۔
“کیا مجھے یہاں کوئی جاب مل سکتی ہے۔۔۔۔” اس کی آواز میں دنیا جہاں کی مجبوریاں در آئی تھی۔
“ہمممم کیا کیا کر سکتے ہو۔۔۔۔۔” حدیل دوسری سٹول قریب کھسکا کر اس کے سامنے بیٹھی اور سیب کھاتے انٹرویو کرنے کے انداز میں آبرو اچکا کر سوال کیا۔
“مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا۔۔۔۔۔ پر سیکھ لوں گا۔۔۔۔۔ پلیزززز کوئی بھی جاب دے دو۔۔۔۔۔۔ ” ارحام رائے حل نکالتے معصومانہ انداز مسکرایا۔
” ٹھیک ہے آجاو۔۔۔۔۔۔” وہ دونوں خالی پلیٹیں کاونٹر پر رکھتی اٹھی اور ہاتھ جھاڑتے اندر کے جانب بڑھ گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“مام یہ میرا نیا فرینڈ ہے۔۔۔۔۔ پاکستان سے آیا ہے۔۔۔۔۔ اسے یہاں رکھ لیں۔۔۔۔” حدیل نے اس بڑے سے ہال میں ویٹرز کو ہدایت دیتی 40 سالہ خوب رو درمیانہ قد خاتون کو مخاطب کیا۔
میمونہ بیگم بہت ہی نرم دل خوش اخلاق محبت سے سرشار خاتون تھی۔ ارحام کے پاکستانی ہونے کا سن کر انہوں نے اسے سینے سے لگایا۔
“بلکل رکھ لینگے۔۔۔۔۔ ماشااللہ پیارا بچہ ہے۔۔۔۔ کب آئے ہو۔۔۔۔۔” انہوں نے اپنائیت سے ارحام کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیئے۔
“جی دو ماہ پہلے۔۔۔۔۔” اس نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مام سے اجازت ملنے کے بعد حدیل اسے ہوٹل کے بائیں کوریڈور میں ملازمین کے لیے بنائے کمروں میں سے ایک خالی کمرے میں لے آئی۔ وہ چھوٹا سا کمرا رانا ہاوس میں اس کے اپنے کمرے کے ڈریسنگ روم جتنا بھی نا تھا۔ ایک سنگل بیڈ ایک سائیڈ ٹیبل اور سامان رکھنے کے لیے چھوٹی الماری۔ ارحام کو کھلے آسمان تلے ہونے سے تو وہ کمرا بہت غنیمت لگا۔
“فرینڈ۔۔۔۔۔ ہمیں ملے ایک گھنٹہ بھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔” کمرا دیکھتے ہوئے ارحام نے حدیل کو جتاتے ہوئے ٹوکا۔
“یو نو (you know) میری مام کہتی ہے اگر میں کسی کو رسوا ہونے سے بچا لوں۔۔۔۔۔ میں کسی کا راز اپنے پاس سیف کر لوں۔۔۔۔ تو اللہ مجھے رسوا ہونے سے بچائے گا۔۔۔۔۔ میرا راز سیف کرے گا۔۔۔۔۔” اس نے ارحام کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ ایک مرتبہ پھر سیاہ آنکھیں ان سبز آنکھوں میں جم گئی۔
“پچھے اسٹریٹ میں جو بھی ہوا۔۔۔۔۔ وہ تمہارا راز ہے۔۔۔۔۔ جو میں نے اپنے پاس سیف کر لیا ہے۔۔۔۔۔ تمہارے میرے اور اللہ کے سوا اس راز کو کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔۔ اور میں اس راز کو کبھی رسوا نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔” حدیل کے مغربی طرز اردو کے وہ الفاظ ارحام کے دل پر مرہم جیسے لگ رہے تھے۔ اس نے مشکور ہونے کے انداز سے پلکیں جھپکائی تو
حدیل نے بھی اسی طرح پلکیں جھپکا کر پذیرائی وصول کی۔ یہاں سے ان کی دوستی کا آغاز ہوا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حدیل اور اس کی مام کا گھر ہوٹل سے دو گلی چھوڑ کر تھا۔ میمونہ آنٹی صبح ہوٹل آجایا کرتی اور حدیل اسکول چلی جاتی۔ ارحام کو اس حادثے نے کافی ڈسٹرب کر دیا تھا کئی راتوں تک وہ اس حادثے کو سوچتا سو نا سکا۔ مگر اسی کے چلتے اسے جاب اور رہنے کو چھت مل گئی تھی۔ یہ بات اسے مطمئن کر دیا کرتی۔
حدیل نے اسے باقی ویٹرز کا انچارج بنا دیا تھا۔ جس سے اسے زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑی۔ اس کا کام صرف ویٹرز اور کچن کے سٹاف پر نظر رکھنا تھا اور کسی در پیش مشکل سے میمونہ آنٹی کو بر وقت آگاہ کرنا تھا۔
اسکول سے آجانے کے بعد حدیل شام کے وقت ہوٹل آجایا کرتی اور رات تک ارحام کے ساتھ ہوتی۔ اپنے چھٹی کے دن حدیل، ارحام کی بھی ہالف ڈے کروا دیتی اور اسے ساتھ لیئے گھومنے نکل پڑتی۔
اچھا کھانے اور اچھا پہننے سے ارحام کی رنگت بحال ہونے لگی اس کی جوانی پھر سے سر چڑھنے لگی۔ اس کی اور اپنی نکھرتی جوانی کے ساتھ حدیل کی ارحام میں دلچسپی بڑھنے لگی۔ وہ خود کو اس کے جانب راغب ہونے سے روک نہیں پاتی تھی۔
جیب میں پیسے آجانے کے بعد ارحام کی سیگریٹ نوشی کی عادت پھر سے اجاگر ہونے لگی اور جنونی فطرت بھی ٹھاٹ مارنے لگی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دن رات ہفتے مہینے اور سال یوں ہی گزرنے لگے اور ارحام کے لیے حدیل کی محبت بھی۔ اب ارحام کا بسیرا صرف اس کے ہوٹل تک ہی نہیں رہا تھا بلکہ وہ اس کے گھر بھی رہ لیا کرتا تھا۔
دو بیڈروم پر مشتمل وہ چھوٹا نفیس سا گھر تھا۔ سامنے اوپن کچن کے ساتھ ڈاننگ ٹیبل اور چار کرسیاں لگی تھی۔ دائیں جانب صوفے رکھے گئے تھے اور بائیں جانب ساتھ ساتھ بنے دو کمرے۔
اس کی 18th سالگرہ حدیل نے دھوم دھام سے منانے کی پلاننگ کی۔ اس نے اپنے گھر پر ارحام کے لیے ایک چھوٹی پارٹی رکھی جس میں اس کے اسکول فرینڈز بھی مدعو تھے۔
رات 12 بجنے سے 5 منٹ پہلے حدیل نے ارحام کو موبائل پر کال کیا، جو اسے حدیل نے ہی رابطے میں رہنے کے لیے لے کر دیا تھا۔
“ہالو۔۔۔۔۔۔۔” بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی عنودگی کی حالت میں اس نے کال اٹھایا۔ ایک سال میں وہ فرینچ کے چند الفاظ پر فوقیت حاصل کر چکا تھا۔
“ارحام۔۔۔۔۔۔ پلیز بچاو۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔۔” حدیل نے لرزتی آواز میں اسے مخاطب کیا۔
“حدیل کیا ہورہا ہے۔۔۔۔۔ کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔” ارحام حواس باختہ سا اٹھ بیٹھا۔ دل برق رفتاری سے دھڑکنے لگا۔
“گگگگگ۔۔۔۔۔ گھر پر۔۔۔۔ اااااااہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔ ” اس نے ہکلاتے ہوئے فقرہ مکمل کیا اور چیختے ہوئے کال کاٹ دی۔
وہی دوسرے جانب ارحام پر مانو آسمان پھٹ پڑا۔ وہ حدیل کو چاہتا نہیں تھا نا ہی کسی قسم کی دلچسپی رکھتا تھا لیکن فرانس میں وہ اس کی واحد خیر خواہ تھی وہ اسے کسی مصیبت میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔
فورا سے پہلے وہ شب خوابی کے پاجامے اور دھیلی سی ٹی شرٹ میں ہی باہر کو بھاگا اور 21 جنوری کے پتھریلے سردی میں بھی بغیر کسی کوٹ جرسی یا شوز کے سلپرز میں ہی حدیل کے گھر کا رخ کیا۔
ٹھیک 12 بجے اس نے گھر کا دروازہ دھکیلا تو پٹاخوں کا شور فضا میں بلند ہوا۔
10 سے 12 لڑکے لڑکیوں کے گروپ نے سرپرائز کا نعرہ بلند کرتے ارحام کا استقبال کیا۔ اس کا پورا گھر رنگ برنگی ربن اور بیلون سے سجایا گیا تھا۔ ڈسکو بال کی شعاعیں سماء کو مزید رنگین بنا رہی تھی
Happy birthday to you
Happy birthday to you
Happy birthday dear irhaam
Happy birthday to you
حدیل سالگرہ کا گیت گاتی دوستوں کے بشمول تالیاں بجاتی اس کے سامنے آئی۔ بلیک لیدر بینٹ اور وائن کلر ریڈ سلیف لیس ٹاپ پہنے سنہرے لمبے بال کھلے چھوڑے ریڈ کلر کی لیپسٹک لگائے وہ بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔
17 سالہ حدیل سالگرہ وش کرتے اپنے محبت تک رسائی پانے کی خواہش رکھتی ارحام کو بانہوں میں لینے لگی تھی جب ایک جھٹکے سے ارحام نے اسے سفید کندھوں سے تھام کر جھنجوڑ دیا۔
“یہ سب کیا مزاق ہے حدیل۔۔۔۔۔” وہ اپنے پورے تاب سے حدیل پر برس پڑا۔
ماحول میں سناٹا چھا گیا۔
“سرپرائز دینا تھا۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری برتھ ڈے منا رہی ہوں۔۔۔۔۔” حدیل کا دل دھڑکنے لگا اس نے آج سے پہلے کبھی ارحام کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں دہشت در آئی تھی۔ حدیل کو ارحام کے تنے تاثرات سے خوف محسوس ہوا۔
“کس سے پوچھ کر میری برتھ ڈے منا رہی ہوں۔۔۔۔۔ نفرت ہے مجھے اپنے آپ سے اپنی برتھ ڈے سے۔۔۔۔۔۔” اس نے چلاتے ہوئے حدیل کو پرے دھکیل دیا۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ سبز آنکھوں میں پانی تیرنے لگا۔
“آئیندہ مجھ سے کسی بھی قسم کا مزاق کرنے کی جرات مت کرنا۔۔۔۔۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔” دانت پر دانت جمائے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دے کر وہ لمبے ڈگ بھرتا واپس روانہ ہوگیا اور جاتے ہوئے اپنے پیچھے دروازہ زور سے پٹخا۔ آواز اتنی تیز تھی کہ حدیل کانپ اٹھی۔
اس کے سب دوستوں کا موڈ غارت ہوچکا تھا۔ سب منہ میں کچھ نا کچھ بڑبڑاتے ایک ایک کر کے باہر نکل گئے۔
حدیل نے روتے ہوئے مایوسی سے اپنے دن بھر کے محنت سے سجائے گھر کو دیکھا۔ آنسو رخسار سے لھڑک کر تھیوڑی سے ٹپکتے اس کے ٹاپ کو بھیگو رہے تھے۔ وہ چلتے چلتے ڈائننگ ٹیبل پر رکھتے ریڈ کلر کے ہارٹ شیپ کیک کے پاس آئی جس پر اس نے بہت محبت سے چاکلیٹ ٹاپنگ سے
H.B.D my love
لکھوایا ہوا تھا۔ ان عبارت کو دیکھ کر اندر کا طوفان مزید تیز ہوگیا۔ اس نے کیک اٹھا کر دیوار پر دے مارا اور روتے ہوئے اپنے بیڈروم میں بھاگ گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(حال)
“وٹس دس بیہویر بڑے پاپا۔۔۔۔۔۔ مڈیسن کیوں نہیں لیں رہے آپ۔۔۔۔۔۔” روحان اور نور کے سب سے شرارتی اور زندگی سے بھر بیٹے سفیان نے آبرو سکیھڑے رانا صاحب کو دیکھتے ہوئے گلہ کیا۔
24 سالہ سفیان۔ بیضوی صورت کا حامل۔ باپ بھائی کے جیسا لمبا اسمارٹ۔ بھوری آنکھیں جو ہر وقت چمک اور شرارت سے بھری رہتی۔ سفید رنگ گلابی ہونٹ اور اسٹائل سے بنائی شیو۔ خرافاتی دماغ کا مالک۔ ذیشان کو اگر روحان سے ریاضی کی تیزی ملی تھی تو سفیان کو اس کا جاسوسی دماغ۔ آنکھوں پر لگے بلیک گلاسس سے لے کر پیروں کے چمکتے بوٹ تک ہر چیز اعلی کوالٹی مہنگی اور برانڈڈ ہوا کرتی۔ فیشن کنگ کا لقب بھی اس کے آگے ماند پڑ جاتا۔ حساس اتنا کہ محبت کے لیے جان دے دے اور دشمنی میں جان لے لے۔ اپنے دل کش اور رُوڈ مزاج سے نا جانے کتنے دل توڑ چکا تھا۔
صبح اچانک رانا مبشر کو اپنے بائیں کندھے میں شدید درد کا احساس ہوا۔ خوش قسمتی سے عائرہ آج کالج نہیں گئی تھی۔ اس نے ڈیڈ کی طبعیت بگڑتی دیکھتی تو فورا سے سفیان کو کال کیا۔ وہ کام سے بھاگا بھاگا آیا اور رانا صاحب کو ہسپتال لے آیا۔
“بی پی شوٹ کر گیا تھا۔۔۔۔۔ اچھا ہوا وقت پر لیں آئے۔۔۔۔۔” ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد عائرہ اور سفیان کو طبیعت ناسازی کی وجہ بتائی۔ ساتھ میں ان پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ انہوں کافی عرصہ سے اپنی میڈیسن بھی نہیں لی ہے جس پر اس وقت سفیان ان کے سامنے کھڑا خفا ہو رہا تھا۔
عائرہ نم آنکھوں سے نیم دراز بیٹھے رانا صاحب کا ہاتھ تھامے ان کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ کرن بھی ان کے ہمراہ ہسپتال میں موجود تھی لیکن وہ وارڈ کے باہر کھڑی رہی اندر جانے کی ہمت نا کر سکی تھی۔ بیٹے سے تو وہ دور تھی اب شوہر سے محروم نہیں ہونا چاہتی تھی۔ بے شک وہ ان سے خفا تھی دوری اختیار کر لی تھی لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ وہ ان سے بے تحاشہ محبت کرتی تھی اور ان کی بگڑی طبعیت دیکھ کر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی۔
“انسان اپنے ذات کا دکھ تو برداشت کر لیتا ہے بیٹا۔۔۔۔۔ لیکن اولاد کا غم انسان کو ختم کر دیتا ہے۔۔۔۔ میں بہت تھک چکا ہوں ان سب سے۔۔۔۔۔۔ دن بہ دن برداشت جتم ہورہی ہے۔۔۔” رانا صاحب نے سرد آہ بھری۔
“ڈیڈ آپ تو کہتے ہیں۔۔۔۔۔ میں آپ کی زندگی ہوں۔۔۔۔۔ پھر مجھ پر ایسا ظلم کیوں کر رہے ہے آپ۔۔۔۔۔” عائرہ کی آواز بھر آگئی تھی۔ اور ان کی گفتگو سنتی دروازے کے پار کھڑی کرن کے رخسار بھیگ چکے تھے۔
“بڑے پاپا آپ تو بہت با ہمت ہے۔۔۔۔۔ ہمیشہ ہمیں راہ راست دکھایا ہے۔۔۔۔ دین اور اللہ کی باتیں سیکھائی ہے۔۔۔۔۔ اور آج آپ ایسی نا امیدی کی باتیں کر رہے ہے۔۔۔۔۔ اللہ پر بھروسہ رکھے۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔” سفیان افسردہ ہوگیا۔
“اور اب آپ بلکل لاپرواہی نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ آج سے میں خود آپ کو میڈسن دیا کروں گی۔۔۔۔۔ آج سے آپ کے میڈسن کا خیال رکھنے کی ذمےداری میری۔۔۔۔” عائرہ نے انگلی اٹھا کر سختی سے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا۔
“اور ہر ماہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کی ذمےداری میری۔۔۔۔۔” سفیان نے اپنے حصے کا اضافہ کیا۔
“اور تم دونوں کو اپنی اپنی ذمےداریاں یاد کروانے کی ذمےداری میری۔۔۔۔۔۔” کرن نے دل میں عہد لیا۔
“تھینکیو میرے بچوں۔۔۔۔” رانا صاحب نے خوش ہوتے عائرہ اور سفیان دونوں کو ایک ساتھ سینے سے لگا لیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اگلے شام عائرہ ڈینم جینز کے ساتھ گھٹنوں تک آتی وائٹ کُرتی پہنے لمبے بالوں کی ہائی پونی ٹیل بنائے بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل لگائے ہونٹوں پر گلابی لپ گلوس پھیلائے نفیس سی تیار ہو کر موبائل اپنے ہینڈ بیگ میں ڈالتے کمرے سے باہر آئی۔ لاؤنج میں ہر سوں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
رانا مبشر اپنے کمرے میں تھے اور کرن اپنے کمرے میں۔ کبھی ان کا اکھٹا ہونا اس رانا ہاوس کی رونق ہوا کرتا تھا۔ اور اب ان کی دوری نے اس گھر سے رونق بھی چھین لی تھی۔
عائرہ بے بسی سے سر جھٹکتے سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی اور سیدھے لاؤنج سے باہر نکل گئی۔ پورچ میں اس کی کار اور ڈرائیور اسے کوچنگ کلاس کے لیے ڈراپ کرنے آمادہ تھے۔
“ڈرائیور انکل۔۔۔۔۔ آج کلاس نہیں جانا۔۔۔۔۔۔ شاپنگ مال لیں چلے۔۔۔۔۔” اس نے کار میں بیٹھتے اڈھیر عمر ڈرائیور کو ہدایت دی۔
ڈرائیور نے ہدایت کی تکمیل دیتے کار مین سڑک پر دوڑا دی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“آپ گھر چلیں جائے۔۔۔۔۔ واپسی میں خود آجاوں گی۔۔۔۔۔” شاپنگ مال پہنچ کر عائرہ نے کار کا دروازہ کھولتے ہوئے ڈرائیور کو ایک اور ہدایت دی۔
“لیکن بےبی جی۔۔۔۔۔ آپ کو اکیلے چھوڑ کر جاوں گا تو۔۔۔۔۔صاحب بہت ناراض ہونگے۔۔۔۔۔۔ ” ڈرائیور نے جھجکتے ہوئے رانا صاحب کے ممکنہ غصے کا اندیشہ ظاہر کیا۔
“میں ڈیڈ کو بتا کر ہی آئی ہوں۔۔۔۔۔ وہ کچھ نہیں کہے گے۔۔۔۔” عائرہ نے از خود جھوٹی تسلی دی اور ڈرائیور کی مزید بحث سنے بغیر کار سے اتر گئی۔
چار و نا چار ڈرائیور کو بےبی جی کی ہدایت مانتے وہاں سے جانا پڑا۔
“ہاں۔۔۔۔۔ میں پہنچ گئی ہوں۔۔۔۔۔” جب ڈرائیور شاپنگ مال کے سڑک سے اوجھل ہوا تو عائرہ نے کال پر کسی کو اپنی آمد سے آگاہ کیا۔
“اوکے۔۔۔۔۔” کال والے کی بات سن کر سر کو جنبش دیتے اس نے کال کاٹی اور ہاتھ سینے پر باندھے وہی مین روڈ پر انتظار کرنے لگی۔
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کی منتظر تھی۔ بار بار ہاتھ میں پہنے سمارٹ واچ پر ٹائم دیکھتی اس کا موڈ غارت ہونے لگا۔ اب تو آفتاب بھی غروب ہونے لگا تھا۔اس نے لمبی سانس خارج کی اور پیر پٹختی وہاں سے روانہ ہونے لگی تھی جب ایک وائٹ کلر کی چمکتی مرسیڈیز کار تیزی سے آئی اور اس کے سامنے رکی۔
عائرہ کے تنے تاثرات دیکھ کر کار میں بیٹھے نوجوان نے تھوک نگل کر گلا تر کرتے اللہ کی پناہ مانگی۔
“سوری سو سوری مائی لو۔۔۔۔۔” وہ لمبا چوڑا نوجوان فوراً سے کار سے اترا اور عائرہ کے سامنے آگیا۔
عائرہ کی نتھوں میں پڑتی اس کے برانڈڈ مہنگی پرفیوم کی خوشبو، عائرہ کو اس کے جانب راغب کرنے کا پورا فریضہ سر انجام دے رہی تھی۔
“5 منٹ ویٹ بولا تھا۔۔۔۔۔ آدھے گھٹنے سے کھڑی ہوں۔۔۔۔” عائرہ کا ضبط ختم ہوگیا۔
“جانتا ہوں میری جان۔۔۔۔۔ پر پاپا نے عین ٹائم پر بلا لیا تھا۔۔۔۔۔ نکلتے نکلتے دیر ہوگئی۔۔۔۔۔ آئی لو یو پلیزززز۔۔۔۔۔۔” وہ معصومیت سے پلکیں جھپکا کر اپنی محبت کا اظہار کرتے عائرہ کو منانے لگا۔
عائرہ ایک کٹیلی نظر اس پر ڈالتی اس کے اظہار کا جواب دیئے بغیر اس کے سائیڈ کے گزر کی کار کے فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھی۔
اس نوجوان کے تاثرات بدل گئے وہاں معصومیت کی جگہ شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ عائرہ مبشر اس کے جال میں پھنس چکی تھی اور اب وہ شکار کے لمحے کو سوچ کر محظوظ ہونے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔